محترم راشد اشرف صاحب
سلام مسنون۔ خود نوشتوں کی فہرست بذاتِ خود ایک اہم علمی کام ہے۔جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ میں اس کے سلسلے میں ایک دو معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں
آپ نے "افضل حق" اور "چوہدری افضل حق" کا دو علیحدہ ناموں سے اندراج کیا ہے۔ یہ افضل حق معروف احرار لیڈر تھے۔افضل حق کی تصنیف
"زندگی" اور چوہدری افضل حق کی "میرا افسانہ" دیا ہے۔
زندگی کسی کی خود نوشت نہیں بلکہ چوہدری افضل حق نے بعداز موت روح کے سفر کو تمثیلی انداز مین بیان کیا ہے۔
البتہ "میرا افسانہ" دو جلدوں میں شائع ہوا۔
"کل سویرے جو میری آنکھ کھلی" پطرس بخاری کا مضمون ہے نہ کہ سعادت حسن منٹو کا۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ منظرحسین کاظمی نے بھی
اپنی سرگزشت لکھی ہے۔ مرحوم سے میرے گہرے نیازمندانہ مراسم تھے۔ ہم دونوں گورنمنٹ کالج حیدرآباد میں ایک ہی کمرے مین سال بھر اکٹھے رہتے رہے۔ آخری دنوں میں ان سے ملاقات زیادہ نہیں ہوئی جس کی وجہ دور رہنے کی بھی رہی۔
مرحوم کریم الدین احمد کی "ذہنی کوفت کا سفر" کا ذکر اچھا لگا۔ میں نے ان کا ایک خاکہ لکھا تھا جو "انشاء" حیدرآباد کے خاکہ نمبر میں شائع ہوا۔ اسی رسالے میں میرے محسن بھوپالی، الیاس عشقی پر خاکے بھی شائع ہوئے۔
کیا آپ نے منظر
کاظمی کی سوانح پی ڈی ایف میں منتقل کی ہے؟ مجھے یہ سکریبڈ پر نظر نہیں آئی۔
کریم الدین ایک ناآسودہ شخص رہے۔ وہ جس یوٹوپیا کی تلاش میں نکلے تھے انہیں قدم قدم پر نہ صرف ٹھوکر بلکہ دھکے بھی ملتے رہے۔ ذہنی کوفت کا سفر اسی تناظر میں پڑھاجائے۔
دعائوں کے ساتھ
خیراندیش
خادم علی ہاشمی