بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے - ایک گمنام انسان کی گمنام خودنوشت

5 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Nov 20, 2013, 3:57:30 AM11/20/13
to bazme...@googlegroups.com

 
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
ایک گمنام انسان کی گمنام خودنوشت
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے

ّّّ
دہلی سے اپریل 2012 میں شائع ہونے والے ایک ادبی پرچے کا شمارہ راقم الحروف کو بھیجا گیا۔ اس میں درج مختلف موضوعات پر مشتمل کتابوں کی ایک طویل فہرست میں ایک خودنوشت کا نام شامل تھا۔ اس کے لکھنے والے مسعود علی نامی صاحب تھے جن کا پتہ بھی فہرست میں درج تھا۔ یہ کراچی کی ایک دور افتادہ بستی میں مقیم 72 سالہ آرٹسٹ جناب مسعود علی ہیں جن کے غلط پتے کو ہم نے کچھ دیر کی محنت کے بعد کھوج نکالا۔ وہ اس وقت اپنی قیام گاہ پر تنہا تھے ۔ گفتگو کا آغاز ہوا تو وقت گزرنے کا علم ہی نہ ہوا۔مسعود صاحب کا دل ہمیں جلدی رخصت کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ اپنا گھر بھی دکھایا اور خودنوشت ہاتھ میں تھام کر اس کے مندرجات بھی پڑھ کر سناتے رہے۔ تین بیٹیوں کی شادیاں کرنے کے بعد مسعود علی اور ان کی اہلیہ کا خیال تھا کہ اکلوتے بیٹے اور اس کے دو ننھے بچوں کے سہارے بقیہ زندگی چین سے کٹ جائے گی لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ چند برس پیشتر ان کا بیٹا کلفٹن میں گاڑیوں کی دوڑ کے مقابلے کو دیکھنے گیا جہاں ایک گاڑی بے قابو ہوئی اور اگلی صبح ایک بوڑھا باپ اپنے جوان بیٹے کی قبر کو مٹی دے رہا تھا۔ اس حادثے نے انہیں اور ان کی اہلیہ کو توڑ کر رکھ دیا ۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مسعود علی کی فطری بذلہ سنجی عود کرآئی اور بظاہر وہ یہ غم بھلانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس عمر میں بھی ایک ادارے میں ملازمت کرتے ہیں ، وقت پر سونا، وقت پر جاگنا اور خوش رہنا ۔۔۔یہ ان کی زندگی کے چند زریں اصول ہیں جن پر عمل کرکے وہ آج بہتر برس کی عمر میں بھی کم از کم اپنی عمر سے بیس برس چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔دوران گفتگو ان کی اہلیہ بھی آگئیں۔مسعود علی اپنے کمرے کے غسل خانہ کا دروازہ کھول کر دکھانے لگے: ’’ یہ دیکھیے! خاصا بڑا ہے۔ ’ نہلانے‘ میں آسانی رہے گی‘‘۔۔۔ان کے اس جملے پر میں نے چونک کر ان کی جانب دیکھا۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے ’’ ارے بھئی! میں نے تو اپنی تینوں بیٹیوں کی شادیاں بھی کراچی ہی میں کی ہیں، یہ سوچ کر کہ انتقال کے بعد کوئی امریکہ سے آتی تو کوئی لندن سے اور میں ادھر ایدھی کے سرد خانے میں دو روز تک پڑا ان کا ا نتظار کرتا رہتا۔‘‘ ۔۔۔

مسعود صاحب کی صاف گوئی نے مجھے ایک لحظے کو سن کردیا۔۔۔!

اچھا یہ تو بتائیے کہ ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ‘ بقول آپ کے نہ تو بازار میں رکھوائی گئی اور نہ ہی کسی اخبار میں اس پر تبصرہ شائع ہوا، پھر یہ دہلی کیسے پہنچی حضرت ؟ ‘‘ ۔۔۔میرے اس سوال پر مسعود علی نے کہا کہ وہ خود حیران ہیں کہ یہ کیا معمہ ہے۔کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگے ’’ رسالہ ہمدرد صحت میں اس کا مختصر تعارف شائع ہوا تھا۔‘‘ ۔۔۔ادھر میں جھٹ معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ ہمدرد کراچی کے علاوہ یہ ادارہ دہلی میں بھی تو ہے جہاں اسے حکیم سعید کے والد حکیم عبدالمجیدنے 1906 میں قائم کیا تھا۔یقیننا ہمدرد صحت کا وہ شمارہ دہلی گیا ہوگا جہاں سے اس پرچے کے مدیر تک پہنچا ہوگا جس میں کتابوں کی وہ فہرست شائع ہوئی ہے جس میں مسعود علی کی کتاب کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔

کچھ وقت گزرا کہ مسعود علی اپنا لیپ ٹاپ اٹھا لائے جس میں ان کے مارچ 2012 کے دورہ لکھنؤ کی ویڈیو محفوظ تھی۔ ہم کراچی کے ایک دور پرے کے علاقے میں خوشگوار ٹھنڈی ہوا میں لکھنؤ میں گزرے لمحات کو دیکھتے رہے۔ بقول مسعود علی، انہوں نے یہ خودنوشت اپنے دوستوں اور عزیز اقارب کے لیے لکھی ہے لیکن اکثریت ایسی ہے جنہوں نے اسے پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ میں انہیں اس کتاب کو اردو بازار میں کتابوں کی چند بڑی دکانوں پر رکھوانے پر آمادہ کرتا رہا۔

مسعود علی کے والد لکھنؤ کے موضع کیولی سے تعلق رکھتے تھے۔سرکاری ملازم تھے ، طبیعت میں سختی تھی۔ ان کے والد اپنے دیگر اہل خانہ کے ساتھ تقسیم ہند کے فورا بعد کراچی آگئے تھے۔ لیکن کچھ عرصے بعد ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے وہ بدل ہوگئے۔وہ ایک روز کہیں بس میں سفر کررہے تھے۔کنڈکٹر بار بار آگے بڑھنے پر اصرار کررہا تھا۔وہ ہر مرتبہ اس کے ہانک لگانے پر آگے بڑھ جاتے تھے۔آخر میں کنڈکٹر زور سے بولا ’ اوئے شیروانی!آگے بڑھو‘۔۔۔مسعود علی کے والد کا پارہ چڑھ گیا۔لاحول پڑھ کر کہنے لگے اس ناہنجار نے ہمیں شیراونی کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے بس رکوائی اور نیچے اتر گئے۔گھر پہنچ کر اپنے بچوں سے کہا کہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے، یہاں کسی کی کوئی عزت ہی نہیں ہے، سو میں واپس لکھنؤ جارہا ہوں۔ سب لوگوں نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ فیصلہ کرچکے تھے۔واپس گئے تو ایسے کہ پھر پاکستان کبھی نہیں لوٹے۔

ہندوستان میں مسعود علی کے والد نے آسودہ حال زندگی گزاری ۔ وہ نیپال کی ترائی میں ریاست نانپارہ میں تعینات تھے۔ مسعود علی تقسیم سے قبل اپنی بچپن کی یادوں کے باب میں لکھتے ہیں: ’’ والد صاحب شکار کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ان کو قورمہ زیادہ پسند تھا۔اس کے ساتھ گرم روٹیاں پکا کر بھیجی جاتی تھیں۔مرتبانوں میں چٹنیاں اور اچار بھی دستر خوان کی زینت بڑھاتے تھے۔سبزی اور دال تازہ گھی میں بگھاری ہوتی تھی، قورمے میں دو انگل چکنائی کا تار ضروری تھا۔پودینے کی چٹنی اور خشکہ چاول تو دستر خوان کے لازمی جز تھے۔سالن دو طرح کے ہوتے تھے،کبھی لوکی گوشت، کبھی پالک گوشت۔شکار کے گوشت کا بڑا اہتمام ہوتا تھا۔کالے اور بھورے تیتر مسلم بھون کر پکائے جاتے تھے۔سارا کھانا اصلی گھی میں پکتا تھا۔جب سرسوں کی فصل تیار ہوتی تھی تو والد صاحب قرب و جوار کے گاؤں سے شہد کے بڑے بڑے چھتے منگواتے تھے۔اس پیلے شہد کا ایک منفرد ذائقہ ہوتا تھا، سال بھر کی ضرورت کے لیے شیشے کی بوتلوں میں بھر کر رکھ لیا جاتا تھا۔ ‘‘

مسعود علی نے بچپن میں ہر وہ کام کیا جو ایک بچے کو کرنا چاہیے۔ان کے دوستوں نے کھیت میں طوطے پکڑنے کا طریقہ وضع کیا ہوا تھا۔پتلی رسی میں بانس کی نلکیاں ڈال کر اسے لمبائی میں کھیت کے اوپر باندھ دیتے تھے ۔جونہی طوطوں کاجھنڈ آکر اس کے اوپر بیٹھتا تھا، وہ نلکیاں گھوم جاتی تھیں اور طوطے الٹے لٹک جاتے تھے۔طوطے کی یہ خصلت ہے کہ جب تک وہ سیدھا نہ ہوگا، نلکی کو سختی سے پکڑے الٹا ہی لٹکا رہے گا اور آزاد ہونے کی کوشش کرتا رہے گا۔اسی سے فائدہ اٹھا کر انہیں دبوچ لیا جاتا تھا ، دن بھر کی قید کے بعد شام کو یہ طوطے آزاد کردیے جاتے تھے اور اس طرح وہ دوبارہ کھیت کا رخ کرنے سے اجتناب برتتے تھے۔ بارشیں معمول سے زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ اس دوران ندی میں مگرمچھ آجایا کرتا تھا، بکری اس کی مرغوب غذا تھیں۔ گاؤں والوں نے مگر مچھ سے نمٹنے کا ایک انوکھا حل نکلا تھا۔ بکری کے بچے کی کھال میں چونا بھر کر اس کی سلائی کردیتے تھے اور اسے بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ تالاب کے کنارے لے جاتے تھے۔ چونے سے بھرا بکری کا بچہ ندی کنارے کھڑا کردیا جاتا تھا اور کچھ دیر بعد بکریوں کو محفوظ جگہ پر لے جایا جاتا تھا۔سب لوگوں کے جانے کے بعد مگر مچھ تیزی سے اپنے ’ڈمی‘ شکار پر حملہ آور ہوتا تھا اور اسے ہڑپ کرنے کے بعد واپس پانی میں چلا جاتا تھا۔ اس کے پیٹ میں موجود چونے کو جیسے ہی پانی ملنا شروع ہوتا ، چونا آہستہ آہستہ گرم ہو کر کھولنے لگتا، مگر مچھ اس ناگہانی افتاد سے پریشان ہو کر پانی میں بھاگا بھاگا پھرتا اور بلاآخر دم توڑ دیتا تھا۔

مسعود علی تقسیم کے بعد پہلے لاہور اور بعد ازاں کراچی آئے۔کراچی میں ان کا قیام بہار کالونی میں تھا جہاں زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کے لیے سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔ نئی جگہ، نیا ماحول۔ایک واقعہ تو ان کے ساتھ خاصا دلچسپ پیش آیا۔مسعود علی کا ہم جماعت جس کے وہ ساتھ مل کر پڑھا ئی کیا کرتے تھے، ایک روز نہ آیا، یہ اس کے بتائے ہوئے پتے پراس کی تلاش میں نکلے۔ پاؤں میں سلیم شاہی جوتی اور سفید کرتہ پاجامہ پہنے مسعودعلی گلیوں گلیوں بھٹک رہے تھے کہ انہیں احساس ہوا کہ ایک گھر کی چاردیواری پر بیٹھے چار پانچ لڑکے انہیں حیرت اور دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے انہیں کرخت لہجے میں آواز دی: ’’ اوئے ایتھے آ‘‘۔مسعود علی نے بوکھلا کر عقب میں دیکھا کہ شاید مخاطب کوئی اور ہے، پھر غلطی کا احساس ہوا تو بے اختیار ان لڑکوں کے پاس چلے گئے اور لکھنؤ کے نستعلیق لہجے میں گویا ہوئے : ’’ فرمائیے‘‘۔اس سننا تھا کہ وہ تمام لڑکے لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہنے لگے ’’ لو بھئی فرماؤ۔۔۔۔اے کیہڑی شے اے‘‘۔مسعود علی حیران ہوکر ان کا منہ تکنے لگے۔ بہت برسوں بعد ایسا ہی کچھ ایک مرتبہ دوبارہ ہوا جب مسعود علی کے دفتر میں ایک دبلے پتلے لکھنؤی بزرگ ملازم رکھے گئے۔ عید کا دن تھا۔دفتر کے ایک اور ملازم مجید صاحب کہ بہت لمبے تڑنگے تھے اور پنجاب سے ان کا تعلق تھا، ان لکھنؤی بزرگ سے عید ملنے کے لیے ان کے گلے لگ گئے ، خوب بھینچ بھینچ کر عید ملتے رہے ۔ادھر وہ بزرگ چلاتے رہے کہ قبلہ! خدارا مجھے چھوڑ دیجیے۔مجید صاحب نے جب انہیں چھوڑا تو وہ تکلیف سے کراہتے ہوئے زمین پر گر گئے۔ اب تو مجید صاحب بہت گھبرائے، سب نے انہیں اٹھایا اور اسپتال لے گئے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ان بزرگ کی دو پسلیاں ٹوٹ چکی ہیں۔

خودنوشت کا ایک بڑا حصہ ہندوستان میں ان کے بچپن کی یادوں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ اس میں مسعود علی نے اپنے اہل خانہ کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں ، کچھ واقعات دفتر کے ہیں۔ کتاب میں چند خطوط شامل کیے گئے ہیں اور آخر میں مصنف اور ان کی اہلیہ کے سفر لکھنؤ کی روداد بھی موجود ہے۔

’’بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ‘ ‘ ایک بذلہ سنج انسان کی داستان حیات ہے۔ انداز تحریر میں شوخی ہے۔ مسعود علی نے یہ کتاب اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کے لیے تحریر کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ عام قارئین تک بھی پہنچے۔
















badalta hai rang aasman kaisay kaisay-masood ali-pub by writer from khi-june 2012.jpg
masood ali-01.jpg
masood ali-02.jpg

Maqsood Sheikh

unread,
Nov 20, 2013, 7:35:39 AM11/20/13
to BAZMe...@googlegroups.com

مسعود علی صاحب کی خود نوشت تو یقینی حکایت لذیذ ہے / ہو گی مگر اس پراور مسعود صاحب کے بارے می ٓاپ کی لکھی تفصیلات بھی بے حد دلچسپی سے پڑھیں ۔ ٓاللہ اپ کے قلم میں اس سے زیادہ  کشش، جاذبیت و دلچسپی اور تاثیر عطا کرے ۔ امین ۔ ٓاپ نے ہمدرد دوا خانہ دہلی کے جناب عبدالحمید صاحب کو شہید حکیم سعید صاحب کا والد لکھا ہے ۔ مدتوں پہلے اس خاکسار نے حکیم صاحب کا سفر نامہ ترکی پڑھا تھا یا ممکن ہے  کسی اور جگہ پڑھا ہو کہ حمید صاحب،  سعید صاحب کے بڑے بھائی تھے ۔ ٓاپ کی تحریرات بہت سے لوگ پڑھتے ہیں اس لئے چھوٹی سے چھوٹی تفصیل بھی درست ہونا لازم ہے ۔ اپ محترم مسعود احمد برکاتی صاحب سے تصدیق کر سکتے ہیں یا ہمدرد صحت کی مدیرہ حکیم شہھید کی صاحبزادی سے بھی معلوم ہو سکتا ہے ۔ اگر میں غلط ہوں تو پیشگی معذرت ۔ والسلام
مقصود ۔
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Syed Ahmed

unread,
Nov 20, 2013, 8:14:27 AM11/20/13
to BAZMe...@googlegroups.com
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بزرگ حضرات کی رفاقت میں بڑی برکت ہے، اس باریک بینی پر میں آپ کو  مبارکباد پیش کرتا ہوں اور راشد میاں کو دوہری مباک باد کہ ایسے ایسے بزرگ حضرات ہماری سرپرستی اور رفاقت میں لگے ہیں۔ اور مضمون کی جاذبیت ونفاست پر علیحدہ، یہ بات تو طے ہے جس کو شاعر نے پہلے ہی جتا دیا ہے کہ: وہ طفل کیا گریں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں
کیا ہی حکمت کی بات ہے کہ ہر غلطی ایک نئے انکشاف کا باعث ہوتی ہے۔
سید احمد
17-1-1435ھ
20-11-2013ء

Ahmad Safi

unread,
Nov 20, 2013, 10:32:31 AM11/20/13
to 5BAZMeQALAM
محترم شیخ صاحب۔۔۔ سلام مسنون۔۔۔

راشد میاں نے اپنے مراسلے میں حکیم عبدالمجید کا نام لکھا ہے اور حکیم عبدلاحمید کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ حکیم عبدالمجید صاحب مرحوم و مغفور ہی حکیم سعید صاحب کے والد تھے اور انہی نے دواخانہ ہمدرد کی داغ بیل ڈالی تھی۔

خیر اندیش

احمد صفی



2013/11/20 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>

Maqsood Sheikh

unread,
Nov 20, 2013, 11:10:48 AM11/20/13
to BAZMe...@googlegroups.com

احمد صفی
شکریہ ۔ میری نظر کی کمزوری ہے کہ عبدالمجید کو عبدالحمید پڑھا ۔ تصحیح کے لئے ممنون ہوں ۔ میں نے راشد کا مراسلہ دوبارہ چیک کیا انہوٰن درست لکھا تھا ، ان سے بھی معذرت!۔
مقصود

Muhammad Ashfaq Ayaz

unread,
Nov 20, 2013, 11:06:52 AM11/20/13
to BAZMe...@googlegroups.com
اللہ کرے یہ سعادت بھی راشد کے حصے میں آئے۔ راشد تہماری اپنی تحریر لاجواب ہے۔
سلامت رہو

 
=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=
The first website based in jalalpur Jattan:
www.vojpj.com
editor: Muhammad Ashfaq Ayaz
e-mail : vo...@yahoo.com
Cell: 0092-333-8402492
Home Address: Muhammad Ashfaq Ayaz
                       H.No. B-III-69-A, Khizer Colony,
                      Jalalpur Jattan - 50780 Distt: Gujrat - Pakistan



Tanwir Phool

unread,
Nov 20, 2013, 1:47:27 PM11/20/13
to Adabdotcom, Rashid Ashraf, 5BAZMeQALAM
بہت شکریہ راشد اشرف صاحب
آپ کیسی دلچسپ چیزیں پیش کرتے رہتے ہیں
سلامت رہئے ، والسلام  تنویرپھولؔ


2013/11/20 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

Syed Ahmed

unread,
Nov 20, 2013, 2:42:01 PM11/20/13
to bazme...@googlegroups.com

مکرمی جناب احمد صفی صاحب سلامِ مسنون
آپ نے عبد الحمید صاحب کے والد کا نام درست بتایا ہے، حافظ عبد المجید صاحب مرحوم، بات یہ ہے کہ مضمون کی پہلی خواندگی ڈبڈباتی آنکھوں سے کی تھی اور جب اس طرح کی کیفیت طاری ہو تو مضمون کے سحر میں انسان کھو جاتا ہے، تاکید کے لیے راشد صاحب کا مضمون دوبارہ پڑھا، اس میں راشد صاحب نے یہ نہیں لکھا کہ عبد الحمید صاحب سعید صاحب کے والد ہیں، اور میں نے گوگل کے ذریعہ وکّی پیڈیا پر جو معلومات دیکھیں وہ بھی آپ کی بات کی تایید کرتی ہیں، توجّہ دلاکر تصحیح معلومات کرانے پر شکر گزار ہوں.
راشد میاں کے لیے بھی دعا ہے کہ اللہ خوب حوصلہ دے کام کرنے کا.
جامی صاحب کے لیے دعاء کرنے والوں کا حلقہ بھی کافی بڑا ہے اس لیے جلد صحت یاب ہوکر بزمِ قلم پر رزمِ ادب گرم کریں گے، ان شاء اللہ.
ملتمسِ دعاء
سید احمد
۱۷/۱/۱۴۳۵ھ
۲۰/۱۱/۲۰۱۳۶
------------------------------
On Wed, Nov 20, 2013 10:32 AM EST Ahmad Safi wrote:

>*محترم شیخ صاحب۔۔۔ سلام مسنون۔۔۔*
>
>*راشد میاں نے اپنے مراسلے میں حکیم عبدالمجید کا نام لکھا ہے اور حکیم
>عبدلاحمید کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ حکیم عبدالمجید صاحب مرحوم و مغفور ہی حکیم
>سعید صاحب کے والد تھے اور انہی نے دواخانہ ہمدرد کی داغ بیل ڈالی تھی۔*
>
>*خیر اندیش*
>
>*احمد صفی*
>
>
>
>2013/11/20 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>
>
>> اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بزرگ حضرات کی رفاقت میں بڑی برکت ہے، اس باریک بینی
>> پر میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور راشد میاں کو دوہری مباک باد کہ ایسے
>> ایسے بزرگ حضرات ہماری سرپرستی اور رفاقت میں لگے ہیں۔ اور مضمون کی جاذبیت
>> ونفاست پر علیحدہ، یہ بات تو طے ہے جس کو شاعر نے پہلے ہی جتا دیا ہے کہ: وہ
>> طفل کیا گریں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں
>> کیا ہی حکمت کی بات ہے کہ ہر غلطی ایک نئے انکشاف کا باعث ہوتی ہے۔
>> سید احمد
>> 17-1-1435ھ
>> 20-11-2013ء
>>
>>
>> On Wednesday, November 20, 2013 3:35 PM, Maqsood Sheikh <
>> maqsood....@googlemail.com> wrote:
>>
>> مسعود علی صاحب کی خود نوشت تو یقینی حکایت لذیذ ہے / ہو گی مگر اس پراور
>> مسعود صاحب کے بارے می ٓاپ کی لکھی تفصیلات بھی بے حد دلچسپی سے پڑھیں ۔ ٓاللہ
>> اپ کے قلم میں اس سے زیادہ کشش، جاذبیت و دلچسپی اور تاثیر عطا کرے ۔ امین ۔
>> ٓاپ نے ہمدرد دوا خانہ دہلی کے جناب عبدالحمید صاحب کو شہید حکیم سعید صاحب کا
>> والد لکھا ہے ۔ مدتوں پہلے اس خاکسار نے حکیم صاحب کا سفر نامہ ترکی پڑھا تھا
>> یا ممکن ہے کسی اور جگہ پڑھا ہو کہ حمید صاحب، سعید صاحب کے بڑے بھائی تھے ۔
>> ٓاپ کی تحریرات بہت سے لوگ پڑھتے ہیں اس لئے چھوٹی سے چھوٹی تفصیل بھی درست
>> ہونا لازم ہے ۔ اپ محترم مسعود احمد برکاتی صاحب سے تصدیق کر سکتے ہیں یا
>> ہمدرد صحت کی مدیرہ حکیم شہھید کی صاحبزادی سے بھی معلوم ہو سکتا ہے ۔ اگر میں
>> غلط ہوں تو پیشگی معذرت ۔ والسلام
>> مقصود ۔
>> On 20/11/2013 08:57, Rashid Ashraf wrote:
>>
>>
>>
>> بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
>> ایک گمنام انسان کی گمنام خودنوشت
>>
>>
>> *خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے*

Maqsood Sheikh

unread,
Nov 20, 2013, 3:12:52 PM11/20/13
to BAZMe...@googlegroups.com
راشد کے نام اپ کا مراسلہ دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ میں سمجھا تھا یا میرے مراسلات گجرات نہیں پہنچے یا اپ کنی کترانے پر ٓا گئے ہیں ۔ خدا ٓ اپ کو صحت کے ساتھ خوش رکھے ۔ امین
مقصود

Rashid Ashraf

unread,
Nov 21, 2013, 12:41:31 AM11/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com, maqsood....@googlemail.com
محترم شیخ صاحب

اس فروگزاشت کی جانب توجہ دلانے کا شکریہ۔ یہ تبصرہ ایک پرچے میں شائع
ہوگا لہذا اس غلطی کی تصحیح فی الفور کرلی ہے۔ جی ہاں، حکیم عبدالمجید،
حکیم سعید کے بڑے بھائی تھے نہ کہ ان کے والد۔

کچھ عرصہ پیشتر، میں نے کراچی کے حکیم اقبال حسین مرحوم کا ایک مہماتی
مضمون "شملہ سے مسوری تک" یہاں پیش کیا تھا۔ مذکورہ سفر میں حکیم اقبال
کے ساتھیوں میں عبدالمجید بھی شامل تھے۔ یہ سفر 1939 میں کیا گیا تھا۔

راشد

On 11/20/13, Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com> wrote:
>
> مسعود علی صاحب کی خود نوشت تو یقینی حکایت لذیذ ہے / ہو گی مگر اس پراور
> مسعود صاحب کے بارے می ٓاپ کی لکھی تفصیلات بھی بے حد دلچسپی سے پڑھیں ۔
> ٓاللہ اپ کے قلم میں اس سے زیادہ کشش، جاذبیت و دلچسپی اور تاثیر عطا کرے ۔
> امین ۔ ٓاپ نے ہمدرد دوا خانہ دہلی کے جناب عبدالحمید صاحب کو شہید حکیم
> سعید صاحب کا والد لکھا ہے ۔ مدتوں پہلے اس خاکسار نے حکیم صاحب کا سفر
> نامہ ترکی پڑھا تھا یا ممکن ہے کسی اور جگہ پڑھا ہو کہ حمید صاحب، سعید
> صاحب کے بڑے بھائی تھے ۔ ٓاپ کی تحریرات بہت سے لوگ پڑھتے ہیں اس لئے چھوٹی
> سے چھوٹی تفصیل بھی درست ہونا لازم ہے ۔ اپ محترم مسعود احمد برکاتی صاحب
> سے تصدیق کر سکتے ہیں یا ہمدرد صحت کی مدیرہ حکیم شہھید کی صاحبزادی سے بھی
> معلوم ہو سکتا ہے ۔ اگر میں غلط ہوں تو پیشگی معذرت ۔ والسلام
> مقصود ۔
> On 20/11/2013 08:57, Rashid Ashraf wrote:
>>
>> بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
>> ایک گمنام انسان کی گمنام خودنوشت
>> *خیر اندیش
>> راشد اشرف
>> کراچی سے*
>> ّّّ
>> <https://groups.google.com/forum/#%21forum/BAZMeQALAM>

Rashid Ashraf

unread,
Nov 21, 2013, 12:44:48 AM11/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com, syedah...@yahoo.com
شکریہ جناب والا

راشد

Rashid Ashraf

unread,
Nov 21, 2013, 12:50:10 AM11/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com, Ahmad Safi, Maqsood Sheikh
درست کہا آپ نے جناب۔ تصحیح کرنے کے بعد ازسرنو جائزہ لیا تو معلوم ہوا
کہ حکیم عبدالحمید ہی لکھا ہے جو کہ درست ہے۔ حکیم سعید کے بڑے بھائی کا
نام حکیم عبدالمجید ہے۔

راشد


On 11/20/13, Ahmad Safi <ahma...@gmail.com> wrote:
> *محترم شیخ صاحب۔۔۔ سلام مسنون۔۔۔*
>
> *راشد میاں نے اپنے مراسلے میں حکیم عبدالمجید کا نام لکھا ہے اور حکیم
> عبدلاحمید کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ حکیم عبدالمجید صاحب مرحوم و مغفور ہی حکیم
> سعید صاحب کے والد تھے اور انہی نے دواخانہ ہمدرد کی داغ بیل ڈالی تھی۔*
>
> *خیر اندیش*
>
> *احمد صفی*
>
>
>
>> *خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے*
>> ّّّ

Sulaiman D.

unread,
Nov 22, 2013, 2:35:46 PM11/22/13
to bazme...@googlegroups.com
Rashid Ashraf Sahab, 
Assalam Alikum,
Masoud Ali Shab aour Unki Khud Navsht Seay Mutarrif Karany Kay Shukria, Easkay Eqtaibas Parhkar Lutf Aya.


Date: Wed, 20 Nov 2013 13:57:30 +0500
Subject: [مراسلہ نمبر:30318] بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے - ایک گمنام انسان کی گمنام خودنوشت
From: zest...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com

Rashid Ashraf

unread,
Nov 25, 2013, 12:03:34 AM11/25/13
to BAZMe...@googlegroups.com, dehl...@hotmail.com
آپ کا شکریہ جناب والا

راشد

On 11/23/13, Sulaiman D. <dehl...@hotmail.com> wrote:
> Rashid Ashraf Sahab, Assalam Alikum,Masoud Ali Shab aour Unki Khud Navsht
> Seay Mutarrif Karany Kay Shukria, Easkay Eqtaibas Parhkar Lutf Aya.
>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages