Fwd: adabi safha

152 views
Skip to first unread message

Nadeem Siddiqui

unread,
Nov 30, 2015, 8:13:51 AM11/30/15
to


 روزنامہ اُردو ٹائمز، ممبئی کا ادبی صفحہ
اتوار29۔ نومبر2015
مطلع:
 (شمس الرحمان فاروقی سے ملاقات میں)”فراق گورکھپوری کا ذکر آیا تو میں نے کہا کہ شاید آپ میرے ساتھ اتفاق کریں کہ ان کے ہاں بھرتی کے اشعار بہت زیادہ ہیں۔ انہوں
( فاروقی ) نے نہ صرف اس سے اتفاق کیا بلکہ فراق کے بارے میں جو اُن کی جانی پہچانی رائے تھی‘ اس کا بھی اظہار کر دیا۔ آفتاب نے کہا کہ اُن کے چار پانچ اشعار تو لاجواب ہیں۔ آفتاب نے وہ شعر سنائے بھی جن میں یہ دو شعر 
بطورِ خاص :
سر میں سودا بھی نہیں،دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک ِمحبت کا بھروسا بھی نہیں
دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اس جلوہ گِہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں
فاروقی نے دونوں شعروں کے فنی نقائص کو اس طرح کھول کر بیان کیا کہ میری اور آفتاب دونوں کی تسلی ہو گئی۔ 
کہا کہ و ہ ’سودا ‘ شعر میں پہلے لے آئے ہیں حالانکہ بعد میں آنا چاہیے کیونکہ تمنّا پہلے پیدا ہوتی ہے اور سودا کہیں بعد میں جا کر۔ نیز وہ یگانوں کا مطلب ہی نہیں سمجھتے کیونکہ یگانہ کا مطلب ہے یکتا، جبکہ انہوں نے یہ لفظ اپنا کے معنوں میں استعمال کیا ہے جو کہ غلط ہے۔“
٭ مشہور شاعر ظفر اقبال(پاکستان)
 کے تازہ کالم سے اقتباس
 خوشبو:
مِری پرواز کا منظر ابھی تیروں سے چھلنی ہے
 لہو میں تر بتر ہے داستاں نقلِ مکانی کی
 قدم رکھتے ہی جیسے کھُل گیا دلدل میں دروازہ
 عجب کاریگری دیکھی یہاں مِٹّی میں پانی کی
٭نظام الدین نظام
آٹھویں سُر کی جستجو اور جمیل الدین عالی
٭خرم سہیل(کراچی)
 حروف سب کے تابع نہیں ہوتے، مگر جس کی بات مان لیں، اس کا پھر بہت مان رکھتے ہیں۔ یہ تب ہی تخلیق ہوتے ہیں جب ان کے پیچھے متحرک سوچ اور سچی فکر موجود ہو، ان کی پاسداری کی جائے اور دل سے اپنایا جائے۔ حروف کی حرمت اور عظمت کا فہم رکھنے والے شاید ہی کچھ لوگ باقی ہیں، جن کو یہ پتہ ہے کہ لکھے ہوئے لفظ کی قیمت کیا ہوتی ہے اور یہ لفظ کس طرح آپ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
جمیل الدین عالی بھی ایسی ہی ایک تخلیقی شخصیت تھے، حروف جن کے تابع تھے۔ انہوں نے تمام زندگی حروف کو اپنی مرضی سے برتا، جس صنف سخن میں چاہا، وہاں پرو دیا۔ یہ ان کی خداداد صلاحیت تھی، جس میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔
جمیل الدین عالی پاکستان کے عظیم شاعر ثابت ہوئے۔ انہوں نے مختلف صنف سخن اور ان کی جہتوں میں کام کیا، جن میں غزلیں، نظمیں، دوہے، گیت، ملی ترانے اور کالم نویسی شامل ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان سے بھی وابستگی رہی۔ انہیں دوہوں اور ملی ترانوں کی بدولت زیادہ شہرت ملی۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ تخلیقی طور پر بھی بے حد متحرک رہے۔ انہوں نے معروف ادیب اور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کے ساتھ کام کیا، رائٹرز گلڈ کی بنیاد رکھی، ادیبوں اور شعرائ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا، اور تقریباً 6 دہائیوں تک انجمن ترقی اردو کے صدر رہے۔
جمیل الدین عالی صرف ایک ادبی شخصیت ہی نہیں، بلکہ اردو شعر و ادب کا ایک پوراعہد تھے، وہ اپنی نسل کے ان آخری لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے قیامِ پاکستان کے لیے مسلمانوں کی جدوجہد دیکھی، مسلم لیگ کا زمانہ دیکھا، پاکستان بن جانے کے بعد سے لے کر رواں دہائی تک سیاسی اتار چڑھاو ¿ دیکھے، آمریت اور جمہوریت کے ادوار کو پرکھا، پاکستان کو درپیش جنگوں کا درد محسوس کرکے ملی نغمے لکھے، اپنے سامنے تین نسلیں جوان ہوتے دیکھیں، پاکستان کو ترقی کرتے دیکھا، یہ کیا کم اعزاز ہے کہ ان کی آنکھوں نے اتنا کچھ دیکھا اور صرف دیکھا نہیں بلکہ اس کو قلم بند بھی کیا؟
جمیل الدین عالی کے فنی مرتبے پر تو بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن کچھ پہلو تو بالکل سامنے کے ہیں جن پر بات ہوسکتی ہے۔ ان کے ہاں غزل کی روایت بے پناہ مضبوط تھی۔ انہوں نے غزل کی بنیاد کو مجروح کیے بنا لکھا اور اس میں نت نئے موضوعات کا احاطہ کیا۔ خارجی اور داخلی احساسات کی زبان نے ان کی شاعری کو دلگداز اور پ ±ر اثر بنا دیا۔ ان کے ہاں انتظار، گھر، در و دیوار، روپ، رفاقت، محبت، اداسی اور امید سمیت متنوع رنگ بکھرے ہوئے ہیں، جن سے انہوں نے غزل کو مالا مال کیا۔ انہوں نے غزل کے لہجے میں کہیں اپنے آپ سے بات کی تو کسی موڑ پر زمانے کو بھی مخاطب کیا۔ ان کی غزل کے یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
بجائے یوم ملامت رکھا ہے جشن مرا
مرے بھی دوست مجھے کس قدر بناتے ہیں
جمیل الدین عالی کے ہاں نظم کی بھرپور روایت بھی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئے اور مشکل رجحان کی پیروی کی، وہ طویل نظم کی تخلیق تھی، انہوں نے ”انسان“ کے نام سے پندرہ ہزار اشعار کی طویل نظم لکھی، جس کو وہ اپنا لکھا ہوا منظوم ڈراما بھی کہتے تھے۔ یہ نظم ایک مکمل کتاب ہے، جس میں انہوں نے انسان کے تمام پہلوو ¿ں کی عکاسی کی ہے۔
جب عالی صاحب نے معدوم ہوتی صنف سخن ”دوہے“ پر توجہ دی، تو گویا اس کی قسمت پھر سے جاگ اٹھی۔ انہوں نے اس صنف سخن پر خوب جی لگا کر کام کیا اور اس کی وجہ سے بھی ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے دوہے کے موضوعات میں تہذیبی رچاو ¿ کو مدنظر رکھا۔ ان کا درجِ ذیل دوہا دیکھیے، اس میں وہ تخلیقی سرشاری اور حقیقت پسندی واضح ہے۔
پیارکرے اور سسکی بھرے، اور پھر سسکی بھر کر پیار
کیا جانے کب اک اک کر کے بھاگ گئے سب یار
یہی جاذبیت، سرشاری اور پیا رنگ ان کے گیتوں میں بھی ملتا ہے۔ انہوں نے گیتوں کی زبان سادہ اور مترنم رکھی۔ ان کی لفظیات نے اسی لیے ان کی معنویت کو مزید گہرائی دی کیونکہ وہ حرف کے برتاو ¿ سے معنی نکالنا جانتے تھے۔ ان کے ہاں گیت صرف داخلی اظہار کی علامت نہیں تھا بلکہ وہ ایسے موضوع اور احساس کو بھی شامل کر لیتے، جن سے ان کی ذات ہی نہ معاشرہ بھی شاملِ گفتگو ہوتا۔ وہ ہر طرح کے احساس کو بیان کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ اس کی عکاسی یہاں ایک گیت کے اقتباس میں بھی موجود ہے۔
اب تک نہ مجھے کوئی میرا رازداں ملا
جو بھی ملا، اسیرِ زمان و مکاں ملا
کن حوصلوں کے کتنے دیے بجھ کے رہ گئے
اے سوزِ عاشقی! تو بہت ہی گراں ملا
جمیل الدین عالی کی تخلیقی بلندی اور شہرت کا حوالہ ان کے لکھے ہوئے ملی ترانے ہیں جن کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔جمیل الدین عالی تقریباً چار دہائیوں تک کالم نویسی بھی کرتے رہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے نہ صرف حالاتِ حاضرہ کو قلم بند کیا، بلکہ ملک کے اہم واقعات پر بھی روشنی ڈالی۔ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں اور نئی لکھی جانے والوں کتابوں کا تذکرہ بھی برابر کیا۔ اردو زبان کے فروغ اور اس کا اصل مقام دلانے کے لیے بھی تحریریں لکھیں، اس کے علاوہ پاکستانی معاشرت اور بین الاقوامی امور پر بھی ”نقارخانے“ کے نام سے اظہارِ خیال کرتے رہے۔
ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اس کا احاطہ کچھ یوں ہوتا ہے۔ جمیل الدین عالی کا مکمل نام ”نواب زادہ مرزا جمیل الدین احمد خاں“ تھا اور ”عالی“ تخلص تھا۔ 20 جنوری 1926 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر دہلی میں ایک متمول اور ادبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا نواب علاو ¿الدین احمد خان کی مرزا اسد اللہ خان غالب سے وابستگی تھی، جبکہ ان کے والد سر امیرالدین احمد بھی بہت اچھے اور معروف شاعر تھے۔ ان کے ننھیال کی مقبول ترین شخصیت اردو ادب کے معروف شاعر خواجہ میر درد تھے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ان کا تعلق تہذیبی و ثقافتی طور پر ایک زرخیز ادبی پس منظر رکھنے والے خاندان سے تھا، پھر جس کی وراثت انہوں نے سنبھالی۔
ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔ 1945 میں گریجویشن مکمل کی اور تقسیمِ ہند کے موقع پر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔ 1951 کے بعد سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور بطور انکم ٹیکس آفیسر تعینات ہوئے۔1963 میں وزارتِ تعلیم اور یونیسیکو میں بھی کام کیا۔ 1967 میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے سینئر ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے۔ پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔
ان کی شادی طیبہ بانو سے ہوئی، جن سے ان کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔ انہوں نے سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ 1977 کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کے کہنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست سے انتخاب میں حصہ لیا اور جماعتِ اسلامی کے مولانا منور حسن سے ہار گئے۔ 1997 میں متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ کئی ادبی و غیر ادبی اداروں کے سرپرست اور معاون رہے۔
زندگی کے آخری برسوں میں وہ گھر تک محدود ہو گئے تھے۔ ناسازئی طبع کے باوجود اکثر وہیل چیئر پر کئی تقریبات میں شرکت کے لیے چلے بھی جاتے تھے۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری، ادبی دنیا کے تمام اہم اعزازات سے انہیں نوازا گیا اور سرکاری سطح پر بھی ان کی پذیرائی ہوئی۔
مجھے ان سے ایک انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جس میں وہ مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آئے۔ ان سے ملاقات کر کے بالکل یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم کسی بہت بزرگ شاعر سے مل رہے ہیں۔ ان سے میں نے ایک سوال پوچھا کہ ”تخلیق میں کسک، بے چینی اور اس طرح کے احساسات کا کتنا عمل دخل ہے؟“ اس کا بہت خوبصورت جواب انہوں نے دیا کہ جس پر ہم چاہیں تو عملی طور پر کاربند ہوسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”درد، غم، سوز، جستجو، کرب و تلخی جیسی کیفیات انسان کو نکھارنے میں مدد دیتی ہیں۔“
اس طرح کی بہت ساری باتیں ہیں، جن سے ہم اپنی زندگی کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ اس کے باوجود عالی صاحب کے ہاں ایک اداسی تھی، جس میں کئی صدیوں کی ریاضت اور پیچھے رہ جانے والے پڑاو ¿ کی یاد تھی اور بچھڑ جانے والوں کی پرچھائیاں بھی۔ زندگی کے سات س ±ر سمجھ لینے کے بعد وہ اب جدائی کا آٹھواں س ±ر سمجھنے کو ہم سے جدا ہوئے ہیں۔
ان کی ایک غزل کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہی ان کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ چند شعر ملاحظہ کیجیے۔
ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو
سات سروں کی آگ ہے آٹھویں سر کی جستجو
بجھتے ہوئے میرے خیال جن میں ہزارہا سوال
پھر سے بھڑک کے روح میں پھیل گئے ہیں چار سو
ہنستی ہوئی گئی ہے صبح پیار سے آرہی ہے شام
تیری شبیہ بن گئی وقت کی گرد ہوبہو
خون جنوں تو جل گیا شوق کدھر نکل گیا
سست ہیں دل کی دھڑکنیں تیز ہے نبضِ آرزو
جمیل الدین عالی، ایک ریاست کے وارث، تقسیم ہند کے شاہد، ارض وطن کے عاشق، میرے شاعر اور بہت سوں کے محبوب، ان کے جانے سے وہ مہک لوٹ آئی ہے جس میں ان کے گیتوں کی کھنک ہے، غزلوں کی رعنائیت، دوہوں کا رچاو ¿ اور نثر کی لطافت، جس سے ہم ان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، کیونکہ یہ وہ شخص تھا، حروف جس کے تابع تھے اور حروف سب کے تابع نہیں ہوتے، مگر جس کی بات مان لیں، اس کا پھر بہت مان رکھتے ہیں۔ جمیل الدین عالی اردو شعر و ادب کا مان ہیں۔٭
 تذکرہ و تعارف
  کتاب کی ایک اہمیت اورخوبی یہ بھی ہے کہ اس سے جو بھی جڑ جاتا ہے وہ بھی اہم اور مفید ہو جاتا ہے۔ کتاب لکھنے والا ہی نہیں کتاب کا قاری بھی اہم ہو سکتا ہے اور اس کا مفید ہونا عجب نہیں بلکہ اگر وہ مفید نہ ہو تو تعجب ہونا چاہیے۔ بشرطِ کہ کتاب ،کتاب ہو۔
 اس وقت ہمارے سامنے دہلی کے مشہور اور سینئر شاعر( حضرت مانی جائسی کے شاگردِ رشید ) وقار مانوی کی مرتب کردہ ایک ایسی کتا ب ہے جو ایک کتاب دوست ،علم پرور، ادب شناس عبد الوہاب خان سلیم کی خوبیوں اور ان کی شخصی محاسن پر محیط ہے۔ 
 عبد الوہاب خان سلیم دریا آباد(ضلع بارہ بنکی) سے تعلق رکھتے ہیں وہ یہاں سے پاکستان گئے اور پھر وہاں سے امریکہ مگر دریا آباد کے مولانا ماجد کی علم دوستی اور اُن کے ادب کی خوشبو بھی ان کے ساتھ ساتھ تھی۔ یہ بڑی بات ہے اور اِس ہائے ہ ¾و کے زمانے میں تو یہ خوبی اور یہ ذوق و شوق ایک روشن مثال سے کم نہیں۔
 وہاب صاحب صرف ادب دوست ہی نہیں ان کے دوستوں میں ہمارے دور کے عام ادیب و شاعر ہی نہیں خواص بھی ہیں۔ مشہور ادیب پروفیسررفیع الدین ہاشمی(پاکستان) کے یہ تاثرات ملاحظہ کریں:
 ”مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر میں کبھی اُن(عبد الوہاب خان سلیم ) سے انٹروِیو کرنے بیٹھوں تو بات چیت اس طرح ہوگی: سوال: آپ کی سب سے پسندیدہ چیز؟ جواب: کتاب۔ سوال: اس کے بعد، دوسری پسندیدہ چیز؟جواب: کتاب۔سوال: اچھا،کوئی اور پسندیدہ شے؟ جواب: کتاب۔ سوال: کتاب ، کتاب، کتاب تو کس نوعیت کی کتاب آپ کو پسند ہے؟ جواب: ہر قسم کی کتاب، خصوصاً آپ بیتی، سوانح عمری ، سفر نامے، یادداشتیں، خطوط کے مجموعے مگر ان سب سے بڑھ کر اوّلین ترجیح حج اور عمرے کے سفر نامے۔“ 
 حضرتِ وہاب سلیم کے اسیروں میں خواجہ مشفق سے لے کر رشید حسن خاں اور اسلوب احمد انصاری جیسے کئی اہم ادیب و شاعر ہیں۔76 سالہ عبد الوہاب خان سلیم کی خوبیوں اور اُن کے حسن ِکردار پر یہ کتاب تین سَو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں اُردو کے مشہور و معروف ہی نہیں ممتاز اہل قلم نے ان کے بارے میں تفصیل سے بہت کچھ لکھا ہے مگر تحریر تو تحریر ہی ہوتی اور آدمی کا کردار و صفات اس سے زیادہ بڑا اور متنوع ہوتا ہے۔ سب کی نگاہ تمام جزئیات پر پہنچے گی ہمارے خیال سے ممکن نہیں۔ اس کتاب میں کوئی چالیس سے زیادہ اشحاص نے وہاب نامے میں رنگ بھرے ہیں مگر یہ تمام رنگ وہاب سلیم کی شخصیات کی رنگینی سے اخذ کیے گئے ہیں۔ یہاں ہمیں آوارہ سلطان پوری(مرحوم) کا ایک شعر یاد آگیا:
 دیکھنا ہے کس میں رنگینی ہے کس میں رنگ ہے٪ہم نے ساغر رکھ دِیا کالی گھٹا کے سامنے
 شخصیات پر ہم نے کئی کتابیں دیکھی ہیں مگر اس کتاب کی ایک خاص با ت یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد صاحبِ موضوع سے ملنے کا اشتیاق دِل میں جاگ اُٹھتا ہے۔ ہمارے خیال سے حضرت ِوہاب سے ذاتی ملاقات کا امکان تو نہیں مگر ذرا تحمل کے ساتھ اس کتاب کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو وہاب سلیم ہمیں ضرورملیں گے۔کسی بھی کتاب کا حاصل یہی ہے کہ موضوع اور قاری ایک دوسرے میںجذب ہو جائیں۔ ہمیں یہ خوبی اس کتاب میں ملتی ہے۔
 اسی کتاب میں منیر انجم کے مضمون میں ایک بڑے گُر کی بات وہاب سلیم نے بتائی تو منیر انجم کو ہے مگر اس سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو انجذاب کی صلاحیت رکھتا ہو۔ قرة العین حیدر کی کتابوں پر وہاب سلیم کو عینی کے آٹو گراف مطلوب تھے۔ ظاہر ہے کہ عینی سے ملاقات ہی ایک بڑا دریا عبور کرنے جیسی بات تھی آٹو گراف اس کے بعد ایک اور دریا تھا۔ امریکہ سے اُنہوں نے منیر انجم کو بتایا کہ آپ دہلی میںکناٹ پلیس کی کسی اچھی دُکان سے فلاں قسم کی چائے کی پتّی خرید لیجئے اور پھر عینی سے ملاقات کا وقت طے کرکے ان کے دولت کدے پر پہنچئے اور انھیں یہ چائے کی پتّی پیش کیجیے۔آپ نامراد نہیں لوٹیں گے۔ اور پھر منیر انجم نے یہی کیا اور واقعی وہ عینی کے گھر سے کامیاب و کامران لوٹے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے مگر اس معمولی سی بات میں ایک اہم نسخہ بھی پوشیدہ ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک شخص جو امریکہ میں بیٹھا ہے وہ عینی کی چائے کی پتّی کے برانڈ سے واقف ہے اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ یہ چائے کی پتی دہلی میںکہاں مل سکتی ہے۔ یہ باتیں ہمارے نزدیک قطعاً معمولی نہیں بلکہ’ غیر معمولی‘ کی طرف جا نے کا راستہ ہیں۔ یہاں یہ بھی بتا دیا جائے کہ وہاب سلیم بڑے لوگوں کےلئے ہی نہیں بلکہ غیر معروف قلم کاروں کےلئے بھی اتنے ہی متجسس ہوتے ہیں جتنے عینی کےلئے۔ ممبئی کے ایک اخبار کے کالم نگار کےلئے اُنہوں نے دہلی سے کسی طرح ہمارا فون نمبر حاصل کیا اور پھر ہم سے انہوں نے اس مطلوب صحافی کا نمبر لے کر رابطہ کر ہی لیا۔ایسے اشخاص اس زما نے میں کہاں ملیں گے مگر ہیں تو۔ ہم وقار مانوی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ہمیں ایک شحص سے ملایا ہی نہیں بلکہ فرد سے شخص کیسے بنا جا سکتا ہے اس کا نسخہ بھی بتا دِیا۔ کتاب کے حصول کےلئے رابطہ:09582059820
٭ ندیم صدیقی
ایوان غزل
ہمیں تو ایسی لگاوٹ قبول ہے ہی نہیں
وصال و ہجر کا جس میں شمول ہے ہی نہیں
بڑے ریاض سے سیکھا ہے خود کو کھونا بھی
حصول اس کا یہی، کچھ حصول ہے ہی نہیں
جسے مٹائیں بُھلائیں کبھی نہ یاد کریں
 کبھی تو یاد بھی آئے، جو ب ¾ھول ہے ہی نہیں
پکارتا ہوں جسے وہ تو ہم نشیں ہے مرا
وہ پاس بھی ہو مرے یہ قبول ہے ہی نہیں
حصار کھینچ رکھا ہے اور باہر ہوں
حدوں میں رہنے کا اپنا اصول ہے ہی نہیں
٭ فاروق آشنا(ویرار)
وہ یہیں ہے شہر میں ٹھہرا ہُوا
زخم دل کا اور بھی گہرا ہُوا
مَیں وفا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
ایک آنسو جو بہت رُسوا ہوا
مدتیں گزریں اُسے بچھڑے ہوئے
لمحہ لمحہ پھر بھی ہے چونکا ہوا
اجنبی ت ¾و بھی پرائے دیس میں
مَیں بھی اپنے شہر میں بھٹکا ہوا
پیار بھی ہوتا ہے کیا مجبور کا
ایک وعدہ ریت پَہ لکھا ہوا
پَر جھٹک کے ہو گیا ہے تازہ دَم 
اِک پرندہ قید سے چ ¾ھوٹا ہوا
مَیں سَمُندر کی طرح خاموش ہوں
وہ مگر دریا ہے اِک دہکا ہوا
مَیں کسی مفلس کے دَر کی دُھول ہوں
وہ بھی اِک پتھر بہت پ ¾وجا ہوا
اِک تری دیوانگی منصور کیا!
اُس گلی میں ہر کوئی رُسوا ہُوا 
٭ منصور اعجاز(ایوت محل )
رابطہ:9881613380
چاندنی میں کتاب پڑھتے ہیں
ہم ر ±خِ لاجواب پڑھتے ہیں
ا ±س کی آنکھیں طلسم کے اوراق
جِن کو خانہ خراب پڑھتے ہیں
وہ جو آیت کی شکل میں پہنچی
باوضو، بے حساب پڑھتے ہیں
ا ±س کے ہونٹوں پَہ ہے حیا، شبنم
کیسے میکش شراب پڑھتے ہیں
ابر و خنجر، گھٹائیں زلفوں کو
کیا کیا عالی جناب پڑھتے ہیں
تجربے کے لیے تِرے ناخن!
مرے زخم گلاب پڑھتے ہیں
روز لکھتا ہوں کیفیت دل کی
وہ اسے اضطراب پڑھتے ہیں
کہکشاں، ماہِ نو، صبا، ذاکر
سب ترا انتخاب پڑھتے ہیں
٭ذاکر حسین ذاکر(بھساول)
رابطہ:9637075196
زمانے کو اپنا بنانے سے پہلے
مجھے سامنے رکھ زمانے سے پہلے
مجھے دیکھ کر اس نے دستور توڑا
نگاہیں چرالیں ملانے سے پہلے
تحیّر زدہ کیوں ہے راتوں کی آنکھیں
ا ±ن آنکھوں میں کاجل لگانے سے پہلے
مثالوں کی چادر بچھاتے ہو اکثر
مجھے اپنا ماضی بتانے سے پہلے
دُکانوں میں قیمت ذرا کم ملے گی
تمہیں اپنی صورت دِکھانے سے پہلے
بہت وار ہوتے ہیں پیچھے سے اکثر
قدم کوئی پہلا اُٹھانے سے پہلے
بڑی نرم سانسیں، بڑی گرم آہیں
رہیں آخری پل بِتانے سے پہلے
نئے لفظ ہم سے سبب پوچھتے ہیں
عبارت پرانی مٹانے سے پہلے
یہی آرزو ہے کہ پردہ گرا دوں
میں ریحان قصہ سنانے سے پہلے
٭ریحان کوثر (کامٹی)
رابطہ: 09326669893
تھی‘ قیامت کی ہَوا اِس پار سے اُس پار تک 
بادباں کی کیا کہیں شق ہوگئی پتوار تک
صورتِ گ ±ل کو پرکھ تو گ ±ل فروشوں پر نہ جا
ہیں فقط پالیسیاں سرکار کی اخبار تک
جی رہے ہیں لوگ گھر میں خوف کے سایے تلے
آگیا کوئی درندہ دیکھیے دیوار تک
اس کا خمیازہ تو اب مل کر بھگتنا ہے ہمیں
گھر کا بھیدی راز کھولے ہے سَمُندر پار تک
ان اندھیروں کو ضرورت اب ہمارے خوں کی ہے
مشعلیں روشن کرو مل کر چلو سرکار تک
ملک اور تہذیب اپنی دوستو، خطرے میں ہے
مضطرب ہیں اہلِ صنعت، مضمحل فنکار تک
قابلِ تقلید ہے اہل قلم کا حوصلہ 
جرا ¿تِ اظہار ہے، اقرار سے انکار تک
مسئلہ دیر و حَرم کا اب تو حل ہوگا نہیں
بات جا پہنچی ہے یارو! جُبّہ و زُناّر تک
جنگ آخر چھڑ گئی ہے ظلمتوں کے درمیاں
مشعلیں لے کر چلو فرعون کے دربار تک 
جا رہا ہے دیش اپنا پھر غلامی کی طرف
پیش قدمی ہو چکی ہے عالمی بازار تک
 ٭اسلم ساحر چاند پوری(ممبئی)
رابطہ:09819106193
٭٭

--
NadeemSiddiqui



--
NadeemSiddiqui
ltir page-29-Nov-15 copy.jpg
ltir page-29-Nov-15.pdf

Arshad Mansoor

unread,
Dec 1, 2015, 4:36:25 AM12/1/15
to BAZMe...@googlegroups.com

Nadeem Siddiqui

unread,
Dec 7, 2015, 7:59:19 AM12/7/15
to bazmeqalam, S R FARUQI, nadirsargiroh

 روزنامہ اُردو ٹائمز، ممبئی کا ادبی صفحہ
اتوار6۔ دسمبر2015
مطلع:
 طنز و مزاح کو ہمارے ہاں بہت اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا، بلکہ ہنسی ہنسی میں اُڑا دیا گیا یقیناً اس کی کچھ وجوہ تھیں۔
 لیکن ہم جیسوں کا خیال ہے کہ طنز و مزاح لکھنے والا چاہے نثر میں ہو یا شعری پیر ائے میں اس کےلئے انتہائی سنجیدگی کی
 ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے ’ سنجیدہ ادب‘ لکھنے والے بھی اکثر اوقات سنجیدگی کا
 دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں مگر نشانہ بیچارہ
 طنز و مزاح نگار ہی بنتا ہے۔
 اور ہم سمجھتے ہیں کہ سچا طنز و مزاح نگار فکری بندوق کی نال اپنے ہی طرف رکھتا ہے جبکہ گولی کسی اور کو لگتی ہے
 مگر اس کاریگری میں اگر طنز و مزاح نگار چ ¾وکا تو پھر وہ اپنی گولی کا نشانہ خود بن جاتا ہے۔٭
خوشبو:
”عاشق کی آہ و زاری پَہ نالوں پَہ ٹیکس ہو 
سب مہَ وَشوں پَہ ، ماہ جمالوں پَہ ٹیکس ہو
گر زلف تا کمر ہو تو بالوں پَہ ٹیکس ہو
ہوں سُرخ سُرخ گال تو گالوں پَہ ٹیکس ہو
ہو قاتلانہ چال تو پیسے ادا کرو
ورنہ جہاں پڑے ہو وہیں پر پڑے رہو“
٭ فرقت کاکوروی(۱۹۱۰ءتا۱۹۷۳ئ)
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
کچھ ہوتا رہے گا یونہی ہر سال ندارد
تبت کبھی غائب، کبھی نیپال ندارد
رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
”اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد“
تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا
کچھ یونہی سی ننہیال ہے دَدھیال ندارد
تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ
قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد
ہوتا ہے یہی حسن کے اور عشق کے مابین
اُس سال جو باتیں تھیں وہ اِس سال ندارد
اُس بت پَہ شباب آیا، کوئی شیخ سے کہدو
یہ کیسی قیامت ہے کہ دجّال ندارد
ماں باپ بہن بھائی سب انکے ہیں مرے ساتھ
اب گھر مِرا سسرال ہے، سسرال ندارد
مستقبلِ رنگیں کے لئے اہلِ وطن کا
جو حال ضروری تھا وہی حال ندارد
اللہ رے ستم، وصل کا جس سال تھا وعدہ
وہ ہوگئے دُنیا سے اسی سال ندارد
ہے جنسِ محبت کا خریدار زمانہ
بازار میں لیکن ہے یہی مال ندارد
ساقی مِرا واعظ تو نہیں چہرے پَہ جس کے
رمضان ہی رمضان ہو شوال ندارد٭
٭ مرزا محمد اقبال ماچس لکھنوی
 فکاہیے
پیاز کے آنسو
٭فضلِ حسنین(الہٰ آباد)
ہم پہلے یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ آزادی کے زمانے میں تو ہم اپنی مرضی کے مالک آپ ہوا کرتے تھے لیکن شادی ہوتے ہی ہمارا تعلق ”غلام ونش“ سے ہوگیا یعنی بیوی کی ”جی حضوری“ہی ہماری زندگی کانصب العین بن گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسروں کی نظر میں ہم جتنے لائق اور سگھڑسمجھے جاتے تھے۔بیگم ہمیں اتنا ہی نادان گرداننے لگیں اور ہم پر اتنی ہی کڑی نظر رکھی جانے لگی جتنی کسی ناسمجھ بچے پر۔
دیگر معاملات میں توخیر جو ہے سو ہے۔لیکن سودا سلف لانے کے معاملے میں ہم قطعی نااہل قرار دئیے جاچکے ہیں چنانچہ جب ہم کوئی چیز بازار سے خریدنے کی غرض سے باہر نکلنے لگتے ہیں توبیگم طرح طرح کی ہدایات کی یلغار کرتی ہوئی دروازے تک پیچھا کرتی ہیں مثلاً ”ذرا دوچارد ُکانوں پر خوب دیکھ پرکھ کر خریدئے گا اور مول تول میں ذرا بھی غفلت نہ برتئے گا۔“وغیرہ وغیرہ اور ہم بھی بازار کے لیے اسی تیور سے نکلتے ہیں گویا کوئی بڑا معرکہ سر کرنے جارہے ہوں۔یہ الگ بات ہے کہ شاید ہی ہم کبھی بیگم کی پسنداور معیار پرپورے اُترے ہوں۔بازار سے خریدی گئی چیزوں کی چیکنگ عموماً اس طرح کے جملوں سے شروع ہوتی ہے۔”آپ آنکھ بند کر کے ہی سامان اٹھا لاتے ہیں کیا؟پیکنگ پراتنا بڑا دھبہ آپ کو نظرہی نہیں آیا؟“
واضح رہے کہ یہ اس پیکنگ کی چیکنگ کا بیان ہے جسے فوراً ہی کوڑے دان کی نذر ہوجاناہے۔ہم ایک فرماںبردار شوہر کی طرح فوراً اس پیکٹ کو بدلنے کی غرض سے دکان پر واپس پہنچ جاتے ہیں۔ہم یہاں یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ کوئی چیز خرید کر لانے کے بعداسے بدلنے کا رواج ہمارے یہاں اتنا جڑپکڑچکا ہے گویا اس چیز کی خریداری دربار میں یعنی ایک بار بدل لینے کے بعد ہی مکمل ہوتی ہے۔چونکہ بیشتر دکاندار ہماری پوزیشن سے واقف ہو چکے ہیں اس لیے کوئی سامان ہمیں دینے کے بعداس کا دوسرا پیس الگ نکال کر رکھے رہتے ہیں۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارا لایا ہوا پیس اکلوتا ہی ثابت ہوتا ہے۔
اب مسئلہ یہ آن کھڑا ہوتا ہے کہ بیگم ایک بار جو فرمان جاری کردیتی ہیں اسے واپس لینا اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہیں۔ایسی صورت میں ہم اسی پیکٹ پر ایک آدھ دوسری طرح کانشان بناکر واپس لاتے ہیں توبیگم کسی حد تک مطمئن ہوتے ہوئے فرماتی ہیں ”چلئے اُس سے توغنیمت ہی ہے“اب توآپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ معاملہ صرف انا کی تسکین کا ہے کہ موصوفہ نے ایک سامان کے لیے ہمیں دوبار دوڑا کر ہی دَم لیا۔
یہاں یہ بتا دینابھی ضروری ہے کہ ہمارے ذریعے کیاگیا کوئی بھی کام ”غنیمت “کی حد سے آگے کبھی نہ بڑھ سکا اور یہ سنہرا موقع بھی شاذو نادرہی آتا ہے لہٰذا ہم اب اسی غنیمت کو اپنے لیے”سپرب“یعنی شاندار سمجھنے لگے ہیں۔
دیگر معاملات کی بات چھوڑئیے،پرساگ سبزی لانے کامسئلہ ہمارے لیے سب سے سنگین ہے کیونکہ اس مرحلہ سے توہمیں قریب قریب روز ہی گذرناپڑتا ہے۔اس سلسلے میں بیگم کا اسٹینڈنگ آرڈر ہے کہ ہم پہلے مرحلہ میں پوری سبزی منڈی کا ایک چکر اس طرح لگاڈالیں جیسے ہمیں وہاں مارکیٹنگ انسپکٹر کی حیثیت سے معائنہ کے لیے بھیجا گیا ہو۔پھر مول تول والا مورچہ صرف ایسی دکانوں پر ہی کھولیں جہاں دُکاندار نسبتاً گاودی قسم کے نظرآئیں جنہیں ہم آسانی سے زیر کرلیں ،کوئی دُکاندار ہمیں زیادہ نہ ٹھگ لے اس کے لیے پیش بندی کے طور پر ہم بازار نکلتے وقت بیگم سے مطلوبہ شے کا تخمینی ریٹ دریافت کرلیتے ہیں اور اس مورچے پر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں کہ کہیں بے خیالی میں ہم اس ”منظور شدہ“ریٹ سے آگے نہ نکل جائیں لیکن کبھی کبھی معاملہ اس میں بھی پھنس جاتا ہے مثلاًگزشتہ دنوں ہم مٹر کی پھلی خریدنے کے لیے سبزی منڈی پہنچے۔آج بیگم نے مٹر کا ریٹ چالیس روپئے بتایا تھا چنانچہ ایک دکان پر پہنچ کرمٹر کا بھاو ¿پوچھاتو پیروں تلے زمین نکل گئی۔دُکاندار نے اسّی روپئے کلو ریٹ بتایا۔ہم نے چونکتے ہوئے کہا”کیا غضب کرتے ہویار!آج تومٹر چالیس روپئے میں بک رہی ہے۔اس نے ہم سے بھی زیادہ چونکتے ہوئے پوچھا”کہاں مل رہی ہے صاحب چالیس روپئے میں؟“ہم نے معصومیت سے کہا”جہاں سے ہماری بیگم منگواتی ہیں۔“”تو اپنی بیگم کی دکان ہی سے لے لیجئے“اس نے تڑسے جواب دیا۔چنانچہ ہم نے پوری سبزی منڈی چھان ماری لیکن کہیں ایسی دکان نہ مل سکی جہاں اسّی روپئے سے کم میں مٹر مل پاتی۔مجبور ہو کر ہم تھیلا اور منہ لٹکائے گھر میں داخل ہوئے جہاں مٹر پلاو ¿پکانے کے جملہ لوازمات تکمیل کے مراحل میں تھے۔خالی تھیلے پر نظر پڑتے ہی بیگم دہاڑیں”اُڑگئی مٹر بازار سے آج؟“ہم نے سہم کر کہا ”دکانیں توبہت سی ہیں لیکن ریٹ بہت زیادہ بتا رہے تھے۔“
”آخرکیا بھاو ¿مل رہی تھی؟“لہجہ مزید سخت ہوا ”اسّی روپئے کلو کہہ رہے تھے کمبخت ‘ہم نے اقبال جرم کے انداز میں جواب دیا۔”توکیا مفت ملنے کے چکر میں تھے آپ؟“بیگم نے تقریباً چیختے ہوئے کہا”لیکن تم نے توچالیس روپئے کلو کا ریٹ منظور کیاتھا؟“ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا”وہی تومیں بھی کہہ رہی ہوں۔آدھ کلو چالیس روپئے ہی میںتو بتایاتھا؟“تو اب آدھ کلو ریٹ آو ¿ٹ کیاجائے گا؟“بے خیالی میں ہم نے بھی چیخنے کی ہمت کر ڈالی۔اس پر بیگم کا پارہ اور چڑھ گیا۔ہاتھ نچاتے ہوئے بولیں۔”فصل کے شروع میں کوئی چیز کلو بھر خریدی جاتی ہے کیا ‘جو میں کلو کا ریٹ آو ¿ٹ کرتی ؟“اس پر اپنی کم مائیگی کے احساس سے ہمارا سَرجھک گیا اور ہم پھر بازار کی طرف دوڑگئے۔
یہ باتیں تو عام حالات کی ہیں کوئی ایمرجنسی آجانے پر تومسئلہ او ربھی سنگین ہو جاتاہے۔مثلاً پیاز کامعاملہ ہی لے لیجئے!اس سلسلے میں مزید تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں پیاز کی خبروں کے نیچے باقی خبریں دب کر رہ گئی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فی الوقت ملک میں پیازکے علاوہ اور کوئی مسئلہ رہ ہی نہیں گیاہے۔بہرحال اس ہنگامی صورتحال کے پہلے دن سبزی منڈ ی پہنچے توکسی نئی کہانی کے پلاٹ کی تلاش میں ایسے گم تھے کہ پہلے بھاو ¿پوچھ لینے کا خیال ہی نہ آیا اور ہم نے ایک کلو پیاز لینے کے بعد دُکاندار کو پچاس روپئے کا نوٹ تھما دِیا۔کچھ دیر تک کھڑے ہم اسے تکتے رہے اور وہ ہمیں تکتا رہا تو مجبوراً ہمیں کہنا ہی پڑا کہ بھیا باقی پیسے واپس کردو۔اس پر وہ حیرت سے بولا: ”آپ کو پیسے واپس کردوں؟“ہم نے اکڑتے ہوئے کہا”پچاس کا نوٹ دیاہے نا“”توکیا ہوا؟“اس نے ہم سے زیادہ اکڑتے ہوئے کہا”پچاس روپئے اور نکالیے۔سوروپئے کلو ہے پیاز!“
بیگم نے یہی ایک نوٹ دے کر کئی چیزیں لانے کو کہا تھا اورا ب معلوم ہوا کہ اس وقت ہم صرف ایک چیز یعنی پیازہی خریدنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اس لیے مجبوراًآدھی پیاز واپس کر کے جان چھڑانی پڑی۔پیاز کی بات پرہمیں یادآرہا ہے کہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ پیاز پر قحط پڑنے سے پہلے لہسن پر اس سے بڑی آفت آئی تھی۔یہاں تک کے لہسن تین سوروپئے کلو تک چڑھ جانے پر بھی وہ شہرت حاصل نہ کر سکا جو پیاز نے محض سو روپئے تک پہنچ کر حاصل کرلی۔ٹی وی چینلوں کی مہربانی سے دنیا کے کونے کونے میں بچے بچے نے پیاز کا جلوہ دیکھ لیا۔اپنا اپن مقدر ہے جہا ں تک ہماری بات ہے توہم آپ سے سچ بتائیں کہ اتنے دنوں تک ٹی وی پر پیاز کے چرچے اور بار بار وہی مناظر دیکھتے دیکھتے ہمیں پیاز ہی سے نہیں ٹی وی سے بھی چڑسی ہونے لگی۔خیر ٹی وی سے پیچھا توہم آسانی سے چھڑا سکتے ہیں لیکن پیاز سے بچ کر کہاں جائیں گے کہ یہ کھانے کا نہایت اہم جز ہے۔بدیس سے مہنگے دام پرخرید خرید کر کام توکسی طرح چل ہی جائے گالیکن اب ہمیں بار بار یہ خیال پریشان کرنے لگا ہے کہ دُنیا کے سب سے بڑے زراعتی ملک کو کم از کم پیاز لہسن جیسی چیزوں میں توخود کفیل ہو ہی جاناچاہیے۔٭
رابطہ :7499178776
ہَنوز بِلّی دُور اَست
٭نادر خان سَرگِروہ( جدہ۔ سعودی عربیہ)
چوہوں کا انسانی زندگی میں اہم رول ہے۔ یہ چوہوں کا اِنکسارہے کہ وہ جنگلوں میں آزادی سے گھومنے کی بجائے ہمارے گھروں اور بِلوں میں گھِسنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعض جانور د ل میںگھر کر جاتے ہیں اور چوہے گھر میں بِل کر جاتے ہیں ۔ انسان پر دواو ¿ں اور جرّاحی کے تجربے کرنے سے پہلے چوہوں کی ہی چیر پھاڑ کی جاتی ہے۔
 گویا دونوں ایک سی صفات کے حامل ہیں۔ انسان تو انسان ، بِلّی بھی مَرے ہوئے چوہے کو نہیں بخشتی۔ اُسے اُچھال اُچھال کر اپنے بچوںکو جھپٹنے پلٹنے ، پلٹ کر جھپٹنے کی مشق کراتی ہے ۔ لیکن وہ بڑے ہو کر سب سبق بھول جاتے ہیںاور تمام عمر خواب میں چھیچھڑے ہی دیکھتے رہتے ہیں اور ہر اُس اِنسان کا راستہ کاٹتے ہیں جو جلدی میں ہوتا ہے ۔ کہاں گئیں وہ بِلّیاں، چوہے کو دیکھ کر جن کی ’رگِ ہلاکت‘ پھڑکتی تھی؟ دوسری طرف چوہے بھی اپنے بچوں کو بِلّی سے بچنے اور اُسے چکما دینے کے گُر سکھاتے ہیں ۔ لیکن وہ بھی بڑے ہوکر بِلّی کو چکما دینے کی بجائے اُس کی چمکتی آنکھوں میںاپنی بجھتی آنکھیں ڈال کر چیلنج کرتے نظر آتے ہیں ۔ گویا پہلے ہی دن بِلّی مارنا چاہتے ہوں ۔ 
چوہوں کی ایک عادت ہمیں پسند نہیں کہ اُن کے ہاں ڈِسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جتنا کھاتے ہیں اُس سے کہیں زیادہ خانہ خرابی کرتے ہیں اور جب اِن ’کھاناخرابوں ‘کی چوری پکڑی جاتی ہے تو بوکھلاہٹ میں یہ آگے پیچھے نہیں دیکھتے ۔ بندوق کی گولی کی طرح سَٹ سَٹ چھوٹتے ہیں ۔
 بندوق کی گولی توکم اَزکم لحاظ رکھتے ہوئے نشانے کے آس پاس سے گزرجاتی ہے، لیکن یہ جس سے بچنا چاہتے ہیں اُسی کی ٹانگوں میں آجاتے ہیں۔ ڈِسپلن تو چیونٹیوں کے ہاں ہوتاہے ۔ چاہے کچھ ہو جائے ، وہ اپنی ترتیب بگڑنے نہیں دیتیں۔ اِس ڈِسپلن کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے، جس کی توقع چوہوں سے نہیں کی جاسکتی۔ اِن سے تو بِلّی کے گلے میں ایک گھنٹی تک باندھی نہ گئی ۔ یہ ناہنجار اَب تک اِس خوش فہمی میں ہیں کہ ہَنوز بِلّی دُور اَست !
چوہوں اور ہماری آنکھ مچولی کا کھیل بچپن سے چلا آرہا ہے ۔ زندگی میں دو ہی چُوہے ہمارے دل کو بھائے ۔ اُن میں سب سے پہلے ہے ،چالاک، بہادر’ جیری ‘۔ جس کی شرارتیں ہم نے ہنستے ہنستے برداشت کیں اور ’ٹام ‘کے خلاف قدم قدم پر اُس کی حمایت کی اور دوسرے نمبر پر ہے وہ چُوہا ، جس کی دُم کمپیوٹر سے جُڑی ہوتی ہے،جب کہ بقیہ چوہوں نے توہماری ناک میں دَم کر رکھا ہے۔ یا یو ںکہہ لیجیے کہ ہماری ناک میںدُم کر رکھی ہے ۔ ہم اِن کے بِل بھرتے رہتے ہیں اور یہ پڑوسی کے گھر سے ہمارے گھر تک ایک نیا بِل پاس کرتے ہیں ۔ کاش ! اِن کا بھی یہ شیوہ ہوتا کہ:
گھروں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
بات گھر وں تک ہی موقوف نہیں، اِن کے حوصلے اِتنے بلندہیں کہ یہ ہمارے پیٹ میں بھی دوڑتے ہیں۔ کاش! ہم چوہوں کا شکار رائج کر سکتے، تو گھر بیٹھے شکار کا شوق پورا کرتے ۔ لیکن چوہوں کو مارنے میں ایک قباحت یہ ہے کہ ہم ہاتھ میں رائفل پکڑے ، ایک پَیر مَرے ہُوئے ، بلکہ مارے ہُوئے چوہے پر رکھ کر اپنی تصویر نہیں کھنچوا سکتے ۔ 
جب چوہا نظر ہی نہیں آئے گا توچوہا مارنے اور تصویر اُتروانے کا فائدہ ؟ چوہا مارنے میں ایک قباحت اور بھی ہے کہ اِس کارنامے پر ہم فخر بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ کہیں گے، ” گھر میں چوہا مارا! کس نے دیکھا “ یا پھر یہ کہ ’ ’دیکھو ! مارا تو کیا مارا !چوہا ؟ہابڑا آیا ماو ¿س مار خاں ! “٭رابطہ :(ای میل )nadirs...@yahoo.com
 تعا رف و تذکرہ 
 شاعر کا تازہ شمارہ طنز و مزاح سے عبارت ہے جس میں معروف طنز و مزاح کے شاعر احمد علوی کو گوشہ بھی ہے۔ شاعر کے اس شمارے میں عابد معز، حلیمہ فردوس، محمد اسد اللہ، نصرت ظہیر، اسد رضا، منظور نعمانی، رو ¿ف خوشتر، نادر خان سَرگِروہ، فرزانہ فرح جیسے معروف و مشہور لکھنے والے اپنی زعفرانی تحریروں کے ساتھ موجود ہیں۔ جبکہ اکبر الہٰ آبادی، ظریف لکھنوی، بوم میرٹھی ، سعید جعفری، مجید لاہوری، فرقت کاکوروی، سیدضمیر جعفری، ماچس لکھنوی، ناظر خیامی، دلاور فگار، رضا نقوی واہی، شہباز امروہوی، ، ہلال سیوہاروی، راجہ مہدی علی خاں، محمد یوسف پاپا، اور ساغر خیامی جیسے ممتاز ظرافت نگاروں کی منظومات کاایک اچھا انتخاب، نریش کمار شاد کا دلاور فگار سے منظوم انٹرویو بھی اس کی رونق بنا ہوا ہے۔ ممبئی میں کوئی 65برس قبل طنز و مزاح کاایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا تھا۔ بانی ¿مشاعرہ آوارہ سلطانپوری نے جس کا طرحی مصرعہ یوں دیا تھا : ”جب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد“
 اس زمین میں مرزا محمد اقبال المعروف ماچس لکھنوی کی ہزل حاصل مشاعرہ رہی اور اس کا مطلع تمام اُردو دُنیا میں مشہور ہوا۔ اوپر یہ پوری ہزل نذر ِقارئین ہے۔ شاعر کے اس شمارے میں اسد رضا کا ’ تکلفِ تخلص‘ اور رو ¿ف خوشتر کا مضمون ذاتی طور پر ہمیں اچھے لگے۔ جبکہ نادر خان سرگروہ اور نصرت ظہیر کی تحریریں بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ شاعر کا یہ شمارہ ،طنز و مزاح کے شائقین کےلئے ایک عمدہ پیش کش ہے۔ رابطہ:022 23829904
 شگوفہ (حیدر آباد) اُردو کا قدیم جریدہ ہے جس کا موضوع ہی طنز و مزاح ہے۔ اس بار مالیگاو ¿ںکے مشہور شاعر ِطنز و مزاح مختار یوسفی کے گوشے کے ساتھ رنگ ِزعفرانی لئے ہوئے ہے۔ جبکہ نصرت ظہیر، منظور نعمانی، سید امتیاز الدین، ملک بزمی، اشرف خوند میری، مشتاق احمد یوسفی، منظور الا مین، پرویز ید اللہ مہدی، یو سف ناظم، آصف سبحانی کے مضامین اور اسد رضا، نٹ کھٹ عظیم آبادی، نسیم ٹیکم گڑھی، سعید اختر، زعیم زومرہ اور محمد اشرف کمال جیسے شعرا کا کلامِ ِطنزو مزاح اس جریدے کو اسم بامسمیٰ بنا رہا ہے۔ سعید اخترکا ’مچھروں کا ترانہ‘ فوری طور پر متوجہ کرتا ہے۔ رابطہ:09885202364 
 گُلبن(لکھنو ¿) سے باقاعدگی سے ہر دوسرے ماہ شائع ہو رہا ہے۔ جس کا نیا شمارہ اپنی سابقہ روایات کے ساتھ منظر عام پر آگیا ہے۔ جس میں انجم عرفانی، خلیل تنویر، رشید افروز، شرافت حسین، رونق جمال، حنیف سیّد، رو ¿ف خیر، غلام مرتضیٰ راہی، حیرت فرخ آبادی، محبوب راہی،الیاس بابر اعوان، اظہر نیر، ساگر ہاشمی، راجیو پرکاش ساحر، عظیم اختر، سید مرتضیٰ کریم سہر وردی، پروفیسر سید محمد اقبال(ممبئی) مختار بدری، رام پرکاش کپور جیسے ممتاز لکھنے والو ںکی تخلیقات شامل ہیں ۔ اس کے اداریے میں ” نانا کی بد زبانی“ کے زیر عنوان سیدظفر ہاشمی نے اُردو کے حوالے سے توجہ طلب باتیں لکھی ہیں۔ گلبن کے خطوط کا کالم حسبِ سابق دلچسپ ہے۔ رابطہ:09450448804
 ہندوستانی زبان(ممبئی) مہاتما گاندھی میمو ریل ریسرچ سینٹر(ممبئی) کا قدیم جریدہ ہے۔ جو ،اب نئے رنگ و روپ اور ادارت کی تبدیلی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اس کی نئی اشاعت کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پہلے یہ جریدہ بیک وقت اُردو اور ہندی دونوں زبانوں میں چھپتا تھا اب صرف اُردو میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس بار جن اہل ِقلم کی تحریریں اس میں شامل ہیں ان کے اسمائے گرامی یوں ہیں:پروفیسر عبد الستار دلوی، محمد حسین پرکار، عبد الباری ایم کے، کے کے کھلر، قاضی مشتاق احمد، عبد اللہ نیاز، نذیر فتح پوری، ڈاکٹرندیم احمد، ڈاکٹر سید احمد قادری، بلراج بخشی، شاداب عالم، منیر حسین حُرّہ، ڈاکٹر نصر اللہ، عبد الاحد ساز، عزیز انصاری، فردوس گیاوی، اصغر شمیم اور دیپک بُدکی۔
 سید علی عباس اور اطہر عزیزکی نئی ادارت اس جریدے کےلئے خوش آئند ہے۔ رابطہ:(ای میل)hp.s...@gmail.com
 لاریب(لکھنو ¿) سے رشید قریشی کی ادارت میں تواتر کے ساتھ ہر ماہ شائع ہورہاہے۔ جس کے مشمولات دِلچسپ ہوتے ہیں اس بار پی پی سریواستو رند، سید احمد فیصل، چودھری شرف الدین، حسین امین، مرزا عمیر بیگ، عثمان اختر، ناظر صدیقی،مراق مرزا، جمیل مجاہد، انجم عرفانی، حسیب سوز، جاوید عرشی، حمایت جائسی، ہارون شامی اور امیر فیصل وغیرہ کی تحریروں سے بارونق ہے۔ اداریے میں رشید قریشی نے تعلیم اور سر سید کے حوالے سے قابل توجہ باتیں لکھی ہیں۔ طارق قمر کی نظمیں اور چودھری شرف الدین، حسین امین کی تحریریں حاصلِ شمارہ ہیں۔ جبکہ ایک مشکل زمین میں جمیل مجاہد کی غزل پر بھی نگاہ ٹھہرتی ہے۔ رابطہ:09794270445
 آجکل(دہلی) کی نئی اشاعت سید محمد افضل، عابد سہیل، نعیم کوثر، رتن سنگھ، پروفیسر غضنفر، ریحان احمد عباسی، معصوم عزیز کاظمی، ڈاکٹر شمس بدایونی، وحید الظفرخاں، ڈاکٹر سنجے کمار، محمد شرافت علی، افضل مصباحی جیسے معروف و مشہور ادیبوں کے ساتھ شہپر رسول، فاطمہ تاج، سلمی ٰ حجاب، اصغر حمید اصغر، مشتاق جاوید، زین العابدین راشد، اسرار جامعی، صدیق عالم، وشال کھلر، ایم نصر اللہ اور خالد رحیم کی شعری کاوشیں دعوتِ مطالعہ بنی ہوئی ہیں۔ جبکہ’ آجکل‘ کی فائل سے آنجہانی سریندر پرکاش کا ایک افسانہ” گھاٹ سے بندھی ناو ¿“ بھی اس کی کشش میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس بار انور پاشا، عارف خورشید، ڈاکٹر مشتاق احمد، جمیل مجاہد، حلیمہ فرودس، فراز حامدی، کوثر صدیقی، فاروق احمد فاروق کی کتابوںپر تبصرے بھی خوب ہیں۔ آجکل کاخطوط کا کالم بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ مدیر ڈاکٹر ابرار رحمانی سے رابطہ:011 24369189


--
NadeemSiddiqui
ltir page-06-Dec-15 copy.jpg
ltir page-06-Dec-15.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Dec 14, 2015, 8:05:51 AM12/14/15
to

Subject: adabi safha

 روزنامہ اُردو ٹائمز، ممبئی کا ادبی صفحہ
اتوار13 دسمبر۔ 2015ئ
مطلع:
” جس کی فطرت میں شاعری نہ ہو وہ ساری عمر قافیہ بندی کرتا رہتا ہے اور جس شخص کے مزاج اور فطری رویے میں شاعری رچی بسی ہو اس کی کسی نظریے سے وابستگی ضروری نہیں ہوتی، پھر بھی انسان اپنے ماحول سے
 غافل نہیں رہ سکتا حالات چاہے جتنے خراب ہوجائیں لطیف احساسات زندہ رہتے ہیں۔ غربت اور مفلسی میں بھی محبت اور رومان کا احساس ختم نہیں ہوتا۔ محبت ایک فطری جذبہ ہے اور ایسے فطری 
جذبوں کو سیاسی نظریات پر قربان نہیں کرنا چاہئے۔‘٭انجم خیالی 
 خوشبو:
 سنگ بھی آگ اُگلتے ہیں اگر چوٹ پڑے
 دل تو پھر دِل ہے اِک آہ نکل آئی ہے
٭انجم خیالی 
 ہر پرندہ تھا سلامت، ہوئے ہم ہی گھائل
 اپنے تیروں سے لئے آپ نشانے اپنے
٭ سیف اللہ خالد
اُس سے احوالِ خلق کیا پوچھیں
ذکر جو رات دن سُنے اپنا
٭ امین راحت چغتائی
 مضمون:
ایسے تھے ہمارے عالی جی!
٭زاہدہ حنا (کراچی)
جمیل الدین عالی انگریز کی راج دھانی دِلّی میں پیدا ہوئے اور دولخت پاکستان کے سابق دارالحکومت کراچی میں اس جہان سے گزرے۔ یوں کہہ لیجیے کہ وہ غیر منقسم ہندوستان کے رہنے والے تھے اور منقسم پاکستان میں دل پر بہت سے داغ لے کر زندہ رہے اور پھر دوسرے بجھے ہوئے چراغوں کے طرح خود بھی بجھ گئے۔
وہ ایک ہشت پہلو شخصیت تھے، مشاعروں میں ان کے لحن کے سامنے کسی کا چراغ نہ جلتا، دانشوری کی بحثوں میں اُلجھتے تو بڑے بڑوں کو چِت کر دیتے۔ لوہارو خاندان کے بیٹے، نوابزادوں والا طنطنہ لیکن نوابی تو کب کی ختم ہو چکی تھی۔ وہ پاکستان آئے اور یہاں کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ جیتے جی کوئی دوسرا رنگ ان پر نہ چڑھ سکا۔ ان کے ملی نغمے آج بھی زباں زدِ خاص و عام ہیں۔ ان کے سفید کفن پر پاکستان کا پرچم بہار دے رہا تھا۔
وہ غزل کے شاعر تھے، انھوں نے دوہے کہنے شروع کیے تو دوسرے بہت سے شاعروں نے ان کی پیروی کی لیکن ان کا نام سب سے بالا اور ان کی آواز سب سے بلند رہی۔ سفرنامے لکھے تو آئس لینڈ تک کا سفرنامہ لکھ گئے۔ لگ بھگ 50 برس انھوں نے اخبار میں ہفتہ وار کالم لکھا۔ بے شمار لوگ ان کی اس تحریر کا انتظار کرتے تھے۔ اس میں وہ سیاست، سیاحت، معاشرت اور معیشت کا ہر رنگ سے احاطہ کرتے تھے۔ بزرگوں کا چلن اختیار کیا اور ہر مضمون کو سو رنگ سے باندھا۔
انھوں نے انجمن ترقی اردو کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، جاتے جاتے اسے ذوالقرنین جمیل اور ڈاکٹر فاطمہ حسن کے سپرد کر گئے۔ اُردو کالج اور پھر اردو یونیورسٹی کے لیے کیسے پاپڑ بیلے۔ رائٹرز گلڈ قائم کی، اس کے پرچم تلے پاکستان کی تمام زبانوں کے ادیبوں کو اکٹھا کیا۔ کوشش ان کی یہی رہی کہ اُردو اور بنگلہ کے ادیب ایک دوسرے سے شیر و شکر ہو جائیں لیکن ایوانِ اقتدار میں کچھ اور ہی منصوبے تھے۔ کوی جسیم الدین اور کوی جمیل الدین بھلا کیا کر سکتے تھے۔ آگ اور خون کے دریا کی شناوری 1947ءمیں اور پھر 1970ئ، 1971ءمیں مجبور محض انسانوں کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی اور تقدیر کا لکھا بھلا کون مٹا سکا ہے۔
طیبہ بھابھی اور ان سے میرے ذاتی مراسم تھے۔ وہ دونوں میری والدہ کے پُرسے میں آئے اور میری بڑی بیٹی فینی کو رُخصت کرنے کے لیے بھی دونوں موجود تھے۔ ان سے بحث مباحثے کو شاید میں اپنا فرض سمجھتی تھی۔ عصمت آپا کراچی آئی ہوئی تھیں۔ برادرم شکیل عادل زادہ کے گھر پر ان کی شاندار ضیافت ہوئی جس میں شہر بھر کے عمائدین موجود تھے۔ جانے کس لہر بہر میں عالی بھائی یہ کہہ گئے کہ ہم تو واہگہ پر ثقافتی دِیوار اُٹھائیں گے۔
 نہ اُدھر کا ادب اِدھر آئے اور نہ اِدھر کی شاعری اور افسانہ اُدھر جائے۔ عصمت آپا نے چمک کر کچھ کہنا چاہا لیکن میں جانتی تھی کہ خواہش کے باوجود وہ بہت مروّت سے کام لیں گی۔ ا ±دھر سے آئی ہیں اور اپنے میزبانوں کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہیں گی۔ دیوارِ چین ہو یا دیوار ِبرلن یا دوسری دیواریں، میں کسی کے بھی حق میں نہیں تھی تو پھر واہگہ پر ثقافتی دیوار کا نسخہ کیسے ہضم کر لیتی۔ عالی بھائی سے میں نے بحث کی اور ڈٹ کر بحث کی۔ اس کی وجہ سے ہمارے درمیان ہفتوں سلام کلام بند رہا لیکن پھر ایک دن ان کا فون آیا۔ ”تم واقعی بہاری ہو۔ آخری درجے کی احمق۔ ارے تمہارے خیال میں کیا مَیں اینٹ گارا لے کر سرحد پر پہنچنے والا تھا؟“
انھیں انفرادی اور اجتماعی مستقبل کی بہت فکر رہتی تھی۔ اپنے کالموں میں انھوں نے مستقبلیات کے موضوع پر لکھنا شروع کیا جو مجھ سمیت ان کے ان گنت پڑھنے والوں کو بہت محبوب تھا۔ میں امریکا کے سفر سے واپس آئی تو اس موضوع پر چند کتابیں ساتھ لائی اور عزیز دوست ڈاکٹر عذرا رضا نے اس موضوع پر ایک رسالے کا زرِسالانہ ادا کر کے اسے میرے نام جاری کرا دیا۔
میں نے مستقبلیات پر قلم اٹھانے سے پہلے عالی بھائی کو فون کیا اور کہا کہ میں اس موضوع پر لکھنا چاہتی ہوں، اگر آپ کی اجازت ہو۔ ناراض ہوئے کہ ارے بی بی، میرا کوئی اجارہ ہے کہ اس موضوع پر کوئی اور نہ لکھے۔ پھر بہت ہنسے اور طیبہ بھابھی کو آواز دے کر پوچھا طیبہ بیگم اس احمق کا کیا علاج ہے۔؟
ان کے ساتھ میں نے ایک گستاخی کی اور وہ یہ کہ ان کے ساتھ شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں شام منائی جا رہی تھی، ان لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے معذرت کر لی۔ میرا عذر سن کر عالی صاحب نے مجھے فون کیا۔ ارے بی بی میں نے ان لوگوں کو تمہارا نام دیا تھا۔ تم نے معذرت کیوں کی؟ میں نے عرض کیا کہ عالی بھائی آپ سے چند سیاسی اور نظریاتی اختلافات ہیں، اس لیے میں نے اس موقع پر کچھ نہ کہنا ہی مناسب سمجھا۔ عالی بھائی نے زور سے ڈانٹا۔ افوہ آپ اور آپ کے اختلافات۔ اتنی بقراط کب سے ہو گئیں آپ۔ میں آگے کچھ نہ سنوں، چپکے سے آ جاو ¿ اور اپنی بقراطی جھاڑ جاو ¿، میں جلاد کو تمہارا سر قلم کرنے کا حکم ہرگز نہ دوں گا۔ یعنی جان کی امان ہے تمہیں۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے دھڑ سے فون بند کر دیا۔
دو دن بعد منتظمین دعوت نامہ لے کر آئے جس میں اس حقیر فقیر کا نام چھپا ہوا تھا۔ میں گئی اور میں نے صرف یہ کہا کہ عالی صاحب اپنے مغل بچہ ہونے پر بہت اصرار کرتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر یہ سامو گڑھ میں ہوتے تو داراشکوہ کے لشکر سے کاوا کاٹ کر کب اورنگ زیب کی فوجوں میں شامل ہو جاتے۔
یہ یقیناً عالی صاحب کے بعض معاملات پر چوٹ تھی لیکن کیا بات تھی ان کی۔ وہ روسٹرم پر آئے اور اُنھوں نے کہا کہ ان بی بی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ اگر میں ساموگڑھ کے میدان میں ہوتا تو نہ داراشکوہ کے ساتھ ہوتا، نہ اورنگ زیب کے، میں تو خود تخت پر قبضے کی جنگ لڑتا“۔ یوں انھوں نے میری گستاخی کو ہنسی میں اُڑا دیا۔ تو صاحبو ایسے تھے ہمارے عالی جی۔
انھوں نے بلامبالغہ ہزاروں کالم لکھے لیکن ان میں سے ایک دل پر نقش ہو گیا۔ آج جب ان کی رخصت پر لکھنے بیٹھی تو وہ بہت یاد آیا۔ میں نے ان کے دونوں مجموعوں ”صدا کر چلے“ ”دُعا کر چلے“ کی ورق گردانی کی اور آخرکار عالی جی کی وہ تحریر ڈھونڈ نکالی۔ آپ بھی پڑھیے۔ یہ 27 مارچ 1972ءکی تحریر ہے۔ لکھتے ہیں:
”آج کل ہمارے دل و دماغ پر وہ لڑکی چھائی ہوئی ہے جو تقریباً ہر روز ہمارے پاس آتی ہے۔ اس کا برقعہ میلا ہے۔ اس کا رنگ اس سے بھی میلا ہے۔ وہ صاف کپڑے پہننے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ مسکرانے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ اس کی آنکھوں سے جنس کی نہیں خالص پیٹ کی بھوک جھلکتی ہے۔ وہ پڑھی لکھی ہے، وہ ہنرمند ہے، وہ شریف ہے، وہ یتیم ہے اور زندہ رہنا چاہتی ہے، وہ لڑکی ہر محلے سے آتی ہے۔
لیاری سے بھی اور نیو کراچی سے بھی اور چاکیواڑہ سے بھی اور کسی بھی شہر کے کسی بھی محلے سے اور وہ صرف ایک ہی بات کہتی ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ کوئی کام کرنا چاہتی ہے اور وہ بھوکی ہے اور اس کی ماں بھوکی ہے۔ اس کا بھائی تپ ِدق میں مبتلا ہے یا اسے کوئی اور موذی بیماری ہو گئی ہے اور پھر وہ تنگ آ کر کہتی ہے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتی ہے عالی جی میں طوائف بننا نہیں چاہتی، میں طوائف بننا نہیں چاہتی، اور ہم اسے دیکھتے رہتے ہیں اور سنتے رہتے ہیں اور سفارشی چٹھیاں لکھتے ہیں اور دوستوں کو فون کرتے ہیں۔ پھر وہ لڑکی چند پھیرے لگاتی ہے۔ کبھی ٹیلی فون بھی کرتی ہے۔ مختلف دروازوں سے ناکام واپسی کی تفصیل سناتی ہے اور پھر معدوم ہو جاتی ہے اور پھر وہی لڑکی کوئی دوسرا نام رکھ کر آ جاتی ہے“۔
اس تحریر کا درد آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ان کا مشہور دوہا کہ ہم تو گئے تھے
 چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار، 
جیسے پُر لطف اور چٹکی لپٹے والے دوہے یا شعر تو ان کی ذات کا ایک رُخ تھے، ورنہ اصل جمیل الدین عالی تو وہ تھا جو ”وہ ایک لڑکی“ لکھتا تھا اور جس نے 500 صفحات پر پھیلی ہوئی طویل نظم انسان لکھی اور جس میں لکھا:”تمہیں کیا خبر کیسی کیسی جہالت، ارادت، تعصب، تغلّب کا… ہر جھوٹ کا قرّنا کیسے بجتا چلا جائے ہے صدیوں… حقائق کی لاشیں کہاں کھپ گئیں، اور صداقت کی معدوم ہوتی ہوئی چیخ کیا ہے“۔وہ ایک شجر سایہ دار اور وضع دار انسان تھے۔ عالی جیسے لوگ جس سانچے میں ڈھلتے تھے، وہ کب کا ٹوٹ چکا۔٭
٭٭
فکاہیہ:
جوتانامہ
٭بابوآرکے(اچل پور)
 اس زمانے میںتو‘جوتے اپنی قیمتوں کی وجہ سے بجائے پیروں میں پہننے کے سروں پہ رکھنے لائق ہو گئے ہیں۔ایک جوڑی جوتا خریدنے کے لیے انسان کو کتنے ہی دنوں تک پلس مائینس کرتے ہوئے کاٹ کسر سے کام لینا ہوتا ہے تب کہیں جا کر وہ ج ¾وتے پانے کے لائق ہوتاہے۔جوتے خریدنے کے بعدانہیں سنبھالے رکھنے کے عجیب وغریب مراحل بھی اہل جوتا کے لیے پریشانی کا باعث ہوا کرتے ہیں۔نامہ ¿ محبوب کی طرح چھپانے اور ہتھیلی کے چھالے کی طرح سنبھالنے کے باوجود بھی انہیں چوری ہو جانے کی لت ہوتی ہے.....اور یہ چوری ہو جاتے ہیں۔اب کسی دوسرے جوتے کی دستیابی کا دارو مدار آپ کی جیب پر ہوتا ہے یا پھر نزدیک پاس کے علاقے میں مسجد کی دستیابی اور نماز کے اوقات پر منحصررہتاہے۔آج کل اچھے سے اچھے جوتے کھونے اور پانے کا ایک معتبر اور قابلِ بھروسہ مقام تقریب گاہوں کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کو بھی گردانا گیا ہے۔ اس زمانے میں جوتوں کی اونچی قیمتوںنے اہلِ جوتا کے ساتھ عجیب سازش رچی ہے۔پتہ نہیں وہ کون سے زمانے تھے جب جوتے انسانی پیروںکی حفاظت پہ مامور ہوا کرتے تھے۔جب کہ ہم نے توآنکھ کھولی تب سے انسان کو جوتوں کی حفاظت پہ مامور دیکھا ہے۔اہلِ جوتا کو جوتوں کا چوکیدار ہی پایاہے۔شاید جس زمانے میں خلیل خاں صاحب فاختہ اُڑا کر امن وچین کی بنسی بجایا کرتے تھے ٹھیک اس زمانے میں شاید جوتے بھی ہمارے پیروں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔مذکورہ خلیل خاں کے تعلق سے ہم ہمیشہ ہی شش وپنج میں مبتلا رہتے آئے ہیں کہ خدا جانے ان کے پاس کہاں سے اتنا فاضل وقت آئے چلا جاتا تھا جو ‘یہ بے محابافاختائیں اُڑا کر ایک عالم کو حواس باختہ کیے جاتے تھے۔جب کہ انہی خلیل خاں کو پتنگ،کبوتر،گل چھرّے افواہیں اور بے پرکی یہ تمام چیزیں اُڑانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔خیر، خداقادرِ مطلق ہے وہ اپنے بندوںسے جتنے اور جیسے کام لیناچاہتا ہے لیتا ہے۔جوتوں کے پرستار انسان ہی نہیں محکمے بھی ہوا کرتے تھے۔محکمہ ¿ پولس توجوتوں کا سب سے بڑا فین واقع ہوا ہے۔اس محکمہ میں جوتوں کو اہلِ جوتا پر زبردست فوقیت دی گئی ہے۔بلکہ جوتوں کی صحیح دیکھ بھال کو پولس قوانین میں خاص مقام حاصل ہے۔جوتوں کی غلط دیکھ ریکھ اورناقص تربیت پرپولس ملازمین کے انکریمنٹ اور پروموشن رک جاتے ہیں۔گویا یہ محکمہ جوتوں ہی پر اپنی ایڑی چوٹی کا سارا زور صرف کردیتا ہے۔اس لیے ہمارا خیال ہے کہ مذکورہ محکمہ کو جوتوں سے شغل فرمانے کے لیے کھلا چھوڑدینا چاہیے اورلا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری کسی اورمحکمہ کو دے دینی چاہیے۔
گزشتہ زمانوں میں سرکی پگڑی عزت کا استعارہ تھی ا ±سے پیروں پہ رکھ کر بگڑ ے کام بنا لیے جاتے تھے۔جوتوں کی چڑھی ہوئی قیمتوں کے باعث امیدکی جاسکتی ہے کہ اب اکیسویں صدی میں بجائے پگڑیوں کے جوتوں کو ہماری عزت کی نمائندگی کا حق مل جائے گا۔
”جوتوں میں دال بٹنا“یہ محاورہ ہمارے سنہرے دور کی یادگار بن کر رہ گیاہے۔ آج کل یہ محاورہ منظر کا روپ دھار کر رونما ہونے سے اس لیے کترا رہا ہے کہ ان دنوں جوتے اور دال دونوں چیزیں اپنی قیمتوں کی وجہ سے نوادرات میں شامل ہوگئی ہیں اور بات یہاں تک پہنچی ہے کہ اگر ہم سے کوئی بیک وقت جوتا او ردال خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے تو.....”یہ منہ اور مسور کی دال“کا طعنہ اس پر اُچھال دیا جاتاہے۔اب چونکہ جوتے اور دال یہ دونوں اشیا ہماری دسترس سے نکل چکی ہیں اس لیے یہ پیروں اور ہانڈیوں سے کوچ کر کے محاوروں میں پڑاو ¿ڈال گئی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فی زمانہ،جوتوں کی ہمہ جہت کارگذاریاں بڑے گل کھلا رہی ہیں۔جوتے پہننے کے بجائے کھانے، مارنے اور پھینکنے کے عمل میں زیادہ مصرو ف رہنے لگے ہیں۔
یہ واقعہ ہے کہ آج کل جس بھی رہنما یاسربراہ مملکت کی جانب جوتا پھینکا جاتاہے تو وہ رہنما اور سربراہ دیکھتے دیکھتے عظیم شخصیت میں بدل جاتاہے۔پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر خوب تشہیر ہوتی ہے اور پھر اسے ساتویں آسمان پَہ بٹھا دیاجاتاہے۔جوتوں کے اس اعجاز کے باعث ہی آج کل ہر چھوٹا بڑا رہنما اس آرزو میں جئے جارہا ہے کہ دیکھیں کب اس کی قسمت یاری کرتی ہے اورکب اس پہ جوتا پھینکا جاتاہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ زمانے میں عورت کو ’پیر کی جوتی ‘کہا جاتاتھا۔شاید اس زمانے میں جوتیاں بہت ہی زیادہ ارزاں تھیں اس لیے خواتین بھی اس محاورے کا خاص نوٹس لیا کرتی تھیں لیکن اب زمانے نے جوتوں اور جوتیوں کے حق میں کروٹ بدلی ہے یعنی عزت اور وقا رجوتوں کے ہاتھ آگیا ہے تو...اب ہماری خواتین اوران کی انجمنوں کو چاہیے کہ وہ آندولن کر کے سبھائیں لے کر بھوک ہڑتالیں کر کے .....”پیر کی جوتی “اس محاورے کو پریکٹس میں لائیں تاکہ مرد،عورت کو بھی اپنے جوتوں ہی کی طرح سینت سینت کر رکھ سکیں ان کی حفاظت کر سکیں۔اگر ہماری خواتین خود کو مرد کے پیر کی جوتی ثابت کروا کر اپناپرانا حق واپس لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ آج کی خواتین کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔٭
٭ رابطہ: 09890985449
 تعا رف و تذکرہ
 ہرعلاقے کی اکثردرسگاہوںکے مجلے شائع ہوتے ہیں جن میں اہل ادب، اساتذہ اور طالب علموں کی تحریریں ہوتی ہیں۔ جس سے طالب علموں کو ایک سمت اور روشنی ملتی ہے۔ در اصل یہ عمل مستقبل سازی کی ایک سیڑھی ہے۔ ہمارے پیشِ نظر اسی طرح کا ایک مجلہ ”سیماب“ ہے۔ جسکے نام ہی میں ایک غیر معمولی کشش ہے اور اندازِ پیش کش دلآویز اور سادگی میں پُر کاری کانمونہ بنا ہوا ہے۔
 اسکے مشمولات میں شعر وادب ہی نہیں دیگر مسائل بھی ہیں اور لکھنے والوں میں ادا جعفری، عاصی کرنالی، حفیظ تائب ، کلیم عاجز، احمد شمیم،سید معراج جامی، حفیظ الرحمان احسن، غالب عرفان،روو ¿ف خیر، ضمیر کاظمی، مناظر عاشق ہرگانوی ، شاذ تمکنت، جگن ناتھ آزاد،خالد حسین، خواجہ محمد عارف، شاہدہ صدف جیسے کئی مشہور و معروف اہل قلم کے ساتھ طالب علموں کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔ کوئی دو درجن سے زائد کتابوں پر تبصرے بھی اس کی کشش میں اضافہ کر رہے ہیں۔ جن میںہندوستانی قلم کاروں مثلاً روو ¿ف خیر(حیدر آباد۔ دکن) اور عظیم اختر(دہلی) کی کتابیں بھی شامل ہیں۔ یہ کتابیں صرف شعری مجموعے نہیں بلکہ اس میں ’میثاقِ عمرانی‘ (فارابی، ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی نظریات کا تجزیہ) جیسی کتاب بھی ہمیں متوجہ کرتی ہے۔ حمد و نعت سے اس مجلے کا آغاز ہوتا ہے تو اس میں جن اسلامی موضوعات پر مضامین ہیں وہ بھی عام نوعیت کے نہیں مثلاً: ’اسلام کا تصورِ عفت و حیا‘ ’وسطِ ایشیا میں اسلامی فتوحات اور دِینی علوم کی شروعات‘ ’ عہدِ رسالت کی سفارت کاری’ بابری مسجد کا تاریخی پس منظر جیسے مضامین مجلے کے وقار کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ ادب کے باب میں بھی جو موضوعات ہیں وہ بھی عمومی نہیں ، چند عنوانات یوں ہیں:غا لبِ خستہ کے بغیر، ترقی پسند تحریک کا المیہ، دیوان ِ غالب کا پہلا مطلع، میرا جی اُردو ادب کا فرائڈ اور تقسیم ہند اور اُردو افسانہ وغیرہ اور ایک عالمی مسئلہ ” دہشت گردی“ پر تو اس میں جو مضامین ہیں وہ وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اس سلگتے ہوئے موضوع پر ہمیں اپنی نئی نسل کے خیالات سے آگاہی کے ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ نسل اس مسئلے پر کس درجہ سنجیدہ ہے۔ اسی مجلے میں ’ امن عالم اور ہمار ا دین‘ جیسے موضوع پر مضمون میں ایک شعردرج ہے : جسے یہاں بغیر کسی تبصرہ نقل کیا جاتا ہے:
 محبت گولیوںسے بو رہے ہیں٪وطن کا چہرہ خوںے دُھو رہے ہیں
 گورنمنٹ ڈگری کالج (افضل پور۔ میر پور۔ پاکستان) کے مجلد چار سو صفحات کے اس مجلے ”سیماب“ کے مدیر اور مشہور ادیب ِ شہیر پروفیسر غازی علم الدین ہیں جو اپنی ایک تصنیف ”لسانی مطالعے“ کے حوالے سے ہندوستان میں بھی معروف ہیں کہ مذکورہ کتاب کا ہندوستانی ایڈیشن بھی شائع ہو چکا ہے۔
 مجلہ ” سیماب“ اپنی صورت سے لے کر مشمولات تک ایک عمدہ پیشکش ہے۔ پروفیسر غازی علم الدین کا لکھا ہوا سیف اللہ خالد پر خاکہ خوب نہیں بلکہ خاکہ نگاری کا دِلچسپ نمونہ ہے۔ اس صفحے کے سر نامے پر جو اشعار درج ہیں وہ بھی اسی مجلے سے مستعار ہیں۔٭
٭ندیم صدیقی
 ایوان غزل
مضمحل سا ہے ،کچھ نڈھال سا ہے
دل رہین غم و ملال سا ہے
وہ جو گٹھری میں اس کی مال سا ہے
کچھ حرام اور کچھ حلال سا ہے
جانتا ہوں کہ اس کا ہر وعدہ
سر بسر اک سیاسی چال سا ہے
ہر بلندی ہے اپنی اِک پستی
ہر عروج اپنا اِک زوال سا ہے
لگ رہا ہے ہمارا مستقبل
عین ماضی سا عین حال سا ہے
ہر گھڑی جس سے لاجواب ہوں مَیں
سامنے میرے اِک سوال سا ہے
اس کی میں کیا مثال پیش کروں
وہ جو سَر تا پا اِک مثال سا ہے
ان دنوں ہم جسے گزارتے ہیں
وہ ہر اِک لمحہ اک کمال سا ہے
آتش زیر پا جو رکھتا ہے
سَر میں کیا ہے جو اشتعال سا ہے 
کس لئے ہے یہ بدگمانی سی
کیوں ہے شیشے میں یہ جوبال سا ہے
کھودتا ہے جو لحد مستقبل
لمحہ ¿ حال اک کدال سا ہے
روکنے کےلئے غنیم کے وار
میرا ہر شعر ایک ڈھال سا ہے
یہ جو داد و دہش ہے اے راہی
شاعری کا مِری مآل سا ہے
 ٭ڈاکٹرمحبوب راہی(بارسی ٹاکلی)
 رابطہ:09421751064
گو میسر تو نہ تھا راہ گزر جیسا کچھ 
پھر بھی طے کر ہی لیاہم نے سفر جیسا کچھ
آسماں کے کبھی اُس پار بھی دیکھا جائے 
کیا اُدھر بھی نظر آتا ہے اِدھر جیسا کچھ
دسترس میں کوئی تِنکا بھی نہیں ہے اپنی
اور پاو ¿ں سے بھی لپٹا ہے بھنور جیسا کچھ
جن مکانوں کو بنا لیتے ہیں کچھ لوگ محل
ان مکانوں میں کہاں ہوتا ہے گھر جیسا کچھ
 آسماں دور سے آواز ہی دیتے رہ گئے
ڈھونڈتے رہ گئے ہم شانوں پَہ پر جیسا کچھ
اشتہاروں کی طرح چھپتے ہیں اخباروں میں
حادثوں میں بھی نہیں اب تو خبر جیسا کچھ
دُشمنی پہلے بھی ہوتی تھی مگر ایسی نہیں
اب کی دیواروں میں ملتا نہیں در جیسا کچھ
 ٭راجیش ریڈی(ممبئی)
 رابطہ: 09821547423 
جواب کوئی تو دے گا کوئی سوال اُٹھا 
بہت خسارے میں ہے آدمی، سوال اٹھا 
خفا ہوئے تھے کئی لوگ جس سوال پَہ کل 
سجی ہے آج بھی محفل وہی سوال اٹھا 
امیر ِشہر کی محفل جہاں کہیں بھی ہو 
غریبِ شہر کے حق میں کوئی سوال اٹھا 
ہمارے عہد میں کیوں جہل کا ہے رُتبہ بلند 
شکست کھائی ہوئی آگہی سوال اٹھا 
نئے سِرے سے یہ دُنیا بدل رہی ہے تو پھر 
نئے سِرے سے اُٹھا اور کئی سوال اٹھا
٭سید ریاض رحیم(ممبئی) 
 رابطہ: 09930632838
NadeemSiddiqui
ltir page-13-Dec-15 copy.jpg
ltir page-13-Dec-15.pdf

Dr Ghazi

unread,
Dec 14, 2015, 3:40:58 PM12/14/15
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی
السلام علیکم
اتوار۱۳ڈسمبر ۲۰۱۵ ئ
یہ ئ کیا ہے جناب ذرا سمجھا دیں
عیسوی تو ۲۰۱۵ ء لکھا جاتا ہے
معذرت خواہ
Dr Ozair Ghazi
--
<ltir page-13-Dec-15 copy.jpg>
<ltir page-13-Dec-15.pdf>

Mukarram Niyaz

unread,
Dec 15, 2015, 5:37:23 AM12/15/15
to bazmeqalam
ڈاکٹر غازی صاحب
یہ دراصل ان-پیج سے یونیکوڈ تبدیلی کا سقم ہے۔
ان-پیج میں جو حرف "ء" ہے وہ یونیکوڈ تبدیلی کے بعد "ئ" بن جاتا ہے۔ ویسے بھی کی-بورڈ میں یہ دونوں حروف ایک ہی key سے وابستہ ہیں۔ یعنی u اور U ۔
--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Dr Ghazi

unread,
Dec 15, 2015, 9:38:55 AM12/15/15
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی
السلام علیکم
عنایت نامہ کا شکریہ 
گستاخی کے لئے معذرت خواہ ہوں
عزیر غازی
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages