مکرمی جناب احمد صفی صاحب سلامِ مسنون
آپ نے عبد الحمید صاحب کے والد کا نام درست بتایا ہے، حافظ عبد المجید صاحب مرحوم، بات یہ ہے کہ مضمون کی پہلی خواندگی ڈبڈباتی آنکھوں سے کی تھی اور جب اس طرح کی کیفیت طاری ہو تو مضمون کے سحر میں انسان کھو جاتا ہے، تاکید کے لیے راشد صاحب کا مضمون دوبارہ پڑھا، اس میں راشد صاحب نے یہ نہیں لکھا کہ عبد الحمید صاحب سعید صاحب کے والد ہیں، اور میں نے گوگل کے ذریعہ وکّی پیڈیا پر جو معلومات دیکھیں وہ بھی آپ کی بات کی تایید کرتی ہیں، توجّہ دلاکر تصحیح معلومات کرانے پر شکر گزار ہوں.
راشد میاں کے لیے بھی دعا ہے کہ اللہ خوب حوصلہ دے کام کرنے کا.
جامی صاحب کے لیے دعاء کرنے والوں کا حلقہ بھی کافی بڑا ہے اس لیے جلد صحت یاب ہوکر بزمِ قلم پر رزمِ ادب گرم کریں گے، ان شاء اللہ.
ملتمسِ دعاء
سید احمد
۱۷/۱/۱۴۳۵ھ
۲۰/۱۱/۲۰۱۳۶
------------------------------
On Wed, Nov 20, 2013 10:32 AM EST Ahmad Safi wrote:
>*محترم شیخ صاحب۔۔۔ سلام مسنون۔۔۔*
>
>*راشد میاں نے اپنے مراسلے میں حکیم عبدالمجید کا نام لکھا ہے اور حکیم
>عبدلاحمید کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ حکیم عبدالمجید صاحب مرحوم و مغفور ہی حکیم
>سعید صاحب کے والد تھے اور انہی نے دواخانہ ہمدرد کی داغ بیل ڈالی تھی۔*
>
>*خیر اندیش*
>
>*احمد صفی*
>
>
>
>2013/11/20 Syed Ahmed <
syedah...@yahoo.com>
>
>> اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بزرگ حضرات کی رفاقت میں بڑی برکت ہے، اس باریک بینی
>> پر میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور راشد میاں کو دوہری مباک باد کہ ایسے
>> ایسے بزرگ حضرات ہماری سرپرستی اور رفاقت میں لگے ہیں۔ اور مضمون کی جاذبیت
>> ونفاست پر علیحدہ، یہ بات تو طے ہے جس کو شاعر نے پہلے ہی جتا دیا ہے کہ: وہ
>> طفل کیا گریں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں
>> کیا ہی حکمت کی بات ہے کہ ہر غلطی ایک نئے انکشاف کا باعث ہوتی ہے۔
>> سید احمد
>> 17-1-1435ھ
>> 20-11-2013ء
>>
>>
>> On Wednesday, November 20, 2013 3:35 PM, Maqsood Sheikh <
>>
maqsood....@googlemail.com> wrote:
>>
>> مسعود علی صاحب کی خود نوشت تو یقینی حکایت لذیذ ہے / ہو گی مگر اس پراور
>> مسعود صاحب کے بارے می ٓاپ کی لکھی تفصیلات بھی بے حد دلچسپی سے پڑھیں ۔ ٓاللہ
>> اپ کے قلم میں اس سے زیادہ کشش، جاذبیت و دلچسپی اور تاثیر عطا کرے ۔ امین ۔
>> ٓاپ نے ہمدرد دوا خانہ دہلی کے جناب عبدالحمید صاحب کو شہید حکیم سعید صاحب کا
>> والد لکھا ہے ۔ مدتوں پہلے اس خاکسار نے حکیم صاحب کا سفر نامہ ترکی پڑھا تھا
>> یا ممکن ہے کسی اور جگہ پڑھا ہو کہ حمید صاحب، سعید صاحب کے بڑے بھائی تھے ۔
>> ٓاپ کی تحریرات بہت سے لوگ پڑھتے ہیں اس لئے چھوٹی سے چھوٹی تفصیل بھی درست
>> ہونا لازم ہے ۔ اپ محترم مسعود احمد برکاتی صاحب سے تصدیق کر سکتے ہیں یا
>> ہمدرد صحت کی مدیرہ حکیم شہھید کی صاحبزادی سے بھی معلوم ہو سکتا ہے ۔ اگر میں
>> غلط ہوں تو پیشگی معذرت ۔ والسلام
>> مقصود ۔
>> On 20/11/2013 08:57, Rashid Ashraf wrote:
>>
>>
>>
>> بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
>> ایک گمنام انسان کی گمنام خودنوشت
>>
>>
>> *خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے*