You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM
"مینا کماری-میری بھابھی"
تاریخ: 18 مئی، 2014 اور وہی منزلیں، وہی راستے یعنی جو کراچی میں واقع پرانی کتابوں کے اتوار بازار کو جاتے ہیں اور طلب گاروں کو کتابوں سے ملواتے ہیں۔ کتابیں جن کو دیکھ کر گویا سوکھے تنوں میں جان پڑتی ہے، بعض عشاق کتب، بازار کے گھاگ کتب فروشوں کے جھانسوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے، اور منہ مانگی قیمت دینے کو تیار رہتے ہیں۔ بعض ایسے ہشیار کہ کتب فروش کو بھی جل دے جاتے ہیں۔
احوال بازار گرچہ چند روز پرانا یعنی 18 مئی کی داستان سناتا ہے مگر اس کی تازگی یقینا محسوس کی جائے گی۔ مہ جبیں ناز مینا کماری کی بات ہو اور تازگی نہ محسوس ہو، یہ ممکن نہیں۔ یہ تذکرہ ہے 304 صفحات پر مشتمل "مینا کماری-میری بھابھی" نامی کتاب کا جس کے راوی ہیں رئیس امروہوی اور تحریر ہے امیر حسین چمن کی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کتاب کا سرورق شامل کرنے کی دیر تھی کہ فرمائشوں کے انبار لگ گئے۔ ایک صاحب کینیڈا سے گویا ہوئے: " رقم کا چیک کہاں بھیجنا ہے، بس یہ بتا دیجیے، مجھے یہ کتاب ہر قیمت پر درکار ہے"
عرض کیا حضرت! راشد اشرف کا یہ کاروبار نہیں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ وہ مصر تھے کہ راقم کتاب کی نقل بنوا کر اسلام آباد میں ان کے ایک عزیز کو بھیج دی جائے۔ عرض کیا اک ذرا تھم جائیے کہ ہند سے بھی فرمائشیں آرہی ہیں۔ مہ جبیں ناز کے چاہنے والے بہت ہیں۔ اسکین کرتے ہی بن پڑے گی گرچہ اس میں ہماری ناتواں گردن کے درد سے بے تاب ہوجانے کا احتمال ہے۔ قصہ مختصر، کتاب اسکین کی گئی بلکہ ساٹھ کی دہائی میں دلی سے شائع ہوئی ایک پرانی یادر کتاب "ہندوستانی فلموں کی قلوپطرہ-ملکہ غم مینا کماری" سے بھی کئی اہم مضامین و تصاویر بھی مذکورہ کتاب کے آخر میں شامل کردیے گئے۔ مذکورہ کتاب فاروق ارگلی صاحب نے مرتب کی تھی اور راقم کو ڈیڑھ برس قبل اتوار بازار ہی سے ملی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ کینیڈا والے صاحب کا فون آیا، فرمارہے تھے : "میں نے اس کا پرنٹ آؤٹ لے لیا ہے اور جلد بندی کروا رہا ہوں، آپ کو یہاں سے کسی بھی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف کہہ دیجیے"
عرض کیا کہ اک دعائے خیر کا طالب ہوں۔ ویسے یہ تو فرمائیے کہ آخر اس کتاب کے لیے آپ کو اس قدر بے چینی کیوں لاحق تھی ?
تس پر انہوں نے شرماتے ہوئے لکھا (راقم نے برقی پیغام میں موصوف کے لکھے الفاظ کو سرخ رنگ میں پایا، شرم سے ہی ہوئے ہوں گے): مینا کماری نوجوانی میں بلکہ بچپن میں میری آئیڈیل تھی۔ ابھی بھی ہے۔ میں اسے بھول نہیں سکا۔ اپنی بیگم سے بات کرتا ہوں، اس وقت بھی یہی تصور کرتا ہوں کہ مینا کماری سے گفتگو کررہا ہوں۔
صاحبو! اب آپ ہی بتائیے کہ خاکسار یہ سن کر جواب میں بھلا کیا کہتا۔ یا رب! کیسی کیسی چنگاری اپنے خآکستر میں ہے۔ گرچہ ایک ستم ظریف کہہ گئے ہیں کہ بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے گویا آدمی وہاں خارش کرے جہاں نہ ہورہی ہو۔ مگر خیر! ہم کون ہوتے ہیں کسی کی نیت پر شک کرنے والے۔ مینا کماری نے اپنے زمانے میں ایک خلقت کو دوانہ بنایا ہوا تھا۔ کتاب پڑھ کر کئی ایسے واقعات کا علم ہوتا ہے۔ بلکہ جنازے کے موقع پر بھی ہجوم تھا کہ بے قابو ہوا جاتا تھا۔ دلیپ کمار نے ہاتھ جوڑ کر مجمع کو قابو کیا تھا ورنہ بعض تو ایسے تھے جو ادکارہ مرحومہ کے ساتھ ہی دفن ہونا چاہتے تھے۔ لکھنے والے اس منظر کا نقشہ ایسا ہی کچھ کھینچا ہے۔
اس پر ہمیں وہ واقعہ یاد آیا جب ایک نوجوان خاتون کے شوہر انتقال کرگئے تھے، تدفین کے موقع پر موصوف کے ایک قریبی دوست کھسکتے کھسکتے خاتون کے برابر میں کھڑے ہوگئے اور سرگوشی کی " آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو کیا میں مرحوم کی جگہ لے سکتا ہوں ? "
ضرور لیجیے، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بس گورکن سے پوچھ لیجیے، اس کو کوئی اعتراض نہ ہو۔" خاتون نے رسان سے جواب دیا۔
مہ جبیں ناز یعنی مینا کماری کی کتاب کے آخر میں امیر حسین چمن صاحب نے زیبا نامی ان خاتون کی داستان بھی پیش کی ہے جو مینا کماری کی بیٹی ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ انکشافات سے بھرپور زیبا خاتون کا مفصل انٹرویو جو چشم کشا بھی ہے اور عبرت آموز بھی، کتاب میں شامل ہے۔
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to bazmeqalam
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شمع کے ایک پرانے شمارے میں (غالباً 72 یا 73) فلم پاکیزہ کے حوالے سے میناکماری اور اس فلم میں ان کی اداکاری پر ایک تنقیدی مضمون شائع ہوا تھا۔ شاید وہ واحد مضمون تھا جو میناکماری پر تنقید کے حوالے سے میں نے پڑھا ہوگا۔
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM
جی ہاں یوسف حیات صاحب
اسے خاکسار ہی نے "عوامی فرمائش" کے احترام میں اسکین کیا ہے۔
آپ کا لکھا یہ ایکسپریشن یعنی OMG آپ کی دلی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔
دیکھیے، ہماری بات اور اندازہ درست نکلا، کون کہتا ہے کہ مہ جبیں ناز اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہے۔ آج بھی اس کی یاد ذہنوں میں تروتازہ ہے۔
راشد
Rashid Ashraf
unread,
May 26, 2014, 5:43:38 AM5/26/14
Reply to author
Sign in to reply to author
Forward
Sign in to forward
Delete
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM, Mukarram Niyaz
کچھ یاد پڑتا ہے آپ کو کہ اس کے مصنف کون تھے ? میرے پیش کردہ لنک کو دیکھیے، شاید وہاں نظر آجائے، خاص کر فاروق ارگلی کی کتاب سے شامل کیے گئے مضامین کو دیکھیے۔
راشد
Daud Kakar
unread,
May 26, 2014, 11:10:34 AM5/26/14
Reply to author
Sign in to reply to author
Forward
Sign in to forward
Delete
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to BAZMe...@googlegroups.com, Mukarram Niyaz
جناب راشد صاحب،
ایسا مضمون باندھا کہ کتاب کو اپنی لائبریری کی زینت بناتے ہی بنی۔ مینا کماری میری شعوری عمر سے قدرے پہلے کی ہیں (مینا جی کے پرستاروں سے معذرت کے ساتھ) لیکن ایک تو آپ کا پر اثر تعارف اور اس پر جناب رئیس امروہی کی تحریر جنہیں پڑھنے کو دل بہت کرتا ہے لیکن آن لائن کم ہی دستیاب ہے اور اگر ہیں تو میرے علم میں نہیں۔ اللہ آپ کو ہمت و صحت دے۔
داؤد کاکڑ
Rashid Ashraf
unread,
May 26, 2014, 11:51:56 PM5/26/14
Reply to author
Sign in to reply to author
Forward
Sign in to forward
Delete
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message