والد مرحوم کی یاد میں

494 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Sep 20, 2011, 9:41:32 AM9/20/11
to 5BAZMeQALAM, Moinuddin Aqeel, arif.waqar, anwer....@bbc.co.uk, Tasleem Elahi Zulfi, najma usman, asma anjum
والد مرحوم کی یاد میں-راقم کی ایک تحریر
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے


۹ مارچ ۲۰۰۳ کی ایک صبح میرے سر سے میرے والد صاحب کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ گیا۔ کچھ عرصہ قبل وہ ڈاکٹر سلیمان ،جو میرے عزیز ترین دوست ہونے کے ساتھ ساتھ میرے پڑوسی بھی تھے، کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے ۔ سلیمان اور ان کے بھائی سر جھکائے اداس بیٹھے تھے اور میرے والد ان کو تسلی دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔’’ جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں گھر سے دور تھا اور مجھے وہ خبر سنتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ یک دم کوئی سایہ میرے سر کے اوپر سے ہٹ گیا ہے، وہ احساس اس قدر قوی تھا کہ بے اختیار میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا کہ کیا واقعی ایسا ہے۔‘‘

کون جانتا تھا کہ ایک دن مجھے بھی اسی کیفیت سے گزرنا پڑے گا۔

۹ مارچ ۲۰۰۳ کی صبح ان کو دل کا شدید دورہ پڑا ۔ وہ ایک عام سی صبح تھی۔ لوگ اکثر اپنے کسی قریبی عزیز کے انتقال کا احوال لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک منحوس دن تھا۔ اس میں ُاس دن کے منحوس ہونے کا کیا سوال ؟ شاید اسی روز ہمارے آس پاس کسی گھر میں شادیانے بج رہے ہوں اور وہ دن اہل خانہ کے لیے مسرت و شادمانی کا پیام لے کر آیا ہو۔ میرے والد کو نیشنلبینک سے ریٹائر ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھاجہاں وہ ایک سخت گیر اور انتہائی ایماندار آفیسر کی حیثیت سے بے داغ شہرت رکھتے تھے۔ وہ بالکل صحت مند تھے ، شوگر کا مریض ہونے کے باوجود وہ اپنا خیال رکھتے تھے۔وقت پر سونا اور سحر خیزی کی عادت ان کی روش تھی۔ پیدل چلنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس صبح شوگر کے مرض کی وجہ سے ان کو دل کے دورے کی جان لیوا تکلیف باکل محسوس نہ ہوئی اورانہوں نے ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیر کردی۔ سامنے رہائش پذیر میرا دوست ڈاکٹرسلیمان اس بات پردیر تک روتا رہا کہ کسی نے اس کو کیوں نہیں بتایا کہ میں تو ڈاکٹر ہوں، دیکھتے ہی سمجھ جاتا کہ کیا معاملہ ہے۔ لیکن صاحبو! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔

میں اپنے والد کی اکلوتی اولاد ہوں ۔ دل ہی دل میں وہ اور میں، دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے  لیکن  ان کے اور میرے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہا۔ شاید لوگ اس کو ’جنریش گیپ‘ کہتے ہیں۔ ہم دونوں کے بیچ زیادہ تر مراسلت والدہ کے ذریعے ہوتی تھی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ان کے اپنے والد کے ساتھ بے انتہا دوستانہ مراسم ہیں لیکن میں کبھی ایسا دعوی نہ کرسکا۔

۹ مارچ ۲۰۰۳ کی صبح وہ میری والدہ کے اصرار کے باوجود یہی کہتے رہے کہ ۱۱ بجے جب ڈاکٹر آئے گا تو اس کو دکھا لیں گے۔ ۱۱ بجے ڈاکٹر تو آیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اسپتال میں جب ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کررہے تھے تو اس دوران وہ میری والدہ کو مختلف دوائیاں لانے کو کہتے جاتے تھے اور وہ بھاگ بھاگ کر میڈیکل اسٹور جاتی تھیں اور واپسی پر والد صاحب کے سرہانے کھڑی ہوجاتی تھیں اور پھر ڈاکٹر کسی اور دوائی کا مطالبہ کر دیتے تھے۔

میں ان دنوں بسلسلہ ملازمت مظفر گڑھ ، جنوبی پنجاب میں مقیم تھا۔ اس جانکاہ سانحے کی اطلاع ملنے پر کسی طرح رات بھر ٹرین کا سفر کرکے گھر پہنچا، کبھی نہ بھول پاؤں گا۔ یہ وہ سانحہ تھا کہ جس کے بعد میرے لیے مزید کسی اندوہناک سانحے کا تصور باقی نہیں رہ جاتا۔ جیسا پہلے لکھ چکا ہوں کہ صحت کے اعتبار سے میرے والد باکل ٹھیک تھے اور کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ وہ یک دم یوں اس طرح سے چلے جائیں گے۔ آج مجھے یاد آتا ہے کہ میں ان کے انتقال سے ایک ماہ پیشتر چھٹی پر گھر آیاتھا ۔واپسی پر وہ مجھے ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آئے تھے جو ایک خلاف توقع بات تھی اس لیے ہمیشہ مجھے میرا دوست ڈاکٹر سلیمان ہی چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔اس دن ساری باتیں خلاف توقع ہی ہوئیں ۔ ٹرین کی روانگی میں کچھ تاخیر تھی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر چلے جائیں کہ نہ جانے مزید کتنی دیر لگے۔ وہ مجھ سے رخصت ہو کر چلے گئے اور میں ٹرین کے ڈبے کے دروازے پر کھڑا ان کو جاتا دیکھتا رہا ۔ ہلکے سبز رنگ کے سفاری سوٹ میں ملبوس وہ سر ایک طرف جھکائے آہستگی کے ساتھ چلے جارہے تھے ۔ میں ان کو اس وقت دیکھتا رہا جب وہ ایک موڑ مڑ کر ریلوے اسٹیشن کے مرکزی دروازے سے باہر نہ نکل گئے۔

پھر کبھی مجھے ان کو دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔

باوجود دوستانہ مراسم نہ ہونے کے، وہ مجھے قدم قدم پر یاد آتے ہیں۔اس بے رحم معاشرے میں جہاں انسانی قدریں بری طرح انحطاط پذیر ہیں، زندگی بسر کرنا کس قدر مشکل کام ہے اور سر پر والد کا سایہ نہ ہونا کتنا بڑا المیہ ہے، اس بات کا احساس مجھے ان کے جانے کے بعد ہوا۔ مجھے وہ بزرگ اور ان کی کہی ہوئی بات کبھی نہیں بھولے گی کہ والد کی حیثیت گھر کے ’’مین گیٹ ‘‘ کی طرح ہوتی ہے۔ مین گیٹ کو ہٹا دیجئے، پھر دیکھئے کہ کس طرح ہر بلا، ہر آفت، ہر مصیبت اندر در آتی ہے۔

انہوں نے تمام عمر کبھی مجھے کوئی نصیحت نہیں کی۔ ہاں خاص موقعوں پر ان کی کہی ہوئی گراں قدر باتیں ہمیشہ میرے پیش نظر رہتیں ہیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب ایک قریبی عزیز قرضے کے جال میں جکڑے، پریشان حال ان سے مشورے کے طلبگار ہوئے تو ان عزیز کے جانے کے بعد انہوں نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ یاد رکھو زندگی میں کبھی تین کام نہ کرنا ۔ کبھی کسی سے بالخصوص بینک سے قرضہ نہ لینا اور کریڈٹ کارڈ مت استعمال کرنا (کریڈٹ کارڈ ان دنوں نیا نیا متعارف ہوا تھا )، کسی کی ضمانت مت دینا اور کبھی کوئی کاغذ پڑھے بغیر دستخط مت کرنا۔ ۔۔۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میں نے انہی تین باتوں کا خیال نہ رکھنے کی بنا پر
احباب کو مصیبتوں میں اس بری طرح گرفتار ہوتے دیکھا ہے کہ گلو خلاصی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔

مجھے یاد ہے جس دن بحیثیت انجینئر مجھے ایک اچھی جگہ سے ملازمت کی پیشکش کا خط آیاجس کا امکان کم کم ہی تھا کہ کوئی سفارش نہ تھی۔ وہ اس روز دفتر سے گھر آئے اور والدہ نے وہ خط ان کو دکھایا۔ وہ اسے دیکھ کر اور اس درج سہولتوں کو پڑھ کر اس قدر خوش ہوئے کہ بے اختیار انہوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔ آج بھی مجھے ان کی وہ بے پایاں مسرت اور ان کا مصافحہ یاد ہے۔ان کی مسرت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی بھی قسم کی سفارش کے سخت خلاف تھے اور مجھے وہ ملازمت بنا کسی سفارش کے ملی تھی۔ ایک مرتبہ کسی بڑے کاروباری شخص نے ان کو میری ملازمت کے سلسلے میں مدد کی پیشکش کی اور ساتھ میں اپنے کسی ایسے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کی مدد طلب کی جسے پورا کرنا ان جیسے ایماندار شخص کے لیے ناممکن تھا لہذا وہ ان دنوں کچھ مایوسی کا شکار ہوگئے تھے اور ایسے میں میری ملازمت کی خبر ان کے لیے بے پایاں مسرت کا باعث بنی تھی۔

سن ۱۹۸۸ سے ۱۹۹۰ تک وہ سکھر میں تعینات رہے۔ اپنے تین سالہ قیام کے دوران ایک بار جب وہ گھر آئے تو ان کے ہمراہ کچھ تحائف دیکھ ہم سب حیران ہوئے کہ وہ اس چیز کے بالکل قائل نہ تھے بلکہ تحائف لانے والوں سے قدرے سختی سے پیش آیا کرتے تھے . . . .  وہ ہمیں حیران دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ یہ تحفے ایک ایسے ہندو بنیے کی طرف سے دیے گئے ہیں جو اپنی ایمانداری کی وجہ سے مشہور تھا ۔ بینک سے قرضہ لے کر بالعموم وقت سے پہلے واپس کردینا اس کی وجہ شہرت تھی۔ ’’ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس کی کھانے کی دعوت کو رد نہ کیا، اس کے گھر گیا اور یہ تحائف بھی قبول کیے اس لیے کہ وہ ہم مسلمانوں سے زیادہ مسملمان ہے۔‘‘ ۔۔ اس سے قبل ہم ان کو گھر آئے ہوئے تحفے واپس کرتے بارہا دیکھ چکے تھے۔ کوئی تین برس پہلے میرے دفتر کے ساتھی سیلم اختر مرحوم (جن پر میں نے مضمون ’ایک مہربان کی یاد میں‘ تحریر کیا تھا ) نے مجھے بتایا کہ ان کے محلے میں ایک صاحب نیشنل بینک سکھر سے طویل ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ ہوکر قیام پذیر ہوئے ہیں ، ان سے میں نے آپ (راقم) کے والد کا ذکر کیا تو وہ ایک دم سے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ آپ ان کو کیسے جانتے ہیں، وہ تو ہمارے صاحب تھے اور پھر دیر گئے وہ میرے والد کی تعریفیں کرتے رہے۔

وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ترقی کی اس مقام پر پہنچے تھے کہ جس کی خواہش کرتے کرتے ان کے بیشتر ساتھی ریٹائر ہوگئے تھے۔ ان کو ٹائی باندھنے کا بہت شوق تھا اور بلامبالغہ ان کے پاس سینکڑوں خوش رنگ ٹائیں تھیں۔ ایک بار وہ ہماری والدہ کو بتا رہے تھے کہ بچپن کے اس شوق کی تکمیل میں ایک بار وہ اپنی والدہ کا دوپٹہ گلے میں الٹا سیدھا باندھ کر آئینے کے سامنے دیر تک کھڑے رہے اور مختلف زاوئیوں سے خود کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے تھے۔ ان کی ریٹائر منٹ کے بعد جب ایک بار میں چھٹی پر گھر آیا تو آتے کے ساتھ ہی گھر میں پانی کا فلٹر لگوادیا۔ ان کے انتقال کے بعد مجھے والدہ نے بتایا کہ اس بات پر وہ بہت خوش تھے اور آنے جانے والوں کو اس بارے میں خوش ہوکر بتایا کرتے کہ یہ میرے بیٹے نے لگوایا ہے۔ آج میں یہ سوچ کر دل گرفتہ ہوجاتا ہوں کہ کاش میں اس طرح کی کئی خوشیاں ان کو دے پاتا۔

آج مجھے نہ جانے کیوں تاجر اقبال یاد آرہے ہیں جو نوے کی دہائی میں روزنامہ جنگ میں کالم لکھا کرتے تھے ۔ اپنے ایک آخری آخری کالم میں انہوں نے لکھا:

’’ میرے والد ضعیف تھے، چند برس پیشتر ایک دن ایسا ہوا کہ انہوں نے مجھے (تاجر اقبال) کو کسی بات پر کوئی نصیحت کی اور میں نے درشتگی سے ان کو جواب دیا۔ اس بات کے فورا۔ ہی بعد میں ملک سے باہر چلا گیا جہاں ایک روز مجھے بیٹھے بیٹھے اپنے رویے پر ملال ہوا اور میں نے طے کیا کہ گھر واپس پہنچتے ہی میں اپنے والد سے معافی مانگوں گا۔ لیکن جب میں گھر پہنچا تو یہ روح فرسا خبر ملی کہ میری غیر موجودگی میں میرے والد اچانک انتقال کرگئے ۔‘‘ ۔۔۔

مذکورہ کالم تحریر کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد تاجر اقبال صاحب کو کسی نے قتل کرکے لاش پانی کے ٹینک میں ڈال دی اور آج تک اس قتل کا سراغ نہ مل سکا۔

آج مجھے رہ رہ کر اپنے ایک کرم فرما کا سنایا ہوا واقعہ بھی یاد آرہا ہے کہ  ایک بار وہ گھر کے آنگن میں تیز دھوپ میں گھاس اور دیگر پودے درست کررہے تھے اور ان کے ضعیف والد بار بار ان کو ایسا کرنے سے روک رہے تھے کہ ان کو ڈر تھا کہ ان کا بیٹا دھوپ تیز میں بیمار نہ پڑ جائے۔ ان کے والد کے چہرے پر کرب تھا اور بیٹے کے بقول مجھے اس وقت ان کے کرب کا احساس نہیں تھا۔ اس بات کے بہت برسوں بعد جب ان کے والد دنیا میں نہ رہے اور عجب اتفاق دیکھئے کہ ہمارے ان مربی کا اپنا بیٹا اسی گھر کے اسی آنگن میں تیز دھوپ میں اسی جیسا کوئی کام کرہا تھا تب باپ کی سمجھ میں اس کے اپنے باپ کا وہ کرب آیا جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کران کے چہرے پر نمایاں ہوچلا تھا:

وقت جب مکمل کرتا ہے دائرہ اپنا
وہ لمحہ جو پرانا ہے، نیا ہوتا ہے

میں پڑھنے والوں سے التجا کروں گا کہ اگر خدانخواستہ آپ میں سے کسی کے والد آپ سے کسی چھوٹی سی بات سے بھی ناراض ہیں اور اگر آپ جانے انجانے میں ان کی دل آزاری کا سبب بن بیٹھے ہیں تو بلاتاخیر اس کا ازالہ کرلیجئے کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا ور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تاخیر عمر بھر کا پچھتاوا بن جائے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے مذہب نے والدین اور بالخصوص والد کے رتبے کے بارے میں کیا تلقین کی ہے۔ ہمارے نبی کریم نے فرمایا کہ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک ہی نہیں: مظلوم کی بددعا، مسافر کی دعا اور والد کی دعا اولاد کے حق میں۔ اسی طرح ذرا دیکھے تو کہ ایک اور موقع پر نبی کریم نے ایک شخص کے ہمراہ اس کے ضعیف والد کو دیکھا تو کیا نصیحت فرمائی: ’’ان سے آگے نہ چلا کرو، ان سے پہلے نہ بیٹھا کرو، انہیں نام لے کر نہ بلایا کرو اور انہیں لعن طعن نہ کیا کرو۔‘‘ ۔۔۔

میرے والد کا نام سلیم اشرف تھا اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت نیشنل بینک آف پاکستان ،کراچی کے کلفٹن میں واقع ریجنل ہیڈکوارٹرز میں سینئر وائس پریذیڈنٹ کے عہدے پر تعینات تھے۔

mahmoo...@gmail.com

unread,
Sep 20, 2011, 11:20:21 AM9/20/11
to bazme...@googlegroups.com
Buhat gehra tassur dil sey nikli huee bat dil mein utertee hai
Ap eik azeem dianetdar shaks key sahibzadey hain is leay ap mein bhee tehzeeb sans letee dikhaee deitee Hai.

Sent from my BlackBerry® smartphone from ZonG


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
Date: Tue, 20 Sep 2011 18:41:32 +0500
To: 5BAZMeQALAM<bazme...@googlegroups.com>
Cc: Moinuddin Aqeel<moinudd...@gmail.com>; arif.waqar<arif....@gmail.com>; <anwer....@bbc.co.uk>; Tasleem Elahi Zulfi<zu...@rogers.com>; najma usman<naju...@yahoo.co.uk>; asma anjum<asmaa...@gmail.com>
Subject: {5976} والد مرحوم کی یاد میں
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

syed maeraj jami

unread,
Sep 20, 2011, 1:47:10 PM9/20/11
to bazme...@googlegroups.com
راشد تم نے اپنے والد کا تذکرہ کر کے ہمیں بھی آبدیدہ کر دیا تم نے بہت اچھا کیا کہ یہ مضمون لکھ دیا اس طرح کئی باتوں کی راہ نکل آئی تمہارے مضمون کا آخری سے پہلا پیرا اپنے دوستوں کے لیے کہ جن کے والد حیات ہیں اس مضمون کو پڑھنے کے بعد دل میں تہیہ کر لیں کہ ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں گے والدین تو ہر صورت میں رب کی بڑی نعمت ہیں اگر کوئی کہتا ہے کہ میں اللہ کو دیکھنا چاہتا ہوں میں اس سے کہتا ہوں کہ اپنی ماں کو دیکھو وہ اللہ کا روپ ہے اور اگر کوئی کہتا ہے کہ اللہ کس طرح اور کتنا ہمارا خیال رکھتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں کہ اپنے والد کو دیکھو تمام انسانی رشتوں میں صرف باپ ہے جو اپنی اولاد کو اپنے سے بہت بڑا دیکھنا چاہتی ہے اور صرف ماں ہے جو اپنے ناخلف اولاد کے لیے رب کے آگے دامن پسارے اس کی زندگی خوش حالی اور ترقی کے لیے دعا کرتی ہے
تمہارے والد کو اللہ تعالی کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے تم سے پہلی ملاقات ہی میں مجھے ایسا لگا کہ میں کسی بہت ہی سلجھے ہوئے اور اعلی انسانی اقدار کے حامل شخص سے مل رہا ہوں یہ سب تمہارے والد کی تعلیم اور تمہاری والدہ کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ تم کامیابی اور کامرانی کی منزل پہ منزل طے کر رہے ہو اللہ تمہیں اسے سے زیادہ ترقیاں اورکامرانیان نصیب فرمائے گا اپنے والد کا تذکرہ تم نے دل سے لکھا ہے اگر ہو سکے تو اس میں ان کے والدین کے بارے میں ان کی تعلیم اور اپنے گھر کے حوالے سے مزید اضافہ کر کے اسے ایک خاکہ کی شکل دے دو تو یہ ایک سدا بہار اور سبق آموز تحریر بن جائے گی  
جامی


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>

Cc: Moinuddin Aqeel <moinudd...@gmail.com>; arif.waqar <arif....@gmail.com>; anwer....@bbc.co.uk; Tasleem Elahi Zulfi <zu...@rogers.com>; najma usman <naju...@yahoo.co.uk>; asma anjum <asmaa...@gmail.com>
Sent: Tuesday, 20 September 2011, 18:41

Subject: {5976} والد مرحوم کی یاد میں

Amir Khan

unread,
Sep 20, 2011, 12:04:52 PM9/20/11
to bazme...@googlegroups.com

 راشد صاحب  ۔۔۔ آپ کیا کرتے ہیں ۔۔۔ ُرلا دیتے ہیں۔
اللہ تعالی آپ کے والد صاحب کی مغفرت فرمائے اور
انھیں جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے۔
آپ کے جذبات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔  اس لیے کہ راقم
باپ کے دست شفقت  سے ہی نہیں بل کہ ماں کی بے ریا، بے لوث اور پرخلوص
دعائوں، محبتوں اور شفقتوں سے بھی محروم ہو چکا ہے۔
خیر اندیش
عامر 
 

From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: Moinuddin Aqeel <moinudd...@gmail.com>; arif.waqar <arif....@gmail.com>; anwer....@bbc.co.uk; Tasleem Elahi Zulfi <zu...@rogers.com>; najma usman <naju...@yahoo.co.uk>; asma anjum <asmaa...@gmail.com>
Sent: Tuesday, September 20, 2011 10:41 PM
Subject: {5976} والد مرحوم کی یاد میں

Zubair Shaikh

unread,
Sep 20, 2011, 4:33:39 PM9/20/11
to bazme...@googlegroups.com
جناب راشد اشرف صاحب
اللہ تعالی آپکے والد محترم کو جنت الفردوس عطا کرے اور آپکو جزائے خیر دے انکی یاد میں یہ نصیحت آمیز تحریر رقم کرنے پر۔انشاءاللہ  آپکی اس نیکی کا اجر آپکے والد کے مقامات کو اور بلند کرنے کا باعث ہوگا۔ میں ابھی ابھی اپنے والدین سے ملکر انکی دعائیں لےکر آرہا ہوں۔ ویسے تو تقریبًا ہر روز ملتا ہوں لیکن آپکی تحریر پڑھنے کے بعد عجب روحانی مسرت کا احساس ہے۔
اکثر سنا ہے کہ پھل کو چکھ کر درخت کی خاصیت کا پتہ چل جاتا ہے۔ آپکی تحریر سے ثابت بھی ہوگیا۔
 آپکے لیے اور سبکے لیے بہت ساری دعائیں۔
خاکسار
زبیر

sultan khawaja

unread,
Sep 20, 2011, 6:07:36 PM9/20/11
to bazme...@googlegroups.com
Rashid Ashraf Sb aap ke walid ke rehlat kerjaney ki etela internet ke zariye mili.... main es dukh aur sadmey sey waqif hooN.... AllaH aap ko sabr dey..... jitni dua ho sakti wo karain... dua sey aap ko bhi taskeen hogi aur marhoom ki roh ko bhi sawab pohanche ga.
shareek-e-gham
sultan
 
 
 
 1212-2 Hanover Road
Brampton Ontario Canada
L6S4H9


--- On Tue, 9/20/11, Zubair Shaikh <zubair....@yahoo.com> wrote:

Mahfooz Ahmad

unread,
Sep 21, 2011, 2:05:00 AM9/21/11
to bazme...@googlegroups.com
allah tala marhoom ki bal bal maghfirat farmae. ameen




--
Best Regards

Mahfooz Ahmad,

All Crane,
Riyadh, KSA
Tel. +966 465 6628
Fax: +966 1 461 7477
Mob.: +966 543 591 645,
Email: smahfo...@gmail.com
CC     : smahfo...@yahoo.co.in


Yousuf Reaz

unread,
Sep 21, 2011, 3:55:22 AM9/21/11
to bazme...@googlegroups.com

ہمارے پاس دعائے مغفرت کے سوا رکھا کیا ہے انھوں نے تو اپنی راہ لی اللہ آپ کو برداشت کی ہمت دے اور مرحوم کے لیے ثواباً جاریہ بننے کی توفیق سے نوازے اور ہم سبھوں کو ہدایت کی دولت سے نوازیں کے منزل تک صحیح سالم پہنچ سکیں۔آمین 

Date: Tue, 20 Sep 2011 15:07:36 -0700
From: sultanja...@yahoo.com
Subject: Re: {5990} والد مرحوم کی یاد میں

Rashid Ashraf

unread,
Sep 21, 2011, 9:17:11 AM9/21/11
to bazme...@googlegroups.com, asma anjum

جناب محمود شام صاحب، جناب معراج جامی صاحب، جناب عامر خان صاحب، جناب زبیر شیخ صاحب، جناب سلطان خواجہ صاحب، جناب محفوظ احمد صاحب، جناب یوسف ریاض صاحب، محترمہ اسماء صاحبہ
 
آپ سب کا بیحد شکرگزار ہوں، دعائوں کے لیے، نیک خواہشات کے لیے

اسماء صاحبہ!
آپ کا پیغام آیا اور اداس کرگیا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کی والدہ محترمہ کو جنت میں بہت اچھا مقام عطاء فرمائے

زبیر شیخ صاحب!

اتفاق یہ ہے کہ ایک خاتون نے اس مضمون کو پڑھا اور جیسا کہ آپ نے بیان کیا کہ آپ اپنے والدین سے مل کر آئے، وہ بھی اسے پڑھنے کے بعد اس شام دفتر سے سیدھی اپنی والدہ کے پاس دعائیں سمیٹنے گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہوگی

ایمانداری کا جو سبق گھر سے ملتا ہے وہ بھی گویا ایک نعمت سے کم نہیں، خصوصا آج کے دور میں جب ذرا سا انسان غافل ہوا اور ادھر دھوکہ دینے والوں کے نرغے میں آیا!

پاکستان سے تعلق رکھنے والے کرکٹ ایمپائر علیم ڈار کو مسلسل تیسری مرتبہ دنیا کے پہترین ایمپائر ہونے کا اعزاز ملا ہے، یہ بہت بڑی بات ہے، ان کا انٹرویو پڑھ رہا تھا، کہہ رہے تھے کہ " میرے والد پولیس میں تھے لیکن گھر میں رشوت کا ایک پیسہ نہیں آتا تھا، رزق حلال پر سب بچوں کی تربیت ہوئی اور یہی سبق گھر سے ملا"

علیم ڈار پانچوں وقت کے نمازی، بیوی ایسی معاملہ فہم اور ایثار کرنے والی کہ ایک مرتبہ پاکستان سے باہر ایمپائرنگ میں مصروف تھے، گھر سے چلتے وقت چھوٹی بچی کی طبیعت خراب تھی، جب بھی گھر فون کرکے بچی کی خیرت پوچھتے تو بیوی ہنس کر بات کرتی اور کہتی کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہے، ایک ماہ بعد گھر واپس لوٹے تو معلوم ہوا کہ بچی تو ان کی روانگی کے تیسرے ہی روز انتقال کرگئی تھی

خیر اندیش
راشد

2011/9/21 sultan khawaja <sultanja...@yahoo.com>

TARIQ KHAN

unread,
Sep 21, 2011, 12:02:38 PM9/21/11
to bazme...@googlegroups.com
Salees, Pur Assar, A'alla  tareen  Tahreer.  Kaash  maien  yeh  asloob  apna  sakta. Kiya  karoun  Baybus  houn.  Malihabadi  Sulaiman  Khail  Pathan  Houn........Tariq Khan.
 

Subject: Re: {5979} والد مرحوم کی یاد میں
To: bazme...@googlegroups.com
From: mahmoo...@gmail.com
Date: Tue, 20 Sep 2011 15:20:21 +0000

Bakhtiar Ahmad Sheikh

unread,
Sep 21, 2011, 10:54:56 AM9/21/11
to bazme...@googlegroups.com
Read your appreciation of Umpire Aleem Dar. He deserves it.
 

Date: Wed, 21 Sep 2011 18:17:11 +0500
Subject: Re: {5996} والد مرحوم کی یاد میں
From: zest...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
CC: asmaa...@gmail.com

Rashid Ashraf

unread,
Sep 21, 2011, 1:10:04 PM9/21/11
to 5BAZMeQALAM, tariqkh...@hotmail.com

جناب طارق خان صاحب

جناب والا، آپ کی محبت ہے کہ اس قدر حوصلہ افزا تبصرہ کردیا کہ شرمندہ  ہورہا ہوں
بزم قلم پر ایک شوقیہ لکھنے والا آپ کا ممنون ہے

ملیح آباد کا تذکرہ تو جوش ملیح آبادی کی خودنوشت یادوں کی برات کے بارہا مطالعے سے دل پر نقش ہوگیا ہے

ملیح آباد اور اس کے باشندے سلامت رہیں

راشد  

2011/9/21 TARIQ KHAN <tariqkh...@hotmail.com>

Azra Naqvi

unread,
Sep 22, 2011, 12:10:02 AM9/22/11
to Ejaz zaka
راشد صاحب
آداب
آپ کی تحریر آپ کے والد کے بارے میں بہت ہی پیاری ہے۔ دل سے نکلی ہویی۔ کہیں کہیں مجھے اپنے والد کی تصویر بھی نظر آیی۔ ایمان دار، اور بامقصد زندگی گذار کر اس دنیا سے جانے والے اب بہت کم رہ گیے ہیں۔ہم لوگ خوش قسمت ہیں کہ ایسے گھرانے میں پیدا ہوءے۔ والدین اس دنیا میں نہ بھی ہوں لیکن قدم قدم پر ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا کردار، ان کی کہی باتیں،۔ساءے کی طرح ہمارے ساتھ چلتی رہتی ہین۔
عذرا نقوی

Date: Wed, 21 Sep 2011 22:10:04 +0500
Subject: Re: {6006} والد مرحوم کی یاد میں
From: zest...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
CC: tariqkh...@hotmail.com

ahmad ali

unread,
Sep 22, 2011, 12:20:08 AM9/22/11
to bazme...@googlegroups.com
راشد اشرف کی بات رکھئے یاد
درسِ عبرت ھے اُن کا یہ مضمون
مخلص
احمد علی برقی اعظمی

2011/9/21 Azra Naqvi <shama...@hotmail.com>

Nasir Nakagawa

unread,
Sep 22, 2011, 8:52:39 AM9/22/11
to bazme...@googlegroups.com, RASHID IBNE SAFI110627
Rashid bhai salam arz hay
aapney apney walid -e-mohtaram ko jiss andaaz sey khiraj-e-aqeedat pesh kiya wo laaiq-e-tehseen hay...
Allaha tala aapkey walid saheb ko Jannatul Firdous mein ala maqaam ataa farmaey..Ameen
mukhlis
Nasir Nakagawa
 
From: Bakhtiar Ahmad Sheikh <bakhtia...@hotmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, September 21, 2011 11:54 PM
Subject: RE: {6000} والد مرحوم کی یاد میں
Read your appreciation of Umpire Aleem Dar. He deserves it.  
Date: Wed, 21 Sep 2011 18:17:11 +0500Subject: Re: {5996} والد مرحوم کی یاد میںFrom: zest...@gmail.comTo: bazme...@googlegroups.comCC: asmaa...@gmail.com
جناب محمود شام صاحب، جناب معراج جامی صاحب، جناب عامر خان صاحب، جناب زبیر شیخ صاحب، جناب سلطان خواجہ صاحب، جناب محفوظ احمد صاحب، جناب یوسف ریاض صاحب، محترمہ اسماء صاحبہ  آپ سب کا بیحد شکرگزار ہوں، دعائوں کے لیے، نیک خواہشات کے لیے اسماء صاحبہ!آپ کا پیغام آیا اور اداس کرگیا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کی والدہ محترمہ کو جنت میں بہت اچھا مقام عطاء فرمائے زبیر شیخ صاحب! اتفاق یہ ہے کہ ایک خاتون نے اس مضمون کو پڑھا اور جیسا کہ آپ نے بیان کیا کہ آپ اپنے والدین سے مل کر آئے، وہ بھی اسے پڑھنے کے بعد اس شام دفتر سے سیدھی اپنی والدہ کے پاس دعائیں سمیٹنے گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہوگی ایمانداری کا جو سبق گھر سے ملتا ہے وہ بھی گویا ایک نعمت سے کم نہیں، خصوصا آج کے دور میں جب ذرا سا انسان غافل ہوا اور ادھر دھوکہ دینے والوں کے نرغے میں آیا! پاکستان سے تعلق رکھنے والے کرکٹ ایمپائر علیم ڈار کو مسلسل تیسری مرتبہ دنیا کے پہترین ایمپائر ہونے کا اعزاز ملا ہے، یہ بہت بڑی بات ہے، ان کا انٹرویو پڑھ رہا تھا، کہہ رہے تھے کہ " میرے والد پولیس میں تھے لیکن گھر میں رشوت کا ایک پیسہ نہیں آتا تھا، رزق حلال پر سب بچوں کی تربیت ہوئی اور یہی سبق گھر سے ملا" علیم ڈار پانچوں وقت کے نمازی، بیوی ایسی معاملہ فہم اور ایثار کرنے والی کہ ایک مرتبہ پاکستان سے باہر ایمپائرنگ میں مصروف تھے، گھر سے چلتے وقت چھوٹی بچی کی طبیعت خراب تھی، جب بھی گھر فون کرکے بچی کی خیرت پوچھتے تو بیوی ہنس کر بات کرتی اور کہتی کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہے، ایک ماہ بعد گھر واپس لوٹے تو معلوم ہوا کہ بچی تو ان کی روانگی کے تیسرے ہی روز انتقال کرگئی تھی خیر اندیشراشد
2011/9/21 sultan khawaja <sultanja...@yahoo.com>
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics  To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite  To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com  To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com  To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics   To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com   To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite   To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Nasir Nakagawa

unread,
Sep 22, 2011, 8:53:23 AM9/22/11
to bazme...@googlegroups.com
From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: tariqkh...@hotmail.com
Sent: Thursday, September 22, 2011 2:10 AM
Subject: Re: {6006} والد مرحوم کی یاد میں

جناب طارق خان صاحب

جناب والا، آپ کی محبت ہے کہ اس قدر حوصلہ افزا تبصرہ کردیا کہ شرمندہ  ہورہا ہوں
بزم قلم پر ایک شوقیہ لکھنے والا آپ کا ممنون ہے

ملیح آباد کا تذکرہ تو جوش ملیح آبادی کی خودنوشت یادوں کی برات کے بارہا مطالعے سے دل پر نقش ہوگیا ہے

ملیح آباد اور اس کے باشندے سلامت رہیں

راشد  

2011/9/21 TARIQ KHAN <tariqkh...@hotmail.com>
Salees, Pur Assar, A'alla  tareen  Tahreer.  Kaash  maien  yeh  asloob  apna  sakta. Kiya  karoun  Baybus  houn.  Malihabadi  Sulaiman  Khail  Pathan  Houn........Tariq Khan.
 
Subject: Re: {5979} والد مرحوم کی یاد میں
To: bazme...@googlegroups.com
From: mahmoo...@gmail.com
Date: Tue, 20 Sep 2011 15:20:21 +0000

Buhat gehra tassur dil sey nikli huee bat dil mein utertee hai
Ap eik azeem dianetdar shaks key sahibzadey hain is leay ap mein bhee tehzeeb sans letee dikhaee deitee Hai. Sent from my BlackBerry® smartphone from ZonG
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages