ابن صفی : مشن اور ادبی کارنامہمولف و مرتب: محمد عارف اقبالصفحات : 1032 اشاعت: جون 2013 قیمت : 595روپے(مجلد)ISBN 978-93-83239-00-9زیر اہتمام : اردو بک ریویو،1739/3ذیلی منزل، کوہ نور ہوٹل، پٹودی ہاﺅس، دریا گنج، دہلی 2- (موبائل نمبر: 09953630788)تبصرہ نگار : سہیل انجماس بحث سے قطع نظر کہ ”ادب عالیہ“ کیا ہے اور ”ادب عالیہ“ کسے کہتے ہیں، ابن صفی کا نام نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے اردو داں طبقہ کے ذہن و حواس پر چھایا ہوا ہے۔ بر صغیر ہند و پاک کے ساتھ ساتھ اردو کی نئی بستیوں میں بھی شائد ہی کوئی اردو خواں ایسا ہو جو ابن صفی کے نام سے ناواقف ہو یا جس نے ان کے ناول نہ پڑھے ہوں۔ پہلے ہندوستان کے الہ آباد سے اور اس کے بعد پاکستان کے کراچی سے انھوں نے جو ناول لکھے ہیں وہ اردو ادب کا ایک تاریخی اور قیمتی سرمایہ ہیں۔ جاسوسی ناولوں کو تفریحی ادب یا پاپولر لٹریچر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے ثانوی درجے میں رکھا جا سکتا ہے۔ ادب عالیہ اور ابن صفی کے ناولوں کی تخلیق کے مقاصد پر اگر نظر ڈالیں تو اس سے انکار کی جرا ¿ت کوئی نہیں کر سکتا کہ ابن صفی کے ناولوں کا مقصد بھی انتہائی اعلیٰ و ارفع تھا۔ ان کا مقصد ایک صالح معاشرہ کی تشکیل اور جرائم اور ظلم و استبداد سے پاک ایک ایسے سماج کا قیام تھا جس میں انسان کو انسان سمجھا جائے، قانون کا احترام کیا جائے اور کسی کے ساتھ زیادتی و ناانصافی نہ ہو۔ اگر ان مقاصد کو نصب العین بنا کر لکھا جانے والا ادب اعلیٰ و ارفع ادب نہیں ہے تو پھر وہ کون سا ادب ہوگا جسے ادب عالیہ کے درجے میں رکھا جائے گا۔ کیا برائیوں اور فحش کاریوں کو عام کرنے کا نام اعلیٰ ادب ہے۔ابن صفی کے ناولوں کی اہمیت کئی لحاظ سے مسلم ہے۔ مقاصد کے اعتبار سے تو وہ اعلیٰ ترین ہیں ہی زبان و بیان کے لحاظ سے بھی انتہائی معیاری ہیں۔ جو ادبی معیار اور زبان کی چاشنی ابن صفی کے ناولوں میں ہے وہ بہت کم ادیبوں کے یہاں پائی جاتی ہے۔ وہ جہاں انسانی قدروں کا حامل معاشرہ چاہتے تھے اور دنیا کو جرم اور مجرم سے پاک دیکھنا چاہتے تھے وہیں وہ اردو زبان کے بھی زبردست مجاہد اور خادم تھے۔ انھوں نے اپنے قلم سے اردو کی جو خدمت کی ہے وہ بہت کم لوگوں کے نصیب میں آتی ہے۔ کیا یہ بات کم اہمیت کی حامل ہے کہ اردو زبان سے ناواقف لا تعداد لوگوں نے ان کے ناول پڑھ پڑھ کر اردو سیکھی یا ان کے ناول پڑھنے کے لیے اردو سیکھی۔ ابن صفی نے اپنے ناولوں سے جتنی بڑی تعداد میں اردو خواں پیدا کیے ہیں اس کا عشر عشیر بھی اردو کا دَم بھرنے والے دانشوروں نے پیدا نہیں کیے ہوں گے۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ ابن صفی کے ناول اعلی ادب کا حصہ نہیں ہیں بلکہ وہ عوامی، تفریحی اور پاپولر لٹریچر کا حصہ ہیں۔ اسے ذہنی دیوالیہ پن نہیں کہا جائے گا تو کیا کہا جائے گا۔ یہ ابن صفی جیسے عظیم ناول نگار کے ساتھ بہت بڑی زیادتی بھی ہے اور اردو زبان و ادب کا المیہ بھی ہے۔یوں تو ابن صفی کا نام کبھی بھی گوشہ گمنامی کی زینت نہیں رہا، ان کے پرستاروں اور قارئین کی تعداد ہمیشہ موجود رہی ہے اور ان کے ناول بھی ہندوستان اور پاکستان میں مسلسل شائع ہوتے رہے ہیں۔ لیکن بہر حال ادھر گزشتہ کچھ دہائیوں سے ابن صفی کے نام اور ان کی تخلیقات کے احیا کا عمل شروع ہوا ہے اور ہندوستان و پاکستان میں اس سلسلے میں کافی کچھ کام ہوا ہے۔ ہندوستان میں جو شخصیات اس سلسلے میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکی ہیں ان میں ایک نام اردو بک ریویو کے مدیر محمد عارف اقبال کا ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے تو یہ کیا کہ ابن صفی کے ناول ایک ایسے پبلشر سے شائع کروانے کا سلسلہ شروع کرایا جو ابن صفی کے نام تک سے ناواقف تھا۔ اس ادارے سے اب تک تقریباً 57 جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور ایک ایک جلد میں چار چار اور پانچ پانچ ناول ہوتے ہیں۔ منتخب ناولوں کی ان جلدوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اس کے مرتب عارف اقبال نے ابن صفی کے مشن اور ادبی کارنامہ کو اجاگر کرتے ہوئے ہر ناول کا مختصر تعارف بھی پیش کیا ہے اور عہد حاضر میں اس کی اشاعت کے جواز پر روشنی بھی ڈالی ہے۔ معیاری طباعت کے حامل ان ناولوں کی قیمت بھی کم رکھی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک ان کے ناول پہنچ سکیں۔ اب انھوں نے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ایک معیاری اور ضخیم کتاب شائع کر کے بلا شبہ ابن صفی او ران کے کارناموں کو نہ صرف شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے بلکہ ایسے گوشوں تک بھی ابن صفی کا نام پہنچا دیا ہے جو ہنوز اس نام کی آشنائی سے محروم تھے۔یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ ہیں : ابن صفی: حیات اور مشن، فکر و نظر: اہل علم و ادب کے تاثرات و تبصرے، ابن صفی: عصری تناظر میں، تحقیق و تنقید، ابن صفی: کردار نگاری کے آئینے میں، تجزیہ و تبصرہ: چند ناولوں کے حوالے سے، ابن صفی سے مکالمہ: انٹرویو، ابن صفی کے ناولوں سے فکر انگیز زریں اقتباسات، منتخب تخلیقات: حصہ نثر اور شعری تخلیقات۔ اس فہرست پر نظر ڈالنے سے بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کتاب میں کتنا تنوع اور کتنی ہمہ جہتی ہے۔ پہلے باب سے قبل خود عارف اقبال کا ایک انتہائی وقیع اور مفصل مضمون ہے جس میں انھوں نے ابن صفی کی تخلیقات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ادب میں ابن صفی کے مقام کا تعین کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس بحث کو آگے بڑھایا ہے کہ ادب عالیہ کیا ہے او رادب غیر عالیہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”سوال پیدا ہوتا ہے کہ ادب کیا ہے؟ ادب کی تعریف ادبا اور نقادوں کے نزدیک جو کچھ بھی ہو لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ہر زمانے کا ادب اپنے عہد کا آئینہ او رنمائندہ ہوتا ہے بالخصوص تخلیقی ادب....بیسویں صدی میں ابن صفی واحد ناول نگار ہیں جنھوں نے جاسوسی ادب کی بنیاد ایک صنف کے طور پر رکھی او رادب میں مقصد کو ترجیح دیتے ہوئے ’ٹیم اسپرٹ او رلیڈر شپ‘ کو عصر حاضر کے معاشرے کی اصلاح کے لیے لازمی تصور کیا“۔ ابن صفی کے ناول نہ صرف عام قارئین کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا سامان رہے ہیں بلکہ فلم اور سیرئیل بنانے والوں کے لیے بھی باعث کشش رہے ہیں۔ متعدد فلم سازوں نے ان کے ناولوں کے پلاٹ سے آئیڈیاز اٹھائے ہیں اور کئی مکالمہ نگاروں نے ان کے ڈائیلاگ سے استفادہ کیا ہے۔ شہرہ آفاق فلم ”شعلے“ میں امیتابھ بچن کے وہ ڈائیلاگ جو وہ اپنے دوست دھرمیندر کے بارے میں موسی کے سامنے بولتا ہے کہ ہاں وہ کبھی کبھار کوٹھے پر بھی چلا جاتا ہے، کبھی پی بھی لیتا ہے، کبھی جوا بھی کھیل لیتا ہے، عمران سیریز کے ایک ناول سے لیے گئے ہیں۔ اسی طرح نانا پاٹیکر کے لیڈ رول میں بنی ایک فلم ”ترکیب“ جس میں وہ ایک قتل کی گتھی سلجھاتا ہے، فریدی کے آئیڈیاز اورمجرموں سے راز اگلوانے کی ان کی ترکیبوں کو اختیار کرتا ہے۔ مکیش کھنہ کے سیرئیل مارشل اور دوسرے کئی سیرئیلوں میں ان کے آئیڈیاز لیے گئے ہیں۔ عارف اقبال نے اپنے مضمون میں اس حوالے سے بھی کچھ باتیں کی ہیں اور چند مثالیں بھی دی ہیں۔پہلے باب میں ابن صفی کے دستخط اور ان کی تحریروں کے عکس کے علاوہ ان کے صاحب زادے احمد صفی کا ایک مضمون بھی ہے جو ان کے گھریلو حالات پر ہے۔ ان کے خاندانی اور علمی پس منظر پر روشنی ڈالنے والا ایک مضمون بھی اس میں شامل ہے۔ مذکورہ کتاب کے سلسلے میں بھی ایک مختصر تحریر موجود ہے۔ اگلے باب میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، شمس بدایونی، عالم نقوی اور دیگر بہت سے قلم کاروں کے تاثرات اور مضامین ہیں جن میں کئی مختصر ہیں تو کئی طویل اور تفصیلی ہیں۔ کئی تفصیلی مضامین تنقیدی اور ادبی حیثیت کے حامل ہیں۔ عصری تناظر میں عارف اقبال کے وہ اداریے ہیں جو انھوں نے جنوری 2004سے اب تک ابن صفی کے فن، شخصیت اور ان کے ادبی کارناموں پر لکھے ہیں۔ ان مضامین میں عصر حاضر میں ابن صفی کی اہمیت و معنویت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان اداریوں کی تعداد 57ہے۔ ان اداریوں میں مختلف انداز سے ابن صفی کے فن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ فکر و نظر اور تحقیق و تنقید کے باب میں مضامین کے تنوع کا خیال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم اہمیت کے پیش نظر اس میں چند ایسے مضامین بھی شامل ہیں جو مطبوعہ ہیں لیکن عام طور وہ کم از کم ہندوستان میں آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔ ایک باب میں ابن صفی کے کئی کرداروں کا جائزہ لیا گیا ہے جیسے کہ کرنل فریدی کا کردار، رومانوی کردار،عمران ناقابل فراموش کردار، نسائی کردار، جنس زدہ کردار وغیرہ۔ تجزیہ و تبصرہ کے باب میں چند ناولوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جن میں ڈاکٹر عبد الحئی کا مضمون ”شاہی نقارہ کا تہذیبی و سماجی مطالعہ“ مشتاق احمد قریشی کا ”ابن صفی کے ناولوں میں صہیونی سازشوں کا انکشاف“ ڈاکٹر سید تنویر حسین کا ”ناول پیاسا سمندر عرفان و آگہی“ اور حکیم جی این ڈار کا مضمون ”تزک دو پیازی ملا دو پیازہ کا عوامی کردار“ قابل مطالعہ ہیں۔ ابن صفی کے انٹرویوز او ران سے گفتگو کے احوال بھی خاصے کی چیز ہیں۔ ابن صفی کے چند مضامین بھی اس میں شامل ہیں جیسے کہ میں نے کیسے لکھنا شروع کیا، قواعد اردو، آب وفات (پیروڈی) اور فرار (پہلا انشائیہ)۔ آخر میں ان کی شعری تخلیقات ہیں اور اس سے قبل ان کے دو ناول ”شاہی نقارہ“ اور ”پیاسا سمندر“ بھی شامل کیے گئے ہیں۔یہ کتاب عارف اقبال کی کم از کم ایک سال کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ جس طرح انھوں نے ابن صفی سے متعلق مضامین یکجا کیے اور انھیں ان کی اہمیت کے لحاظ سے ترتیب وار شامل کیا ہے وہ بجائے خود دقت نظر کا متقاضی تھا اور عارف اقبال نے اس میدان میں اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے۔ گزشتہ کچھ برسو ںمیں ہندوستان اور بالخصوص پاکستان میں ابن صفی پر جو کام ہوا ہے وہ قابل قدر ہے۔ متعدد ضخیم کتابیں اور نمبر شائع ہوئے ہیں۔ لیکن اتنی ضخیم کوئی کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان میں عہد حاضر میں راشد اشرف نے اور ہندوستان میں محمد عارف اقبال نے ابن صفی او ران کی تخلیقات کے احیا کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔ عارف اقبال کی یہ کتاب بلا شبہ ان کا ایک اہم کارنامہ ہے اور راقم کے خیال میں ان کے اب تک کے تمام ادبی و تخلیقی کاموں پر بھاری ہے۔ کتاب کی معیاری طباعت، بہترین کاغذ، اس کی ہمہ جہتی اور ضخامت کے اعتبار سے قیمت بہت مناسب ہے بلکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کم ہے۔ آخر میں ابن صفی کی ایک خوبصورت تصویر اور کراچی میں ان کی آخری آرام گاہ کی تصویر شامل کتاب کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ کتاب ایسی ہے کہ ہر اردو خواں شخص کو اسے اپنی لائبریری کی زینت بنانا چاہیے۔
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
میں نے اور میرے اہل خانہ نے عارف اقبال صاحب کی کتاب پر تبصرے دیکھے۔ کئی دوستوں نے اس بات کو نوٹ کیا اور استفسار بھی کیا کہ ہم میں سے کسی کی طرف سے بھی اس کتاب پر کوئی تبصرہ کیوں نہیں آیا۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے اصولی مؤقف کی وجہ سے ان پر کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔ عارف اقبال صاحب فرید بک ڈپو والے الحاج ناصر خان صاحب کے ساتھ مل کر ابن صفی کی ناولوں کی غیر قانونی اشاعت اور فروخت کر رہے ہیں۔ میں ان سے با المشافہ بھی عرض کر چکا ہوں اور اس سلسلے میں لکھ بھی چکا ہوں کہ اس سلسلے کو قانونی بنا لیجیئے اور کوئی معاہدہ کر لیجیئے۔ لیکن کسی پیشرفت کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل اب تک غیر قانونی انداز ہی میں چل رہا ہے لہٰذا اس بصورت ِ دیگر اچھی کتاب پر کچھ لکھ کر اس عمل کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ الحمد للہ ابن صفی کے تمام صاحبزادگان اور صاحبزادیاں اپنی اپنی جگہ خوش و خرم ہیں اور کتابوں کی رائلٹی پر انحصار نہیں کرتے نہ اس کے یے پریشان ہوتے ہیں۔کسی معاہدے کے لیے اصرار کی وجہ رائلٹی نہیں ہے بلکہ صحتِ متن اور تحریر کی درستگی ہے کیونکہ ہندوستان سے جو کٹ اینڈ پیسٹ ایڈیشنز اب تک شائع ہؤئے ہیں ان میں پورے پورے پیراگراف حذف ہو گئے ہیں اور تحریر کی ایسی تیسی ہو گئی ہے۔ مگر عارف صاحب اور فرید بک ڈپو کی طرف سے ان استفسارات کا کوئی جواب نہیں آتا۔ ابن صفی سے تو محبت ہے مگر ان کے مشن یعنی قانون کے احترام سے صریحاً روگردانی کرتے وقت یہ محبت کہیں کھو جاتی ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ ان ایڈیشنز میں انہوں نے کیا چھاپا ہے کیونکہ ہم تھ یہ غیر قانونی ایڈیشنز پہنچے ہی نہیں۔ جب عارف اقبال صاحب کی غیر قانونی اشاعتوں پر پاکستان سے ہم نے اور دیگر افراد نے اعتراض کیا تو فرید بک ڈپو کے الحاج ناصر خان صاحب نے اپنے ہی ادارے کےشائع کردہ ایک جریدے میں اس کے خلاف کھلا خط شائع کر دیا جس کا میں نے جواب بھی دیا۔ (ذیل میں درج کر رہا ہوں تاکہ بزم کے اراکین بھی اس سے واقف رہیں)۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ابن صفی کے پرستاروں کا، جنہیں ہم ابن صفی کے خاندان ہی کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، اس سلسلے میں کیا کہنا ہے۔
خیر اندیش
احمد صفی
فیس بک پر الحاج محمد ناصر خاں صاحب کے کھلے خط پر (جو منسلک ہے، پہلے اسے پڑھ لیں) میرا جواب یہ تھا:۔
Al Hajj Muhammad Nasir Khan saheb of Farid Book Depot has given an explanation for their illegal publications of Ibne Safi Novels (With Arif Iqbal Saheb) in an open letter to monthly Jahn-e Kutub Delhi, in India... The letter is linked at Arif iqbal saheb's associated site. (See link https://www.facebook.com/photo.php?fbid=584040558301101&set=a.297462560292237.67371.100000854852891&type=1&comment_id=1724974)
On behalf of Ibne Safi family (The copyright holders) I am posting my reply which was forwarded to Alh Hajj Nasir Khan saheb through Arif Iqbal Saheb and have not heard back from either. Arif saheb is not responding to phone calls as of yet...
Piracy is a crime and it cannot be justified. This is our stand. Please read below. Thanks.
Ahmad Safi
(On behalf of Ibne Safi family)
یکم اگست 2013
لاہور، پاکستان
بنام الحاج محمد ناصر خان،
مینیجنگ ڈائریکٹر، فرید بک ڈپو (پرائیویٹ) لمیٹڈ
محترمی جناب الحاج محمد ناصر خان صاحب، سلام مسنون
آج مجھےبرادرم راشد اشرف نے ای میل کے ذریعے آپ کا مراسلہ جو ماہنامہ جہان ِکتب (دہلی) کے اگست 2013 کے شمارے میں شائع ہؤا ہے، ارسال کیا۔
آپ نے بہت متاثر کن الفاظ میں ہندوستان میں اردو کی زبوں حالی کی تصویر کشی کی ہے۔ البتہ اس میں شامل بہت سی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ آپ کے آخری پیراگراف سے ابتداء کر رہا ہوں ۔ آپ نے میرے (احمد صفی) کے حوالے سے تحریر کیا کہ میں نے ہندوستان میں عار ف اقبال صاحب کی کوششوں کو اپنے عظیم والد کی سچی خدمت قرار دیا۔ میں نے ایسی کوئی بات نہ کہیں تحریر کی ہے اور نہ کسی تقریر میں ایسا کہا ہے۔ کاش آپ کوئی حوالہ دے سکتے۔ اردو دنیا کی یہی بات تکلیف دہ ہوتی جارہی ہے کہ بیانات بغیر حوالے کے داغ دیے جاتے ہیں اور صاحب ِ معاملہ سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ میں نے کب ایسا کہا۔ اس کے بعد یہی بیانات مقالوں اور تحقیقی کاموں میں حوالے کے طور پر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور مستند قرار پا جاتے ہیں۔ بھائی، عارف اقبال صاحب کی اردو کے لیے خدمتوں سے کون انکار کر سکتا ہے اور میں کیا سب ہی ان کے معترف ہیں۔ جو بات غلط ہے وہ میں آپ تک پہنچاتا ہوں کیونکہ اس سے قبل عارف صاحب کے ذریعے ہی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن آپ کے مراسلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کسی بات کا علم ہی نہیں ہے۔
ابن صفی کا ادبی مشن یہ تھا کہ لوگ قانون کا احترام کریں اور کسی بھی صورت میں قانون شکنی نہ ہونے دیں۔ جب میں اپریل سن 2011 میں دہلی میں عارف اقبال صاحب سے ملا تو میں نے یہی بات کی تھی۔ انڈیا سنٹر میں اس ملاقات میں معروف صحافی اے یو آصف صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ میرا صرف ایک سوال تھا اور وہ یہ کہ ابن صفی کی ناولوں کی غیر قانونی اشاعت کیوں ہو رہی ہے۔ اس وقت برصغیر اور دنیا کے دوسرے حصوں میں صرف اسرار پبلیکیشنز اور ابن صفی کے اہل خانہ ان کتابوں کی اشاعت کے حقوق رکھتے ہیں۔ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں بھی ہے تب بھی اخلاقی طور پر انہیں رابطہ کر کے اجازت کی بات کرنی چاہیئے تھی۔ یہ بات شائد میں کتاب والا اور ڈائجسٹ نما ٹائپ رسالوں کے چھاپنے والوں سے نہ کر سکتا کیونکہ وہ کتب قزاقی کے زمرے میں آتے ہیں اور یقیناً ان کو اس سلسلے سے مالی منفعت بھی ہو رہی ہو گی ورنہ وہ کاہے کو چھاپتے۔ مگر جو ابن صفی کے مشن کو جانتے ہوں، اس کا پرچار کرتے ہوں وہی قانون کی خلاف ورزی میں ملوّث ہوں تو ان سے شکایت نہ کی جائے تو کیا کیا جائے۔ عارف صاحب کا مؤقف یہ تھا کہ ان کے پاس ہم سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہ تھا (انٹرنیٹ اور مواصلاتی ترقی کے اس دور میں یہ بات قابل فہم نہیں!)
اسی ملک ہندوستان سے جب ادارہ بلافٹ پبلیکیشنز نے جاسوسی دنیا کے تراجم کا فیصلہ کیا تو انہوں نے بڑی آسانی سے انٹرنیٹ پر موجود ابن صفی ویب سائیٹ کے منتظم جناب محمد حنیف صاحب کے ذریعے سےہمارا پتہ ڈھونڈ نکالا اور باقاعدہ گفتگو کے بعد ایک معاہدے کے تحت ان کتب کو شائع کیا۔ رینڈم ہاؤز انڈیا نے عمران سیریز کے تراجم کے سلسلے میں یہی راہ اختیار کی اور ہم سے رابطے اور باقاعدہ معاہدے کے تحت یہ کام شروع کیا۔ اسی طرح جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے ہندی ایڈیشنز کے لیے ہارپر کالنز انڈیا نے بھی براہ راست رابطہ کر کے معاہدے کے تحت ہندی میں ان کتابوں کے تراجم کو شائع کیا۔ ان سب اداروں میں سے کسی نے ابن صفی کی یا ادب کی خدمت کے بلند بانگ دعوے نہیں کیے مگر تمام قانونی تقاضے پورے کر کے اس کام کو سر انجام دیا۔
راقم نے دہلی میں ہونے والی ملاقات ہی میں اس پر عارف اقبال صاحب سے تبادلہء خیال کر لیا تھا۔ ان کے پاس رابطہ نہ کر پانے کا کوئی جواز موجود نہ تھا۔ اس کی گواہی اے یو آصف صاحب بھی دے سکتے ہیں۔ عارف صاحب نے فرید بک ڈپو اور آپ کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ وہ اس سلسلے کو قانونی بنانے کے لیے آپ سے درخواست کریں گے۔ لیکن اس کے بعد سے ہم کسی پیش رفت کے منتظر ہی ہیں۔ اسی لیے اب تک عارف اقبال صاحب کی کسی بھی سرگرمی بشمول ان کی حالیہ کتاب "ابن صفی ۔ مشن اور ادبی کارنامہ" کی کوئی حمایت بھی اسی لیے نہیں کر سکے کہ ہمارا ایک اصولی مؤقف ہے جس کا جواب ہی نہیں دیا جا رہا۔ ابن صفی کی غیر قانونی اشاعت کرنے والے کس طرح ان کے مشن کی بات کر سکتے ہیں؟ مذکورہ کتاب میں میری تصاویر ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے پس منظر سے الگ کر کے شائع کی گئی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عارف صاحب اس ملاقات کا احوال بھی درج کرتے اور پوری گفتگو رقم کرتے۔
عارف صاحب نے راقم کے نام اپنے دو خطوط میں آپ سے اس سلسلے میں کی جانے والی درخواستوں کا ذکر بھی کیا ہے اور یہ بھی تحریر کیا ہے کہ انہوں نے آپ تک میرا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور میری ای میل کا پتہ اور فون کا نمبر بھی دے دیا تھا۔ اب اس بات کی صحت کا اُن کے اور آپ کے علاوہ کسی اور کو کیا علم۔ اس بات سے قطع نظر کہ قانونی حقوق رکھنے والے عارف صاحب کے توسط سے آپ سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ کے مراسلے تو یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ چونکہ ہندوستان میں اور پاکستان میں (آپ کے مطابق) لوگ مال ِ مفت دل ِ بے رحم کے تحت کتابیں چھاپ رہے ہیں لہٰذا آپ کو بھی اس بات کا حق ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہؤے اس کام کو جاری رکھیں، گناہ و ثواب اللہ جانے۔
اس موقع پر میں ایک بار پھر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ابن صفی کے ناولوں کی اشاعت کو قانونی معاہدے کے تحت لانے میں جملہ حقوق رکھنے والوں کی حیثیت سے ہمارا منشاء فروخت اور رائیلٹی کے معاملات سے زیادہ صحت متن اور جعلی ناولوں کے اصل کے ساتھ شامل ہو جانے سے روکنا ہے۔ ابن صفی کے تمام اہل خانہ اپنی اپنی جگہ خوش و خرم ہیں اور ان کی تحریروں کی رائلٹی پر انحصار نہیں کرتے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہندوستان سے شائع ہونے والی جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے ناولوں میں جو نکہت پبلیکیشنز کے ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر شائع کی گئیں، کتابت و ادارت کی بے شمار اغلاط ہیں۔ پورے پورے پیراگراف ان قزاقانہ اشاعتوں میں حذف کر دیے گئے ہیں۔ جتنے بھی معاہدے پاکستان سے ہم نے اپنے والد مرحوم کی کتابوں کی اشاعت کے کیے ان میں صحت متن کی ضمانت کے لیے خصوصی شقیں دلوائیں تاکہ اشاعت سے پہلے متن پر نظر ثانی کی جاسکے۔ اس کے علاوہ چند جعلی ناول جو ابن صفی کے نام سے ہندوستان میں رائج ہو گئے ہیں ان کی نشاندہی کر کے ان کو بھی اصل فہرست میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔ سر دست تو ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ فرید بک ڈپو کی شائع شدہ کتابیں کس معیار کی ہیں؟ کیا ان میں غلطیاں تو نہیں راہ پا چکیں؟ ابن صفی سے اتنی محبت رکھنے کے باجود اور ان کی کتابوں کی باقاعدہ ایکسپورٹ کے ہوتے ہؤے، فرید بک ڈپو نے کبھی اس بات کا اہتمام نہ کیا کہ ابن صفی کے اہل خانہ کو بھی ان کتابوں کے دیدار کرا دیتے ۔ عارف اقبال صاحب سے اس سلسلے میں بھی گذارش کی گئی تھی لیکن دیگر تمام گذارشات کی طرح یہ گذارش بھی قابل اعتناء نہ سمجھی گئی۔
میں یہ خط آپ تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں اور کوئی نہ کوئی راہ نکل ہی آئے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنا مؤقف مجھے ماہنامہ جہان ِ کتب کو بھی ارسال کرنا پڑے گا کیونکہ فرید بک ڈپو کی اشاعت پر اعتراض کنندگان کو آپ نے کوتاہ بین قرار دے کر سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا ہے ۔ کوئی نہیں چاہتا کہ آپ اردو کی خدمت سے دست کش ہو جائیں لیکن جو طریقہ جائز ہے اس پر عمل بھی تو کریں۔ دوسرے جو کچھ بھی کرتے رہیں آپ کی پکڑ تو آپ ہی کے اعمال پر ہو گی!
خیر اندیش
احمد صفی
لاہور، پاکستان
اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ ابن صفی مرحوم کے اہل خانہ کی جائز خواہش اور اصولی موقف کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
راشد
|
Ahmed Safi saheb ki bat se so fisad ittefaq he. inhone usooli bat ki he. mene un ke dono khat harf ba harf padha he. jo kuch unhone likha he woh sach he. jab woh delhi aaye the tu meri un se bat huwi thi balke me un ke ezaz me ek chhota sa prog bhi karna chah raha tha waqt na milne ki wajah se yeh mumkin nahi ho saka tha,lekin safi saheb ne jo bat likhi he wo sahi he yeh bat dosre zaraye se bhi mujhe maloom huwi thi abid anwar |
جناب احمد صفی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہامید ہے کہ بخیر ہوں گے -مذکورہ بالا تمام باتوں میں میں ایک اضافہ یہ کر نا چاہوں گا کہعارف اقبال صاحب نہ صرف ابن صفی کے ناولوں کو غیر قانونی طور پر چھاب رہے ہیں بلکہ بڑی مقدار میں حاشیہ سازی، عنوان طرازی اور پروف کی غلطیوں کے ساتھ ابن صفی کی عظمت کو خاک میں ملا رہے ہیں-آپ سے مودبانہ گذارش ہے کہ ایسے شاتم ابن صفی پر قانونی کارروائی فرمئیں- یہ ابن صفی کے محبین پر آپ کا احسان عظیم ہوگا-
عمران عاکف خان
+91--9911657591
HOME TOWN
#85 DEEG GATE, GULPADA, BHARAT PUR , RAJASTHAN PIN-321331
مشہور اور مقبول عام تخلیق کاروں کے ساتھ یہ بڑاالمیہ رہاہے کہ ان کی چیزیں دھڑلے کے ساتھ نہ صرف شائع کی جاتی ہیں بلکہ اس بات کی بھی پروا نہیں کی جاتی کہ ہم جوکچھ شائع کررہے ہیں وہ درست ہے یا غلط ہے ۔بیشتر اشاعتی گھرانے یا ادارے کاروباری توسیع پر نظر رکھتے ہیں انھیں زبان و ادب سے اس قدر سروکار نہیں ہوتا وہ دراصل مارکیٹ کا بھاؤ دیکھتے ہیں اور کتاب چھاپتے ہیں ۔منٹو کے ساتھ یہ بہت ہوا ۔ان دنوں استاد محترم پروفیسر شمس الحق عثمانی منٹو کاکلیات ترتیب دے رہے ہیں ۔آکسفورڈ پریس کراچی سے پورا منٹو کی پہلی جلد آچکی ہے دوسری غالباً پریس میں ہوگی ۔انھوں نے متعدد بار بتایا کہ منٹو کے جعلی اڈیشن زیادہ ہیں جو کہ کاروباری اداروں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں ۔یہ ادارے صرف ٹائٹل پیج پر منٹو کو دیکھتے ہیں اور چھاپ دیتے ہیں ۔ابن صفی کے ساتھ بھی ایسا ہوا اور ہورہا ہے ۔آپ نے صحت متن کے تئیں اپنی جس درد مندی کا اظہار کیا ہے وہ ہمارے لیے قابل فخر ہے اور میں اس کے لیے آپ کو مبارک باد دیتا ہوں ۔
2013/9/17 Abid Anwar <abidan...@gmail.com>
Ahmed Safi saheb ki bat se so fisad ittefaq he. inhone usooli bat ki he. mene un ke dono khat harf ba harf padha he. jo kuch unhone likha he woh sach he. jab woh delhi aaye the tu meri un se bat huwi thi balke me un ke ezaz me ek chhota sa prog bhi karna chah raha tha waqt na milne ki wajah se yeh mumkin nahi ho saka tha,lekin safi saheb ne jo bat likhi he wo sahi he yeh bat dosre zaraye se bhi mujhe maloom huwi thi
abid anwar
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Kindly Find Attechment
مجھے بڑی تسلی ہوئی اراکین ِ بزم کے بزم پر اور بزم سے باہر دیے گئے پیغامات پڑھ کر۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے مؤقف کو درست معنوں میں لیا گیا ورنہ یہاں بدگمانیوں اور شکوک کی گنجائش بہت تھی۔ میں اور میرے اہل خانہ شکر گذار ہیں۔بھائی عمران عاکف، چونکہ ہم نے یہ کتابیں دیکھی ہی نہیں ہیں لہٰذا ان کے مندرجات کے بارے میں کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ اگر آپ کے پاس کچھ مثالیں ہیں تو یہاں شئیر کیجیئے تاکہ غلط حاشیہ سازی اور عنوان طرازی کو ہم سب بھی دیکھ سکیں۔ پروف کی اغلاط کا شمار اس طرح شائد ممکن نہ ہو سکے کیونکہ ہم ہزاروں صفحات کی بات کر رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ آپ نے جن چیزوں کی طرف اشارہ کیا انہی کو فرید بک ڈپو والے اپنی طاقت بتاتے ہیں کہ یہ طباعت ان اغلاط سے پاک ہے۔ اس کے گٹ اپ اور حسن پیشکش کی تعریف جب فرید بک ڈپو والون نے کی تو ہمارے ایک کرم فرما اور دوست جناب عثمان قاضی نے کچھ اس طرح اس کا جواب دیا تھا:۔
" الحاج ناصر خان صاحب کا استدلال سراسر چوری اور سینہ زوری کے زمرے میں آتا ہے. یہ کچھ ایسی دلیل ہے کہ اگر کوئی مالک کسی کے پاس اپنے مسروقہ مال کو دیکھ کر باز پرس کرے اور مال کا موجودہ قابض، جائز یا ناجائز قبضے کے سوال کو نظر انداز کرتے ہؤے کہے کہ "جناب، اسے چھوڑیے کہ ہمارا اس پر حق ہے یا نہیں. بس یہ دیکھ کر سر دھنیے کہ ہم نے اسے کیسے خوشنما شو کیس میں سجایا ہے اور اہل ذوق کے لئے اس میں کس قدر انبساط کا سامان ہے. شکر کیجیے کہ کسی گنوار کے ہاتھ نہیں لگ گیا جو اسے مٹی میں رول دیتا، جیسا کہ پہلے والے چوروں نے کیا . بجائے اس کے کہ آپ ہماری فن پروری اور عوامی خدمت کی داد دیں، آپ اخلاقیات، قانون، انسانی حقوق وغیرہ کی راگنی الاپ کر الٹا ہم پر ہی حرف گیری کر رہے ہیں. کمال ہے بھائی. نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں۔"
خیر اندیشاحمد صفی
2013/9/18 Imran Akif Khan <imrana...@gmail.com>
18 ستمبر، 2013 5:09 بعد دوپہر پر، Imran Akif Khan <imrana...@gmail.com> نے لکھّا:
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Kindly Find Attechment