جھینگر اور چیونٹی
شفقات احمد ساجد
جب میں چھوٹا بچہ تھا تو مجھے اخلاقی حکایات سنائی جاتیں اور ہر حکایت کے اخلاقی پہلو سے روشناس کرایا جاتا۔ میں کہانی کے کرداروں کو بالکل حقیقی سمجھتا، چنانچہ کسی کردار سے چاہت اور کسی سے نفرت کا رشتہ استوار کرلیتا۔ اُنہی کہانیوں میں سے ایک کہانی ’’جھینگر اور چیونٹی‘‘کی تھی، جس سے نونہالوں کو یہ سبق دیا جانا مقصود تھا کہ اس دارِفانی میں محنت کا صلہ اور بدچلنی کی سزا ضرور ملتی ہے۔
اس سبق آموز کہانی میں چیونٹی موسم گرما میں سخت محنت کے ساتھ موسم سرما کے لیے خوراک جمع کرتی ہے۔ جبکہ جھینگر گھاس کے پتے پر بیٹھا جھوم جھوم کر گاتا اور دادِعیش دیتا رہتا ہے۔ سرما کا موسم آتا ہے تو چیونٹی بڑی طمانیت سے بچوں کے ساتھ اپنے بل میں گھس بیٹھتی ہے مگر جھینگر کے پاس نعمت خانہ میں کوئی جمع شدہ اناج نہیں ہوتا۔ وہ چیونٹی کے پاس جاتا ہے اور بڑی لجاجت سے کہتا ہے ’’بہن! بہن! مجھے تھوڑا سا اناج دے دو۔‘‘
چیونٹی اپنے بل سے سر نکال کر پوچھتی ہے ’’تم موسمِ گرما میں کیا کرتے رہے؟‘‘ جھینگر نے انکسار سے کہا ’’میں گانا گاتا رہا، گاتا رہا، بس دن رات گاتا ہی رہا۔‘‘ چیونٹی بولی ’’اچھا گاتے رہے ہو تو جائو، اب ڈانس کرو۔‘‘ میں اسے اپنی کج فہمی یا اخلاقی بے راہ روی پر محمول نہیں کرتا۔ میرے بچپنے کی غیر منطقی اور ناپختہ سوچ کہیے کہ میں مذکورہ کہانی کے اخلاقی پہلو سے اپنے بچپن میں کبھی اتفاق نہ کرسکا اور میری تمام تر ہمدردیاں ہمیشہ جھینگر کے ساتھ رہیں۔ بعض اوقات تو چیونٹی کو دیکھتے ہی بے اختیار میرا جی چاہتا کہ پورے وزن کے ساتھ اُس پر اپنا پائوں رکھ دوں۔ مگر والدہ کی یہ نصیحت کہ ’’اللہ تعالیٰ کی ہر ذی روح مخلوق کے ساتھ بے رحمی سے نہیں بلکہ شفقت، نرمی، احسان اور درگزر سے پیش آنا چاہیے۔‘‘ مجھے اس ارادے سے باز رکھتی۔
مجھے یہ کہانی جارج رمزے المعروف جیری کو دیکھ کر یاد آئی جو دوپہر کے کھانے کے لیے ایک ہوٹل میں الگ تھلگ سا بیٹھانہایت افسردگی کے عالم میں خلا میں گھور رہا تھا۔ جیسے جہان بھر کا بوجھ اسی کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا ہو۔ اُسے یوں دیکھ کر مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب کی بار پھر اُس کے ناہنجار بھائی نے کوئی نئی مصیبت کھڑی کی ہوگی۔ ’’کیسے ہیں آپ؟‘‘ میں نے آہستہ سے پوچھا۔ ’’یار! بہت پریشان ہوں۔‘‘ اُس نے مدھم لہجے میں کہا۔ ’’پھر ٹوم ہی نے کچھ کر دکھایا ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔
’’ہاں! اُسی نے۔‘‘ اُس نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ’’آپ اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ دیکھیے! ُٓٓ آپ نے اُس کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ اب تو آپ کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ اُس کا معاملہ ایک لاینحل مسئلہ ہے۔‘‘ میں نے اُس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ میرا خیال ہے ہر خاندان میں ایک نہ ایک ایسا نکھٹو ضرور ہوتا ہے۔ ٹوم رمزے نے عملی زندگی کا آغاز کاروبار شروع کرکے اچھے پیرائے سے کیا تھا۔ پھر شادی کی اور دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ مگر ایک روز اچانک اُس نے اظہار کیا کہ اسے موجودہ کاروبار تو کیا کوئی بھی ذریعہ معاش پسند نہیں اور یہ کہ وہ شادی کے لیے بھی موزوں شخص نہیں تھااور صرف اپنی ذات کے لیے عیش و عشرت پسند کرتا ہے۔
چنانچہ اُس نے آفس جانا ترک کیا، بیوی بچوں کو خیرباد کہا اور جو تھوڑی بہت رقم تھی، جیب میں ڈال ملکوں ملکوں سیروتفریح پر روانہ ہوگیا۔ گاہے گاہے اُس کے عزیزوں کو اُس کی الٹی سیدھی حرکتوں کی خبریں ملتیں تو وہ پریشان ہوجاتے اور ہمیشہ یہی سوال اٹھتا کہ جب اُس کے پاس رقم ختم ہوجائے گی تو پھر کیا ہوگا؟ مگر وہ تھا آزاد منش اور خوش وقت آدمی۔ پھر جلد ہی معلوم ہوا کہ اس نے رقوم اُدھار حاصل کرنا شروع کردیں۔ میں نے آج تک اُس جیسا پُرکشش اور فسوں گر شخص نہیں دیکھا کہ وہ اُدھار مانگے اور دوسرے سے انکار ہوسکے۔
چنانچہ وہ مسلسل دوستوں سے قرض لے کر گزراوقات کرتا رہا اور دوست بنا لینا اُس کے لیے بہت آسان کام تھا۔ اُس کا ہمیشہ یہی کہنا رہا کہ جو رقم آپ روزمرّہ کی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں، وہ بیزار کن ہے۔ مگر جو خرچ عیاشیوں پر اٹھتا ہے، وہ اطمینان اور سکون کا باعث ہے۔ اپنی اور بچوں کی ضروریات زندگی کے لیے وہ ہمیشہ جیری کا دستِ نگر رہا۔ اس مد پر خرچ کرنے کو وہ دولت کا ضیاع خیال کرتا تھا۔
ایک مرتبہ جیری نے ٹوم کے جھانسے میں آ کر اُسے معقول رقم بھی دے ڈالی تاکہ وہ نئے سرے سے کاروبار شروع کرسکے۔ مگر ٹوم نے رقم ہاتھ لگتے ہی ایک نئی موٹر خریدی اور بقایا رقم قیمتی گھڑی اور زیور خریدنے پر صرف کردی۔ جب جیری کو اس بات کا پورا یقین ہوگیا کہ اس کا بھائی سدھرنے والا نہیں تو اس نے اس سے ترکِ تعلق کرلیا۔ مگر ٹوم نے خاندانی حمیت کو تج کر چھوٹے موٹے کام شروع کردیے۔ جیری کو وہ کبھی لاٹری ٹکٹ فروخت کرتا اور کبھی خوردہ فروش کے طور پر بازار کی نکڑ پر کھڑا نظر آتا۔ جیری نے اُسے ایسے کاموں سے باز رہنے کو کہا تو اُس نے مطالبہ کیا کہ اگر اُسے ۲۰۰ پائونڈ مل جائیں تو وہ ایسے کام نہیں کرے گا، چنانچہ جیری نے اُسے یہ رقم ادا کردی۔
ایک مرتبہ جیری یہ سن کر بہت آزردہ ہوا کہ ٹوم جیل جانے والا تھا۔ چنانچہ اُسے بادلِ نخواستہ معاملے میں مداخلت کرنا پڑی۔ ٹوم ناشائستہ، نامعقول اور لالچی تو تھا مگر اُس نے آج تک کوئی ایسی بددیانتی نہیں کی تھی جو قانونی نکتۂِ نظر سے قابلِ تعزیر ہوتی۔ مگر اب کی بار اگر اُس پر نالش ہوتی تو عدالت سے یقینا اُسے سزا ہوجاتی۔ مگر کون ہے جو اپنے اکلوتے بھا ئی کا جیل جانا پسند کرے گا؟ جیری کو معلو م ہوا کہ ٹوم نے گرانشاء نامی شخص سے کچھ رقم ہتھیالی تھی اور وہ شخص ہر قیمت پر معاملہ کو عدالت میں لے کر جانا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ٹوم جیسے بدقماش شخص کو عدالت سے قرارِواقعی سزا ہونی چاہیے۔ جیری کو اس معاملے کو نبٹانے کے لیے بہت دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس نے پانچ سو پائونڈ کا چیک بحق گرانشاء جاری کرکے معاملہ رفع دفع کرایا۔
میں نے جیری کو آج تک اس قدر غصہ میں نہیں دیکھا جتنا اُس روز دیکھا۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ چیک کیش کراتے ہی ٹوم اور گرانشاء مل کر مونٹی کارلو چلے گئے تھے جہاں انہوں نے ایک ماہ بڑی عیش و عشرت میں گزارا۔ عرصہ ۲۰ سال تک ٹوم کسی نہ کسی طور رقوم حاصل کرکے اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرتا، جوا کھیلتا، ہوٹلوں میں ڈانس پارٹیوں میں شرکت کرتا اور ہر طرح دادِعیش دیتا رہا۔ وہ ایسے بن سنور کر رہتا جیسے کسی شوکیس میں لگا نقلی مجسمہ ہو۔ اُس کی عمر ۴۶ سال ہوچکی تھی مگر وہ ۳۵ سے زیادہ کا نہیں دکھتا تھا۔ وہ نہایت دلچسپ مجلسی آدمی تھا۔ خواہ کسی کو معلوم ہی ہوتا کہ ٹوم معاشرتی اعتبار سے بے راہ رو تھا مگر وہ اس کی صحبت سے محظوظ ہوئے بغیر نہ رہتا۔ وہ ہمیشہ شگفتہ مزاج، شادماں اور فسوں کار سا ہوتا۔
اُس نے جب کبھی اپنی ضروریات کے لیے مجھ سے کچھ رقم طلب کی، میں نے انکارنہ کیا۔ میں اس کے مطالبہ پر اُسے ۵۰ پائونڈ بھی ادھار دیتا تو اُس کی شخصیت اور اندازِطلب سے اس قدر متاثر ہوتا کہ مجھے لگتا جیسے اُس نے مجھے ۵۰ پائونڈ اُدھار دیے ہوں۔ ٹوم کو ہر کوئی جانتا تھا اور وہ ہر کسی کو جانتا تھا۔ آپ بے شک اُس کی زندگی کے چلن کو ناپسند کریں مگر اُسے پسند کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جیری اپنے بھائی ٹوم سے صرف ایک سال بڑا تھا۔ مگر وہ ۶۰ سال کا دکھائی دیتا تھا۔ اُس نے گزشتہ ربع صدی کی ملازمت کے دوران کسی ایک سال میں کبھی ۲ ہفتے کی دفتری رخصت نہ لی تھی۔ وہ صبح ساڑھے نو بجے دفتر آتا اور کبھی ۶ بجے سے پہلے گھر کے لیے روانہ نہ ہوتا۔ وہ لائق فائق تو تھا ہی مگر اس کے ساتھ نہایت ایماندار اور محنتی تھا۔
اُس کی بیوی ایک وفاشعار خاتون تھی اورجیری نے بھی کبھی اُس کا جی میلا نہیں ہونے دیا تھا۔ اُس کے ۴ بچے تھے جن کی نظر میں وہ ایک مثالی باپ تھا۔ اپنے ہی وضع شدہ اصول کے مطابق وہ ماہانہ آمدنی میں سے ایک تہائی رقم پس انداز کرلیتا۔ اُس کا خیال تھا کہ پچپن کی عمر کو پہنچ کر وہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لے گا۔ پھر مضافاتی علاقہ میں ایک خوبصورت چھوٹا سا گھر بنائے گا۔ باغ لگائے گا اور گولف کھیلا کرے گا۔ وہ معصومانہ سی زندگی گزار رہا تھا اورخوش تھا کہ وہ بوڑھا ہو رہا تھا۔
اُس کے ساتھ ٹوم بھی بوڑھا ہو رہا تھا۔ ایک بار اُس نے اپنے ہاتھوں کو رگڑتے ہوئے کہا ’’کتنا اچھا زمانہ تھا جب ٹوم ایک خوش شکل نوجوان تھا۔ وہ مجھ سے ایک سال چھوٹا ہی تو ہے۔ آج سے ۴ سال بعد وہ ۵۰ سال کا ہوجائے گا۔ تب اُسے زندگی اتنی آسان نہیں لگے گی۔ جب میں ۵۰ سال کا ہوں گا تو میرے پاس پورے ۳۰ ہزار پائونڈ ہوںگے۔ گزشتہ ۲۵ سال سے میری اُس کے بارے یہی رائے رہی ہے کہ ٹوم کا انجام خستہ حالی ہے۔ تب دیکھیں گے کہ اُس کو اپنا ویسا انجام کیسا لگے گا۔ بہرحال اُسے یہ تو معلوم ہو ہی جائے گا کہ نکما رہنے سے کام کرنا ہی بہتر ہے۔‘‘
پھر ایک روز میں نے دیکھا کہ جیری نہایت غمگین صورت لیے بیٹھا تھا۔ میں اس کے قریب ہوبیٹھا اور ازراہِ ہمدردی اُس سے دریافت کیا کہ ’’آج پھر ٹوم نے کوئی بُری حر کت کر ڈالی ہے؟‘‘ ’’کیا تمھیں معلوم ہے کہ اب کیا ہوا ہے؟‘‘ اُس نے مجھ سے دریافت کیا۔ میں کوئی بدترین خبر سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہوا۔ میرا خیال تھا کہ اب کی بار شاید پولیس نے ٹوم کو کسی جرم میں گرفتار کرلیا تھا۔ جیری بہت مشکل سے بول پایا : ’’آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں نے زندگی بھر اَن تھک محنت کی ہے اور معاشرہ میں شائستہ مزاج، معزز اور صاف گو شخص کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہوں۔ میں نے محنت سے کام کیا اور کفایت شعاری سے زندگی بسر کی اور ہمیشہ منشائِ ایزدی کو مدِنظر رکھ کر فرائض منصبی اد اکیے۔‘‘ ’’بالکل سچ ہے۔‘‘ میں نے لقمہ دیا۔
’’اور آپ یہ بھی تسلیم کریں گے کہ ٹوم نوعمری سے تاحال نکما، ناشائستہ، فریبی، سیاہ کار رہا ہے۔ اُس کے حالات کا تقاضا یہی تھا کہ وہ کسی محتاج خانہ میں پڑا ہوتا۔‘‘ ’’بالکل درست ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ جیری کا چہرہ سرخ ہوگیا اور وہ بولا ’’چند ہفتے قبل کی بات ہے، ٹوم نے اپنی والدہ کی عمر کی ایک خاتون سے شادی کرلی جو اب اچھا خاصا ترکہ چھوڑ کر فوت ہوگئی ہے۔ ترکے میں اُسے نصف ملین پائونڈ، ایک بجرہ برائے سمندری سیروتفریح، ایک گھر لندن میں، دوسرا گھر مضافاتی علاقہ میں واقع ہے، ملے ہیں۔‘‘ جیری نے پھر زور سے میز پرمُکّا مارتے ہوئے کہا
’’یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ میں کہتا ہوں یہ بالکل ٹھیک نہیں ہوا۔ لعنت بھیجو ایسا ہونے پر ،یہ ٹھیک نہیں ہوا۔‘‘ جیری کا غصہ سے لال بھبھوکا ،قہر آلود چہرہ دیکھ کر مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں اتنا ہنسا کہ لڑھک کر کرسی سے زمین پر آرہا۔ جیری نے میری اس حرکت پر مجھے کبھی معاف نہیں کیا۔ لیکن ٹوم مجھے اکثر اپنے مے فیئر میں واقع خوبصورت گھر میں بلاتا رہتا ہے اور کبھی کبھی عادت سے مجبور ہو کر مجھ سے اُدھار بھی مانگتا ہے لیکن ایک ا ٓدھ پائونڈ سے زیادہ کا نہیں
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup