ملک کے موجودہ حالات میں ہمارے ووٹ کی اہمیت

44 views
Skip to first unread message

Nehal Sagheer

unread,
Apr 30, 2024, 9:13:10 AM4/30/24
to
 ملک کے موجودہ حالات میں ہمارے ووٹ کی اہمیت

  محمد نصیر اصلاحی

   الحمد للہ ہم مسلمان ہیں ۔ اسلام کے بتائے ہوئے طریقۂ زندگی کو ہم نے اختیار کیا ہے ۔ دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور یہی دین اللہ کے یہاں قابل قبول ہے ، یہی دین ، دینِ حق ہے ، اس کے علاوہ باقی سارے دین باطل اور عند اللہ ناقابل قبول ہیں ۔ اسلام ایک کامل ومکمل نظام حیات ہے۔ زندگی کاکوئی شعبہ اور گوشہ ایسا نہیں جس کے متعلق اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو۔ اس دین نے جہاں عبادت ، تجارت اور معاملات کے شعبوں میں رہنمائی کی ہے وہیں سیاست اور حکومت کے سلسلہ میںبھی ہنمائی کی ہے ۔ آپ سوچئے کہ وہ اسلام جو طہارت اور بیت الخلاء جانے تک کے بارے میں اپنے ماننے والوں کو آداب سکھاتا اور واضح ہدایت دیتا ہے کیا وہ سیاست و حکومت کے شعبوں کو یوں ہی خالی چھوڑ دے گا ۔ حالانکہ حکومت وسیاست سے انسانی زندگی کا بڑا حصہ وابستہ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ہی نے دنیا کوبہترین نظام حکومت اور خوشگوار سیاست کے اصول وضوابط بتائے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم مسلمان دنیا کو اس بابرکت اورصحیح نظام زندگی سے اب تک واقف نہیں کرا سکے۔
تاریخ اسلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میںنبی کریم  ﷺنے خود ایک اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی ۔ آپ ﷺ نے بین المذاہب اور باہمی زندگی گزارنے کے اصول وآداب، قوانین وضوابط مرتب فرمائے۔ آپ ؐ نے اسلامی حکومت کا آئین (Constitution)مرتب فرمایا جو دنیا کا پہلا تحریری و مرتب آئین مانا جاتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہی آج کے بڑے بڑے ملکوں کے آئین مرتب کئے گئے ہیں۔اس بات کا اعتراف اپنوں سے زیادہ غیروںنے کیا ہے۔مختصراً یہ کہ حکومت و سیاست بھی دین کا ایک اہم ترین حصہ ہے ۔اس میدان میں بھی شریعت کے دائرہ میں رہ کر ہمیں اپنا مؤثر رول اور کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ اس زمین پر عدل و انصاف قائم ہو سکے اور انسانوں کے حقوق پامال نہ ہو سکیں۔
اس  وقت ہمارے ملک میں پارلیمانی انتخابات 2024؁ء کا عمل جاری ہے ۔ پورے ملک میںا لیکشن کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا ،سوشل میڈیا ہر طرف الیکشن ہی کا  چرچا ہے ۔ مختلف سیاسی پارٹیاں پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہیں ۔ وہ اپنی اپنی ترجیحات سے عوام کو واقف کرا رہی ہیں۔ وعدے اور دعوے کر رہی ہیں ۔ الیکشن ہی کے پیش نظر ملک میںمختلف سیاسی اتحاد وجود میں آ ئے ہیں ۔ مختلف طبقات، لسانی اور مذہبی گروہ آنے والے الیکشن کے ذریعہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے کمر بستہ ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے طبقہ اور گروہ کی ترقی اور بہتر مستقبل کے لئے کوشش کر رہا ہے ۔ پارلیمانی الیکشن کے دو مراحل ہو چکے ہیں ،ابھی پانچ مراحل باقی ہیں ۔
   ہمارے ملک میںجمہوری نظام ہے ۔ ہمارا ملک بھارت 1947 ؁ء کے بعد ایک جمہوریہ بن گیا اوراس وقت یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ووٹ کا حق شہریوں کے بنیادی حقوق میں ہے۔ ملک کا دستور اپنے شہریوں کو ووٹ دینے، انتخاب لڑنے اور اپنے رہنما کا انتخاب کرنے کا حق عطا کرتا ہے۔جمہوری نظام میںانتخابی عمل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔جمہوریت میں بندوں کو تولنے کے بجائے انہیںگِنا جاتا ہے۔ جو قوم تعداداورگنتی میں زیادہ ہوگی ،اس کی حیثیت بادشاہ گر (King Maker) کی ہوتی ہے۔جمہو ریت میں وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، شہرکے چیئر مین ، گرام پنچایت کے سر پنچ غرض یہ کہ ہرمنصب کا فیصلہ ووٹ سے کیا جاتا ہے۔ ووٹ جمہوری معاشرے میں ایک غیر متشدد ہتھیار ہے ۔ووٹ بندوق کی گولی سے زیادہ طاقتور ہے ۔ آپ اپنا ووٹ استعمال کرکے حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آپ کے ووٹ کے اندر ایک نااہل حکومت کو باہر کا راستہ دکھانے اور ملک کی قیادت میں تبدیلی لانے کی طاقت ہے۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اسلام کی حفاظت کے لیے ہر طرح کی مثبت طاقت کے استعمال، اور تیاری کا حکم دیا ہے۔ سورہ انفال میں اللہ کا ارشاد ہے۔ و اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ (الانفال :60) ’’اور تم لوگ جہاں تک بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت تیار رکھو‘‘ اس آیت میں اہل ایمان کو قوت اور طاقت جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ووٹ جمہوری نظام میں موثر ترین ہتھیار اور طاقت ہے۔ اس پس منظر میںبھارت جیسے ملک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، انتخابی سیاست میں مسلمانوں کے حصہ لینے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
2024؁ء کا  ہونے والاپارلیمانی انتخاب ہماری اپنی ملت اور اس ملک کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس میں ہماری غفلت اور لا پرواہی خود اس ملک اورہماری آنے والی نسلوں کے لئے نا قابل تلافی نقصان اور خسران کا سبب ہو گی ۔ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہیے اور اپنے حق راے دہی کو موثر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ہماراملک عزیز بھارت اس وقت تاریخ کے انتہائی فیصلہ کن موڑ پر ہے اگر ہم اب بھی اپنے ووٹ کی قوت و طاقت کو نہیں سمجھیں گے تو یقین جانئے کہ مستقبل میں بہت بڑی آزمائش کا شکار ہوں گے ۔ ہم ذلت و نکبت کی طرف دن بدن بڑھتے چلے جائیں گے۔جو لوگ گھروں ،ہوٹلوں میں بیٹھ کر اور سڑکوں و چوراہوں پر کھڑے ہو کر غلط نظام اور کرپشن کو کوستے رہتے ہیں ان کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ گھروں سے نکلیں اور معاشرے میں پر امن اور مثبت تبدیلی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔پولنگ کا دن چھٹی کا دن یا آرام کرنے کا دن نہیں ہے ۔بلکہ پولنگ کے دن ہمارا سب سے اہم کام پولنگ بوتھ پر جاکر اپنا ووٹ ڈالنا ہے ۔
بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ہمارا ایک ووٹ کیا وقعت رکھتاہے ؟ ہمارے ایک ووٹ دینے یا نہ دینے سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟ اس طرح کی سوچ بظاہر تو انفرادی ہوتی ہے مگر اسی طرح کی انفرادی آراء جمع ہوتے ہوتے قومی و اجتماعی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ نتیجتاً ہمارا پولنگ تناسب نا قابل یقین حد تک کم ہو جاتا ہے۔’قطرہ قطرہ دریا شود‘‘کے مانند انتخابات میں ہر ہر فرد کا ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔امیدواروں کی جیت بسا اوقات چند ووٹوں کے فرق سے ہوتی ہے۔اسی طرح حکومت کا بننا اور بگڑنا بھی کبھی کبھی محض ایک ووٹ سے ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں محض ایک وو ٹ کا فرق پوری حکومت کی فتح یا شکست کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔یہ خیال خام ہے۔ اس عمل اور سوچ نے ملت کو بہت دھوکا پہنچایا ہے۔ اس کیفیت سے ہم کو باہر نکلنا ہوگا ۔ہم میں سے ہر فرد کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارا ووٹ لازماً ڈالا جائے۔ ایک ایک ووٹ مل کر ہی ہزاروں لاکھوں میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس  الیکشن میںہم زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی کوشش کریں، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بعض اہل علم نے ووٹ کو گواہی کے حکم میں رکھا ہے، گواہی دینا بوقت ضرورت واجب ہے اور اس سے بڑی ضرورت کیا ہوگی کہ فرقہ پرست پارٹیوں کو بام اقتدار تک پہنچنے سے روکا جائے۔تاریخ گواہ ہے کہ جہاں کہیں مسلمانوں نے ووٹ ڈالنے کا اہتمام کیا، وہاں فسطائی قوتوں کو پیچھے ہٹانے میں مدد ملی ہے ۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ووٹوں کو منتشرہونے سے بچا نا چاہئے ۔مسلم ووٹرس اس بات کا خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا ووٹ منتشر ہونے کے سبب سیاست کے میدان میں کوئی خاص اثر نہیں ڈال پاتا۔ اس اعتراف کے باوجود ہر بار ہمارا ووٹ منتشر ہوجاتا ہے اور ہم کوئی مؤثر لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہتے ہیں، اس بار ہمیںاپنے ووٹوں کو منتشرہونے سے بچاناہے اور پورے شعور کے ساتھ متحد ہوکر ووٹ دینا چاہئے، اکثریت تو ووٹ تقسیم ہونے کے باوجود اپنی سیاسی قوت برقرار رکھ سکتی ہے، لیکن اس اقلیت کا کوئی وزن باقی نہیں رہ سکتا جس کی صفیں شکستہ ہوں۔ ہمیں  اپنے ووٹوں کو تقسیم کرنے والے عناصر پر بھی سخت نگاہ رکھنی ہوگی ۔ فتنہ و فساد کرنے والی قوتوں کا ناکام کر دینا اس وقت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
ووٹ دینا نہ صرف ہماری ملکی ذمہ داری ہے بلکہ ہمارادینی اور شرعی فریضہ بھی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وو ٹ ڈالنا ، انتخاب میں حصہ لینا ،انتخابی تقاضوں کو پورا کرناایک دینی فریضہ ہے۔اگر اچھے اور نیک لوگ اس میں شریک نہیںہوں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ غلط اور شرپسند جوملک و ملت کے حق میں ظلم وتشددکو اپنا مقصد بنالیتے ہیںان کے ہا تھوں میں اقتدار آجا ئے گا اور وہ اس زمین کو ظلم و جور سے بھر دیں گے ۔ ملک کے دیگر طبقات اور مذاہب کے لوگوںکے ساتھ پیار محبت اور امن و آشتی کی فضا کو ہر ممکن طریقے سے باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو اسی وقت تبدیل کرے گا جب ہم خود اس کو بدلنے کی کوشش کریں اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو ہمارے حالات میں کسی طرح کی مثبت تبدیلی کی امید بے کار ہے۔جب ہم خود اپنی حالت کو بدلنے کے لیے سعی و جہد کریں گے تو اللہ کی تائید اور نصرت بھی ہمیں حاصل ہوگی۔إِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ( الرعد : 11) کا ترجمہ ہے۔ ’’اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلے۔‘‘ یہ الیکشن ہمارے ہاتھ میں ایک موقع ہے کہ اس ملک میں ہم اپنے دستوری اور جمہوری حقوق کی حفاظت کر سکیں۔
--
Vote Ki Ahmiyat By Naseer Islahi.inp
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages