Re: FW: [مراسلہ نمبر:30684] Re: کار، کابلی والا اور الہ دین بے چراغ مشتاق احمد یوسفی

144 views
Skip to first unread message

Syed Ahmed

unread,
Nov 30, 2013, 5:08:37 PM11/30/13
to bazme...@googlegroups.com

محترم جناب نجیب صاحب سلامِ مسون
بہت بہت شکر گزار ہوں، آج تو مشتاق صاحب کو لاس انجلوس میں دیکھ آیا ہوں، عمر کے آخری پڑاؤ تک یہ گلکاریاں، سب کے نصیب میں کہاں؟
یہ سب کرشمہ ہے بابا گوگل شاہ فرنگی کا اور ان کے خادم یوٹیوب کا ان کا دیدار کرا دیا.
اللہ آپ کو سلامت رکھے
والسلام
سید احمد
28/1/1435ھ
1/12/2013ء


------------------------------
On Sat, Nov 30, 2013 5:19 AM EST Najeeb Ahmed wrote:

>ہر فن (مست) مولا : الہٰ دین بے چراغ*[1]
><file:///F:/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%8C%20%DA%A9%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%94%DB%94%DB%94.doc#_ftn1>*<file:///F:/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%8C%20%DA%A9%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%94%DB%94%DB%94.doc#_ftn1>
>
>
>
> ڈرائیور کا مسئلہ خود بخود اس طرح حل ہو گیا کہ مرزا وحید الزماں بیگ
>عرف خلیفہ نے جو کچھ عرصے پہلے ان کا تانگا چلا چکا تھا، ( جس کا مفصّل حال ہم
>" اسکول ماسٹر کا خواب " میں بیان کر چکے ہیں ) خود کو اس خدمت پر مامور کر
>لیا۔ تنخواہ البتہ دُگنی مانگی جس کا جواز یہ پیش کیا کہ پہلے آدھی تنخواہ پر
>اس لیے کام کرتا تھا کہ گھوڑے کا دانہ چارا خود بازار سے لاتا تھا۔ پہلے پہل
>کار دیکھی تو بہت خوش ہوا، اس لیے کہ اس کی لمبائی گھوڑے سے تین ہاتھ زیادہ
>تھی۔ دوسرے، اس پر صبح شام کھریرا کرنے کا جھنجٹ نہیں تھا۔ آبائی پیشہ حجامی،
>لیکن وہ ہر فن مولا نہیں، ہر فن مست مولا تھا۔ دنیا کا کوئی کام ایسا نہیں تھا
>جو اُس نے نہ کیا ہو اور بگاڑا نہ ہو۔ کہتا تھا جس زمانے میں وہ برما فرنٹ پر
>جاپانیوں کو شکست دے رہا تھا، تو ان کی سرکوبی سے جو وقت بچتا، جو کہ بہت کم
>بچتا تھا، اس میں فوجی ڈرائیونگ کیا کرتا تھا۔ اس کی سواریوں نے کبھی اس کی
>ڈرائیونگ پر ناک بھوں نہیں چڑھائی۔ بڑے سے بڑا ایکسیڈنٹ بھی ہوا تو کسی سواری
>کی موت واقع نہیں ہوئی، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گوروں کی میّت گاڑی چلاتا تھا۔
>جو شیخی بھری کہانیاں وہ سناتا تھا ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ رجمنٹ کے مرنے
>والوں کو اتھلی قبر تک پہنچانے اور جو فی الحال نہیں مرے تھے ان کی حجامت کے
>فرائض اس نے اپنی جان پر کھیل کھیل کر انجام دیئے۔ اس بہادری کے صلے میں اسے
>ایک کانسی کا میڈل ملا تھا جو 1947 ء کے ہنگاموں میں ایک سردار جی نے کرپان
>دکھا کر چھین لیا۔
>
>
>
> ایسے اَنا بھرے غباروں میں سوئی چبھونا چنداں ضروری نہیں۔ البتہ اتنی
>تصدیق ہم بھی کر سکتے ہیں کہ جب سے اُس نے سُنا ہے کہ بشارت کار خریدنے والے
>ہیں، اس نے گل بادشاہ خان ٹرک ڈرائیور سے کار چلانی سیکھ لی۔ مگر یہ ایسا ہی
>تھا جیسے کوئی لوہار کی شاگردی اختیار کر کے سنار کا کام شروع کر دے۔ ڈرائیونگ
>ٹیسٹ اس زمانے میں ایک اینگلو انڈین سارجنٹ لیا کرتا تھا جس کے سارے کنبے کے
>بال وہ پانچ چھ سال سے کاٹ رہا تھا۔ خلیفہ کا اپنا بیان تھا کہ " سارجنٹ نے
>جناح کورٹ کے پاس والے میدان میں میرا ٹیسٹ لیا، ٹیسٹ کیا تھا، فقط ضابطے کی
>خانہ پری کہیے۔ بولا , Well Caliph ! کار سے انگلش کا Figure of 8 بنا کر
>دکھاؤ۔ صرف اس ایریا میں، جہاں ہم یہ لال جھنڈی لیے کھڑا ہے۔ اس لائن کو کراس
>نیئں کرنا۔ 8 ایکڈم ریورس میں بنانا مانگٹا۔ یہ سنتے ہی میں بھچک رہ گیا۔
>ریورس کرنا میں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ گل خان بادشاہ سے میں نے ایک دفعہ کہا
>تھا کہ استاد مجھے ریورس میں چلانا سیکھا دو۔ وہ کہنے لگا کہ یہ میرے اُستاد
>نے نہیں سکھایا۔ نہ کبھی اس کی ضرورت پڑی۔ میرا استاد چنار گل خان بولتا تھا
>کہ شیر۔ ہوائی جہاز، گولی، ٹرک اور پٹھان ریورس گئیر میں چل ہی نہیں سکتے۔
>
>
>
> میں نے اپنے دل میں کہا کہ چقندر کی دُم ! میں انگلش کا 8 کا ہندسہ
>بنا سکتا تو تیرے جیسے بھالو کی حجامت کائے کو کرتا۔ غلام محمد گورنر جنرل کی
>چمپی مالش کرتا۔ کیا بتاؤں۔ اس گُنے گار نے کیسے کیسے پاپڑ بیلے ہیں۔ جی جی
>ہاؤس میں مالی کا کام بھی کیا ہے۔ ہتھیلی پر سرسوں تو نہیں اُگائی، البتہ
>کرانچی میں، کیا نام اس کا۔ ٹیولپ اُگا کر دکھایا ہے۔ پر بڑے آدمیوں کی
>کوٹھیوں میں پھولوں کو کوئی نگاہ بھر کر نہیں دیکھتا۔ بس مالی خود ہی پھول
>اگاتے ہیں اور خود ہی دیکھ دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔ ہدایت اللہ بیرا میرے کو
>بولتا تھا کہ جی جی صاحب کا ہر عضو مفلوج ہو گیا ہے۔ زبان بھی۔ اس حالیت میں
>ہر آئے گئے کو مادر پدر کرتا رہتا ہے۔ پر آدمی ہے نر۔ چھوٹوں پر گالی ضائع
>نہیں کرتا۔ جیسے جیسے طاقت جواب دے رہی ہے، گالی اور زبان اور موٹی ہوتی جا
>رہی ہے۔ اس کی بات اب صرف اس کا خدمت گار بیرا اس کے منہ سے اپنا کان بھڑا کر
>سنتا اور سمجھتا ہے۔ وہی اس کی پنجابی گالی کا دلّی والوں کی اردو میں تجرمہ
>کر کے قدرۃ اللہ شہاب صاحب کو بتاتا ہے۔ وہ فٹافٹ اس کا انگریزی تجرمہ کر کے
>جی جی کی امریکی سکریٹری مس روتھ مورل کو بتاتے ہیں۔ پھر وہ پٹاخہ، فارینر
>لوگوں اور وزیروں سفیروں کو کولھے مٹکا مٹکا کر بتاتی ہے کہ جی جی صاحب کہہ
>رہے ہیں کہ آپ سے مل کر بہت جی خوش ہوا۔ کئی دفعہ چاہا کہ جی جی کو اپنی مالش
>سے ٹھیک کر دوں۔ دو منٹ میں ناف اور رگ پٹھے ایسے بٹھا دوں کہ ہرن کے موافق
>قلانچیں بھرتا پھرے۔ پر یہ سوچ کے چپ ہو رہا کہ کل کلاں کو وہ فوت ہو گیا، جو
>کہ اسے ہونا ہے، تو مجھے جیل، اور تیل کی بوتل کو معائنے کے لئے بھیج دیں گے۔ "
>
>
>
> تو جنابِ عالی سارجنٹ نے اپنے بُوٹ سے زمین پر 8 بنا کر دکھایا۔ لاحول
>ولا قوہ ! میں بے فضول ڈر گیا تھا۔ اب پتا چلا کہ سائیسی میں اٹیرن کہتے ہیں
>اسے انگریزی میں فگر آف 8 کہتے ہیں۔ جنگلی گھوڑے کو سدھانے اور اس کی ساری
>مستی نکالنے کے لئے اسے تیزی سے دو گھری پرت چکر دینے کو اٹیرن کہتے ہیں۔ تو
>گویا ڈرائیونگ ٹیسٹ کا یہ مقصد ہے ! پر میں کچھ نہیں بولا۔ بس جل تو جلال تو
>کہہ کے ریورس میں 8 کے بجائے کسے ہوئے ازار بند کی گرہ بنانے لگا کہ یکایک
>پیچھے سے سارجنٹ کے چیخنے چلانے کی آوازیں آئیں۔ اسٹاپ ! اسٹاپ ! یو ایڈیٹ !
>وہ اپنی جان بچانے کے لئے کار کے بمپر پہ لال جھنڈی لیے چڑھ گیا تھا، ازار بند
>کی گرہ میں لپٹتے لپٹتے یعنی کار کے نیچے آتے آتے بچا۔ میں نے کہا، سر دوبارہ
>ٹیسٹ کے لئے آ جاؤں ؟ مگر اس نے دوبارہ ٹیسٹ لینا مناسب نہ سمجھا۔ دوسرے دن آپ
>کے غلام کو لائسنس مل گیا۔ "
>
>
>
> " آپ کی جوتیوں کے طفیل ہر فن میں طاق ہوں مجھے کیا نہیں آتا۔ جراحی
>بھی کی ہے۔ ایک آپریشن بگڑ گیا تو کان پکڑے۔ ہوا یوں کہ میرا دوست الّن اپنی
>ماموں زاد بہن پر دل و جان سے فریفتہ تھا۔ پر وہ کسی طور شادی پر رضامند نہیں
>ہوتی تھی۔ نہ جانے کیوں الّن کو یہ وہم ہو گیا کہ اس کی بائیں ران پر جو مسّا
>ہے۔ اس کی وجہ سے شادی نہیں ہو رہی۔ میں نے وہ مسّا کاٹ دیا۔ ناسور بن گیا۔ وہ
>لنگڑا ہو گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، میں نے سرجری نہیں کی۔ وہ لڑکی آخر کے
>تیئں میری زوجہ بنی۔ میری دائیں ٹانگ پر مسّا ہے۔
>
>------------------------------
>
>[1]<file:///F:/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%8C%20%DA%A9%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%94%DB%94%DB%94.doc#_ftnref1>الہ
>دین بے چراغ : بشارت کے ضعیف اور دائم المرض والد کو نام یاد نہیں رہتے
>تھے۔ لہذاٰ وہ ہر نوکر کو الہٰ دین کہہ کر بلاتے تھے۔ یہ الہٰ دین نہم تھا، جس
>کا مفصًل تعارف ہم " اسکول ماسٹر کا خواب " میں کراچکے ہیں۔ خود کو ہر فن میں
>طاق سمجھتا تھا۔ مگر اس کا نام بگڑ جاتا تھا۔ اکثر کہتا تھا کہ میرے ہاتھ میں
>‌جادو ہے۔ سونے کو چھولوں تو پیتل ہو جائے۔ مرزا اسے طنزاً الہٰ دین بے چراغ
>کہتے تھے۔
>
>Najeeb Ahmed Najeeb
>
>
>2013/11/29 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>
>>
>>
>>
>> میں خود نہیں آئی، لائی گئی ہوں !
>>
>>
>>
>> بشارت اس زعم میں مبتلا تھے کہ انہوں مے سستے داموں میں کار خریدی
>> ہے جب کہ حقیقت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے کھوکھے گھاٹ سے بچائے تھے۔ لیکن خوش
>> فہمی اور مغالطے سے دل خوش ہو جائے تو کیا حرج ہے۔ مرزا اسی بات کو اپنے
>> بقراطی انداز میں یوں کہتے ہیں کہ ہم نے باون گز گہرے ایسے اندھے کنویں بھی
>> دیکھے ہیں جو سمجھے تھے کہ وہ خود کو اوندھا دیں یعنی سر لے بل اُلٹے کھڑے ہو
>> جائیں تو باون گز کے مینار بن جائیں۔ بہر کیف، بشارت نے Beige رنگ کی کار
>> خرید لی۔ وہ انتہائی منکسر مزاج ہیں۔ چنانچہ دوستوں سے یہ تو نہیں کہا کہ ہم
>> بھی کار والے ہو گئے۔ البتہ اب ایک ایک سے کہتے پھر رہے ہیں کہ آپ نے بیژ رنگ
>> دیکھا ہے ؟ ہر شخص نفی میں گردن ہلا دیتا۔ فرماتے، " صاحب انگریز نے عجب رنگ
>> ایجاد کیا ہے۔ اُردو میں بھی کوئی نام نہیں۔ نمونہ حاضرِ خدمت کروں گا۔
>>
>>
>>
>> کار خریدتے ہی وہ بے حد سوشل ہو گئے۔ اور ایسے لوگوں کے گھر بھی بیژ
>> رنگ کا نمونہ دکھانے کے لئے لے جانے لگے جن سے وہ عید بقر عید پر بھی ملنے کے
>> روادار نہیں تھے۔ جو دوست احباب یہ عجوبہ ان کے گھر دیکھنے آتے، انہیں مٹھائی
>> کھلائے بغیر نہیں جانے دیتے تھے۔ اسی مبارک سلامتی میں ایک مہینہ گذر گیا۔ ایک
>> دن ایک دوست کے ہاں کار کی رُو نمائی کروانے جا رہے تھے کہ وہ آدھے راستے میں
>> ہچکولے کھانے لگی۔ پھر اس پر کالی کھانسی کا دورہ پڑا۔ حبسِ دم کے سبب دھڑکن
>> ہلکی ہلکی سنائی دیتی۔ کبھی بالکل غائب۔ خیال ہوا مُکر کیے پڑی ہے۔ دفعتاً
>> سنبھالا لیا۔ ہیڈ لائیٹ میں ایک لخطے کے لیے روشنی آئی۔ ہارن نے کچھ بولنا
>> چاہا، مگر نقاہت مانع ہوئی۔ چند لمحوں بعد دھکڑ دھکڑ دھک دھک دھوں کر کے
>> جہاں کھڑی تھی وہیں انجر پنجر بکھیر کر ڈھیر ہو گی۔ Radiator کے ایک سرے سے
>> بھاپ اور دوسرے سے تلل تلل پانی نکلنے لگا۔ گدھا گاڑی سے کھنچوا کر گھر لائے۔
>> مستری کو بُلا کر دکھایا۔ اس نے بونٹ کھولتے ہی تین دفعہ دائیں ہاتھ سے اپنا
>> ما تھا پیٹا۔ بشارت نے پوچھا، خیر تو ہے ؟ بولا بہت دیر کر دی۔ اس میں تو کچھ
>> نہیں رہا۔ سب پرزے جواب دے چکے ہیں۔ آپ کو مجھے چھ مہینے پہلے بُلانا چاہئے
>> تھا۔ بشارت نے جواب دیا کہ بلاتا کہاں سے۔ خریدے ہوئے کل ایک مہینہ ہوا ہے۔
>> بولا، تو پھر خریدتے وقت پوچھنا ہوتا۔ آدمی صراحی بھی خریدتا ہے تو پہلے ٹن ٹن
>> بجا کر دیکھ لیتا ہے۔ یہ تو کار ہے۔ آپ زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہتے تو فی الحال
>> کام چلاؤ۔ مرمت کیے دیتا ہوں۔ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ آنکھوں گوڈوں میں پانی اُتر
>> آئے تو معجون اور چمپی مالش کارگر نہیں ہوتی۔ پھر تو لاٹھی بیساکھی چاہئے۔
>> بشارت کو یہ بے تکلفی بہت ناگوار گذری، مگر غرض مند صرف آئینے کا منہ چڑا سکتا
>> تھا۔
>>
>>
>>
>> اس کے بعد کار مستقل خراب رہنے لگی۔ کوئی پرزہ درست نہیں ہوتا تھا۔
>> صرفRear View Mirror یعنی پیچھے آنے والا ٹریفک دکھانے والا آئینہ صحیح کام
>> کر رہا تھا۔ بعض اوقات کار کی رفتار گدھا گاڑی سے بھی زیادہ سُست ہو جاتی، جس
>> کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسی میں باندھ کر کشاں کشاں لائی جاتی تھی۔
>>
>>
>>
>> میں خود نہیں آئی، لائی گئی ہوں
>>
>>
>>
>> کار اسٹارٹ کرنے سے پہلے وہ گدھا گاڑی کا کرایہ اور باندھنے کے لئے
>> رسی وغیرہ ضرور رک لیتے تھے۔ اس مشینی جنازے کو گلیوں میں کھنچنے پھرنے کا عمل
>> جسے وہTow کرنا کہتے تھے، اس کثرت سے دہرایا گیا کہ گھر میں کسی نیفے میں
>> کمر بند اور چارپائی میں ادوان نہ رہی۔ اور ثانی الذکر پر سونے والے رات بھر
>> کروٹ کروٹ جھولا جھولنے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دن بنارس خاں چوکیدار
>> کی بکری کی زنجیر کھول لائے۔ مرزا کہتے ہی رہ گئے کہ جو زنجیر بالشت بھر کی
>> بکری کو، جو تین دفعہ "ہری" (اُمید سے ) ہو چکی ہے، قابو نہ رکھ سکی، جو
>> تمہاری بے کہی کار کو کیا خاک باندھ کر کے رکھے گی۔
>>
>>
>>
>> Najeeb Ahmed Najeeb
>>
>>
>> 2013/11/28 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>>
>>
>> بیوہ میم کی مسکراہٹ کی قیمت
>>
>>
>>
>> بشارت کافی عرصے سے سیکنڈ ہینڈ کار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے
>> تھے کہ ایک دن خبر ملی کہ ایک برٹش کمپنی کے ایک انگریز افسر کی چھ سلینڈر کی
>> بہت بڑی کار بکاؤ ہے۔ افسر کا دو مہینے پہلے قبل اچانک انتقال ہو گیا تھا اور
>> اب اس کی جوان بیوہ اسے اونے پونے ٹھکانے لگانا چاہتی تھی۔ بشارت نے بیوہ کو
>> ایک نظر دیکھتے ہی فیصلہ کر لیا کہ وہ اس کار کو جسے انہوں نے ہنوز دور سے بھی
>> دیکھا نہیں تھا۔ خرید لیں گے۔ وہ اس کمپنی کو تین سال سے چیز کے پیکنگ کیس اور
>> لکڑی سپلائی کر رہے تھے۔ کمپنی کے پارسی چیف اکاؤنٹنٹ نے کہا کہ آپ یہ کار 11۔
>> 10۔ 3483 روپے میں لے جایئے۔ ممکن ہے پڑھنے والوں کو یہ رقم اور آخری پائی تک
>> کی باریکی عجیب لگے، مگر بشارت کو عجیب نہیں لگی۔ اس لئے وہ رقم تھی جو کمپنی
>> ایک عرصے سے اس بہانے سے دبائے بیٹھی تھی کہ انہوں نے ناقص کھوکھے سپلائی کیے
>> جس کی وجہ سے چنیوٹ اور سیالکوٹ میں سیلاب کے دوران کمپنی کے سارے مال کی لگدی
>> بن گئی، بشارت کہتے تھے کہ میں نے بارہ بارہ آنے میں چیڑ کے کھوکھے سپلائی کیے
>> تھے، آبدوز یا کشتیِ نوح نہیں۔ کمپنی کے کھسیانے افسر Act Of God ( آفت
>> سماوی) کا الزام عاجز پر لگا رہے تھے۔
>>
>>
>>
>> خوبصورت میم نے، جس کے بیوہ ہونے سے وہ نا خوش تھے۔ لیکن جسے بیوہ
>> کہتے ہوئے ان کا کلیجہ منہ کو آتا تھا، یہ پخ اور لگا دی کہ تین مہینے بعد جب
>> وہ Batori جہاز سے لندن جائے گی تو اس کے سامان کی پیکنگ کے لیے مفت کریٹ
>> مع کیلوں اور ترکھان کے سپلائی کرنے ہوں گے۔ اس شرط کو انہوں نے نہ صرف منظور
>> کیا، بلکہ اپنی طرف سے یہ اور بھی اضافہ کیا کہ میں روزانہ آپ کے بنگلے میں آ
>> آ کر آپ کی اور اپنی نگرانی میں خود بنفسِ نفیس (بنفس نفسانی ؟ ) پیکنگ کراؤں
>> گا۔ بشارت نے چیف اکاؤنٹنٹ سے کہا کہ کار بہت پرانی ہے۔ 2500 میں مجھے دے دو۔
>> اس نے جواب دیا کہ منظور، بشرطیکہ آپ اپنے ناقص کھوکھوں کا بل گھٹا کر 2500 کر
>> دیں۔ بشارت نے میم سے فریاد کی کہ " قیمت بہت زیادہ ہے۔ کہہ سن کے کچھ کم کرا
>> دو" اس کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اتنی حاشیہ آرائی اور کر دی کہ " غریب آدمی
>> ہوں۔ تلے اوپر کے سات آٹھ بچے ہیں۔ ان کے علاوہ تیرہ بھائی بہن مجھ سے چھوٹے
>> ہیں۔ "
>>
>>
>>
>> یہ سُنتے ہی میم کے چہرے پر حیرت، ہمدردی اور ستائش کا ملا جلا
>> ایکسپریشن آیا۔ کہنے لگی۔
>>
>> " Oh ! dear , dear I see what you mean , your parents too were poor but
>> passionate. "۔
>>
>>
>>
>> اس پر انہیں بہت طیش آیا۔ جواباً یہ کہنا چاہتے تھے کہ تم میرے باپ
>> تک کیوں جاتی ہو ؟ لیکن اس جملے کی با محاورہ انگریزی نہیں بنی اور جو لفظی
>> ترجمہ معاً ان کی زبان پر آتا آتا رہ گیا۔، اس پر انہیں خود ہنسی آ گئی۔ انہوں
>> نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ اب کبھی اپنے بچوں اور بھائی بہنوں کی تعداد بتانے
>> میں مبالغے سے کام نہیں لیں گے، سوائے راشن کارڈ بنواتے وقت۔ اتنے میں میم
>> بولی کہ " ان داموں میں یہ کار مہنگی نہیں۔ اس سے تو زیادہ میرے شوہر کے ٹیک
>> (ساگوان ) کے تابوت کی لاگت آئی تھی"۔ اس پر سیلزمین شپ کے جوش میں بشارت کے
>> منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ " میڈم ! آئندہ آپ بالکل یہ چیز ہم سے آدھے داموں
>> میں لے لیجیے گا " میم مُسکرا دی اور سودا پکا ہو گیا۔ یعنی 3483 روپے، دس آنے
>> اور گیارہ پائی میں کار ان کی ہو گئی۔
>>
>>
>>
>> اس واقعے کا دل پر ایسا اثر ہوا کہ آئندہ کسی گاہک کے نام کے بل
>> بناتے تو یہ لحاظ ضرور رکھتے کہ کم سے کم قیمت پر مال بیچیں تاکہ کم سے کم رقم
>> ڈُوبے۔ اور اگر مرحوم ناہند کی حسین بیوہ سے رقم کے عوض کوئی چیز لینی پڑے تو
>> کم سے کم داموں میں ہاتھ لگے جائے۔
>>
>>
>>
>> Najeeb Ahmed Najeeb
>>
>>
>> 2013/11/26 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>>
>>>
>>> بے کار مباش
>>>
>>>
>>>
>>> سواریوں کے حسن و قبح پر مدلّل بحث سے صرف یہ دکھانا مقصود تھا کہ
>>> بشارت نے ظاہر یہ کیا کہ وہ فقط استدلال اور ردّ و قبول کے عمل سے اس نتیجے پر
>>> پہنچے ہیں کہ کار خریدنا، کاروباری ضرورت سے زیادہ ایک منطقی تقاضا ہے اور
>>> خدانخواستہ نہ خریدی تو کاروبار تو ٹھپ ہو گا سو ہو گا۔ منطق کا خون ہو جائے
>>> گا اور ارسطو کی روح جنت میں۔ یا جہاں کہیں بھی وہ ہے، تڑپ اُٹھے گی۔ جب کہ
>>> حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ انہیں زندگی میں جس شے کی کمی شدّت سے محسوس ہونے لگی
>>> تھی، وہ دراصل کار نہیں اسٹیٹس سمبل تھا۔ جب کوئی شخص دوسروں کو قائل کرنے کے
>>> لئے زور شور سے فلسفہ اور منطق بگھارنے لگے تو سمجھ جایئے کہ اندر سے وہ بے
>>> چارہ خود بھی ڈھلمل ہے، اور کسی ایسے جذباتی اور نا معقول فیصلے کا عقلی جواز
>>> اور توجیہ تلاش کر رہا ہے جو وہ بہت پہلے کر چکا ہے۔ ہنری ہشتم نے تو محض اپنی
>>> ملکہ کو طلاق دینے اور دوسری عورت سے شادی رچانے کی خاطر پاپائے روم سے قطع
>>> تعلق کر کے ایک نئے مذہب کی داغ بیل ڈال دی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ
>>> انگلینڈ کے مذہب یعنی چرچ آف انگلینڈ کی بنیاد ایک طلاق پر رکھی گئی تھی۔ مرزا
>>> کہتے ہیں کہ فی زمانہ نئے مذہب کی ایجاد کا اس سے زیادہ معقول جواز اور ہو بھی
>>> نہیں سکتا۔
>>>
>>>
>>>
>>> Najeeb Ahmed Najeeb
>>>
>>>
>>> 2013/11/25 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>>>
>>>
>>> خرگزشت
>>>
>>>
>>>
>>> ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال اُٹھے کہ جب ہر سواری کے ساتھ
>>> حسن و قبح پر باقاعدہ غور اور آپ سے مشورہ کیا گیا تو گدھے اور گدھا گاڑی کو
>>> کیوں چھوڑ دیا گیا۔ ایک وجہ تو وہی ہے جو معاً آپ کے ذہن میں آئی۔ دوسری یہ کہ
>>> جب سے ہم نے گدھے پر چیسٹرین کی معرکہ آرا نظم پڑھی ہم نے اس جانور پر ہنسنا
>>> اور اسے حقیر سمجھنا چھوڑ دیا۔ گیارہ برس لندن میں رہنے کے بعد ہم پر بالکل
>>> واضع ہو گیا کہ مغرب میں گدھے اور الّو کو گالی نہیں سمجھا جاتا۔ بلخصوص الّو
>>> تو علوئے فکر اور دانائی کا سمبل ہے۔ یہاں اوّل تو کوئی ایسا نہیں ملے گا جو
>>> صیح معنوں میں الّو کہلوانے کا مستحق ہو۔ لیکن اگر کسی کو الّو کہہ دیا جائے
>>> وہ اپنے جامے بلکہ اپنے پروں میں پھُولا نہ سمائے گا۔ لندن کے چڑیا گھر میں
>>> الّووں کے کچھ نہیں تو پندرہ پنجرے ضرور ہوں گے۔ ہر بڑے مغربی ملک کا نمائندہ
>>> الّو موجود ہے۔ ہر پنجرہ اتنا بڑا جتنا اپنے یہاں شیر کا ہوتا ہے۔ اور ہر الّو
>>> اتنا بڑا جتنا اپنے یہاں کا گدھا۔ اپنے یہاں کا الّو تو ان کے سامنے بالکل ہی
>>> الّو معلوم ہوتا ہے۔ انگلینڈ میں عینک سازوں کی سب سے بڑی کمپنی Donald
>>> Aitcheson کا logo (تجاری نشان) الّو ہے جو اُن کے سائن بورڈ۔ لیڑ ہیڈ
>>> اور بلوں پر بنا ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک بڑے اسٹاک بروکر کا " لوگو"
>>> الّو ہے۔ یہ محض سُنی سُنائی بات نہیں ہم نے خود ڈانلڈ ایچسن کی عینک لگا کر
>>> اسٹاک بروکر مذکور کے مشورے اور پیش گوئی کے مطابق کمپنی شیئرز (حصص) اور بونڈ
>>> کے تین چار " فارورڈ " سودے کیے، جن کے بعد ہماری صورت دونوں کے لوگو سے ملنے
>>> لگی۔
>>>
>>>
>>>
>>> سابق پریسیڈنٹ کارٹر کی ڈیمو کریٹک پارٹی کا نشان گدھا تھا۔ بلکہ
>>> ہمیشہ سے رہا ہے۔ پارٹی پرچم پر بھی یہی بنا ہوتا ہے۔ اسی پرچم تلے پُوری
>>> امریکن قوم ایران کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی رہی۔ ہمارا مطلب
>>> ہے بے حس و حرکت۔ مغرب کو گدھے میں کوئی مضحکہ خیز بات نظر نہیں آتی۔ فرانسیسی
>>> مفّکر اور انشائیہ نگار مونتین تو اس جانور کے اوصافِ حمیدہ کا اس قدر معترف
>>> اور معّرف تھا کہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ " روئے زمین پر گدھے سے زیادہ پُر
>>> اعتماد، مستقل مزاج، گھمبیر، دنیا کو حقارت سے دیکھنے والا اور اپنے ہی دھیان
>>> اور دھُن میں مگن رہنے والا اور کوئی ذی روح نہیں ملے گا۔ " ہم ایشیائی دراصل
>>> گدھے کو اس لئے ذلیل سمجھتے ہیں کہ اس میں کچھ انسانی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
>>> مثلاً یہ کہ اپنی سہار اور بساط سے زیادہ بوجھ اُٹھاتا ہے اور جتنا زیادہ پٹتا
>>> اور بھوکوں مرتا ہے۔ اتنا ہی اپنے آقا کا مطیع و فرماں بردار اور شُکر گذار
>>> ہوتا ہے۔
>>>
>>>
>>>
>>> Najeeb Ahmed Najeeb
>>>
>>>
>>> 2013/11/25 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>>>
>>>> آمین یا رب العلمین۔ سید بھای اللہ ان دعاوں کو قبول کرے اور ہم سب کو
>>>> اپنے سایہ عاطفت میں رکھے۔ امین۔
>>>>
>>>> نجیب احمد نجیب
>>>>
>>>> Najeeb Ahmed Najeeb
>>>>
>>>>
>>>> 2013/11/24 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>
>>>>
>>>>
>>>> مکرمی جناب نجیب صاحب سلام مسنون
>>>> اللہ کرے کہ آپ کی زندگی کا ہر سانس، ہر بلا اور پھانس سے دور گزرے.
>>>> بہت خوب جناب، اس تریاق ادب کے بغیر زندگی کچھ مضمحل سی لگے ہے.
>>>> نوازشات پر مشکور ہوں.
>>>> دعاء جو
>>>> سید احمد
>>>> ۲۱/۱/۱۴۳۵ھ
>>>> ۲۴/۱۱/۲۰۱۳ء
>>>>
>>>>
>>>>
>>>> ------------------------------
>>>> On Sun, Nov 24, 2013 4:59 AM EST Najeeb Ahmed wrote:
>>>>
>>>> >خود کشی غریبوں کی دسترس سے باہر
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > ایک آدھ دفعہ خیال آیا کہ بسوں میں دھکے کھانے اور اسٹرپ ٹیز
>>>> کروانے
>>>> >سے تو بہتر ہے کہ آدمی موٹر سائیکل خرید لے۔ موٹر سائیکل رکشا کا خیال
>>>> ہی پیدا
>>>> >نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے کہ تین پہیوں پر خود کشی کا یہ سہل اور شرطیہ
>>>> طریقہ
>>>> >ابھی رائج نہیں ہوا تھا۔ اس زمانے میں عام آدمی کو خود کشی کے لئے طرح
>>>> طرح کی
>>>> >صعوبتیں اُٹھانا اور کھکھیڑ اُٹھانی پڑتیں تھیں۔ گھروں کا یہ نقشہ تھا
>>>> کہ ایک
>>>> >ایک کمرے میں دس دس اس طرح ٹھُنسے ہوتے کہ ایک دوسرے کی آنتوں کی قراقر
>>>> تک سُن
>>>> >سکتے تھے۔ ایسے میں اتنا تخلیہ کہاں نصیب کہ آدمی پھانسی کا پھندا کڑے
>>>> میں
>>>> >باندھ کر تنہا سکون سے لٹک جائے۔ علاوہ ازیں، کمرے میں ایک ہی کڑا ہوتا
>>>> تھا جس
>>>> >میں پہلے ہی ایک پنکھا لٹکا ہوتا تھا۔ گرم کمرے کے مکین اس جگہ کسی اور
>>>> کو
>>>> >لٹکنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ رہے پستول اور بندوق، تو اُن کے لائسنس
>>>> کی شرط
>>>> >تھی۔ جو صرف امیروں، وڈیروں اور افسروں کو کو ملتے تھے۔ چنانچہ خودکشی
>>>> کرنے
>>>> >والے ریل کی پٹری پر دن بھر بھر لیٹے رہتے کہ ٹرین بیس بیس گھنٹے لیٹ
>>>> ہوتی
>>>> >تھی۔ آخر غریب موت سے مایوس ہو کر کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوتے۔
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > موٹر سائیکل میں بشارت کو سب سے بڑی قباحت یہ نظر آئی کہ موٹر
>>>> سائیکل
>>>> >والا سڑک کے کسی بھی حصے پر موٹر سائیکل چلائے، محسوس یہی ہو گا کہ وہ
>>>> غلط جا
>>>> >رہا ہے۔ ٹریفک کے حادثات کے اعداد و شمار پر ریسرچ کرنے کے بعد ہم بھی
>>>> اسی
>>>> >نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمارے ہاں پیدل چلنے والے اور موٹر سائیکل چلانے
>>>> والے
>>>> >کا نارمل مقام ٹرک اور منی بس کے نیچے ہے۔ دوسری مصیبت یہ ہے کہ ہم نے
>>>> آج تک
>>>> >کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو پانچ سال سے کراچی میں موٹر سائیکل چلا
>>>> رہا ہو
>>>> >اور کسی حادثے میں ہڈی پسلی نہ تڑوا چکا ہو۔ مگر ٹھہریئے۔ خوب یاد آیا۔
>>>> ایک
>>>> >شخص بے شک ایسا ملا جو سات سال سے کراچی میں بغیر ایکسیڈنٹ کے موٹر
>>>> سائیکل چلا
>>>> >رہا تھا۔ مگر وہ صرف موت کے کنویں ( Well Of Death) میں چلاتا تھا۔
>>>> تیسری
>>>> >قباحت اُنہیں یہ نظر آئی کہ مین ہول بناتے وقت کراچی میونسپل کارپوریشن
>>>> دو
>>>> >باتوں کا ضرور لحاظ رکھتی ہے۔ اوّل یہ کہ وہ ہمیشہ کھُلے رہیں تاکہ
>>>> ڈھکنا دیکھ
>>>> >کر چوروں اور اُچکوں کو خواہ مخواہ یہ تجّس نہ ہو کہ نہ جانے اندر کیا
>>>> ہے۔
>>>> >دوم، دہانہ اتنا چوڑا ہو کہ موٹر سائیکل چلانے والا اس میں اندر تک
>>>> بغیر کسی
>>>> >رُکاوٹ کے چلا جائے۔ آسانی کے ساتھ۔ تیز رفتاری کے ساتھ۔ پیچھے بیٹھی
>>>> سواری کے
>>>> >ساتھ۔ آگے چلا جاے یا۔۔۔۔۔۔۔
>>>> >
>>>> >Najeeb Ahmed Najeeb
>>>> >
>>>> >
>>>> >2013/11/23 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>>>> >
>>>> >
>>>> > چلی سمتِ غرب سے ایک ہوا
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > بِلوں کی وصولی کے سلسلے میں وہ کئی بار سائیکل رکشا سے بھی
>>>> گئے۔
>>>> > لیکن طبیعت ہر بات منغّص ہوئی۔ پیڈل رکشا چلانے والے کو اپنے سے
>>>> دُوگنی راس
>>>> > ڈھونی پڑتی تھی۔ جب کہ خود سواری کو اس سے بھی زیادہ بھاری بوجھ
>>>> اُٹھانا پڑتا
>>>> > تھا کہ وہ اپنے ضمیر سے بوجھوں مرتی تھی۔ ہمارے خیال میں آدمی کو
>>>> آدمی ڈھونے
>>>> > کی اجازت صرف دو صورتوں میں ملنی چاہئے۔ اوّل اُس موقعے پر جب دونوں
>>>> میں ایک
>>>> > وفات پا چکا ہو۔ دوسرے، اُس صورت میں جب دونوں میں سے ایک اُردو
>>>> نقّاد ہو۔ جس
>>>> > پر مُردے ڈھونا فرض ہی نہیں ذریعہ معاش اور وجہ شہرت بھی ہو۔ دو
>>>> دفعہ بسوں کی
>>>> > ہڑتال کے دوران بشارت کو سائیکل پر بھی جانا پڑا۔ ان پر انکشاف ہوا
>>>> کہ کراچی
>>>> > میں بارہ ماسی بادۂ مخالف کے سبب سائیکل اور سیاست دس قدم بھی نہیں
>>>> چل سکتی۔
>>>> > کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوا گویا سارا شہر ایک بگولے کی آنکھ میں
>>>> بسا دیا گیا
>>>> > ہے۔ اب اسے مغرب سے چلنے والی سمندری ہوا کی کینہ پروری کہئے یا
>>>> کراچی والوں
>>>> > کی شومیِ قسمت، آپ سیاست میں، یا سائیکل پر کسی بھی سمت نکل جائیں،
>>>> آپ کو ہوا
>>>> > ہمیشہ مخالف ہی ملے گی۔ ہر دو عمل ایسے ہی ہیں جیسے کوئی آندھی میں
>>>> پتنگ
>>>> > اُڑانے کی کوشش کرے۔
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > Najeeb Ahmed Najeeb
>>>> >
>>>> >
>>>> > 2013/11/23 Sulaiman D. <dehl...@hotmail.com>
>>>> >
>>>> > Najeeb Sahab, Mustaq Yousifi Sahab ki Tehrir paish karnay ka
>>>> shukria.
>>>> >
>>>> > ------------------------------
>>>> > Date: Thu, 21 Nov 2013 22:40:35 +0530
>>>> > Subject: [مراسلہ نمبر:30410] Re: کار، کابلی والا اور الہ دین بے
>>>> چراغ
>>>> > مشتاق احمد یوسفی
>>>> > From: najee...@gmail.com
>>>> > To: bazme...@googlegroups.com
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا تو میں کیا ہوتا
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > گھوڑا تانگا رکھنے اور اُسے ٹھکانے لگانے کے بعد بشارت میں
>>>> بظاہر
>>>> > دو متضاد تبدیلیاں رُو نما ہوئیں۔ پہلی تو یہ کہ گھوڑے اور اس کے دور
>>>> نزدیک کے
>>>> > تمام متعلقات سے ہمیشہ کے لئے نفرت ہو گئی۔ تنہا ایک لنگڑے گھوڑے نے
>>>> انہیں
>>>> > جتنا نقصان پہنچایا اتنا تمام ہاتھیوں نے مل کر پورس کو نہیں پہنچایا
>>>> ہو گا۔
>>>> > دوسری تبدیلی یہ آئی کہ اب وہ سواری کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ آدمی
>>>> کو ایک
>>>> > دفعہ سواری کی عادت پڑ جائے تو پھر اپنی ٹانگوں سے ان کا فطری کام
>>>> لینے میں
>>>> > توہین کے علاوہ نقاہت بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان کی لکڑی کی بزنس اب
>>>> کافی
>>>> > پھیل گئی تھی جسے وہ کبھی اپنی دوڑ دھوپ کا پھل اور کبھی اپنے والدِ
>>>> بزرگوار
>>>> > کی جوتیوں کا طفیل بتاتے تھے، جبکہ خود والدَ بزرگوار اسے بھاگوان
>>>> گھوڑے کے
>>>> > قدموں کی برکت پر محمول کرتے تھے۔ بہر صورت، قابلَ غور بات یہ تھی کہ
>>>> ان کی
>>>> > ترقی کا محرک اور سبب کبھی پیروں اور جوتیوں کی سطح سے اُوپر نہیں
>>>> گیا۔ کسی نے
>>>> > بلکہ خود انہوں نے بھی ذہانت اور فراست کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا۔
>>>> لکڑی کی
>>>> > بِکری بڑھی تو دفتروں کے چکر بھی بڑھے۔ اسی قدر سواری کی ضرورت میں
>>>> اضافہ ہوا۔
>>>> > اس زمانے میں کمپنیوں میں رشوت نہیں چلتی تھی۔ لہذا کام نکالنے کہیں
>>>> زیادہ ذلت
>>>> > و خواری ہوتی تھی۔ ہمارے ہاں ایماندار افسر کے ساتھ مصیبت یہ ہے کہ
>>>> جب تک بے
>>>> > جا سختی، خوردہ گیری اور اڑیل اور سڑیل پن سے سب کو اپنی ایمان داری
>>>> سے عاجز
>>>> > نہ کر دے، وہ اپنی ملازمت کو پکا اور خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ بے
>>>> ایمان افسر
>>>> > سے بزنس مین بآسانی نمٹ لیتا ہے، ایمان دار افسر سے اسے ہول آتا ہے۔
>>>> چنانچہ
>>>> > صورت یہ تھی کہ کمپنی سے لکڑی اور کھوکھوں کا آڈر لینے لے لئے پانچ
>>>> چکر لگائیں
>>>> > تو بل کی وصولی لے لئے دس چکر لگانے پڑتے تھے۔ جب سے کمپنی لیچڑ
>>>> ہوئیں، انہوں
>>>> > نے دس پہروں کا کرایہ اور محنت بھی لاگت میں شامل کر کے قیمتیں بڑھا
>>>> دیں۔ ادھر
>>>> > کمپنیوں نے ان کی نئی قیمتوں کو لٹس قرار دے کر دس فیصد کٹوتی شروع
>>>> کر دی۔ بات
>>>> > وہیں کی وہیں رہی۔ فرق صرف اتنا پڑا کہ ہر دو فریق ایک دوسرے کو
>>>> لالچی، کائیاں
>>>> > اور چور سمجھ کر لین دین کرنے لگے۔ اور یہ چوکس اور کامیاب بزنس مین
>>>> کا بنیادی
>>>> > اُصول ہے۔
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > اب بغیر سواری کے گذر نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن یہ سمجھ میں
>>>> نہیں آ
>>>> > رہا تھا کہ کون سی سواری موزوں رہے گی۔ ٹیکسی ابھی عام نہیں ہوئی
>>>> تھی۔ اُس
>>>> > زمانے میں ٹیکسی صرف خاص خاص موقعوں پر استعمال ہوتی تھی۔ مثلاً ہارٹ
>>>> اٹیک کے
>>>> > مریض کو اسپتال لے جانے، اغوا کرنے، ڈاکہ ڈالنے اور پولیس والوں کو
>>>> لفٹ دینے
>>>> > کے لیئے۔ اور یہ جو ہم نے کہا کہ مریض کو ٹیکسی میں ڈال کر اسپتال لے
>>>> جاتے
>>>> > تھے۔ تو فقط یہ معلوم کرنے لے لئے جاتے تھے کہ زندہ ہے کہ مر گیا
>>>> کیونکہ اُس
>>>> > زمانے میں بھی جناح اور سول اسپتال میں اُنہی مریضوں کا داخلہ ملتا
>>>> تھا جو
>>>> > پہلے اسی ہسپتال کی کسی ڈاکٹر کے پرائیویٹ کلینک میں Preparatory (
>>>> ابتدائی
>>>> > ) علاج کروا کر اپنی حالت اتنی غیر کر لیں کہ اسی ڈاکٹر کے توسط سے
>>>> اسپتال میں
>>>> > آخری منزل آسان کرنے کے لئے داخلہ مل سکے۔ ہم اسپتال میں مرنے کے
>>>> خلاف نہیں۔
>>>> > ویسے تو مرنے کے لئے کوئی بھی جگہ نا موزوں نہیں، لیکن پرائیویٹ
>>>> اسپتال اور
>>>> > کیلنک میں مرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مرحوم کی جائیداد، جمع
>>>> جتھا اور
>>>> > بیکن بیلنس کے بٹوارے پر پسماندگان کے درمیان خون خرابا نہیں ہوتا۔
>>>> کیوں کہ وہ
>>>> > سب ڈاکٹروں کے حصے میں آ جاتے ہیں۔ افسوس ! شاہ جہاں کے عہد میں
>>>> پرائیوٹ
>>>> > اسپتال نہ تھے۔ وہ ان میں داخلہ لے لیتا تو قلعہِ آگرہ میں اتنی مدّت
>>>> تک اسیر
>>>> > رہنے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جینے سے صاف بچ جاتا۔ اور اس کے چاروں
>>>> بیٹے تخت
>>>> > نیشنی کی جنگ میں ایک دوسرے کا سر قلم کرنے کے جتن میں سارے ہندوستان
>>>> میں آنکھ
>>>> > مچولی کھیلتے نہ پھرتے۔ کیونکہ فساد کی جڑ یعنی سلطنت و خزانہ تو
>>>> بلوں کی
>>>> > ادائیگی میں نہایت پُر امن طریقے سے جائز وارثوں یعنی ڈاکٹروں کو
>>>> منتقل ہو
>>>> > جاتا۔ بلکہ انتقالِ اقتدار کے لئے فرسودہ ایشیائی رسم یعنی بادشاہ کے
>>>> بھی
>>>> > انتقال کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لئے جیتے جی تو ہر حکمران انتقالِ
>>>> اقتدار
>>>> > کو اپنا ذاتی انتقال سمجھتا ہے۔
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > Najeeb Ahmed Najeeb
>>>> >
>>>> >
>>>> > 2013/11/21 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
>>>> >
>>>> >
>>>> > محترم احبابِ بزم السلام علیکم۔
>>>> >
>>>> > مشتاق احمد یوسفی صاحب کی آبِ گم سے ایک نیا سلسلہ "کار کابلی والا
>>>> اور الہ
>>>> > دین بے چراغ شروع کیا جا رہا ہے۔ امید کہ پسند آے گا۔
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > اعصاب پر گھوڑا ہے سوار
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > علامہ اقبال نے ان شاعروں، صورت نگاروں اور افسانہ نویسوں پر
>>>> بڑا
>>>> > ترس کھایا ہے جن کے اعصاب پر عورت سوار ہے۔ مگر ہمارے حبیبِ لبیب اور
>>>> ممدوح
>>>> > بشارت فاروقی ان بدنصیبوں میں تھے جن کی بے داغ جوانی اس شاعر کے
>>>> کلام کی طرح
>>>> > تھی جس کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ موصوف کا کلام غلطیوں اور لطف
>>>> دونوں سے
>>>> > پاک ہے ! بشارت کی ٹریجیڈی شاعروں، آرٹسوں اور افسانہ نویسوں سے کہیں
>>>> زیادہ
>>>> > گھور گھمبیر تھی۔ اس لئے کہ دُکھیا کے اعصاب پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی
>>>> سوار رہا۔
>>>> > سوائے عورت کے۔ اس دور میں جسے ناحق جوانی دیوانی سے تعبیر کیا جاتا
>>>> ہے۔، ان
>>>> > کے اعصاب پر بالترتیب مُلا، ناصح بزرگ، ماسٹر فاخر حسین، مولوی مظفر،
>>>> داغ
>>>> > دہلوی، سیگل اور خُسر بزرگوار سوار رہے۔ خدا خدا کر کے وہ اسی ترتیب
>>>> سے اُن پر
>>>> > سے اُترے تو گھوڑا سوار ہو گیا، جس کا قصہ ہم " اسکول ماسٹر کا خواب
>>>> " میں
>>>> > بیان کر چکے ہیں۔ وہ سبز قدم ان کے خواب، ذہنی سکون اور گھریلو بجٹ
>>>> پر جھاڑو
>>>> > پھیر گیا۔ روز روز کے چالان، جرمانے اور رشوت سے وہ اتنے عاجز آ چکے
>>>> تھے کہ
>>>> > اکثر کہتے تھے کہ اگر مجھے چوائس دی جائے کہ تم گھوڑا بننا پسند کرو
>>>> گے یا اس
>>>> > کا مالک یا اس کا کوچوان تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے SPCA کا انسپکٹر
>>>> بننا
>>>> > پسند کروں گا جو اُن تینوں کا چالان کرتا ہے۔
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > سنگین غلطی کرنے کے بعد پس بینی hindsight کا مظاہرہ کرنے
>>>> والوں
>>>> > کی طرح اس کابلی والا ( برصغیر کی تقسیم سے قبل تقریباً ہر بڑے شہر
>>>> میں سُود
>>>> > پر قرضہ دینے والے افغانی بکثرت نظر آتے تھے۔ اُن کی شرحِ سُود
>>>> بالعموم سو فی
>>>> > صد سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ اور وصولی کے طریقے اُس سے بھی زیادہ
>>>> ظالمانہ۔ قرض
>>>> > لینے والے عموماً غریب غُربا اور نوکری پیشہ لوگ ہوتے تھے۔ جس نے اُن
>>>> سے ایک
>>>> > دفعہ قرض لیا، وہ تا دمِ مرگ سُود ہی ادا کرتا رہتا تھا۔ اور تا دمِ
>>>> مرگ
>>>> > زراصِل اور خان صاحب سر پر جُوں کے تُوں کھڑے رہتے تھے۔ بنگال اور
>>>> بعض دوسرے
>>>> > علاقوں میں بھی، بیاج پر روپیہ چلانے والے افغانیوں کو کابلی والا
>>>> کہتے تھے۔
>>>> > ٹیگور نے اسی عنوان سے ایک خوبصورت کہانی لکھی ہے، جس کا ہمارے قضئے
>>>> نما قصّے
>>>> > سے کوئی تعلق نہیں۔
>>>> >
>>>> >
>>>> > اس زمانے میں چوائس کی بہت بات کرتے تھے۔ مگر چوائس ہے کہاں ؟
>>>> > مہاتما بدھ نے تو دو ٹوک بات کہہ دی کہ اگر چوائس دی جاتی تو وہ پیدا
>>>> ہونے سے
>>>> > ہی انکار کر دیتے۔ لیکن ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ گھوڑے کو اگر
>>>> چوائس دی
>>>> > جائے تو وہ اگلے جنم میں بھی گھوڑا ہی بننا پسند کرے گا۔ مہاتما بدھ
>>>> بننا ہرگز
>>>> > پسند نہیں کرے گا، کیونکہ وہ گھوڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک روا نہیں رکھ
>>>> سکتا
>>>> > جیسے گوتم بدھ نے یشودھرا کے ساتھ کیا۔ یعنی انہیں غافل سوتا چھوڑ کر
>>>> بیاباں
>>>> > کو نکل جائے یا کسی جاکی کے ساتھ بھاگ جائے۔ گھوڑا کبھی اپنے گھوڑے
>>>> پن سے
>>>> > شرمندہ نہیں ہو سکتا۔ نہ کبھی اس غریب کو فلک کج رفتار سے شکوہ ہو
>>>> گا۔ نہ اپنے
>>>> > سوارگردوں رکاب سے کوئی شکایت۔ نہ تن بہ تدبیر، بیسار جُو ماداؤں کے
>>>> ہرجائی پن
>>>> > کا کوئی گلہ۔ یہ تو آدمی ہی ہے جو ہر دم اپنے آدمی پن سے نادم و
>>>> نالاں رہتا
>>>> > ہے۔ اوراس کی فکر میں غلطاں کہ۔۔۔
>>>> >
>>>> > Najeeb Ahmed Najeeb
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> > --
>>>> > To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
>>>> >
>>>> > https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> >
>>>> >--
>>>> >To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
>>>> >
>>>> >https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
>>>>
>>>> --
>>>> To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
>>>>
>>>> https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
>>>>
>>>>
>>>>
>>>
>>>
>>
>>
>
>--
>To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
>
>https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 1, 2013, 4:22:39 AM12/1/13
to bazmeqalam

 

ماحول پر لاحول اور مارکونی کی قبر پر

 

        کار متعدّد اندرونی و غیر اندورنی، خفیہ اور اعلانیہ امراض میں مبتلا تھی۔ ایک پُرزے کی مرمت کرواتے تو دوسرا جواب دے دیتا۔ جتنا پیڑول جلتا، اتنا موبل آئل۔ اوران دونوں سے دُوگنا اُن کا اپنا خون جلتا۔ آج کلچ پلیٹ جل گئی تو کل ڈائی نمو بیٹھ گیا۔ اور پرسوں گئیر بکس بداوا کر لائے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی سیٹ کے نیچے کدال چلا رہا ہے۔ خلیفہ نے تشخیص کی کہ صاب ! اب یونیورسل اڑی کر رہا ہے۔ پھر بریک گڑبڑ کرنے لگے۔ مستری نے کہا، ماڈل بہت پُرانا ہے۔ پُرزے بننا بند ہو گئے۔ آپ کہتے ہیں تو مرمت کر دوں گا، مگر مرمت کے بعد  بریک یا تو مستقل لگا رہے گا۔ یا مستقل کھُلا رہے گا۔ سوچ کر دونوں میں سے چوز کر لیجئے۔ دو ہفتے بعد  خلیفہ نے اطلاع دی کہ کار کے Shock Observers ختم ہو گئے ہیں۔ وہ Shock Absorbers کو Shock Observers کہتا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اب وہ شاک روکنے کے لائق نہیں رہے تھے۔ جہاں دیدہ بڑے بوڑھے کی مانند ہو گئے تھے جو کسی نیم تاریک کونے یا زینے کے نیچے والی تکونی بخاری میں پڑے پڑے صرف Observe کرسکتے ہیں۔ جو نا خلف دکھائیں سو نا چار دیکھنا۔ یہ مقام خود شناسی اور دانائی کا ہے۔ جب انسان بچشمِ خود لغوسے لغو حرکت اور کرتوت دیکھ کر نہ آزردہ ہو، نہ طیش میں آئے اور نہ ماحول پر لاحول پڑھے تو اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔ پہلے ہم دوسری وجہ بیان کریں گے۔ وہ یہ کہ اب وہ جہاں دیدہ بردبار اور در گزر کرنے والا ہو گیا ہے۔ اور پہلی وجہ یہ کہ وہ حرکت اسں کی اپنی ہی ہو۔

 

        ایک دن گیارہ بجے دن کو ظریف جبل پوری کے مکان واقع ایلومینیم کوارٹرز سے واپسی میں گورا قبرستان کے سامنے سے گذر رہے تھے کہ اچانک ہارن کی آواز میں رعشہ پیدا ہوا۔ گھنگرو سا بولنے لگا۔ خود اُن کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا کہ ہیڈ لائیٹ کی روشنی جا چکی تھی۔ خلیفہ نے کہا " جنابِ عالی ! بیٹری جواب دے رہی ہے " انہیں تعجب ہوا، اس لئے کہ وہ روزانہ اپنی لکڑی کی دُکان پر پہنچتے ہی بیٹری کو گاڑی سے نکال کر آرا مشین سے جوڑ دیتے تھے تاکہ آٹھ گھنٹے تک چارج ہوتی رہے۔ شام کو گھر پہنچتے ہی اسے نکال کر اپنے ریڈیو سے جوڑ دیتے۔ جو صرف کار بیڑی[1] سے چلتا تھا۔ پھر رات کو بارہ ایک بجے جب ریڈیو پروگرام ختم ہو جاتے تو اُسے ریڈیو سے علیحدہ کر کے واپس کار میں لگا دیتے تاکہ صبح خلیفہ ٹر ٹر نہ کرے۔ اس طرح بیٹری آٹھ آٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں میں تین مختلف چیزوں سے جُڑی رہتی تھی۔ جواب نہ دیتی تو کیا کرتی۔ بالکل کنفیوز ہو جاتی تھی۔ ہم نے خود دیکھا کہ ان کے ریڈیو میں چھُپے ہوئے پروگرام کے بجائے اکثر آرا مشین کی آوازیں نشر ہوتی رہتی تھیں، جنہیں وہ پکا راگ سمجھ کر ایک عرصے تک سر دھُنا کیے۔ اسی طرح کار کے انجن سے موسم کی خرابی کی ریڈیائی آوازیں آنے لگتی تھیں۔ عجیب گھپلا تھا۔ رات کو پچھلے پہر کے سناٹے میں جب اچانک عجیب و غریب آوازیں آنے لگتیں تو گھر والے یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ وہ ریڈیو کی آوازیں ہیں، یا آرا مشین میں کوئی قوال پھنس گیا ہے۔ اور ان بیچاروں کی معافی قابلِ معافی تھی۔ اس لئے کہ ان آوازوں کا مخرج دراصل وہ گلا تھا جس سے بشارت خراٹے لے رہے ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ریڈیو سے میرے گلے میں مستقل خراش پڑ گئی ہے۔ ایک اور عذاب یہ کہ جب تک ریڈیو اسٹیشن بند نہیں ہو جاتا، تین چار پڑوسی ان کی چھاتی پر سوار ہو کر پروگرام سُنتے رہتے۔ اب بشارت اس مردم آزار ایجاد سے سخت متنفر ہو گئے تھے۔ غالباً ایسے ہی حالات اور ایسے ہی بلیک موڈ میں عصرِ حاضر کے سب سے بڑے انگریزی شاعر فلپ لارکن نے کہا تھا کہ مارکونی[2] کی قبر پر پبلک ٹائلٹ بنا دینا چاہیے۔


[1] بیٹری : اس زمانے میں ٹارچ بیٹری کے بجائے کار بیٹری لگانی پڑتی تھی اور اُسے روزآنہ چارج کرنا پڑتا تھا۔ بہار کالونی میں، جہاں وہ رہتے تھے، اس زمانے میں بجلی نہیں آئی تھی۔

[2] مارکونی : ریڈیو کا موجد


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/1 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 2, 2013, 4:14:27 AM12/2/13
to bazmeqalam

سَوداوی اور صوبائی مزاج کے چار پہئے

 

        چند  روز سے جب گرمی نے شدت پکڑی تو چاروں پہیوں کا مزاج سودادی و صوبائی ہو گیا۔ مطلب یہ چاروں پہیّے چار مختلف سمتوں میں جانا چاہتے اور اسٹیئرنگ وہیل سے روٹھے رہتے تھے۔ یہی نہیں، بعض اوقات خود اسٹیئرنگ وہیل پہیّوں کی مرضی کے مطابق گھومنے لگتا تھا۔ خلیفہ سے پُوچھا " اب یہ کیا ہورہا ہے۔ ؟ " اس نے مطلع کیا " حضور ! ببلنگ (wobbling) کہتے ہیں " انہوں نے اطمینان کا لمبا سانس لیا۔ مرض کا نام معلوم ہو جائے تو تکلیف دور نہیں ہوتی اُلجھن دور ہو جاتی ہے۔ ذرا دیر بعد  یہ سوچ کر مسکرا دیئے کہ کار یہ چال چلے wobbling۔ راج ہینس چلے تو waddling ناگن چلے تو wriggling تو ناری چلے تو wiggling۔

 

یہ کنارا چلا کہ ناؤ چلی

کہیے کیا بات دھیان میں آئی

 

        اس دفعہ وہ خود بھی ورکشاپ گئے۔ مستری نے کہا، زنگ سے سائلنسر بھی جھڑنے والا ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ " کراچی کی ہوا میں اتنی رطوبت اور دلوں میں اتنی رقت ہے کہ کھلے میں ہاتھ پھیلا کر اور آنکھیں موند کر کھڑے ہو جاؤ تو پانچ منٹ میں چلّو بھر پانی اور ہتھیلی بھر پیسے جمع ہو جائیں گے۔ اور اگر چھ منٹ تک ہاتھ پھیلائے اور آنکھیں موندے رہو تو پیسے غائب ہو جائیں گے۔ یہاں بال، سائلنسر اور لچھن قبل از وقت جھڑ جاتے ہیں۔ لاہور میں کم از کم اتنا تو ہے کہ سائی لینسر نہیں جھڑتے۔ " مستری نے مشورہ دیا کہ " اگلے مہینے جب نیا ہارن فٹ کرائیں تو سائی لینسر بھی بدلوا لیں۔ اس وقت تو یہ اچھا خاصا ہارن کا کام دے رہا ہے۔ " بشارت نے جھنجھلا کر پوچھا " اس کا کوئی پُرزہ کام بھی کر رہا ہے کہ نہیں ؟ " مستری پہلے تو سوچ میں پڑ گیا۔ پھر جواب دیا کہ "Mileometer دُگنی رفتار سے کام کر رہا ہے ! " دراصل اب کار کی کارکردگی بلکہ نا کاردگی Murphy's Law[1] کے عین مطابق ہو گئی تھی، یعنی اس کی ہر وہ چیز جو بگڑ سکتی تھی بگڑ گئی تھی۔ اس صورت میں حکومت تو چل سکتی تھی، کار نہیں چل سکتی۔

 




[1] Murphy's Law: Any thing that can go wrong will go wrong


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/1 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 2, 2013, 8:41:42 PM12/2/13
to bazmeqalam

 

شُتر ترانہ

 

        متواتر مرمت کے باوجود بریک ٹھیک نہیں ہوئے۔ لیکن اب ان کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے کہ ان کے استعمال کی نوبت ہی نہیں آتی تھی۔ جس جگہ بریک لگانا ہو، کار اس سے ایک میل پہلے رُک جاتی تھی۔ اور بشارت نے تو جب سے ڈرائیونگ سیکھنی شروع کی، وہ بجلی کے کھمبوں سے بریک کا کام لے رہے تھے۔ کھمبوں کے استعمال پر ان کا کئی کتوں سے جھگڑا بھی ہوا۔ مگر اب بعض کتوں نے چمکتی وہیل کیپ سے کھمبے کا کام لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ اس عمل کے دوران گردن موڑ موڑ کر وہیل کیپ میں دیکھتے جاتے تھے۔ حال ہی میں بشارت نے یہ بھی نوٹس کیا کہ کار کچھ زیادہ ہی زود رنج اور حساس ہو گئی ہے۔ سڑک کراس کرنے والے کی گالی سے بھی رُکنے لگتی ہے۔ بشرطیکہ انگریزی میں ہو۔ وہ بتدریج خوش خرامی سے سُبک خرامی اور مست خرامی، پھر آہستہ خرامی اور مخرامی کی منزلوں سے گذر کر اب نری نمک حرامی پر اُتر آئی تھی۔ اس کی چال اب ان اڑیل مٹھے اونٹوں سے ملنے لگی جس کی تصویر رڈیارڈ کپلنگ نے اونٹوں کے Marching Song میں کھینچی ہے، جس کی تان اس پر ٹوٹتی ہے۔

 

        Can't ! Don't ! Shan't ! Won't

 

        بلاشبہ یہ تان حقیقت ترجمان اس لائق ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک، جو کسی طور سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے، اسے اپنا قومی ترانہ بنا لیں۔

   


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/2 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 4, 2013, 12:52:28 AM12/4/13
to bazmeqalam

 

" اسٹوپڈ کاؤ‘‘ سے مکالمہ

 

        دھائی تین مہینے تک بشارت کا تمام وقت، محنت، کمائی، دعائیں اور گالیاں ناکارہ کار پر صرف ہوتی رہیں۔ ابھی اسپِ نابکار (بلبن) کا زخم پوری طرح نہیں بھرا تھا کہ یہ فوپا[1] ہو گیا۔

 

        بقول اُستاد قمر جلالوی کے :

        ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

 

        کار اپنی مرضی کی مالک ہو گئی تھی۔ جہاں چلنا چاہئے وہاں ڈھٹائی سے کھڑی ہو جاتی اور جہاں رُکنا ہو ادبدا کر چلتی۔ مطلب یہ کہ چوراہے اور سپاہی کے اجازتی سگنل پر کھڑی ہو جاتی، لیکن بمپر کے سامنے کوئی راہ گیر آ جائے تو اسے صرفِ نظر کرتی ہوئی آگے بڑھ جاتی۔ جس سڑک پر نکل جاتی، اس کا سارا ٹریفک اس کے خرام و قیام کا تابع ہو جاتا جو اب فیض کے مصرعے سے اُلٹ ہو گیا تھا۔

 

        جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو رُکے تو جاں سے گذر گئے

 

        تھک ہار کے بشارت اسی میم کے پاس گئے اور منت سماجت کی خدارا ! پانچ سو کم میں ہی یہ کار واپس لے لو۔ وہ کسی طرح نہ مانی۔ انہوں نے اپنا فرضی مفلوک الحالی اور اس نے اپنی بیوگی کا واسطہ دیا۔ انصاف کی توقع اُٹھ گئی تو رحم کی اپیل میں زور پیدا کرنے کے لئے دونوں خود کو ایک دوسرے سے زیادہ مسکین اور بے آسرا ثابت کرنے لگے۔ دونوں پریشان تھے۔ دونوں دُکھی اور مصیبت زدہ تھے۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے پتھر کا دل رکھتے تھے۔ بشارت نے اپنی آواز میں مصنوعی رقت پیدا کرنے کی کوشش کی اور بار بار رومال سے ناک پونچھی۔ جواب میں میم سچ مُچ رو پڑی۔ اب بشارت نے جلدی جلدی پلکیں پٹ پٹا کر آنکھوں میں آنسو لانے چاہے مگر اُلٹی ہنسی آنے لگی۔ بدرجہ مجبوری دو تین انتہائی درد ناک مگر بالکل فرضی منظر (مثلاً اپنے مکان اور دکان کی قرقی اور نیلامی کا منظر۔ ٹریفک کے حادثے میں اپنی بے وقت موت اور اس کی خبر ملتے ہی بیگم کا جھٹ سے موٹی ململ کا دوپٹہ اوڑھ کر چھن چھن چوڑیاں توڑنا اور رو رو کر اپنی آنکھیں سُجا لینا) آنکھوں میں بھر کر رقت طاری کرنے کی کوشش کی۔ مگر دل نہ پسیجا نہ آنکھ سے آنسو ٹپکا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ انہیں اپنے سَنی ہونے پر غصہ آیا۔ دفعتاً انہیں اپنے انکم ٹیکس کے نوٹس کا خیال آیا اور ان کی گھگھی بند گئی۔ انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ " میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں، اگر یہ کار کچھ دن اور میرے پاس رہ گئی تو میں پاگل ہو جاؤں گا یا بے موت مارا جاؤں گا۔

 

        یہ سُنتے ہی میم پگھل گئی۔ آنکھوں میں دوبارہ آنسو بھر کر بولی۔ آپ کے بچوں کا کیا بنے گا، جن کی صحیح تعداد کے بارے میں بھی آپ کو شک ہے کہ سات ہیں کہ آٹھ۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے میاں کی ہارٹ اٹیک سے موت بھی اس منحوس کار کی وجہ سے ہوئی اور اسی میں۔۔۔ اسٹیئرنگ وہیل پر دم توڑا۔

        ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ میں گھوڑے کے ساتھ ہی گذارا کر لیتا۔ اس پر وہ عفیفہ چونکی اور مشتاقانہ بے صبری سے پُوچھنے لگی۔

" You mean a real horse"

" Yes . of course! Why "

 

        میرے پہلے شوہر کی موت گھوڑے پر سے گرنے سے واقع ہوئی تھی۔ وہ بھلا چنگا پولو کھیل رہا تھا کہ گھوڑے کا ہارٹ فیل ہو گیا گھوڑا اس پر گرا۔ وہ مجھے پیار سے Stupid Cow کہتا تھا۔ اس کی اینگلو سیکسن بلو گرے آنکھوں میں سچ مچ آنسو تیر رہے تھے۔

 

        ویسے بشارت رقیق القلب واقع ہوئے تھے۔ جوان عورت کو اس طرح آبدیدہ دیکھ کر ان کے دل میں اس کے آنسوؤں کو ریشمی رومال سے پونچھنے اور اس کی حالتِ بیوگی کو فی الفور ختم کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ یہ کہنا تو کسرِ بیانی ہو گی کہ ان کے نہاں خانہ  دل کی کسی منزل میں خوبصورت عورت کے لئے ایک نرم گوشہ تھا، اس لئے یہاں تو تمام منزلیں، سارے کا سارا خانۂ ویرانہ

 

        انتظارِ صید میں ایک دیدہ خواب تھا

 



[1] فوپا : (پنجابی) میرا خیال ہے کہ اس کا اصل ماخذ faux pas ہے، جس کا تلفظ اور معنی بعنیہ وہیں ہیں۔


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/3 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 5, 2013, 8:45:26 AM12/5/13
to bazmeqalam

 

         ۔۔۔ کہ بنے ہیں دوست ناصح

 

        انسان کا کوئی کام بگڑ جائے تو ناکامی سے اتنی کوفت نہیں ہوتی جتنی بن مانگے مشوروں اور نصیحتوں سے ہوتی ہے۔ جن سے ہر وہ شخص نوازتا ہے جس نے کبھی اس کام کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کسی دانا نے کیسی پتے کی بات کہی ہے کہ کامیابی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو کوئی مشورہ دینے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ ہم اپنے چھوٹے منہ سے بڑی بات نہیں کہہ سکتے۔ نہ چھوٹی۔ لہذاٰ یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم کامیاب ہیں یا ناکام۔ لیکن اتنا اتا پتا بتائے دیتے ہیں کہ اگر ہمارے اسکرو اور ڈھبریاں لگی ہوتیں تو ہمارے تمام دوست، احباب اور بہی خواہ سارے کام دھندے چھوڑ چھاڑ اپنے اپنے پیچ کَش اور پانے (Spanners) لیکر ہم پر پل پڑتے۔ ایک اپنے چوکور پانے سے ہماری گول ڈھبری کھولنے کی کوشش کرتا۔ دوسرا تیل دینے کے سوراخ میں ہتھوڑے سے اسکرو ٹھونک دیتا۔ تیسرا شبانہ روز کی محنت سے ہمارے تمام اسکرو "ٹائٹ " کرتا۔ اور آخر میں سب مل کر ہمارے سارے اسکرو اور ڈھبریاں کھول کر پھینک دیتے۔ محض یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم ان کے بغیر بھی فقط دوستوں کی قوتِ ارادی سے چل پھر اور چر چگ سکتے ہیں یا نہیں۔ ہماری اور ان کی ساری عمر اسی کھڑ پیچ میں تمام ہو جاتی۔ کچھ ایسا ہی حال میاں بشارت کا ہوا۔ کار کے ہر بریک ڈاؤن کے بعد  انہیں بکثرت ایسی نصیحتیں سُننی پڑتیں جن میں کار کی خرابیوں کے بجائے ان کی اپنی خامیوں کی طرف ایسے بلیغ اشارے ہوتے تھے جنہیں سمجھنے کے لیے عاقل ہونا ضروری نہیں۔ ادھر پیدل چلنے والے بشارت کو دیکھ دیکھ کر شکر کرتے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ کار نہیں رکھتے۔

 

        نصیحت کرنے والوں میں صرف حاجی عبدالرحمٰن علی محمد بانٹوا والے نے کام کی بات کہی۔ اس نے نصیحت کی کہ کبھی کسی بزرگ کے مزار، انکم ٹیکس کے دفتر یا ڈاکٹر کے پرائیوٹ کلینک میں جانا ہو تو کار ایک میل دور کھڑی کر دو۔ ایک ہفتے پان کھانے کے بعد  دانت صاف کرنا بند کر دو۔ دہانے کے دونوں طرف ریکھوں میں پِیک کے بریکٹ لگے رہنے دو۔ اور فیکٹری کے مالک ہو تو ریڑھی والے کا سا حلیہ بنا لو۔ نئیں تو سالا لوگ ایک دم چمڑی اُتار لیں گا اور کورے بدن پر نمک مرچی مالش کر کے ہوا بندر کو بھیج دیں گا۔ تم اکھا (تمام) عمر تراہ تراہ کرتا پھریں گا۔ اے بھائی ! ہم تمہارے کو بولتا ہے۔ کبھی انکم ٹیکس آفیسر، پولیس، جوان جورو اور پیر فقیر کے پاس جاؤ تو سولجر کی مافک کھالی ہاتھ ہلاتے، ڈبل مارچ کرتے نئیں جاؤ۔ ہمیش کوئی ڈالی کچھ مال پانی، کچھ نجر نجرانہ لے کے جاؤ۔ نئیں تو سالا لوگ کھڑے کھڑے کھال کھنچوا کے اس میں ڈان اخبار کی ردی بھروا دیں گا۔ سبجا ( سبزہ۔ سو روپے کا نوٹ) دیکھ کے جس کی آنکھ میں ٹو ہنڈرڈ کینڈل پاور کا چمکارا نئیں آئے تو سمجھو سالا سولہ آنے کلر بلائنڈ ہے یا اولیا اللہ بنے لا ( بن گیا) ہے، نئیں تو پھر ہوئے نہ ہوئے اسٹیٹ بنک کا گورنر ہے جو نوٹوں پر وسکھت (دستخط) کرتا ہے۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/4 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 7, 2013, 3:52:46 AM12/7/13
to bazmeqalam

 

مکالمہ دَر مذّمتِ نیم

 

        کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کار کے عیبوں پر سے پردہ اُٹھاتے اُٹھاتے خلیفہ اپنا نامہِ اعمال کھول کر بیٹھ جاتا، اور اپنے کرتوت کو کرامات کی طرح بیان کرنے لگتا۔ یہ تو کوئی مزاج داں ہی بتا سکتا تھا کہ حقیقت بیان کر رہا ہے یا حسرتوں کے میدان میں خیالی گھوڑے دوڑا رہا ہے۔ ایک دن فقیر محمد خانساماں سے کہنے لگا " آج تو سعید منزل کے سامنے ہماری گھوڑی ( کار ) بالکل باؤلی ہو گئی۔ ہر پُرزہ انا الحق کہنے لگا۔ پہلے تو انجن گرم ہوا۔ پھر Radiator جس کے لِیک (Leak) کو میں نے صابن کی لگدی سے بند کر رکھا تھا، پھٹ گیا۔ پھر پچھلا ٹائر لِیک کرنے لگا۔ میں نے ہوا بھرنے کے لئے کار کا ہم عمر پمپ نکالا تو معلوم ہے کہ کیا ہوا ؟ پتا چلا کہ پمپ میں سے ہوا لِیک کر رہی ہے ! فین بیلٹ بھی گرمی سے ٹُوٹ گئی۔ انگریز کی سواری میں رہنے سے اس کا مزاج بھی سودادی ہو گیا ہے، حکیم فہیم الدین آگرے والے کہا کرتے تھے کہ عورت سَودادی مزاج کی ہو تو مرد آتشی مزاج کا چاہئے ہی چاہئے۔ عبدالرزاق چھیلا کو، ابے وہی چھیلا ناز سنیما کا گیٹ کیپر، آتشک ہو گئی ہے۔ سالا اپنے کیفرِ کرتوت کو پہنچا۔ کہتا ہے انگلش فلم دیکھنے اور گڑ کی گزک کھانے اور نور جہاں کے گانوں سے خون گرمی کھا گیا ہے۔ پُرانے زمانے میں ہمارے یہاں دستور تھا، پتا نہیں تیری طرف تھا کہ نہیں، کہ تماش بینی کے چکر میں کسی کو آبلۂ فرنگ یا بادِ فرنگ[1]۔ V.D ہو جائے تو اسے ٹخنوں سے ایک بالش اونچا تہمد بندھوا کے نیم کی ٹہنی ہاتھ میں تھما دیتے تھے۔ جوانی میں، میں نے اچھے اچھے اشرافوں کو محلے میں ہری جھنڈی لئے پھرتے دیکھا۔ مشہور تھا کہ نیم کی ٹہنی سے چھُوت کی بیماری نہیں لگتی۔ پر میرے خیال میں تو فقط ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے یہ ڈھونگ رچائے جاتے تھے۔ خون اور طبعیت صاف کرنے کے لیے مریض کو ایسا کڑوا چرائتہ پلایا جاتا کہ حلق سے ایک گھونٹ اترتے ہی پتلیاں اوپر چڑھ جاتیں، اگلے وقتوں میں خود علاج کے اندر سزا پوشیدہ ہوتی تھی۔ مولوی یعقوب علی نقشبندی کہا کرتے تھے کہ اسی لیے دیسی (یونانی ) علاج کو حکمت کہتے ہیں۔

 

        یار ! ان دنوں سالے نیم نے بھی جان عذاب میں کر رکھی تھی۔ غریب غُربا کو یہ رئیسوں کا روگ لگ جائے یا معمولی پھوڑے پھُنسیاں نکل آئیں تو گاؤں قصبے کے جرّاح شروع سے اخیّر دم تلک نیم ہی سے علاج کرتے تھے۔ ساری ادویاتیں نیم ہی سے بنتی تھیں۔ نیم مے صابن سے نہلواتے۔ نیم کی نبولی اور بکّل کا لیپ بتاتے۔ نیم کا مرہم لگاتے۔ نیم کی سینکوں اور خشک پتوں کی دھُونی دیتے۔ جوان خون زیادہ گرمی دکھائے تو نیم کے بور اور کونپلوں کا عرق پلاتے۔ نیم کے گوند کا لعوق بنا کر چٹاتے۔ نبولی کی گری کا سفوف مار کراتے۔ ہر کھانے سے پہلے نیم کی مسواک کرواتے تاکہ ہر کھانے میں اسی کا مزا آئے۔ فاسّد مادوں کو نکالنے کے بہانے جونکوں کو آئے دم سیروں خون پلوا دیتے، یہاں تک کہ اگلا چٹّا آم ہو جاتا اور حرمزدگی تو درکنار دو رکعت نماز بھی پڑھتا تو گھٹنے چٹ چٹ چٹخنے لگتے۔ ناسور کو نیم کے اونٹتے پانی سے دھارتے تاکہ مرض کے جراثیم مر جائیں۔ اور اگر مریض جراثیم سے پہلے ہی جرّّاح کو پیارا ہو جائے تو گھڑے میں نیم کے پتے اُبال، غُسلِ میّت دے کے جنازہ نیم تلے رکھ دیتے۔ پھر تازہ ترین قبر پر تین ڈول پانی چھڑک کے سرھانے نیم کی ٹہنی گاڑ دیتے۔ دفنا کر گھر آتے تو مرنے والی کی بیوہ کی سونے کی لونگ اُتروا کر اسی نیم کی سینک ناک میں پہنا دی جاتی جس میں جھولا ڈال کر وہ کبھی ساون میں جھُولا کرتی تھی۔ پھر اسے سفید ڈوپٹہ اُڑھاتے اور ایک ہاتھ میں سروتہ اور دوسرے میں کوے کو اڑانے کے لیے نیم کی قمچی تھما کر نیم کی چھاؤں تلے بیٹھا دیتے۔

 

        " جب میں نے واہگہ باڈر کراس کر کے ہجرت کی تو یقین جان میرے پاس تن کے دو کپڑوں اور ایک اُسترے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ جو تُو مجھے اس حالیت میں دیکھ رہا ہے تو یہ مولا کا فضل ہے اور پاکستان کی دین ہے۔ دوسرے روز میں اپنے یارِ جانی محمد حسین کی میّت (معیت) میں شالیمار باغ دیکھنے گیا تو اُس نے بتایا کہ پاکستان میں نیم نہیں ہوتا ! خدا کی قسم ! مجھے پاکستان پر بہت پیار آیا اور میں وہیں مغلیہ پھواڑے (فوارے ) کے پاس سجدۂ شکر بجا لایا۔ "

 



[1] آبلۂ فرنگ، بادِ فرنگ : یعنی ارمغانِ فرنگ، ان معنوں میں کہ ان اصطلاحات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آلو، تمباکو، ریلوے، ریس، یورپین پھُول، شیکسپیئر، جن اینڈ ٹانک، چائے، کرکٹ اور دوسرے بے شمار تحفوں کے ساتھ ان امراض کی سوغات بھی انگریز اپنے ساتھ لائے۔ وللہ اعلم۔


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/5 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 8, 2013, 12:08:52 AM12/8/13
to bazmeqalam

خلیفہ کی پاپ بیتی

 

        خلیفہ کی مصیبت یہ تھی کہ ایک دفعہ شروع ہو جائے تو رُکنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ بوڑھا ہو چلا تھا، مگر ڈینگوں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بڑھاپے نے فینٹسی اور خواہشِ نفس کو بھی حقیقتِ نفس الامری بنا دیا ہے۔ اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ ایک پُرانی مثل ہے کہ بڑھاپے میں انسان کی شہوانی قوت زبان پر آ جاتی ہے۔ اس کی مشخیت بھر داستان سچی ہو یا نہ ہو، داستان کہنے کا انداز سچا اور کھرا تھا۔ اس کے سادہ دل سُننے والے ایسے ہپنا ٹائز ہوتے کہ یہ خیال ہی نہیں آتا، سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ بس جی چاہتا یونہی بولے چلا جائے۔ خلیفہ کی کہانی اسی کی زبانی جاری ہے۔ ہم نے صرف نئی سُرخی لگا دی ہے :

 

        " اوئے یار فقیرا ! گُلبیانٹنی[1] تو جانو آگ بھری چھچھوندر[2] تھی۔ اچنتی سی بھی نظر پڑ جائے تو جھٹ ہاتھ میں نیم کی ٹہنی تھما دیتی تھی۔ یار ! جھوٹ نہیں بولوں گا۔ روزِ قیامت کے دن حشر کے میدان میں اللہ میاں کے علاوہ والد صاحب کو بھی منہ دکھانا ہے۔ اب تجھ سے کیا پردہ۔ میں کوئی پیر پیمبر تو نہیں ہوں، گوش پوس کا انسان ہوں۔ اور جیسا کہ مولوی حشمت اللہ کہتے ہیں، انسان خطائے نسوان کا پُتلا ہے۔ تو یار ! واقعہ یہ ہے کہ نیم کی ٹہنی مجھے بھی لہرانی پڑی۔ میٹھا برس بھی نہیں لگا تھا۔ سترھواں چل رہا تھا کہ نضیحتا ہو گیا۔ پر یقین جانو، تمیزن ایک نمبر اشراف عورت تھی۔ ایسی ویسی نہیں۔ بیاہی تیاہی تھی۔ پڑوس میں رہتی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے جوانی اور پڑوسی کے گھر میں ایک ساتھ ہی قدم رکھا۔ عمر میں مجھ سے بیس نہیں تو پندرہ برس ضرور بڑی ہو گی۔ پر بدن جیسے کَسی کسائی ڈھولک۔ ہوا بھی چھو جائے تو بجنے لگے۔ میں اس کی مکان کی چھت پر پتنگ اُڑانے جایا کرتا تھا، وہ مجھے آتے جاتے کبھی گڑک، کبھی اپنے ہاتھ کا حلوا کھلاتی۔ جاڑے کے دن تھے۔ اس کا میاں جو اس سے عمر میں بیس نہیں تو پندرہ برس بلضرور بڑا ہو گا، اولاد کا تعویذ لینے فرید آباد گیا تھا۔ کھی کھی کھی کھی۔ میں چار پتنگیں کٹوا کر چرخی بغل میں دبائے چھت پر سے اُترا تو دیکھا وہ چھدرے بانوں کی چارپائی کی آڑ کر کے نہا رہی ہے۔ آنکھوں میں اب تلک بان کی جالیوں کی پیچھے کا سماں بسا ہوا ہے۔ مجھے آتے دیکھ کر ایک دَم الف کھڑی ہو گئی۔ یار ! تجھے کیا بتاؤں۔ میرے رگ رگ میں پھلجھڑیاں پھوٹنے لگیں۔ گھڑی بھر میں موزے کی طرح اُلٹ کر رکھ دیا۔ گزک کی خاصیت گرم ہوتی ہے۔

 

        میرے مرض کا بھانڈا پھُوٹا تو والد صاحب، اللہ ان کی بال بال مغفرت کرے، آپے سے باہر ہو گئے۔ جوتا تان کھڑے ہو گئے۔ کہنے لگے " تُو میرا نطفہ نہیں ! سامنے سے ہٹ جا۔ نہیں تو ابھی گردن اُڑا دوں گا "۔ حالانکہ تلوار تو درکنار، گھر میں بھونٹی (کُند) چھری تلک نہ تھی جس سے نکٹے کی ناک کٹ سکے۔ پھر میں ان سے قد میں ڈیڑھ بالش بڑا تھا ! پر ان کا اتنا رُعاب تھا کہ میں اپنے رنگین تہمد میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ماں میرے اور ان کے درمیان ڈھال بن کے کھڑی ہو گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجھے ایک ایک بات یاد ہے۔ بیچ بچاؤ کرانے میں چوڑیاں ٹُوٹنے سے ماں کی کلائی سے خون ٹپکنے لگا۔ رات دن محنت مزدوری کرتی تھی۔ جہاں تک میری چھٹپن کی یاداش کام کرتی ہے میں نے ان کے چہرے پر ہمیشہ جھریاں ہی دیکھیں۔ آنسو ان کی آنکھوں سے ریکھ ریکھ بہہ رہے تھے۔ مجھے آج بھی ایسا لگتا ہے جیسے ماں کے آنسو میرے گالوں پر بہہ رہے ہیں۔ وہ کہنے لگی " اللہ قسم ! میرے لال پر دشمنوں نے بہتان لگایا ہے۔ " میں نے والد صاحب سے بہترا کہا کہ " پرانے باجرے کی کھچڑی اور پال کے آم سے گرمی چڑھ گئی ہے۔ سُنیے تو سہی۔ مُشکی گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر چڑھنے سے مجھے یہ موذی مرض لگا ہے۔ تکھ مریاں[3] سے حدّت نکل جائے گی "۔ پر وہ بھلا ماننے والے تھے۔ کہنے لگے " ابے تکھ مریاں کے بچے ! میں نے گڑییں نہیں کھیلی ہیں۔ تُو نے نائیوں کی عزت خاک میں ملا دی۔ بزرگوں کی ناک کٹوا دی " ماں کے سوا کسی نے میری بات پر یقین نہیں کیا۔ چھوٹے بھائی روز مجھ سے جھگڑنے لگے۔ اس لئے کہ ماں نے ان کے اور والد کے آم اور گھی میں ترتراتی کھچڑی بند کرد ی تھی۔ یار فقیر ! کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اللہ میاں کو اپنے بندوں سے اتنی بھی محبت ہوئی جتنی میری اَن پڑھ ماں کو مجھ سے تھی تو اپنا بیڑا پار جانو۔ حشر کے دن سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور مولویوں کی کھچڑی اور آم بند۔

 



[1] گُلبیانٹنی : نچلے درجے کی کسبی جو نکھیائی کہلاتی تھی۔ کیوں کہ اس کے پاس جو آتے تھے وہ ٹکے سے زیادہ کی استعاعت نہیں رکھتے تھے۔ گویا اصل وجہ تضحیک و تذلیل نہیں قلیل اُجرت ہے۔

[2] چھچھوندر : ایک قسم کی چھوٹی آتش بازی جو فرش پر گھوم گھوم کر بڑی بے قراری سے چلتی ہے۔

[3] تکھ نریاں : تخمِ ریحاں۔ گرمیوں میں فالودے میں ڈال کر پیتے ہیں۔


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/7 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Syed Ahmed

unread,
Dec 8, 2013, 1:45:38 AM12/8/13
to BAZMe...@googlegroups.com
مکرمی جناب نجیب صاحب                       سلام مسنون
بھئی دمادم مست ہے یہ سلسلہ، بڑی نوازش، بہت شکریہ۔
سید احمد
 5-2-1435ھ
8-12-2013ء


On Sunday, December 8, 2013 8:08 AM, Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com> wrote:

خلیفہ کی پاپ بیتی

 
        خلیفہ کی مصیبت یہ تھی کہ ایک دفعہ شروع ہو جائے تو رُکنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ بوڑھا ہو چلا تھا، مگر ڈینگوں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بڑھاپے نے فینٹسی اور خواہشِ نفس کو بھی حقیقتِ نفس الامری بنا دیا ہے۔ اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ ایک پُرانی مثل ہے کہ بڑھاپے میں انسان کی شہوانی قوت زبان پر آ جاتی ہے۔ اس کی مشخیت بھر داستان سچی ہو یا نہ ہو، داستان کہنے کا انداز سچا اور کھرا تھا۔ اس کے سادہ دل سُننے والے ایسے ہپنا ٹائز ہوتے کہ یہ خیال ہی نہیں آتا، سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ بس جی چاہتا یونہی بولے چلا جائے۔ خلیفہ کی کہانی اسی کی زبانی جاری ہے۔ ہم نے صرف نئی سُرخی لگا دی ہے :
 
        " اوئے یار فقیرا ! گُلبیانٹنی[1] تو جانو آگ بھری چھچھوندر[2] تھی۔ اچنتی سی بھی نظر پڑ جائے تو جھٹ ہاتھ میں نیم کی ٹہنی تھما دیتی تھی۔ یار ! جھوٹ نہیں بولوں گا۔ روزِ قیامت کے دن حشر کے میدان میں اللہ میاں کے علاوہ والد صاحب کو بھی منہ دکھانا ہے۔ اب تجھ سے کیا پردہ۔ میں کوئی پیر پیمبر تو نہیں ہوں، گوش پوس کا انسان ہوں۔ اور جیسا کہ مولوی حشمت اللہ کہتے ہیں، انسان خطائے نسوان کا پُتلا ہے۔ تو یار ! واقعہ یہ ہے کہ نیم کی ٹہنی مجھے بھی لہرانی پڑی۔ میٹھا برس بھی نہیں لگا تھا۔ سترھواں چل رہا تھا کہ نضیحتا ہو گیا۔ پر یقین جانو، تمیزن ایک نمبر اشراف عورت تھی۔ ایسی ویسی نہیں۔ بیاہی تیاہی تھی۔ پڑوس میں رہتی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے جوانی اور پڑوسی کے گھر میں ایک ساتھ ہی قدم رکھا۔ عمر میں مجھ سے بیس نہیں تو پندرہ برس ضرور بڑی ہو گی۔ پر بدن جیسے کَسی کسائی ڈھولک۔ ہوا بھی چھو جائے تو بجنے لگے۔ میں اس کی مکان کی چھت پر پتنگ اُڑانے جایا کرتا تھا، وہ مجھے آتے جاتے کبھی گڑک، کبھی اپنے ہاتھ کا حلوا کھلاتی۔ جاڑے کے دن تھے۔ اس کا میاں جو اس سے عمر میں بیس نہیں تو پندرہ برس بلضرور بڑا ہو گا، اولاد کا تعویذ لینے فرید آباد گیا تھا۔ کھی کھی کھی کھی۔ میں چار پتنگیں کٹوا کر چرخی بغل میں دبائے چھت پر سے اُترا تو دیکھا وہ چھدرے بانوں کی چارپائی کی آڑ کر کے نہا رہی ہے۔ آنکھوں میں اب تلک بان کی جالیوں کی پیچھے کا سماں بسا ہوا ہے۔ مجھے آتے دیکھ کر ایک دَم الف کھڑی ہو گئی۔ یار ! تجھے کیا بتاؤں۔ میرے رگ رگ میں پھلجھڑیاں پھوٹنے لگیں۔ گھڑی بھر میں موزے کی طرح اُلٹ کر رکھ دیا۔ گزک کی خاصیت گرم ہوتی ہے۔
 
        میرے مرض کا بھانڈا پھُوٹا تو والد صاحب، اللہ ان کی بال بال مغفرت کرے، آپے سے باہر ہو گئے۔ جوتا تان کھڑے ہو گئے۔ کہنے لگے " تُو میرا نطفہ نہیں ! سامنے سے ہٹ جا۔ نہیں تو ابھی گردن اُڑا دوں گا "۔ حالانکہ تلوار تو درکنار، گھر میں بھونٹی (کُند) چھری تلک نہ تھی جس سے نکٹے کی ناک کٹ سکے۔ پھر میں ان سے قد میں ڈیڑھ بالش بڑا تھا ! پر ان کا اتنا رُعاب تھا کہ میں اپنے رنگین تہمد میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ماں میرے اور ان کے درمیان ڈھال بن کے کھڑی ہو گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجھے ایک ایک بات یاد ہے۔ بیچ بچاؤ کرانے میں چوڑیاں ٹُوٹنے سے ماں کی کلائی سے خون ٹپکنے لگا۔ رات دن محنت مزدوری کرتی تھی۔ جہاں تک میری چھٹپن کی یاداش کام کرتی ہے میں نے ان کے چہرے پر ہمیشہ جھریاں ہی دیکھیں۔ آنسو ان کی آنکھوں سے ریکھ ریکھ بہہ رہے تھے۔ مجھے آج بھی ایسا لگتا ہے جیسے ماں کے آنسو میرے گالوں پر بہہ رہے ہیں۔ وہ کہنے لگی " اللہ قسم ! میرے لال پر دشمنوں نے بہتان لگایا ہے۔ " میں نے والد صاحب سے بہترا کہا کہ " پرانے باجرے کی کھچڑی اور پال کے آم سے گرمی چڑھ گئی ہے۔ سُنیے تو سہی۔ مُشکی گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر چڑھنے سے مجھے یہ موذی مرض لگا ہے۔ تکھ مریاں[3] سے حدّت نکل جائے گی "۔ پر وہ بھلا ماننے والے تھے۔ کہنے لگے " ابے تکھ مریاں کے بچے ! میں نے گڑییں نہیں کھیلی ہیں۔ تُو نے نائیوں کی عزت خاک میں ملا دی۔ بزرگوں کی ناک کٹوا دی " ماں کے سوا کسی نے میری بات پر یقین نہیں کیا۔ چھوٹے بھائی روز مجھ سے جھگڑنے لگے۔ اس لئے کہ ماں نے ان کے اور والد کے آم اور گھی میں ترتراتی کھچڑی بند کرد ی تھی۔ یار فقیر ! کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اللہ میاں کو اپنے بندوں سے اتنی بھی محبت ہوئی جتنی میری اَن پڑھ ماں کو مجھ سے تھی تو اپنا بیڑا پار جانو۔ حشر کے دن سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور مولویوں کی کھچڑی اور آم بند۔
 
[1] گُلبیانٹنی : نچلے درجے کی کسبی جو نکھیائی کہلاتی تھی۔ کیوں کہ اس کے پاس جو آتے تھے وہ ٹکے سے زیادہ کی استعاعت نہیں رکھتے تھے۔ گویا اصل وجہ تضحیک و تذلیل نہیں قلیل اُجرت ہے۔
[2] چھچھوندر : ایک قسم کی چھوٹی آتش بازی جو فرش پر گھوم گھوم کر بڑی بے قراری سے چلتی ہے۔
[3] تکھ نریاں : تخمِ ریحاں۔ گرمیوں میں فالودے میں ڈال کر پیتے ہیں۔

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/7 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
 

مکالمہ دَر مذّمتِ نیم

 
        کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کار کے عیبوں پر سے پردہ اُٹھاتے اُٹھاتے خلیفہ اپنا نامہِ اعمال کھول کر بیٹھ جاتا، اور اپنے کرتوت کو کرامات کی طرح بیان کرنے لگتا۔ یہ تو کوئی مزاج داں ہی بتا سکتا تھا کہ حقیقت بیان کر رہا ہے یا حسرتوں کے میدان میں خیالی گھوڑے دوڑا رہا ہے۔ ایک دن فقیر محمد خانساماں سے کہنے لگا " آج تو سعید منزل کے سامنے ہماری گھوڑی ( کار ) بالکل باؤلی ہو گئی۔ ہر پُرزہ انا الحق کہنے لگا۔ پہلے تو انجن گرم ہوا۔ پھر Radiator جس کے لِیک (Leak) کو میں نے صابن کی لگدی سے بند کر رکھا تھا، پھٹ گیا۔ پھر پچھلا ٹائر لِیک کرنے لگا۔ میں نے ہوا بھرنے کے لئے کار کا ہم عمر پمپ نکالا تو معلوم ہے کہ کیا ہوا ؟ پتا چلا کہ پمپ میں سے ہوا لِیک کر رہی ہے ! فین بیلٹ بھی گرمی سے ٹُوٹ گئی۔ انگریز کی سواری میں رہنے سے اس کا مزاج بھی سودادی ہو گیا ہے، حکیم فہیم الدین آگرے والے کہا کرتے تھے کہ عورت سَودادی مزاج کی ہو تو مرد آتشی مزاج کا چاہئے ہی چاہئے۔ عبدالرزاق چھیلا کو، ابے وہی چھیلا ناز سنیما کا گیٹ کیپر، آتشک ہو گئی ہے۔ سالا اپنے کیفرِ کرتوت کو پہنچا۔ کہتا ہے انگلش فلم دیکھنے اور گڑ کی گزک کھانے اور نور جہاں کے گانوں سے خون گرمی کھا گیا ہے۔ پُرانے زمانے میں ہمارے یہاں دستور تھا، پتا نہیں تیری طرف تھا کہ نہیں، کہ تماش بینی کے چکر میں کسی کو آبلۂ فرنگ یا بادِ فرنگ[1]۔ V.D ہو جائے تو اسے ٹخنوں سے ایک بالش اونچا تہمد بندھوا کے نیم کی ٹہنی ہاتھ میں تھما دیتے تھے۔ جوانی میں، میں نے اچھے اچھے اشرافوں کو محلے میں ہری جھنڈی لئے پھرتے دیکھا۔ مشہور تھا کہ نیم کی ٹہنی سے چھُوت کی بیماری نہیں لگتی۔ پر میرے خیال میں تو فقط ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے یہ ڈھونگ رچائے جاتے تھے۔ خون اور طبعیت صاف کرنے کے لیے مریض کو ایسا کڑوا چرائتہ پلایا جاتا کہ حلق سے ایک گھونٹ اترتے ہی پتلیاں اوپر چڑھ جاتیں، اگلے وقتوں میں خود علاج کے اندر سزا پوشیدہ ہوتی تھی۔ مولوی یعقوب علی نقشبندی کہا کرتے تھے کہ اسی لیے دیسی (یونانی ) علاج کو حکمت کہتے ہیں۔
 
        یار ! ان دنوں سالے نیم نے بھی جان عذاب میں کر رکھی تھی۔ غریب غُربا کو یہ رئیسوں کا روگ لگ جائے یا معمولی پھوڑے پھُنسیاں نکل آئیں تو گاؤں قصبے کے جرّاح شروع سے اخیّر دم تلک نیم ہی سے علاج کرتے تھے۔ ساری ادویاتیں نیم ہی سے بنتی تھیں۔ نیم مے صابن سے نہلواتے۔ نیم کی نبولی اور بکّل کا لیپ بتاتے۔ نیم کا مرہم لگاتے۔ نیم کی سینکوں اور خشک پتوں کی دھُونی دیتے۔ جوان خون زیادہ گرمی دکھائے تو نیم کے بور اور کونپلوں کا عرق پلاتے۔ نیم کے گوند کا لعوق بنا کر چٹاتے۔ نبولی کی گری کا سفوف مار کراتے۔ ہر کھانے سے پہلے نیم کی مسواک کرواتے تاکہ ہر کھانے میں اسی کا مزا آئے۔ فاسّد مادوں کو نکالنے کے بہانے جونکوں کو آئے دم سیروں خون پلوا دیتے، یہاں تک کہ اگلا چٹّا آم ہو جاتا اور حرمزدگی تو درکنار دو رکعت نماز بھی پڑھتا تو گھٹنے چٹ چٹ چٹخنے لگتے۔ ناسور کو نیم کے اونٹتے پانی سے دھارتے تاکہ مرض کے جراثیم مر جائیں۔ اور اگر مریض جراثیم سے پہلے ہی جرّّاح کو پیارا ہو جائے تو گھڑے میں نیم کے پتے اُبال، غُسلِ میّت دے کے جنازہ نیم تلے رکھ دیتے۔ پھر تازہ ترین قبر پر تین ڈول پانی چھڑک کے سرھانے نیم کی ٹہنی گاڑ دیتے۔ دفنا کر گھر آتے تو مرنے والی کی بیوہ کی سونے کی لونگ اُتروا کر اسی نیم کی سینک ناک میں پہنا دی جاتی جس میں جھولا ڈال کر وہ کبھی ساون میں جھُولا کرتی تھی۔ پھر اسے سفید ڈوپٹہ اُڑھاتے اور ایک ہاتھ میں سروتہ اور دوسرے میں کوے کو اڑانے کے لیے نیم کی قمچی تھما کر نیم کی چھاؤں تلے بیٹھا دیتے۔
 
        " جب میں نے واہگہ باڈر کراس کر کے ہجرت کی تو یقین جان میرے پاس تن کے دو کپڑوں اور ایک اُسترے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ جو تُو مجھے اس حالیت میں دیکھ رہا ہے تو یہ مولا کا فضل ہے اور پاکستان کی دین ہے۔ دوسرے روز میں اپنے یارِ جانی محمد حسین کی میّت (معیت) میں شالیمار باغ دیکھنے گیا تو اُس نے بتایا کہ پاکستان میں نیم نہیں ہوتا ! خدا کی قسم ! مجھے پاکستان پر بہت پیار آیا اور میں وہیں مغلیہ پھواڑے (فوارے ) کے پاس سجدۂ شکر بجا لایا۔ "
 
[1] آبلۂ فرنگ، بادِ فرنگ : یعنی ارمغانِ فرنگ، ان معنوں میں کہ ان اصطلاحات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آلو، تمباکو، ریلوے، ریس، یورپین پھُول، شیکسپیئر، جن اینڈ ٹانک، چائے، کرکٹ اور دوسرے بے شمار تحفوں کے ساتھ ان امراض کی سوغات بھی انگریز اپنے ساتھ لائے۔ وللہ اعلم۔

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/5 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
 

         ۔۔۔ کہ بنے ہیں دوست ناصح

 
        انسان کا کوئی کام بگڑ جائے تو ناکامی سے اتنی کوفت نہیں ہوتی جتنی بن مانگے مشوروں اور نصیحتوں سے ہوتی ہے۔ جن سے ہر وہ شخص نوازتا ہے جس نے کبھی اس کام کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کسی دانا نے کیسی پتے کی بات کہی ہے کہ کامیابی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو کوئی مشورہ دینے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ ہم اپنے چھوٹے منہ سے بڑی بات نہیں کہہ سکتے۔ نہ چھوٹی۔ لہذاٰ یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم کامیاب ہیں یا ناکام۔ لیکن اتنا اتا پتا بتائے دیتے ہیں کہ اگر ہمارے اسکرو اور ڈھبریاں لگی ہوتیں تو ہمارے تمام دوست، احباب اور بہی خواہ سارے کام دھندے چھوڑ چھاڑ اپنے اپنے پیچ کَش اور پانے (Spanners) لیکر ہم پر پل پڑتے۔ ایک اپنے چوکور پانے سے ہماری گول ڈھبری کھولنے کی کوشش کرتا۔ دوسرا تیل دینے کے سوراخ میں ہتھوڑے سے اسکرو ٹھونک دیتا۔ تیسرا شبانہ روز کی محنت سے ہمارے تمام اسکرو "ٹائٹ " کرتا۔ اور آخر میں سب مل کر ہمارے سارے اسکرو اور ڈھبریاں کھول کر پھینک دیتے۔ محض یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم ان کے بغیر بھی فقط دوستوں کی قوتِ ارادی سے چل پھر اور چر چگ سکتے ہیں یا نہیں۔ ہماری اور ان کی ساری عمر اسی کھڑ پیچ میں تمام ہو جاتی۔ کچھ ایسا ہی حال میاں بشارت کا ہوا۔ کار کے ہر بریک ڈاؤن کے بعد  انہیں بکثرت ایسی نصیحتیں سُننی پڑتیں جن میں کار کی خرابیوں کے بجائے ان کی اپنی خامیوں کی طرف ایسے بلیغ اشارے ہوتے تھے جنہیں سمجھنے کے لیے عاقل ہونا ضروری نہیں۔ ادھر پیدل چلنے والے بشارت کو دیکھ دیکھ کر شکر کرتے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ کار نہیں رکھتے۔
 
        نصیحت کرنے والوں میں صرف حاجی عبدالرحمٰن علی محمد بانٹوا والے نے کام کی بات کہی۔ اس نے نصیحت کی کہ کبھی کسی بزرگ کے مزار، انکم ٹیکس کے دفتر یا ڈاکٹر کے پرائیوٹ کلینک میں جانا ہو تو کار ایک میل دور کھڑی کر دو۔ ایک ہفتے پان کھانے کے بعد  دانت صاف کرنا بند کر دو۔ دہانے کے دونوں طرف ریکھوں میں پِیک کے بریکٹ لگے رہنے دو۔ اور فیکٹری کے مالک ہو تو ریڑھی والے کا سا حلیہ بنا لو۔ نئیں تو سالا لوگ ایک دم چمڑی اُتار لیں گا اور کورے بدن پر نمک مرچی مالش کر کے ہوا بندر کو بھیج دیں گا۔ تم اکھا (تمام) عمر تراہ تراہ کرتا پھریں گا۔ اے بھائی ! ہم تمہارے کو بولتا ہے۔ کبھی انکم ٹیکس آفیسر، پولیس، جوان جورو اور پیر فقیر کے پاس جاؤ تو سولجر کی مافک کھالی ہاتھ ہلاتے، ڈبل مارچ کرتے نئیں جاؤ۔ ہمیش کوئی ڈالی کچھ مال پانی، کچھ نجر نجرانہ لے کے جاؤ۔ نئیں تو سالا لوگ کھڑے کھڑے کھال کھنچوا کے اس میں ڈان اخبار کی ردی بھروا دیں گا۔ سبجا ( سبزہ۔ سو روپے کا نوٹ) دیکھ کے جس کی آنکھ میں ٹو ہنڈرڈ کینڈل پاور کا چمکارا نئیں آئے تو سمجھو سالا سولہ آنے کلر بلائنڈ ہے یا اولیا اللہ بنے لا ( بن گیا) ہے، نئیں تو پھر ہوئے نہ ہوئے اسٹیٹ بنک کا گورنر ہے جو نوٹوں پر وسکھت (دستخط) کرتا ہے۔
 

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/4 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
 

" اسٹوپڈ کاؤ‘‘ سے مکالمہ

 
        دھائی تین مہینے تک بشارت کا تمام وقت، محنت، کمائی، دعائیں اور گالیاں ناکارہ کار پر صرف ہوتی رہیں۔ ابھی اسپِ نابکار (بلبن) کا زخم پوری طرح نہیں بھرا تھا کہ یہ فوپا[1] ہو گیا۔
 
        بقول اُستاد قمر جلالوی کے :
        ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
 
        کار اپنی مرضی کی مالک ہو گئی تھی۔ جہاں چلنا چاہئے وہاں ڈھٹائی سے کھڑی ہو جاتی اور جہاں رُکنا ہو ادبدا کر چلتی۔ مطلب یہ کہ چوراہے اور سپاہی کے اجازتی سگنل پر کھڑی ہو جاتی، لیکن بمپر کے سامنے کوئی راہ گیر آ جائے تو اسے صرفِ نظر کرتی ہوئی آگے بڑھ جاتی۔ جس سڑک پر نکل جاتی، اس کا سارا ٹریفک اس کے خرام و قیام کا تابع ہو جاتا جو اب فیض کے مصرعے سے اُلٹ ہو گیا تھا۔
 
        جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو رُکے تو جاں سے گذر گئے
 
        تھک ہار کے بشارت اسی میم کے پاس گئے اور منت سماجت کی خدارا ! پانچ سو کم میں ہی یہ کار واپس لے لو۔ وہ کسی طرح نہ مانی۔ انہوں نے اپنا فرضی مفلوک الحالی اور اس نے اپنی بیوگی کا واسطہ دیا۔ انصاف کی توقع اُٹھ گئی تو رحم کی اپیل میں زور پیدا کرنے کے لئے دونوں خود کو ایک دوسرے سے زیادہ مسکین اور بے آسرا ثابت کرنے لگے۔ دونوں پریشان تھے۔ دونوں دُکھی اور مصیبت زدہ تھے۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے پتھر کا دل رکھتے تھے۔ بشارت نے اپنی آواز میں مصنوعی رقت پیدا کرنے کی کوشش کی اور بار بار رومال سے ناک پونچھی۔ جواب میں میم سچ مُچ رو پڑی۔ اب بشارت نے جلدی جلدی پلکیں پٹ پٹا کر آنکھوں میں آنسو لانے چاہے مگر اُلٹی ہنسی آنے لگی۔ بدرجہ مجبوری دو تین انتہائی درد ناک مگر بالکل فرضی منظر (مثلاً اپنے مکان اور دکان کی قرقی اور نیلامی کا منظر۔ ٹریفک کے حادثے میں اپنی بے وقت موت اور اس کی خبر ملتے ہی بیگم کا جھٹ سے موٹی ململ کا دوپٹہ اوڑھ کر چھن چھن چوڑیاں توڑنا اور رو رو کر اپنی آنکھیں سُجا لینا) آنکھوں میں بھر کر رقت طاری کرنے کی کوشش کی۔ مگر دل نہ پسیجا نہ آنکھ سے آنسو ٹپکا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ انہیں اپنے سَنی ہونے پر غصہ آیا۔ دفعتاً انہیں اپنے انکم ٹیکس کے نوٹس کا خیال آیا اور ان کی گھگھی بند گئی۔ انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ " میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں، اگر یہ کار کچھ دن اور میرے پاس رہ گئی تو میں پاگل ہو جاؤں گا یا بے موت مارا جاؤں گا۔
 
        یہ سُنتے ہی میم پگھل گئی۔ آنکھوں میں دوبارہ آنسو بھر کر بولی۔ آپ کے بچوں کا کیا بنے گا، جن کی صحیح تعداد کے بارے میں بھی آپ کو شک ہے کہ سات ہیں کہ آٹھ۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے میاں کی ہارٹ اٹیک سے موت بھی اس منحوس کار کی وجہ سے ہوئی اور اسی میں۔۔۔ اسٹیئرنگ وہیل پر دم توڑا۔
        ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ میں گھوڑے کے ساتھ ہی گذارا کر لیتا۔ اس پر وہ عفیفہ چونکی اور مشتاقانہ بے صبری سے پُوچھنے لگی۔
" You mean a real horse"
" Yes . of course! Why "
 
        میرے پہلے شوہر کی موت گھوڑے پر سے گرنے سے واقع ہوئی تھی۔ وہ بھلا چنگا پولو کھیل رہا تھا کہ گھوڑے کا ہارٹ فیل ہو گیا گھوڑا اس پر گرا۔ وہ مجھے پیار سے Stupid Cow کہتا تھا۔ اس کی اینگلو سیکسن بلو گرے آنکھوں میں سچ مچ آنسو تیر رہے تھے۔
 
        ویسے بشارت رقیق القلب واقع ہوئے تھے۔ جوان عورت کو اس طرح آبدیدہ دیکھ کر ان کے دل میں اس کے آنسوؤں کو ریشمی رومال سے پونچھنے اور اس کی حالتِ بیوگی کو فی الفور ختم کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ یہ کہنا تو کسرِ بیانی ہو گی کہ ان کے نہاں خانہ  دل کی کسی منزل میں خوبصورت عورت کے لئے ایک نرم گوشہ تھا، اس لئے یہاں تو تمام منزلیں، سارے کا سارا خانۂ ویرانہ
 
        انتظارِ صید میں ایک دیدہ خواب تھا
 
[1] فوپا : (پنجابی) میرا خیال ہے کہ اس کا اصل ماخذ faux pas ہے، جس کا تلفظ اور معنی بعنیہ وہیں ہیں۔

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/3 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
 

شُتر ترانہ

 
        متواتر مرمت کے باوجود بریک ٹھیک نہیں ہوئے۔ لیکن اب ان کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے کہ ان کے استعمال کی نوبت ہی نہیں آتی تھی۔ جس جگہ بریک لگانا ہو، کار اس سے ایک میل پہلے رُک جاتی تھی۔ اور بشارت نے تو جب سے ڈرائیونگ سیکھنی شروع کی، وہ بجلی کے کھمبوں سے بریک کا کام لے رہے تھے۔ کھمبوں کے استعمال پر ان کا کئی کتوں سے جھگڑا بھی ہوا۔ مگر اب بعض کتوں نے چمکتی وہیل کیپ سے کھمبے کا کام لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ اس عمل کے دوران گردن موڑ موڑ کر وہیل کیپ میں دیکھتے جاتے تھے۔ حال ہی میں بشارت نے یہ بھی نوٹس کیا کہ کار کچھ زیادہ ہی زود رنج اور حساس ہو گئی ہے۔ سڑک کراس کرنے والے کی گالی سے بھی رُکنے لگتی ہے۔ بشرطیکہ انگریزی میں ہو۔ وہ بتدریج خوش خرامی سے سُبک خرامی اور مست خرامی، پھر آہستہ خرامی اور مخرامی کی منزلوں سے گذر کر اب نری نمک حرامی پر اُتر آئی تھی۔ اس کی چال اب ان اڑیل مٹھے اونٹوں سے ملنے لگی جس کی تصویر رڈیارڈ کپلنگ نے اونٹوں کے Marching Song میں کھینچی ہے، جس کی تان اس پر ٹوٹتی ہے۔
 
        Can't ! Don't ! Shan't ! Won't
 
        بلاشبہ یہ تان حقیقت ترجمان اس لائق ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک، جو کسی طور سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے، اسے اپنا قومی ترانہ بنا لیں۔
   

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/2 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

سَوداوی اور صوبائی مزاج کے چار پہئے

 
        چند  روز سے جب گرمی نے شدت پکڑی تو چاروں پہیوں کا مزاج سودادی و صوبائی ہو گیا۔ مطلب یہ چاروں پہیّے چار مختلف سمتوں میں جانا چاہتے اور اسٹیئرنگ وہیل سے روٹھے رہتے تھے۔ یہی نہیں، بعض اوقات خود اسٹیئرنگ وہیل پہیّوں کی مرضی کے مطابق گھومنے لگتا تھا۔ خلیفہ سے پُوچھا " اب یہ کیا ہورہا ہے۔ ؟ " اس نے مطلع کیا " حضور ! ببلنگ (wobbling) کہتے ہیں " انہوں نے اطمینان کا لمبا سانس لیا۔ مرض کا نام معلوم ہو جائے تو تکلیف دور نہیں ہوتی اُلجھن دور ہو جاتی ہے۔ ذرا دیر بعد  یہ سوچ کر مسکرا دیئے کہ کار یہ چال چلے wobbling۔ راج ہینس چلے تو waddling ناگن چلے تو wriggling تو ناری چلے تو wiggling۔
 
یہ کنارا چلا کہ ناؤ چلی
کہیے کیا بات دھیان میں آئی
 
        اس دفعہ وہ خود بھی ورکشاپ گئے۔ مستری نے کہا، زنگ سے سائلنسر بھی جھڑنے والا ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ " کراچی کی ہوا میں اتنی رطوبت اور دلوں میں اتنی رقت ہے کہ کھلے میں ہاتھ پھیلا کر اور آنکھیں موند کر کھڑے ہو جاؤ تو پانچ منٹ میں چلّو بھر پانی اور ہتھیلی بھر پیسے جمع ہو جائیں گے۔ اور اگر چھ منٹ تک ہاتھ پھیلائے اور آنکھیں موندے رہو تو پیسے غائب ہو جائیں گے۔ یہاں بال، سائلنسر اور لچھن قبل از وقت جھڑ جاتے ہیں۔ لاہور میں کم از کم اتنا تو ہے کہ سائی لینسر نہیں جھڑتے۔ " مستری نے مشورہ دیا کہ " اگلے مہینے جب نیا ہارن فٹ کرائیں تو سائی لینسر بھی بدلوا لیں۔ اس وقت تو یہ اچھا خاصا ہارن کا کام دے رہا ہے۔ " بشارت نے جھنجھلا کر پوچھا " اس کا کوئی پُرزہ کام بھی کر رہا ہے کہ نہیں ؟ " مستری پہلے تو سوچ میں پڑ گیا۔ پھر جواب دیا کہ "Mileometer دُگنی رفتار سے کام کر رہا ہے ! " دراصل اب کار کی کارکردگی بلکہ نا کاردگی Murphy's Law[1] کے عین مطابق ہو گئی تھی، یعنی اس کی ہر وہ چیز جو بگڑ سکتی تھی بگڑ گئی تھی۔ اس صورت میں حکومت تو چل سکتی تھی، کار نہیں چل سکتی۔
 


[1] Murphy's Law: Any thing that can go wrong will go wrong

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/1 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
 

ماحول پر لاحول اور مارکونی کی قبر پر

 
        کار متعدّد اندرونی و غیر اندورنی، خفیہ اور اعلانیہ امراض میں مبتلا تھی۔ ایک پُرزے کی مرمت کرواتے تو دوسرا جواب دے دیتا۔ جتنا پیڑول جلتا، اتنا موبل آئل۔ اوران دونوں سے دُوگنا اُن کا اپنا خون جلتا۔ آج کلچ پلیٹ جل گئی تو کل ڈائی نمو بیٹھ گیا۔ اور پرسوں گئیر بکس بداوا کر لائے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی سیٹ کے نیچے کدال چلا رہا ہے۔ خلیفہ نے تشخیص کی کہ صاب ! اب یونیورسل اڑی کر رہا ہے۔ پھر بریک گڑبڑ کرنے لگے۔ مستری نے کہا، ماڈل بہت پُرانا ہے۔ پُرزے بننا بند ہو گئے۔ آپ کہتے ہیں تو مرمت کر دوں گا، مگر مرمت کے بعد  بریک یا تو مستقل لگا رہے گا۔ یا مستقل کھُلا رہے گا۔ سوچ کر دونوں میں سے چوز کر لیجئے۔ دو ہفتے بعد  خلیفہ نے اطلاع دی کہ کار کے Shock Observers ختم ہو گئے ہیں۔ وہ Shock Absorbers کو Shock Observers کہتا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اب وہ شاک روکنے کے لائق نہیں رہے تھے۔ جہاں دیدہ بڑے بوڑھے کی مانند ہو گئے تھے جو کسی نیم تاریک کونے یا زینے کے نیچے والی تکونی بخاری میں پڑے پڑے صرف Observe کرسکتے ہیں۔ جو نا خلف دکھائیں سو نا چار دیکھنا۔ یہ مقام خود شناسی اور دانائی کا ہے۔ جب انسان بچشمِ خود لغوسے لغو حرکت اور کرتوت دیکھ کر نہ آزردہ ہو، نہ طیش میں آئے اور نہ ماحول پر لاحول پڑھے تو اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔ پہلے ہم دوسری وجہ بیان کریں گے۔ وہ یہ کہ اب وہ جہاں دیدہ بردبار اور در گزر کرنے والا ہو گیا ہے۔ اور پہلی وجہ یہ کہ وہ حرکت اسں کی اپنی ہی ہو۔
 
        ایک دن گیارہ بجے دن کو ظریف جبل پوری کے مکان واقع ایلومینیم کوارٹرز سے واپسی میں گورا قبرستان کے سامنے سے گذر رہے تھے کہ اچانک ہارن کی آواز میں رعشہ پیدا ہوا۔ گھنگرو سا بولنے لگا۔ خود اُن کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا کہ ہیڈ لائیٹ کی روشنی جا چکی تھی۔ خلیفہ نے کہا " جنابِ عالی ! بیٹری جواب دے رہی ہے " انہیں تعجب ہوا، اس لئے کہ وہ روزانہ اپنی لکڑی کی دُکان پر پہنچتے ہی بیٹری کو گاڑی سے نکال کر آرا مشین سے جوڑ دیتے تھے تاکہ آٹھ گھنٹے تک چارج ہوتی رہے۔ شام کو گھر پہنچتے ہی اسے نکال کر اپنے ریڈیو سے جوڑ دیتے۔ جو صرف کار بیڑی[1] سے چلتا تھا۔ پھر رات کو بارہ ایک بجے جب ریڈیو پروگرام ختم ہو جاتے تو اُسے ریڈیو سے علیحدہ کر کے واپس کار میں لگا دیتے تاکہ صبح خلیفہ ٹر ٹر نہ کرے۔ اس طرح بیٹری آٹھ آٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں میں تین مختلف چیزوں سے جُڑی رہتی تھی۔ جواب نہ دیتی تو کیا کرتی۔ بالکل کنفیوز ہو جاتی تھی۔ ہم نے خود دیکھا کہ ان کے ریڈیو میں چھُپے ہوئے پروگرام کے بجائے اکثر آرا مشین کی آوازیں نشر ہوتی رہتی تھیں، جنہیں وہ پکا راگ سمجھ کر ایک عرصے تک سر دھُنا کیے۔ اسی طرح کار کے انجن سے موسم کی خرابی کی ریڈیائی آوازیں آنے لگتی تھیں۔ عجیب گھپلا تھا۔ رات کو پچھلے پہر کے سناٹے میں جب اچانک عجیب و غریب آوازیں آنے لگتیں تو گھر والے یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ وہ ریڈیو کی آوازیں ہیں، یا آرا مشین میں کوئی قوال پھنس گیا ہے۔ اور ان بیچاروں کی معافی قابلِ معافی تھی۔ اس لئے کہ ان آوازوں کا مخرج دراصل وہ گلا تھا جس سے بشارت خراٹے لے رہے ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ریڈیو سے میرے گلے میں مستقل خراش پڑ گئی ہے۔ ایک اور عذاب یہ کہ جب تک ریڈیو اسٹیشن بند نہیں ہو جاتا، تین چار پڑوسی ان کی چھاتی پر سوار ہو کر پروگرام سُنتے رہتے۔ اب بشارت اس مردم آزار ایجاد سے سخت متنفر ہو گئے تھے۔ غالباً ایسے ہی حالات اور ایسے ہی بلیک موڈ میں عصرِ حاضر کے سب سے بڑے انگریزی شاعر فلپ لارکن نے کہا تھا کہ مارکونی[2] کی قبر پر پبلک ٹائلٹ بنا دینا چاہیے۔
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.


Najeeb Ahmed

unread,
Dec 9, 2013, 12:35:29 AM12/9/13
to bazmeqalam

 

جائیں گے ! انشاءاللہ!

 

" خیر۔ اور تو جو کچھ ہوا سو ہوا، پر میرے فرشتوں کو بھی پتا نہیں تھا کہ تمیزن پر میرے چچا جان قبلہ کسی زمانے میں مہربان رہ چکے ہیں۔ جوانی قسم! ذرا بھی شک گزرتا تو میں اپنا دل مار کے بیٹھ رہتا۔ بزرگوں کی شان میں گستاخی نہ کرتا۔ یار! جوانی میں یہ حالیت تھی کہ نبض پہ اُنگلی رکھو تو ہتھوڑے کی طرح ضرب لگاتی تھی۔ شکل بھی میری اچھی تھی۔ طاقت کا یہ حال کہ کسی لڑکی کی کلائی پکڑ لوں تو اُس کا چھڑانے کو جی نہ چاہے۔ خیر وہ دن ہوّا ہوئے۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ علاج مرض سے کہیں زیادہ جان لیوا تھا۔ بعد  کو گرمی چھانٹنے کے لیے مجھے دن میں تین دفعہ قدحے کے قدحے ٹھنڈائی اور دھنیے کے عرق اور کتیرا گوند کے پلائے جاتے۔ اور دو وقتہ پھیکی روٹی، کوتھمیر (ہرادھنیہ) کی بے نمک مرچ کی چٹنی کے ساتھ کھلائی جاتی۔ اسی زمانے سے میرا نام بھیّا کوتھمیر پڑ گیا۔ والد صاحب کو اس وقوعے سے بہت صدمہ پہنچا۔ شکی مزاج آدمی تو تھے ہی۔ کبھی خبر آتی کہ شہر میں فلاں جگہ ناجائز بچّہ پڑا ملا ہے، تو والد صاحب مجھی کو آگ بھبھوکا نظروں سے دیکھتے۔ اُنھیں محلے میں کوئی لڑکی تیز تیز قدموں سے جاتی نظر آ جائے تو سمجھو کہ ہو نہ ہو میں در پئے آزار ہوں۔اُ ن کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ دشمنوں نے مشہور کر دیا کہ تمیزن نے ایک ہی رات میں داڑھی سفید کر دی۔ خود اُن کا بھی یہی خیال تھا۔ اُنھوں نے مجھے ذلیل کرنے کے لیے ریلوائی گارڈ کی جھنڈی سے بھی زیادہ لہولہان رنگ کا تہمد بندھوایا اور ٹہنی کے بجائے نیم کا پورا گدّا___ میرے قد سے بھی بڑا____ مجھے تھما دیا۔ میں نے شنکرات کے دن اُس سے آٹھ پتنگیں لوٹیں۔ لڑکپن بادشاہی کا زمانہ ہوتا ہے۔ اُس زمانے میں کوئی مجھے حضرت سلیمان کا تخت ہدہد اور ملکہ سبا بھی دے دیتا تو وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک پتنگ لوٹنے سے ہوتی تھی۔ یار! کسی دن تلے مکھانے تو کھلا دے۔ مدتّیں ہوئیں۔ مزہ تک یاد نہیں رہا۔ ماں بڑے مزے کے بناتی تھی۔ فقیرا میں نے اپنی ماں کو بڑا دُکھ دیا۔"

خلیفہ اپنی ماں کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گیا۔


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/8 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 10, 2013, 5:05:28 AM12/10/13
to bazmeqalam

 

              بزرگوں کا قتلِ عام

 

خلیفہ اپنے موجودہ منصب اور فرائض کے لحاظ سے کچھ بھی ہو، اُس کا دل ابھی تک گھوڑے میں اٹکا ہوا تھا۔

 

کابلی والا اور الہ دین بے چراغ

ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی اسپِ مشکی کی[1]

 

ایک دن وہ دکان کے مینیجر مولانا کرامت حسین سے کہنے لگا کہ " مولانا ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ جس بچّے کے چپت اور جس سواری کے چابک نہ مار سکو وہ روزِ قیامت کے دن تلک قابو میں نہیں آنے کی۔ نادر شاہ بادشاہ تو اسی واسطے ہاتھی کے ہودے سے کود پڑا اور جھونجل میں آ کے قتلِ عام کرنے لگا۔ ہمارے سارے بزرگ قتلِ عام میں گاجر مولی کی طرح کٹ گئے۔ گود کے بچّوں تک کو بلّم سے چھید کر ایک طرف پھینک دیا۔ ایک مرد زندہ نہیں چھوڑا۔"مولانا نے ناک کی نوک پر رکھی ہوئی عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوئے پوچھا "خلیفہ! پچھلے پانچ سو سال میں کوئی لڑائی ایسی نہیں ہوئی جس میں تم اپنے بزرگوں کو چن چن کر نہ مروا چکے ہو۔ جب قتلِ عام میں تمہارا بیج ہی مارا گیا، جب تمہارے سارے بزرگ ایکو ایک قتل کر دیے گئے تو اگلی نسل کیوں کر پیدا ہوئی؟" بولا " اپ جیسے اللہ لوگ کی دعاؤں سے !"

 

بزرگوں میں سب سے زیادہ فخر وہ اپنے دادا پر کرتا تھا، جس کی ساری زندگی کا واحد کارنامہ یہ معلوم ہوا تھا کہ پچاسی سال کی عمر میں سوئی میں تاگا پرو لیتا تھا۔ خلیفہ اس کارنامے سے اس درجہ مطمئن بلکہ مرعوب تھا کہ یہ تک نہیں بتاتا تھا کہ سوئی پرونے کے بعد  دادا اس سے کیا کرتا تھا۔



[1] یہ مصرع دراصل گھوڑے سے نہیں، معشوق سے متعلق تھا۔ ہم نے صرف اتنا تصرّف کیا ہے کہ "زلفِ مشکیں " کے بجائے اسپِ مشکی جڑ دیا۔ اس سے غزل کی لچک، بتانِ ہزار شیوہ کی طرفگی اور وزن سے ہماری نا واقفیت ثابت ہوتی ہے۔بے شمار اشعار ہماری نظر سے ایسے گزرے ہیں کہ اگر یہ نہ بتایا جائے کہ ممدوح کون ہے تو خیال ادبدا کر گھوڑے کی طرف جاتا ہے، جب کہ وہ معشوق کے بارے میں ہوتے ہیں۔


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/9 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Aapka Mukhlis

unread,
Dec 10, 2013, 5:34:09 AM12/10/13
to bazm qalam
نجیب صاحب بہت شکریہ
مگر خدا را اتنا مختصر اقتباس تو نہ بھیجا کریں۔ اتنا طویل تو ہو کہ ہم پانچ دس منٹ تک پڑھتے رہیں اور ہماری دن بھر کی کلفت دور ہو جائے۔


2013/12/10 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 10, 2013, 10:25:28 PM12/10/13
to bazmeqalam

کار کی کایا پلٹ

 

ایک دن رابسن روڈ کے تراہے کے پاس رسالہ افکار کے دفتر کے قریب کار کا بریک ڈاؤن ہوا۔ اُسی وقت اس میں گدھا گاڑی جوت کر لارنس روڈ لے گئے۔ اس دفعہ مستری کو بھی رحم آ گیا۔ کہنے لگا " آپ شریف آدمی ہیں۔ کب تک برباد ہوتے رہیں گے۔ اوچھی پونجی بیوپاری کو اور منحوس سواری، مالک کو کھا جاتی ہے۔ کار تلے آ کر آدمی مرتے تو ہم نے بھی سنے تھے۔لیکن یہ ڈائن تو اندر    بیٹھے آدمی کو کھا گئی! میرا کہنا مانیں۔ اس کی باڈی کٹوا کر ٹرک کی باڈی فٹ کروا لیں۔ لکڑی لانے لے جانے کے کام آئے گی۔ میرے سالے نے باڈی بنانے کا کارخانہ نیا نیا کھولا ہے۔ آدھے داموں میں آپ کا کام ہو جائے گا۔ دو سو روپے میں انجن کی reboring میں کر دوں گا۔ اوروں سے میں پونے سات سو لیتا ہوں۔ کایا پلٹ کے بعد  آپ پہچان نہیں سکیں گے۔

 

    اور یہ اُس نے کچھ غلط نہیں کہا تھا۔ نئی باڈی فٹ ہونے کے بعد  کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ ہے کیا۔ ملزموں کو حوالات میں لے جانے والی حوالاتی ویگن؟ کتّے پکڑنے والی گاڑی؟ مذبح خانے سے تھلتھلاتی رانیں لانے والا خونی ٹرک؟ اس شکل کی یا اس سے دور پرے کی مشابہت رکھتی ہوئی کوئی شے اُنھون نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔ مستری نے یقین دلایا کہ آپ اسے دو تین مہینے صبح و شام مسلسل دیکھتے رہیں گے تو انی بری معلوم نہیں ہو گی۔ اس پر مرزا بولے کہ تم بھی کمال کرتے ہو۔ یہ کوئی بیوی تھوڑی ہے ! سابق کار یعنی موجودہ ترل کی پشت پر تازہ پینٹ کی ہوئی ہدایت "چل رے چھکڑے تینوں رب دی آس" پر اُنھوں نے اسی وقت پچارا پھروا دیا۔ دوسرے فقرے پر بھی اُنھیں اعتراض تھا۔ اُس میں جگت یار یعنی "بیوپار" کو ہدایت کی گئی تھی کہ تنگ نہ کرے۔ چودھری کرم دین پینٹر نے سمجھوتے کے لہجے میں کہا کہ جنابِ عالی، اگر آپ کو یہ نام پسند نہیں تو بیشک اپنی طرف کا کوئی دل پسند نام لکھوا لیجیے۔ اسی طرح اُنھوں نے اس رسوائے زمانہ شعر پر بھی سفیدہ پھروا دیا:

 

    مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

    وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

 

    اس حذف و اصلاح کے بعد  بھی جو کچھ باقی رہ گیا وہ وہ خدا کو منظور ہو تو ہو، اُنھیں قطعاً منظور نہیں تھا۔

    لیکن بے ہنگم باڈی سے قطع نظر، ری بورنگ کے بعد  جب وہ چلی گئی تو ساری کوفت دور ہو گئی۔ اب وہ سٹارٹ ہونے اور چلنے میں ایسی غیر ضروری اور بے محل پھرتی اور نمائشی چستی دکھانے لگی جیسے ریٹائرڈ لوگ ملازمت میں توسیع سے پہلے یا بعض بڈّھے دوسری شادی کے بعد  دکھاتے ہیں۔ باتھ روم میں جاگنگ کرتے ہوئے جاتے ہیں۔ زینے پر دو دو سیڑھیاں پھلانگتے ہیں۔ پہلے دن صبح نو بجے سے شام کے چھ بجے تک اس ٹرک نُما کار یا کار نُما ٹرک سے لکڑی کی ڈلیوری ہوتی رہی۔ کار کی دن بھر کی آمدن یعنی ٤٥ روپے (جو آج کے ٤٥٠ روپے برابر تھے ) کو پہلے اُنھوں نے ٣٠ دن اور بعد  میں ٣٦٥ سے ضرب دیا تو حاصل ضرب ١٦٤٢٥ روپے نکلا۔ دل نے کہا "جب کہ کار کی کل قیمت ٣٤٨٣ رُپلّی ہے ! پگلے ! اسے حاصلِ ضرب نہ کہو، حاصلِ زندگی کہو" وہ بڑی دیر تک پچھتایا کیے کہ کیسی حماقت کی، اس سے بہت پہلے کار کو ٹرک میں کیوں نہ تبدیل کروا لیا۔ مگر ہر حماقت کا ایک وقت معیّن ہے۔ معاً "وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے " اُن کے ذہن میں آیا اور وہ بے ساختہ مسکرا دیے۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/10 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 13, 2013, 1:27:07 AM12/13/13
to bazmeqalam

 

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو

 

    اب انھیں خود اپنی حماقت پر بھی افسوس ہونے لگا کہ ساڑھے تین ہزار کی کھٹارا کار میں دُگنی مالیّت یعنی سات ہزار کا مال بھیجنا کہاں کی دانائی ہے۔ کاش! چور لکڑی کے بجائے کار لے جاتا۔ جان چھوٹتی۔ انھیں یقین تھا کہ خلیفہ عادت سے باز نہیں آیا ہو گا۔ بھری گاڑی کھڑی کر کے کہیں حجامت بنانے، ختنہ کرنے یا کسی جیجمان سے شادی بیاہ کی بدھائی وصول کرنے چلا گیا ہو گا۔ بارہا ایسی حرکت کر چکا تھا۔ جبل گردد، جبلّی نہ گردد (پہاڑ کا ٹلنا ممکن ہے، عادت کا بدلنا ممکن نہیں ) والی کہاوت معاً اُن کی زبان پر آئی۔ اور یہ بھی یاد آیا کہ یہ کہاوت اپنے حوالے سے اُنھوں نے پہلی مرتبہ ماسٹر فاخر حسین سے سنی تھی۔ کلاس میں شرارت کرنے پر ماسٹر فاخرحسین نے اُن کو بوزنہ قرار دینے کے بعد  اسی فارسی ضرب المثل کی صلیب پر اُلٹا لٹکا دیا تھا۔ بوزنہ کہنے کا جب اُن پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تو ماسٹر صاحب نے اُن سے بوزنہ کے معنی پوچھے۔ پھر باری باری سب لڑکوں سے پوچھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھے۔ لہذا ساری کلاس کو بنچ پر کھڑا کر کے کہنے لگے۔ "نالائقو میرا نام ڈبوؤ گے۔۔۔۔ بوزنہ۔۔۔۔     ب۔۔۔۔ و۔۔۔۔۔ ز۔۔۔۔ ن۔۔۔۔۔۔ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے ہائے والی ہ۔۔۔۔۔۔ حلوے اور حرام خور والی ح نہیں۔ بوزنہ بندر کو کہتے ہیں۔ سمجھے ؟"ہائے ! کیسے زمانے اور کیسے اُستاد تھے ! لغو سے لغو بات کے بھی لغوی معنی بتاتے تھے۔طیش میں بھی تعلیمی تقاضوں کا لحاظ رکھتے تھے۔ فقط گالی ہی نہیں دیتے تھے، اُس کا املا اور مطلب بھی بتاتے تھے۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ۔

    یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد  بشارت کہنے لگے "اور ہاں ! خوب یاد آیا۔ ایک دفعہ اُنھوں نے اردو کے گھنٹے میں املا لکھوایا۔ میں نے ایک جملہ کچھ اس طرح لکھا :

 

    علماء و فضلہ کو ہمارے یہاں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔

 

    ماسٹر فاخر حسین بڑی دیر تلک ہاتھ سے پیٹ پکڑ کے ہنستے رہے۔ پھر اسی ہاتھ سے میرا کان پکڑ کے حکم دیا کہ بلیک بورڈ پر لڑکوں کو لکھ کر دکھاؤ کہ تم نے فاضل کی جمع فضلا کیسے لکھی ہے۔ میں لکھ چکا تو پانچ فٹ لمبے پائنٹر کی نوک فضلہ کی ہ پر رکھ کر فرمایا، برخوردار! آج تمہیں بنچ پر کھڑا نہیں کروں گا۔ اس واسطے کہ تم لڑکپن ہی میں علماء کی کنہ تک پہنچ گئے ہو۔ صاحب! بات کی تہ تک پہنچنے اور حقیقت کو کنہ کہنا میں نے ماسٹر فاخر حسین ہی سے سیکھا۔"

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/12 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

 

                   میرا بھی تو ہے !

 

    تین چار ہفتے گاڑی لشتم پشتم چلی گو کہ وہ روح کو انشراح بخشنے والا اوسط نہ رہا۔ تو اس مرتبہ ورکشاپ بھیجنی پڑی۔مستری نے پورے ایک مہینے کی گارنٹی دی تھی۔ البتہ گدھا گاڑی کا کرایہ خود دینا پڑتا تھا۔ گدھا گاڑی والا روزانہ صبح دریافت کرنے آتا تھا کہ آج کہاں اور کس وقت آؤں۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ بشارت نے اُس پر دہ گاہکوں کی خریدی ہوئی سات ہزار روپے کی لکڑی لدوا کر خلیفہ کو ڈلیوری کے لیے روانہ کر دیا۔ کوئی دہ بجے ہوں گے کہ وہ ہانپتا کانپتا آیا۔ بار بار انگوچھے سے آنکھیں پونچھ کر ناک سے سُڑ سُڑ کر رہا تھا۔کہنے لگا "سرکار! میں لُٹ گیا۔ برباد ہو گیا۔ اللہ مجھے اُٹھا لے " بشارت سمجھ گئے کہ اس کی دائم المرض بیوی کا انتقال ہو گیا ہے۔ اُسے تلقین کرنے لگے کہ "مشیّتِ ایزدی میں کس کا دخل ہے، صبر سے کام لو۔ وہی ہوتا جو ___" لیکن جب اُس نے کہا کہ "کوک کروں تو جگ ہنسے، چپکے لاگے گھاؤ۔ سرکار میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔" تو بشارت کا تردّد کچھ کم ہوا کہ جو شخص انتہائی حزن و غم کے موقعے پر بھی شعر اور محاورے کے ساتھ گریہ کرے وہ آپ کی ہمدردی نہیں، اپنی زبان دانی کی داد چاہتا ہے۔ جب خلیفہ انگوچھا منہ پر ڈال کر زور زور سے بکھان کرنے لگا تو اُنھیں دفعتاً خیال آیا کہ نقصان اس حرامخور کا نہیں میرا ہوا ہے ! کہنے لگے "ابے کچھ تو بول۔ اس دفعہ میرا کیا نقصان ہوا ہے ؟"

 

    بناوٹی سسکیوں کے درمیان اُس نے "میرا بھی تو ہے " اس طرح کہا جیسے حبیب بینک کے اشتہار میں جب ہر عمر اور ہر صوبے کا آدمی اپنے لہجے میں حبیب بینک کو اپنا چکتا ہے تو ایک بچّہ تتلا کر کہتا ہے "میلا بھی تو ہے " پھر اُس نے ساری روداد بیان کی۔ گاڑی بہت "اوور لوڈ" تھی۔ فرسٹ گیئر میں بھی بار بار دم توڑ رہی تھی۔ سڑک کے موڑ تک وہ جیسے تیسے لونڈوں کے دھکوں اور وظیفوں کے زور سے لے گیا۔ لیکن چوراہے پر اسپرنگ جواب دینے لگے۔اُس نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے آدھی لکڑی اُتار کر مسجد کی سیڑھیوں کے پاس بڑے قرینے سے چُن دی۔ اور بقیہ مال کی ڈلیوری دینے ناظم آباد نمبر ٤ چلا گیا۔ وہاں پلاٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔ڈلیوری دیے بغیر واپس مسجد آیا تو لکڑی غائب! "سرکا! میں دن دہاڑے لُٹ گیا! برباد ہو گیا!"

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/11 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 14, 2013, 12:58:56 AM12/14/13
to bazmeqalam

 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔ قصور اپنا نکلا آیا

 

    وہ سیدھے بولٹن مارکیٹ پولیس اسٹیشن رپٹ لکھوانے گئے۔ افسر انچارج نے کہا، یہ تھانا نہیں لگتا۔ آپ جہاں سکونت رکھتے ہیں اس کے متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیے۔ وہان پہنچے تو جواب ملا کہ جنابِ عالی! جرم کی رپٹ آپ کی جائے سکونت والے تھانے میں بے شک درج کی جا سکتی ہے بشرطیکہ جرم آپ نے کیا ہو۔ آپ رپٹ جائے واردات کے تھانا متعلقہ میں لکھوائیے۔ وہاں پہنچے تو کہا گیا کہ جائے واردات دو تھانوں کے سنگم پر واقع ہے۔ مسجد کی عمارت بے شک ہمارے تھانے میں ہے لیکن اس کی سیڑھیوں کی تلیٹی کا علاقہ ملحقہ تھانے میں لگتا ہے۔ ملحقہ تھانے تو وہاں کسی کو نہ پایا سوائے ایک شخص کے جس کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔ دائیں ہاتھ میں کمپاؤنڈ فریکچر تھا اور بائیں آنکھ سوج کر بند ہو چکی تھی۔ وہ کہنے لگا کہ میں دفعہ ٣٢٤ کی رپٹ لکھوانے آیا ہوں۔ دو گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں۔ اندھیر ہے۔ سول اسپتال والے کہتے ہیں کہ جب تک تھانے والے ایف آئی آر درج کر کے پرچہ نہ کاٹ دیں ہم تمہارا آپریشن نہیں کر سکتے۔ مجروح بڑے فاتحانہ انداز سے وہ چھینا ہوا آلۂ ضرب یعنی شام چڑھی لاٹھی پکڑے بیٹھا تھا جس سے اُس کا سر پھاڑا گیا تھا۔ اُس کے ساتھ اُس کا چچا تھا جو کسی وکیل دیوانی کا منشی تھا۔ وہ بھتیجے کو دلاسہ دے رہا تھا کہ ملزم نے لاٹھی اور قانون اپنے ہاتھ میں لے کر ثانی الذکر اور تمہارے کا سۂ سر کو بیک ضرب توڑا ہے۔ اس حرام زادے کو ہتھکڑی نہ پہنوا دوں تو مجھے نطفۂ بے تحقیق سمجھنا۔ اُس نے تو خیر سنگین جرم کیا ہے۔ میں نے تو کئیوں کو بغیر جرم کے جیل کی ہوا کھلوا دی ہے ! اُس نے بشارت کو قانونی مشورہ دیا کہ آپ کو دراصل اُس تھانے سے رجوع کرنا چاہیے جس کی حدود میں سرقہ کرنے والے یعنی چور کا مکان مسکونہ واقع ہوا ہے۔ دیوانی مقدّمات میں اسی طرح نالش داغی جاتی ہے۔ بشارت اُس سے اُلجھنے لگے۔ دورانِ بحث معلوم ہوا کہ اس وقت SHO کی دُخترِ نیک اختر کی منگنی کی رسم ہو رہی ہے۔ بیشتر عملہ وہیں تعینات ہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد  آئیں گے۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر دوپہر سے سڑک پر حفاظتی ڈیوٹی اور اسکول کی لڑکیوں کو جمع کر کے سڑک پر دو رویہ کھڑا کرنے میں لگا ہے، اس لیے کہ پرائم منسٹر ایک دفتر سے دوسرے دفتر جا رہا ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل دَوش پر نکلا ہوا ہے۔

 

    کوئی دو گھنٹے بعد  ایس ایچ او نے ایک وکیل کی کار میں نزولِ اجلال فرمایا۔ وکیل کا بریف کیس جس پر خاکی زین کا غلاف چڑھا تھا ایک ملزم نما موکل اُٹھائے ہوئے تھا۔خود وکیل کے ہاتھ میں منگنی کی مٹھائی کے ڈبّے تھے جو اُس نے عملے میں تقسیم کیے۔ ایک ڈبّا بشارت کو بھی دیا۔ ایس ایچ او کے آتے ہی سارا عملہ نہ جانے کہاں کہاں سے بھاگم بھاگ نکل کر اکٹھا ہو گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سب تمام وقت یہیں سر جھکائے اپنے اپنے کام میں جتے ہوئے تھے۔ ایس ایچ او نے بشارت سے سرسری روداد سن کر کہا، آپ ذرا باہر انتظار کیجیے۔ اصل رپورٹ کنندہ ڈرائیور ہے۔ اُس سے استفسار کرنا ہے۔ گھنٹے بھر تک اُس سے نہ جانے کیا اُلٹی سیدھی تفتیش کرتا رہا۔ خلیفہ باہر نکلا تو اُس کا صرف منہ ہی لٹکا ہوا نہیں تھا، وہ خود سارا کا سارا لٹکا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اُس کے بعد  ایس ایچ او نے بشارت کو اندر بلایا تو اُس کے تیور بالکل بدلے ہوئے تھے۔ کرسی پر بیٹھنے کو بھی نہیں کہا۔ سوالوں کی بھرمار کر دی۔ تھوڑی دیر کے لیے تو بشارت کو خیال ہوا کہ شائد اُسے مغالطہ ہوا ہے اور وہ اُنھیں ملزم سامجھ بیٹھا ہے۔ لیکن جب اُس نے کچھ ایسے چبھتے ہوئے سوال کیے جو صرف انکم ٹیکس افسر کو کرنے چاہییں تو اُن کا اپنا مغالطہ دور ہو گیا۔مثلاً جب آپ نے مسروقہ چوب عمارتی بیچی تو روکڑ بہی میں اندراج کیا یا بالا ہی بالا کیش ڈکار گئے ؟ ڈرائیور کو جو تنخواہ دیتے ہیں تو رسید اتنی ہی رقم کی لیتے ہیں یا زیادہ کی؟ گودام سے لکڑی بغیر ڈلیوری آرڈر کے نکلتی ہے ! آپ خود بغیر Learner's License کے ٹرک کیسے چلاتے ہیں ؟ لکڑی کے تختے جب مبینہ ٹرک میں ناظم آباد لے جانے کے لیے رکھے گئے تھے تو کیا آپ نے حسبِ قانون مجریہ سن اُنیس سو کچھ پیچھے سرخ جھنڈی لگائی تھی؟ اور ہاں ناظم آباد پر یاد آیا کہ میرا مکان پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں "پلنتھ لیول" تک آ گیا ہے۔ کتنے فٹ لکڑی درکار ہو گی؟ تخمینہ لگا کر بتائیے۔ چھ سو گز کا ویسٹ اوپن کارنر پلاٹ ہے۔ آپ کے ہاں جو ریڈیو ہے اُس کا لائسنس آپ نے بنوایا؟ کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کی فرم میں آپ کے پچھتر سالہ والد اور دودھ پیتا بیٹا بھی پارٹنر ہیں ؟ لکڑی جب لی مارکیٹ سے ناظم آباد لے جانی تھی تو رنچھوڑ لائن کا طواف کرنے کی حاجت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ صحیح ہے کہ آپ پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں اور ہار مونیم بجاتے ہیں ؟ ( جواب میں بشارت نے وضاحت کی کہ نماز میں پڑھتا ہوں۔ ہارمونیم والد صاحب بجاتے ہیں۔ اس جواب پر ایس ایچ او نے دیر تک ہتھکڑی بجائی اور پہلی بار مسکراتے ہوئے بولا ہوں ! سنا منشی جی؟ گویا عذر گناہ لذیذ تراز گناہ!) لکڑی مبیّنہ طور پر عین مسجد کے دروازے پر رکھی گئی! تو کیا اس سے نمازیوں کی آزمائش منظور تھی؟ ڈرائیور سے آپ کا سارا ٹبرّ حجامت بنواتا ہے۔ قورمہ پکواتا ہے۔ اُس نے آپ کے جونئیر پارٹنر کے ختنے بھی کیے۔ میری مراد آپ کے نو مولود صاحبزادے سے ہے۔ آپ نے اُس سے گھوڑا تانگہ بھی چلوایا۔ یہی اپ کے گھوڑے اور والد کا بالترتیب کھریرا اور مالش کرتا تھا۔ یہ لیبر لاز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے کہ کچھ عرصے پہلے ایک آرا کش کی آنکھ میں لکڑی کی چھپٹی اچٹ کر پڑنے سے بینائی جاتی رہی تو اپ نے اسپنسر آئی ہاسپٹل سے اُس کی پٹّی کروا کے گھر بھیج دیا؟ کوئی معاوضہ نہیں دیا۔ اور آپ نے دُگنی قیمت پر لکڑی کیسے بیچی؟ اندھیر ہے۔ مجھے اپنے مکان کے لیے آدھے داموں مل رہی ہے ! کھلے بھاؤ۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/13 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Syed Ahmed

unread,
Dec 16, 2013, 12:23:28 AM12/16/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم نجیب صاحب                  سلام مسنون
بہت عمدہ اور بڑا مزے دار
شکریہ جناب کا ان نوازشات پر
والسلام
سید احمد
13-2-1435ھ
16-12-2013ء



Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/13 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/12 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/11 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/10 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 17, 2013, 4:08:30 AM12/17/13
to bazmeqalam

 

کچھ احوال حوالات کا

 

    تھانے کی حوالات یا جیل میں، آدمی چار گھنٹے بھی گزار لے تو زندگی اور حضرتِ انسان کے بارے میں اتنا کچھ سیکھ لے گا کہ یونیورسٹی میں چالیس برس رہ کر بھی نہیں سکتا۔ بشارت پر چودہ طبق سے بڑھ کر بھی کچھ روشن ہو گیا اور وہ دہل کر رہ گئے۔ سب سے زیادہ تعجب اُنھیں اس زبان پر ہوا جو تھانوں میں لکھی اور بولی جاتی ہے۔ رپٹ کنندگان کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن منشی جی ایک شخص کو (جس پر نابالغ لڑکی کے ساتھ زبردستی نکاح پڑھوانے کا الزام تھا) عقد بالجبر کنندہ کہہ رہے تھے۔ عملے کی آپس کی گفتگو سے اُنھیں اندازہ ہو کہ تھانا  ہٰذا نے بنی نوع انسان کو دو حصّوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک وہ جو سزا یافتہ ہیں۔ دوسرے وہ جو نہیں ہیں، مگر ہونے چاہییں۔ مُلک میں اکثریت غیر سزا یافتہ لوگوں کی ہے اور یہی بِنائے فتور و فساد ہے۔ گفتگو میں جس کسی کا بھی ذکر آیا، وہ کچھ نہ کچھ "یافتہ" یا "شدہ" ضرور تھا۔ "حجرہ مزاج پُرسی" میں جو شخص وقفے وقفے سے چینخیں مار رہا تھا وہ سابق سزایافتہ اور مچلکے شدہ تھا۔ شارعِ عام پر بوس و کنار کے الزام میں جن دو عورتوں کو گرفتار کیا گیا تھا، اُن میں سے ایک کو اے ایس آئی شادی شدہ اور دوسری کو محض شدہ یعنی گئی گزری بتا رہا تھا۔ ہیڈ کانسٹیبل جو خود انعام یافتہ تھا، کسی وفات یافتہ کا بیانِ نزعی پڑھ کر سُنا رہا تھا۔ ایک پرچے میں کسی غنڈے کے غیر قابو یافتہ چال چلن کی تفصیلات درج تھیں۔ ایک جگہ آتش زدہ مکان مسکونہ کے علاوہ علاوہ برباد شدہ اسباب اور تباہ شدہ شہرت کے بھی حوالے تھے۔ اے ایس آئی ایک رپورٹ کنندہ سے دورانِ تفتیش پوچھ رہا تھا کہ شخص مذکورہ الصّدر کی وفات شدگی کا علم تمہیں کب ہوا۔ یہاں ہر فعل فارسی میں ہو رہا تھا۔ مثلاً سمن کی تعمیل بذریعہ چسپاندگی، متوفی کی وجہِ فوتیدگی، عدم استعمال اور زنگ خوردگی کے باعث جملہ رائفل ہائے تھانا ہذا بمعہ کارتوس ہائے پارینہ کی مُرورِ ایّام سے خلاص شدگی اور عملے کی حیرانگی!

 

    اس تھانے میں ہتھیار کی صرف دو قسمیں تھیں۔ دھار دار اور غیر دھار دار۔ جس ہتھیارسے گواہ استغاثہ کے سرُین پر نیل پڑے اور کاسۂ سر متورم ہوا، اس کے بارے میں روز نامچے میں مرقوم تھا کہ ڈاکٹری معائنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گواہ مذکور کو بیچ بازار میں غیر دھار دار آلے سے مضروب کیا گیا۔ مراد اس جوتا تھا رات کے دس بجے "حجرہ مزاج پُرسی" میں ایک شخص سے جوتے کے ذریعے سچ بلوایا جا رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ جوتے کھا کر نا کردہ جرم کا اقبال کرنے والے سُلطانی گواہ کہتے ہیں۔ وہ شخص بڑی دیر سے زور زور سے چیخے جا رہا تھا، جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ہنوز جوتے کھانے  کو جھوٹ بولنے پر ترجیح دے رہا ہے۔ جوتے کے اس extra۔curricular (بالائے نصاب) استعمال کو پنجابی میں چھترول کہتے ہیں۔تھانے میں آمد و رفت کچھ کم ہوئی تو تین کانسٹیبل صبح درج لیے ہوئے زنا بالجبر کے کیس کے ایک عینی گواہ کو آٹھویں دفعہ لے کر بیٹھ گئے جو اس وقت اس واقعے کو اس طرح بیان کر رہا تھا جیسے بچّے اپنے والدین کے دوستوں کو اِترا اِترا کر نرسری رہائم سُناتے ہیں۔ ہر دفعہ وہ نئی جزئیات سے اس واردات میں اپنی مجرمانہ حسرتوں کا رنگ بھرتا چلا جاتا۔ یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ تینوں کانسٹیبل سر جوڑے اس اچھے شعر کی طرح سُن رہے تھے۔ اور بیچ بیچ میں ملزم کو رشک بھری داد اور داد بھری گالیاں دیتے جاتے۔ صبح جب بند کمرے میں مستغیثہ کے اظہار لیے جا رہے تھے تو سب کے ____ حتیٰ کہ حوالات میں بند ملزموں کے بھی ____ کان دیوار سے لگے تھے۔

 

    یہاں ہر واردات مبیّنہ طور پر ہو رہی تھی۔ مثلاً "ملزم اپنی جائے رہائش سے نکل کر گواہانِ استغاثہ پر جھپٹا اور اپنے آگے کے  دندان سے مسماتہ نذیراں کے مبیّنہ عاشق مسمّی شیر دل خاں کی ناک بقدر دو انچ بقیہ جسم سے علاحدہ کر دی اور مبیّنہ طور پر Exhibit A یعنی موجودہ ناک کے غائب شدہ حصّے کو نگل گیا۔ منحرف گواہ مسماتہ نذیراں بنتِ نا معلوم نے پہلے تو اے ایس آئی صاحب کے مواجہ میں ب۔ س۔ ص۔ ت کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعد  ازاں بلا تخویف، نشانِ انگشت چُپ سے ب۔ س۔ ص۔ ت کرنے پر رضامند ہو گئی۔" یہ مخفف تھا: "بیان سُن کر صحت تسلیم کی۔" نو بجے ایک شام کے اخبار کا جرائم رپورٹر آیا جس کے اخبار کا سرکولیشن کسی طر۔غاثہ پر جھپٹا اور اپنے آگے کے ک بڑھ کر نہیں دے رہا تھا۔ اے ایس آئی سے کہنے لگا "اُستاد! دو ہفتوں سے خالی جا رہا ہوں۔ یہ تھانا ہے یا گورِ غریباں۔ تمہارے علاقے کے سبھی غنڈے یا تو تائب ہو گئے ہیں یا پولیس میں بھرتی ہو گئے۔ چند ے یہی حال رہا تو ہم دونوں کے گھروں میں چوہے قلا بازیاں کھائیں گے۔" اُس نے جواب دیا "جانِ من! بیٹھو تو سہی۔ آج ایک گلے میں گھنٹی باندھ دی ہے۔ ایسا اسکوپ برسوں میں نصیب ہوتا ہے۔ بغل والے کمرے میں عینی گواہ دسویں دفعہ آموختہ سُنا رہا ہے۔ تم بھی جا کے سُن لو۔ اور یار! چار دن سے تو نے میرے تبادلے کے خلاف ایک بھی لیٹر ٹو دی ایڈیٹر نہیں چھپوایا۔ ہمیں جب نہ ہوں گے تو تجھے کون ہتھیلی پہ بٹھائے گا؟ اوئے بشیرے ! دو چاء سلیمانی۔ فٹافٹ۔ لبالب۔ بلائی (بالائی) ایسی دبا دب ڈلوائیو کہ چاء میں پینسل کھڑی ہو جائے۔ اور بھائی فیروز دین! اس حجرے     والے انقالابیے کو چپکا کرو۔ سرِ شام ہی سے سالے کے دردیں اُٹھنے لگیں۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا۔ چینختے، ڈکراتے گلا بیٹھ گیا ہے۔ جنابِ عالی! مرد کے رونے سے زیادہ ذلیل چیز دُنیا میں نہیں۔ سالا خود کو حسن ناصر سے کم نہیں سمجھتا۔ میں نے پانچ بجے اسے آئس کولڈ بیئر کے چار مگ پل دیے۔ بہت خوش ہوا۔ تیسرے مگ کے بعد  مجھے، جی ہاں مجھے، "ستونِ دار پہ رکھے چلو سروں کے چراغ" کا مطلب سمجھانے لگا! چوتھا پی چکا تو میں نے ٹوائلٹ جانے کی مناہی کر دی۔ چنانچہ تین دفعہ کھڑے کھڑے پتلون میں ہی چراغ جلا چکا ہے۔ جنابِ عالی! ہم تو حکم کے تابع ہیں۔ ابھی تو لاہور کے شاہی قلعے میں اس کی آرتی اُترے گی۔ وہ سب کچھ قبلوا لیتے ہیں۔ اس سالے کی ٹریجیڈی یہ ہے کہ اس کے پاس قبولنے کو کچھ ہے نہیں۔ لہذا زیادہ پِٹے گا۔

 



Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/16 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 18, 2013, 5:35:49 AM12/18/13
to bazmeqalam

 

شاملِ واردات

 

    تازہ واردات کی خبر سُن کر رپورٹر کی باچھیں کِھل گئیں۔ اس خوشی میں اُس نے ایک سگریٹ اور دو میٹھے پانوں کا آرڈر دے دیا۔ جیب سے پیپر منٹ اور نوٹ بُک نکالی۔ بڑی مدّت بعد  ایک چٹ پٹی خبر ہاتھ لگی تھی۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کیس کا پلاٹ اپنے افسانہ نویس دوست سلطان خاور کو بخش دے گا جو روز "رئیل لائف ڈرامہ" کا تقاضہ کرتا ہے۔ آبرو ریزی کے اس کیس کی تفصیلات سُننے سے پہلے ہی ذہن میں سُرخیاں سنسانے لگیں۔ اب کی دفعہ سُرخی میں ہی کاغذ پر کلیجہ نکال کر رکھ دوں گا۔ اُس نے دل میں تہیّہ کیا۔ "ستّر سالہ بوڑھے نے سات سال کی لڑکی سے منہ کالا کیا۔" یہ سُرخی جمانے کی خاطر پچھلے سال اسے لڑکی کی عمر سے دس سال نکال کر بوڑھے کی عمر میں جوڑنے پڑے تھے تاکہ اسی تناسب سے جرم میں سنگینی اور قاری کی دلچسپی میں اضافہ ہو جائے۔ مرزا عبدالودود بیگ کہتے ہیں کہ یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ سیدھے سادے اور سپاٹ لفظ rape کے جتنے بھی مترادفات ہمارے ہاں رائج ہیں، اُن میں ایک بھی ایسا نہیں جس میں خود لذّیت کا عنصر نہ ہو۔ کوئی سُرخی، کوئی سا فقرہ اُٹھا کر دیکھ لیجیے، جنسی لذّت کشی کا فشردہ نظر آئے گا۔ "ملزم نے خوبرو دوشیزہ کا دامنِ عصمت تار تار کر دیا۔" "ستّر سالہ بوڑھا رات کی تاریکی میں منہ کالا کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔" "پینسٹھ سالہ بوڑھا شب بھر کمسن دوشیزہ کی عصمت سے کھیلتا رہا۔" گویا اصل اعتراض پینسٹھ برس پر ہے، جس میں ملزم کا کوئی قصور نہیں۔ (دراصل اس سُرخی میں اخلاقیات، استعجاب، کرید اور حسد کی بحصّۂ مساوی آمیزش ہے۔ مطلب یہ کہ اخلاقیات صرف٤ /١)۔ "چاروں ملزموں نے نو خیز حسینہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا"۔ "درندہ صفت ملزم وقفے وقفے سے پستول دکھا کر عصمت پر ڈاکہ ڈالتا رہا۔ پولیس کے آنے تک دھمکیوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔" یہ سُرخیاں اور عبارتیں ہم نے اخبارات سے حرف بحرف نقل کی ہیں۔ بعض بیانیہ اصطلاحیں اور فقرے کے فقرے، جنھیں ہم نقل کرنے سے بوجوہ قاصر ہیں، ایسے ہوتے ہیں جن سے لگتا ہے کہ بیان کرنے والا ١ [1]voyeur خود بنفسِ حریص شاملِ واردات ہونا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ پڑھنے والے کی قانونی ہمدردیاں دوشیزہ کے ساتھ مگر دل ملزم کے ساتھ ہوتا ہے۔

 

سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

 

    کوئلے کی اس کان سے مزید نمونے برآمد کرنا چند اں ضروری نہیں کہ ہاتھ کالے کرنے کے لیے یہی کافی ہیں۔ مختصراً اتنا عرض کر دیں کہ ذرا کھرچیے تو آپ کو جنسی جرائم سے متعلق کوئی فقرہ لذّت اندوزی سے خالی نہیں ملے گا۔ ہر لفظ سسکی اور ہر فقرہ چسکی لیتا دکھائی دے گا۔ انگریزی میں اس اسلوب کی بہترین مثال روسی نژاد مصنف نابوکوف کے ہاں ملتی ہے جو ہر لفظ کے غبارے کو رال میں لتھڑے ہوئے ہونٹوں میں دبا کر آخری لفظ نقطۂ تلذذ تک پھُلا پھُلا کر دیکھتا اور پھر اپنے قاری پر چھوڑتا چلا جاتا ہے۔

 



[1] محض جنسی نظارہ بازی سے لذّت لینے والا۔ Peeping Tom


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/17 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 19, 2013, 12:33:04 AM12/19/13
to bazmeqalam

 

کتّا کیوں کاٹتا ہے

 

    کافی دیر تک تو بشارت کو یقین نہیں آیا کہ یہ سب سچ ہو سکتا ہے۔ کراچی ہے کوئی رجواڑہ تو نہیں۔ اچھی خاصی farce معلوم ہوتی تھی۔ لیکن جب رات کے نو بج گئے تو معاملہ سچ مچ گمبھیر نظر آنے لگا۔ اے ایس آئی نے کہا "آج رات اور کل کا دن اور رات آپ کو حوالات میں گزارنے پڑیں گے۔ کل اتوار پڑ گیا۔ پرسوں سے پہلے آپ کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔" اُنھوں نے پوچھا "کس بات کی ضمانت؟" جواب ملا "یہ عدالت بتائے گی۔" اُنھیں فون بھی نہیں کرنے دیا۔ ادھر حوالات کی کوٹھری میں جس کے جنگلے سے پیشاب کی کھراہند بَھک بَھک آ رہی تھی، خلیفہ وقفے وقفے سے ہتھکڑی والا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھاتا اور ہی ہی، ہی ہی کر کے اس طرح روتا کہ ہنسی کا گُمان ہوتا۔ بشارت کا غصّہ اب ایک اپاہج اور گونگے کا غصّہ تھا۔ اتنے میں تھانے کے منشی جی چٹائی کی جانماز پر عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر اُن کے پاس آئے۔ سُوکھ کر ٹڈا ہو گئے تھے، مگر عینک    تلے آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ لہجے میں شفقت اور مٹھاس گھُلی ہوئی۔ ایک بوتل لیمونیڈ کی اپنے ہاتھ سے گلاس میں اُنڈیل کر پلائی۔اس کے بعد  دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی اپنی ڈبیا سے پان نکال کر کھلایا۔

 

    منشی جی نے بڑے نرم اور پُر خلوص لہجے میں کہا کہ ہمارے سرکار (ایس ایچ او) بڑے بھلے آدمی ہیں۔ شریفوں کے ساتھ شریف اور بد معاشوں کے حق میں ہلاکو۔ یہ میری گارنٹی ہے کہ آپ کا چوری شدہ مال تین دن میں برآمد کرا دیا جائے گا۔ سرکار انتڑیوں میں سے کھینچ کر نکال لاتے ہیں۔ علاقے کے ہسٹری شیئر ان کے نام سے تھر تھر کانپتے ہیں۔ وہ ریڈیو گرام، زیورات اور ساریاں جو اس کمرے میں آپ نے دیکھیں، ان کی بازیابی آج صبح ہی ہوئی ہے۔ معروضہ یہ ہے کہ حضور کی گاڑی میں جو لکڑی پڑی ہے، وہ سرکار کے پلاٹ پر ڈلوا دیجیے۔ آپ کی اسی مالیّت کی مسروقہ لکڑی سرکار تین دن میں برآمد کروا دیں گے۔ گویا آپ کی گرہ سے تو کچھ نہیں گیا۔ میں نے ابھی ان سے ذکر نہیں کیا۔ ممکن ہے سُن کر خفا ہو جائیں۔ بس یوں ہی آپ کا عندیہ لے رہا ہوں۔ سرکار کی صاحبزادی کا رشتہ خُدا خُدا کر کے طے ہوا ہے۔ بٹیا تیس سال کی ہو گئی۔ بہت نیک اور سُگھڑ ہے۔  آنکھ میں خفیف سی کجی ہے۔ لڑکے والے جہیز میں کار، فرنیچر، ریڈیو گرام اور ویسٹ  اوپن[1] پلاٹ پر بنگلہ مانگتے ہیں۔ کھڑکی کے دروازے عمدہ لکڑی کے ہوں۔ بَر چوک جائے تو پھر یہ سب کچھ بھوگنا بھگتنا پڑتا ہے۔ ورنہ ہمارے سرکار اس قسم کے آدمی نہیں۔ آج کل بہت پریشان اور چڑچڑے ہو رہے ہیں۔ یہ تو سب دیکھتے ہیں کہ باؤلا کتّا ہر ایک کو کاٹتا پھرتا ہے۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے باؤلا تھوڑا ہی ہوا ہے۔ آپ نے خود دو چار فقروں سے اندازہ کر لیا ہو گا کہ سرکار نے کیسی شگفتہ اور موزوں طبیعت پائی ہے۔ تین برس پہلے تک شعر کہتے تھے۔ شام کو تھانے میں شاعروں کا ایسا ازدھام ہوتا تھا کہ بعض اوقات حوالات میں کُرسیاں ڈلوانی پڑتی تھیں۔ ایک شام بلکہ رات کا ذکر ہے۔ گھمسان کا مشاعرہ ہو رہا تھا۔ سرکار ترنّم سے تازہ غزل پڑھ رہے تھے۔ سارا عملہ داد دینے میں جُٹا ہوا تھا۔ مقطعے پر پہنچے تو سنتری زردار خان نے تھری ناٹ تھری رائفل چلا دی۔ حاضرین سمجھے شاید قبائلی طریقے سے داد رہا ہے۔ مگر جب وہ واویلا مچانے لگا تو معلوم ہو کہ دورانِ غزل جب مشاعرہ اپنے شباب پر پہنچا تو ڈکیتی کیس میں ماخوذ ایک ملزم جو حوالات کا جنگلہ بجا بجا کے داد دے     رہا تھا، بھاگ گیا۔ شاعروں نے اس کا تعاقب کیا۔ مگر اسے تو کیا پکڑ کے لاتے، خود بھی نہیں لوٹے۔ اللہ جانے پولیس کانسٹیبلان نے پکڑنے میں تساہل برتی یا ملزم نے "پکڑائی" نہیں دی مگر سرکار نے ہمت نہیں ہاری۔ راتوں رات اسی نام کے بستہ الف کے اک چھٹے ہوئے بدمعاش کو پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا۔ کاغذات میں مفرور ملزم کی ولدیت بدل دی مگر اس کے بعد  شعر نہیں کہا۔ تین برس سے سرکار کی ترقی اور شعر کی آمد بند ہے۔ عدم صاحب سے یاری ہے۔ پچھلے برس اپنے معصوم بچوں کے حلق پہ چھری پھیر کر حکام بالا کو ڈیڑھ لاکھ کی نذر گزرائی تو "لائن حاضری" سے چھٹکارا ملا اور اس تھانے میں تعیناتی ہوئی۔ اب سرکار کوئی ولی اللہ تو ہیں نہیں کہ سلام پھیر کر جا نماز کا کونا الٹ کر دیکھیں تو ڈیڑھ لاکھ کے نوٹ از غیبی دھرے ملیں۔ دودھ تو آخر تھنوں ہی سے نکالنا پڑتا ہے۔ بھینس دستیاب نہ ہو تو کبھی کبھی چوہیا ہی کو پکڑ دوہنا پڑتا ہے۔

 

    بشارت کو نقصانِ مایہ سے زیادہ اس ذلت آمیز مثال پر غصہ آیا۔ بکری بھی کہہ دیتا تو غنیمت تھا (گو کہ چھوٹی ہے ذات بکری کی) لیکن صورتحال کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی۔ انہوں نے کہا، میں اپنی رپٹ واپس لیتا ہوں۔ اے ایس آئی نے جواب دیا کہ دن دہاڑے سرقہ ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے یعنی قابل دست  اندازی پولیس ہے۔ آپ رپٹ واپس لینے والے کون ہوتے ہیں ؟ اگر آپ نے والیس لینے پر اصرار کیا تو جھوٹی رپٹ درج کرانے پر آپ کا یہیں آن دی سپاٹ چالان کر دوں گا۔ عزت کے لالے پڑ جائیں گے۔ اگر آپ کا وکیل بہت لائق فائق ہوا تو تین مہینے کی ہو گی۔ ایس ایچ او صاحب پیر کو فیصلہ کریں گے کہ آپ کن کن دفعات کے تحت ماخوذ ہیں۔

 

    انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا ہر فعل، ان کی ساری زندگی قابل دست اندازی ہی نہیں، قابلِ دست درازی پولیس رہی ہے۔ اور یہ سراسر پولیس کی غفلت کا نتیجہ تھا کہ وہ اب عزت آبرو سے بسر کر رہے تھے۔

 

    انہوں نے طیش میں آ کر دھمکی دی کہ مجھے حبس بے جا میں رکھا گیا ہے۔ یہ غیر قانونی حراست ہے۔ میں ہائی کورٹ میں Habeas Corpus Petition پیش کروں گا۔ اے ایس آئی بولا، آپ پیٹیشن کیا پیش کریں گے، ہم خود آپ کو ہتھیلی پہ دھر کے عدالت میں پیش کریں گے۔ دھڑلے سے دس دن کا جسمانی ریمانڈ لیں گے۔ دیکھتے جائیے۔

 



[1]ویسٹ اوپن: کراچی میں کیونکہ شام کو ٹھنڈی ہوا سمندر یعنی مغرب کی سمت سے چلتی ہے،     اس لیے مغربی رویہ مکانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/18 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 20, 2013, 1:16:05 AM12/20/13
to bazmeqalam

 

آپ بیتی لکھنے کی خاطر جیل جانے والے

 

    ای ایس آئی یہ دھمکی دے کر چلا گیا۔ چند  منٹ بعد  اس کا باس ایس ایچ او بھی اپنا ڈنڈا بغل میں دبائے اہم عہم عاحم کھانستا کھنکارتا اپنے گھر چلا گیا۔ عین اسی وقت مٹھائی والا وکیل نہ جانے کہاں سے دوبارہ آن ٹپکا۔ رات کے گیارہ بجے بھی اس نے کالا کوٹ اور سفید پتلون پہن رکھی تھی۔ وکیلوں کا مخصوص کلف دار سفید کالر بھی لگائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا، برادر! ہر چند  کہ میرا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، محض انسانی ہمدردی کی بنا پر کہہ رہا ہوں کہ آپ متعدد جرائم میں ملوث کیے جا سکتے ہیں۔ خدانخواستہ ابھی دفعہ ٦١ ضابطۂ فوجداری کے تحت آپ کے ڈرائیور کا اقبالِ جرم قلم بند ہو جائے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ آپ صورت سے بال بچے دار آدمی معلوم ہوتے ہیں آپ لیڈر تو ہیں نہیں جو سیاسی کیریئر بنانے اور سوانح عمری لکھنے کے لالچ میں جیل جائیں۔ پارٹیشن سے پہلے کی بات اور تھی۔ لیڈر باغیانہ تقریر کر کے جیل جاتا تھا تو جناب والا! سارا ملک انتظار میں رہتا تھا کہ دو تین سال بعد  چھوٹیں گے تو کوئی تفسیر، کوئی آپ بیتی، کوئی تصنیف مکمل کر کے نکلیں گے۔ بد قسمتی سے انگریزوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کو جیل سے قبل از وقت رہا کر دیا تو تفسیر ادھوری رہ گئی۔ بہرحال، وہ زمانے اور تھے۔ آج کل والا حال نہیں تھا کہ تقریر کرنے سے پہلے ہی دھر لیے گئے اور چھوٹے تو جیل کے دروازے پر کوئی ہار پھول پہنانے والا تک نہیں۔ نہ چراغے، نہ گلے والا مضمون ! بخدا ! میں یہ بحث نہیں کر رہا کہ آپ مجھے وکیل کر لیں، گو کہ میں آپ کو منع بھی نہیں کرسکتا۔ محض آپ کے بھلے کو کہہ رہا ہوں۔ مجھے پریکٹس کرتے پچیس سال ایک مہینہ ہوا۔ میں نے آج تک کوئی قانونی گتھی ایسی نہیں دیکھی جسے نانواں (روپیہ) نہ سلجھا سکے۔ سارے سم سم اسی سے کھلتے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے۔ البتہ اتنا فوڈ فار تھاٹ (Food for thought) شب گزاری کے لیے چھوڑے جاتا ہوں کہ اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بجا چاہتے ہیں۔ آپ نے ان آٹھ گھنٹوں میں پولیس کا کیا بگاڑ لیا جو آئندہ آٹھ گھنٹوں میں بگاڑ لیں گے۔ کل اتوار ہے۔ آپ اسی طرح حوالات میں اکڑوں بیٹھے اپنے کانسٹی ٹیوشنل رائٹس اور ضابطہ فوجداری کے حوالے دیتے رہیں گے۔ عدالت زیادہ سے زیادہ یہی تو تیر مار لے گی کہ آپ کو پیر کے دن رہا کر دے گی۔ سو ہم تو جناب والا پیر سے پہلے ہی آپ کو اس چوہے دان کے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ زیر حراست ہیں۔ اچھا۔ بہت رات ہو گئی۔ شب بخیر ! منشی جی کو میرے گھر کا فون نمبر معلوم ہے۔

 

    وکیل کے جانے کے بعد  ہیڈ کانسٹیبل ایک چٹائی، ایلومینیم کا لوٹا اور کھجور کا دستی پنکھا لے آیا اور خلیفہ والی حوالات کی طرف اشارہ کر کے بشارت سے کہنے لگا "دن بھر بیٹھے بیٹھے آپ کی کمر تختہ ہو گئی ہو گی۔اب آپ یہ بچھا کر وہاں لیٹ جائیے۔ مجھے جنگلے میں تالا لگانا ہے۔ مچھر بے پناہ ہیں۔ یہ کمبل اوڑھ لیجیے گا۔ زیادہ گرمی لگے تو یہ پنکھا ہے۔ رات کو استنجا آئے تو بے شک وہیں۔۔۔۔۔ بار ہ بجے کے بعد  حوالات کا تالا نہیں کھولا جا سکتا۔" اُس نے بتیاں بجھانی شرو ع کر دیں۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/19 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 21, 2013, 4:15:42 AM12/21/13
to bazmeqalam

 

مگر قارورہ کچھ اور کہتا ہے !

 

    بتیاں بجھنے لگیں تو خلیفہ زور زور سے "سرکار! سرکار!" کر کے رونے لگا۔حوالات کی دیواروں پر کھٹملوں کی قطاریں رینگنے لگیں۔ اور چہرے کے گرد خون کے پیاسے مچھروں کا پالہ گردش کرنے لگا۔ اس مرحلے پر منشی جی دفعتاً پھر نمودار ہو ئے۔ اور ملباری ہوٹل سے منگوایا ہوا قیمہ، جس میں پڑی ہوئی ہری مرچوں اور ہرے دھنیے کی الگ سے خوشبو آ رہی تھی۔ اور تنور سے اُترتی نان بشارت کے سامنے رکھی۔ گرم نان سے اشتہا کو باؤلا کر دینے والی وہ لپٹ آ رہی تھی جو ہزار ہا سال قبل انسان کو آگ دریافت کرنے کے بعد  گیہوں سے آئی ہو گی۔ اسے کھانے سے انکار کرنے کے لیے بشارت نے کچھ کہنا چاہا تو کہ نہ سکے کہ بھوک سے بُرا حال تھا اور سارا منہ رال سے بھر گیا تھا۔ ہاتھ کے ایک لجلجے سے اشارے سے انکار کیا اور ناک دوسری طرف پھیر کر بیٹھ گئے۔ اس پر منشی جی بولے، قسم خُدا کی! میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ اس کا عذاب آپ کی گردن پر۔ تین بجے ایک 'بن' چاء میں ڈبو کے کھایا تھا۔ بس۔ ڈاکٹر آنتوں کی ٹی بی بتاتا ہے۔ مگر پیر الٰہی بخش کالونی والے حکیم شفاءالملک کہنے لگے کہ یہ بیماری زیادہ کھانے سے ہوتی ہے۔ لو اور سُنو! میں نے کہا، حکیم صاحب! میرا جُثہ جسامت تو دیکھیے۔ بولے، مگر قارورہ کچھ اور کہتا ہے !

 

    یکبارگی منشی جی نے بات کا رُخ موڑا۔ بشارت کے گھُٹنے چھُو کر کہنے لگے، میں آپ کے پیروں کی خاک ہوں۔ پر دُنیا دیکھی ہے۔ آپ عزت دار آدمی ہیں۔ مگر معاملے کی نزاکت کو نہیں سمججھ رہے ہیں کہ قارورہ کیا کہہ رہا ہے۔ میں آپ کے خُسر کا محلّے دار اور ادنیٰ نیاز مند رہ چکا ہوں۔ دیکھیے، عزت کا صدقہ مال ہوتا ہے۔ لکڑی دے دلا کے رفع دفع کیجیے۔ کلہم دو تین ہزار کی تو بات ہے۔ یہ تو دیکھیے آپ ہیں کہاں ! پھر یہ غور فرمائیے کہ ساڑھے تین ہزار کی اس لکڑی کے عوض آپ کو ساڑھے تین ہزار کی دوسری لاٹ مل جائے گی۔پھر جھگڑا کس بات کا؟ سرکار شیر کے منہ سے شکار ہی نہیں چھینتے، اُس کے دانت بھی اُکھاڑ لاتے ہیں۔ علاقے میں کہیں کوئی واردات ہو، سرکار کو گویا القا ہو جاتا ہے کہ کس کا کام ہے۔ بعضے بعضے کو تو محض قیافے پر ہی دھر لیتے ہیں جیسا کہ، معاف کیجیے، حضور کے ساتھ ہوا۔ پچھلے سال انھی دنوں کی بات ہے۔ سرکار نے ایک شخص کو گالی گلوچ سے شارع عام پر رُکاوٹ پیدا کرنے پر گرفتار کیا۔ بظاہر ذرا سی بات تھی۔ مگر قارورہ کچھ اور کہہ رہا تھا۔ سب کو تعجب ہوا۔ مگر دو گھنٹے بعد  سرکار نے اس کے گھر سے وہائٹ ہارس وہسکی کی تین سو بوتلیں، دو گھوڑا بوسکی کے تھان، مسروقہ زیورات، درجنوں ریڈیو گرام اور دنیا بھر کا چوری کا مال بر آمد کر لیا۔ گھر میں ہر چیز چوری کی تھی۔ ایک چیز بھی ذاتی نہیں نکلی۔ سوائے والد کے جس نے کہا کہ میں اس نا خلف کو عاق کرتا ہوں۔ مگر ہمارے سرکار دل کے بہت اچھے ہیں۔ پچھلے سال اسی زمانے میں میری بیٹی کی شادی ہوئی۔ سارے اخراجات سرکار نے خود برداشت کیے۔ انھیں میں کا ایک ریڈیو گرام بھی جہیز میں دیا۔ میں اس کی گارنٹی دیتا ہوں کہ مسروقہ لکڑی اور ٹرک کی رجسٹریشن بک آپ کو تین دن کے اندر اندر دُکان پر ہی ڈلیور ہو جائے گی۔ میری مان جائیے۔ ویسے بھی بیٹی کی شادی کے لیے رشوت لینے اور دینے کا شمار نیگ نیوتے میں کرنا چاہیے۔ آپ سمجھ رہے ہیں ؟

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/20 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 22, 2013, 12:14:19 AM12/22/13
to bazmeqalam

 

روٹی میری کاٹھ دی، لاون میری بھکھ [1]

 

    اب پیاز کے سب چھلکے ایک ایک کر کے اُتر چکے تھے۔ بس آنکھوں میں ہلکی ہلکی سوزش باقی رہ گئی تھی۔ خواری کا اصل سبب سمجھ میں آ جائے تو جھنجھلاہٹ جاتی رہتی ہے۔پھر انسان کو چپ لگ جاتی ہے۔ منشی جی اب انھیں اپنے ہی آدمی لگنے لگے۔

 

    "منشی جی! یہاں سبھی؟

 

    "حضور! سبھی"

 

    "وکیل صاحب بھی"

 

    "منشی جی! پھر آپ۔۔۔۔۔۔ ؟"

 

    "حضور میرے سات بچّے ہیں۔ بڑا بیٹا انٹر میں ہے۔ بیوی کو ٹی بی بتائی ہے۔ دن میں دو تین دفعہ خون ڈالتی ہے – ڈاکٹر کہتا ہے مری یا کوئٹہ کے سینی ٹوریم لے جاؤ۔ تنخواہ اس سال کی ترقّی    ملا کر اٹھائیس روپے پانچ آنے بنتی ہے ١۔" بشارت نے ٹرک میں لدی ہوئی لکڑی ایس ایچ او کو نذر کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ آدھی رات اِدھر، آدھی رات اُدھر، بارہ بجے خلیفہ کی ہتھکڑی کھُلی تو وہیں یعنی موری کے منبع و مخرج کے درمیان سجدے میں چلا گیا۔ شُکرانے کے سجدے سے ابھی پوری طرح نہیں اُٹھا تھا کہ ہاتھ پھیلا کر ہیڈ کانسٹیبل سے بیڑی مانگ کر پی۔ادھر بشارت کو بھی کمرے سے باہر نکلنے کی اجازت ملی۔ منشی جی نے مبارک باد دی اور اپنی پیتل کی ڈبیا سے نکال کر دوبارہ پان کی کترن یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ گلوریاں آپ کی بھابی نے صُبح بطورِ خاص بنائی تھیں۔ ہیڈ کانسٹیبل نے بشارت کو علاحدہ لے جا کر مبارک باد دیتے ہوئے کہا " خوشی کا موقعہ ہے۔ منشی جی کو پچیس روپے دے دیجیے۔ غریب عیال دار، ایمان دار آدمی ہے[2]۔ اور جنابِ عالی! اب ہم سب کا منہ میٹھا کرائیے۔ ایسے خوشی کے موقعے بار بار تھوڑا ہی آتے ہیں۔ آپ بے شک گھر پر فون کر لیں۔ گھر والے پریشان ہوں گے کہ سرکار اب تک کیوں نہیں لوٹے۔ ایکسیڈنٹ تو نہیں ہو گیا۔ ڈھنڈیا مچ رہی ہو گی۔ اسپتالوں کے کیژولٹی وارڈ میں ہر مُردے کی چادر ہٹا ہٹا کے دیکھ رہے ہوں گے اور مایوس لوٹ رہے  ہوں گے۔" بشارت نے سو روپے جیب سے نکال کر مٹھائی کے لیے دیے۔ تھڑی دیر بعد  ایس ایچ او کے کمرے سے وہی وکیل صاحب مٹھائی کے ویسے ہی چار ڈبّوں کا مینار گود میں اُٹھائے اور ٹھوڑی کی ٹھونگ سے اسے بیلنس کرتے ہوئے نمودار ہوئے۔ اُنھوں نے بھی بڑی گرم جوشی سے مبارک باد دی اور اُن کی معاملہ فہمی اور سمجھ داری کو سراہا۔ تین ڈبّے عملے میں تقسیم کیے اور چوتھا بشارت کی طرف بڑھاتے ہوئے بولے، یہ ہماری طرف سے بھابی صاحبہ اور بچّوں کو دے دیجیے گا۔ ڈبّا حوالے کرنے کے بعد  اُنھوں نے اپنا کلف دار کالر اُتار دیا اور سیاہ کوٹ اُتار کر ہاتھ پر لٹکا لیا۔

 



[1] ١ میری روٹی کاٹھ کی ہے اور بھوک میری لگاون۔ بابا فرید۔

[2] کانسٹیبل کی تنخواہ اُس زمانے میں سترہ روپے ہوتی تھی۔ اور ASI کی ستر روپے جو بینک کے چپراسی کی تنخواہ کے برابر تھی۔


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/21 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 23, 2013, 1:44:43 AM12/23/13
to bazmeqalam

 

بھکاری کون؟

 

    وکیل صاحب نے مشورہ دیا کہ لگے ہاتھوں لکڑی ایس ایچ او صاحب کے پلاٹ پر ڈالتے جائیے۔ نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئیے۔ ایک رائفل بردار کانسٹیبل خلیفہ کے ک پہلو میں بیٹھ گیا۔ خلیفہ نے اس دفعہ "پدر سوختہ" کہہ کر ایک ہی گالی سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔ کوئی بہت پڑھا لکھا یا معزز آدمی پاس بیٹھا ہو تو وہ گاڑی کو فارسی میں گالی دیتا تھا۔ گالی دیتے وقت اُس کے     چہرے پر ایسا ایکسپریشن آتا کہ گالی کا مفہوم مصّور ہو کر سامنے آ جاتا۔ تھانے والوں نے ایک گیس کی لالٹین ساتھ کر دی تاکہ اندھیرے میں پلاٹ پر مال اُتروانے میں آسانی رہے۔ گاڑی کے پچھلے حصّے میں لکڑی کے تختوں پر لالٹین ہاتھ میں لیے بشارت بیٹھ گئے۔ جھٹکوں سے مینٹل جھڑ جانے کے ڈر سے اُنھوں نے لالٹین ہاتھ میں اَدھر اُٹھا رکھی تھی۔ خلیفہ ایسا بن رہا تھا جیسے گاڑی ہمیشہ اتنی ہی آہستہ چلاتا ہے۔ کانسٹیبل نے جھنجھلاتے ہوئے اُسے دو دفعہ ڈانٹا " ابے ٹرک چلا رہا ہے یا اپنی زوجہ کے جنازے کا جلوس نکال رہا ہے ؟" بشارت کی آنکھیں نیند سے بند ہو چلی تھیں، مگر کراچی کی سڑکیں جاگ رہی تھیں۔ سینما کا آخری شو ابھی ختم ہوا ہی تھا۔ کاروں کے شیشوں پراوس کے ریلے بہہ رہے تھے اور اُن کی قمیض بھیگ چلی تھی۔ پیلس سینما کے پاس بجلی کے کھمبے کے نیچے ایک جوان نیم برہنہ پاگل عورت اپنے بچّے کو دودھ پلا رہی تھی۔ بچّے کی آنکھیں دُکھنے آئی ہوئی تھیں اور سُوجن اور چیپڑوں سے بالکل بند ہو چکی تھیں۔ ننگی چھاتیوں پر بچّے نے  دودھ ڈال دیا تھا جس پر مکھیوں نے چھاؤنی چھا رکھی تھی۔ ہر گزرنے والا ان حصّوں کو جو مکھیوں سے بچ رہے تھے نہ صرف غور سے دیکھتا بلکہ مُڑ مُڑ کے ایسی نظروں سے گھُورتا چلا جاتا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا دراصل بھکاری کون ہے۔ پاس ہی ایلومینیم کے بے دھُلے پیالے میں منہ ڈالے ایک کُتّا اُسے زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کر رہا تھا۔اس سے ذرا دور ایک سات آٹھ سال کا لڑکا ابھی تک موتیا کے گجرے بیچ رہا تھا۔ اُنھوں نے ترس کھا کر ایک گجرا خرید لیا اور کانسٹیبل کو دے دیا۔ اُس نے اُسے رائفل کی ناٹ پر لپیٹ لیا۔ بشارت سر جھکائے، خیالات میں گُم، بندر روڈ، عید گاہ، صدر اور نرسری ہوتے ہوئے پی ای سی ایچ ایس پہنچئ تو ایک کا عمل ہو گا۔ اُنھجوں نے لالٹین گاڑی کے بونٹ پر رکھ دی اور اُس کی روشنی میں وہ لکڑی جو چوری سے بچ گئی تھی، اپنے ہاتھوں سے تھانے دار کے پلاٹ پر ڈال آئے۔

 

    ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/22 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 24, 2013, 1:13:22 AM12/24/13
to bazmeqalam

 

طوطے کی پیش گوئی

 

    ڈھائی بجے رات جب وہ گھر پہنچے تو وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ اس آتو میٹک چھکڑے کو اونے پونے ٹھکانے لگا دیں گے۔ گھر، گھوڑے، گھر والی، سواری اور انگوٹھی کے پتھر کے معاملے میں وہ سعد اور نحس کے قائل تھے۔ اُنھیں یاد آیا کہ ١٩٥٣ء میں موٹر سائیکل رکشا کے حادثے میں زخمی ہونے کے بعد  جب وہ بندر روڈ پر میونسپل کارپوریشن کے سامنے بیٹھنے والے نجومی کے پاس گئے تو اُس نے اپنے سُدھائے ہوئے طوطے سے ایک لفافہ نکلوا کر پیش گوئی کی تھی کہ تمہاری قسمت میں ایک بیوی اور تین حج ہیں۔تعداد کی ترتیب اس کے برعکس ہوتی تو کیا اچھا ہوتا، اُنھوں نے دل میں کہا: ویسے بھی حج زندگی میں ایک ہی دفعہ فرض ہے۔ ثواب لوٹنے کے معاملے میں وہ لالچی بالکل نہیں تھے۔ نجومی نے زائچہ بنا کر اور ہاتھ کی لکیریں محدّب شیشے سے دیکھ کر کہا کہ دو تین اور چار پہیّوں والی گاڑیاں تمہارے لیے نحس ثابت ہوں گی۔ یہ بات وہ زائچے اور محدّب شیشے کے بغیر، صرف اُن کے ہاتھ اور گردن پر بندھی ہوئی پٹیاں دیکھ کر بھی کہہ سکتا تھا۔ بہر حال اب وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک ایک یا پانچ پہیّوں کی گاڑیاں ایجاد نہ ہو، انھیں اپنی ٹانگوں پر ہی گزارا کرنا پڑے گا۔ایسا لگتا تھا کہ اس گاڑی کو خریدنے کا اصل مقصد لکڑی کو چوروں اور ایس ایچ او تک بحفاظت تمام پہنچانا تھا جو بحمد للہ بغیر رُکاوٹ کے تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/23 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Dec 25, 2013, 12:43:59 AM12/25/13
to bazmeqalam

 

بنگال ٹائیگر گیا، ببّر شیر آ گیا

 

    صبح جب اُنھوں نے خلیفہ کو مطلع کیا کہ اب وہ اس کی خدمات سے استفادہ کرنے کے لائق نہیں رہے تو وہ بہت رویا گایا۔ پہلے تو کہا، میں گاڑی کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جاؤں ؟ پھر کہنے لگا، کہاں جاؤں ؟ بعد  ازاں اُس نے آقا اور ملازم کے اٹوٹ رشتے اور نمک کھانے کے دُوررس نتائج پر تقریر کی جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہے۔ اور جو بھاری نقصان اُن کو پہنچا ہے، اس کی تلافی وہ اس طرح کرنا چاہے گاکہ سال بھر میں ان کی حجامت کی جو اُجرت بنتی ہے، اس میں سے وہ لکڑی کی رقم مجرا کر لیں۔ اس پر وہ چیخے کہ خلیفے ! تو سمجھتا ہے کہ میں ساڑھے تین ہزار سالانہ کی حجامت بنواتا ہوں ؟ خلیفہ نے دوبارہ اپنی غلطی کا خندہ پیشانی سے اعتراف کیا اور ساتھ ہی گاڑی کو گشتی ہیئر کٹنگ سیلون بنانے کی پُر حماقت تجویز پیش کی جو ا تنی ہی حقارت سے رد کر دی گئی۔ زچ ہو کر اس نے یہاں تک کہا کہ وہ تمام عمر۔۔۔۔۔ یعنی گاڑی کی یا اس کی اپنی عمرِ طبعی تک، جو بھی پہلے دغا۔۔۔۔۔۔ بالکل مفت ڈرائیوری کرنے کے لیے تیار ہے۔ گویا جو نقصان پہلے تنخواہ لے کر پہنچاتا تھا۔۔۔۔ لا تنخواہ پہنچائے گا۔ غرض کہ خلیفہ دیر تک اسی قسم کی تجویزوں سے اُن کے زخموں پر پھٹکری چھڑکتا رہا۔

 

    وہ کسی طرح نہ مانے تو خلیفہ نے ہتھیار ڈال دیے، مگر اُسترا اُٹھا لیا۔ مطلب یہ کہ آخری خواہش یہ ظاہر کی کہ اس قطعِ تعلق کے باوجود، اسے کم از کم حجامت کے لیے آنے کی تو اجازت دی جائے، جو بشارت نے صرف اس شرط پر دی کہ اگر میں آئندہ کوئی سواری۔۔۔۔۔ کسی بھی قسم کی سواری۔۔۔۔۔۔۔ رکھوں تو حرام خور تم نہیں چلاؤ گے۔

 

    کچھ دن بعد  خلیفہ یہ خبر دینے آیا کہ صاحب جی! یوں میرے دل میں اُچنگ ہوئی کہ ذرا تھانیدار صاحب بہادر کے پلاٹ کی طرف ہوتا چلوں۔ میں تو دیکھ کے بھونچکا رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اپنی رشوت میں دی ہوئی لکڑی کے پاس اپنی چوری شدہ لکڑی پڑی ہے ! پہلو بہ پہلو! ہمارا مال ایک شیر دوسرے شیر کے منہ میں سے نکال کرڈکار گیا۔ ہمیں کیا فرق پڑتا ہے کہ دھاری دار شیر (Bengal Tiger) چلا گیا اور ببّر شیر آ گیا۔ میرا اعتبار نہیں تو خود جا کے ملاحظہ کر لیجیے۔ خلیفہ ہنسنے لگا۔اُسے اپنی ہی بات پر بے محل، بے اختیار اور مسلسل ہنسنے کی بُری عادت تھی۔ سانس ٹوٹ جاتا تو ذرا دم لے کر پھر سے ہنسنا شروع کر دیتا۔ وہ ہنسی الاپتا تھا۔ دَم لینے کے وقفے میں آنکھ مار جاتا۔ سامنے کا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا۔ اس وقت وہ اپنی ہنسی کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور بالکل کلاؤن معلوم ہو رہا تھا۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/24 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>

Najeeb Ahmed

unread,
Jan 2, 2014, 10:43:58 AM1/2/14
to bazmeqalam

 

ٹرک ہذا بکاو ہے

  

گاڑی ایک مہینے تک بیکار کھڑی رہی۔ کسی نے جھوٹوں بھی دام نہ لگائے۔ تضحیک و توہین کے پہلو سے بچنے کی خاطر ہم نے اسے گاڑی کہا ہے۔ بشارت بے حد حسّاس ہو گئے تھے۔ کوئی اسے کار کہتا تو اُنھیں خیال ہوتا کہ طنز کر رہا ہے اور ٹرک کہتا تو اس میں توہین کا پہلو نظر آتا۔ وہ خود Vehicle کہنے لگے تھے۔ وہ مایوس ہو چلے تھے کہ دفعتاً ایک ایک دن کے وقفے سے اکٹھی تین " آفرز" آ گئیں۔ پڑوس میں سیمنٹ کے ڈپو کے مالک نے اس ترپال کے جو کبھی گاڑی پر چڑھا رہتا تھا، تیرہ روپے لگائے، جب کہ ایک گدھا گاڑی والے نے بارہ روپے کے عوض چاروں پہیّے نکال کر لے جانے کی آفر دی۔ اُنھوں نے اس جاہل کو بُری طرح لتاڑا کہ یہ بھی ایک ہی رہی۔ تیرا خیال ہے کہ یہ گاڑی پہیّوں کے بغیر چل سکتی ہے ! اُس نے جواب دیا، سائیں ! یہ پہیّوں کے ہوتے ہوئے کون سی چل رہی ہے ! رقم کے لحاظ سے تیسری آفر سب سے اچھی تھی۔ یہ ایک ایسے شخص نے دی جوحلیے سے اسمگلر لگتا تھا۔ اُس نے گاڑی کی نمبر پلیٹ کے دو سو روپے لگائے۔

 

    ان اہانت آمیز آفرز کے بعد  بشارت نے گاری پر ترپال چڑھا دیا اور توبہ کی کہ آئندہ کبھی کار نہیں خریدیں گے۔ آگے چل کر مالی حالت اور طبیعت کی چونچالی بحال ہوئی تو اس توبہ میں اتنی سی ترمیم کر لی کہ آئندہ کسی آنجہانی گورے کی گاڑی نہیں خریدیں گے خواہ اُس کی بیوہ میم کتنی ہی خوب صورت کیوں نہ ہو۔ مرزا نے مشورہ دیا کہ اگر تمہاری کسی سے دُشمنی ہے تو گاڑی اُسے تحفتہً دے دو۔ بشارت نے کہا، نذر ہے۔ چند  روز بعد  اُنھوں نے ترپال اُتار دیا اور ایک گتّے پر "برائے فروخت" نہایت خوشخط لکھوا کر گاڑی پر ٹانگ دیا۔ دو تین دن میں گاڑی اور گتّے پر گرد اور آرا مشین سے اُڑتے ہوئے بُرادے کی دبیز تہیں چڑھ گئیں۔ مولانا کرامت حسین نے جو اَب فرم کے مینجر کہلاتے تھے، ونڈ اسکرین کی گرد پر انگلی سے "خوش آمدید" اور"ٹرک ہٰذا بکاؤ ہے " لکھ دیا جو دور سے نظر آتا تھا۔ روزانہ ظہر کے وضو کے بعد  حروف پر گیلی انگلی پھیر کر اُنھیں روشن کر دیتے۔ نمازِ با جماعت کے بعد  مسجد سے آ کر گاڑی پر دَم کرتے۔ فرماتے تھے، ایسا جلالی وظیفہ پڑھ رہا ہوں کہ جس چیز پر بھی پھونک ماردی جائے وہ یا تو چالیس دن کے اندر اندر بِک جائے گی، ورنہ وظیفہ پڑھنے والا خود اندھا ہو جائے گا۔ دن میں تین چار دفعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہاتھی کی کبھی دو کبھی تین یا چار انگلیاں دائیں بائیں گھماتے۔ یہ تحقیق کرنے کے لیے کہ بینائی جاتی تو نہیں رہی۔ وظیفے کے بعد  مسجد سے دُکان تک، راستے بھر جلالی پھونک کو اپنے منہ میں بڑی احتیاط سے بھرے رکھتے کہ " لیک" ہو کر غلطی سے کسی اور چیز پر نہ پڑ جائے۔

 


Najeeb Ahmed Najeeb


2013/12/25 Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages