مطلع
٭ محمدحسن عسکری ایک جگہ فرماتے ہیں :
” پرانے ادب والوں کے پاس روایت ہے مگر اُنھیں یہ نہیں معلوم کہ روایت زندہ کس طرح رہ سکتی ہے اور روایت کی زندگی کے کیا معنی ہیں، نئے ادب والوں کے پاس روایت کو زندہ رکھنے کے ذرائع ہیں مگر روایت کی اہمیت کا احساس نہیں۔ ادبی روایت کتنی ہی جامد کیوں نہ ہو، شعور کی تبدیلیوں کو نہیںروک سکتی کیونکہ خارجی محرکات کو نظر انداز بھی کر دیں تو بھی انسانی شعور ایک جگہ قائم نہیں رہ سکتا۔ روایت کو اگرزندہ رہنا(رکھنا) ہے تو ان تبدیلیوں کےلئے کسی نہ کسی طرح جگہ نکالنی پڑیگی، ورنہ روایت مر جائے گی۔“
خوشبو
ایک ایک لفظ تمہارا تمہیں معلوم نہیں
وقت کے کھُردرے کا غذ پَہ رقم ہوتا ہے
وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا
وقت کے پاس کہاں رحم و کرم ہوتا ہے!
٭ والی آسی
سپنوں کے سوداگر
کہانی کار:نعیم کوثر (بھوپال)
”آم والے آم دے ، آ م ہیں دربار کے “
”ہم بھی ہیں سرکار کے، ایک آدم لے لو “
”یہ تو کھٹاہے ۔ دو آم لے لو “
چنبیلی گلاپھاڑ کرچلاتی ”میرے دونوں میٹھے ، دونوں میٹھے “
گنپت اپنی بہن چنبیلی کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ پتا لکشمی کھانس کھانس بے حال تھا ۔ اشاروں سے دونوں کو چپ رہنے کو کہا۔ صبح سے رات گئے بھائی بہن کھیل کود میں مست رہتے ۔ ماں اور پتاکھیتوں میں کام کرتے تھے ۔ وہاں بھی لکشمن بلغم اگلتا اور مقادم کی گالیاں سہتا۔ سنیچر کی دوپہر تحصیلدار انوکھی لال سکسینہ دورے پر آرہاتھا ۔ لکشمن نے طے کیا ۔ جا کر روئے گا، کھانسے گا ۔گنپت کو دس پانچ روپئے نوکری کی وِنتی ضرور کرے گا۔
انوکھی لال سکسینہ کی بانچھیں کھل گئیں ۔ ماتحتوں سے کئی بار کہا ۔ کوئی لڑکا ڈھونڈ دیں ۔ بیٹا ارو ن چھٹے گلاس میں پہنچ گیاہے ۔
پتنی سرکاری اسکول میں ٹیچر ہے ۔بیٹے کو دوپہر بعد اکیلا رہنا پڑتا ہے ۔
” لکشمن کام کچھ نہیںہے ۔ انوکھی لاک کو لکشمن کا کھانسنا بالکل برا نہیں لگا ۔ بیٹے کے ساتھ کھیلے کودے ۔ اسکول ایک کلو میٹر دور ہے ۔ بیگ اُٹھا کر چھوڑ آئے ۔ ایک بجے تک وہیں رُکے ۔ چھٹی ہو گھر لے آئے ۔ وہیں کھائے پیئے ، کپڑے لتّے بھی سلوا دیں گے ۔ ۷۵ روپئے مہینے گاو ¿ں بھجوادیں گے ۔ لکشمن کی چھاتی کا بلغم جیسے پانی ہوگیا۔ آنکھیں چھلک گئیں ۔ تحصیلدار کے قدموں میں سرٹیک دِیا ۔
”بڑابوجھ اُتارا حضور نے ، میرے اچھے دن آگئے “۔
”شام کو جیپ میں بٹھا دینا ، کوئی فکر مت کرنا “ ۔
چنبیلی نے سنا ، رو رو کر ہلکان ہوگئی ۔ اس کی ماں اورلکشمن نے سمجھایا بجھایا ۔ شہر میں رہ کر دو شبد پڑ ھ لکھ لے گا ۔ یہاں کھیتوں میں جیون نشٹ کرنے سے کیا لابھ؟“
ارون کو گنپت بھاگیا۔ پاپا اس کیلئے نئے کپڑے لائے ۔ پہلے دن اِسکول گیا۔ راستے بھر باتےں کرتے گئے ۔ جنگل میں شیر کی دہاڑ سنی ، گیدڑ لومڑی دیکھی ، ہرن سانبھر چوکڑیاں بھرتے ہیں ۔رنگ برنگے پرندے ، ندی میں مچھلیاں ، رات کوجگنو ، ساون میں جھولے ، کو ئل کی کوک ، ارون حیران ہوتا ، پوچھتا ۔ ”جگنو کیسا ہوتا ہے ۔ ساون کس چڑیا کا نام ہے ؟“
اسکو ل کے میدان میں لڑکے اِکٹھا ہوئے ۔ جن من گن ایک آواز میں گایا ۔ ڈرل ہوئی ۔ ایک دوتےن ۔ دونوں ہاتھ آگے اوپر اور دائیں بائیں ۔ گنپت پہلے جِھجھکا ۔وہ دو رکھڑا تھا ۔ ہمت بٹوری اوردوسرے لڑکوں کی طرح ایک دوتےن کرنے لگا ۔ ہفتے بھرمیں گنپت گاو ¿ں کے سنسکار بھول گیا ۔ آم والے آم دے اسے کٹھے محسوس ہوئے ۔ جن گن من فراٹے سے گانے لگا۔ ارون نے ضد کی تو پایا نے گنپت کا بستر ارون کے کمرے میں لگوادیا۔ ساگون کی مسہری پر ڈنلپ کاگدّا ، ریشمی لحاف میںموٹی نرم روئی ۔ فرش پر گنپت کی دری ، اوڑھنے کو گاندھی آشرم کا کمبل ، گنپت جب ارون کے بستر کی چادربدلتا ،تب کافی دیر تک گدے پر ہاتھ پھیرتا ۔ ہتھیلی میں جیسے مور کے پرگد گدی مچاتے ۔ اسے کھیت کی مٹی کی سوگندھ آتی تو شرم سے سرجھکا لیتا ۔
”ممی سے پوچھ لیا ہے ، تم بھی نہا کر آجاو ¿“ ارون نے آہستہ سے آگے کہا ”میرے خوشبو دار صابن سے نہانا “ اُ س نے تاکید کی ”نہانے کے بعد صابن اورفرش اچھی طرح دھو دینا “۔ مہینہ نہیں گزر اہوگا ۔ گنپتAسے لے کرZتک انگریزی سیکھ گیا۔ جسم سے حمام صابن کی خوشبو بہنے لگی ۔ سرپر بال بڑھے ، باربر کی دُکان پر سنو ر گئے ۔پہلی بار ناخن ترشوائے ۔ مٹی بھری رہتی تھی ۔ رات کوآرام سے سوتا ، پتا کی کھانسی کااتاپتا نہ تھا ۔
وہ نیند میںخراٹے لے رہا تھا ۔ اچانک ارون بیڈ سے اترا ۔ گنپت کو جھنجھوڑا۔
”اُٹھو گنپت اٹھو“ گنپت بوکھلا کر اوندھا سیدھا ہوا۔ ایک دم کھڑا ہوکر ایک دوتےن کرنے لگا۔ ذرا ہوش ٹھکانے آئے تو ارون کو ڈرا ہو ادیکھا ۔ پوچھا: ”بھیا صاحب کیا ہوا ؟ “ارون بیڈ پر بیٹھا اوربتانے لگا ۔ اسے ڈراو ¿نا سپنا آیا ۔ تم میرا بیگ لئے بھاگ رہے ہو ۔ کلاس کے لڑکے پکڑنے کیلئے پیچھا کررہے ہیں ۔ تم نے رُکنے کا نام نہیں لیا ۔ تب پاپا آگئے ۔ چیخ کر کہا گنپت رک جا ۔ تےرے پتا کا دیہانت ہوگیا ہے ۔ تم رُک گئے ۔ پاہا سے چھما مانگی ۔ بڑے صاحب میں تول رہا تھا ۔ پستکوں میں کتنا بوجھ ہوتا ہے ۔ مزدور کا بیٹا گارامٹی ڈھووے ہے ۔ پڑھائی لکھائی اس کے ارتھی ہوتی ہے ۔ آٹھ کاندھے چاہئے ہوتے ہیں۔
گنپت ہنسنے لگا۔
”بھیا صاحب سو جاو ¿ ۔ میں پڑھنے نہیں آیا ۔ آپ کا نوکرہوں “
دوسری رات گنپت کی نیند کھل گئی ۔سپنا ادھورا رہ گیا۔ چنبیلی کپڑے دھونے ندی پر گئی ۔ پاو ¿ں پھسلا ۔ گہرے پانی میں چلی گئی ۔ وہ چیخ رہی تھی “ بھیا جلد ی آو ¿ ۔ مجھے بچاو ¿“۔
گنپت نے دیکھا ارون گہری نیند میں تھا ۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ مچل رہی تھی ۔ اس نے سونے کی بہت کوشش کی ۔ آنکھیں بند نہیں ہوئیں ۔ ارون کے چہرے کوتا کتارہا۔ کتنی منچلی اورسہانی مسکراہٹ تھی ۔ اسے دسہرے کی نوٹنکی یاد آئی ۔ ہنو مان جی غصے میں تھے ۔ نیز ہ اُٹھائے شتر و پروار کرتے وقت اُن کی پونچھ کھل گئی ۔ سارے لوگ ہنسی سے دُہرے ہوگئے ۔ سوتے میں وہ بھی کھلکھلا پڑا تھا ۔ ماں نے ہلایا ڈلایا ۔” ارے موڑے “۔ باو ¿لاہوگیا ؟ “
سویرے ارون منہ دھوکر آیا ۔ گنپت سے رہانہیں گیا۔ پوچھا۔
”بھیا صاحب ۔ نیند میں خوب ہنس رہے تھے “۔
”مت پوچھو گنپت ۔ عجب سپنا تھا ، بھگوان آئے تھے “۔
”بھگوان ۔ سچی ، کیسے تھے ؟“
گنپت نے دانوں تلے انگلی داب لی ۔
”ہاں ۔ ہاں تم نے ٹی وی پر رامائن دیکھی ؟ بس ویسے تھے بھگوان “۔ گنپت منہ تاکتارہ گیا۔اس نے ٹی وی سی بلاکا نام بھی نہیں سنا۔ نہ رامائن کو جانتا تھا ۔ ”تو گنپت “ ۔ ارون بولا۔ بھگوان نے سرپر ہاتھ پھیرا ، میں پورے کا پورا سونے کا ہوگیا ۔ گلے میں موتےوں کا ہار، انگلیوں میںہیرے کی انگوٹھیاں ۔ پر سویرے جلدی نیند کھل گئی ۔بہت دکھ ہوا ۔گرمی کی چھٹیاں ہوگئی تھیں ۔ دونوں آزاد تھے ۔ نہ بیگ ، نہ جن گن من اورڈرل ۔ دن گزرے اوررات آتی ہے ۔ ارون کو بھگوان کے درشن نہیں رکے ۔ اس نے ممی پاپا کو ہیرے موتےوں اور سونے سے لدا دیکھا۔ ہوائی جہاز سے لندن گھوما ۔ کشمیر کی جھیل ، شالیمار گارڈن کے نظارے کئے ۔ پلک جھپکتے برفانی بابا کے در شن ہوگئے ۔
” گنپت میںنے کتنے اچھے سپنے دیکھے ۔ تمہیں سپنے نہیں آتے ؟“
”جب سے یہاں آیا ہوں ۔ دن رات سپنے آتے ہیں چھوٹے بھیا۔ “ گنپت بولتاگیا ۔ یہ جادو کا گھر ہے ۔ بھگوان آتے ہیں۔ سونا موتی برستے ہیں ۔ پتا جی اورماں بھی آتی ہےں ۔ اب انہیں خون کی اُلٹی ہوتی ہے ۔ ماں دُبلی ہوگئی ۔ کڑی سردی ہے ۔ ماں کھیت میں کھرپی چلاتی ہے ۔ چنبیلی پڑوس میں آم والے آم دے کھیل رہی ہے۔ “ پرنتو کتنی راتےں بیت گئیں چھوٹے بھیا “ شیر کی دہاڑ ، مورکی پیہو ، گیدڑ، ہرن ، سانبھر ، رنگ برنگے پرندے ، ندی اور مچھلیاں ، جگنو اورکوئل ، ساون کے جھولے سب روٹھ گئے ۔ کیا سمے آگیا ۔
” چھوٹے بھیا کل ضرور بڑا سپنا دیکھا ۔ میں اسکول میں پڑھ رہا ہوں ۔ جن گن من گایا اور ....“
” بس چپ ہوجاو ¿ گنپت ۔ یہ کوئی سپنا ہے ۔ ممی کہتی ہےں نا ۔ شیخ چلی کا پلاو ¿“ ارون زورزور سے ہنسنے لگا۔ گنپت اُداس ہوکر بولا ۔
”چھوٹے بھیا آپ کے سپنے مجھے دے دو“۔ارون ڈر گیا۔ آسمان پر بجلی کڑک رہی تھی ۔ ٭
رابطہ : 09200000905
٭٭
زباں بگڑی تو بگڑی تھی‘ خبر لیجے دہن بگڑا
٭ ظفر اقبال
''دُنیا زاد“ ہی کے تازہ شمارے کے آخر میں زبان کے حوالے سے چار مختصر مضامین بعنوان”'زبان کی واٹ“، ''دماغ کا دَہی“، ''ریڈیو کا ڈھکن“ اور ''کراچی کا کدو“ مفید ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی دلچسپ بھی ہیں‘ جن میں کراچی اور دیگر مقامات پر زبان میں نئی اصطلاحات‘ محاوروں اور الفاظ کے اضافے کا ذکر کیا گیا ہے‘ نیز پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اکثر الفاظ کو غلط تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کا رونا بجا طور پر رویا گیا ہے جس کی طرف توجہ دِلانا بہت ضروری تھا۔ مضمون بعنوان ''ریڈیو کا ڈھکن“ میں یہ اندراج بھی پایا گیا کہ آفتاب اقبال اپنے ٹی وی پروگرام میں زبان کی اصلاح کے لیے چند قیمتی منٹ صرف کرتے ہیں۔ یہ ایک گراں قدر کوشش ہے لیکن ان پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ چار چھ منٹ کی اصلاح سے پہلے اور بعد میں پینتیس چالیس منٹ بھانڈوں کی گفتگو سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اس پر اتنی وضاحت ہی کافی ہوگی کہ یہ بنیادی طور پر کامیڈی پروگرام ہے‘ اصلاحِ زبان کا نہیں۔
زبان اور تلفظ کی اصلاح کے لیے طرح طرح کی فرہنگیں موجود ہیں لیکن فرہنگ کو آج کوئی اہمیت دیتا ہے اور نہ اس سے استفادے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور میڈیا پر کئی طرح کے الفاظ غلط معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھنے سننے کو ملتے ہیں۔ صرف ایک مثال کافی ہوگی کہ اینکروں‘ صحافیوں اور وزیروں‘ مشیروں سمیت وقت کو وقَت ہی پڑھا اور بولا جاتا ہے‘ حتیٰ کہ ہمارے دوست نجم سیٹھی اپنے نام کے تلفظ کے ساتھ بھی گڑبڑ کر جاتے ہیں اور نجم کی جیم کو بالفتح یعنی زبر کے ساتھ ادا کرتے ہیں جبکہ انگریزی میں بھی وہ Najm کی بجائے Najam ہی لکھتے ہیں۔ بہرحال اپنے نام کو غلط ادا کرنے والے وہ پہلے آدمی نہیں ہیں بلکہ ہمارے وقت کے ممتاز شاعر جعفر شیرازی، جعفر کو شاعر اور ساحر کے تلفظ پر ادا کیا کرتے تھے جو میرے ٹوکنے ہی پر باز آئے۔
دوسری افسوسناک بات یہ ہے کہ غلطی کی نشاندہی پر ش ±کر گزار ہونے کی بجائے ناراضی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے فہمیدہ ریاض نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ سنا ہے آپ نے میرے خلاف مضمون لکھا ہے۔ ان کا اشارہ اس تبصرے کی جانب تھا جس میں‘ میں نے ان کی کتاب ''یہ خانہ ¿ آب و گل“ پر راغب شکیب کے رسالے میں تبصرہ کیا تھا جو مولانا رومیؒ کی غزلوں کے ترجمے پر مشتمل تھی۔ میں نے اس میں حضرت مولانا کی امرد پرستی کے حوالے سے لکھا تھا کہ کس طرح انہیں اپنے محبوب نوجوان سے ملنے کے لیے ایک طویل اور کٹھنائیوں بھرا سفر طے کرنا پڑا۔ البتہ میں نے ترجمے کی کچھ غلطیوں کی نشاندہی بھی کی تھی جسے انہوں نے مخالفت سمجھا۔ میں نے احمد ندیم قاسمی کی ایک تحریر میں غلطیاں نکالیں تو احمد فراز نے کہا کہ تمہیں ندیم صاحب کی غلطیاں نہیں نکالنی چاہیے تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر معروف لوگوں کی زبان و بیان کی اغلاط کی نشاندہی نہ کی جائے اور ان کی اصلاح نہ ہو تو یہ غلطیاں نسل در نسل آگے سفر کرتی ہیں۔ اسی طرح میں نے ڈاکٹر انیس ناگی کے ایک مضمون (انیس ناگی کم از کم اردو تو سیکھ لیں: لاتنقید) میں بے شمار غلطیاں نکالیں تو انہوں نے اپنے رسالے میں میرے خلاف لکھنا شروع کردیا۔ میں نے شامتِ اعمال سے شمس الرحمن فاروقی کے ایک مضمون میں‘ جو ا ±ن کے رسالہ ''شب خون“ میں چھپا تھا‘ غلطیاں نکالیں تو انہوں نے میرا وہ خط تو چھاپ دیا لیکن اس کی وضاحت میں جو کچھ چھاپا اس میں پہلے سے بھی زیادہ غلطیاں تھیں جس پر میں نے انہیں ایک اور خط لکھا جسے وہ گول کر گئے‘ اور اس طرح میری ان کے ساتھ ک ±ٹی ہو گئی اور انہوں نے اپنے غالب والے بیان سے رجوع کرلیا۔ میں نے کشور ناہید کی کتاب ''دہشت اور بارود میں لپٹی شاعری“ پر لکھے گئے انتظار حسین کے مضمون مطبوعہ ''دنیا زاد“ میں کوئی 30 کے قریب غلطیاں نکالیں تو اس پر پہلے تو موصوف نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا بلکہ ایک محفل میں کہا کہ ظفر اقبال کی کچھ باتوں سے مجھے اتفاق ہے اور اس کے بعد بھی ہمارے تعلقات نارمل رہے۔ کالموں میں چھیڑ چھاڑ بھی ہوتی ہے اور فون پر گپ شپ بھی‘ بلکہ ان کے میرے بارے میں ایک کالم کا عنوان تھا ''چھیڑتا ہوں کہ ا ±ن کو غصہ آئے“۔ لیکن اب وہی مضمون ''لاتنقید“ میں شامل ہوا تو گویا لاوا ہی پھٹ پڑا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میرے بارے میں لکھتے ہیں کہ
''بولتے بہت ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ماں کے پیٹ ہی سے بولتے ہوئے پیدا ہوئے تھے!“
آدمی گالی اس وقت دیتا ہے جب اس کے پاس دلائل ختم ہو جائیں‘ لیکن اُن کی اچانک ناراضی کی سمجھ نہیں آئی۔ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ فرانسیسی حکومت کی طرف سے دیا جانے والا ایوارڈ ان سے ہضم نہ ہو رہا ہو جو اُن کا نہیں بلکہ ان کے لابسٹس کا کمال تھا جن میں مہاجر لابی‘ بھارت نواز (اینٹی پاکستان) لابی اور اُردوا سپیکنگ لابی وغیرہ شامل ہیں جبکہ میری کوئی لابی نہیں‘ اکیلا ہوں اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوں۔ کیا انتظار حسین بھی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہیں؟ اگر ان کی فکشن سے دیومالائیں نکال دی جائیں تو باقی کیا بچتا ہے؟ اور اگر واقعی کچھ بچتا ہو تو مجھے جان کر خوشی ہو گی۔
مزید لطف کی بات یہ ہے کہ میں تو ایک اخبار میںجبکہ صاحبِ موصوف دو اخباروں میں بولتے ہیں‘ اور زیادہ بولنے کا طعنہ مجھے دے رہے ہیں :
کیسے تیر انداز ہو‘ سیدھا تو کر لو تیر کو
آخری بات یہ کہ میں اپنے آپ کو ماہر لسانیات سمجھتا ہوں نہ زبان و بیاں پر کوئی اتھارٹی‘ غلطیاں ہم سب کرتے ہیں‘ کوئی کم کرتا ہے تو کوئی زیادہ۔ اگر کوئی میری غلطی نکالے تو میں اسے اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ خدا ہم سب کو نیک ہدایت دے!
آج کا مطلع :
سیدھا تھا مسئلہ مگر اُلٹا سمجھ لیا ٪غیروں کا غیر تھا جسے اپنا سمجھ لیا ٭
٭روزنامہ ایکسپریس، کراچی
ایوان غزل
قانون سے ہماری وفا دو طرح کی ہے
انصاف دو طرح کا سزا دو طرح کی ہے
اِک چھت پَہ تیز دھوپ ہے اِک چھت پَہ بارشیں
کیا کہئے آسماں میں گھٹا دو طرح کی ہے
کس رُخ سے تم کو چاہیں بھلا کس پَہ مَرمِٹیں
صورت تمہاری جلوہ نُما دو طرح کی ہے
کانٹوں کو آب دیتی ہے پھولوں کے ساتھ ساتھ
اپنے لئے تو بادِ صبا دو طرح کی ہے
خوش ایک کو کرے ہے کرے ایک کو ناخوش
محبوب ایک ہی ہے ادا دو طرح کی ہے
ایسا کریں کہ آپ کہیں اور جا بسیں
اس شہر میں تو آب و ہوا دو طرح کی ہے
٭ ف۔س۔اعجاز(کولکاتا)
رابطہ:09830483810
اسے آسودہ کرتے کیوں نہیں ہیں
ہم اپنے جی سے ڈرتے کیوں نہیں ہیں
مرے اندر پرانے کاغذوں سے
نئے خاکے اُبھرتے کیوں نہیں ہیں
سمٹتے کیوں نہیں ہم آنگنوں میں
فضاﺅں میں بکھرتے کیوں نہیں ہیں
اُجاگر ہوچکا اُڑنا اڑانا
زمیں پر پاﺅں دھرتے کیوں نہیں ہیں
ڈرایا ہے یہ کس نے راستوں کو
مِرے گھر سے گزرتے کیوں نہیں ہیں
کہاں ٹھہرا ہوا ہے وقتِ آخر
یہ روز و شب گزرتے کیوں نہیں ہیں
٭ مدحت الاختر(کامٹی)
رابطہ :09421803478
(مرحوم بشرنواز کی زمین میں)
مُنفرد رنگ اُگے، فکر میں جدّت نکلے
کہہ چکوں مَیں جو غزل، اتنی تو اُجرت نکلے
اب کہاں عشقِ و بالِ دِل و جاں نکلے ہے؟
عیش نکلے‘ کہیں کمبخت تجارت نکلے
کھڑکیاں کھول دو، اُڑ جانے دو خواہش کے پرند
وہ جو سَر میں ہے سمائی ہوئی وحشت، نکلے
اُس کی آنکھوں سے چھلک جاو ¿ں مَیں آنسو بن کر
زندگی میں کبھی اتنی تو سہولت نکلے
سوچتا کیوںہے بچھڑ جانے کی نسبت سے میاں؟
اس سے پہلے کہ کوئی ملنے کی صورت نکلے
تےن گھر کر گئے آباد، بسا ہے چوتھا!!
شیخ صاحب بڑے پابندِ شریعت نکلے
ت ¾و کہ منصف، کہیں ہم کیا تیرے شعروں پَہ ندیم!
جانے کب نکتہ ¿ توہینِ عدالت نکلے
٭منظورندیم (اکولہ )
رابطہ :09372501237
دُنیا بھر کی اس کی باتےں
ایک غزل اور اِتنی باتےں
میں نے جینا سیکھ لیا ہے
کرنے لگا ہوں تجھ سے باتےں
وہ تو شاید روٹھ گیا ہے
کیوں کرتا پھر ایسی باتےں
شیشہ، صحرا، گاگر، ندیا
سچے ہم تم سچی باتےں
اپنا رشتہ دستک جیسا
گھر سے باہر گھر کی باتےں
ہنستا گاتا ایک سَمُندر
ڈوب رہی ہیں گہری باتےں
اچھا تو اب بس کرتے ہیں
اگلی غزل میں باقی باتےں
٭ سلیم محی الدین(پربھنی)
رابطہ:09923042739
ایوان ِ نظم
انوکھا عدل کر ڈالا !
۔۔۔بالآخر
ظالموں نے حسبِ منشا
قتل کر ڈالا
انوکھا عدل کر ڈالا
ویاپم اوردیگرمسئلوں سے
ذہن یکسر محو ہوجائیں
” وہ باغی تھا “
” وہ غدارِ وطن تھا “
” دیش دروہی تھا ‘ ‘
عوام الناس بس ایسی ہی
کج بحثی میںکھوجائیں
وگرنہ
یہ تو وہ بھی جانتے تھے
مَرنے والا
مَرکے بھی تاریخ میں زندہ رہے گا
ہجوم بیکساں میں
چاند تابندہ رہے گا
اور۔۔۔مورّخ
منصفوں کو
جج نہیں۔۔۔
قاتل لکھیں گے٭
٭عبد الرحیم نشتر(ناگپور)
رابطہ: 07276071869