59 views
Skip to first unread message

Imtiaz Ali Faheem

unread,
Jun 17, 2015, 10:44:02 PM6/17/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Inshallah Ramadan Kareem for all of us. May Allah swt shower his bounties and choicest blessings on all the families and his mercy on all the Muslim Ummah around the world and alleviate the sufferings being faced across the globe. Ameen
Imtiaz Ali Faheem

Sent from my iPhone

HASAN CHISHTI

unread,
Jun 21, 2015, 4:24:29 AM6/21/15
to
Urdu kay mumtaz aur maroof shayer Janab Raeesuddin Raees aj kal sakht aleel haEn aur unhEn ilaj kay liyay mali maddad ki shadeed zaroorat hai. MaEn tamam Urdu doast hazrat say darkhawst karta hUn keh woh is silsilay mEn zaroor tawajoh farmayEn,  Un ka email aur mailing address hasb-e-zail hai:

Janab Raeesuddin Raees Saheb
J-65 Safina Appartments
Medical Road, Aligarh 202002
India


Hasan Chishti
Chicago
Phone: 773 433 2818 

Muhammad Syed

unread,
Jun 26, 2015, 5:33:28 PM6/26/15
to bazme qalam
Subject: Syed Ehsan Bastawi ka Inteqal

From: Muhammad Syed <mmsye...@gmail.com>
Jb Aali Adab
Sheri halqon men yeh khabar nihayat dukh ke saath suni jayegi ke Syed Ehsan Bastawi, ek senior shayer aur nafees insan wafat pa gaye. Arakeen e Bazm se dua ki darkhwast hai. Shukriyah

aap ka

Muhammad Mujahid Syed
Jeddah 
 


Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 3, 2015, 12:49:06 AM7/3/15
to Aijaz .Shaheen


--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786
Page30.jpg
Page18.jpg

umar shaikh

unread,
Jul 7, 2015, 12:38:04 PM7/7/15
to BAZMe...@googlegroups.com
A3.jpg

Nadeem Siddiqui

unread,
Jul 10, 2015, 2:21:19 PM7/10/15
to fayyazah...@gmail.com, aseemk...@gmail.com, bazme...@googlegroups.com



Date: Fri, 10 Jul 2015 23:45:35 +0530
Subject: Fwd:
From: nade...@gmail.com
To:




جناب والا
 میرا
تازہ کالم 
آجکل
منسلک ہے
ندیم صدیقی

آہ! بشر نواز :کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی 
اِدھرکئی دِنوں سے جَون ایلیا کا یہ شعر قلبِ ساحل پر کسی بے قرار موج کی طرح آ مد و شد بناہوا تھا :
 دِل بہت چاہتا ہے رونے کو٪ کیا کوئی حادثہ ہے ہونے کو!
 اور جمعرات کی دوپہر موبائیل پر بشر نواز کی سناو ¿نی نے ہمیں رُلا دِیا۔1975 میں اورنگ آباد سے ایک جریدہ شمیم احمد کی ادارت میں ”غبار خاطر“ جاری ہوا تھا حسنِ اتفاق کہ اس کی ایک کاپی گزشتہ ایک عشرے پہلے ہمارے گنجِ کتب سے بر آمد ہوئی تو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس کے مشمولات اس قدر دل چسپ اور گراں قدر تھے کہ ایک رات بس ہم دیکھتے چلے گئے کہ سحری کا وقت ہوگیا۔ بظاہر یہ عام سا شمارہ ہے مگر یہ اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس وقت اُردو کے چند پرچوں کو چھوڑ کر کوئی جریدہ بھی ایسا نہیں کہ جس کا اکثر متن اس معیار کا ہو۔ اس کے تمام مشمولات بلکہ خطوط کا حصہ بھی خاصا دل چسپ ہے۔ جس میں فیض احمد فیض، ن۔ م۔ راشد، وزیر آغا، رام لعل، اقبال مجید سلیم احمد، مظہر امام، زیب غوری، پرکاش فکری،اسعد بدایونی وغیرہ کے ساتھ قاضی سلیم، عصمت جاوید،قمر اقبال اوربشر نواز کا کلام بھی جلوہ افروز ہے اور اسی جریدے میں سکندر علی وجد کے شعری مجموعے ” بیاض مریم“ پر(از: شمیم احمد) اور بشر نواز کے شعری مجموعے ”رائیگاں“( صد صفحات)جس کی قیمت صرف چھ روپے تھی یوسف عثمانی کا خاصا تبصرہ بھی ہم نے پڑھا۔ جس سے پتہ چلا کہ بشر نواز نے اپنے پہلے ہی شعری مجموعے سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ بشر نواز سے کوئی تیس برس قبل ہم پہلی بار ملے تھے اور جب گزشتہ برس گیٹ وے آف انڈیا پر اُردو اکادیمی کے مشاعرے میں ملاقات ہوئی تب بھی اُ نھیں اپنے تئیں ایک مشفق بزرگ نہیں بلکہ ایک مہذب دوست جیسا ہی محسوس کیا۔ یاد آتا ہے کہ 1965 کا زمانہ ، جب ان کا کلام پہلی بار ہفت روزہ اُردوبلٹز(Blitz) میں پڑھا تھا۔ اس کا ایک شعر تو ابتک ذہن میں تازہ ہے: چاہتے تو کسی پتھر کی طرح جی لیتے٪ ہم نے خود موم کی مانند پگھلنا چاہا
 کوئی نصف صدی تو گزر گئی مگر اس شعر میں چھپے ہوئے بشر نواز کے فطری مزاج نے ہمیں اُن سے ہمیشہ قریب رکھا۔
 بشر نواز کی بیس پچیس کتابیں نہیں چھپیں مگراُن کا جو سرمایہ ہمارے سامنے ہے وہ اس قدر وقیع اور تاثر و تاثیر سے بھر پور ہے کہ یہ جو ہمارے دور کے حمار ِ ادب ہیں کہ ہر مہینے دو مہینے میں جو ایک کتاب کے ساتھ مشتہر ہو رہے ہیں ان کی کوئی ایک کتاب بھی بشر نواز کے قدموں کو نہیں چھوتی۔ دراصل قدرت نے اِنسان کو دو مقام دِیے ہیں کچھ لوگ دوسرے مقام سے بھی نکلنے والی آوازوں کو ادب سمجھ رہے ہیں جبکہ یہ بادِ فاسد وقت کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہو جا تی ہے کہ ماضی میں بھی اس کی مثالیں ’ عبرت‘ بنی ہوئی ہیں۔ مگر عبرت تو وہی لیتے ہیں جنہیں قدرت توفیق دے اور جنہیں قدرت ہی عبرت بنانا چاہتی ہو تو اُن کا اقبال کیسے بلند ہو سکتا ہے ۔؟!
 بشر نواز کو دورِ جدید کا شاعر و ادیب کہا جاتا ہے اور اس دور میں اکثر لکھنے والے دین و مذہب سے بیگانے ہی نہیں بلکہ مجتنب ملتے ہیں مگر بشر نواز کے بارے میںیہ جان کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ اسلامیات کا بھی خاصا درک رکھتے تھے۔ وجہ اس کی، ان کے گھر کا ماحول تھا،بالخصوص ان کی والدہ کا مذہبی کردار و عمل ۔ والدہ ¿ محترمہ ممتازفاطمہ خود ایک عالمہ تھیں جن کے گھر میں ہفت وار اجتماعِ نسواں باقاعدگی سے ہوتا تھا اور وہ تمام شہر میں درسِ قرآن کےلئے مشہور تھیں اور یہ صفاتِ احسن اُ نھیں اپنی والدہ مقبول بیگم سے وراثت میں ملی تھیں بشر نواز کی نانی ایک سرکاری مدرسے میں معلمہ کی خدمات انجام دیتی تھیں پتہ چلا کہ بشر نواز کا پورا خاندان علم وادب کا حامل تھا۔ کسی بھی فرد کو’ شخص‘ بنانے میں بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ آدمی کہاں کہاں سے کیا کیا اخذ کر تا ہے؟ اس کا کوئی ایک جواب نہیں دیا جاسکتا۔ بشر نواز خاکِ دکن سے اٹھے اور ایک دُنیامیں نوازے گئے۔ یہ سب اُنہوں نے اپنے ضمیر و قلب سے نکلنے والے حرف کے ذریعے حاصل کیا۔ اس میں ان کی کسی ہوس کا کوئی دخل نہیں تھا۔
 جو لوگ پُر اعتماد ہوتے ہیں اور جن کے فکر و عمل میں اخلاص اور ایک دُھن کی سمائی رہتی ہے ا ن کے ہاں کسی پبلسٹی کا تصور تک نہیں ہوتا ۔ دراصل جن کو اخلاص ِ فکرو عمل کی توانائی میسر ہوتی ہے وہ اس طرح کی ہوا ہوس سے خود ہی دور ہو جاتے ہیں۔ بشر نواز نے اپنی حیات ہی میں اپنی آئندہ زندگی کے روشن پہلو دیکھ لئے تھے۔ ایسا ہر فنکار کے ساتھ نہیں ہوتا مگر ہوتا تو ہے اور وہ بشر نواز کے ساتھ ہوا۔
 ساگر سرحدی کی فلم میں ان کے لکھے ہوئے ایک گانے کا یہ شعر اس وقت بے طرح یاد آ تا ہے:
 ”گلی کے موڑ پَہ س ¾ونا سا کوئی دروازہ٪ ترستی آنکھوں سے رستہ کسی کا دیکھے گا“
 اس دور میں جب کہ ہمارے اِرد گرد ادب کے نام پر ایک بازار سا لگا ہوا ہے اور جدھر نگاہ جاتی ہے ایک افراتفری اور انتشار کا سا ماحول ہے ایسے میں بشر نواز جیسے زندہ ضمیرقلم کارکا اُٹھنا ہماری زبان و ادب کابڑا نقصان ہے۔ ن۔ص



--
NadeemSiddiqui



--
NadeemSiddiqui
aaj-kal-11-July-15.pdf
aaj-kal-11-July-15 copy.jpg

Awami Times

unread,
Jul 10, 2015, 6:11:09 PM7/10/15
to BAZMe...@googlegroups.com

Bazame qalam se guzarish hy ki afsane gazals Awami times urdu id
PR mail nhi nhi krain stop stop mail pliz pliz only news

On Jul 11, 2015 1:24 AM, "Awami Times" <awamiti...@gmail.com> wrote:

Pliz gazal afasane email stop stop
Pliz only news news
Afsane gazals email na karin

Nadeem Siddiqui

unread,
Jul 13, 2015, 9:39:28 AM7/13/15
to
جناب والا 
اردو ٹائمز ممبئی کا تازہ ادبی صفحہ منسلک ہے
 ندیم صدیقی
litr page-12-July-15-A copy.jpg
litr page-12-July-15-A.pdf

Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Jul 14, 2015, 6:28:16 AM7/14/15
to bazme...@googlegroups.com
Nadeem Saheb
Salam wa rahmat wa mizaj-e-girami
Basheer Nawaz Saheb ki ghazal mein qaafiya Mahlake shayad mahal k liye istemal kiya gaya ho.
Eid Mubarak. Allah aap aur aap ke mutallaqeen to beshahumar khushyan ata kare. Ameen
Khair Andesh
Mirza

From: nade...@outlook.com
Subject: [بزم قلم:45250]
Date: Mon, 13 Jul 2015 13:38:36 +0000


جناب والا 
اردو ٹائمز ممبئی کا تازہ ادبی صفحہ منسلک ہے
 ندیم صدیقی

Nadeem Siddiqui

unread,
Jul 16, 2015, 12:19:13 PM7/16/15
to
ماہِ مبارک الوداع 
افسوس اب جاتا ہے تو ‘ ماہِ مبار ک الوداع 
روتاہے دل سب کا لہو ، ماہِ مبارک الوداع 
شہرہ تھا تیرا چار س ¾و ماہِ مبارک الوداع
جلوہ تھا تیرا کو بَہ کو ماہِ مبارک الوداع
ہر شام تیری بالیقیں تھی شمعِ راحت کی امیں 
اے میری صبحِ آرزو ماہِ مبارک الوداع
مسرور کرتی تھی ہوا باغیچہ ¿ فردوس کی
ماحول تھا کیا مشکبو ماہِ مبارک الوداع 
خوفِ خدائے پاک تسبیح خوانی کیلئے 
رہتاتھا مومن باوضو ماہِ مبارک الوداع 
سوئے غریباں مائلِ دَین و عطا مومن رہا 
پڑھ پڑھ کے حتیٰ تنفقوا ماہِ مبارک الوداع
بخشی تھی مولیٰ نے تجھے رحمت کی وہ بخیہ گری 
ہوتا تھا چاکِ دل رفو ماہِ مبارک الوداع 
یوں تیرے استقبال میں محراب ومنبر تھے سجے 
جنت ہو جیسے ہو بہو ماہِ مبارک الوداع 
ہم عاصیوں کو تیرے فیضِ پاک سے ا ±مید ہے 
بخشے گا مولیٰ مو بہ مو ، ماہِ مبارک الوداع 
عصیاں شعاری جاں بلب آتے ہی تیرے ہو گئی 
مومن بنا تھا نیک خو ‘ماہِ مبارک الوداع 
سب کا سلامِ شوق لے کہتے ہیں اہلِ خانداں 
بھائی ، بہن ، بیٹا ، بہو ماہِ مبارک الوداع 
جِنّ و بشر ہوں یاملک ، فرشِ زمیں ہو یا فلک 
سب میں بسی یہ گفتگو ماہِ مبارک الوداع 
کتنی مبارک شب تھی وہ جس میں کلامِ حق ملا 
قربان بر اعزاز تو، ماہِ مبارک الوداع 
لمحہ ترا کیا خوب کارِ خیر کا عنوان تھا 
اے ماہِ شرحِ و عبدو ماہِ مبارک الوداع 
تیرا قصیدہ سال بھر پڑھ پڑھ کے روئے گا قمر
یہ خوش نوا، یہ خوش گلو ماہِ مبارک الوداع 
٭ مولاناقمر سلطانپوری (وسئی۔ تھانے)
رابطہ :02502327784

alwida-15.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Jul 24, 2015, 1:30:40 PM7/24/15
to



From: nade...@outlook.com
Subject:
Date: Fri, 24 Jul 2015 17:08:20 +0000

 جناب والا
  اُردو  ٹائمز کا تازہ کالم
’’ آجکل‘‘
 منسلک ہے
ندیم صدیقی


 آج بھی ایک داؤد بھائی فاضل بھائی کی ضرورت ہے!
 چاردَہے قبل کیسے کیسے وسیع القلب لوگ  تھے۔ !۔۔۔کل   ایک مجلے نے اِس کا  آموختہ کر وادِیا۔ کیسا کیسا ذوق رکھتے تھے  وہ   لوگ۔ یاد آتے ہیں کامٹی(ناگپور) کے ایک بزرگ(غالباً) ظہیر وارثی۔۔۔ بہت نام سن رکھا تھا، موصوف کے گھر گئے تو دیکھا پرانے طرز کا مکان جس میں بلیّاں اور  شہتیر لگے ہوئے تھے جو  اپنی زبان میں بزرگوار کا تعارف کر وارہے تھے کہ ’’ یہ وارثی علم و ادب کاسچا اور پکا  وارث ہے۔‘‘ ایک  ایک بلّی  پرکئی کئی گٹھریاں تھیں۔ تجسس ہوا کہ ان میں کیا   ہے۔؟۔۔۔ بزرگوار سے سوال کیا تو اُنہوں نے ایک نہیں کئی گٹھریاں   اُتار کر ہمارے سامنے کھول دِیں۔ ہم حیرت میں پڑ گئے۔ اس میں پرانے اخبارات اور مجلے تھے جو نایاب کے درجے کو پہنچے ہوئے تھے۔ یہ خزانہ اُنہوں نے کیسے  جمع کیا   اس کی روداد بھی ان  بزرگوار سے سنی  تو ان کے ذوق  و شوق  پر سبحان اللہ سبحان اللہ  ہی کہتے بنی۔یہ بزرگوار کب اُٹھ گئے اوران کا یہ سرمایہ کہاں گیا اس کا کیا بنا۔۔۔؟۔۔۔ اس کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کامٹی کے اہل ِذوق جانتے ہوں۔ یہ جو کل ہمیں  ٹھیک42سال پرانا مجلہ ملا ہے ، ہمارے ایک کرم فرما  بزرگ سعید الرحمان صدیقی مقیم حال حیدر آباد(دکن) کا ارسال کردہ ہے۔ موصوف ممبئی میں  رہ چکے ہیں ، فرماتے ہیں کہ ’’میاں! اس(مجلے) میں ممبئی کے کچھ مشاہیرکی شبیہیںہیں۔ ہم نے بہت سنبھال کر رکھا، اب ہم سے اپنا وجود ہی نہیں سنبھلتا اسے کیا  سنبھالیں گے ،وارث تو  ہیں مگر اس کا وارث ہمارے گھر میں تو نظر نہیں آتا سو آپ تک پہنچاتے ہیں۔‘‘
 اس مجلے کا نام ہے ’پیشکش‘ داؤد فاضل بھائی ٹرسٹ اس زمانے کا ایک نہایت معروف اور سرگرم ادارہ تھا( اب بھی ہے مگر  اب پہلے جیسی  سرگرمیاں نہیں رہیں) اس کے بانی   اور اس ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد کے ساتھ ساتھ یہ مجلہ اس زمانے کے ادب کو بھی مجلا کر رہا ہے۔  
ا یک  جھلک آپ کودِکھلاتے ہیں اگرآپ اس زمانے کے مشاہدہیں تو عجب نہیں کہ اس سے  اور بھی  جھلکیاں آ پ کے ذہن  کے اسکرین پر روشن ہو جائیں۔ عروس البلاد کے معزز اور ایک صاحبِ خیر شخص داؤد بھائی فاضل بھائی  جو13 جون1919 ء کو اس جہان  ِفانی سے رُخصت ہوئے مگر  جانے سے پہلے وہ ایک ایسا کام کر گئے کہ آج90 سال سے زائد مدت ہو رہی ہے مگر  ان کا نام ِنامی اسمِ گرامی روشن ہے۔  وہ تھے تو مال  دار اور زر وجواہر کے مالک مگر  اُن کے نزدیک علم کی کس قدر اہمیت و فضیلت تھی ان کے اس عمل میں مخفی ہے۔ انہوں نے مارچ1919ء ہی میں باقاعدہ ایک وصیت نامے کے  ذریعے30لاکھ روپے کی گراں قدر  اپنی جائداد تعلیم کیلئے و قف کر دِی تھی۔یہاں ایک خاص بات  یہ بھی واضح رہے کہ  وہ مذہبی طور پر خوجہ شیعہ اثنا عشری جماعت کے رُکن تھے مگر   اُنہوں نے اپنی جائداد وقف کرتے ہوئے اختلافِ مسلک سے کہیں بلند ہو کر کام کیا۔ اِس وصیت میں ان کی وسعتِ قلبی اور اپنی ملت کے تئیں  درد مندی، سب کچھ عیاں ہے۔ مذکورہ ٹرسٹ  نے جنوری 1923 سے باقاعدہ اپنا کام شروع کیا۔  داؤد بھائی فاضل  بھائی  نرسری، پرائمری  سے لے کر  ہائی اسکول تک ہی نہیں اس ٹرسٹ کے ذریعے  اُردو  ذریعۂ تعلیم کی طالبات کیلئے ہوم سائنس انسٹی ٹیوٹ، کرافٹ ٹیچرس ٹریننگ کالج اور ہینڈی کرافٹ انسٹی ٹیوٹ جیسے ادارے بھی سرگرم رہے۔جس زمانے(1973ء) کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس وقت اس  ٹرسٹ کے ذمے داران میں شہر کے ایک ممتاز  سالیسٹر سلطان  دوسل بھی  تھے۔ یہ موصوف  اُردو سے کس قدر شغف اور محبت رکھتے ہونگے کہ اس دور میں  ٹرسٹ مذکور کی جانب سے  داؤد بھائی فاضل بھائی میموریل لیکچرس کا انعقاد ہوا جس میں وقتاً فوقتاً پروفیسر محمدمجیب( جامعہ ملیہ) ایف پی فرنانڈیس، آئی ایم قادری، عبد الرحمان انتولے سے لے کر ڈاکٹر  ظؔ انصاری جیسے اہل علم   کی تقریریں ہوئیں اور یہی نہیں  اُردو زبان وادب کیلئے فروغ و ارتقا کیلئے بھی اس ٹرسٹ کی خدمات  یادگار ہیں۔
اُسی زمانے کا ایک مشاعرہ بھی  مذکور ہے   جو اِسی ٹرسٹ کے زیر اہتمام   ایک ضمنی کمیٹی جس کے سربراہ جاں نثار اختر بنائے گئے تھے ،انہی کی نگرانی میں منعقد ہوا تھا  اِس مشاعرے کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ’’ قومی  دلچسپی‘‘ جیسے موضوع  پر شعرا سے نظمیں منگوائی گئیں اور ان میں سے اچھی نظموںپر پہلا  اور دوسرا انعام بھی دیا گیا۔ اس طرز کا ایک مشاعرہ اور ہمارے حافظے میں ہے جو  طرحی تھا، جس کے انعام یافتگان میں قیصر الجعفری ، محمود دُرانی اور  افتخار امام صدیقی کے نام  یاد آتے ہیں۔  اسی شہر میں ہماری  ہی ملت  میں ایک سے ایک متمول موجود ہے مگر وہ جذبہ جو داؤد فاضل بھائی کی طرح اختلافِ مذہب و مسلک سے بلند ہو تقریباً مفقودہے۔  ۔۔داؤد فاضل بھائی، اللہ کریم سے  اپنے حسنِ عمل کا  یقینا  اجر پائیں گے۔ ہم اُن کے  جذبے اور عمل کو سلام کرتے ہوئے  خداوندِ قدوس سے دُعا گو ہیں کہ  اس دور میں ہم علم و  ہنر اور ادب  جیسوں شعبوں میں پہلے سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔ تٗو ہر عمل پر قادر ہے۔ ہمارے دور کو بھی داؤد فاضل بھائی جیسا صاحبِ مخیر اور وسیع القلب  دیدے۔ یقین ہے کہ  دُعائیں رد نہیں ہوتیں ہم اپنے قارئین سے بھی  استدعا کرتے ہیں کہ وہ بھی اس دُعا میں شریک ہوں کہ یہ بھی کسی  نیکی سے کم نہیں۔ ندیم صدیقی












  ن۔ص


aaj-kal-25-July-15.pdf
aaj-kal-25-July-15 copy.jpg

muslim media

unread,
Jul 25, 2015, 1:48:58 AM7/25/15
to Aijaz .Shaheen, Aijaz Arshad


یعقوب میمن کی پھانسی میں اتنی عجلت عدل میں امتیاز کا منہ بولتا ثبوت
تیشہ فکر عابد انور 
مسلمانوں کے خلاف بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں کس قدر تعصب ، امتیاز ،نفرت،غصہ اور ذلیل کرنے کا جذبہ موجزن ہے اس کا اندازہ یعقوب میمن کی پھانسی کی تاریخ طے کرنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جب کہ یعقوب میمن کیوریٹو (Curative) پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی اس کے باوجود حکومت مہاراشٹر کا پھانسی کی تاریخ کافیصلہ کرنا اور ڈیٹھ وارنٹ جاری ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس طبقے کو مسلمانوں کو کتنی نفرت ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آنے والا تھا۔ اگر نہیں معلوم ہے تو پھر یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا کیسے طے کی گئی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اور سپریم کورٹ میں بھی مداخلت کے مترادف ہے۔ کیا اس پر سپریم کورٹ کوئی ایکشن لے گی یا بی جے پی حکومت کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے یعقوب میمن کو پھانسی پر لٹکانے کی سزا برقرار رکھے گی؟۔ آخر حکومت مہاراشٹر کو اتنی جلد کیوں ہے کیا پھانسی دینے کے لئے صرف یعقوب میمن ہی بچا ہے۔ پھانسی کی سزا پانے والوں کی قطار ختم ہوگئی ہے۔ افضل گرو کے معاملے میں بھی بی جے پی نے اسی طرح کا شور مچایا تھا اور اس وقت کے بی جے پی کے صدر اور موجودہ مرکزی نتن گڈکری نے افضل گرو کو کانگریس کے داماد ہونے کاتک طعنہ دیا تھا۔اس کے بعد کانگریسی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ افضل گرو کو پھانسی پر لٹکا دیا اور اس کی خبر اس کے اہلہ خانہ تک کو نہیں دی۔ قانون ماہرین نے اسے انصاف کا قتل قرار دیا تھا۔ کیوں کہ سپریم کورٹ نے قرائنی شہادت (جن بھاونا جن چیتنا) کی بنیاد پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اب بیشتر فیصلے قرائنی بنیاد پر ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں گڈفرائی ڈے کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ کے ججوں اور چیف جسٹس کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججوں کو چاہئے کہ فیصلہ کرتے وقت عوام کے جذبات کا لحاظ کریں ۔ عوامی جذبات کیا ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس کا مظاہرہ امت شاہ کی کلین چٹ سے شروع ہوا تھا اور گجرات فسادات کے ملزمین اور عشرت جہاں، سہراب الدین پرجاپتی انکاؤنٹر کے خاطئیوں کو ایک ایک کرکے یا تو بری کردیا گیا پھر انہیں ضمانت دے دی گئی ہے۔ یہی نہیں گجرات کے موداسا دھماکے کے بھگوا دہشت گردوں کو صاف شفاف قرار دیتے ہوئے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اس دھماکے کیس کو بند کردیا۔ کیوں کہ اس میں مبینہ طور پر بھگوا دہشت گردی ملوث تھی۔ اسی طرح اس ایجنسی نے جس طرح مالیگاؤں دھماکے خاطیوں کے تئیں نرمی برتے جانے کے لئے روہنی سالین پر دباؤ ڈالا تھا وہ بھی جگ ظاہر ہے۔ اس کیس سے روہنی سالین کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اس نتیجہ بھی جلد سامنے آجائے گا۔ اسی طر ح اجمیر دھماکے کے گواہان جس طرح منحرف ہورہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کا عدالتی نظام عوامی خواہشات کا کس قدر احترام کر رہاہے۔مودی کی میعاد تک بہت ممکن ہے کہ بھگوا دہشت گردی کے سارے کیس بند کردئے جائیں یا پھر کچھ بے قصور مسلمانوں کو اس میں گرفتار کرلیا جائے۔ کسی بھی ملزم کے حق میں کس طرح حالات کو خراب کیا جاتا ہے اوراستغاثہ اپنے حق میں عوامی رائے عامہ کو کس طرح ہموار کرتا ہے وہ اجول نکم کی جھوٹ سے سامنے آگیا ہے جس میں اجمل قصاب کے بارے میں پہلے جھوٹی خبر پھیلائی کہ وہ بریانی طلب کر رہا ہے۔جب کہ اجول نکم نے گزشتہ دنوں میں یہ اعتراف کیا کہ وہ بریانی والی بات جھوٹی ہے جب کہ ایک پارٹی نے اس جھوٹ کے سہارے برسراقتدار آئی۔ یہ ان ذہنوں کا استعارہ ہے جس کی پرورش سنگھ پریوار نے کی ہے۔ کسی کوناحق سزا دینے کے لئے ’’دام، سام ، ڈنڈ بھید‘‘ اپنائے جانے کی بات ساشتروں سے ماخوذ ہے۔ اس طبقے کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا اسی نظریہ سے متاثر نظر آتا ہے۔سزا دینے سے پہلے حالات اور احوال کو کوائف پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ اگر مجرم کوئی ہے تواسے سزا ہونی چاہئے لیکن کا جرم کا پیمانہ مذہب نہیں ہونا چاہیئے۔ ممبئی دھماکے میں 257افراد مارے گئے تھے اور 250کروڑ روپے کا نقصان ہوا جب کہ ممبئی فسادات میں 2500افراد کو قتل کیا گیا تھا اور 2500 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا تھا لیکن فساد انجام دینے والے، قتل کرنے والے اور مسلمانوں کا مال و متاع اور عزت و آبرو لوٹنے والوں کو کوئی سزا نہیں ہوئی۔ آخر کیوں نہیں ہوئی ہے یہ سوال ہندوستانی جمہوریت سے سارے ستون سے پوچھے جانے چاہئے اور سارے ستون کو اس کا جواب دینا چاہئے۔
یعقوب میمن کو حکومت مہاراشٹر نے30 جولائی کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر کی ہے اور اس کے 22لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔مشہور وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن مجید میمن نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس عرضی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو اس کی پھانسی کی سزا کی تاریخ طے کرنا مضحکہ خیز ہے اور اس سے حکومت کی نیت کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے ۔ سب کے سامنے سوال یہی ہے کہ آخر اتنی جلد کی کیا ضرورت ہے۔ کیا مرکزی حکومت اس کا فائدہ بہار اسمبلی انتخابات میں اٹھانا چاہتی ہے۔ یا شدت پسند ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتی ہے کہ دیکھو حکومت میں آنے کے باوجود اس کے نظریات اور خیالات کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ خاکی نیکر پر دھبہ نہیں لگنے دیں گے۔ٹاڈا کورٹ کے جج پی کوڈے نے جب یعقوب میمن کو سازش رچنے کے لئے سزائے موت دی تھی تو ان کے فیصلے نے یعقوب کے وکیل ستیش کانسے سمیت کئی لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔کچھ سال پہلے کانسے نے ریڈف ڈاٹ کام کی شیلا بھٹ کو بتایا تھا، ’’یعقوب نے کبھی پاکستان میں فوجی تربیت نہیں لی‘‘۔ انہوں نے کوئی بم یا آر ڈی ایکس نہیں لگایا تھا، نہ ہی ہتھیار لانے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔جن لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، وہ ان خطرناک سرگرمیوں میں سے کسی نہ کسی طرح سے شامل تھے۔ یعقوب کے خلاف ان میں سے کسی بھی معاملے میں الزام نہیں تھے‘‘۔ 
مشہور صحافی مسٹر جگن ناتھن نے ’’فرسٹ پوسٹ ڈاٹ کام‘‘ میں اپنے ایک مضمون میں مضبوط دلیل دی ہے کہ کیوں حکومت کو یعقوب مینن کو پھانسی نہیں دینی چاہیے.وہ دلیل دیتے ہیں کہ راجیو گاندھی اور پنجاب کے وزیر اعلی بیت سنگھ کے قتل کے مقدمات میں جنہیں پھانسی دی جانی تھی، انہیں ابھی تک پھانسی پر نہیں لٹکایا گیا ہے۔تمل ناڈو اسمبلی کی رحم اپیل کے بعد راجیو کے قتل کرنے والے ستھن، مرگن اور پیرارکولن کی پھانسی کی سزا کو کم کر دی گئی تھی۔بینت سنگھ کے قاتل بلونت سنگھ راجاونا اور بھلر نے بڑے فخر سے اپنا جرم قبول کیا تھا اور انہوں نے خود کو پھانسی دئے جانے کی مانگ کی تھی۔لیکن انہیں ابھی تک زندہ رکھا گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ پنجاب اسمبلی کی کوششیں ہیں۔جگن ناتھن نے لکھا ہے،’’ایک چیز سب کو صاف نظر آتی ہے۔ جہاں ایک سزایافتہ قاتل یا شدت پسند کے پاس مضبوط سیاسی حمایت ہوتی ہے وہاں نہ تو حکومت اور نہ ہی عدالت منصفانہ انصاف دینے کی ہمت کرپاتی ہے‘‘۔ اب دیکھئے، جب قاتلوں کی مختلف قسم کا معاملہ آتا ہے جیسے اجمل قصاب، افضل گرو اور اب یعقوب میمن، تو کیسے وہی مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں اور عدالتیں ’’قانون کا احترام‘‘ کرنے میں دلچسپی لینے لگتی ہیں۔جگن ناتھن کے مطابق، ’’پھانسی پر لٹکائے جانے والے مسلمانوں میں اور ایک بات ہے۔ ان سب کے پاس سیاسی حمایت کی کمی ہے‘‘۔میں اتفاق کرتا ہوں اور اس وجہ سے میں سوچتا ہوں کہ میمن کو پھانسی دے دی جائے گی۔ 
مسلمان بابری مسجد کی شہادت کا غم منابھی نہیں پائے تھے کہ ملک گیر سطح پر مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات برپا کرکے نہ صرف مسلمانوں کو قتل کیا گیا بلکہ مالی طور پر بدتر کرنے کے لئے دکانوں، مکانوں اور تجارتی اداروں کو آگ کے حوالے کردیاتھا۔ ممبئی میں تو دو مرحلوں میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ7 دسمبر سے 27 دسمبر1992 تک چلا تھا اور فساد کا دوسر ا مرحلہ7 جنوری سے 25 جنوری 1993تک چلا تھا۔ اس فساد کو آزادی کے بعد بھیانک ترین فسادات میں شمار کیا جاتاتھا۔ گجرات قتل عام کو چھوڑ دیں تو یہ فساد یقیناًمنظم طور پر برپا کیاگیا تھا جس میں سیاست، حکومت کے افسران، پولیس اہلکاروں میں کانسٹبل سے ڈی آئی جی رینک کے افسران فسادات میں ملوث پائے گئے تھے جس کا ذکر شری کرشن انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بھی موجود ہے۔ ممبئی فسادات کے دوران شیو سینا، بی جے پی اور آرایس ایس کے کارکنوں نے مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو سے جم کر کھیلواڑ کیا تھا۔ ممبئی ایسا شہر بن گیا تھا جہاں پر کئی اسپتال نے مسلمانوں کا علاج کرنے سے منع کردیا تھا۔ان اسپتالوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی پھر بھی ہم شان سے کہتے ہیں ہمارا ملک کثیر جمہوری ملک ہے۔ممبئی کا فساد کس قدر یکطرقہ اور حکومتی اہلکار کے زیر سرپرستی انجام دیا گیا ۔ اس پر پوری دنیامیں آواز گونجی تھی۔ تمام انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے انصاف کرنے کی گزارش کی تھی۔ 6 دسمبر 2002 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بابری مسجد کی شہادت کی دسویں برسی پر شری کرشن انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کرنے کی حکومت مہاراشٹر سے اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ 1998میں رپورٹ کی پیشی کے باوجود ابھی تک حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔1788 افراد اس فساد ہلاک ہوئے تھے۔بی جے پی اور شیو سینا کی حکومت نے اس کمیشن کو توڑ دیا تھا جب کہ کانگریس اور این سی پی حکومت نے اپنی آنکھیں موند لی ہیں۔ کانگریس کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت کی کبھی خواہش ہی نہیں رہی کہ ممبئی فسادات کے خاطیوں کو سزا دی جائے۔ اس کی نیت کا پتہ اس کی اس عرضی سے چلتا ہے جو انہوں نے سپریم کورٹ میں داخل کی تھی۔ مہاراشتر حکومت نے 24نومبر 2002کو سپریم کورٹ سے 1993 کے ممبئی بم دھماکے سے تعلق شری کرشن انکوائری کمیشن کی رپورٹ اس بنیاد پر مسترد کئے جانے کی اپیل کی تھی کہ اس واقعہ کو طویل عرصہ ہوگیا ہے اور اس سے نیا تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں فسادات کے لئے پولیس افسران اور اس وقت کی شیو سینا ۔بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے وکیل اشوک دیسائی نے اس وقت کے چیف جسٹس جے بی پٹنائک، جسٹس کے جی بالا کرشنن اور جسٹس ایس بی سنہا کی ڈویژن کے سامنے کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کرنے کے لئے دائر کی گئی مختلف عرضیوں کی سماعت کے دوران یہ اپیل کی تھی۔مہاراشٹر حکومت نے ممبئی بم دھماکہ کے بارے میں یہ بات کیوں نہیں کہی تھی۔ممبئی فسادات کے دوران شیو سینا ایم پی مدھوکر سرپوتدار کو اسلحہ کے ساتھ فوج نے گرفتار کیا گیا تھالیکن اس کا بال باکا نہیں ہوا۔ سنجے دت کو سزا ملی لیکن سرپوتدار کو ایک دیگر پارٹی ورکر کے ساتھ بہت شور مچانے کے بعد بہ مشکل 10جولائی 2008 کو ایک سال کی سزا ملی تھی سزا ملتے ہی انہیں ضمانت پر رہا کردیاگیا تھا۔ یہ ہے انصاف کرنے کا حکومت کا پیمانہ۔اسے امتیاز ، تعصب اور دوہرا معیار نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔جس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں اور خوف و ہراس کا ماحول گھنے سیاہ بادل کی طرح چھا رہا ہے اس میں کسی انصاف کی توقع کرنا عبث ہے۔ اس کا جواب صرف سیاسی عزم سے دیا جاسکتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کے انتشار و افتراق اور مسلکی اختلافات نے مسلمانوں کو کسی لائق نہیں رکھا۔کسی مذہبی پروگرام لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوجائیں گے لیکن کسی ظلم ، ناانصافی اور حقوق کے لئے کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ اس طرح میں حالات میں مسلمانوں کے ساتھ برا نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے سارے ستون زعفرانی رنگ میں سرابور ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج میڈیا بڑے زور شور سے چلا رہا ہے بمبئی بم دھماکوں کے گناہ گار کو پھانسی دی جائے لیکن یہ چلاتے وقت میڈیا کبھی یہ کیوں نہیں کہتا کہ شری کرشنا کمیشن کو نافذ کیا جائے، ممبئی فساد کے خاطیوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ کیا ممبئی فسادات کے دوران قتل ہونے والے مسلمان انسان نہیں تھے۔ کیا ان کے لئے ہندوستان میں کوئی انسانی حقوق نہیں ہے۔ یہاں کا نظام عدل مسلمانوں کے لئے تنگ کیوں ہے؟۔ ہندوستانی جمہوریت کے چاروں ستون مسلمانوں کے لئے زنگ آلود کیوں ہے؟ اتنے بڑے پیمانے پر ناانصافی کرکے یہاں کی حکومت آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ کیا مسلمانوں کو انصاف اور ترقی کے معاملے میں نظر انداز کرکے ملک کو ترقی دی جاسکتی ہے۔اس واقعہ پوری دنیا میںیہی پیغام جائے گا کہ یہاں انصاف میں امتیاز برتا جاتاہے۔ اس کے علاوہ یہاں جانچ ایجنسیوں کے وعدے پر بھی بھروسہ نہیں کیا جائے گا۔ 
یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا کا دن جوں جوں کی قریب آرہا ہے اس سے متعلق نئی نئی انکشافات ہورہے ہیں۔ بہت سے قانونی ماہرین پھانسی کی سز پر ہی سوال اٹھارہے ہیں۔یگ موہت چودھری کا کہنا ہے کہ جس قانون کے تحت یعقوب میمن کوپھانسی کی سزا دی گئی ہے اس قانون یعنی ٹاڈا کو ہندوستان کی پارلیمنٹ نے رد کردیا ہے۔اس قانون کے تحت سزا کیسے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ مذکورہ جرم میں مجرم کا کیا رول تھا۔ماہرین تفتیشی ایجنسی کے نئی دہلی سے گرفتار کرنے پر بھی سوال اٹھارہے ہیں کہ یعقوب میمن پاکستان سے نئی دہلی اسٹیشن کیسے پہنچا۔ اگر یعقوب میمن خود سپردگی نہیں کرنے آیا تھا تو وہ پوری فیملی کے ساتھ ہندوستان کیسے آگیا۔ آنجہانی آئی بی افسر مسٹر رمن سنگھ نے 2007میں لکھا تھا جو اس وقت ریڈیف ڈاٹ کام پر شائع کیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے ڈیل کی بات کہی ہے۔جب ڈیل ہوئی تھی تو پھر پھانسی کی سزا کیسے دی گئی۔ عدالت تو ثبوت اور دستاویزات کے مطابق سزا کا تعین کرتی ہے لیکن یہ ذمہ داری تفتیشی ایجنسی پر ہے کہ وہ کیس کو کس طرح پیش کرتی ہے۔ جیل میں یعقوب سے ملاقات کر کے نکلنے والے خاندان والوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یعقوب نے خود یہ بات کہی ہے کہ مجھے اپنے بھائی کے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔خاندان والوں کے مطابق ان سے ہوئی ملاقات میں یعقوب میمن نے کئی راز سے پردہ اٹھایا ہے، جنہیں وہ جلد ہی لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خاندان کے ایک رکن نے بتایا کہ یعقوب نے انہیں بتایا کہ سرینڈر کرتے وقت اس وقت کے وزیر داخلہ نے ان کو یقین دلایا تھا کہ انہیں پھانسی نہیں ہوگی۔یعقوب کے خاندان کو نہیں پتہ کہ وہ پھر یعقوب سے مل پائیں گے یا نہیں، لیکن ان کا دعوی ہے کہ ان کے پاس کہنے کے لئے کافی کچھ ہے، جسے وہ جلد ہی سامنے لے آئیں گے. خاندان کے مطابق یعقوب نے ابھی تک امیدیں نہیں چھوڑی ہیں۔اگر یعقوب کو مذہبی بنیاد پر پھانسی پر جلد بازی نہیں کی جارہی ہے تو اس سے پہلے پھانسی کی سزا پانے والوں پھانسی کیوں نہیں دی گئی ہے۔ ممبئی فسادادت میں سے کسی ایک بھی سزا کیوں نہیں دی گئی ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو واضح کرتی ہیں یہاں سزا مذہبی بنیاد دی جاتی ہے۔ 
ممبئی بم دھماکے ملزمین کو سزا دینے میں کسی کو اعتراض نہیں ہے لیکن اس بات پر اعتراض ضرور ہے ممبئی فسادات کے ملزمین کو بھی سزا دی جانی چاہئے ۔کیا انہیں اس لئے سزا نہیں دی جارہی ہے کہ وہ ہندو ہیں۔ یا فرقہ پرست پارٹیوں سے ان کا تعلق ہے۔ فسادات میں ملوث پولیس افسران کو محض اس لئے سزا نہیں دی گئی کہ اس سے ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ٹی وی نیوز چینلز اخبارات میں چلنے والی بحث میں ہر کسی نے بم دھماکے کے متاثرین کے لئے آنسو بہائے لیکن کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ممبئی فسادات متاثرین کے لئے بھی آنسو بہاتے یا ان کے دکھ درد جاننے کی کوشش کرتے ۔ توکیا اس مطلب یہ ہوا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو انسان کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا؟۔انصاف بھی ہندو اور مسلمان کا چہرہ دیکھ کر کیا جاتاہے۔ جب کہ ممبئی فسادات کے متاثرین کا درد بم دھماکوں کے متاثرین سے بڑا ہے ۔ اگر انسانی جانوں کا اتلاف ہی کسی بڑے جرم کاپیمانہ ہوتا ہے تو ممبئی فسادات کسی بڑے جرم کے زمرے میں کیوں نہیں آیا محض اس لئے مرنے والا مسلمان تھا۔ 
ڈی۔ 64فلیٹ نمبر 10، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا ، نئی دہلی۔ 110025
abidan...@gmail.com
9810372335


yaqoob meman death sentence and muslims.inp
yaqoob meman death sentence and muslims.pdf
یعقوب میمن کی پھانسی میں اتنی عجلت عدل میں امتیاز کا منہ بولتا ثبوت.docx

Tanvir Aijaz Siddiqui

unread,
Jul 25, 2015, 11:08:42 AM7/25/15
to Bazm e Qalam
جو بھی اس ملک میں یہ امید رکھتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف ھوگا  وہ احمقوں کی جنت میں  رہتا ہے -  ملزموں کو قرارواقعی سزا ملنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا انصاف ملنا -  یہ تو کانگریس کے دور میں بھی نہیں ہوا -





--
Tanvir Aijaz Siddiqui
99244 00666/9979332786

Aalim Naqvi

unread,
Jul 26, 2015, 6:15:29 AM7/26/15
to nehal sagheer, nrin...@googlegroups.com, BAZMe...@googlegroups.com
Yaqub Memon.inp

omair manzar

unread,
Jul 26, 2015, 6:20:40 AM7/26/15
to BAZMe...@googlegroups.com

محترم پی ڈی ایف فائل بھی بھیجا کریں.
کرم ھوگا
عمیر منظر

Aalim Naqvi

unread,
Jul 30, 2015, 6:27:43 PM7/30/15
to BAZMe...@googlegroups.com
HAM JINSI KA AZAAB.inp

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 1, 2015, 12:26:22 PM8/1/15
to



Taza Column ''AAJ-KAL""

’’ ہم  بھول جاتے ہیں، ہم بھول جائیں گے ۔۔۔۔!‘‘
 دسمبر1992ء کی ایک شام گزر  چکی تھی اور  رات اپنی سیاہ چادر پھیلا نے کے عمل میں لگی ہوئی تھی۔ تار دیو(ممبئی)  کے سرکل پر ایک پُراسرار کیفیت نے ہمیں چونکایا اور ہم نے  چاروں جانب نظریں دَوڑائیں تو ایک شدید خطرے کی بٗو نے ہمیں بوکھلا دِیا ہم ایورسٹ بلڈنگ کی عقب میں دفترکی طرف لوٹ گئے۔ وہاں اپنے ساتھیوں کو مخدوش حالات کی اطلاع دے کر کچھ دیر بعد ممبرا  روانہ ہو گئے۔ 
 دو سرے دِن  تو شہر میں ’’مہا آرتی ‘‘کی گونج تھی۔ ہم تو اس  دن  اخبار کے د فتر نہیں  گئے مگر کچھ ساتھی   پہنچے  اور دفتر  میں کام ہوا اُس دن کی رات بہت بھاری گزری۔ مہا آرتی   شروع ہو چکی تھی۔  اخبار کے دفتر میں کاتبوں میں کئی ایسے تھے جو  داڑھی رکھتے تھے۔  نہایت خطرے کے آثار و قرائن تھے۔  اخبار کے منتظمین نے سُرعت  کے ساتھ تمام عملے کو ایورسٹ بلڈنگ کے اپنے  دوسرے دفاتر میں  پہنچا کر بند کردِیا اور باہر سے تالا لگا دِیا ۔  روایت ہے کہ مقامی ’’شا کھا ‘‘کی  طرف سے اخبار والوں سے کہا گیا  تھا کہ اپنے دفتر میں کام کرنے والوں میں سے  بس ایک ’’ ڈاڑھی والا‘‘ دیدو۔۔۔  اخبار  کے جو لوگ تحفظ کی خاطر ایورسٹ بلڈنگ  میں بند کئے گئے تھے ان میں  اُردو ٹائمز کے سابق  ایکزیکٹیو ایڈیٹر عَالِم نقوی بھی  تھے اور سینئر کاتب عرفان علوی بھی۔۔۔ واضح رہے کہ یہ دونوں حضرات اپنی داڑھیوں کے سبب اپنے  مذہب کا اعلان بنے ہو ئے تھے ۔ کسی طرح ایک رات ان لوگوں نے  ایورسٹ بلڈنگ کی پناہ گاہ میں گزاری اور پھردوسرے دن وہاں سے نکل سکے۔۔۔ہمارے دونوں ساتھی عالِم نقوی اور سید محمد عباس بتاتے ہیں کہ اُس رات ہم نے کھڑکیوں کی دراروں سے جو کچھ دیکھا اور  نیچے گزرتے ہوئے ’ ’ مہا آرتی‘‘ کے جلوس کے جو نعرے سنے وہ دودَہے  سے زائد مدت گزرنے کے باوجود ابتک ذہن میں تازہ ہیں: ’’ ہندی، ہندو، ہندوستان،مسلم جاؤ پاکستان‘‘۔۔۔ اس کے بعد پورے شہر میں ’ سینا‘ کے درندوں نے جو تانڈو ناچ کا مظاہرہ کیا اس کے گواہ  ایک دو نہیں بیشماراشخاص  اس شہر میں ابھی موجود ہیں اور ہمیں یاد ہے کہ اس مسلم کش فساد کی تحقیقی رپورٹ جو  جسٹس سری کرشنا نے حکومت کو دی تھی اس میں  ان فسادات کی خوں چکا داستان نہیں بلکہ روداد لکھی گئی تھی  وہ تمام دُنیا  کے علم میں ہے مگر حیرت ہے کہ اسے آج بھلا دِیا گیا ہے۔ اس فساد میں بیشمارمسلمان مارے گئے تھے اور کتنے  ہی لوگ  بے گھر ہوئے کتنوں کی املاک اور کاروبار  تباہ و برباد کردِیے گئے۔ ایک عام روایت کے مطابق مَرنے والے مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ کتنے ہی مسلمانوں نے  جان جانے کے خوف سے اپنی مسلم شناخت  یعنی داڑھی اور اپنے لباس وغیرہ تبدیل کر لیے تھے۔ دِسمبر تا مارچ کے پہلے ہفتےکے  ایام،  شہر اور مضافاتِ ممبئی  کے مسلمانوں پر  ایک قیامت کی طرح گزرے  تھے ۔  یہ جملہ تو ہم  ایک لمحے  میںلکھ گئے مگر وہ ایام جن پر گزرے  اُن پر تو وہ وقت پہاڑ کی مانند گرا تھا کہ ان فسادات  میں جو عورتیں بیوہ ہوئیں، جو بچّے یتیم و یسیر ہوئے   ان  سے کوئی پوچھے کہ اُن پر اُس وقت ہی نہیں اور اس کے بعد بھی کیا کچھ گزرگئی ۔۔۔!!۔۔۔ یاد آتا ہے اسی دوران لوکل ٹرین میں سفر کرتے ہوئے ہم  برادرانِ  وطن سے جو  ڈائلاگ سنتے تھے وہ ابھی ذہن سے محو نہیں ہوئے ۔۔۔ ’ل‘۔۔۔ لوگ کو بتا دِیا گیا کہ تمہاری کیا اوقات ہے ۔ بہت  شیانے بنتے تھے  پتہ چل گیا نا ۔۔۔!!‘‘۔۔۔ بس میں کوئی ایسا شخص چڑھا   جو کسی طور مسلمان معلوم ہو رہا  تھاتو  فوراً جملہ پاس ہوا     : ’’ کائے رے کُٹے جانار ۔۔۔ پاکستان یا قبرستان۔۔۔؟‘‘  مختصر یہ کہ جینا دو بھر ہوگیا تھا مسلمانوں کا اِس شہر میں۔  جب ہزاروں مسلمان مارے جاچکے ،  بیشمار بچے یتیم ہو چکے تو سینا پر مکھ کا  جو بیان (اخبار) ’سامنا ‘میں  چھپا تھا  وہ  بھی ہمیں یاد ہے۔۔۔’’  بس کرا‘‘۔۔۔ بالا صاحب  کا  یہ’’ رحم‘‘ بھی تاریخ   میںدرج  ہے۔۔۔وہ دِن یاد آتے ہیں تو آج بھی دِل میں ایک سناٹا اور مایوسی  کے سائے محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔
 پھر مارچ کے  دوسرے عشرے کے دو سرے دِن نے  صورتِ حال بالکل اُلٹ دی۔ پھر یہ  ڈائیلاگ بھی چلا کہ ’’ پانڈوبھاؤ! ٹیسٹ میچ کے بعد    وَن ڈے میچ کیسا رہا  ۔ ۔۔ !‘‘۔۔۔  دونوں فرقوں میں ہم جیسے لوگ نہ پہلی صورتِ حال  پر خوش ہو سکتے ہیں اور نہ ہی  اُس ردِ عمل پر جو بعد میں ہوا۔ معصوم انسان کہیں بھی مارا جائے  اُس کی  موت ۔۔۔ہماری موت ہے۔
  ممبئی  میںمارچ 1993  کے سیریل بم بلاسٹ کے   ایک مجرم یعقوب میمن کو کل پھانسی دیدی گئی۔ اُس کی   سزا کے  حوالے سے پورے ملک میں خوب بحث و مباحثے  ہوئے مگر اس بحث میں   1993  کے سیرئل بم بلاسٹ  ہی کی بات کی گئی ،  ان دھماکوں کے اسباب کیا تھے ۔؟ اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں تھی اور اگر کسی سیکولر شخص نے یہ بات کہی تو اسے یوں گھیر لیا گیا کہ  جیسے اس نے کوئی نا شائستہ بات کہہ دی ہو۔ آج لوکل ٹرین میں دو اشخاص کے درمیان  ہونے والے ایک مکالمے  میں ہمیں  پھربتا  یاگیا ہے کہ ’’ ۔۔۔ل۔۔۔  لوگ کو قبرستان پہنچادِیا جائے گا۔‘‘۔۔۔ خیر  یہ سب سننے کیلئے  تو ہم تیار رہتے ہیں، مگر حیرت ہے کہ  ابھی  جسٹس سری کرشنا زِندہ ہیں انھیں کسی  نے یاد نہیں کیا اور ان کی ہزارہا صفحات والی رپورٹ تو کانگریس حکومت نے پہلے ہی  سردخانے  میں ڈال دی تھی اب  بی جے پی سرکار سے کوئی کیا توقع کرے۔!! ۔۔۔فرد نویس نے تو بتا دِیا کہ آئندہ  ہماری فرد میں کیا کیا لکھا  جا سکتا ہے مگر کیا۔۔۔’ قوم‘۔۔۔ بھی کچھ سمجھ سکی۔۔۔؟ یا  اسے بھی  ہم بھول جائینگے۔؟
ن۔ص

--
NadeemSiddiqui



--
NadeemSiddiqui



--
NadeemSiddiqui
aaj-kal-01-August-15 copy.jpg
aaj-kal-01-August-15.pdf

Firoz Hashmi

unread,
Aug 1, 2015, 10:32:31 PM8/1/15
to BAZMe...@googlegroups.com
بات تو اچھی ہے۔ پتا نہیں ہمیں غور کرنے کی توفیق کب ہوگی؟

--



--
(Dr.) Mohammad Firoz Alam 
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com

umar shaikh

unread,
Aug 3, 2015, 4:19:48 AM8/3/15
to BAZMe...@googlegroups.com
A1.jpg

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 3, 2015, 8:58:56 AM8/3/15
to
جناب والا 
اردو ٹائمز(ممبئی) کا تازہ ادبی  صفحہ منسلک ہے۔
ندیم صدیقی







اردو ٹائمز، ممبئی کا تازہ ادبی صفحہ

مطلع
٭ محمدحسن عسکری ایک جگہ فرماتے ہیں :
” پرانے ادب والوں کے پاس روایت ہے مگر اُنھیں یہ نہیں معلوم کہ روایت زندہ کس طرح رہ سکتی ہے اور روایت کی زندگی کے کیا معنی ہیں، نئے ادب والوں کے پاس روایت کو زندہ رکھنے کے ذرائع ہیں مگر روایت کی اہمیت کا احساس نہیں۔ ادبی روایت کتنی ہی جامد کیوں نہ ہو، شعور کی تبدیلیوں کو نہیںروک سکتی کیونکہ خارجی محرکات کو نظر انداز بھی کر دیں تو بھی انسانی شعور ایک جگہ قائم نہیں رہ سکتا۔ روایت کو اگرزندہ رہنا(رکھنا) ہے تو ان تبدیلیوں کےلئے کسی نہ کسی طرح جگہ نکالنی پڑیگی، ورنہ روایت مر جائے گی۔“
خوشبو
ایک ایک لفظ تمہارا تمہیں معلوم نہیں
 وقت کے کھُردرے کا غذ پَہ رقم ہوتا ہے
وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا
 وقت کے پاس کہاں رحم و کرم ہوتا ہے!
٭ والی آسی
سپنوں کے سوداگر 
کہانی کار:نعیم کوثر (بھوپال)
”آم والے آم دے ، آ م ہیں دربار کے “
”ہم بھی ہیں سرکار کے، ایک آدم لے لو “
”یہ تو کھٹاہے ۔ دو آم لے لو “ 
چنبیلی گلاپھاڑ کرچلاتی ”میرے دونوں میٹھے ، دونوں میٹھے “ 
گنپت اپنی بہن چنبیلی کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ پتا لکشمی کھانس کھانس بے حال تھا ۔ اشاروں سے دونوں کو چپ رہنے کو کہا۔ صبح سے رات گئے بھائی بہن کھیل کود میں مست رہتے ۔ ماں اور پتاکھیتوں میں کام کرتے تھے ۔ وہاں بھی لکشمن بلغم اگلتا اور مقادم کی گالیاں سہتا۔ سنیچر کی دوپہر تحصیلدار انوکھی لال سکسینہ دورے پر آرہاتھا ۔ لکشمن نے طے کیا ۔ جا کر روئے گا، کھانسے گا ۔گنپت کو دس پانچ روپئے نوکری کی وِنتی ضرور کرے گا۔ 
انوکھی لال سکسینہ کی بانچھیں کھل گئیں ۔ ماتحتوں سے کئی بار کہا ۔ کوئی لڑکا ڈھونڈ دیں ۔ بیٹا ارو ن چھٹے گلاس میں پہنچ گیاہے ۔
 پتنی سرکاری اسکول میں ٹیچر ہے ۔بیٹے کو دوپہر بعد اکیلا رہنا پڑتا ہے ۔ 
” لکشمن کام کچھ نہیںہے ۔ انوکھی لاک کو لکشمن کا کھانسنا بالکل برا نہیں لگا ۔ بیٹے کے ساتھ کھیلے کودے ۔ اسکول ایک کلو میٹر دور ہے ۔ بیگ اُٹھا کر چھوڑ آئے ۔ ایک بجے تک وہیں رُکے ۔ چھٹی ہو گھر لے آئے ۔ وہیں کھائے پیئے ، کپڑے لتّے بھی سلوا دیں گے ۔ ۷۵ روپئے مہینے گاو ¿ں بھجوادیں گے ۔ لکشمن کی چھاتی کا بلغم جیسے پانی ہوگیا۔ آنکھیں چھلک گئیں ۔ تحصیلدار کے قدموں میں سرٹیک دِیا ۔
”بڑابوجھ اُتارا حضور نے ، میرے اچھے دن آگئے “۔ 
”شام کو جیپ میں بٹھا دینا ، کوئی فکر مت کرنا “ ۔
چنبیلی نے سنا ، رو رو کر ہلکان ہوگئی ۔ اس کی ماں اورلکشمن نے سمجھایا بجھایا ۔ شہر میں رہ کر دو شبد پڑ ھ لکھ لے گا ۔ یہاں کھیتوں میں جیون نشٹ کرنے سے کیا لابھ؟“
ارون کو گنپت بھاگیا۔ پاپا اس کیلئے نئے کپڑے لائے ۔ پہلے دن اِسکول گیا۔ راستے بھر باتےں کرتے گئے ۔ جنگل میں شیر کی دہاڑ سنی ، گیدڑ لومڑی دیکھی ، ہرن سانبھر چوکڑیاں بھرتے ہیں ۔رنگ برنگے پرندے ، ندی میں مچھلیاں ، رات کوجگنو ، ساون میں جھولے ، کو ئل کی کوک ، ارون حیران ہوتا ، پوچھتا ۔ ”جگنو کیسا ہوتا ہے ۔ ساون کس چڑیا کا نام ہے ؟“
 اسکو ل کے میدان میں لڑکے اِکٹھا ہوئے ۔ جن من گن ایک آواز میں گایا ۔ ڈرل ہوئی ۔ ایک دوتےن ۔ دونوں ہاتھ آگے اوپر اور دائیں بائیں ۔ گنپت پہلے جِھجھکا ۔وہ دو رکھڑا تھا ۔ ہمت بٹوری اوردوسرے لڑکوں کی طرح ایک دوتےن کرنے لگا ۔ ہفتے بھرمیں گنپت گاو ¿ں کے سنسکار بھول گیا ۔ آم والے آم دے اسے کٹھے محسوس ہوئے ۔ جن گن من فراٹے سے گانے لگا۔ ارون نے ضد کی تو پایا نے گنپت کا بستر ارون کے کمرے میں لگوادیا۔ ساگون کی مسہری پر ڈنلپ کاگدّا ، ریشمی لحاف میںموٹی نرم روئی ۔ فرش پر گنپت کی دری ، اوڑھنے کو گاندھی آشرم کا کمبل ، گنپت جب ارون کے بستر کی چادربدلتا ،تب کافی دیر تک گدے پر ہاتھ پھیرتا ۔ ہتھیلی میں جیسے مور کے پرگد گدی مچاتے ۔ اسے کھیت کی مٹی کی سوگندھ آتی تو شرم سے سرجھکا لیتا ۔ 
”ممی سے پوچھ لیا ہے ، تم بھی نہا کر آجاو ¿“ ارون نے آہستہ سے آگے کہا ”میرے خوشبو دار صابن سے نہانا “ اُ س نے تاکید کی ”نہانے کے بعد صابن اورفرش اچھی طرح دھو دینا “۔ مہینہ نہیں گزر اہوگا ۔ گنپتAسے لے کرZتک انگریزی سیکھ گیا۔ جسم سے حمام صابن کی خوشبو بہنے لگی ۔ سرپر بال بڑھے ، باربر کی دُکان پر سنو ر گئے ۔پہلی بار ناخن ترشوائے ۔ مٹی بھری رہتی تھی ۔ رات کوآرام سے سوتا ، پتا کی کھانسی کااتاپتا نہ تھا ۔ 
وہ نیند میںخراٹے لے رہا تھا ۔ اچانک ارون بیڈ سے اترا ۔ گنپت کو جھنجھوڑا۔ 
”اُٹھو گنپت اٹھو“ گنپت بوکھلا کر اوندھا سیدھا ہوا۔ ایک دم کھڑا ہوکر ایک دوتےن کرنے لگا۔ ذرا ہوش ٹھکانے آئے تو ارون کو ڈرا ہو ادیکھا ۔ پوچھا: ”بھیا صاحب کیا ہوا ؟ “ارون بیڈ پر بیٹھا اوربتانے لگا ۔ اسے ڈراو ¿نا سپنا آیا ۔ تم میرا بیگ لئے بھاگ رہے ہو ۔ کلاس کے لڑکے پکڑنے کیلئے پیچھا کررہے ہیں ۔ تم نے رُکنے کا نام نہیں لیا ۔ تب پاپا آگئے ۔ چیخ کر کہا گنپت رک جا ۔ تےرے پتا کا دیہانت ہوگیا ہے ۔ تم رُک گئے ۔ پاہا سے چھما مانگی ۔ بڑے صاحب میں تول رہا تھا ۔ پستکوں میں کتنا بوجھ ہوتا ہے ۔ مزدور کا بیٹا گارامٹی ڈھووے ہے ۔ پڑھائی لکھائی اس کے ارتھی ہوتی ہے ۔ آٹھ کاندھے چاہئے ہوتے ہیں۔
 گنپت ہنسنے لگا۔
”بھیا صاحب سو جاو ¿ ۔ میں پڑھنے نہیں آیا ۔ آپ کا نوکرہوں “ 
دوسری رات گنپت کی نیند کھل گئی ۔سپنا ادھورا رہ گیا۔ چنبیلی کپڑے دھونے ندی پر گئی ۔ پاو ¿ں پھسلا ۔ گہرے پانی میں چلی گئی ۔ وہ چیخ رہی تھی “ بھیا جلد ی آو ¿ ۔ مجھے بچاو ¿“۔ 
گنپت نے دیکھا ارون گہری نیند میں تھا ۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ مچل رہی تھی ۔ اس نے سونے کی بہت کوشش کی ۔ آنکھیں بند نہیں ہوئیں ۔ ارون کے چہرے کوتا کتارہا۔ کتنی منچلی اورسہانی مسکراہٹ تھی ۔ اسے دسہرے کی نوٹنکی یاد آئی ۔ ہنو مان جی غصے میں تھے ۔ نیز ہ اُٹھائے شتر و پروار کرتے وقت اُن کی پونچھ کھل گئی ۔ سارے لوگ ہنسی سے دُہرے ہوگئے ۔ سوتے میں وہ بھی کھلکھلا پڑا تھا ۔ ماں نے ہلایا ڈلایا ۔” ارے موڑے “۔ باو ¿لاہوگیا ؟ “
سویرے ارون منہ دھوکر آیا ۔ گنپت سے رہانہیں گیا۔ پوچھا۔ 
”بھیا صاحب ۔ نیند میں خوب ہنس رہے تھے “۔ 
”مت پوچھو گنپت ۔ عجب سپنا تھا ، بھگوان آئے تھے “۔ 
”بھگوان ۔ سچی ، کیسے تھے ؟“ 
گنپت نے دانوں تلے انگلی داب لی ۔ 
”ہاں ۔ ہاں تم نے ٹی وی پر رامائن دیکھی ؟ بس ویسے تھے بھگوان “۔ گنپت منہ تاکتارہ گیا۔اس نے ٹی وی سی بلاکا نام بھی نہیں سنا۔ نہ رامائن کو جانتا تھا ۔ ”تو گنپت “ ۔ ارون بولا۔ بھگوان نے سرپر ہاتھ پھیرا ، میں پورے کا پورا سونے کا ہوگیا ۔ گلے میں موتےوں کا ہار، انگلیوں میںہیرے کی انگوٹھیاں ۔ پر سویرے جلدی نیند کھل گئی ۔بہت دکھ ہوا ۔گرمی کی چھٹیاں ہوگئی تھیں ۔ دونوں آزاد تھے ۔ نہ بیگ ، نہ جن گن من اورڈرل ۔ دن گزرے اوررات آتی ہے ۔ ارون کو بھگوان کے درشن نہیں رکے ۔ اس نے ممی پاپا کو ہیرے موتےوں اور سونے سے لدا دیکھا۔ ہوائی جہاز سے لندن گھوما ۔ کشمیر کی جھیل ، شالیمار گارڈن کے نظارے کئے ۔ پلک جھپکتے برفانی بابا کے در شن ہوگئے ۔
” گنپت میںنے کتنے اچھے سپنے دیکھے ۔ تمہیں سپنے نہیں آتے ؟“
”جب سے یہاں آیا ہوں ۔ دن رات سپنے آتے ہیں چھوٹے بھیا۔ “ گنپت بولتاگیا ۔ یہ جادو کا گھر ہے ۔ بھگوان آتے ہیں۔ سونا موتی برستے ہیں ۔ پتا جی اورماں بھی آتی ہےں ۔ اب انہیں خون کی اُلٹی ہوتی ہے ۔ ماں دُبلی ہوگئی ۔ کڑی سردی ہے ۔ ماں کھیت میں کھرپی چلاتی ہے ۔ چنبیلی پڑوس میں آم والے آم دے کھیل رہی ہے۔ “ پرنتو کتنی راتےں بیت گئیں چھوٹے بھیا “ شیر کی دہاڑ ، مورکی پیہو ، گیدڑ، ہرن ، سانبھر ، رنگ برنگے پرندے ، ندی اور مچھلیاں ، جگنو اورکوئل ، ساون کے جھولے سب روٹھ گئے ۔ کیا سمے آگیا ۔ 
” چھوٹے بھیا کل ضرور بڑا سپنا دیکھا ۔ میں اسکول میں پڑھ رہا ہوں ۔ جن گن من گایا اور ....“
” بس چپ ہوجاو ¿ گنپت ۔ یہ کوئی سپنا ہے ۔ ممی کہتی ہےں نا ۔ شیخ چلی کا پلاو ¿“ ارون زورزور سے ہنسنے لگا۔ گنپت اُداس ہوکر بولا ۔
”چھوٹے بھیا آپ کے سپنے مجھے دے دو“۔ارون ڈر گیا۔ آسمان پر بجلی کڑک رہی تھی ۔ ٭
رابطہ : 09200000905
٭٭
زباں بگڑی تو بگڑی تھی‘ خبر لیجے دہن بگڑا
٭ ظفر اقبال
''دُنیا زاد“ ہی کے تازہ شمارے کے آخر میں زبان کے حوالے سے چار مختصر مضامین بعنوان”'زبان کی واٹ“، ''دماغ کا دَہی“، ''ریڈیو کا ڈھکن“ اور ''کراچی کا کدو“ مفید ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی دلچسپ بھی ہیں‘ جن میں کراچی اور دیگر مقامات پر زبان میں نئی اصطلاحات‘ محاوروں اور الفاظ کے اضافے کا ذکر کیا گیا ہے‘ نیز پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اکثر الفاظ کو غلط تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کا رونا بجا طور پر رویا گیا ہے جس کی طرف توجہ دِلانا بہت ضروری تھا۔ مضمون بعنوان ''ریڈیو کا ڈھکن“ میں یہ اندراج بھی پایا گیا کہ آفتاب اقبال اپنے ٹی وی پروگرام میں زبان کی اصلاح کے لیے چند قیمتی منٹ صرف کرتے ہیں۔ یہ ایک گراں قدر کوشش ہے لیکن ان پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ چار چھ منٹ کی اصلاح سے پہلے اور بعد میں پینتیس چالیس منٹ بھانڈوں کی گفتگو سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اس پر اتنی وضاحت ہی کافی ہوگی کہ یہ بنیادی طور پر کامیڈی پروگرام ہے‘ اصلاحِ زبان کا نہیں۔ 
زبان اور تلفظ کی اصلاح کے لیے طرح طرح کی فرہنگیں موجود ہیں لیکن فرہنگ کو آج کوئی اہمیت دیتا ہے اور نہ اس سے استفادے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور میڈیا پر کئی طرح کے الفاظ غلط معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھنے سننے کو ملتے ہیں۔ صرف ایک مثال کافی ہوگی کہ اینکروں‘ صحافیوں اور وزیروں‘ مشیروں سمیت وقت کو وقَت ہی پڑھا اور بولا جاتا ہے‘ حتیٰ کہ ہمارے دوست نجم سیٹھی اپنے نام کے تلفظ کے ساتھ بھی گڑبڑ کر جاتے ہیں اور نجم کی جیم کو بالفتح یعنی زبر کے ساتھ ادا کرتے ہیں جبکہ انگریزی میں بھی وہ Najm کی بجائے Najam ہی لکھتے ہیں۔ بہرحال اپنے نام کو غلط ادا کرنے والے وہ پہلے آدمی نہیں ہیں بلکہ ہمارے وقت کے ممتاز شاعر جعفر شیرازی، جعفر کو شاعر اور ساحر کے تلفظ پر ادا کیا کرتے تھے جو میرے ٹوکنے ہی پر باز آئے۔ 
دوسری افسوسناک بات یہ ہے کہ غلطی کی نشاندہی پر ش ±کر گزار ہونے کی بجائے ناراضی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے فہمیدہ ریاض نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ سنا ہے آپ نے میرے خلاف مضمون لکھا ہے۔ ان کا اشارہ اس تبصرے کی جانب تھا جس میں‘ میں نے ان کی کتاب ''یہ خانہ ¿ آب و گل“ پر راغب شکیب کے رسالے میں تبصرہ کیا تھا جو مولانا رومیؒ کی غزلوں کے ترجمے پر مشتمل تھی۔ میں نے اس میں حضرت مولانا کی امرد پرستی کے حوالے سے لکھا تھا کہ کس طرح انہیں اپنے محبوب نوجوان سے ملنے کے لیے ایک طویل اور کٹھنائیوں بھرا سفر طے کرنا پڑا۔ البتہ میں نے ترجمے کی کچھ غلطیوں کی نشاندہی بھی کی تھی جسے انہوں نے مخالفت سمجھا۔ میں نے احمد ندیم قاسمی کی ایک تحریر میں غلطیاں نکالیں تو احمد فراز نے کہا کہ تمہیں ندیم صاحب کی غلطیاں نہیں نکالنی چاہیے تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر معروف لوگوں کی زبان و بیان کی اغلاط کی نشاندہی نہ کی جائے اور ان کی اصلاح نہ ہو تو یہ غلطیاں نسل در نسل آگے سفر کرتی ہیں۔ اسی طرح میں نے ڈاکٹر انیس ناگی کے ایک مضمون (انیس ناگی کم از کم اردو تو سیکھ لیں: لاتنقید) میں بے شمار غلطیاں نکالیں تو انہوں نے اپنے رسالے میں میرے خلاف لکھنا شروع کردیا۔ میں نے شامتِ اعمال سے شمس الرحمن فاروقی کے ایک مضمون میں‘ جو ا ±ن کے رسالہ ''شب خون“ میں چھپا تھا‘ غلطیاں نکالیں تو انہوں نے میرا وہ خط تو چھاپ دیا لیکن اس کی وضاحت میں جو کچھ چھاپا اس میں پہلے سے بھی زیادہ غلطیاں تھیں جس پر میں نے انہیں ایک اور خط لکھا جسے وہ گول کر گئے‘ اور اس طرح میری ان کے ساتھ ک ±ٹی ہو گئی اور انہوں نے اپنے غالب والے بیان سے رجوع کرلیا۔ میں نے کشور ناہید کی کتاب ''دہشت اور بارود میں لپٹی شاعری“ پر لکھے گئے انتظار حسین کے مضمون مطبوعہ ''دنیا زاد“ میں کوئی 30 کے قریب غلطیاں نکالیں تو اس پر پہلے تو موصوف نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا بلکہ ایک محفل میں کہا کہ ظفر اقبال کی کچھ باتوں سے مجھے اتفاق ہے اور اس کے بعد بھی ہمارے تعلقات نارمل رہے۔ کالموں میں چھیڑ چھاڑ بھی ہوتی ہے اور فون پر گپ شپ بھی‘ بلکہ ان کے میرے بارے میں ایک کالم کا عنوان تھا ''چھیڑتا ہوں کہ ا ±ن کو غصہ آئے“۔ لیکن اب وہی مضمون ''لاتنقید“ میں شامل ہوا تو گویا لاوا ہی پھٹ پڑا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میرے بارے میں لکھتے ہیں کہ
 ''بولتے بہت ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ماں کے پیٹ ہی سے بولتے ہوئے پیدا ہوئے تھے!“ 
آدمی گالی اس وقت دیتا ہے جب اس کے پاس دلائل ختم ہو جائیں‘ لیکن اُن کی اچانک ناراضی کی سمجھ نہیں آئی۔ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ فرانسیسی حکومت کی طرف سے دیا جانے والا ایوارڈ ان سے ہضم نہ ہو رہا ہو جو اُن کا نہیں بلکہ ان کے لابسٹس کا کمال تھا جن میں مہاجر لابی‘ بھارت نواز (اینٹی پاکستان) لابی اور اُردوا سپیکنگ لابی وغیرہ شامل ہیں جبکہ میری کوئی لابی نہیں‘ اکیلا ہوں اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوں۔ کیا انتظار حسین بھی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہیں؟ اگر ان کی فکشن سے دیومالائیں نکال دی جائیں تو باقی کیا بچتا ہے؟ اور اگر واقعی کچھ بچتا ہو تو مجھے جان کر خوشی ہو گی۔ 
مزید لطف کی بات یہ ہے کہ میں تو ایک اخبار میںجبکہ صاحبِ موصوف دو اخباروں میں بولتے ہیں‘ اور زیادہ بولنے کا طعنہ مجھے دے رہے ہیں : 
کیسے تیر انداز ہو‘ سیدھا تو کر لو تیر کو 
آخری بات یہ کہ میں اپنے آپ کو ماہر لسانیات سمجھتا ہوں نہ زبان و بیاں پر کوئی اتھارٹی‘ غلطیاں ہم سب کرتے ہیں‘ کوئی کم کرتا ہے تو کوئی زیادہ۔ اگر کوئی میری غلطی نکالے تو میں اسے اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ خدا ہم سب کو نیک ہدایت دے! 
آج کا مطلع :
سیدھا تھا مسئلہ مگر اُلٹا سمجھ لیا ٪غیروں کا غیر تھا جسے اپنا سمجھ لیا ٭
٭روزنامہ ایکسپریس، کراچی
ایوان غزل
قانون سے ہماری وفا دو طرح کی ہے
انصاف دو طرح کا سزا دو طرح کی ہے
 اِک چھت پَہ تیز دھوپ ہے اِک چھت پَہ بارشیں
کیا کہئے آسماں میں گھٹا دو طرح کی ہے
کس رُخ سے تم کو چاہیں بھلا کس پَہ مَرمِٹیں 
صورت تمہاری جلوہ نُما دو طرح کی ہے
کانٹوں کو آب دیتی ہے پھولوں کے ساتھ ساتھ
اپنے لئے تو بادِ صبا دو طرح کی ہے
 خوش ایک کو کرے ہے کرے ایک کو ناخوش
محبوب ایک ہی ہے ادا دو طرح کی ہے
ایسا کریں کہ آپ کہیں اور جا بسیں
 اس شہر میں تو آب و ہوا دو طرح کی ہے
 ٭ ف۔س۔اعجاز(کولکاتا)
رابطہ:09830483810 
اسے آسودہ کرتے کیوں نہیں ہیں
ہم اپنے جی سے ڈرتے کیوں نہیں ہیں
مرے اندر پرانے کاغذوں سے
نئے خاکے اُبھرتے کیوں نہیں ہیں
سمٹتے کیوں نہیں ہم آنگنوں میں
فضاﺅں میں بکھرتے کیوں نہیں ہیں
اُجاگر ہوچکا اُڑنا اڑانا
زمیں پر پاﺅں دھرتے کیوں نہیں ہیں
ڈرایا ہے یہ کس نے راستوں کو
مِرے گھر سے گزرتے کیوں نہیں ہیں
کہاں ٹھہرا ہوا ہے وقتِ آخر
یہ روز و شب گزرتے کیوں نہیں ہیں
٭ مدحت الاختر(کامٹی)
رابطہ :09421803478
(مرحوم بشرنواز کی زمین میں)
مُنفرد رنگ اُگے، فکر میں جدّت نکلے 
کہہ چکوں مَیں جو غزل، اتنی تو اُجرت نکلے 
اب کہاں عشقِ و بالِ دِل و جاں نکلے ہے؟ 
عیش نکلے‘ کہیں کمبخت تجارت نکلے 
کھڑکیاں کھول دو، اُڑ جانے دو خواہش کے پرند 
وہ جو سَر میں ہے سمائی ہوئی وحشت، نکلے 
اُس کی آنکھوں سے چھلک جاو ¿ں مَیں آنسو بن کر 
زندگی میں کبھی اتنی تو سہولت نکلے
سوچتا کیوںہے بچھڑ جانے کی نسبت سے میاں؟ 
اس سے پہلے کہ کوئی ملنے کی صورت نکلے 
تےن گھر کر گئے آباد، بسا ہے چوتھا!!
شیخ صاحب بڑے پابندِ شریعت نکلے 
ت ¾و کہ منصف، کہیں ہم کیا تیرے شعروں پَہ ندیم!
جانے کب نکتہ ¿ توہینِ عدالت نکلے 
٭منظورندیم (اکولہ )
رابطہ :09372501237
دُنیا بھر کی اس کی باتےں 
ایک غزل اور اِتنی باتےں 
میں نے جینا سیکھ لیا ہے 
کرنے لگا ہوں تجھ سے باتےں 
وہ تو شاید روٹھ گیا ہے 
کیوں کرتا پھر ایسی باتےں 
شیشہ، صحرا، گاگر، ندیا 
سچے ہم تم سچی باتےں 
اپنا رشتہ دستک جیسا 
گھر سے باہر گھر کی باتےں 
ہنستا گاتا ایک سَمُندر 
ڈوب رہی ہیں گہری باتےں 
اچھا تو اب بس کرتے ہیں 
اگلی غزل میں باقی باتےں 
٭ سلیم محی الدین(پربھنی)
رابطہ:09923042739 
ایوان ِ نظم 
انوکھا عدل کر ڈالا !
۔۔۔بالآخر
ظالموں نے حسبِ منشا 
قتل کر ڈالا 
انوکھا عدل کر ڈالا 
ویاپم اوردیگرمسئلوں سے 
ذہن یکسر محو ہوجائیں 
” وہ باغی تھا “ 
” وہ غدارِ وطن تھا “
” دیش دروہی تھا ‘ ‘
عوام الناس بس ایسی ہی 
کج بحثی میںکھوجائیں 
وگرنہ 
یہ تو وہ بھی جانتے تھے 
مَرنے والا 
مَرکے بھی تاریخ میں زندہ رہے گا 
ہجوم بیکساں میں 
چاند تابندہ رہے گا 
اور۔۔۔مورّخ 
منصفوں کو 
جج نہیں۔۔۔
قاتل لکھیں گے٭ 
٭عبد الرحیم نشتر(ناگپور)
رابطہ: 07276071869











NadeemSiddiqui
Lir page-02-Augst-15 copy.jpg
Lir page-02-Augst-15.pdf

Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Aug 3, 2015, 12:52:54 PM8/3/15
to bazme...@googlegroups.com, Nadeem Siddiqui, Urdu Times, Mushtaq Ahmad, Jeddah, Rizvi, Sayed Athar, Saudi Gazette, Shams Ahsan, Saudi Gazette, Anees Siddiqui, Mumbai, Fouzia Khan,Saudi Gazette, Riyaz Mulla, Mr/, Abdul Aziz, Arab News, Jeddah, Anil Pujara, Mr. India, Taiyeb Shaikh, Anjumanite, Pune, Muhammad Jaweed Shaikh, Mumbai, Mir Ayoob Ali Khan, Muhammad Tariq Ghazi, Canada
August 03, 2015
Nadeem Saheb
Salam wa rahmat
Bhugatna to padega k ham zazbat mein bah kar ghalat qadam utha lete hai. 1992 k tando nach ke baad Dilip Padgaonkar Saheb aur deegar sahafiyon ki reports kitabi shakl mein maujood hain jo Justice Sri Krishna Saheb ki report se bahot pahle hi hukoomat aur  awam padh chuke the. Aur bahoton un dino k har pal aur jaghein bhi yaad hain. Chahe woh SulaimanUsman Bakery ho ya Bahram Baugh ya ...... ya ....... ya........

Aap ka sawal durust hai:
 
  ممبئی  میں مارچ 1993 کے سیرئل بم دھماکوں کے اسباب کیا تھے ۔؟ 

In a talk after the hanging of Yakoob Memon, Sahafi Raj Sardesai Saheb ne ek sawal kiya: "... We also have to ask: Is terror being communalised; are we looking at culprits on the basis of the religion that they have ..." 

Woh mazeed farmate hain: "Let me put one final point. The 1993 Bombay blasts were a direct fall out of the Mumbai riots of December 92 and January 93. This is what the Sri Krishna Commission which was appointed to look into the violence explicitly states and as a reporter who covered the riots and the blasts I can say that it is hundred percent true. The fact is that 900 people die in the Mumbai riots. Only a handful have been convicted. Most of the people involved are Scott free or out on bail which why we must ask: Are only certain types of crime could lead to public outrage would result in the death penalty? Would those who are involved in other forms of mass violence go to get away? Is killing your neighbour known as worst then a terror act? And thats the question I want to raise at the end. Those instigate riots in this country have some of them got state funerals, those who perpetrate terror acts deserve to be sent to the gallows. But what of the rest? Its an inconvenient truth that I know but I will continue to ask."

Aur yeh aaj bhi sach hai: ’’ کائے  رے کُٹے جانار ۔۔۔ پاکستان یا قبرستان۔۔۔؟‘‘

Khair Andesh
Mirza
 

  
  
  


Date: Sat, 1 Aug 2015 21:55:44 +0530
Subject: [بزم قلم:45623] Fwd: FW:
From: nade...@gmail.com
To:

HASAN CHISHTI

unread,
Aug 4, 2015, 6:41:22 AM8/4/15
to
Hasan Chishti with Niaz Gulbergavi.jpg
Niaz Gulbargavi 4.jpg
Niaz Gulbargavi Ghazal Tha yeh ajab Moamla Ahl-e-Wafa kay sath.jpg
Niaz Gulbergavi 1.jpg
Niaz Gulbergavi Ghaza;.jpg

HASAN CHISHTI

unread,
Aug 12, 2015, 1:29:36 AM8/12/15
to
Book available with 
(In Chicago)
India Book House
West Devon Ave.,
Chicago, Illinois 60659

(In Hyderabad)
Janab Ghulam Yazdani Saheb
Phone No.2323 3355



Hyderabad.jpg

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 14, 2015, 2:02:55 PM8/14/15
to
عالم نقوی کی ایک تحریر


ہم ہوں گے کامیاب ایک دن !
وقت اشاعت: Friday 14 August 2015 11:04 pm IST

تحریر عالم  نقوی کی ہے 

آزادی کی 68 ویں سالگرہ ہم اس حال میں منا رہے ہیں کہ وطن عزیز پوری طرح فسطائیت ،فرقہ واریت ، مذہبی تعصب اور اختیار و اقتدار سے پیدا ہونے والے بدترین تکبر کا شکار ہے ۔ 

ابھی تک پاوں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی 
دن آجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی !
لیکن یہ سوچ کر دل قابو میں آجاتا ہے کہ ۔۔حقیقی بادشاہ تو اللہ رب ا لعالمین ہے ۔کائینات کی باگ ڈور تو اسی کے ہاتھوں میں ہے ۔جس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے ۔جس کو چاہے عزت دے اورجس کو چاہے ذلیل و رُسوا کر دے ۔ وہ مہر بان ترین آقا تو ہر دم ہمارے ساتھ ہے جس نے فرعون کے لاکھوں نیزے موسیٰ کی ایک لاٹھی کے سامنے بے اثر بنا دیے ۔رہی امتحان کی سختیاں تو کھرا، امتحان میں پڑ کر اور کھرا ہو جاتا ہے ۔اور کھوٹے کا کھوٹ اور نمایاں ہو جاتا ہے ۔سونا بھٹی میں تپ کر ہی کندن بنتا ہے ۔دنیا میں ہر کھری چیز کے مقابلے میں ایک کھوٹی چیز ضرور ہوتی ہے ۔تباہی تو بس اُس کا مقدًر ہے جو کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کر نے کی صلاحیت ہی سے محروم ہو جائے ۔
بعض پچھلی امتوں کی ہلاکت کا سبب یہی تھا کہ اُنہوں نے غلط اور صحیح رہنما میں امتیاز نہ کیا جبکہ اللہ تبارک و تعالی نے انہیں اس کی صلاحیت عطا کی تھی لیکن ان کی لالچ ،ہوس ،دنیا و مال دنیا کی اندھی محبت ، اسراف اور آخرت کی جوابدہی سے بیزاری نے اُنہیں اندھا اوربہرا بنا دیا ۔ بے شک جب نادان ،جاہل ، نا اہل تعصب اور نفرت کی دیوانگی میں مبتلا افراد حکمراں بن جا ئیں تو ان کے کارندے عوام کے حق میں سانپ اور بچھو ہو جاتے ہیں ۔وسائل کا غلط ہاتھوں میں چلا جانا ہی گویا سانپوں اور بچھووں کا اپنے سوراخوں سے نکل پڑنا ہے ۔ جب لوگ زاغ صفت انسانوں کی پیروی کرنے لگ جائیں تو وہ کوے ہی کی طرح مکر و دغا ،حرص و طمع اور مردار خوری کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اللہ کی ر حمت کسی مغرور ،متکبر اور ظالم پر نہیں صرف عاجز و مظلوم اور شکستہ دلوں ہی پر نازل ہوتی ہے ۔ زمین پر فساد پھیلانے والوں کو اللہ ہرگز پسند نہیں کرتا ۔ اور اللہ ہمارے لیے کافی ہے نہ اس سے بہتر کوئی آقا ہے نہ اس سے اچھا کوئی مددگار ۔
وہ سخت سے سخت مصائیب کو آسان کر سکتا ہے وہ کسی لشکر کے بغیر بھی مظلوموں کو فتح عطا کر سکنے پر قادر ہے۔دیوانے اور پاگل کے ہاتھوں سے چاقو چھین لینا نیکی ،عدل اور جہاد ہے۔ ۔اللہ نے اُن کے مکر کو برباد کر دیا اگرچہ ان کا مکر ایسا تھا کہ جس سے پہاڑ بھی متزلزل ہو جائیں ۔۔بس ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی حکمت سے کچھ خالی نہیں ۔ہر برائی کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں کوئی اچھائی بھی لازماً ہو تی ہے ۔ انسان کو کبھی اپنی بڑائی ،بہادری یا ہنر کا مدعی نہ ہونا چاہیے کہ اللہ کو غرور اور تکبر پسند نہیں ۔وہ چیزیں جو ہمیشہ ہمارے کام آتی ہیں اور کبھی رائیگاں نہیں جاتیں وہ بلا امتیاز خدمتِ خلق اور خالقِ حقیقی کی اطاعت و عبادت ہے ۔
اور ہم سب تو مسافر ہیں ۔اور مسافر وہی کامیاب ہوتا ہے جس کی نگاہیں ہمیشہ منزل پر رہتی ہیں ! اللہ تبارک و تعالی بعض اوقات بظاہر مُضر نظر آنے والی باتوں ہی میں اپنے بندوں کے لیے نفع پوشیدہ کر دیتا ہے لیکن یہ نفع اسی کو ملتا ہے جو اللہ کو اپنے لیے کافی سمجھتا ہے ۔ جس کی نجات خود امید و بیم کے درمیا ن ہو وہ ،کسی دوسرے گناہگار کا مذاق اُڑائے ، یہ اللہ کو پسند نہیں ۔ ہم میں کون برائیوں سے پاک ہے؟ لیکن ہم دوسروں کو برا اور خود کو دودھ کا دھلا سمجھتے ہیں ۔ جبکہ ہمیں جو کچھ اپنے لیے پسند ہے وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کر نا چاہیے ۔ اللہ تبارک و تعالی سے کسی کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں خواہ وہ چھپ کر کیا جائے یا علانیہ ۔ اور وہ کسی کے نیک عمل کو ضایع نہیں ہونے دیتا ۔ انسان فرعون اسی وقت بنتا ہے جب جہالت اور اختیارو اقتدار ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں ۔ اور اس کی سنت یہی ہے کہ وہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ کو ضرور بھیجتا ہے ! مکرو ا و مکر ا اللہ 

NadeemSiddiqui

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 21, 2015, 11:19:33 AM8/21/15
to

To:


جناب عالِم نقوی کی ایک تازہ تحریر
  
 کچھ تالیاں یہاں بھی بجوا دیجے !
مودی جی ! آپ نے جس طرح ،عرب امارات کے شاہوں کی جانب سے ابو ظبی میں مندر کی تعمیر کی اجازت ملنے پر،دُبئی کے عوام سے تالیاں بجوائیں ہیں اسی طرح اپنے ملک کی سیکڑوں ویران اور منہدم مسجدوں کی آبادی اور تعمیر نو کی اجازت دے کر کچھ تالیاں یہاں بھی بجوا دِیجیے !یقین جانیے ان تالیوں کی بازگشت دُبئی سے کہیں زیادہ بلکہ عالم گیر ہو گی ۔ شروعات دہلی کی ان مساجد سے کیجیے جن پر بہ نامِ حفاظت آثار قدیمہ والوں کا قبضہ ہے اور جہاں پابندی ہے تو صرف نماز پراور اَٹالی تو آپ کی سرکاری رہائش سے محض30 کلو میٹر دور ہے۔ وہاں صرف ایک چھوٹی سی مسجد درکار ہے جسے آپ کے پریوار والے بننے نہیں دے رہے ہیں ۔اُن پر اَنکُش لگائیے ،اُنہیں لگام دیجے اُن سے کہیے کہ سَد بُدًھی سے کام لیں ! اُنہیں بتائیے کہ اِحسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے !حالانکہ یہ تو شیخ زائد کو چاہیے تھا کہ وہ آپ سے کہتے کہ جنابِ وزیر اعظم !ہم اپنے ملک میں رہنے والے آپ کے ہم مذہب اور آپ کے ہم وطنوںکی فرمائش پر ایک اور مندر کی تعمیر کی اجازت دے رہے ہیں،جن کے لیے یہاں پہلے سے کئی مندر موجود ہیں ، اور آپ سے یہ توقع کرتے ہیں کہ ایک شریف انسان کی طرح آپ اس کے صلے میں یہاں اعلان کریں کہ ۔۔ہم اجودھیا کی ساڑھے چار سو سال قدیم مسجد کو اُسی جگہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جہاں وہ 1525سے سر اُٹھائے کھڑی تھی اور جسے ہمارے ہی بد بخت پریوار جَنوں نے1992  میںمسمار کر ڈالا تھا ۔ اُمرائے عرب  اگر ان سے یہ کہتے کہ جنابِ وزیر اعظم !اگر آپ نے اپنے ملک میں ’ قیدمسجدوں‘کو آزاد کر ادیا اور اور شہید بابری مسجد کی شان و شوکت دوبارہ بحال کردی تو صرف ہم ہی نہیں پوری دُنیا آپ کے گُن گائے گی !آپ نے دُبئی کے اسٹیڈیم میں موجود حاضرین سے ہمارے لیے Standing Ovation کروایا تھا ،آپ نے اگر بابری مسجد کی تعمیر نَو کروادی تو پوری مسلم دنیا آپ کی تعظیم کرے گی ! 
 عرب کے سلطانوں نے کوئی نئی با ت نہیں کی ۔مسلم حکمرانوں نے اپنی غیر مسلم رعایا کو قرطبہ سے قسطنطنیہ تک ،اور اراکان سے اقصائے چین تک کبھی پریشان نہیں کیا ۔جس اورنگ زیب عالم گیر کو دشمنوں اور بد خواہوں نے سب سے زیادہ بد نام کیاہے، اُس نے بھی مندر توڑکے مسجدیں نہیں بنائیں بلکہ بنارس اور ملک کے دیگر متعدد مقامات پر مندروں کی تعمیر اور دیکھ ریکھ کے لیے جاگیریں عطا کیں جن کے شاہی فرامین آج بھی اُن مندروں کے متولیوں کے پاس محفوظ ہیں سومناتھ اور اجودھیا کے بارے میںجو گوئیبلزی افسانے مشہور کیے گئے ہیں ان کی تاریخ ڈیڑھ سو سال سے زیادہ پرانی نہیں ۔ہندستان کی تاریخ میں جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں کے پیوند انگریزوں نے لگائے اور اپنے غلاموں سے لگوائے محمود غزنوی کے عہد سے لے کر بہادر شاہ ظفر کے عہد تک کی کوئی بھی عربی ،فارسی ،ترکی ، سنسکرت ،اودھی ،سرائیکی اور پنجابی زبانوں میں لکھی ہوئی تاریخ،دستاویز یا مذہبی ادب مثلاً تلسی داس کی رام چرت مانس یا گرو نانک دیو کی ، گرو گرنتھ صاحب اُ ٹھا کر دیکھ لیجیے،وہ مندروں کی مسماری وغیرہ کے من گھڑت افسانوں سے یکسر  خالی نظر آئیں گے ۔ اگر اجودھیا میں کوئی’ بھوًیہ رام مندر ‘ توڑا گیا ہوتا تواور یہ کام اورنگ زیب نے کیا یا کروایا ہوتا تو تلسی داس اور گرو نانک دیو کے شاہکار ،اُس کے مرثیے اور ظالموں کی مذمت سے خالی نہ ہوتے ! خدا کا شکر ہے کہ جنوبی ہند ابھی آر ایس ایس کی فرقہ پرستانہ خباثت و منافرت سے بڑی حد تک محفوظ ہے اور اس کا ثبوت کرالا میں کڈنگلور سے منگلورکے ساحل تک موجود 1400سال قدیم  چیرا من پیرومل جامع مسجد سمیت ، وہ 12 مسجدیں ہیں ،جو نبی کریم صلی ا للہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے ایک صحابی حضرت مالک بن دینار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  کڈنگلور کے راجہ چیرامن پیرومل کی اجازت سے بنوائی تھیں ۔راجہ چیرامن پیرومل نے مدینہ منورہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا تھا اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راجہ چیرا من کا نام ۔تاج الدین  رکھا تھا ۔ وہ مالک بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ کو ساتھ لے کر  اپنی مملکت میں تبلیغ اسلام کے لیے کرالا واپس آرہے تھے کہ یمن کی بندرگاہ سلالہ پہنچتے ہی بیمار ہو گئے اور ہندستان کے لیے جہاز کی روانگی سے پہلے ہی مالک حقیقی کا بلاوا آگیا  اور وہیں پیوند خاک ہو گئے ۔ کرالا کے راجہ چیرامن پیرومل تاج ا لدین بحیرۂ عرب کے ایک کنارے پر یمن کے ساحل سلالہ پر محو خواب ہیں اور دوسرے کنارے پر عرب کے ایک سردار مالک بن دینار آسودۂ خاک ہیں !ایک مشہور صحافی اے یو آصف نے چند سال قبل  چیرامن پیرومل جامع مسجد ٹرسٹ کے ٹرسٹی سے انٹروِیو کرتے ہوئے اجودھیا اور بنارس  کے تناظر میں پوچھا کہ آپ کے یہاں تو ان قدیم مسجدوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھی  ؟ اُن کا پہلا  اور برجستہ جواب تھا :ہم کوئی نارتھ انڈیا تھوڑی ہیں ! 
مودی جی ! شمالی ہند پر لگے ہوئے اس داغ کو دور کر دیجے تو سنگھ پریوار بھلے ہی آپ کا ساتھ چھوڑ دے پورا ہندستان آپ کے ساتھ کھڑا ہو گا !٭




--
NadeemSiddiqui
aalim sb copy.jpg
aalim sb.pdf

Muqeet Ahmed

unread,
Aug 22, 2015, 6:07:52 AM8/22/15
to BAZMe...@googlegroups.com
کاش مودی تک نقوی صاحب کا مضمون پہنچ جائے ۔
میں تب بھی یہی کہوں گا۔۔۔۔۔
مودی جی آپ بالکل بھی ایسا مت کیجئے۔آپ چاہے امریکہ کی سرزمین پر پہنچے ہوں۔ (جہاں کا ویز ا آج بھی آپ کو میسر نہیں ۔ بلکہ وزیر اعظم ہند کو ہے) چاہے آپ چین جائیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ آپ نے جو شناخت ڈھیٹ اور ڈٹے رہنے والے آدمی کی بنائی ہے ۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جس مقصد کو لے کر آپ آگے بڑھے وہ مکمل کرنے میں بھی آپ لگے ہوئے ہیں۔ آپ نے جو قسم کھائی اسے بھی پورا کرنے میں مصروف ہیں چاہے یوگاہو، چاہے ، ابوظہبی میں مندر ہو یا کوئی اور مدعہ ہو۔ تمھارا رویہ وہ بالکل منافقت سے خالی ہے۔ چاہے گجرات فسادات میں آپ کی ناکامی ہو، چاہے آپ کے اچھے دن کبھی نہ آئیں ہم نے دیکھا ہے کہ آپ نے کبھی سرکو جھکانا یہ غلطی قبول کرنا نہیں سیکھا۔ بلکہ ڈھٹائی (بے شرمی ) سے آپ ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ بے شک ایک چوڑی چھاتی والی خاتون ۔۔۔ معافی چاہوں گا چوڑی چھاتی والے مرد کی نشانی ہے۔
ہم تمنا کرتے ہیں کاش کوئی مودی ہند کے اہل اسلام کو بھی نصیب ہو جائے۔جو حق اور دین کی خاطرتمسے بھی زیادہ صاحب استقامت ہو۔ ایسی دعا ہر مومن کرتا ہے مگر بننا نہیں چاہتا۔ کاش میں تم جیسا ہوتا جو حق کے لیے ڈٹ جاتا۔ مگر منافقت مجھ میں بھی ہے لہذا اوپر والی دعا کو میں یوں ضرور کرونا چاہتاہوں کہ ائے اللہ میرے گھر میں بھی کوئی عمر، اور خالد بھیج دے ۔جو مودی جیسوں کو دکھادے کہ استقامت اسے کہتے ہیں ۔ آمین

--



--

  عبدالمقیت عبدالقدیر ،بھوکر
سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے۔
Abdul Muqeet Abdul Qadeer, Bhokar

Gul Bakhshalvi

unread,
Aug 22, 2015, 9:48:21 AM8/22/15
to Aijaz .Shaheen
جنابِ عالم نقوی آپ کق سلام ۔۔۔۔  بخشالوی 

Gul Bakhshalvi

unread,
Aug 22, 2015, 9:49:26 AM8/22/15
to Aijaz .Shaheen
جنابِ عالم نقوی صاحب آپ کو سلام ،،،،   بخشالوی

Firoz Hashmi

unread,
Aug 24, 2015, 2:35:32 AM8/24/15
to BAZMe...@googlegroups.com
عالم نقوی کی تحریر عمدہ ہے۔
فیروزہاشمی
Mohammad Firoz Alam 
Nutrition  Consultant 
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages