وعلیکم السلام و رحمتہ الله و برکاتہ،اس بحث میں تمام محترمین نے اخلاص کا مظاہرہ کیا ہے، الله تعالی جزائے خیر دے- اس خاکسار کے علم و مطالعہ میں ایک عرصہ یہ موضوع رہا کیونکہ ایک جان پہچان کے صاحب اور انکے اہل و عیال اس مسئلہ میں یوں الجھے کہ کبھی نکل نہ سکے، اور یہی نہیں کہ دونوں میاں بیوی کی دنیا اور آخرت داؤ پر لگ گئی بلکہ اولاد اور عزیز و اقارب بھی تکلیف کے دور سے گزرتے رہے، پھر دین سے اور بھی دور ہوتے چلے گئے......مسئلہ اس لئے بھی پیچیدہ ہوگیا تھا کہ شوہر و بیوی دو مختلف مسلک اور مکتب فکر کے ماننے والے تھے، خاوند سنی اور زوجہ کا تعلق اہل تشیع سے تھا- دور جدید میں جسطرح معاشرہ تغیر اور ترقی پذیر ہورہا ہے اور جس رفتار اور تعداد کے ساتھ امت کی ایک اچھی خاصی تعداد مختلف ممالک میں اس قسم کے ازدواجی بندھن میں بندھ رہی ہے، انہیں میں یہ میاں اور بیوی بھی شمار ہوتے تھے..... ایسے طبقہ میں زیادہ تر تعلیمیافتہ حضرات ہوتے ہیں جو دین کو جمعہ اور عیدین تک محدود رکھتے ہیں اور صرف طلاق کی صورت میں انہیں دین اور علمائے دین اور مفتیان کرام یاد آتے ہیں.. لیکن دین چونکہ ایسے کسی بھی حضرات کو دین سے عاق نہیں کرتا اس لئے مسئلہ کا حل تو دین کے حوالے سے ہی انہیں ملنا چاہیے، خاصکر جبکہ انہیں یہ حل ملکی قوانین اور نظام سے ملنے کے امکانات نہیں ہوتے، یا وہ خود ایسی کو ئی توقع نہیں کرتے، یا ان میں انکا مفاد نظر نہیں آتا..... خیر جو بھی ہو، اس تیز رفتار اور تغیر پذیر معاشرے کو اگر مستقبل کے وسیع پس منظر میں دیکھیں تو ایسے معاملات کا اوسط بہت زیادہ ہونے کے امکانات نظرآتے ہیں جہاں نکاح مسلکی اتحاد کا با عث نظر آئیگا اور طلاق مسلکی تصادم کا باعث بن جائیگی......اور چونکہ بنیادی ایمان اور امت کا اجمالی اعتقاد و اتحاد اس کا تقاضہ کرتا ہے کہ اس حل کو تلاش کرنے پر ضروری بحث و مباحثہ ہوں اور چو طرفہ علمائے کرام اور مفتیان کرام تک یہ مسائل پہنچنے، پھر چاہے جس کسی بھی ذرائع سے پہنچے.....ورنہ ایسے مسئلوں میں الجھے ہوئے حضرات کو نکاح اور شادی کی مسرتوں میں اور تہذیب جدیدہ کی آنکھیں خیرہ کر دینے والی روشنیوں میں تین کیا ایک طلاق کا بھی گمان نہیں ہوتا .. یہی کثیر تعداد اس مسئلہ کا مناسب حل نہ ملنے پر مستقبل قریب میں دین و امت کو مختلف فتنوں میں مبتلا کرنے کا با عث بھی بنے گی -امت مسلمہ کی بے حد قلیل تعداد چونکہ تقوی کے معیار پر پوری اترتی ہے اور اول تو ان میں ایسے مسئلے در پیش ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن اگر مسئلہ در پیش ہو بھی جاتا ہے تو ان کے لئے دین کا ہر ایک حل قابل قبول ہوتا ہے، لیکن اول الذکر حضرات کی کثیر تعداد کے لئے بہر حال حل تو درکار ہے.... اس خاکسار طالب علم نے اسی وجہ سے پچھلی بحث میں، جو "ثنا خوان مشرق ....." عنوان کے تحت کی گئی تھی، اپنی حقیر تجویز پیش کی تھی، جو ہو سکتا ہے بحث کے مرکزی نقطہ نظر سے ہٹ کر کی گئی ہو لیکن اس تجویز سے کچھ اور یا بہتر حل سامنے نظر آ سکتے ہیں - واللہ ھو عالم بالصواب... باقی علمائے دین بہتر سمجھ سکتے ہیں..خاکسارزبیر
2014-07-24 0:38 GMT+05:30 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>:
--السلام علیکم،اہلیان بزم، جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ تین طلاق کے مسئلے میں ناچیز پہلے بھی تفصیل بیان کر چکا ہے۔ وہی موضوع ڈھونڈ کر پیش کر رھا ہوں دوبارہ دیکھ لیں۔یاد رکھیں کہ تین طلاقیں خواہ ایک ہی محفل میں ہوں واقع ہو جاتی ہیں۔ اب یہ عورت اس مرد پر حرام ہے، اس حرام کو حلال کا فتوی دینے والے بھی لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور مرد تو حرام میں مبتلا ہو ہی گیا۔ جہاں تک حلالہ کی بات ہے تو حلالہ کرنے اور کروانے والے دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کہی ہے۔ اس بات کو ایسے سمجھیں کہ کہ ایک آدمی کے تین مکان ہوں اور وہ غصے میں کسی دوسرے کے نام لگا دے۔ پھر اول تو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ میرے پاس اختیار تو تین مکانوں کا تھا لیکن ایک محفل میں ایک ہی لگ سکتا ہے، معلوم نہیں طلاق مے معاملے میں یہ منطق کہاں چلی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر بعد میں رشوت دے کر یعنی حلالے کی طرح حرام کام کر کے مکان اپنے ہی نام رہنے دے یا یہ کہ کاغذ پھاڑ کے ثبوت غائب کر دے تو یہی کہا جائے گا کہ حرام کام کیا۔ پس حلالہ کرنے والے حرام کام کرتے ہیں لیکن اس سے ایک محفل کی تین طاقوں کے بعد حرام کو حلال نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تعالٰی سب کو عقل اور سمجھ دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنھم حصوصا خلفاء اربعہ رضی اللہ عنھم کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔مع السلام،ہمایوں رشید۔---------- Forwarded message ----------
From: مهتا ب قدر <mahta...@gmail.com>
Date: 2013-05-11 19:51 GMT+03:00
Subject: Re: {23224} جدہ میں سیمینار - طلاق آسان اور خلع مشکل کیوں؟ اسکا حل ک یا ہے؟
To: "bazme...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
وعلیکم السلام و رحمہ جزاک اللہ خیر جناب ہمایوں صاحب آپ نے حوالوں کے ساتھ بات واضح فرمادی ، جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں یہ میرا مسئلہ نہیں علما کا میدان ہے آپ نے تفصیلات درج فرماکر علما سے مزید تحقیق کو آسان فرمادیا۔ ویسے ایک بات عمومی طور پر اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بھائی تم گولیاں تو تین چلاو اوت گنو ایک کیا کرشمہ ہے ایک گولی کے بجائے تین داغ دیں اور کہتے ہو کہ ایک ہی لگی ۔ جزاک اللہ خیر--
مہتاب قدرMahtab Qadrمیں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوںمیرا اصلی وطن مدینہ ہے
2013/5/11 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
السلام علیکممخلص صاحب نے ٹھیک فرمایا کہ اِس میں دو مکتبہ فکر ہیں۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایک ہی مجلس کی تین طلاق سے تین واقع ہو جاتی ہیں اور اہل تشیع کے ھاں ایک ہی ہوتی ہے۔ علماء نے اِس فرق کی تصریح کی ہے‘ یہاں ایک حوالہ پیش ہے۔ مشہور عالم اور فقیہ شمس الأئمة محمد بن أحمد السرخسي (وفات ٤٩٠ ھ) نے اپنی کتاب المبسوط میں اِس کی تصریح کی ہے؛وهذه المسألة مختلف فيها بيننا وبين الشيعة على فصلين ( أحدهما ) ۔۔۔ ( والثاني ) أنه إذا طلقها ثلاثا جملة يقع ثلاثا عندنا والزيدية من الشيعة يقولون تقع واحدة والإمامية يقولون لا يقع شيء ويزعمون أنه قول علي كرم الله وجهه۔ باب الرد على من قال إذا طلق لغير السنة لا يقع۔اور اِس مسئلے (یعنی طلاق دینے کے طریقے) میں ہمارے اور شیعہ کے درمیان اختلاف ہے (پہلا اختلاف) ۔۔۔ (دوسرا) یہ کہ اگر ایک ہی لفظ یا جملے میں تین طلاقیں دے دِیں تو ہمارے ھاں تو تین ہی ہوئیں‘ اور زیدی شیعہ کے ھاں ایک ہی ہوئی اور اِمامیہ (اِثنا عَشَری) کے ھاں طلاق ہی نہیں ہوئی (شائد اِس لئے کہ گناہ کا کام کیا اور گناہ پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا واللہ اعلم) اور گمان کرتے ہیں کہ یہ علی کرم اللہ وجہہ کا کہنا ہے۔میرا مقصد کسی مسلکی بحث کو شروع کرنا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی بات یہاں کرنی ہی نہیں چاہئے‘ لیکن جب کسی نے بات کر دی تو اِسے واضح کرنا ضروری ہے کیونکہ التباس ہو رھا ہے۔ اُمید ہے کہ حضرات آئندہ ایسی بات نہیں کریں گے جس میں تفصیل ہو۔ یہ فورم فقہی بحث کیلئے نہیں بنا‘ اِس لئے اہل سنت والجماعت کے مختلف ادوار میں دئیے گئے فتاوی میں سے چند پیش خدمت ہیں تاکہ کسی کو شک اور شبہ نہ رہے‘ باقی تفصیل کسی عالم کے پاس جا کر پوچھی جا سکتی ہے۔ میں بار بار اہل سنت والجماعت کا نام اِس لئے لے رھا ہوں کہ حرام حال کا مسئلہ ہے کسی کو دھوکہ نہ ہو کہ کس بارے میں بات کر رھا ہوں۔امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ أبو بكر عبد الرزاق الصنعاني‘ ولادت ١٢٦ ھ‘ نے اپنی مصنف میں باب باندھا ہے “باب المطلق ثلاثا“ اور صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین (جو کہ سنت اور حلال حرام کو ہم سے زیادہ جاننے والے تھے) کے فتاوی ذکر کئے۔عن معمر عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال جاء رجل إلى ابن مسعود فقال إني طلقت امرأتي تسعة وتسعين وإني سألت فقيل لي قد بانت مني فقال ابن مسعود لقد أحبوا أن يفرقوا بينك وبينها قال فما تقول رحمك الله فظن أنه سيرخص له فقال ثلاث تبينها منك وسائرها عدوان۔ عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال من طلق امرأته ثلاثا طلقت وعصى ربه۔ عن معمر قال أخبرني ابن طاوس عن أبيه قال كان ابن عباس إذا سئل عن رجل يطلق امرأته ثلاثا قال لو اتقيت الله جعل لك مخرجا، ولا يزيده على ذلك۔ عن معمر عن أيوب عن مجاهد قال سئل ابن عباس عن رجل طلق امرأته عدد النجوم قال إنما يكفيه من ذلك رأس الجوزاء۔ عن ابن جريج قال أخبرني عبد الحميد بن رافع عن عطاء بعد وفاته أن رجلا قال لابن عباس رجل طلق امرأته مئة فقال ابن عباس يأخذ من ذلك ثلاثا ويدع سبعا وتسعين۔ عن ابن جريج قال قال مجاهد عن ابن عباس قال قال له رجل يا أبا عباس طلقت امرأتي ثلاثا فقال ابن عباس يا أبا عباس يطلق أحدكم فيستحمق، ثم يقول يا أبا عباس عصيت ربك وفارقت امرأتك۔ عن الثوري عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير قال جاء ابن عباس رجل فقال طلقت امرأتي ألفا، فقال ابن عباس ثلاث تحرمها عليك وبقيتها عليك وزرا اتخذت آيات الله هزوا۔علقمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو ننانوے طلاقیں دے دی ہیں‘ میں نے (لوگوں سے) پوچھا تو کہتے ہیں کہ وہ علیحدہ ہو گئی‘ ابن مسعود نے کہا کہ لوگ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ تُم میں اور اُس میں علیحدگی ہو جائے‘ (اُس آدمی نے) کہا آپ پر اللہ رحم کرے آپ کیا کہتے ہیں؟ پس اُس نے گمان کیا کہ شائد ابن مسعود کوئی آسانی کا راستہ نکالیں گے (مثلا یہی کہ ایک مجلس میں دی گئی ساری ایک ہیں) پس کہا (ابن مسعود نے) تین سے وہ علیحدہ ہو گئی باقی تو تم نے دشمنی کی ہے (اللہ کے حکم سے کہ تمہیں تین سے زیادہ کا اختیار ہی نہیں تھا اور فائدہ بھی نہیں تھا)۔ ابن عمر رضی اللہ کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو طلاق ہو گئی لیکن اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی (کیونکہ ایک دینی چاہئے تھی)۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میرے والد نے بتایا کہ جب ابن عباس سے پوچھا جاتا کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو کہتے اگر تقوی اختیار کرتا تو اللہ رستہ بھی دکھا دیتا (کیونکہ ایک طلاق کے بعد رجوع ہو سکتا ہے تین کے بعد نہیں‘ بس خود رستہ بند کیا)‘ اور اِس سے زائد کچھ نہ کہتے۔ مجاھد کہتے ہیں کہ ابن عباس سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ اُس نے اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دیں‘ تو ابن عباس نے جواب دیا اُسے تو جوزا کا سر ہی کافی تھا (یعنی ستاروں کے ایک خاص جھرمٹ کے سرے پر موجود تین ستارے)۔ عطاء کہتے ہیں کہ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں‘ تو کہنے لگے تین تو اِس کی ہیں باقی ستانوے کو چھوڑ دے۔ مجاھد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابو عباس میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں‘ پس کہا ابن عباس نے (خود کلامی کرتے ہوئے) اے ابو عباس ایک آدمی طلاق کی حماقت کرتا ہے پھر کہتا ہے اے ابو عباس‘ (پھر آدمی کی طرف جواب دیا) تُو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے علیحدہ ہو گئی۔ سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ابن عباس کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دی ہیں‘ کہا ابن عباس نے کہ وہ تو تین سے ہی تجھ پر حرام ہو گئی باقی تُم پر بھار ہیں (کیونکہ) تو نے اللہ کی بات کا مذاق اُڑایا (یعنی زیادہ سے زیادہ تو تین تھیں تم نے ہزار کیوں دِیں)۔پس معلوم ہوا کہ لوگ ایک ہی بار طلاق دے کر آتے اور فتوی لیتے تو اُنہیں یہی کہا جاتا کہ تین سے کام ہو گیا۔ اگر ایک محفل کی شرط ہوتی تو ضرور کہتے کہ بھئی پریشان کیوں ہو ایک ہی محفل میں دی ہے تو ایک ہی ہوئی رجوع کر لو۔أبو الوليد محمد بن أحمد بن رشد المالکی‘ ولادت ٥٢٠ ھ‘ کسی تعارف کے محتاج نہیں‘ خلافت کے قاضی القضاة تھے اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک پر اپنے دور کے سب سے بڑے عالم تھے‘ اور آج بھی اگر تقابل مذاھب پر بات ہوتی ہے تو اِن کی بات کو مانا جاتا ہے۔ اپنی کتاب “بداية المجتهد“ جو کہ صرف اِس لئے لکھی کہ فقہاء کے اختلافات کو ذکر کریں‘ صاف لکھتے ہیں؛جمهور فقهاء الأمصار على أن الطلاق بلفظ الثلاث حكمه حكم الطلقة الثالثة۔ الباب الأول في معرفة الطلاق البائن والرجعي۔تمام شہروں کے فقہاء کا کہنا ہے کہ ایک لفظ میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔موفق الدين ابن قدامة المقدسي الحنبلي‘ ولادت ٥٤١ ھ‘ جو کہ فقہ حنبلی میں سند مانے جاتے ہیں۔ اپنی کتاب “المغني “ جو کہ انہوں نے فقہاء کے مسالک بیان کرنے اور تقابل کیلئے لکھی‘ میں فرماتے ہیں؛وإن طلق ثلاثا بكلمة واحدة وقع الثلاث وحرمت عليه حتى تنكح زوجا غيره ولا فرق بين قبل الدخول وبعده روي ذلك عن ابن عباس وأبي هريرة وابن عمر وعبد الله بن عمرو وابن مسعود وأنس وهو قول أكثر أهل العلم من التابعين والأئمة بعدهم۔ فصل طلق ثلاثا بكلمة واحدة۔اگر ایک ہی کلمہ سے تین طلاقیں دے دیں تو تین واقع ہو گئیں اور عورت اِس پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح کر لے (اور وہ شوہر بھی فوت ہو جائے یا طلاق دے دے) اور فرق نہیں ہے کہ طلاق رخصتی سے پہلے دی یا بعد۔ یہی روایت کیا گیا ہے ابن عباس‘ ابو ھریرہ‘ ابن عمر‘ ابن عمرو‘ ابن مسعود اور انس رضی اللہ عنھم سے‘ اور یہی کہنا ہے اکثر تابعین اور آئمہ کا۔علي بن سليمان المرداوي الدمشقي الحنبلي‘ ولادت ٨١٧ ھ‘ اپنی کتاب “الإنصاف“ میں جو کہ فقہاء کے اختلافات لکھنے کیلئے تحریر کی گئی فرماتے ہیں؛وإن طلقها ثلاثا مجموعة قبل رجعة واحدة طلقت ثلاثا وإن لم ينوها على الصحيح من المذهب نص عليه مرارا وعليه الأصحاب بل الأئمة الأربعة وأصحابهم في الجملة۔ باب سنة الطلاق وبدعته۔اور اگر تین طلاقیں دے دیں اکٹھی پہلی سے رجوع کئے بغیر تو تین ہی ہو گئیں اگرچہ نیت نہ کی ہو‘ یہی ہمارے مسلک (حنبلی) کا صحیح ترین قول ہے‘ اور اِس پر دلیل کئی بار گزر چکی‘ اور اِسی پر قائم ہیں اصحاب بلکہ چاروں آئمہ بالجملہ۔جلال الدين السيوطي الشافعی‘ ولادت ٩١١ ھ‘ جو کہ کسی تعارف کے محتاج نہیں “الحاوي للفتاوي“ میں ایک مسئلے میں فرماتے ہیں؛مسألة: رجل طلق امرأته واحدة ثم خرج من عندها فلقيه شخص فقال ما فعلت بزوجتك؟ قال طلقتها سبعين فهل يقع عليه الثلاث؟ الجواب: نعم يقع عليه الثلاث مؤاخذة بإقراره۔ كتاب الصداق - باب الطلاق - مسائل متفرقة۔مسئلہ؛ آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی پھر گھر سے نکلا اور رستے میں ایک آدمی ملا‘ پوچھا اپنی بیوی سے کیا کیا؟ اس نے کہا ستر طلاقیں دے دیں‘ پس کیا تین طلاقیں ہو گئیں؟ جواب؛ جی ھاں اُس پر تین ہو گئیں اُس کے اپنے اقرار کی وجہ سے۔زين الدين أبو السَّعادات منصور بن يونس البهوتي المصری‘ ولادت ١٠٠٠ ھ‘ زیادہ پرانے نہیں ہیں‘ اپنی کتاب “كشاف القناع“ میں فرماتے ہیں؛( وإن طلقها ) أي طلق رجل زوجته ( ثلاثا بكلمة ) حرمت نصا ووقعت ويروى ذلك عن عمر وعلي وابن مسعود وابن عباس وابن عمر۔ باب سنة الطلاق وبدعته۔(اور اگر اُسے طلاق دی) یعنی آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی (تین ایک ہی کلمے سے) تو عورت حرام ہو گئی واضح دلیل کی وجہ سے‘ اور یہی مروی ہے عمر‘ علی‘ ابن مسعود‘ ابن عباس اور ابن عمر سے۔اوپر مذکور حوالے جان بوجھ کر مختلف مکتبہ ھائے فکر سے لئے گئے حنفی‘ حنبلی‘ مالکی اور شافعی تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ کسی ایک مسلک کا کہنا ہے۔اور اجماع کسے کہیں گے جبکہ باہمی سیکڑوں اختلافات کے باوجود تمام لوگ اِس مسئلے میں ایک ہی بات کر رہے ہیں۔جہاں تک لفظی استدلال کی بات ہے تو بڑی عجیب بات کی موصوف نے کہ تین کو ایک مان لیا جائے‘ گویا ایک محفل میں دئیے گئے تین روپے ایک ہو گئے‘ ایک محل میں مارے گئے تین جوتے ایک ہو گئے‘ سبحان اللہ۔جہاں تک قرآن اور حدیث سے استدلال کا تعلق ہے کہ اہل سنت والجماعت اور شیعہ میں اختلاف کیوں‘ یا بعض اوقات اہل سنت والجماعت کے ہی کسی عالم نے جمہور امت کے خلاف غلطی سے فتوی دیا‘ تو اس کیلئے کسی عالم کے پاس جا کر تفصیل سے بات کرنی چاہئے۔ یہ جگہ اِس کام کیلئے موزوں نہیں ہے‘ بس اِتنا جان لیں کہ اگر آپ کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے تو ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوں گی‘ بیوی آپ پر حرام ہو گئی‘ حلالہ کرنا حرام ہے‘ پہلے ہوش میں رہنا تھا۔باقی مسالک کے لوگ اپنے اعتماد کے دانشوروں سے پوچھ کر عمل کریں۔مع السلامہمایوں رشید۔--
2013/5/11 Syed Raheem <syedrah...@gmail.com>
--بات اختلاف کی بھی ہے اور استدلال کی بھی اور یہ مسئلہ یعنی تین طلاق کا ایک شمار کرنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ چند برسوں پہلے وجود میں آیا بلکہ یہ سلسلہ صحابہ کے دور تک دراز ہیں اور فریقین کی اپنے اپنے دلائل ہیں مندرجہ ذیل لنک دیکھئے سعودی عرب کی اسلامی تحقیقی ادارے نے اس پر کافی مدلل بحث کی ہے اور فریقین کے استدلال اور جواب استدلال کا احاطہ کیا ہے ملاحظہ ہو مجلۃ البحوث الاسلامیۃ العدد الثالث (یہ بحث عربی میں ہے اور اس کا کچھ حصہ دار العلوم دیوبند سے اردو میں نشر ہوا ہے
http://www.alifta.net/Fatawa/FatawaChapters.aspx?View=Tree&NodeID=498&PageNo=1&BookID=2
سید رحیم عمری
From: BAZMe...@googlegroups.com [mailto:BAZMe...@googlegroups.com] On Behalf Of aapka Mukhlis
Sent: 10 May 2013 21:33
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: Re: {23186} جدہ میں سیمینار - طلاق آسان اور خلع مشکل کیوں؟ اسکا حل کیا ہے؟
عورتوں کے مزاج کی وجہ سے خلع کا طریقہ مشکل رکھا گیا ہے
کیونکہ عورتیں بہت جذباتی ہوتی ہیں
بہت جلد بے انتہا غصے میں آجاتی ہیں
اسی وجہ سے جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی کہ
اگر شوہر ہمیشہ اس کی خواہشات پوری کرتا رہے
لیکن اگر ایک بار نہ کرے تو عورت یہ کہتی ہے کہ میں نے تجھ سے کبھی خوشی نہیں پائی
اگر خلع بھی اس طرح آسان ہوتی تو نصف سے زیادہ شادیاں ٹوٹ چکی ہوتیں
رہی طلاق کی بات
تو وہ بھی اتنی آسان نہیں ہے
لیکن اس میں فقہی اختلاف پایا جاتا ہے
ایک مکتب فکرایک ہی مجلس میں تین بار طلاق کہ دینے کو تین حتمی طلاق مانتا ہے
ا یک مکتب فکر کے مطابق شرعی طور پر بھی اور زبان کے اصولوں کے مطابق بھی اور منطقی طور پر یہ ایک ہی طلاق نافذ ہوتی ہے
چاہے ایک مجلس میں کتنی بار بھی کہا جائے
کہ تین بار کہنے کے باوجود بھی عملی طور پر تو ایک ہی بار چھوڑا ہے۔
From: Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Friday, May 10, 2013 12:46 AM
Subject: Re: {23160} جدہ میں سیمینار - طلاق آسان اور خلع مشکل کیوں؟ اسکا حل کیا ہے؟
Humayun Sb
YahaaN naam nihaad aa'lim ki baat ho rahi hai
jo foran talaaq naafiz honay kaa fatwaa de deta
hai , phir paisay le kar Halaalaa karta hai.Keya
aap aiesoN ko durust samajhtay haiN?Wassalam.
2013/5/9 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
پهول ضاحب، بات یہ ہے کہ جب فورمز پہ مسئلہ بیان کرنے کی بجائے علماء اور فقہاء کو برا بهلا کہا جائے گا تو تو یہی نتیجه نکلے گا کہ نہ طلاق کی شناعت معلوم ہو گی نہ حلالے کی حرمت. اور یہ اللہ کا عذاب ہے کہ لوگ برے کاموں میں پڑ جائیں اور سمجهانے والوں کو بهی برا بهلا کہتے رہیں.مع السلام. ہمایوں.
Sent from Gmail on Galaxy Note 10.1
On May 9, 2013 11:03 PM, "Tanwir Phool" <tan...@gmail.com> wrote:
محترم علیم فلکی صاحب
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
یہ ہمارے فقہا کا کرشمہ ہے کہ طلاق کا عمل آسان
نظر آتا ہے ورنہ سورہ طلاق اور سورہ بقرہ میں
تفصیل موجود ہے شرط یہ ہے کہ ہم اندھی تقلید سے
گریز کریں طلاق کو آسان بنانے کے بعد اس کا حل
نکالنے کے لئے حلالہ کا جو طریقہ اپنایا جاتا ہے
وہ ناجائز ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے
2013/5/9 Jawed Akhtar <jawe...@gmail.com>
2013/5/9 aleem khan <aleem...@yahoo.com>
السلام علیکم
مسلمان معاشرے میں آج طلاق جتنی آسان ہوگئی ہے خلع اتنی ہی مشکل ہوگئی ہے ۔ اگرچہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق دیئے ہیں لیکن اسلامی قانون کی پدر شاہی تعبیر نے آج عورت کو بغاوت پر مجبور کردیا ہے۔ صحیح اسلامی تعلیمات، مسلم پرسنل لا اور ہندوستانی دستور کی روشنی میں ایک اہم گفتگو میں شرکت کی درخواست ہے۔
Seminar Organized by SocioReforms Society, on
Why Talaq easy and Khula impossible
in Muslim Society? What is the solution?
Speakers: Advocate Osman Shaheed,
Prosecutor General AP High Court and
Aleem Khan Falaki
Friday, 10th May, 2pm Imdtly after Friday prayer
At: Shadaab Hall, Azizia, Jeddah
Ladies are most welcome as the issues to be discussed are mostly concerned with the the women. Ladies are requested to avoid bringing the children below 10 years.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/