غزل برائے تبصرہ و تنقید

22 views
Skip to first unread message

مهتا ب قدر

unread,
Sep 29, 2013, 12:46:25 AM9/29/13
to bazme...@googlegroups.com

 

ہمارا     عہد تصنع  لباس   کتنا    ہے!!

نظر بھی آے نہ    انساں اُداس کتنا ہے

خوشی میں ساتھ رہے غم میں دور ہو جائے

زمانہ  دیکھئے مردم  شناس کتنا ہے

سنا ہے    نیک طبیعت ہے شہرکا حاکم

مگر یہ شہر میں خوف وہراس کتنا ہے!

جہاز دیس میں بنتے ہوں تو غریب کو کیا

یہ دیکھنا ہے گیہوں اور کپاس کتنا ہے

وہ سایہ بن کے مرے ساتھ ساتھ ہے مہتابؔ  

مگر یہ پوچھنا مت دل کے پاس کتناہے

 

 

 

 

                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے

kathiawa...@gmail.com

unread,
Sep 29, 2013, 1:14:36 AM9/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Ghazal theek hai khayal acha alfaz ache bandish kahin chuti hai aur ghazal ka asal maza tab ata hai jab wo puri tarah rythem men ho kabhi kabhi chand ghazlen apni ghannayiet ki wajeh dil ko chu jati hain koshish karen wo ansar apne kalam men paida karsaken mashq jari rakhen dil bardashta hokar likhna band na karen Allah din duni raat chauguni tarraqqi de ameen-- mehar afroz---Original message-----
From: مهتا ب قدر
Sent: 29/09/2013, 10:16 am
To: bazme...@googlegroups.com
Subject: [مراسلہ نمبر:28226] غزل برائے تبصرہ و تنقید


* *

*ہمارا عہد تصنع لباس کتنا ہے!!*

*نظر بھی آے نہ انساں اُداس کتنا ہے*

*خوشی میں ساتھ رہے غم میں دور ہو جائے*

*زمانہ دیکھئے مردم شناس کتنا ہے***

*سنا ہے نیک طبیعت ہے شہرکا حاکم*

*مگر یہ شہر میں خوف وہراس کتنا ہے!***

*جہاز دیس میں بنتے ہوں تو غریب کو کیا*

*یہ دیکھنا ہے گیہوں اور کپاس کتنا ہے*

*وہ سایہ بن کے مرے ساتھ ساتھ ہے مہتابؔ ** *

*مگر یہ پوچھنا مت دل کے پاس کتناہے*








*مہتاب قدر*
*Mahtab Qadr *
* Editor In Cheif*
* Global Urdu News and Views*
* http://urdugulbun.blogspot.com *
* *
*میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں *
* میرا اصلی وطن مدینہ ہے*

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link

https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

مهتا ب قدر

unread,
Sep 29, 2013, 1:22:11 AM9/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمہ بندش کہاں چھوٹ رہی ہے یا غنائیت کا فقدان کہاں کہاں ہے اسکی نشاندہی فرمائیں تاکہ میں اپنی کمی کو پوری طرح پہچان سکوں، بے عیب خداکی ذات ہے اگر آپ رہنمائی فرمائیں گی تو میں  ممنون رہوں گا شکریہ مہتاب قدر جدہ

                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے

kathiawa...@gmail.com

unread,
Sep 29, 2013, 2:28:28 AM9/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Behren aati hon to jis behar par aap ne ghazal likhi hai us par tajziya kar ke dekhlen kya aap ye ghazal kisi sur par gaa sakte hain? agar gasaken to gannayiet hai warna nahi apke chand ashar apke matie aur maqte par pure nahin utarte shair keliye do cheezen bahut zaruri hain behron ki phchan aur musicality jo shair paidaishi aur nawaza gaya hota hai us par sher nuzul hote hain aur jo koshish karte hain unko mehnat aur islah ki zarurat hoti hai aap kitne kuhna mashq hain mujhe nahin malum magar kabhi kabi bade shairon ki ladkhadahat fashion aur pairwi keliye riwayat banjati hai agar aapka shumar ahde jadeed ke bade shoara men hai to aisa hi sahi Allah mubarak kare mukhlis mehar afrox-----Original message-----
From: مهتا ب قدر
Sent: 29/09/2013, 10:52 am
To: bazme...@googlegroups.com
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:28228] غزل برائے تبصرہ و تنقید


محترمہ بندش کہاں چھوٹ رہی ہے یا غنائیت کا فقدان کہاں کہاں ہے اسکی نشاندہی
فرمائیں تاکہ میں اپنی کمی کو پوری طرح پہچان سکوں، بے عیب خداکی ذات ہے اگر
آپ رہنمائی فرمائیں گی تو میں ممنون رہوں گا شکریہ مہتاب قدر جدہ

Syed Ahmed

unread,
Sep 29, 2013, 3:11:48 AM9/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم جناب مہتاب قدر صاحب             السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد
یاد کرنے اورغزل ارسال کرنے پر مشکور ہوں۔
عزل خوبصورت ہے، عام روش وحالات پر اچھے بکوٹے لئے ہیں، خصوصا یہ شعر بہت اچھا لگا:
سنا ہے نیک طبیعت ہے شہرکا حاکم

مگر یہ شہر میں خوف وہراس کتنا ہے
بس ایک التماس ہے کہ شعر ارسال کرنے میں مردوں کو مردہ نہ جانے، غزل تھوڑی باسی کرکے
روانہ کی، پہلے حضرت آدم کی تخلیق ہوئی پھر ان کی ٹیڑھی پسلی سے حضرت حواء کا وجود
مبارک ہوا، اس خرخشہ کے لئے معذرت۔
ملتمس دعاء
سید احمد
یک شنبہ
23-11-1434ھ
29-9-2013
From: مهتا ب قدر <mahta...@gmail.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Sunday, September 29, 2013 8:22 AM
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:28228] غزل برائے تبصرہ و تنقید


*  *
  *میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں   *
*  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے*

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link

https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link

https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

مهتا ب قدر

unread,
Sep 29, 2013, 12:42:10 PM9/29/13
to bazme...@googlegroups.com
شکریہ دوستو ابھی مزید احباب کی آرا کا انتظار ہے پھر میں گفتگو کروں گا انشاللہ


                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے


2013/9/29 مهتا ب قدر <mahta...@gmail.com>

iqbal sheikh

unread,
Sep 29, 2013, 1:29:48 PM9/29/13
to bazme...@googlegroups.com

 

آپ کے اشعار بہت عمدہ ہیں   ؎

تندئی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

میرے لئے یہ بات نہایت خُوش کُن ہے کہ آج کے  چمکتے سُورج   کی تپش سے جھلستے ہوئےنخچیرِ وقت انسان ،گردش ِ زماں و مکاں  کے عذاب سے بچ  بچا کرکچھ  لمحات  پرورشِ بزم ِقلم ،اور اپنے احساسِ فراخ دلی کوجلا  بخشنے، کی خاطر اپنا منصبی کردارادا کر تےرہتے ہیں۔

شکم سیری مطلُوب و مقصُود ہو توسالن میں نمک کے فقدان کو موضوعِ دسترخوان  و بحث بنانا عقل و دانش کا مظہر ہرگز   نہیں ہوا کرتا ۔ نمک دان   سےبقدرِ حصّہ و جثّہ ،اسطاعت و ضرورت اِس کمی کو بطریقِ احسن پورا کیا جاسکتا ہے۔یوں یہ  میزبان کی دِل آزاری کاموجب  ہوتا ہےنہ  ہی  مہمان کی  اشتہا میں کمی کا باعث۔اللہ اللہ خیر سلّا۔

میں بڑی فراخ دلی کیساتھ اِس با ت کی صداقت پر ایمان رکھتا ہوں کہ صنفِ شاعری میں مہارت موضوع  و مقصُودِسخن ہو تو تنقید و  تنسیخ کے در وا کرنے میں بخل  مُضرت رساں ہے ۔لیکن آج کے دور میں فنون ِ لطیفہ کی حیثیت ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں ۔نئی نسل  نے بحر ،قافیہ ، غزل تو کیا ،کلاسیکل سنگیت کی بھی دھجیاں اُدھیڑ کر رکھ دی ہیں ، جس کا کم و بیش ہر سوسائٹی نے  خیر مقدم کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ  یہ کسی حد تک اس  سوچ میں حق بجانب بھی ہیں ۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں  کےعزائم   میں یہ بات  مزاحم ہوتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں کو چھُونے کی جستجو میں غیرضروری  امور کو  کوئی اہمیت دی جائے ،لہٰذا  اُن اصطلاحات  اور اعتراضات سےاحتراز کیا جانے لگا ہے جوفنونِ لطیفہ میں بدرجہ اُتم موجُود  و مُتوارث ہیں ۔اس ضمن میں غالؔب کے اس  شعر کی آج داد دینا ضروری ہے کہ    ؎

دل ڈوھنڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے

آج کی "کیوں ، کس طرح،کیسے" والی نسل اپنے سوالات و استفسارات کا" لاجیکل "جواب اور حل مانگتی ہے۔ہر شے کو الیکڑونک مائیکرو سکوپ سے دیکھتی ہے۔آسمانی کتب کی حُرمت تک کو چیلنج کرنے سے عار محسوس نہیں کرتی۔

ہمیں اب اس زاویۂ فکر سے اشیائے کائنات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں بھی اِسی کشتی کا سوار ہونے کی حیثیت سےدنیائے تسخیر کی اس  بھیڑ  بھاڑ میں تگ و دو کرتے ہوئےاضمحال  و  اضطراب سے فرارکی خاطر،بموجبِ اختصار اور فقدان ِ وقت کے پیشِ نظر،فکر دوراں کےمنتشرو واسع خیالات کو اجماعی شکل میں اشعارکا جامہ پہنانے کی سعی کرتا رہتا ہوں، اس جذبۂ ایثارکے ساتھ    ؎

شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات



From: mahta...@gmail.com
Date: Sun, 29 Sep 2013 19:42:10 +0300
Subject: [مراسلہ نمبر:28263] Re: غزل برائے تبصرہ و تنقید
To: bazme...@googlegroups.com

مهتا ب قدر

unread,
Sep 29, 2013, 7:58:09 PM9/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com
مکرمی جناب اقبال شیخ صاحب سلام مسنون
آپ کے  گراں قدر تبصرے اور حوصلہ افزائی کے لئے شکر گزار ہوں

                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے


2013/9/29 iqbal sheikh <iqbal...@hotmail.com>

firasat ali

unread,
Sep 30, 2013, 4:54:18 AM9/30/13
to BAZMe...@googlegroups.com

MAOLANA   AAJ K ETEMAAD MAIN AAP KI HIJAZI GAZAL NUMAYAN HAI....................KHUBANI KA MEETHA KHILAEYE.

KHUSROW

Sent: Monday, September 30, 2013 2:58 AM
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:28279] Re: غزل برائے تبصرہ و تنقید

مکرمی جناب اقبال شیخ صاحب سلام مسنون
آپ کے  گراں قدر تبصرے اور حوصلہ افزائی کے لئے شکر گزار ہوں

                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے


2013/9/29 iqbal sheikh <iqbal...@hotmail.com>
 
آپ کے اشعار بہت عمدہ ہیں   ؎
تندئی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
میرے لئے یہ بات نہایت خُوش کُن ہے کہ آج کے  چمکتے سُورج   کی تپش سے جھلستے ہوئےنخچیرِ وقت انسان ،گردش ِ زماں و مکاں  کے عذاب سے بچ  بچا کرکچھ  لمحات  پرورشِ بزم ِقلم ،اور اپنے احساسِ فراخ دلی کوجلا  بخشنے، کی خاطر اپنا منصبی کردارادا کر تےرہتے ہیں۔
شکم سیری مطلُوب و مقصُود ہو توسالن میں نمک کے فقدان کو موضوعِ دسترخوان  و بحث بنانا عقل و دانش کا مظہر ہرگز   نہیں ہوا کرتا ۔ نمک دان   سےبقدرِ حصّہ و جثّہ ،اسطاعت و ضرورت اِس کمی کو بطریقِ احسن پورا کیا جاسکتا ہے۔یوں یہ  میزبان کی دِل آزاری کاموجب  ہوتا ہےنہ  ہی  مہمان کی  اشتہا میں کمی کا باعث۔اللہ اللہ خیر سلّا۔
میں بڑی فراخ دلی کیساتھ اِس با ت کی صداقت پر ایمان رکھتا ہوں کہ صنفِ شاعری میں مہارت موضوع  و مقصُودِسخن ہو تو تنقید و  تنسیخ کے در وا کرنے میں بخل  مُضرت رساں ہے ۔لیکن آج کے دور میں فنون ِ لطیفہ کی حیثیت ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں ۔نئی نسل  نے بحر ،قافیہ ، غزل تو کیا ،کلاسیکل سنگیت کی بھی دھجیاں اُدھیڑ کر رکھ دی ہیں ، جس کا کم و بیش ہر سوسائٹی نے  خیر مقدم کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ  یہ کسی حد تک اس  سوچ میں حق بجانب بھی ہیں ۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں  کےعزائم   میں یہ بات  مزاحم ہوتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں کو چھُونے کی جستجو میں غیرضروری  امور کو  کوئی اہمیت دی جائے ،لہٰذا  اُن اصطلاحات  اور اعتراضات سےاحتراز کیا جانے لگا ہے جوفنونِ لطیفہ میں بدرجہ اُتم موجُود  و مُتوارث ہیں ۔اس ضمن میں غالؔب کے اس  شعر کی آج داد دینا ضروری ہے کہ    ؎
دل ڈوھنڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے
آج کی "کیوں ، کس طرح،کیسے" والی نسل اپنے سوالات و استفسارات کا" لاجیکل "جواب اور حل مانگتی ہے۔ہر شے کو الیکڑونک مائیکرو سکوپ سے دیکھتی ہے۔آسمانی کتب کی حُرمت تک کو چیلنج کرنے سے عار محسوس نہیں کرتی۔
ہمیں اب اس زاویۂ فکر سے اشیائے کائنات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں بھی اِسی کشتی کا سوار ہونے کی حیثیت سےدنیائے تسخیر کی اس  بھیڑ  بھاڑ میں تگ و دو کرتے ہوئےاضمحال  و  اضطراب سے فرارکی خاطر،بموجبِ اختصار اور فقدان ِ وقت کے پیشِ نظر،فکر دوراں کےمنتشرو واسع خیالات کو اجماعی شکل میں اشعارکا جامہ پہنانے کی سعی کرتا رہتا ہوں، اس جذبۂ ایثارکے ساتھ    ؎
شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات


From: mahta...@gmail.com
Date: Sun, 29 Sep 2013 19:42:10 +0300
Subject: [مراسلہ نمبر:28263] Re: غزل برائے تبصرہ و تنقید
To: bazme...@googlegroups.com

شکریہ دوستو ابھی مزید احباب کی آرا کا انتظار ہے پھر میں گفتگو کروں گا انشاللہ


                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے


2013/9/29 مهتا ب قدر <mahta...@gmail.com>
 
ہمارا     عہد تصنع  لباس   کتنا    ہے!!
نظر بھی آے نہ    انساں اُداس کتنا ہے
خوشی میں ساتھ رہے غم میں دور ہو جائے
زمانہ  دیکھئے مردم  شناس کتنا ہے
سنا ہے    نیک طبیعت ہے شہرکا حاکم
مگر یہ شہر میں خوف وہراس کتنا ہے!
جہاز دیس میں بنتے ہوں تو غریب کو کیا
یہ دیکھنا ہے گیہوں اور کپاس کتنا ہے
وہ سایہ بن کے مرے ساتھ ساتھ ہے مہتابؔ  
مگر یہ پوچھنا مت دل کے پاس کتناہے
 
 
 
 
                 مہتاب قدر
         Mahtab Qadr 
          Editor In Cheif
      Global Urdu News and Views
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages