اتوار13 دسمبر۔ 2015ئ
مطلع:
” جس کی فطرت میں شاعری نہ ہو وہ ساری عمر قافیہ بندی کرتا رہتا ہے اور جس شخص کے مزاج اور فطری رویے میں شاعری رچی بسی ہو اس کی کسی نظریے سے وابستگی ضروری نہیں ہوتی، پھر بھی انسان اپنے ماحول سے
غافل نہیں رہ سکتا حالات چاہے جتنے خراب ہوجائیں لطیف احساسات زندہ رہتے ہیں۔ غربت اور مفلسی میں بھی محبت اور رومان کا احساس ختم نہیں ہوتا۔ محبت ایک فطری جذبہ ہے اور ایسے فطری
جذبوں کو سیاسی نظریات پر قربان نہیں کرنا چاہئے۔‘٭انجم خیالی
خوشبو:
سنگ بھی آگ اُگلتے ہیں اگر چوٹ پڑے
دل تو پھر دِل ہے اِک آہ نکل آئی ہے
٭انجم خیالی
ہر پرندہ تھا سلامت، ہوئے ہم ہی گھائل
اپنے تیروں سے لئے آپ نشانے اپنے
٭ سیف اللہ خالد
اُس سے احوالِ خلق کیا پوچھیں
ذکر جو رات دن سُنے اپنا
٭ امین راحت چغتائی
مضمون:
ایسے تھے ہمارے عالی جی!
٭زاہدہ حنا (کراچی)
جمیل الدین عالی انگریز کی راج دھانی دِلّی میں پیدا ہوئے اور دولخت پاکستان کے سابق دارالحکومت کراچی میں اس جہان سے گزرے۔ یوں کہہ لیجیے کہ وہ غیر منقسم ہندوستان کے رہنے والے تھے اور منقسم پاکستان میں دل پر بہت سے داغ لے کر زندہ رہے اور پھر دوسرے بجھے ہوئے چراغوں کے طرح خود بھی بجھ گئے۔
وہ ایک ہشت پہلو شخصیت تھے، مشاعروں میں ان کے لحن کے سامنے کسی کا چراغ نہ جلتا، دانشوری کی بحثوں میں اُلجھتے تو بڑے بڑوں کو چِت کر دیتے۔ لوہارو خاندان کے بیٹے، نوابزادوں والا طنطنہ لیکن نوابی تو کب کی ختم ہو چکی تھی۔ وہ پاکستان آئے اور یہاں کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ جیتے جی کوئی دوسرا رنگ ان پر نہ چڑھ سکا۔ ان کے ملی نغمے آج بھی زباں زدِ خاص و عام ہیں۔ ان کے سفید کفن پر پاکستان کا پرچم بہار دے رہا تھا۔
وہ غزل کے شاعر تھے، انھوں نے دوہے کہنے شروع کیے تو دوسرے بہت سے شاعروں نے ان کی پیروی کی لیکن ان کا نام سب سے بالا اور ان کی آواز سب سے بلند رہی۔ سفرنامے لکھے تو آئس لینڈ تک کا سفرنامہ لکھ گئے۔ لگ بھگ 50 برس انھوں نے اخبار میں ہفتہ وار کالم لکھا۔ بے شمار لوگ ان کی اس تحریر کا انتظار کرتے تھے۔ اس میں وہ سیاست، سیاحت، معاشرت اور معیشت کا ہر رنگ سے احاطہ کرتے تھے۔ بزرگوں کا چلن اختیار کیا اور ہر مضمون کو سو رنگ سے باندھا۔
انھوں نے انجمن ترقی اردو کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، جاتے جاتے اسے ذوالقرنین جمیل اور ڈاکٹر فاطمہ حسن کے سپرد کر گئے۔ اُردو کالج اور پھر اردو یونیورسٹی کے لیے کیسے پاپڑ بیلے۔ رائٹرز گلڈ قائم کی، اس کے پرچم تلے پاکستان کی تمام زبانوں کے ادیبوں کو اکٹھا کیا۔ کوشش ان کی یہی رہی کہ اُردو اور بنگلہ کے ادیب ایک دوسرے سے شیر و شکر ہو جائیں لیکن ایوانِ اقتدار میں کچھ اور ہی منصوبے تھے۔ کوی جسیم الدین اور کوی جمیل الدین بھلا کیا کر سکتے تھے۔ آگ اور خون کے دریا کی شناوری 1947ءمیں اور پھر 1970ئ، 1971ءمیں مجبور محض انسانوں کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی اور تقدیر کا لکھا بھلا کون مٹا سکا ہے۔
طیبہ بھابھی اور ان سے میرے ذاتی مراسم تھے۔ وہ دونوں میری والدہ کے پُرسے میں آئے اور میری بڑی بیٹی فینی کو رُخصت کرنے کے لیے بھی دونوں موجود تھے۔ ان سے بحث مباحثے کو شاید میں اپنا فرض سمجھتی تھی۔ عصمت آپا کراچی آئی ہوئی تھیں۔ برادرم شکیل عادل زادہ کے گھر پر ان کی شاندار ضیافت ہوئی جس میں شہر بھر کے عمائدین موجود تھے۔ جانے کس لہر بہر میں عالی بھائی یہ کہہ گئے کہ ہم تو واہگہ پر ثقافتی دِیوار اُٹھائیں گے۔
نہ اُدھر کا ادب اِدھر آئے اور نہ اِدھر کی شاعری اور افسانہ اُدھر جائے۔ عصمت آپا نے چمک کر کچھ کہنا چاہا لیکن میں جانتی تھی کہ خواہش کے باوجود وہ بہت مروّت سے کام لیں گی۔ ا ±دھر سے آئی ہیں اور اپنے میزبانوں کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہیں گی۔ دیوارِ چین ہو یا دیوار ِبرلن یا دوسری دیواریں، میں کسی کے بھی حق میں نہیں تھی تو پھر واہگہ پر ثقافتی دیوار کا نسخہ کیسے ہضم کر لیتی۔ عالی بھائی سے میں نے بحث کی اور ڈٹ کر بحث کی۔ اس کی وجہ سے ہمارے درمیان ہفتوں سلام کلام بند رہا لیکن پھر ایک دن ان کا فون آیا۔ ”تم واقعی بہاری ہو۔ آخری درجے کی احمق۔ ارے تمہارے خیال میں کیا مَیں اینٹ گارا لے کر سرحد پر پہنچنے والا تھا؟“
انھیں انفرادی اور اجتماعی مستقبل کی بہت فکر رہتی تھی۔ اپنے کالموں میں انھوں نے مستقبلیات کے موضوع پر لکھنا شروع کیا جو مجھ سمیت ان کے ان گنت پڑھنے والوں کو بہت محبوب تھا۔ میں امریکا کے سفر سے واپس آئی تو اس موضوع پر چند کتابیں ساتھ لائی اور عزیز دوست ڈاکٹر عذرا رضا نے اس موضوع پر ایک رسالے کا زرِسالانہ ادا کر کے اسے میرے نام جاری کرا دیا۔
میں نے مستقبلیات پر قلم اٹھانے سے پہلے عالی بھائی کو فون کیا اور کہا کہ میں اس موضوع پر لکھنا چاہتی ہوں، اگر آپ کی اجازت ہو۔ ناراض ہوئے کہ ارے بی بی، میرا کوئی اجارہ ہے کہ اس موضوع پر کوئی اور نہ لکھے۔ پھر بہت ہنسے اور طیبہ بھابھی کو آواز دے کر پوچھا طیبہ بیگم اس احمق کا کیا علاج ہے۔؟
ان کے ساتھ میں نے ایک گستاخی کی اور وہ یہ کہ ان کے ساتھ شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں شام منائی جا رہی تھی، ان لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے معذرت کر لی۔ میرا عذر سن کر عالی صاحب نے مجھے فون کیا۔ ارے بی بی میں نے ان لوگوں کو تمہارا نام دیا تھا۔ تم نے معذرت کیوں کی؟ میں نے عرض کیا کہ عالی بھائی آپ سے چند سیاسی اور نظریاتی اختلافات ہیں، اس لیے میں نے اس موقع پر کچھ نہ کہنا ہی مناسب سمجھا۔ عالی بھائی نے زور سے ڈانٹا۔ افوہ آپ اور آپ کے اختلافات۔ اتنی بقراط کب سے ہو گئیں آپ۔ میں آگے کچھ نہ سنوں، چپکے سے آ جاو ¿ اور اپنی بقراطی جھاڑ جاو ¿، میں جلاد کو تمہارا سر قلم کرنے کا حکم ہرگز نہ دوں گا۔ یعنی جان کی امان ہے تمہیں۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے دھڑ سے فون بند کر دیا۔
دو دن بعد منتظمین دعوت نامہ لے کر آئے جس میں اس حقیر فقیر کا نام چھپا ہوا تھا۔ میں گئی اور میں نے صرف یہ کہا کہ عالی صاحب اپنے مغل بچہ ہونے پر بہت اصرار کرتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر یہ سامو گڑھ میں ہوتے تو داراشکوہ کے لشکر سے کاوا کاٹ کر کب اورنگ زیب کی فوجوں میں شامل ہو جاتے۔
یہ یقیناً عالی صاحب کے بعض معاملات پر چوٹ تھی لیکن کیا بات تھی ان کی۔ وہ روسٹرم پر آئے اور اُنھوں نے کہا کہ ان بی بی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ اگر میں ساموگڑھ کے میدان میں ہوتا تو نہ داراشکوہ کے ساتھ ہوتا، نہ اورنگ زیب کے، میں تو خود تخت پر قبضے کی جنگ لڑتا“۔ یوں انھوں نے میری گستاخی کو ہنسی میں اُڑا دیا۔ تو صاحبو ایسے تھے ہمارے عالی جی۔
انھوں نے بلامبالغہ ہزاروں کالم لکھے لیکن ان میں سے ایک دل پر نقش ہو گیا۔ آج جب ان کی رخصت پر لکھنے بیٹھی تو وہ بہت یاد آیا۔ میں نے ان کے دونوں مجموعوں ”صدا کر چلے“ ”دُعا کر چلے“ کی ورق گردانی کی اور آخرکار عالی جی کی وہ تحریر ڈھونڈ نکالی۔ آپ بھی پڑھیے۔ یہ 27 مارچ 1972ءکی تحریر ہے۔ لکھتے ہیں:
”آج کل ہمارے دل و دماغ پر وہ لڑکی چھائی ہوئی ہے جو تقریباً ہر روز ہمارے پاس آتی ہے۔ اس کا برقعہ میلا ہے۔ اس کا رنگ اس سے بھی میلا ہے۔ وہ صاف کپڑے پہننے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ مسکرانے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ اس کی آنکھوں سے جنس کی نہیں خالص پیٹ کی بھوک جھلکتی ہے۔ وہ پڑھی لکھی ہے، وہ ہنرمند ہے، وہ شریف ہے، وہ یتیم ہے اور زندہ رہنا چاہتی ہے، وہ لڑکی ہر محلے سے آتی ہے۔
لیاری سے بھی اور نیو کراچی سے بھی اور چاکیواڑہ سے بھی اور کسی بھی شہر کے کسی بھی محلے سے اور وہ صرف ایک ہی بات کہتی ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ کوئی کام کرنا چاہتی ہے اور وہ بھوکی ہے اور اس کی ماں بھوکی ہے۔ اس کا بھائی تپ ِدق میں مبتلا ہے یا اسے کوئی اور موذی بیماری ہو گئی ہے اور پھر وہ تنگ آ کر کہتی ہے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتی ہے عالی جی میں طوائف بننا نہیں چاہتی، میں طوائف بننا نہیں چاہتی، اور ہم اسے دیکھتے رہتے ہیں اور سنتے رہتے ہیں اور سفارشی چٹھیاں لکھتے ہیں اور دوستوں کو فون کرتے ہیں۔ پھر وہ لڑکی چند پھیرے لگاتی ہے۔ کبھی ٹیلی فون بھی کرتی ہے۔ مختلف دروازوں سے ناکام واپسی کی تفصیل سناتی ہے اور پھر معدوم ہو جاتی ہے اور پھر وہی لڑکی کوئی دوسرا نام رکھ کر آ جاتی ہے“۔
اس تحریر کا درد آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ان کا مشہور دوہا کہ ہم تو گئے تھے
چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار،
جیسے پُر لطف اور چٹکی لپٹے والے دوہے یا شعر تو ان کی ذات کا ایک رُخ تھے، ورنہ اصل جمیل الدین عالی تو وہ تھا جو ”وہ ایک لڑکی“ لکھتا تھا اور جس نے 500 صفحات پر پھیلی ہوئی طویل نظم انسان لکھی اور جس میں لکھا:”تمہیں کیا خبر کیسی کیسی جہالت، ارادت، تعصب، تغلّب کا… ہر جھوٹ کا قرّنا کیسے بجتا چلا جائے ہے صدیوں… حقائق کی لاشیں کہاں کھپ گئیں، اور صداقت کی معدوم ہوتی ہوئی چیخ کیا ہے“۔وہ ایک شجر سایہ دار اور وضع دار انسان تھے۔ عالی جیسے لوگ جس سانچے میں ڈھلتے تھے، وہ کب کا ٹوٹ چکا۔٭
٭٭
فکاہیہ:
جوتانامہ
٭بابوآرکے(اچل پور)
اس زمانے میںتو‘جوتے اپنی قیمتوں کی وجہ سے بجائے پیروں میں پہننے کے سروں پہ رکھنے لائق ہو گئے ہیں۔ایک جوڑی جوتا خریدنے کے لیے انسان کو کتنے ہی دنوں تک پلس مائینس کرتے ہوئے کاٹ کسر سے کام لینا ہوتا ہے تب کہیں جا کر وہ ج ¾وتے پانے کے لائق ہوتاہے۔جوتے خریدنے کے بعدانہیں سنبھالے رکھنے کے عجیب وغریب مراحل بھی اہل جوتا کے لیے پریشانی کا باعث ہوا کرتے ہیں۔نامہ ¿ محبوب کی طرح چھپانے اور ہتھیلی کے چھالے کی طرح سنبھالنے کے باوجود بھی انہیں چوری ہو جانے کی لت ہوتی ہے.....اور یہ چوری ہو جاتے ہیں۔اب کسی دوسرے جوتے کی دستیابی کا دارو مدار آپ کی جیب پر ہوتا ہے یا پھر نزدیک پاس کے علاقے میں مسجد کی دستیابی اور نماز کے اوقات پر منحصررہتاہے۔آج کل اچھے سے اچھے جوتے کھونے اور پانے کا ایک معتبر اور قابلِ بھروسہ مقام تقریب گاہوں کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کو بھی گردانا گیا ہے۔ اس زمانے میں جوتوں کی اونچی قیمتوںنے اہلِ جوتا کے ساتھ عجیب سازش رچی ہے۔پتہ نہیں وہ کون سے زمانے تھے جب جوتے انسانی پیروںکی حفاظت پہ مامور ہوا کرتے تھے۔جب کہ ہم نے توآنکھ کھولی تب سے انسان کو جوتوں کی حفاظت پہ مامور دیکھا ہے۔اہلِ جوتا کو جوتوں کا چوکیدار ہی پایاہے۔شاید جس زمانے میں خلیل خاں صاحب فاختہ اُڑا کر امن وچین کی بنسی بجایا کرتے تھے ٹھیک اس زمانے میں شاید جوتے بھی ہمارے پیروں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔مذکورہ خلیل خاں کے تعلق سے ہم ہمیشہ ہی شش وپنج میں مبتلا رہتے آئے ہیں کہ خدا جانے ان کے پاس کہاں سے اتنا فاضل وقت آئے چلا جاتا تھا جو ‘یہ بے محابافاختائیں اُڑا کر ایک عالم کو حواس باختہ کیے جاتے تھے۔جب کہ انہی خلیل خاں کو پتنگ،کبوتر،گل چھرّے افواہیں اور بے پرکی یہ تمام چیزیں اُڑانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔خیر، خداقادرِ مطلق ہے وہ اپنے بندوںسے جتنے اور جیسے کام لیناچاہتا ہے لیتا ہے۔جوتوں کے پرستار انسان ہی نہیں محکمے بھی ہوا کرتے تھے۔محکمہ ¿ پولس توجوتوں کا سب سے بڑا فین واقع ہوا ہے۔اس محکمہ میں جوتوں کو اہلِ جوتا پر زبردست فوقیت دی گئی ہے۔بلکہ جوتوں کی صحیح دیکھ بھال کو پولس قوانین میں خاص مقام حاصل ہے۔جوتوں کی غلط دیکھ ریکھ اورناقص تربیت پرپولس ملازمین کے انکریمنٹ اور پروموشن رک جاتے ہیں۔گویا یہ محکمہ جوتوں ہی پر اپنی ایڑی چوٹی کا سارا زور صرف کردیتا ہے۔اس لیے ہمارا خیال ہے کہ مذکورہ محکمہ کو جوتوں سے شغل فرمانے کے لیے کھلا چھوڑدینا چاہیے اورلا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری کسی اورمحکمہ کو دے دینی چاہیے۔
گزشتہ زمانوں میں سرکی پگڑی عزت کا استعارہ تھی ا ±سے پیروں پہ رکھ کر بگڑ ے کام بنا لیے جاتے تھے۔جوتوں کی چڑھی ہوئی قیمتوں کے باعث امیدکی جاسکتی ہے کہ اب اکیسویں صدی میں بجائے پگڑیوں کے جوتوں کو ہماری عزت کی نمائندگی کا حق مل جائے گا۔
”جوتوں میں دال بٹنا“یہ محاورہ ہمارے سنہرے دور کی یادگار بن کر رہ گیاہے۔ آج کل یہ محاورہ منظر کا روپ دھار کر رونما ہونے سے اس لیے کترا رہا ہے کہ ان دنوں جوتے اور دال دونوں چیزیں اپنی قیمتوں کی وجہ سے نوادرات میں شامل ہوگئی ہیں اور بات یہاں تک پہنچی ہے کہ اگر ہم سے کوئی بیک وقت جوتا او ردال خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے تو.....”یہ منہ اور مسور کی دال“کا طعنہ اس پر اُچھال دیا جاتاہے۔اب چونکہ جوتے اور دال یہ دونوں اشیا ہماری دسترس سے نکل چکی ہیں اس لیے یہ پیروں اور ہانڈیوں سے کوچ کر کے محاوروں میں پڑاو ¿ڈال گئی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فی زمانہ،جوتوں کی ہمہ جہت کارگذاریاں بڑے گل کھلا رہی ہیں۔جوتے پہننے کے بجائے کھانے، مارنے اور پھینکنے کے عمل میں زیادہ مصرو ف رہنے لگے ہیں۔
یہ واقعہ ہے کہ آج کل جس بھی رہنما یاسربراہ مملکت کی جانب جوتا پھینکا جاتاہے تو وہ رہنما اور سربراہ دیکھتے دیکھتے عظیم شخصیت میں بدل جاتاہے۔پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر خوب تشہیر ہوتی ہے اور پھر اسے ساتویں آسمان پَہ بٹھا دیاجاتاہے۔جوتوں کے اس اعجاز کے باعث ہی آج کل ہر چھوٹا بڑا رہنما اس آرزو میں جئے جارہا ہے کہ دیکھیں کب اس کی قسمت یاری کرتی ہے اورکب اس پہ جوتا پھینکا جاتاہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ زمانے میں عورت کو ’پیر کی جوتی ‘کہا جاتاتھا۔شاید اس زمانے میں جوتیاں بہت ہی زیادہ ارزاں تھیں اس لیے خواتین بھی اس محاورے کا خاص نوٹس لیا کرتی تھیں لیکن اب زمانے نے جوتوں اور جوتیوں کے حق میں کروٹ بدلی ہے یعنی عزت اور وقا رجوتوں کے ہاتھ آگیا ہے تو...اب ہماری خواتین اوران کی انجمنوں کو چاہیے کہ وہ آندولن کر کے سبھائیں لے کر بھوک ہڑتالیں کر کے .....”پیر کی جوتی “اس محاورے کو پریکٹس میں لائیں تاکہ مرد،عورت کو بھی اپنے جوتوں ہی کی طرح سینت سینت کر رکھ سکیں ان کی حفاظت کر سکیں۔اگر ہماری خواتین خود کو مرد کے پیر کی جوتی ثابت کروا کر اپناپرانا حق واپس لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ آج کی خواتین کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔٭
٭ رابطہ: 09890985449
تعا رف و تذکرہ
ہرعلاقے کی اکثردرسگاہوںکے مجلے شائع ہوتے ہیں جن میں اہل ادب، اساتذہ اور طالب علموں کی تحریریں ہوتی ہیں۔ جس سے طالب علموں کو ایک سمت اور روشنی ملتی ہے۔ در اصل یہ عمل مستقبل سازی کی ایک سیڑھی ہے۔ ہمارے پیشِ نظر اسی طرح کا ایک مجلہ ”سیماب“ ہے۔ جسکے نام ہی میں ایک غیر معمولی کشش ہے اور اندازِ پیش کش دلآویز اور سادگی میں پُر کاری کانمونہ بنا ہوا ہے۔
اسکے مشمولات میں شعر وادب ہی نہیں دیگر مسائل بھی ہیں اور لکھنے والوں میں ادا جعفری، عاصی کرنالی، حفیظ تائب ، کلیم عاجز، احمد شمیم،سید معراج جامی، حفیظ الرحمان احسن، غالب عرفان،روو ¿ف خیر، ضمیر کاظمی، مناظر عاشق ہرگانوی ، شاذ تمکنت، جگن ناتھ آزاد،خالد حسین، خواجہ محمد عارف، شاہدہ صدف جیسے کئی مشہور و معروف اہل قلم کے ساتھ طالب علموں کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔ کوئی دو درجن سے زائد کتابوں پر تبصرے بھی اس کی کشش میں اضافہ کر رہے ہیں۔ جن میںہندوستانی قلم کاروں مثلاً روو ¿ف خیر(حیدر آباد۔ دکن) اور عظیم اختر(دہلی) کی کتابیں بھی شامل ہیں۔ یہ کتابیں صرف شعری مجموعے نہیں بلکہ اس میں ’میثاقِ عمرانی‘ (فارابی، ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی نظریات کا تجزیہ) جیسی کتاب بھی ہمیں متوجہ کرتی ہے۔ حمد و نعت سے اس مجلے کا آغاز ہوتا ہے تو اس میں جن اسلامی موضوعات پر مضامین ہیں وہ بھی عام نوعیت کے نہیں مثلاً: ’اسلام کا تصورِ عفت و حیا‘ ’وسطِ ایشیا میں اسلامی فتوحات اور دِینی علوم کی شروعات‘ ’ عہدِ رسالت کی سفارت کاری’ بابری مسجد کا تاریخی پس منظر جیسے مضامین مجلے کے وقار کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ ادب کے باب میں بھی جو موضوعات ہیں وہ بھی عمومی نہیں ، چند عنوانات یوں ہیں:غا لبِ خستہ کے بغیر، ترقی پسند تحریک کا المیہ، دیوان ِ غالب کا پہلا مطلع، میرا جی اُردو ادب کا فرائڈ اور تقسیم ہند اور اُردو افسانہ وغیرہ اور ایک عالمی مسئلہ ” دہشت گردی“ پر تو اس میں جو مضامین ہیں وہ وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اس سلگتے ہوئے موضوع پر ہمیں اپنی نئی نسل کے خیالات سے آگاہی کے ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ نسل اس مسئلے پر کس درجہ سنجیدہ ہے۔ اسی مجلے میں ’ امن عالم اور ہمار ا دین‘ جیسے موضوع پر مضمون میں ایک شعردرج ہے : جسے یہاں بغیر کسی تبصرہ نقل کیا جاتا ہے:
محبت گولیوںسے بو رہے ہیں٪وطن کا چہرہ خوںے دُھو رہے ہیں
گورنمنٹ ڈگری کالج (افضل پور۔ میر پور۔ پاکستان) کے مجلد چار سو صفحات کے اس مجلے ”سیماب“ کے مدیر اور مشہور ادیب ِ شہیر پروفیسر غازی علم الدین ہیں جو اپنی ایک تصنیف ”لسانی مطالعے“ کے حوالے سے ہندوستان میں بھی معروف ہیں کہ مذکورہ کتاب کا ہندوستانی ایڈیشن بھی شائع ہو چکا ہے۔
مجلہ ” سیماب“ اپنی صورت سے لے کر مشمولات تک ایک عمدہ پیشکش ہے۔ پروفیسر غازی علم الدین کا لکھا ہوا سیف اللہ خالد پر خاکہ خوب نہیں بلکہ خاکہ نگاری کا دِلچسپ نمونہ ہے۔ اس صفحے کے سر نامے پر جو اشعار درج ہیں وہ بھی اسی مجلے سے مستعار ہیں۔٭
٭ندیم صدیقی
ایوان غزل
مضمحل سا ہے ،کچھ نڈھال سا ہے
دل رہین غم و ملال سا ہے
وہ جو گٹھری میں اس کی مال سا ہے
کچھ حرام اور کچھ حلال سا ہے
جانتا ہوں کہ اس کا ہر وعدہ
سر بسر اک سیاسی چال سا ہے
ہر بلندی ہے اپنی اِک پستی
ہر عروج اپنا اِک زوال سا ہے
لگ رہا ہے ہمارا مستقبل
عین ماضی سا عین حال سا ہے
ہر گھڑی جس سے لاجواب ہوں مَیں
سامنے میرے اِک سوال سا ہے
اس کی میں کیا مثال پیش کروں
وہ جو سَر تا پا اِک مثال سا ہے
ان دنوں ہم جسے گزارتے ہیں
وہ ہر اِک لمحہ اک کمال سا ہے
آتش زیر پا جو رکھتا ہے
سَر میں کیا ہے جو اشتعال سا ہے
کس لئے ہے یہ بدگمانی سی
کیوں ہے شیشے میں یہ جوبال سا ہے
کھودتا ہے جو لحد مستقبل
لمحہ ¿ حال اک کدال سا ہے
روکنے کےلئے غنیم کے وار
میرا ہر شعر ایک ڈھال سا ہے
یہ جو داد و دہش ہے اے راہی
شاعری کا مِری مآل سا ہے
٭ڈاکٹرمحبوب راہی(بارسی ٹاکلی)
رابطہ:09421751064
گو میسر تو نہ تھا راہ گزر جیسا کچھ
پھر بھی طے کر ہی لیاہم نے سفر جیسا کچھ
آسماں کے کبھی اُس پار بھی دیکھا جائے
کیا اُدھر بھی نظر آتا ہے اِدھر جیسا کچھ
دسترس میں کوئی تِنکا بھی نہیں ہے اپنی
اور پاو ¿ں سے بھی لپٹا ہے بھنور جیسا کچھ
جن مکانوں کو بنا لیتے ہیں کچھ لوگ محل
ان مکانوں میں کہاں ہوتا ہے گھر جیسا کچھ
آسماں دور سے آواز ہی دیتے رہ گئے
ڈھونڈتے رہ گئے ہم شانوں پَہ پر جیسا کچھ
اشتہاروں کی طرح چھپتے ہیں اخباروں میں
حادثوں میں بھی نہیں اب تو خبر جیسا کچھ
دُشمنی پہلے بھی ہوتی تھی مگر ایسی نہیں
اب کی دیواروں میں ملتا نہیں در جیسا کچھ
٭راجیش ریڈی(ممبئی)
رابطہ: 09821547423
جواب کوئی تو دے گا کوئی سوال اُٹھا
بہت خسارے میں ہے آدمی، سوال اٹھا
خفا ہوئے تھے کئی لوگ جس سوال پَہ کل
سجی ہے آج بھی محفل وہی سوال اٹھا
امیر ِشہر کی محفل جہاں کہیں بھی ہو
غریبِ شہر کے حق میں کوئی سوال اٹھا
ہمارے عہد میں کیوں جہل کا ہے رُتبہ بلند
شکست کھائی ہوئی آگہی سوال اٹھا
نئے سِرے سے یہ دُنیا بدل رہی ہے تو پھر
نئے سِرے سے اُٹھا اور کئی سوال اٹھا
٭سید ریاض رحیم(ممبئی)
رابطہ: 09930632838
NadeemSiddiqui