| قسط 6 اختتام ردیف ا مرگ کی لفظ سے یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ آخر نہ بچ سکا اور پیکانِ قضا سے مژہ کا استعارہ کیا ہے۔ دل دیا جان کے کیوں اُس کو وفادار اسد غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا بے وفا کو وفادار جان کر دل دیا یعنی غلطی سے کافر کو مسلمان سمجھا ، دل و جان کا ضلع بھی اس میں بول گئے ہیں۔ _______ پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا دل جگر تشنۂ فریاد آیا دوسرے مصرع میں ’ آیا ، ’ ہوا ، کے معنی پر ہے ، فارسی کا محاورہ ہے ، اُردو میں اس طرح محاورہ نہیں بولتے ، حاصل یہ ہے کہ دل جگر تشنۂ فریاد ہوا تو مجھے دیدۂ تر یاد آیا کہ یہ پیاس اُسی سے بجھے گی یعنی رونا بھی فریاد کرنا ہے ، رونے سے دل و جگر کی خواہش فریاد پوری ہو جائیں گی یا دل تشنہ جگر کی پیاس اشکِ فریاد سے بجھے گی۔ دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا
وقتِ سفر یاد آیا دم لینا یعنی ٹھہرنا اور سکون ہونا اور قیامت بے تابی و اضطراب سے استعارہ ہے ، یعنی اضطراب میں سکون ہونے نہ پایا تھا کہ پھر تیرا وداع ہونا اور سفر کرنا یاد آگیا۔ سادگی ہائے تمنا یعنی پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا پہلے مصرع میں سے ’ دیکھو ، محذوف ہے ، کہتے ہیں میری سادگی تمنا کو تو دیکھو یعنی جو بات کے محال ہے اور ہونے والی نہیں اُس کی خواہش و آرزو مجھے سادگی و نادانی سے پیدا ہوئی ہے ،
یعنی پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا ’ وہ ، اشارہ ہے اس سامانِ عیش و عشرت کی طرف جسے آنکھیں دیکھ چکی ہیں اور جسے مصنف نے یہاں نیرنگ نظر سے تعبیر کیا ہے اور لفظ سادگی سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اُس عیش کے دیکھنے کی اب اُمید بھی نہیں ہے۔ عذر و اماندگی اے حسرتِ دل نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا حاصل یہ ہے کہ اے حسرتِ دل میرے عذر و اماندگی کو قبول کر ، میں چاہتا تھا کہ نالہ کروں مگر جگر کا خیال آگیا کہ شق نہ ہو جائے ، اس سبب سے نالہ نہ
کیا ’ قبول کر ، پہلے مصرع میں محذوف ہے اور اس قسم کے محذوفات فارسی میں ہوتے ہیں ، اُردو کی زبان اس کی مساعد نہیں ، حذف سے شعر میں حسن پیدا ہو جاتا ہے مگر اُسی جگہ جہاں محاورہ میں حذف ہے۔ زندگی یوں بھی گذر ہی جاتی کیوں ترا راہ گذر یاد آیا کہتے ہیں کہ تیرا راہ گذر یاد آنے سے میری زندگی گذر گئی اور یہ بات اچھی ہوئی کہ میں زندگی سے بیزار تھا ، لیکن اُس کے یاد آنے سے ایسا اندوہ و قلق ہوا کہ کاش کہ نہ یاد
آیا ہوتا ، زندگی تو کسی نہ کسی طرح کٹ ہی جاتی۔ کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی گھر ترا خلد میں گر یاد آیا یعنی وہ خلد کو ترجیح دے گا اور میں گھر کو تیرے یا میں خلد سے نکلنا چاہوں گا اور وہ مجھے روکے گا۔ آہ وہ جرأت فریاد کہاں دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا یعنی وہ جگر جو مدت ہوئی کہ خون ہو گیا دل کی بے طاقتی اور کم جرأتی دیکھ کر یاد آگیا کہ اُس مرنے والے میں جیسی جرأتِ فریاد تھی وہ اس میں نہیں
ہے۔ پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال دلِ گم گشتہ مگر یاد آیا یعنی تیرے کوچہ ہی میں دل کے گم ہو جانے کا احتمال ہے کہ خیال اسی طرف ڈھونڈھنے چلا ہے کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا یہاں دشت کی ویرانی میں مبالغہ اس لئے کیا کہ گھر کی ویرانی میں زیادتی لازم آئی ، یعنی دشت میں ایسی ویرانی جیسے بعینہ میرے گھر میں تھی ، تشبیہ معکوس ہے ، مولوی الطاف حسین صاحب حالی شاگردِ
مصنف نے یہاں تشبیہ سے اعتراض کیا ہے ، انھوں نے یہ مطلب لیا ہے کہ دشت کو دیکھ کے ڈر لگا تو گھر یاد آیا کہ یہاں سے بھاگو یہ مطلب بھی محاورہ سے علاحدہ نہیں ہے۔ میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا یعنی پھر اپنے ہی سر میں مار لیا۔ _______ ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا یعنی رقیب روکے ہوئے تھا۔ تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی
کا گلہ اُس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا تقدیر کی برائی کو تشنیع کی راہ سے خوبی تقدیر کہا ہے۔ تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلادوں کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا وہ میں ہی ہوں۔ قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد ہاں کچھ اک رنج گرانباری زنجیر بھی تھا یادِ زلف کے مقابلے میں قیدِ زنجیر کو بہت ہی سبک کر کے بیان کیا تاکہ یادِ زلف کی گراں باری بالتزام ظاہر ہو۔ بجلی اک کوند گئی آنکھ کے آگے تو کیا بات کرتے کہ میں لبِ تشنۂ تقریر بھی تھا یعنی ایک جھلک دکھا کر ہٹ گئے تو کیا بات کی ہوتی کہ مجھے اُس کی بھی تمنا ہے ’ کرتے ، مرتے وغیرہ تمنا کے لئے ہوا کرتا ہے۔ یوسف اُس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا یعنی اس بات پر وہ اگر بگڑے کہ تم نے مجھے غلام بنایا تو جا سے ہے۔ دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجہ ٹھنڈا نالہ کرتا تھا ولے
طالبِ تاثیر بھی تھا مطلب یہ کہ غیر کو برے حالوں دیکھ کر آلخ اور دوسرے مصرع میں فاعل یعنی ’ میں ، محذوف ہے اور ’ ولے ، فارسی کا محاورہ ہے ، اب اُردو میں متروک ہے۔ پیشے میں عیب نہیں رکھئے نہ فرہاد کو نام ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا ہم ہی اور تم ہی اور اُس ہی اور انھیں کی جگہ پر ہمیں اور تمہیں اور اُسے اور اُنھیں اب محاورہ میں ہے اور یہ کلمات اپنی اصل سے تجاوز کرگئے ہیں۔ ہم تھے مرنے کو کھڑے یار نہ آیا نہ
سہی آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا یعنی پاس نہ آیا تھا تو دُور سے کوئی تیر ہی مار دیا ہوتا۔ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا ؟ ’ ہمارا ، کے بعد ’ بھی ، کے لانے کا محل تھا ، مگر ضرورت شعر سے اُسے آخر میں کر دیا ہے ، اس شعر میں محض ظرافت و لطیفہ گوئی کا قصد کیا ہے کہ کچھ انبساطِ نفس اس سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ ریختی کے تمہیں اُستاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے
زمانے میں کوئی میر بھی تھا معنی ظاہر ہیں۔ _______ لب خشک در تشنگی مردگاں کا زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا پہلے مصرع میں سے بھی ’ ہوں ، محذوف ہے اور تشنگی استعارہ ہے ، شدت آرزو و شوق سے۔ ہمہ نا اُمیدی ہمہ بدگمانی میں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا پہلا مصرع بالکل فارسی ہے ، اس سبب سے کہ ہمہ ایسے مقام پر اُردو میں نہیں بولتے۔ _______ تو
دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا ستمگر منادی ہے۔ چھوڑا مہ نخشب کی طرح دستِ قضا نے خورشید ہنوز اُس کے برابر نہ ہوا تھا یعنی خورشید ناقص ہی رہ گیا ، جس طرح مشہور ہے کہ ماہ نخشب ابن مقنع سے ناقص رہ گیا۔ توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا یعنی اگر قطرۂ اشک بھی گوہر ہو گیا ہوتا تو یہ عزت کہاں حاصل ہوئی کہ
آنکھوں میں اُس کی جگہ ہے ، قطرۂ گوہر کی ہمت قطرۂ اشک سے کم نہ تھی ، اس وجہ سے وہ کانوں ہی تک پہنچتا ہے ، آنکھوں میں جگہ نہیں پا سکتا۔ جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا قیامت کو قیامت سے تشبیہ دی ہے کہتے ہیں کہ قدِ یار کو دیکھ کر وجود فتنۂ محشر کا مجھے یقین آیا۔ میں سادہ دل آزردگی یار سے خوش ہوں یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا ہر اُس کی آزردگی سے جو
تجدید شوق ہوئی ، اُسے تکرارِ سبق سے تعبیر کیا ہے۔ دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا محاورہ میں گناہ گار کو تر دامن کہتے ہیں ، مطلب یہ ہے میرے دامن نے سارا دریائے معاصی جذب کر لیا کہ وہ خشک رہ گیا اور پھر بھی گوشۂ دامن تک اچھی طرح تر نہ ہوا یعنی جتنے معاصی تھے سب میں نے کئے اُس پر بھی میرا جی نہیں بھرا۔ جاری تھی اسد داغ جگر سے مرے تحصیل آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا
تھا اس شعر میں اپنا مقابلہ سمندر سے اور داغ کا آتش کدہ سے کیا ہے اور داغ کو ترجیح دی ہے کہ اُس سے تحصیل جاری ہے یعنی اُس کے سبب سے جو آہ و نالہ پیہم نکلتا ہے وہی تحصیل ہے تو گویا داغ دل میری جاگیر ہے سمندر کو آتش کدہ سے یہ فائدہ نہیں حاصل۔ _______ شب کو وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا شرشتۂ ہر شمع خار کسوتِ فانوس تھا ناموس عصمت دراز اور لباس میں خار کا رہ جانا باعثِ بے چین ہونے کاہے ، عرض
یہ کہ اُس کے سامنے شمع بے چین ہوئی جارہی تھی گویا اُس کے لباس میں خار تھا۔ مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حنا کس قدر یارب ہلاکِ حسرتِ پا بوس تھا یعنی اس کی خاک سے مہندی اُگتی ہے کہ اس طرح معشوق کے قدم تک پہنچ جائے۔ حاصل اُلفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزو دل بدل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا ایک دل عاشق کا اور ایک معشوق کا دونوں مل کر لبِ افسوس بن جاتے ہیں۔ کیا کہوں بیماری غم کی فراغت کا
بیاں جو کہ کھایا خونِ دل بے منت کیموس تھا ’ کیا کہوں ، یعنی کیا کروں ’ جو کہ ، یعنی جو کچھ اور کیموس اصطلاح طب میں ہضم جگری کو کہتے ہیں ، جس سے غذا مستحیل ہوکر خون بن جاتی ہے کہتے ہیں میں نے جو کچھ کھایا بے کیموس ہوئے وہ خون جگر ہو گیا یعنی بیماری غم میں میں نے خون جگر ہی کھایا اور خون جگر کھانا غم و غصہ کھانے کے مقام پر کہتے ہیں۔ _______ آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے صاحب کو دل
نہ دینے پہ اتنا غرور تھا یعنی کچھ غرور نہ چلا اپنے اُوپر فریفتہ ہو گئے۔ قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے اُس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا یعنی انتہائے رشک یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل بھی کرے تو نہیں دیکھا جاتا اور یہ آرزو ہوتی ہے کہ ہمیں قتل کرے ’ اپنے ہاتھ ، کی لفظ سے مصنف نے رشک کی طرف اشارہ کیا ہے۔ _______ عرضِ نیاز عشق کے قابل نہیں رہا جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں
رہا یعنی بے وفائی و بے اعتنائی کے صدمے اُٹھاتے اُٹھاتے اب وہ دل ہی نہیں رہا کہ عشق سے نیازمندی کا دعویٰ کریں۔ جاتا ہوں داغِ حسرت ہستی لئے ہوئے ہوں شمع کشتہ درخور محفل نہیں رہا محفل استعارہ ہے ہستی سے۔ مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا ناقص و کامل دونوں کے سامنے شش جہت موجود ہے اور دونوں سرخلقت کے سمجھنے میں حیران ہیں اور اس آئینہ میں دونوں
دیکھ رہے ہیں ، دونوں کی ایک صورت ہے ، ناقص و کامل میں یہاں کچھ فرق نہیں ، دوسرا احتمال یہ ہے کہ روئے شش جہت کہا ہو مصنف نے اور معنی یہ ہیں کہ جس طرح آئینہ قبول عکس میں کچھ امتیاز نہیں کرتا یہی حال ہے بہ تمثیل عارف کے دل روشن کا۔ وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقابِ حسن غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا یعنی ناظر اور مرئی کا امتیاز جو باقی ہے یہی بس حائل ہے ، اس سبب سے کہ آنکھ اُس کو نہیں دیکھ سکتی اور اُس کے علاوہ جو حجاب تھے
وہ کثرتِ شوق نے اُٹھادئیے۔ گو میں رہا رہین ستمہائے روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا یعنی کسی حال میں میں تجھے نہیں بھولا۔ دل سے ہو ائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں حاصل سو ائے حسرت حاصل نہیں رہا یعنی وفا کا حوصلہ اب نہیں رہا کہ وفا کر کے حسرت کے سوا کچھ نہ پایا۔ بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسد جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا یعنی جب دل نہیں رہا تو بیداد کون اُٹھائے
گا۔ _______ رشک کہتا ہے کہ اُس کا غیر سے اخلاص حیف عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا یعنی عقل معشوق کی برائی مجھے سمجھاتی ہے تاکہ رشک کا قلق کم ہو جائے یہ سمجھ کر کہ جس طرح اُس نے ہمارے ساتھ بے وفائی کی غیر سے بھی یوں نہیں پیش آئے گا۔ ذرّہ ذرّہ ساغر میخانۂ نیرنگ ہے گردش مجنوں بچشم کہائے لیلیٰ آشنا یعنی عالم کا ہر ذرّہ جو گردش و انقلاب میں مبتلا ہے ، یہ نیرنگ فلک کے اشارہ سے ہے ، یہاں لفظ ساغر سے معنی گردش نے تراوش کی اور اسی رعایت سے نیرنگ کو میخانہ سے تعبیر کیا ہے ، اس کے بعد برسبیل تمثیل کہتے ہیں کہ مجنوں کی گردش لیلیٰ ہی کے اشارہ سے ہے۔ شوق ہے سامان طرز نازش ارباب عجز ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا عاجزوں کا سرمایہ ناز شوق ہے ، جس کے سبب سے ذرّہ انا البر اور قطرہ انا البحر کہنے لگتا ہے۔ میں اور اک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے عافیت کا دشمن اور آوارگی کا
آشنا ’ ہوں ، محذوف ہے یعنی میں ہوں اور وہ دل جو دشمن عافیت ہے ، ظاہر ہے کہ آفت کوئی ایسی شئے نہیں ہے جس کا ٹکڑا بھی ہو ، مگر محاورہ میں قیاس کو دخل ہی نہیں ، اسی طرح پری کا ٹکڑا ، حور کا ٹکڑا بھی محاورہ ہے ، چاند کا ٹکڑا لبتہ معنی رکھتا ہے اور پہلے بھی محاورہ تھا ، اُس کے بعد پری کا ٹکڑا اور حور کا ٹکڑا اور آفت کا ٹکڑا اسی قیاس پر کہنے لگے اور اب سب صحیح ہیں۔ شکوہ سنج رشک ہمدیگر نہ رہنا چاہئے میرا زانو مونس اور آئینہ
تیرا آشنا یعنی تم آئینہ میں ہر وقت مشغول رہو تو میں شکایت نہیں کرتا اور میں ہمیشہ سر بزانو رہوں تو تم برا نہ مانو ، شعرا زانو کو آئینہ سے تشبیہ دیا کرتے ہیں۔ کوہکن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسد سنگ سے سر مارکر ہووئے نہ پیدا آشنا یعنی فقط نقاش تھا عاشق صادق نہ تھا نہیں تو تعجب ہے کہ سنگ سے سر مارے اور اُس میں سے معشوق نکل نہ آئے۔ _______ ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا بن گیا رقیب آخر جو تھا رازداں
اپنا یعنی وہ بھی عاشق ہو گیا اس سبب سے ایک تو ذکر ہی دلفریب ، دوسرے اُس شخص کی زبان سے جو فریفتہ ہورہا ہے اور پھر سحر بیان بھی ہے۔ مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یارب آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا یعنی مے کشی میں اُن کو اپنا امتحان منظور تھا تو کاش کہ میرے ساتھ شراب پی کر بے ہوش ہوئے تھے ، شکایت خدا سے یہ ہے کہ آج ہی اُس کے دل میں یہ بات آنا تھی ، یہاں پی گئے کے مقام پر پیتے مصنف مرحوم نے باندھا ہے جس سے
یہ معنی نکلتے ہیں کہ بھلا بزم غیر میں وہ کیوں بہت سی شراب پیتے ، یہ میری بدقسمتی ہے کہ آج میرے گھر میں آئے تو بہت سی شراب پی گئے۔ منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا یعنی کاش کہ ہمارا مکاں عرش سے اس طرف ہوتا کہ ہم عرش پر منظر بنا کر اپنے مقام کو دیکھ سکتے ، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے مکان سے بلند کوئی جگہ ہی نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت و ماہیت سے بے خبر ہیں۔ دے وہ جس
قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے بارے آشنا نکلا اُن کا پاسباں اپنا یعنی اُن کا پاسباں بارے اپنا آشنا نکلا۔ درد دل لکھوں کب تک جاؤں اُن کو دکھلادوں اُنگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا خامہ کا خونچکاں ہونا ایک تو مضمون خونچکاں کے سبب سے ہے ، دوسرے اُنگلیوں کے فگار ہونے کے سبب سے ہے۔ گھستے گھستے مٹ جاتا ہے آپ نے عبث بدلا ننگِ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا یعنی میں اتنے سجدے کرتا کہ
پتھر گھس جاتا۔ تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دُشمن کو دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا یعنی تاکہ معشوق سے جا کر یہ ذکر نہ کرے کہ میں شکایت کیا کرتا ہوں۔ ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے بے سبب ہوا غالب دُشمن آسماں اپنا غرض یہ ہے کہ عقیل و ہنر دُشمنی فلک کا باعث ہوا کرتا ہے۔ _______ سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے کہ رہے چشم خریدار پہ احساں اپنا یعنی میرے کلام
کا فیض عام ہے اور اس سے انتفاع مفت ہے جیسے آنکھیں سینک لینا مفت میں ہر شخص کو حاصل ہے ، لذتِ نظر کو سرمۂ مفت سے تشبیہ دی ہے اور سرمۂ صفت کی اضافتِ نظر کی طرف تشبیہی ہے۔ رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم تیرے چہرہ سے ہو ظاہر غم پنہاں اپنا یعنی نالہ نہ کرنے سے دل ہی پر غم نہانی کا اثر پڑے گا اور میرے دل سے تیرے دل کو بھی راہ ہے _______ غافل بہ و ہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں بے شانۂ صبا نہیں
طرہ گیاہ کا یعنی لوگ سر حقیقت سے غافل ہیں ، اُن کی طبیعت میں جو ایک مادہ فخر و ناز ہے اُس نے یہ وہم پیدا کر دیا ہے کہ ہم نے یہ کیا اور ہماری تدبیر سے یہ بن پڑا ، حالاں کہ جو کچھ ہے سب اُسی طرف سے ہے ، اس شعر میں لطفِ الٰہی کو بادِ صبا سے تشبیہ دی ہے۔ بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ صید زدام جستہ ہے اس دام گاہ کا بزم قدح یعنی بزمِ شراب۔ رنگ یعنی عیش۔ دام گاہ دُنیا سے استعارہ ہے۔ عیش تمنا نہ رکھ ترجمہ
فارسی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عیش کی تمنا نہ رکھ۔ رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا ’ شرمندگی سے ، مفعول لہ ہے عذر نہ کرنے کا اور ’ عذر نہ کرنا ، مفعول یہ ہے قبول کرنے کا ’کیا بعید ہے ، جو اب شرط۔ مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا یعنی ظاہر میں گل سے زخم کو تشبیہ دی ہے۔ جاں در ہوائے ایک نگہ گرم ہے اسد پروانہ ہے وکیل تیرے داد خواہ کا معشوق سے خطاب ہے کہ تیر داد خواہ یعنی اسد جاں درہو ایک نگہ گرم ہے اور اسد جان در ہوا ہے ، یہ ویسی ہی ترکیب ہے جیسے کہیں فلاں سر بکف ہے یا پادر رکاب ہے ، پھر جان کو درہوائے نگہ گرم میں ہونے کی وجہ سے پروانہ سے تشبیہ دی ہے۔ حاصل یہ کہ اسد کی جان ایک نگاہ گرم کی آرزو میں ہے گویا تیرے داد خواہ کا وکیل پروانہ کا سا حوصلہ رکھتا ہے کہ جل جانے کی خواہش کرتا ہے۔ _______ جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا کہتے ہیں
ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا یعنی اب شرمندگی سے منہ نہیں دکھلاتے یہ بھی میرے لئے ستم ہے۔ رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا توکل کی طرف ترغیب ہے۔ لاگ ہو تو اُس کو ہم سمجھیں لگاؤ جب نہ ہو کچھ ہی تو دھوکا کھائیں کیا یعنی وہ عداوت بھی کرتا تو ہم لگاوٹ سمجھتے۔ ہو لئے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ یارب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا یارب اس شعر میں
ندا کے لئے نہیں ہے بلکہ اظہارِ استعجاب کے لئے ہے۔ موج خوں سر سے گذر ہی کیوں نہ جائے آستانِ یار سے اُٹھ جائیں کیا ’ کیا ، دوسرے مصرعہ میں تحقیر کے لئے ہے۔ عمر بھر دیکھا کئے مرنے کی راہ مرگئے پر دیکھئے دکھلائیں کیا یعنی زندگی بھر تو اُنھوں نے مرنے کی راہ دکھلائی مرگئے پر جانے کیا دکھلائیں۔ پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ’ ہم بتلائیں کیا ، ایسے مقام پر
محاورہ میں ہے ، جہاں پوچھنے والا جان بوجھ کر جاہل بنتا ہے یعنی تعجب ہے کہ وہ غالب کو ایسا بھول گئے جیسے کبھی کی شناسائی نہ تھی۔ _______ لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا یعنی جب آئینہ صبا میں زنگ لگا تو سبزہ زار پیدا ہوا ، یہ تمثیل ہے اس بات پر کہ بے تعلق مادہ جلوہ مجردات نہیں ہو سکتا۔ حریف جو شش دریا نہیں خودداری ساحل جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ
ہوشیاری کا ساقی کو دریائے پر جوش سے تشبیہ دی ہے اور ساحل کو اپنے آغوش سے مطلب یہ ہے کہ تجھے آغوش میں لے کر اور تیرے ہاتھ سے شراب پی کر ہوش کہاں ساحل کی خودداری و پاداری دریائے پرجوش کے آگے کہیں چل سکتی ہے۔ _______ عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گذرنا ہے دوا ہو جانا درد کا حد سے گذرنا یعنی فنا کر دینا اور فنا ہونا عین مقصود ہے۔ تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد تھا لکھا
بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا ’ تجھ سے جدا ہو جانے ، سے متعلق ہے اور ’ قسمت میں ، متعلق ہے ’ تھا لکھا ، سے اور جدا ہو جانے سے قفل کا کھلنا مراد ہے کہ جب حروف مرتب ہوکر وہ کلمہ بنتا ہے جو واضع نے معین کر دیا ہو تو قفل ابجد کھل جاتا ہے اور بات کا بننا تدبیر کے بن پڑنے کو کہتے ہیں۔ دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام مٹ گیا گھسنے میں اس عقدہ کا وا ہو جانا زحمت دل کے رفع کرنے کی تدبیروں سے وہ کشمکش ہوئی کہ دل ہی تمام ہو گیا
، گویا ایک گرہ تھی گھس گئی۔ اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ اس قدر دشمن اربابِ وفا ہو جانا مطلب ظاہر ہے اور تعریف اس کی امکان سے باہر ہے ، معشوق کی خفگی کی تصویر ہے اور خفگی بھی خاص طرح کی اور یہ مضمون بھی خاص مصنف ہی کاہے۔ ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا یعنی مسئلہ استحالہ عناصر پہلے ہماری سمجھ میں نہ آیا تھا ، اب امتحان ہو گیا تو باور ہو گیا۔ دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا کہتے ہیں کہ گوشت سے بھی کہیں ناخن جدا ہوا ہے ، یعنی ان دونوں میں مفارقت نہیں ہو سکتی ، دل سے خیال دست حنائی نہیں نکل سکتا۔ ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلنا روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا یعنی روتے روتے مرجانا میرے لئے باعثِ مسرت ہے ، میں اُسے یہ جانتا ہوں کہ جیسے ابر برس کر کھل گیا اور باعثِ نشاط ہوا ، خوبی
اس میں تازگی تشبیہ کی ہے۔ گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچہ کی ہوس کیوں ہے گردِ رِ ہ جولانِ صبا ہو جانا یعنی پھر فعل اُس کا کیوں ہے کہ صبا گرد راہ بن جاتی ہے ، یعنی صبا کے ساتھ تیرے کوچے میں آنے کی ہوس رکھتی ہے ، ردیف محاورہ سے گری ہوئی ہے۔ تاکہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل دیکھ برسات میں سبز آئینے کا ہو جانا برسات میں آئینۂ فولاد پر زنگ پڑجاتا ہے ، وہ گویا سبزہ ہے جسے ہوائے صیقل نے
پیدا کیا ہے ، ہوا بمعنی خواہش و شوق ہے ، حاصل یہ ہے کہ شوق وہ چیز ہے کہ فولاد پر بھی اثر کرتا ہے۔ بخشے ہے جلوۂ گل ذوقِ تماشا غالب چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جانا یعنی باغ میں رنگ رنگ کے پھول کھلے ہوئے دیکھ کر یہ ذوق پیدا ہوتا ہے کہ اسی طرح ہر رنگ میں آنکھ کو وا کرنا چاہئے اور ہر طرح کی سیر کرنا چاہئے۔ بخشے کا فاعل جلوۂ گل ہے اور مفعول بہ ذوق تماشا ہے اور دوسرا مصرع ذوقِ تماشا کی تفسیر ہے۔ Abida Rahmani |