محترم مقصود الہی شیخ صاحب
محترم قاضی ظہیر صاحب
محترم ظفر صدیقی صاحب
محترم آصف جیلانی صاحب
آداب نیاز
سب سے پہلے تو علی گڑھ سے پروفیسر اطہر صدیقی صاحب کا یہ مکتوب ملاحظہ کیجیے جس میں انہوں نے سلمی صدیقی سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں :
Dear Rashid,
First of all thank you so much for uploadingabout Salma Aapa's Muzmoon. I am happy that your readers liked it.
Now about the comment made by Zafar Sb. Yes, Salma Aapa was married to Judge Munir's elder son, Khursheed Munir. The marriage was short lived due to maladjustment and incompatibility between the couple and did not last long. Except that a son Rashid was born who lived all his life with the mother. Judge Munir's house is about 200 meters from my Gharib Khana. All the members of that generation have died and the house is now owned by the grandson, who is a lawyer of the Allahabad High Court. Now nobody lives in the house. The compound is used for holding marriages. Rashid married twice and is very ill at present. Salma Aapa lives alone in Mumbai. She is a very close friend of ours. In my khudnawisht you might remember that when I came out of the 71 war, I reached Mumbai and stayed with Krishanji and Salma Aapa. When Krishanji came to Aligarh, he stayed in our house right across Rashid Ahmad Siddiqi's house. He had secretly visited Aligarh, as he was not allowed by Salma Aapa's family.
As a matter of fact Salma Aapa's first marriage was a fiasco and thus she does not even want to talk about it. I do not know more than this.
Just finished reading Badruddin Alhafiz's khudnawisht.
Ather
قاضی صاحب
تمام ستائشوں کا بیحد شکریہ۔
کینیڈا میں قیام پذیر محمود احمد صاحب (عمر 82 برس، ایک وقت میں پاکستان میں صحافت سے طویل عرصے وابستہ رہے تھے) کا مکتوب بھی پیش خدمت ہے جسے پڑھ کر مجھے مزید مہمیز ملی ہے:
بندہ نواز _ سلمیٰ بیگم کی نایاب اور عہد ساز آپ بیتی کا کس طرح شکریہ ادا کروں. اس کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا اور اتنا ہی اسے پڑہنے کا اشتیاق بھی لیکن کبھی ہاتھ نہ لگی. لاہور میں ڈاکٹر وزیر آغا
کے پاس تھی لیکن وہ اسے کسی کو بھی دینے کو تیار نہیں تھے. اب آپکے توسط سے حاصل ہوی
دیر آید درست آید
فرصت بھی ہے اور ایسی نایاب داستانوں کے پڑہنے کا ولولہ بھی..اور پھر آپ جیسے بے لوث اردو کے خادم بھی موجود ہوں تو اللہ ہمہ زد فزد - بہت مشکور ہوں (لفظ 'ممنون ' پے ابھی شاید کوئی پابندی تو نہیں لگی پاکستان میں لیکن اس دور شجاع شاہی میں کچھ بھی ہو سکتا ہے - اس لے احتراز بہتر ہے ) اپکا مخلص- محمود احمد
محترم راشد اشرف صاحب ! سلام مسنون
سلمٰی صدیقی صاحبہ کی خود نوشت پڑھتے وقت میں خود بھی علیگڑھ میں قیام کے دور مین چلا گیا ۔ اس سے پہلے آپ نے علیگڑھ کے مشاعرے اور نمائش پر بھی ایک مضمون سکین کر کے فورم پر بھیجا تھا وہ بھی پڑھ کر پرانی یادیں تازہ ہوگئی تھیں ۔ علیگڑھ ایک تحریک کا ہی نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک خاندان کا نام بھی ہے ۔ اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ میراتعلق کس خاندان سے ہے تو مین یہ کہنے میں فخر محسوس کرونگا کہ میرا خاندان علیگرھ ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی یہ مساعی اور کاوش کہ نا در کتابوں اور مضامین کو حاصل کر کے انکو نہ صرف محفوظ کر لیا جائے بلکہ اس سے دوسروں کو بھی استفادہ پہنچایا جائے ایک کار خیر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی بڑی گراں قدر خدمت ہے جو آپ بڑی تن دہی سے انجام دے رہے ہیں ۔
خاکسار
قاضی ظہیر
ظفر صاحب
مضمون اپ لوڈ کرنے والا آپ کا یہ خادم راشد اشرف ہے، پروفیسر صاحب نے دوماہی الفاظ والا مضمون ارسال کیا تھا جبکہ میں نے اس میں جنید احمد کی کتاب "شخصیات اور واقعات جنہوں نے مجھے متاثر کیا" سے سلمی صاحبہ کا مضمون، ان کا ایک حالیہ انٹرویو اور چند تصاویر شامل کرکے ایک مکمل فائل کی شکل دے تھی جسے آپ نے پڑھا اور پسند کیا۔
جی ہاں! محترم آصف جیلانی، بی بی سی والے ہی ہیں اور ہمارے کرم فرما ہیں۔
یہ فرمائیے کہ کیا آپ کی نظر سے اطہر ہرویز کی آپ بیتی "علی گڑھ سے علی گڑھ تک" گزری ہے ۔? یہ اور دیگر چند ایسی آپ بیتیاں پروفیسر صاحب نے اس حقیر کو ارسال کی ہیں جن کے مصنفین کا تعلق علی گڑھ سے تھا۔
آپ کی دلچسپی کے لیے ایک خآصے کی چیز پیش کررہا ہوں، یہ ہے:
ایک تازہ کتاب بعنوان "روداد چمن، علی گڑھ کی یادیں" سے 100 منتخب کردہ اوراق پر مشتمل پی ڈی ایف فائل۔ مذکورہ کتاب کی مرتب و مولفہ بھوپال کی ڈاکٹر رضیہ حامد ہیں جو اپنے خاوند کے ہمراہ حال ہی میں کراچی آئی تھیں اور فقیر کو کتاب کے نسخے سے نوازا تھا۔ لنک نوٹ کیجیے:
http://www.scribd.com/doc/172411557/Rodad-Chaman-Aligarh-Ki-Yadain-Dr-Razia-Hamid-2013
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے