شیخ صاحب‘ قطع نظر اس موجودہ بحث کے (کہ صاحب نے بات کرنے سے منع کر دیا ہے) افسوس ناک امر یہ ہے کہ قرآن اور صحیح حدیث کا دعوی کر کے حقیقت میں جب بات ہو تو بزرگوں پر بے سمجھے الزام لگائے جاتے ہیں بغیر دلیل کے۔ میں اپنی عمر سے بڑوں سے طنز نہیں کیا کرتا‘ اور مفتی صاحب کے حکم کے بعد تو مزید محتاط ہوں۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ سمجھنے والا کسی بات کو طنز سمجھے تو اس کا کیا کیجئے۔ آپکے سامنے دو یا تین بار ہو چکا ہے کہ کسی بات پر اسی بزم پر ناچیز نے سند اور متن مانگا تو مسؤول برا مان گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں لب کشائی کی حدود ہیں' اس سے میرے باپ داد مستثنی نہیں تو واللہ کوئی بھی نہیں۔ اگر معزز لوگ ان سوالات سے بچنا چاہتے ہیں تو یا تو تحقیق کے بعد بات کریں یا بات نہ کیا کریں کیونکہ بات کریں گے‘ مناسب نہیں ہو گی تو جوابدہ تو ہونا پڑے گا۔
المیہ یہ ہے کہ لوگ تاریخ کا مطالعہ ٹھیک نہیں کرتے۔ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ تاریخ تو رطب و یابس کا مجموعہ ہے کیونکہ اچھے مورخ کا کام ہے کہ جو بات لوگوں کی زبان پر ملے اُسے بیان کر دے۔ لیکن یہ پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کہ جب تک تحقیق نہ کر لے بات آگے بیان نہ کرے۔ اسکی مثال ایسے ہے کہ ایک آدمی جھگڑے کی جگہ پہنچے تو اب پہلے غور کرے کہ کس کا قصور ہے۔ اسکے لئے اپنی دوسری معلومات کو سامنے رکھے اور جھگڑے میں شامل لوگوں کی معاشرتی اور اخلاقی حیثیت کو بھی‘ وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال‘ موجودہ تذکرے میں تینوں اعتراض قابل جواب ہیں جو کہ میں اپنی دانست میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا‘ اللہ تعالٰی سے حق بات کرنے کی التجاء ہے۔
عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ ہمیشہ سے مکہ کے عقلمند اور نیک لوگوں میں شامل تھے‘ فتح خیبر کے بعد مسلمان ہو کر مدینہ ہجرت کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی تعریف کی اور انہیں بعض غزوات کا امیر بھی بنایا جبکہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما جیسے لوگ لشکر میں شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی العاص کے دونوں بیٹے مومن ہیں' عمرو اور ھشام۔ فرمایا کہ لوگوں میں اچھے اسلام اور ایمان والے عمرو بن العاص ہیں۔ انہوں نے ہی مصر اور فلسطین فتح کیا اور پھر افریقی ممالک کی طرف رخ کیا اور لیبیا تک پہنچے۔ ان کے مناقب و فضائل بے شمار ہیں جو کہ کتب میں موجود ہیں۔
محمد بن ابی بکر صحابی نہیں تھے۔ ان کی والدہ جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں' انکی شھادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا۔ محمد بن ابی بکر حجۃ الوداع کے موقع پر پیدا ہوئے جبکہ انکی والدہ رضی اللہ عنھا ابھی احرام میں تھیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تو انکے سایہ طفولیت میں پرورش پانے لگے۔ انہیں عثمان رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصریوں کے وفد کے کہنے پر معزول کر کے مصر کا گورنر مقرر کیا (اسی سے یہ الزام بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ بنو امیہ کو نوازا جاتا تھا)۔ نوجوان تھے لوگوں کی باتوں میں آکر خلیفہ کے خلاف فتنے کا حصہ بنے‘ مدینہ کا رخ کیا اور جو لوگ قتل کیلئے دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے یہ محمد بن ابی بکر ان میں شامل ہیں۔ انہوں نے خود اقرار کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو داڑھی سے پکڑا تو اُنہوں نے کہا بھتیجے اگر تمہارا باپ دیکھ لے تو کیا ہو؟ (یا ایسی ہی کوئی بات کہی) تو میں نے چھوڑ دیا اور دوسرے لوگوں نے قتل کر دیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات مان لی (کہ قتل میں نے نہیں کیا) لیکن ظاہر ہے قصاص کے معاملے میں یہ دلیل کافی نہیں۔
مزید بات سے پہلے صفین میں تحکیم کی بات ہو جائے جس کے تبصرے میں صاحب نے سیاسی چال کہا ہے۔ جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے مشورے پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مصالحت کی آواز بلند کی تو علی رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو اپنا نمائندہ بنایا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو۔ اب تاریخ میں مشہور ہے کہ بات چیت کے بعد ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ معاویہ اور علی دونوں معزول ہیں مسلمان کوئی اور خلیفہ چن لیں‘ لیکن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی باری پر کہا کہ علی تو معزول ہیں معاویہ نہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کیسے ہوا؟ کیا تحکیم کسی کو معزول کرنے کیلئے تھی؟ ایک مثال سے سمجھئے۔ دو مکتبوں کے ایڈیٹروں میں اختلاف ہو کہ کتاب کون چھاپے گا‘ دونوں کے نمائندے بیٹھیں اور باہر نکل کر یہ فیصلہ دینا شروع کر دیں کہ دونوں ایڈیٹر معزول ہیں۔ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں؟ اس روایت میں سندا بھی کمزوری ہے اور متنا مذکورہ کے علاوہ اور بھی علتیں ہیں جو اسے ماننے سے مانع ہیں۔ الغرض تمام تاریخی واقعات کے تتبع سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تحکیم میں بات سرے نہ چڑھ سکی تو معاویہ رضی اللہ عنہ یہ معاہدہ کر کے چلے گئے کہ علی رضی اللہ عنہ فورا خلیفہ کے قاتلوں کو سزا دیں اور اس فتنے کے تمام شامل لوگوں کو سخت سزا دیں۔
جب لشکر واپس ہو گئے تو ظاہری طور پر پہلا اثر یہ متوقع تھا کہ محمد بن ابی بکر کو معزول کیا جاتا اور ان کے ساتھیوں کو طلب کر کے کاروائی آگے بڑھائی جاتی۔ لیکن جب ایسا نہ ہوا اور نظام ویسا ہی چلتا رھا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی گورنری سنبھالنے کا کہا کیونکہ انکے نزدیک محمد بن ابی بکر اس کے اہل نہیں رہے تھے۔ عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ کے سپہ سالار نے محمد بن ابی بکر کے لشکر کو مصر جا کر شکست دی اور انہیں ایک گھر میں چھپے ہوئے پکڑ لیا۔ کسی نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس سفارش کی تو انہوں نے سپہ سالار کو پیغام بھیجا لیکن اُس نے نہ مانی اور محمد بن ابی بکر کو اُنکے ساتھیوں کے ساتھ قصاص کے طور پر قتل کروا دیا۔ بعد میں اگر کسی نے انہیں گدھے کی کھال میں ڈال کر جلایا تو اس کا الزام عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر نہیں‘ کیونکہ وہ تو قتل کے معاملے میں ہی نرمی کے خواھاں تھے کجا کہ جلا بھی دیں۔
اگلی بات جلانے کی؛ تو یہ نہ صرف عربوں کا ایک رویہ تھا بلکہ آج بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ کیا امریکہ نے جنگ عظیم میں جاپان کے پورے کے پورے شہر نہیں جلا دیئے؟ کیا خودکار جہاز پاکستانی علاقوں میں آکر پورا پورا گھر مکینوں سمیت نہیں جلا ڈالتے؟ اس کا یہ مقصد نہیں کہ اسے جائز قرار دے دیا جائے بلکہ یہ ایک حکمت عمل ہے جس کے ذریعے طاقتور اپنی دھاک بٹھاتا ہے یا یہ کہ دشمن کے عمل کے شنیع ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ خود علی رضی اللہ عنہ نے جنگ نہروان کے بعد کچھ لوگوں کو زندہ جلوا دیا تھا جس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا۔ یہ سنن نسائی کی روایت ہے۔ غالبا سنن ترمذی یا ابو داؤد میں بھی یہ مذکور ہے اور اسی کی کسی شرح میں فقہی اختلاف مذکور ہے کہ عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنھما جلانے کی سزا کے مکمل خلاف تھے‘ جبکہ علی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنھما مصلحتا اس سزا کے قائل تھے۔ الغرض‘ خلیفہ کے قاتل کو نشان عبرت بنانے کیلئے اگر کسی نے یہ عمل کیا تو استبعاد نہیں‘ لیکن بہرحال عمرو بن العاص نے بالکل نہیں کیا۔ اور یہ سب بحث موقوف ہے اس روایت کے صحیح ہونے پر۔
منصف دیکھ سکتا ہے کہ اعتراضات میں کہاں تک صداقت ہے۔
اگر کوئی بات ذکر ہونے سے رہ گئی ہو تو بتائیے‘ کوئی اعتراض ہے تو پیش کیجئے۔
آخر میں ایک بار پھر وہی گذارش دہراؤں گا کہ حدیث‘ تفسیر اور صحابہ وغیرہ نازک معاملات ہیں۔ اس پر لب کشائی ایسے مت کریں جیسے اپنے کسی محلے دار کے بارے میں بات کر رہے ہیں بلکہ مضبوط بات کریں جو ان کے شایان شان ہو۔ مخملیں لبادہ اوڑھ کر الزام دلیل نہیں بنتا۔
مع السلام
ہمایوں رشید