ہمارا عہد تصنع لباس کتنا ہے!!
نظر بھی آے نہ انساں اُداس کتنا ہے
خوشی میں ساتھ رہے غم میں دور ہو جائے
زمانہ دیکھئے مردم شناس کتنا ہے
سنا ہے نیک طبیعت ہے شہرکا حاکم
مگر یہ شہر میں خوف وہراس کتنا ہے!
جہاز دیس میں بنتے ہوں تو غریب کو کیا
یہ دیکھنا ہے گیہوں اور کپاس کتنا ہے
وہ سایہ بن کے مرے ساتھ ساتھ ہے مہتابؔ
مگر یہ پوچھنا مت دل کے پاس کتناہے
* *
*میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں *
* میرا اصلی وطن مدینہ ہے*
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
آپ کے اشعار بہت عمدہ ہیں ؎
تندئی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
میرے لئے یہ بات نہایت خُوش کُن ہے کہ آج کے چمکتے سُورج کی تپش سے جھلستے ہوئےنخچیرِ وقت انسان ،گردش ِ زماں و مکاں کے عذاب سے بچ بچا کرکچھ لمحات پرورشِ بزم ِقلم ،اور اپنے احساسِ فراخ دلی کوجلا بخشنے، کی خاطر اپنا منصبی کردارادا کر تےرہتے ہیں۔
شکم سیری مطلُوب و مقصُود ہو توسالن میں نمک کے فقدان کو موضوعِ دسترخوان و بحث بنانا عقل و دانش کا مظہر ہرگز نہیں ہوا کرتا ۔ نمک دان سےبقدرِ حصّہ و جثّہ ،اسطاعت و ضرورت اِس کمی کو بطریقِ احسن پورا کیا جاسکتا ہے۔یوں یہ میزبان کی دِل آزاری کاموجب ہوتا ہےنہ ہی مہمان کی اشتہا میں کمی کا باعث۔اللہ اللہ خیر سلّا۔
میں بڑی فراخ دلی کیساتھ اِس با ت کی صداقت پر ایمان رکھتا ہوں کہ صنفِ شاعری میں مہارت موضوع و مقصُودِسخن ہو تو تنقید و تنسیخ کے در وا کرنے میں بخل مُضرت رساں ہے ۔لیکن آج کے دور میں فنون ِ لطیفہ کی حیثیت ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں ۔نئی نسل نے بحر ،قافیہ ، غزل تو کیا ،کلاسیکل سنگیت کی بھی دھجیاں اُدھیڑ کر رکھ دی ہیں ، جس کا کم و بیش ہر سوسائٹی نے خیر مقدم کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی حد تک اس سوچ میں حق بجانب بھی ہیں ۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں کےعزائم میں یہ بات مزاحم ہوتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں کو چھُونے کی جستجو میں غیرضروری امور کو کوئی اہمیت دی جائے ،لہٰذا اُن اصطلاحات اور اعتراضات سےاحتراز کیا جانے لگا ہے جوفنونِ لطیفہ میں بدرجہ اُتم موجُود و مُتوارث ہیں ۔اس ضمن میں غالؔب کے اس شعر کی آج داد دینا ضروری ہے کہ ؎
دل ڈوھنڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے
آج کی "کیوں ، کس طرح،کیسے" والی نسل اپنے سوالات و استفسارات کا" لاجیکل "جواب اور حل مانگتی ہے۔ہر شے کو الیکڑونک مائیکرو سکوپ سے دیکھتی ہے۔آسمانی کتب کی حُرمت تک کو چیلنج کرنے سے عار محسوس نہیں کرتی۔
ہمیں اب اس زاویۂ فکر سے اشیائے کائنات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں بھی اِسی کشتی کا سوار ہونے کی حیثیت سےدنیائے تسخیر کی اس بھیڑ بھاڑ میں تگ و دو کرتے ہوئےاضمحال و اضطراب سے فرارکی خاطر،بموجبِ اختصار اور فقدان ِ وقت کے پیشِ نظر،فکر دوراں کےمنتشرو واسع خیالات کو اجماعی شکل میں اشعارکا جامہ پہنانے کی سعی کرتا رہتا ہوں، اس جذبۂ ایثارکے ساتھ ؎
شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات
آپ کے اشعار بہت عمدہ ہیں ؎تندئی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقابیہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئےمیرے لئے یہ بات نہایت خُوش کُن ہے کہ آج کے چمکتے سُورج کی تپش سے جھلستے ہوئےنخچیرِ وقت انسان ،گردش ِ زماں و مکاں کے عذاب سے بچ بچا کرکچھ لمحات پرورشِ بزم ِقلم ،اور اپنے احساسِ فراخ دلی کوجلا بخشنے، کی خاطر اپنا منصبی کردارادا کر تےرہتے ہیں۔شکم سیری مطلُوب و مقصُود ہو توسالن میں نمک کے فقدان کو موضوعِ دسترخوان و بحث بنانا عقل و دانش کا مظہر ہرگز نہیں ہوا کرتا ۔ نمک دان سےبقدرِ حصّہ و جثّہ ،اسطاعت و ضرورت اِس کمی کو بطریقِ احسن پورا کیا جاسکتا ہے۔یوں یہ میزبان کی دِل آزاری کاموجب ہوتا ہےنہ ہی مہمان کی اشتہا میں کمی کا باعث۔اللہ اللہ خیر سلّا۔میں بڑی فراخ دلی کیساتھ اِس با ت کی صداقت پر ایمان رکھتا ہوں کہ صنفِ شاعری میں مہارت موضوع و مقصُودِسخن ہو تو تنقید و تنسیخ کے در وا کرنے میں بخل مُضرت رساں ہے ۔لیکن آج کے دور میں فنون ِ لطیفہ کی حیثیت ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں ۔نئی نسل نے بحر ،قافیہ ، غزل تو کیا ،کلاسیکل سنگیت کی بھی دھجیاں اُدھیڑ کر رکھ دی ہیں ، جس کا کم و بیش ہر سوسائٹی نے خیر مقدم کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی حد تک اس سوچ میں حق بجانب بھی ہیں ۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں کےعزائم میں یہ بات مزاحم ہوتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں کو چھُونے کی جستجو میں غیرضروری امور کو کوئی اہمیت دی جائے ،لہٰذا اُن اصطلاحات اور اعتراضات سےاحتراز کیا جانے لگا ہے جوفنونِ لطیفہ میں بدرجہ اُتم موجُود و مُتوارث ہیں ۔اس ضمن میں غالؔب کے اس شعر کی آج داد دینا ضروری ہے کہ ؎دل ڈوھنڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دنبیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئےآج کی "کیوں ، کس طرح،کیسے" والی نسل اپنے سوالات و استفسارات کا" لاجیکل "جواب اور حل مانگتی ہے۔ہر شے کو الیکڑونک مائیکرو سکوپ سے دیکھتی ہے۔آسمانی کتب کی حُرمت تک کو چیلنج کرنے سے عار محسوس نہیں کرتی۔ہمیں اب اس زاویۂ فکر سے اشیائے کائنات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں بھی اِسی کشتی کا سوار ہونے کی حیثیت سےدنیائے تسخیر کی اس بھیڑ بھاڑ میں تگ و دو کرتے ہوئےاضمحال و اضطراب سے فرارکی خاطر،بموجبِ اختصار اور فقدان ِ وقت کے پیشِ نظر،فکر دوراں کےمنتشرو واسع خیالات کو اجماعی شکل میں اشعارکا جامہ پہنانے کی سعی کرتا رہتا ہوں، اس جذبۂ ایثارکے ساتھ ؎شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات
From: mahta...@gmail.com
Date: Sun, 29 Sep 2013 19:42:10 +0300
Subject: [مراسلہ نمبر:28263] Re: غزل برائے تبصرہ و تنقید
To: bazme...@googlegroups.com
شکریہ دوستو ابھی مزید احباب کی آرا کا انتظار ہے پھر میں گفتگو کروں گا انشاللہ
مہتاب قدرMahtab QadrEditor In CheifGlobal Urdu News and Viewsمیں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوںمیرا اصلی وطن مدینہ ہے
2013/9/29 مهتا ب قدر <mahta...@gmail.com>
ہمارا عہد تصنع لباس کتنا ہے!!
نظر بھی آے نہ انساں اُداس کتنا ہے
خوشی میں ساتھ رہے غم میں دور ہو جائےزمانہ دیکھئے مردم شناس کتنا ہےسنا ہے نیک طبیعت ہے شہرکا حاکممگر یہ شہر میں خوف وہراس کتنا ہے!جہاز دیس میں بنتے ہوں تو غریب کو کیایہ دیکھنا ہے گیہوں اور کپاس کتنا ہےوہ سایہ بن کے مرے ساتھ ساتھ ہے مہتابؔمگر یہ پوچھنا مت دل کے پاس کتناہے
مہتاب قدرMahtab QadrEditor In CheifGlobal Urdu News and Viewsمیں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوںمیرا اصلی وطن مدینہ ہے
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM