RE: [بزم قلم:37390] ایک محفل کÛŒ تین طلاق

247 views
Skip to first unread message

Rana Humayun Rasheed

unread,
Jul 24, 2014, 7:19:01 AM7/24/14
to BAZMe...@googlegroups.com
Jazakallah Sabir Sahib, aap ka mazmoon shadi say pehlay pRhana chahye.

Sent from Gmail on Lumia by Outlook

From: Sabir Rahbar
Sent: ‎24/‎07/‎2014 12:53
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: Re: [بزم قلم:37390] ایک محفل کی تین طلاق

 طلاق لغت میں چھوڑ دینے اور جدائی اختیار کرنے کو کہتے ہیں اصطلاح شرع میں مرد کا عورت کو مخصوص الفاظ کے ذریعہ قید نکاح سے رہا کر دینا ہے۔
طلاق دینے کا حق شوہر کو حاصل ہے، وہ اپنے حق میں با اختیار ہے کہ معقول اسباب کی بنا پر اپنا اختیار استعمال کرے اور اپنی منکوحہ سے دست بردار ہو جائے، لیکن اسلام طلاق کو ناپسند فرماتا ہے، نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
’’اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللهِ الطَّلَاقُ.(۱)
اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔
اسی مفہوم کی ایک دوسری حدیث میں رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’مَا اَحَلَّ اللهُ شَيْئًا اَبْغَضَ اِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ.‘‘(۲)
اللہ نے جو چیزیں حلال کی ہیں ان میں سب سے نا پسندیدہ اس کے نزدیک طلاق ہے۔
ایک اور ارشادِ نبوی ہے:
’’تَزَوَّجُوْ وَلَا تُطَلِّقُوْا فَاِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الذَّوَّاقِيْنَ وَالذَّوَّاقَات.‘‘ (۳)
شادیاں کرو اور طلاق نہ دو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مزہ چکھنے والوں اور مزہ چکھنے والیوں کو محبوب نہیں رکھتا۔
اگر نکاح اور طلاق کا مقصد صرف اتنا ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل ہو تو اسلام ہرگز ایسے نکاح کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، پھر میاں بیوی کے درمیان علاحدگی طلاق کے ذریعہ ہو یا خلع کے ذریعہ دونوں صورتیں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ اور مبغوض ہیں۔
رسولِ کائنات ﷺ نے عورتوں کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا:
’’ايما امراة سئلت زوجھا طلاقا في غير ما باس فحرام عليھا رائحة الجنة.‘‘(۴)
جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
اس ارشادِ رسول کی روشنی میں پتا چلا کہ بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا اور عورت کا طلاق طلب کرنا اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ اسلام نے مرد کو طلاق دینے کی آزادی دی ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ طلاق کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے یہ تعلیم دی ہے کہ اگر بیوی پسند نہ ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کے ساتھ نباہ کی کوشش کی جائے۔ ربِ کریم کا ارشاد ہے:
’’وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّ يَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا.(۵)
اور ان سے اچھا برتاؤ کرو، پھر اگر وہ تمھیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمھیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے۔(کنز الایمان)
مذکورہ آیت سے یہ سبق ملا کہ اگر بیوی بد خلق ہو یا قبول صورت نہ ہو تو طلاق دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، ممکن ہے کہ خالقِ کائنات اسی بیوی سے لائق اور نیک اولاد بخشے جو دنیا اور عقبیٰ کی بھلائی کا سبب بنے۔
شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کی اصلاح کے لیے کوئی معتدل راہ اختیار کرے اور اس کے ساتھ محبت و الفت سے پیش آئے، اصلاح کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی موثر صورت نظر نہ آئے تو شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی منکوحہ کو طلاق دے دے، لیکن ایک ہی ساتھ تینوں طلاق نہ دے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے والے پر رسول اللہ ﷺ غضب ناک ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:
’’ عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لُبَيْدٍ قَالَ اُخبِر رَسُولُ اللهِ صلى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّم. عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ اِمْرَاته ثلث تَطليقَاتٍ جَمِيْعًا فَقَامَ غَضَبَانَ ثُمَّ قَالَ اَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاَنَا بَيْنَ اَظْهُرِكُمْ حَتّٰى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَلَا اَقْتُلُه.‘‘(۶)
محمود ابن لبید سے مروی ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں، تو آپ غضب ناک ہو کر کھڑے ہو گئے، پھر ارشاد فرمایا کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جا رہا ہے، جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، یہاں تک کہ ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا، یا رسول اللہ کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا شریعت کے خلاف ہے اور شریعت کی اس خلاف ورزی کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کے ساتھ بسا اوقات بہت ساری دنیاوی دشواریوں اور رسوائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اگر ہم اسلام کے بتائے ہوئے قانون پر عمل کریں تو اللہ و رسول کی گرفت اور دنیاوی رسوائیوں سے بچ سکتے ہیں۔
طلاق کی قسمیں:
 اب ہم ذیل کی سطروں میں طلاق کے تعلق سے کچھ بنیادی اور ضروری تفصیلات پیش کرتے ہیں:
طلاق جس طرح بھی دی جائے واقع ہو جائے گی، مگر اسلامی قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ یہ تفریق اور جدائی بھی بہتر طریقے سے ہو۔ طلاق دینے کی بعض صورتیں پسندیدہ اور بعض ناپسندیدہ ہیں۔ اس لحاظ سے فقہاے اسلام نے طلاق کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں - طلاق اَحسن، طلاقِ حسن، طلاقِ بدعی۔
طلاق اَحسن:
 جن ایام میں عورت ماہ واری سے پاک ہو اور اس سے مقاربت (ہم بستری) بھی نہ کی گئی ہو، ان ایام میں صرف ایک طلاق دی جائے۔ اس میں دورانِ عدت مرد کو رجوع کا حق رہتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد عورت بائنہ ہو جاتی ہے۔ یعنی اپنے شوہر سے مکمل طور پر علاحدہ ہو جاتی ہے، اب وہ جس سے چاہے نکاح کرے اور اگر اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو فریقین کی رضا مندی سے دوبارہ بغیر حلالہ کے نکاح ہو سکتا ہے۔
طلاقِ حسن:
 جن ایام میں عورت پاک ہو اور مقاربت بھی نہ کی ہو، ان ایام میں ایک طلاق دی جائے، اور ایک ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کے دوسری طلاق دی جائے، اور دوسری ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کیے تیسری طلاق دی جائے، اس کے بعد جب تیسری ماہ واری گزر جائے گی تو عورت مغلظہ ہو جائے گی، اور اب حلالہ کے بغیر اس سے دوبارہ عقد نہیں ہو سکتا۔
طلاق بدعی:
 اس کی تین صورتیں ہیں (۱) ایک مجلس میں تین طلاق یک بارگی دی جائے خواہ ایک کلمہ سے مثلاً تم کو تین طلاقیں دیں۔ یا چند کلمات سے مثلاً کہے تم کو طلاق دی، تم کو طلاق دی، تم کو طلاق دی۔ (۲) عورت کی ماہ واری کے ایام میں اس کو ایک طلاق دی جائے، اس طلاق سے رجوع کرنا واجب ہے۔ (۳) جن ایام میں عورت سے مقاربت کی ہو ان ایام میں عورت کو ایک طلاق دی جائے، طلاق بدعی کسی بھی صورت میں ہو اس کا دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔
صریح اور کنایہ:
 جن الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے وہ دو طرح کے ہیں۔ صریح اور کنایہ۔
صریح:
 وہ الفاظ ہیں جس سے طلاق مراد ہونا ظاہر ہو ، چاہے وہ کسی زبان کے الفاظ ہوں اور اس لفظ کو سنتے ہی ذہن فوراً طلاق کی طرف جائے۔ عرف میں اس کا اور کوئی معنیٰ نہ سمجھا جائے، مثلاً شوہر نے بیوی سے کہا: میں نے تجھے طلاق دی، تجھے طلاق دی، تو مطلقہ ہے، تو طالق ہے، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، اے مطلقہ، میں نے تجھے چھوڑا۔ وغیرہ۔
اگر طلاق کے الفاظ بگاڑ کر کہے، جیسے طلاق، تلاغ، طلاک، تلاک، تلاکھ، تلّاکھ، تلاخ، تلّاخ، تلاق، طلاق، بلکہ توتلے کی زبان سے تلات، یہ سب صریح کے الفاظ ہیں۔ ان سب الفاظ کا حکم یہ ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی، اگرچہ کچھ نیت نہ کی ہو۔ یہ الفاظ ہنسی مذاق میں کہے، یا سنجیدگی سے غصے اور نشے کی حالت میں کہے یا عام حالت میں۔ ان الفاظ سے ایک یا دو مرتبہ طلاق دی تو طلاق رجعی ہوگی، یعنی مرد عدت کے اندر بیوی کو بغیر نکاح لوٹا سکتا ہے۔ اس عمل کو شریعت کی اصطلاح میں ”رجعت“ کہتے ہیں، اور عدت گزر جانے کے بعد رجعت نہیں کر سکتا۔ ہاں باہمی رضا مندی سے دوبارہ بغیر حلالہ نکاح ہوسکتا ہے۔ اگر تین دفعہ دے دی تو بیوی طلاق دینے والے پر مکمل طور پر حرام ہو جائے گی۔ اس صورت میں بغیر حلالہ اس کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔
کنایہ: 
ایسے الفاظ جو طلاق ہی کے لیے خاص نہ ہوں، بلکہ طلاق کے علاوہ اور معنوں میں بھی استعمال ہوتے ہوں، مثلاً اظہارِ غضب ، نفرت، بیزاری اور ڈانٹ پھٹکار کے لیے، جیسے، جا، نکل، چل، روانہ ہو، اٹھ، کھڑی ہو، پردہ کر، دوپٹہ اوڑھ، نقاب ڈال، ہٹ، سرک، جگہ چھوڑ، گھر خالی کر، دور ہو، چل دور، وغیرہ۔
ان الفاظ سے اس شرط پر طلاق پڑے گی جب کہ شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو۔ یا قرینے اور حالات بتائیں کہ یہاں طلاق ہی مراد ہوگی۔ مثلاً شوہر طلاق کی دھمکی دے رہا تھا، یا عورت طلاق طلب کر رہی تھی، اسی دوران شوہر نے یہ الفاظ ادا کیے ، تو ایسی صورت میں طلاق پڑ جائے گی، چاہے اس نے طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اور واضح رہے کہ کنایہ کے الفاظ سے جو طلاق واقع ہوتی ہے وہ بائن ہوتی ہے، ایک ہو یا دو، اس میں شوہر کو رجوع کا حق نہیں۔ 
صریح اور کنایہ کے الفاظ سے جو طلاق واقع ہوتی ہے، ان کی حکم اور نتیجہ کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں، رجعی، بائن، مغلظہ۔
طلاق رجعی:
 جس سے عورت فی الحال نکاح سے نہیں نکلتی، عدت کے اندر اگر شوہر رجعت کر لے تو وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی، ہاں عدت گزر جائے اور رجعت نہ کرے تو اس وقت نکاح سے نکل جائے گی، پھر بھی باہمی رضا مندی سے دونوں آپس میں نکاح کر سکتے ہیں۔
طلاق بائن:
 جس سے عورت فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے، ہاں آپسی رضا مندی سے عدت کے اندر یا بعدِ عدت دونوں آپس میں نکاح کر سکتے ہیں۔
طلاق مغلظہ:
 جس سے عورت فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے، اس صورت میں دونوں کا آپس میں نکاح کبھی نہیں ہو سکتا جب تک کہ حلالہ نہ ہو۔ طلاق مغلظہ تین طلاقوں سے ہوتی ہے، تینوں ایک ساتھ دی ہو یا برسوں کے فاصلے سے۔
عدت: 
شوہر سے جدائی کے بعد عورتوں کے لیے شریعت نے کچھ مخصوص ایام متعین کیے ہیں کہ ان ایام میں عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے، اسی کا نام عدت ہے۔ عدت کا مقصد یہ ہے کہ شوہر کی جدائی سے بیوی غم و افسوس کرے، اور اس بات سے اطمینان بھی حاصل کر لے کہ اب سابقہ شوہر سے رحم میں مادۂ تولید نہیں ہے۔ یہ مخصوص ایام (عدت) گزارنے کے بعد جب عورت دوسری  شادی کرے گی تو بچہ کی نسبت اختلاط کا شبہہ نہیں ہوگا کہ یہ بچہ کس کا ہے، سابقہ شوہر کا یا موجودشوہر کا۔
عدت کی مدت:
 مطلقہ مدخولہ (جو شوہر سے صحبت کر چکی ہو، جسے ماہواری آتی ہو) کہ عدت تین حیض ہے۔ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ مطلقہ آئسہ (پچاس یا اس سے زائد عمر والی عورت کہ جسے حیض آنا بند ہو جاتا ہے) کی عدت تین ماہ، اور غیر مدخولہ (جس نے ابھی شوہر سے صحبت نہ کی ہو) کی عدت کچھ نہیں۔(۷)  موت کی عدت غیر حاملہ کے لیے چار مہینے دس دن ہے۔(۸)  اور حاملہ کے لیے وضع حمل ہے۔ بچہ کے اعضا ظاہر ہو چکے ہوں اور اسقاط ہو گیا تو عدت ختم نہ ہوئی۔
’’شرط انقضاع هذه العدة أن يكون ما وضعت قد استبان خلقه فإن لم يستبن خلقه راسا بان اسقط علقة أو مضغة لم تنقض العدة.‘‘ (۹)
طلاق دینــــــے کا اسلامی طریقہ:
طلاق دینا یوں تو بہت مذموم فعل ہے۔لیکن اگر طلاق دینا ضروری ہو کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو حیضوں کے درمیان پاکی کے ایام میں ایک طلاق رجعی دے بشرطے کہ ان ایام میں بیوی سے مقاربت نہ کی ہو۔ اس شکل میں اگر شوہر بیوی کو دوبارہ نکاح میں لانا چاہے تو رجعت کر لے ، یعنی عدت کے اندر بیوی سے کہے کہ میں نے تجھے نکاح میں واپس لے لیا، یا تم سے رجعت کی یا میں نے تجھ کو روک لیا، یا یہ کہے کہ میں نے اپنی زوجہ سے رجعت کی، یہ سب رجعت کے الفاظ ہیں۔
شوہر نے عدت کے اندر رجعت نہیں کی اور عدت کے ایام گزر گئے تو اس صورت میں بغیر حلالہ کے نکاح ہو سکتا ہے۔
دوسری طلاق دینے کے لیے دوسرے طہر (پا کی کے ایام) کا انتظار کرے اور اس میں بھی صرف ایک ہی طلاق دے، بشرطے کہ اس میں بھی مجامعت نہ کی ہو۔ ان ایام میں دونوں کو خوب اچھی طرح سوچنے سمجھنے کا موقع مل جائے گا ، اور اگر بات بنتی ہوئی دکھائی دے تو عدت کے اندر رجعت اور بعد عدت بغیر حلالہ نکاح بھی ہو سکتا ہے اور دونوں بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ اس مہلت میں بھی اگر رویہ میں تبدیلی نہیں آئی اور فیصلہ چھوڑنے ہی کا رہا تو تیسرے طہر میں طلاق دے کر بیوی سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو جائے۔ اور احسن طریقہ یہ ہے کہ تیسری طلاق نہ دے بلکہ دو ہی پر اکتفا کرے اور عدت گزر جانے دے ۔ اب دونوں علاحدہ ہو جائیں گے اور ہر ایک جس سے چاہے نکاح کر سکتا ہے ، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کبھی یہ زوجین پھر نکاح کرنا چاہیں تو بغیر حلالہ کے نکاح کر سکتے ہیں، اور تیسری دفعہ ہونے کے بعد بغیر حلالہ کے ان دونوں کو اکٹھاہونا حرام ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
’’وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ.(۱۰)
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد (مدت) آلگے (پوری ہو جائے) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دو۔(کنز الایمان)
ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ.(۱۱)
یہ طلاق (رجعی) دو بار تک ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے، یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(کنز الایمان)
اور فرماتا ہے:
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يَّتَرَاجَعَاۤ .(۱۲)
پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔ (کنز الایمان)
قرآن کریم کی تعلیم تو یہ ہے کہ ناخوشگوار حالات میں طلاق کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو طلاق دی جائے ، وہ بھی یکبارگی تینوں نہیں بلکہ تین مرتبہ میں، جیسا کہ ذکر ہوا۔ لیکن آج ہمارے اس معاشرے میں جو طلاق دینے کی رفتار ہے وہ ایک جدا گانہ نوعیت کی حامل ہے۔ کھانے میں نمک کم ہو گیا یا زیادہ ہو گیا، نادانستہ طور پر شوہر کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو گئی، حکم کی بجا آوری میں کچھ دیر ہو گئی ، غرض کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر تیور بدل جاتے ہیں، اور غصہ کا اظہار طلاق کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ ایک اور دو طلاق پر صبر نہیں ہوتا تو تین یا اس سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں، اس کے بعد افسوس کرتے ہیں اور مفتیانِ کرام کے پاس جا کر طرح طرح کے حیلے بہانے سے فتویٰ لینا چاہتے ہیں کہ میں نے ایسے ایسے کہا تھا، اگر گنجائش ہو تو بتائی جائے، ایسے ہی طلاق دینے والوں پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہے۔
رجعت کا بہترین طریقہ:
 رجعت کا طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور عورت کو بھی اس کی خبر کر دے تاکہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کر لے، اور اگر کر لیا تو تفریق کر دی جائے، چاہے دخول (ہم بستری) بھی کر چکا ہو۔ اس لیے کہ یہ نکاح نہ ہوا، اور اگر قول (لفظ) سے رجعت کی مگر گواہ نہ کیا، یا گواہ بھی کیا مگر عورت کو خبر نہ دی تو مکروہ خلافِ سنت ہے، مگر رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی (جیسے اس سے وطی کی ،شہوت کے ساتھ بوسہ لیا، یا اس کی شرم گاہ کی طرف نظر کی) تو رجعت ہو گئی، مگر مکروہ ہے۔ چاہیے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔ (جوہرہ، بہار شریعت، قانون شریعت)
یک بارگی تین طلاق دینے کے نقصانات:
 اسلام نے شوہرکو طلاق دینے کا اختیار دیا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیںکہ شریعت کے بتائے ہوئے قانون کے خلاف اپنا اختیار استعمال کر کے اللہ اور اس کے رسول کے عتاب کو دعوت دی جائے۔احادیث کریمہ میں نبی کریمﷺنے یکبارگی تین طلاق دینے والوں پر ناراضگی اور غصہ کا اظہار کیا ہے، گزشتہ صفحہ میں ایک حدیث حضرت محمود بن لبید کی روایت سے گزری کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو یک بارگی تین طلاقیں دیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ غصہ سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ کتاب اللہ سے کھیل کیا جا رہا ہے، جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔
امام عبد الرزاق روایت کرتے ہیں:
’’عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْن عُمَرَ قَالَ مَنْ طَلَّقَ امْرَأتَهُ ثَلٰثًا طُلِّقَتْ وَعَصٰى رَبَّهُ.‘‘(۱۳)
حضرت سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، وہ واقع ہو گئیں اور طلاق دینے والے نے یکبارگی تین طلاق دے کر اپنے رب کی نافرمانی کی۔
امام ابو بکر بن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں:
’’عَنْ وَاقع ابْنِ سُبْحَانَ قَالَ سُئِلَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأتَهُ ثَلاثًا فِيْ مَجلِسٍ قَالَ اَثِمَ بِرَبِّهِ وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِ امْرَأتُه.‘‘(۱۴)
واقع بن سبحان سے مروی کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، تو انھوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔
ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
’’عَنْ اَنَسٍ قَالَ كَانَ عُمَرَ اِذَا اُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ طَلَّقَ امْرَأتُهُ ثَلَاثًا فِيْ مَجْلِسٍ اَوْ جَعَهُ ضَرَبًا وَفَرَّقَ بَيْنَھَا.‘‘(۱۵)
حضرت انس سے مروی انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا آدمی پیش کیا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں تو آپ اسے تکلیف دہ مار مارتے اور زوجین میں تفریق کر دیتے۔
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا گناہ اور شرعی مصلحتوں کے خلاف ہے، شریعتِ اسلامی کا منشا تو یہ ہے کہ زوجین ایک مرتبہ رشتۂ ازدواج میں جڑنے کے بعد تا حیات بحسن و خوبی نباہ کریں، اور یہ رشتہ توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ہاں اگر نباہ کے سارے راستے بند ہو چکے ہوں، اور ایک دوسرے کی زندگی اجیرن ہو تو ایسے موقع پر شریعت اسلامیہ جدائی کی اجازت دیتی ہے تاکہ دونوں اپنا اپنا مستقبل بنائیں۔ ایسے موقع پر شوہر طلاق دے، لیکن گنجائش باقی رکھے تاکہ آئندہ کے لیے راہ ہموار رہے، کیوں کہ بسا اوقات آدمی تین طلاقیں یک بارگی دے دیتا ہے، بعد میں پشیمان ہوتا ہے۔
بیک وقت تین طلاق دینے کے سلسلہ میں جو حدیثیں پیش کی گئیں ان سے یہ سبق ملا کی یکبارگی تینوں طلاق واقع کرنے والا بارگاہِ خدا و رسول کا مجرم ہے، ایسے شخص پر خدا اور رسول کی لعنت ہوتی ہے، اور وہ شخص نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے، اور دنیا کے اندر ایسے شخص کو سب سے زیادہ رسوائی کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جب جدائی کے بعد پھر دونوں کی محبت عود کر آتی ہے اور دوبارہ بغیر حلالہ نکاح کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسلامی قانون یہ ہے کہ جب شوہر طلاق مغلظہ دے چکا ہو تو اس عورت سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا، جب تک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح نہ کر لے اور وہ اس سے لطف اندوز ہونے کے بعد طلاق نہ دے دے۔
ربِ کریم ارشاد فرماتا ہے:
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ١ؕ (۱۶)
پھر اگر تیسری بار اسے طلاق دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی، جب کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔(کنز الایمان)
یہ ایک ایسی شرط ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے گا تو پہلے خوب سمجھ لے گا اور اس وقت تک طلاق نہیں دے گا جب تک کہ یہ فیصلہ نہ کر لے کہ اب اس عورت کے ساتھ ازدواجی رشتہ باقی نہیں رکھنا ہے، دنیا میں اس سے بڑی رسوائی اور شرمندگی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مطلقہ بیوی عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کرے، اور اس شوہر سے قربت بھی کرے، پھر وہ طلاق دے دے تب دوبارہ عدت گزار کر شوہر اول اسے اپنے نکاح میں لائے، اس کو کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا۔ اگر عقل سے کام لیا جائے اور قانون شریعت کے مطابق اپنے نکاح و طلاق کے معاملات انجام دیے جائیں تو اس طرح کے رسوا کن دن دیکھنے کو نہ ملیں۔
مسئلہ حلالہ:
 حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ (یعنی شوہر سے صحبت کر چکی ہے) تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور شوہر ثانی اس عورت سے وطی بھی کر لے،اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے، اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراً دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کہ اس کے لیے عدت نہیں۔(۱۷)
بعض لوگ طلاقِ مغلظہ دینے کے بعد پھر اسی عورت کو نکاح میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ مطلقہ کا نکاح کسی سے کرا دیتے ہیں، ندامت اور رسوائی سے بچنے کے لیے ہم بستری سے پہلے شوہر ثانی کو کسی چیز کا لالچ دے کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ خلوت اگرچہ ہو، لیکن خلوت صحیحہ (ہم بستری) نہ ہو، ایسا کرنے والوں کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد سامنے رکھنا چاہیے:
’’عَنْ عَائِشَةَ اَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ اِمْرَاَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النُبي صلى الله عليه وسلم اتحِلُ لِلْاَوَّلِ قَالَ لَا حَتّٰى يَذُوْقَ عُسَيْلَتَھَا كَمَا ذَاقَ الْاَوَّلُ.‘‘(۱۸)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس عورت نے دوسرے سے شادی کر لی، پھر اس نے بھی طلاق دے دی، تو نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کیا وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو سکتی ہے؟ حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ دوسرا شوہر پہلے شوہرکی طرح اس سے لطف اندوز نہ ہو لے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ محض دوسرے شوہر سے نکاح کر لینا کافی نہیں بلکہ دونوں کا ایک دوسرے سے بہ ذریعہ صحبت لطف اندوز ہونا ضروری ہے، صحبت نہ پائے جانے کی صورت میں پہلے شوہر سے نکاح بھی درست نہ ہوگا، بلکہ ایسا کرنا صریح حرام کاری ہے۔
اور جو شخص اپنی مطلقہ کو صرف اپنے لیے حلال کرنے کی خاطر دوسرے سے نکاح کراتا ہے، اور دوسرا صرف حلالہ کی نیت سے نکاح کرتا ہے تو ایسے افراد پر رسول کریم ﷺنے لعنت فرمائی ہے:
’’عَنْ عَبْد اللهِ بِنْ مَسْعُوْدِ قَالَ لَعَنَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلْمُحَلِّل وَالْمُحَلَّلَ لَهُ.‘‘(۱۹)
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
پہلا شوہر اس لیے لعنت کا مستحق ہے کہ وہ اس فعلِ قبیح کا سبب بنا، اور دوسرا اس لیے کہ اس نے نکاح جدائی کے لیے کیا، جب کہ نکاح کا مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی موافقت کے ساتھ     تا حیات رشتۂ ازدواج میں منسلک رہیں۔
اگر کسی نے بہ ارادۂ حلالہ نکاح صحیح کیا تو نکاح توہو جائے گا، لیکن دونوں شوہر بے حیا اور بد تمیز گردانے جائیں گے، اسی لیے ان پر لعنت کی گئی ہے، حدیث میں ایسے شخص کو”تَيْسٌ مُّسْتَعَارٌ“ (کرائے کا سانڈ) کہا گیا ہے۔
اسلام میں حلالہ کی مشروعیت اس لیے نہیں ہے کہ اس کی آڑ میں افعال قبیحہ کو فروغ دیا جائے ،بلکہ یہ شکل تو اس لیے ہے کہ جب آدمی حلالہ کا تصور کرے تو طلاقِ مغلظہ جیسی مذموم حرکت سے باز رہے۔ ہاں اگر کسی نے طلاق شدہ عورت سے مستقلاً رکھنے ہی کے لیے نکاح کیا، لیکن کسی وجہ سے نباہ نہ ہو سکا اور اس نے بھی طلاق دے دی تو اب وہ عورت شوہرِ اول کے لیے حلال ہو جائے گی۔ اور اس صورت میں کسی پر لعنت بھی نہ ہوگی۔ یہ شوہر اول کے لیے حلال ہونے کی ایک شرعی صورت ہے۔
حالتِ حیض میں طلاق کی ممانعت:
  حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے، لیکن اگر کسی نے ان ایام میں طلاق دے دی تو واقع ہو جائے گی، اور طلاق دینے والا گنہ گار ہوگا، اس لیے کہ اس نے فعل حرام کا ارتکاب کیا، ان ایام میں طلاق دینے کی ممانعت اس لیے آئی ہے کہ عموماً ان دنوں عورتیں چڑچڑی اور بد مزاج ہوجاتی ہیں، اچھی بات بھی انھیں بری معلوم ہوتی ہے، ان ایام میں اگر عورت کی طرف سے کوئی نازیبا حرکت صادر ہو جائے تو اس پر شوہر کو دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ اس کی مجبوری ہے، اور دونوں کا جسمانی تعلق بھی اِن دنوں باقی نہیں رہتا۔ جب کہ ان ایام کے علاوہ باقی دنوں میں دونوں شیر و شکر بن کر رہتے ہیں، انھیں وجوہ کی بنا پر نبی کریم ﷺ نے ایام حیض میں طلاق دینے سے منع فرمایا ہے۔
مسلم شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ رسول اللہﷺ سے کیا، آپ نے سن کر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا:
’’مُرْهُ فَلْيُرَاجعْهَا حَتّٰى تَحِيْضَ حَيْضَةً مُسْتَقْبِلَةً سِوَىٰ حَيْضَتِھَا الَّتِيْ طَلَّقَهَا فَاِنْ بَدَاَ لَهُ اَنْ يُّطَلِّقَھَا فَلْيُطَلِّقۡہَا طَاھِرًا مِّنْ حَيْضَتِهَا قَبْلَ اَنْ يَمُسَّھَا قَالَ فَذَالِكَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا اَمَرَ اللهُ.‘‘ (۲۰)
ابن عمر کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے یہاں تک کہ جس حیض میں اس نے طلاق دی ہے اس کے علاوہ ایک اور حیض گزر جائے اس کے بعد طلاق دینا چاہے تو دے دے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس حیض سے پاک ہو گئی ہو، اور اس سے مجامعت بھی نہ ہوئی ہو کہ یہ اللہ کے حکم کے مطابق طلاق کا وقت ہے۔
خلع:
 بیوی شوہر کو کچھ مال و اسباب دے کر یا مرد کے ذمہ جو کچھ باقی ہے اسے معاف کر کے بدلے میں طلاق حاصل کر لے، اسے شریعت میں خلع کہا جاتا ہے، جس طرح شوہر کو طلاق کا حق دیا گیا اسی طرح عورت کے لیے بھی خلع کی گنجائش رکھی گئی۔
قرآن مجید کا ارشاد ہے:
لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ. (۲۱)
تمھیں حلال نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو، مگر جب دونوں کو اندیشہ ہوکہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھیں گے، پھر اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھیں گے، تو ان پر کچھ گناہ نہیں، اس میں کہ بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں۔
یہ آیت جمیلہ بنت عبد اللہ کے باب میں نازل ہوئی۔ یہ جمیلہ ثابت بن قیس ابن شماس کے نکاح میں تھیں۔ اور شوہر سے کمالِ نفرت رکھتی تھیں۔ رسولِ خدا ﷺ کے حضور میں اپنے شوہر کی شکایت لائیں، اور کسی طرح ان کے پاس رہنے پر راضی نہ ہوئیں۔ تب ثابت نے کہاکہ میں نے ان کو ایک باغ دیا ہے، اگر یہ میرے پاس رہنا گوارہ نہیں کرتیں، اور مجھ سے علاحدگی چاہتی ہیں تو وہ باغ مجھے واپس کریں، میں ان کو آزاد کر دوں، جمیلہ نے اس کو منظور کیا، ثابت نے باغ لے لیا اور طلاق دے دی۔
مسئلہ: خلع طلاق بائن ہوتا ہے۔ مسئلہ:خلع میں لفظ خلع کا ذکر ضروری ہے۔ مسئلہ:اگر جدائی کی طلب گار عورت ہو تو خلع میں مقدارِ مہر سے زائد لینا مکروہ ہے، اور اگر عورت کی طرف سے نشوز (نفرت و نافرمانی) نہ ہو، مرد ہی علاحدگی چاہے تو مرد کو طلاق کے عوض مال لینا مطلقاً مکروہ ہے۔(خزائن العرفان)
طلاق کی طرح خلع بھی شریعت میں ناپسندیدہ چیز ہے، حدیث شریف میں ہے،جو عورت بلا وجہ خلع کا مطالبہ کرے اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام انسان کی لعنت ہے۔
جہاں تک ممکن ہو خواتین اسلام خلع سے پرہیز کریں، اور اس بات پر نظر رکھیں کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی جوڑے میں کوئی بھلائی رکھی ہو۔
مفقود (گم شدہ):
 جس گم شدہ مرد کی موت و زندگی کا حال نہ معلوم ہو وہ مفقود الخبر ہے۔ مفقود کی بیوی کے لیے مذہب حنفی میں یہ حکم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عمر نوّے (۹۰) سال ہونے تک انتظار کرے (جو اس زمانے میں بہت دشوار ہے، لہٰذا بہ وجہِ ضرورتِ شدیدہ) مفقود کی عورت کو حضرت سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب پر عمل کی رخصت ہے۔ ان کے مذہب پر عورت ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم کے حضور فسخِ نکاح کا دعویٰ کرے۔ وہ عالم اس کا دعویٰ سن کر چار سال کی مدت مقرر کرے، اگر مفقود کی عورت نے کسی عالم کے پاس اپنا دعویٰ پیش نہ کیا اور بطور خود چار سال انتظار کرتی رہی تو یہ عدت حساب میں شمار نہ ہوگا، بلکہ دعویٰ کے بعد چار سال کی مدت درکار ہے۔ اس مدت میں اس کے شوہر کی موت و زندگی کا حال معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ جب یہ مدت گزر جائے اور اس کے شوہر کی موت و زندگی کے سلسلے میں کچھ معلوم نہ ہو سکے تو وہ عورت اسی عالم کے حضور استغاثہ پیش کرے، اس وقت وہ عالم اس کے شوہر پر موت کا حکم کرے گا، پھر عورت عدتِ وفات (چار مہینے دس دن) گزار کر چاہے تو کسی سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے اس کا نکاح کسی سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اور جہاں سلطانِ اسلام و قاضیِ شرع نہ ہوں وہاں ضلع کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم ہی اس کا قائم مقام ہے نہ کہ گاؤں کے جہلا کی پنچایت۔(۲۲)
کورٹ کی طلاق:
شوہر نے طلاق نہیں دی بلکہ بیوی یا اس کے میکے والوں نے موجودہ ہندوستانی کورٹ اور کچہری سے طلاق نامہ حاصل کیا تو ایسی طلاق ہرگز قابلِ قبول نہ ہوگی کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر کو حاصل ہے نہ کہ کورٹ کے حکام کو۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ.(۲۳)
شوہر کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔
کورٹ کی طلاق سے عورت کو دوسرا نکاح کرنا حرام ، سخت حرام ہے۔ جب تک کہ شوہر خود طلاق نہ دے۔
تین طلاق تین ہے نہ کہ ایک: 
غیر مقلدین جو خود کو اہلِ حدیث کہتے ہیںاور چاروں اماموں (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم) میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتے۔ طلاق کے سلسلہ میں ان کے نزدیک یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی نے یک بارگی تین طلاق دی تو تین نہیں بلکہ ایک ہی پڑے گی، یعنی شوہر طلاق شدہ بیوی سے عدت کے اندر رجعت کر کے اسے بدستور اپنی بیوی بنا سکتا ہے، اور عدت کے ایام گزرنے کے بعد بغیر حلالہ اسی سے نکاح بھی کر سکتا ہے۔ جب کہ صحابہ و تابعین اور ائمہ کرام کےنزدیک یہ مسلم ہے کہ یکبارگی دی ہوئی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہے اور بیوی فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے، بغیر حلالہ کے اب دوبارہ اس کی بیوی نہیں بن سکتی، قرآن و حدیث سے یہی ثابت ہے۔
عوامِ اہلِ سنت سے گزارش ہے کہ اپنے مسائل علماے اہلِ سنت کی بارگاہ میں لے جائیں اور ان سے صحیح مسائل معلوم کریں اور پھر عمل کریں، گزشتہ اوراق میں اس سلسلہ کی کچھ حدیثیں گزر چکیں۔ مزید معلومات کے لیے چند سطور پیش خدمت ہیں۔
حضرت نافع رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حائضہ (شوہر جس سے صحبت کر چکا ہو) کی طلاق کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس کو وہی بتایا جو رسول اللہﷺنے ان سے فرمایا تھا، وہ یہ ہے:
حدیث: اگر تونے اپنی عورت کو ایک طلاق یا دو طلاق یک بارگی دی ہے تو بے شک رسول اللہ ﷺنے اس طلاق کے بارے میں مجھے رجعت کا حکم فرمایا ہے۔ اور اگر تونے یکبارگی تین طلاقیں دی ہیں تو تیری عورت تجھ پر حرام ہو گئی، جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے، اور یقیناً تونے یکبارگی تین طلاق دے کر اپنے رب کی نافرمانی کی۔ اس میں جو طلاق کے بارے میں اس نے تمھیں حکم دیا۔(۲۴)
نواسۂ رسول حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
حدیث: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے ہر طہر (پاکی کے ایام) میں یا ایک ایک کر کے، یا ہر مہینے کے شروع میں ایک ایک، یا یک بارگی تینوں دے دے تو اس کی بیوی اس پر اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔(۲۵)
علامہ احمد بن محمد الصاوی علیہ الرحمہ تفسیر صاوی میں آیت: ”فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ “ کے تحت لکھتے ہیں:
اور آیت کا یہ معنیٰ ہے کہ اگر تین طلاقیں ثابت ہو جائیں چاہے ایک دفعہ میں دی ہوں یا چند دفع میں تو اس کے لیے عورت حلال نہیں رہے گی۔ اگر کسی نے اپنی عورت سے کہا ، تجھے تین طلاقیں تو تین ہی واقع ہوں گی، اس مسئلہ پر سب کا اتفاق ہے۔ اور یہ قول کرنا کہ یکبارگی دی ہوئی تین طلاق ایک ہی واقع ہوتی ہے۔ یہ ابن تیمیہ حنبلی کے علاوہ اور کسی کا قول نہیں، اور ابن تیمیہ کے اس قول کا اس کے مذہب حنبلی کے ائمہ نے خود رد کیا ہے۔ یہاں تک کہ علماے کرام نے فرمایا کہ ابن تیمیہ گم راہ اور گم راہ گر ہے۔ (۲۶)
شیخ الاسلام علامہ بدر الدین عینی شارح بخاری فرماتے ہیں:
جمہور علما، تابعین اور ان کے بعد والے مثلاً امام اوزاعی، امام نخعی، امام ثوری، امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب امام مالک اور ان کے اصحاب، امام شافعی اور ان کے اصحاب، امام احمد اور ان کے اصحاب، امام ابو ثور، امام عبید اور دوسرے بیش تر علما کا یہی مذہب ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو یک بارگی تین طلاق دے ،تینوں واقع ہوں گی، اور وہ گنہ گار ہوگا جو اس کی مخالفت کرتا ہے، وہ براے نام ہے اور اہل سنت کا مخالف۔(۲۷)
طلاق کے بعد شوہر کی ذمہ داریاں:
 جس طرح حالتِ نکاح میں بیوی کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا انتظام شوہر کے ذمہ ہوتا ہے اسی طرح بعد طلاق زمانۂ عدت میں بھی مطلقہ (طلاق شدہ) کے سارے اخراجات طلاق دینے والے کے ذمہ ہوں گے وہ اپنے روز مرہ کے اخراجات کے مطابق مناسب طریقے سے اپنی مطلقہ کے اخراجات پورے کرے، قرآن کریم کا ارشاد ہے:
وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ (۲۸)
اور طلاق والیوں کے لیے مناسب طور پر نان و نفقہ ہے۔
مطلقہ عدت کے ایام اسی شوہر ہی کے گھر میں گزارے کہ یہی شریعت کا حکم ہے۔ رب کریم کا ارشاد ہے:
اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ١ؕ(۲۹)
طلاق والیوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان پر تنگی کے ارادہ سے انھیں ضرر نہ پہنچاؤ۔
تین طلاق دینے کے بعد مطلقہ کا طلاق دینے والے سے پردہ ضروری ہے، لہٰذا پردے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ اس کے گھر میں اگر پردے کا معقول انتظام نہ ہو سکے یا اس سے کوئی خطرہ محسوس ہو تو مطلقہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہے، مثلاً اپنے میکے چلی جائے کہ اس سے زیادہ محفوظ جگہ کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔
اگر اس شوہر سے عورت کے چھوٹے بچے ہوں (لڑکے سات سال تک اور لڑکیاں بالغ ہونے تک) تو وہ اپنی ماں کے پاس پرورش پانے کے حق دار ہیں، اور ان کے اخراجات باپ  پر لازم ہوں گے۔ ان بچوں کی ماں صرف بچوں کی پرورش کی خاطر دوسری شادی نہیں کرتی تو جب تک بچے اس کی پرورش میں رہیں گے ان کے اخراجات باپ کے ذمہ ہوں گے۔ ہاں وہ عورت شادی کر لے تو بچوں کی پرورش کا حق ختم ہو جائے گا۔
مآخذ و مراجع:
(۱) سنن أبو داؤد، ج:۱، ص:۲۹۶، رشیدیہ، دھلی.
(۲) سنن أبي داؤد، ص:۲۹۶
(۳) جامع صغير مع فيض القدير ثالث، ص:۲۴۲، حديث ۳۲۸۸، للحافظ جلال لدين السيوطي.
(۴) سنن ابن ماجه ، باب كراھية الخلع للمرأة، ص:۱۴۸
(۵) قرآن مجيد، پاره:۴، سورة النسآء، ركوع ۱۴، آيت:۱۹
(۶) رواه النسائي، مشكوٰة المصابيح، باب الخلع والطلاق، ص:۲۸۴
(۷)    البقرة:۲۲۸، الطلاق:۴
(۸)    البقرة، آيت:۲۳۴
(۹) فتاویٰ عالمگيري، مصري، جلد اول، ص:۴۷۳
(۱۰) ........................  (۱۱ - ۱۲)   پارہ:۲، البقرة، ع:۱۳
(۱۳) مصنف عبد الرزاق، ج:۶، ص:۳۹۵
(۱۴) مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵، ص:۱۰، ۱۱
(۱۵) مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵، ص:۱۰، ۱۱
(۱۶) پارہ:۲، البقرة، ع:۱۳
(۱۷) بھار شريعت، ج:۸، ص:۷۰، از صدر الشريعه علامه محمد امجد علي اعظمي قدس سره.
(۱۸) بخاري شريف، ج:۲، كتاب الطلاق، ص:۷۹، ر؂ضا اکيڈمي، بمبئي.
(۱۹) دارمي، ابن ماجه ، بحواله مشكوٰة المصابيح، باب المطلقه ثلاثا، ص:۲۸۴.
(۲۰) صحیح مسلم شریف، اول کتاب الطلاق رضا اکیڈمی،
(۲۱)    پارہ:۲، البقرة، ع:۱۳
(۲۲) فتاوىٰ فيض الرسول، ج:۲، ص:۲۸۶، ملخصاً از فقيه ملت مفتي جلاالدين احمد امجدي.
(۲۳) البقرة: ۲۳۷
(۲۴) صحيح بخاري، ج:۲، ص:۷۹۲ و صحيح مسلم، ج:۱، ص:۴۷۶، رضا اكيڈمي، بمبئي.
(۲۵) دار قطنی، ج:۴، ص:۳۱
(۲۶) حاشیة الصاوي على الجلالين، ج:۱، ص:۱
(۲۷) عمدۃ القاری شرح بخاری، ج:۲، ص:۲۳۳
(۲۸) البقرة: ۲۴۱ (۲۹)   الطلاق: ۶
٭٭٭٭٭




2014-07-24 2:18 GMT+05:30 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>:
وعلیکم السلام و رحمتہ الله و برکاتہ، 
اس بحث میں تمام محترمین نے اخلاص کا مظاہرہ کیا ہے، الله تعالی جزائے خیر دے-  اس خاکسار کے علم و مطالعہ میں ایک عرصہ یہ موضوع رہا کیونکہ ایک جان پہچان کے صاحب اور انکے اہل و عیال اس مسئلہ میں یوں الجھے کہ کبھی نکل نہ سکے، اور یہی نہیں کہ دونوں میاں بیوی کی دنیا اور آخرت داؤ پر لگ گئی بلکہ اولاد اور عزیز و اقارب بھی تکلیف کے دور سے گزرتے رہے،  پھر دین سے اور بھی دور ہوتے چلے گئے......مسئلہ اس لئے بھی پیچیدہ ہوگیا تھا کہ شوہر و بیوی دو مختلف مسلک اور مکتب فکر کے ماننے والے تھے، خاوند سنی اور زوجہ کا تعلق اہل تشیع سے تھا-  دور جدید میں جسطرح معاشرہ تغیر اور ترقی پذیر ہورہا ہے اور جس رفتار اور تعداد کے ساتھ امت کی ایک اچھی خاصی تعداد مختلف ممالک میں اس قسم کے ازدواجی بندھن میں بندھ رہی ہے، انہیں میں یہ میاں اور بیوی بھی شمار ہوتے تھے..... ایسے طبقہ میں زیادہ تر تعلیمیافتہ حضرات ہوتے ہیں جو دین کو جمعہ اور عیدین تک محدود رکھتے ہیں اور صرف طلاق کی صورت میں انہیں دین اور علمائے دین اور مفتیان کرام یاد آتے ہیں.. لیکن دین چونکہ ایسے کسی بھی حضرات کو دین سے عاق نہیں کرتا اس لئے مسئلہ کا حل تو دین کے حوالے سے ہی انہیں ملنا چاہیے، خاصکر جبکہ انہیں یہ حل ملکی قوانین اور نظام سے ملنے کے امکانات نہیں ہوتے، یا وہ خود ایسی کو ئی توقع نہیں کرتے، یا ان میں انکا مفاد نظر نہیں آتا..... خیر جو بھی ہو، اس تیز رفتار اور تغیر پذیر معاشرے کو اگر مستقبل کے وسیع پس منظر میں دیکھیں تو ایسے معاملات کا اوسط بہت زیادہ ہونے کے امکانات نظرآتے ہیں جہاں نکاح مسلکی اتحاد کا با عث نظر آئیگا اور طلاق مسلکی تصادم کا باعث بن جائیگی......اور چونکہ بنیادی ایمان اور امت کا اجمالی اعتقاد و اتحاد اس کا تقاضہ کرتا ہے کہ اس حل کو تلاش کرنے پر ضروری بحث و مباحثہ ہوں اور چو طرفہ علمائے کرام اور مفتیان کرام تک یہ مسائل پہنچنے، پھر چاہے جس کسی بھی ذرائع سے پہنچے.....ورنہ ایسے مسئلوں میں الجھے ہوئے حضرات کو نکاح اور شادی کی مسرتوں میں اور تہذیب جدیدہ کی آنکھیں خیرہ کر دینے والی روشنیوں میں تین کیا ایک  طلاق کا بھی گمان نہیں ہوتا .. یہی کثیر تعداد اس مسئلہ کا مناسب حل نہ ملنے پر مستقبل قریب میں دین و امت کو مختلف فتنوں میں مبتلا کرنے کا با عث بھی بنے گی -امت مسلمہ کی بے حد قلیل تعداد چونکہ تقوی کے معیار پر پوری اترتی ہے اور اول تو ان میں ایسے مسئلے در پیش ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن اگر مسئلہ در پیش ہو بھی جاتا ہے تو ان کے لئے دین کا ہر ایک حل قابل قبول ہوتا ہے، لیکن اول الذکر حضرات کی کثیر تعداد کے لئے بہر حال حل تو درکار ہے.... اس خاکسار طالب علم نے اسی وجہ سے پچھلی بحث میں، جو "ثنا خوان مشرق ....." عنوان کے تحت کی گئی تھی، اپنی حقیر تجویز پیش کی تھی، جو ہو سکتا ہے بحث کے مرکزی نقطہ نظر سے ہٹ کر کی گئی ہو لیکن اس تجویز سے کچھ اور یا بہتر حل سامنے نظر آ سکتے ہیں - واللہ ھو عالم بالصواب... باقی علمائے دین بہتر سمجھ سکتے ہیں.. 

خاکسار 
زبیر     









2014-07-24 0:38 GMT+05:30 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>:

السلام علیکم،
اہلیان بزم، جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ تین طلاق کے مسئلے میں ناچیز پہلے بھی تفصیل بیان کر چکا ہے۔ وہی موضوع ڈھونڈ کر پیش کر رھا ہوں دوبارہ دیکھ لیں۔
یاد رکھیں کہ تین طلاقیں خواہ ایک ہی محفل میں ہوں واقع ہو جاتی ہیں۔ اب یہ عورت اس مرد پر حرام ہے، اس حرام کو حلال کا فتوی دینے والے بھی لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور مرد تو حرام میں مبتلا ہو ہی گیا۔ جہاں تک حلالہ کی بات ہے تو حلالہ کرنے اور کروانے والے دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کہی ہے۔ اس بات کو ایسے سمجھیں کہ کہ ایک آدمی کے تین مکان ہوں اور وہ غصے میں کسی دوسرے کے نام لگا دے۔ پھر اول تو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ میرے پاس اختیار تو تین مکانوں کا تھا لیکن ایک محفل میں ایک ہی لگ سکتا ہے، معلوم نہیں طلاق مے معاملے میں یہ منطق کہاں چلی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر بعد میں رشوت دے کر یعنی حلالے کی طرح حرام کام کر کے مکان اپنے ہی نام رہنے دے یا یہ کہ کاغذ پھاڑ کے ثبوت غائب کر دے تو یہی کہا جائے گا کہ حرام کام کیا۔ پس حلالہ کرنے والے حرام کام کرتے ہیں لیکن اس سے ایک محفل کی تین طاقوں کے بعد حرام کو حلال نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ تعالٰی سب کو عقل اور سمجھ دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنھم حصوصا خلفاء اربعہ رضی اللہ عنھم کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مع السلام،
ہمایوں رشید۔
---------- Forwarded message ----------
From: مهتا ب قدر <mahta...@gmail.com>
Date: 2013-05-11 19:51 GMT+03:00
Subject: Re: {23224} جدہ میں سیمینار - طلاق آسان اور خلع مشکل کیوں؟ اسکا حل ک یا ہے؟
To: "bazme...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>


وعلیکم السلام و رحمہ جزاک اللہ خیر جناب ہمایوں صاحب آپ نے حوالوں کے ساتھ بات واضح فرمادی ، جیسا کہ  پہلے عرض کر چکا ہوں یہ میرا مسئلہ نہیں علما کا میدان ہے آپ نے تفصیلات درج فرماکر علما سے مزید تحقیق کو آسان فرمادیا۔ ویسے ایک بات عمومی طور پر اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بھائی تم گولیاں تو تین چلاو اوت گنو ایک کیا کرشمہ ہے ایک گولی کے بجائے تین داغ دیں اور کہتے ہو کہ ایک ہی لگی ۔ جزاک اللہ خیر

  مہتاب قدر
Mahtab Qadr
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا  اصلی   وطن   مدینہ    ہے


2013/5/11 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
السلام علیکم
مخلص صاحب نے ٹھیک فرمایا کہ اِس میں دو مکتبہ فکر ہیں۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایک ہی مجلس کی تین طلاق سے تین واقع ہو جاتی ہیں اور اہل تشیع کے ھاں ایک ہی ہوتی ہے۔ علماء نے اِس فرق کی تصریح کی ہے‘ یہاں ایک حوالہ پیش ہے۔ مشہور عالم اور فقیہ شمس الأئمة محمد بن أحمد السرخسي (وفات ٤٩٠ ھ) نے اپنی کتاب المبسوط میں اِس کی تصریح کی ہے؛
وهذه المسألة مختلف فيها بيننا وبين الشيعة على فصلين ( أحدهما ) ۔۔۔ ( والثاني ) أنه إذا طلقها ثلاثا جملة يقع ثلاثا عندنا والزيدية من الشيعة يقولون تقع واحدة والإمامية يقولون لا يقع شيء ويزعمون أنه قول علي كرم الله وجهه۔  باب الرد على من قال إذا طلق لغير السنة لا يقع۔
اور اِس مسئلے (یعنی طلاق دینے کے طریقے) میں ہمارے اور شیعہ کے درمیان اختلاف ہے (پہلا اختلاف) ۔۔۔ (دوسرا) یہ کہ اگر ایک ہی لفظ یا جملے میں تین طلاقیں دے دِیں تو ہمارے ھاں تو تین ہی ہوئیں‘ اور زیدی شیعہ کے ھاں ایک ہی ہوئی اور اِمامیہ (اِثنا عَشَری) کے ھاں طلاق ہی نہیں ہوئی (شائد اِس لئے کہ گناہ کا کام کیا اور گناہ پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا واللہ اعلم) اور گمان کرتے ہیں کہ یہ علی کرم اللہ وجہہ کا کہنا ہے۔

میرا مقصد کسی مسلکی بحث کو شروع کرنا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی بات یہاں کرنی ہی نہیں چاہئے‘ لیکن جب کسی نے بات کر دی تو اِسے واضح کرنا ضروری ہے کیونکہ التباس ہو رھا ہے۔ اُمید ہے کہ حضرات آئندہ ایسی بات نہیں کریں گے جس میں تفصیل ہو۔ یہ فورم فقہی بحث کیلئے نہیں بنا‘ اِس لئے اہل سنت والجماعت کے مختلف ادوار میں دئیے گئے فتاوی میں سے چند پیش خدمت ہیں تاکہ کسی کو شک اور شبہ نہ رہے‘ باقی تفصیل کسی عالم کے پاس جا کر پوچھی جا سکتی ہے۔ میں بار بار اہل سنت والجماعت کا نام اِس لئے لے رھا ہوں کہ حرام حال کا مسئلہ ہے کسی کو دھوکہ نہ ہو کہ کس بارے میں بات کر رھا ہوں۔

امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ أبو بكر عبد الرزاق الصنعاني‘ ولادت ١٢٦ ھ‘ نے اپنی مصنف میں باب باندھا ہے “باب المطلق ثلاثا“ اور صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین (جو کہ سنت اور حلال حرام کو ہم سے زیادہ جاننے والے تھے) کے فتاوی ذکر کئے۔
عن معمر عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال جاء رجل إلى ابن مسعود فقال إني طلقت امرأتي تسعة وتسعين وإني سألت فقيل لي قد بانت مني فقال ابن مسعود لقد أحبوا أن يفرقوا بينك وبينها قال فما تقول رحمك الله فظن أنه سيرخص له فقال  ثلاث تبينها منك وسائرها عدوان۔ عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال من طلق امرأته ثلاثا طلقت وعصى ربه۔ عن معمر قال أخبرني ابن طاوس عن أبيه قال كان ابن عباس إذا سئل عن رجل يطلق امرأته ثلاثا قال لو اتقيت الله جعل لك مخرجا، ولا يزيده على ذلك۔ عن معمر عن أيوب عن مجاهد قال سئل ابن عباس عن رجل طلق امرأته عدد النجوم قال إنما يكفيه من ذلك رأس الجوزاء۔ عن ابن جريج قال أخبرني عبد الحميد بن رافع عن عطاء بعد وفاته أن رجلا قال لابن عباس رجل طلق امرأته مئة فقال ابن عباس يأخذ من ذلك ثلاثا ويدع سبعا وتسعين۔ عن ابن جريج قال قال مجاهد عن ابن عباس قال قال له رجل يا أبا عباس طلقت امرأتي ثلاثا فقال ابن عباس يا أبا عباس يطلق أحدكم فيستحمق، ثم يقول يا أبا عباس عصيت ربك وفارقت امرأتك۔ عن الثوري عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير قال جاء ابن عباس رجل فقال طلقت امرأتي ألفا، فقال ابن عباس ثلاث تحرمها عليك وبقيتها عليك وزرا اتخذت آيات الله هزوا۔
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو ننانوے طلاقیں دے دی ہیں‘ میں نے (لوگوں سے) پوچھا تو کہتے ہیں کہ وہ علیحدہ ہو گئی‘ ابن مسعود نے کہا کہ لوگ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ تُم میں اور اُس میں علیحدگی ہو جائے‘ (اُس آدمی نے) کہا آپ پر اللہ رحم کرے آپ کیا کہتے ہیں؟ پس اُس نے گمان کیا کہ شائد ابن مسعود کوئی آسانی کا راستہ نکالیں گے (مثلا یہی کہ ایک مجلس میں دی گئی ساری ایک ہیں) پس کہا (ابن مسعود نے) تین سے وہ علیحدہ ہو گئی باقی تو تم نے دشمنی کی ہے (اللہ کے حکم سے کہ تمہیں تین سے زیادہ کا اختیار ہی نہیں تھا اور فائدہ بھی نہیں تھا)۔ ابن عمر رضی اللہ کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو طلاق ہو گئی لیکن اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی (کیونکہ ایک دینی چاہئے تھی)۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میرے والد نے بتایا کہ جب ابن عباس سے پوچھا جاتا کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو کہتے اگر تقوی اختیار کرتا تو اللہ رستہ بھی دکھا دیتا (کیونکہ ایک طلاق کے بعد رجوع ہو سکتا ہے تین کے بعد نہیں‘ بس خود رستہ بند کیا)‘ اور اِس سے زائد کچھ نہ کہتے۔ مجاھد کہتے ہیں کہ ابن عباس سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ اُس نے اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دیں‘ تو ابن عباس نے جواب دیا اُسے تو جوزا کا سر ہی کافی تھا (یعنی ستاروں کے ایک خاص جھرمٹ کے سرے پر موجود تین ستارے)۔ عطاء کہتے ہیں کہ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں‘ تو کہنے لگے تین تو اِس کی ہیں باقی ستانوے کو چھوڑ دے۔ مجاھد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابو عباس میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں‘ پس کہا ابن عباس نے (خود کلامی کرتے ہوئے) اے ابو عباس ایک آدمی طلاق کی حماقت کرتا ہے پھر کہتا ہے اے ابو عباس‘ (پھر آدمی کی طرف جواب دیا) تُو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے علیحدہ ہو گئی۔ سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ابن عباس کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دی ہیں‘ کہا ابن عباس نے کہ وہ تو تین سے ہی تجھ پر حرام ہو گئی باقی تُم پر بھار ہیں (کیونکہ) تو نے اللہ کی بات کا مذاق اُڑایا (یعنی زیادہ سے زیادہ تو تین تھیں تم نے ہزار کیوں دِیں)۔

پس معلوم ہوا کہ لوگ ایک ہی بار طلاق دے کر آتے اور فتوی لیتے تو اُنہیں یہی کہا جاتا کہ تین سے کام ہو گیا۔ اگر ایک محفل کی شرط ہوتی تو ضرور کہتے کہ بھئی پریشان کیوں ہو ایک ہی محفل میں دی ہے تو ایک ہی ہوئی رجوع کر لو۔

أبو الوليد محمد بن أحمد بن رشد المالکی‘ ولادت ٥٢٠ ھ‘ کسی تعارف کے محتاج نہیں‘ خلافت کے قاضی القضاة تھے اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک پر اپنے دور کے سب سے بڑے عالم تھے‘ اور آج بھی اگر تقابل مذاھب پر بات ہوتی ہے تو اِن کی بات کو مانا جاتا ہے۔ اپنی کتاب “بداية المجتهد“ جو کہ صرف اِس لئے لکھی کہ فقہاء کے اختلافات کو ذکر کریں‘ صاف لکھتے ہیں؛
جمهور فقهاء الأمصار على أن الطلاق بلفظ الثلاث حكمه حكم الطلقة الثالثة۔ الباب الأول في معرفة الطلاق البائن والرجعي۔
تمام شہروں کے فقہاء کا کہنا ہے کہ ایک لفظ میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔

موفق الدين ابن قدامة المقدسي الحنبلي‘ ولادت ٥٤١ ھ‘ جو کہ فقہ حنبلی میں سند مانے جاتے ہیں۔ اپنی کتاب “المغني “ جو کہ انہوں نے فقہاء کے مسالک بیان کرنے اور تقابل کیلئے لکھی‘ میں فرماتے ہیں؛
وإن طلق ثلاثا بكلمة واحدة  وقع الثلاث وحرمت عليه حتى تنكح زوجا غيره ولا فرق بين قبل الدخول وبعده روي ذلك عن ابن عباس وأبي هريرة وابن عمر وعبد الله بن عمرو وابن مسعود وأنس وهو قول أكثر أهل العلم من التابعين والأئمة بعدهم۔ فصل طلق ثلاثا بكلمة واحدة۔
اگر ایک ہی کلمہ سے تین طلاقیں دے دیں تو تین واقع ہو گئیں اور عورت اِس پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح کر لے (اور وہ شوہر بھی فوت ہو جائے یا طلاق دے دے) اور فرق نہیں ہے کہ طلاق رخصتی سے پہلے دی یا بعد۔ یہی روایت کیا گیا ہے ابن عباس‘ ابو ھریرہ‘ ابن عمر‘ ابن عمرو‘ ابن مسعود اور انس رضی اللہ عنھم سے‘ اور یہی کہنا ہے اکثر تابعین اور آئمہ کا۔

علي بن سليمان المرداوي الدمشقي الحنبلي‘ ولادت ٨١٧ ھ‘ اپنی کتاب “الإنصاف“ میں جو کہ فقہاء کے اختلافات لکھنے کیلئے تحریر کی گئی فرماتے ہیں؛
وإن طلقها ثلاثا مجموعة قبل رجعة واحدة طلقت ثلاثا وإن لم ينوها على الصحيح من المذهب نص عليه مرارا وعليه الأصحاب بل الأئمة الأربعة وأصحابهم في الجملة۔ باب سنة الطلاق وبدعته۔
اور اگر تین طلاقیں دے دیں اکٹھی پہلی سے رجوع کئے بغیر تو تین ہی ہو گئیں اگرچہ نیت نہ کی ہو‘ یہی ہمارے مسلک (حنبلی) کا صحیح ترین قول ہے‘ اور اِس پر دلیل کئی بار گزر چکی‘ اور اِسی پر قائم ہیں اصحاب بلکہ چاروں آئمہ بالجملہ۔

جلال الدين السيوطي الشافعی‘ ولادت ٩١١ ھ‘ جو کہ کسی تعارف کے محتاج نہیں “الحاوي للفتاوي“ میں ایک مسئلے میں فرماتے ہیں؛
مسألة: رجل طلق امرأته واحدة ثم خرج من عندها فلقيه شخص فقال ما فعلت بزوجتك؟ قال طلقتها سبعين فهل يقع عليه الثلاث؟ الجواب: نعم يقع عليه الثلاث مؤاخذة بإقراره۔ كتاب الصداق - باب الطلاق - مسائل متفرقة۔
مسئلہ؛ آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی پھر گھر سے نکلا اور رستے میں ایک آدمی ملا‘ پوچھا اپنی بیوی سے کیا کیا؟ اس نے کہا ستر طلاقیں دے دیں‘ پس کیا تین طلاقیں ہو گئیں؟ جواب؛ جی ھاں اُس پر تین ہو گئیں اُس کے اپنے اقرار کی وجہ سے۔ 

زين الدين أبو السَّعادات منصور بن يونس البهوتي المصری‘ ولادت ١٠٠٠ ھ‘ زیادہ پرانے نہیں ہیں‘ اپنی کتاب “كشاف القناع“ میں فرماتے ہیں؛
( وإن طلقها ) أي طلق رجل زوجته ( ثلاثا بكلمة ) حرمت نصا ووقعت ويروى ذلك عن عمر وعلي وابن مسعود وابن عباس وابن عمر۔ باب سنة الطلاق وبدعته۔
(اور اگر اُسے طلاق دی) یعنی آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی (تین ایک ہی کلمے سے) تو عورت حرام ہو گئی واضح دلیل کی وجہ سے‘ اور یہی مروی ہے عمر‘ علی‘ ابن مسعود‘ ابن عباس اور ابن عمر سے۔


اوپر مذکور حوالے جان بوجھ کر مختلف مکتبہ ھائے فکر سے لئے گئے حنفی‘ حنبلی‘ مالکی اور شافعی تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ کسی ایک مسلک کا کہنا ہے۔
اور اجماع کسے کہیں گے جبکہ باہمی سیکڑوں اختلافات کے باوجود تمام لوگ اِس مسئلے میں ایک ہی بات کر رہے ہیں۔

جہاں تک لفظی استدلال کی بات ہے تو بڑی عجیب بات کی موصوف نے کہ تین کو ایک مان لیا جائے‘ گویا ایک محفل میں دئیے گئے تین روپے ایک ہو گئے‘ ایک محل میں مارے گئے تین جوتے ایک ہو گئے‘ سبحان اللہ۔

جہاں تک قرآن اور حدیث سے استدلال کا تعلق ہے کہ اہل سنت والجماعت اور شیعہ میں اختلاف کیوں‘ یا بعض اوقات اہل سنت والجماعت کے ہی کسی عالم نے جمہور امت کے خلاف غلطی سے فتوی دیا‘ تو اس کیلئے کسی عالم کے پاس جا کر تفصیل سے بات کرنی چاہئے۔ یہ جگہ اِس کام کیلئے موزوں نہیں ہے‘ بس اِتنا جان لیں کہ اگر آپ کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے تو ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوں گی‘ بیوی آپ پر حرام ہو گئی‘ حلالہ کرنا حرام ہے‘ پہلے ہوش میں رہنا تھا۔
باقی مسالک کے لوگ اپنے اعتماد کے دانشوروں سے پوچھ کر عمل کریں۔

مع السلام
ہمایوں رشید۔


2013/5/11 Syed Raheem <syedrah...@gmail.com>

بات اختلاف کی بھی ہے اور استدلال کی بھی اور یہ مسئلہ یعنی تین طلاق کا ایک شمار کرنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ چند برسوں پہلے وجود میں آیا بلکہ یہ سلسلہ صحابہ کے دور تک دراز ہیں اور فریقین کی اپنے اپنے دلائل ہیں مندرجہ ذیل لنک دیکھئے سعودی عرب کی اسلامی تحقیقی ادارے نے اس پر کافی مدلل بحث کی ہے اور فریقین کے استدلال اور جواب استدلال کا احاطہ کیا ہے  ملاحظہ ہو مجلۃ البحوث الاسلامیۃ العدد الثالث (یہ بحث عربی میں ہے اور اس کا کچھ حصہ دار العلوم دیوبند سے اردو میں نشر ہوا ہے

http://www.alifta.net/Fatawa/FatawaChapters.aspx?View=Tree&NodeID=498&PageNo=1&BookID=2

 

 

سید رحیم عمری

 


From: BAZMe...@googlegroups.com [mailto:BAZMe...@googlegroups.com] On Behalf Of aapka Mukhlis
Sent: 10 May 2013 21:33
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: Re: {23186}
جدہ میں سیمینار - طلاق آسان اور خلع مشکل کیوں؟ اسکا حل کیا ہے؟

 

عورتوں کے مزاج کی وجہ سے خلع کا طریقہ مشکل رکھا گیا ہے

کیونکہ عورتیں بہت جذباتی ہوتی ہیں

بہت جلد بے انتہا غصے میں آجاتی ہیں

اسی وجہ سے جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی کہ

اگر شوہر ہمیشہ اس کی خواہشات پوری کرتا رہے

لیکن اگر ایک بار نہ کرے تو عورت یہ کہتی ہے کہ میں نے تجھ سے کبھی خوشی نہیں پائی

اگر خلع بھی اس طرح آسان ہوتی تو نصف سے زیادہ شادیاں ٹوٹ چکی ہوتیں

رہی طلاق کی بات

تو وہ بھی اتنی آسان نہیں ہے

لیکن اس میں فقہی اختلاف پایا جاتا ہے

ایک مکتب فکرایک ہی مجلس میں تین بار طلاق کہ دینے کو تین حتمی طلاق مانتا ہے

ا  یک مکتب فکر کے مطابق شرعی طور پر بھی اور زبان کے اصولوں کے مطابق بھی اور منطقی طور پر یہ ایک ہی طلاق نافذ ہوتی ہے

چاہے ایک مجلس میں کتنی بار بھی کہا جائے

کہ تین بار کہنے کے باوجود بھی عملی طور پر تو ایک ہی بار چھوڑا ہے۔

 


From: Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Friday, May 10, 2013 12:46 AM
Subject: Re: {23160}
جدہ میں سیمینار - طلاق آسان اور خلع مشکل کیوں؟ اسکا حل کیا ہے؟

 

Humayun Sb

YahaaN naam nihaad aa'lim ki baat ho rahi hai

jo foran talaaq naafiz honay kaa fatwaa de deta

hai , phir paisay le kar Halaalaa karta hai.Keya

aap aiesoN ko durust samajhtay haiN?Wassalam.

 

2013/5/9 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

پهول ضاحب، بات یہ ہے کہ جب فورمز پہ مسئلہ بیان کرنے کی بجائے علماء اور فقہاء کو برا بهلا کہا جائے گا تو تو یہی نتیجه نکلے گا کہ نہ طلاق کی شناعت معلوم ہو گی نہ حلالے کی حرمت. اور یہ اللہ کا عذاب ہے کہ لوگ برے کاموں میں پڑ جائیں اور سمجهانے والوں کو بهی برا بهلا کہتے رہیں.مع السلام. ہمایوں.

Sent from Gmail on Galaxy Note 10.1

On May 9, 2013 11:03 PM, "Tanwir Phool" <tan...@gmail.com> wrote:

محترم  علیم فلکی صاحب

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

یہ ہمارے فقہا کا کرشمہ ہے کہ طلاق کا عمل آسان

نظر آتا ہے  ورنہ سورہ طلاق اور سورہ بقرہ میں

تفصیل موجود ہے شرط یہ ہے کہ ہم اندھی تقلید سے

گریز کریں طلاق کو آسان بنانے کے بعد اس کا حل

نکالنے کے لئے حلالہ کا جو طریقہ اپنایا جاتا ہے

وہ ناجائز ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے

 

2013/5/9 Jawed Akhtar <jawe...@gmail.com>

محترمی ! تسلیم 

آپنے بھت اچھا موصوع اٹھا یا ھے ۔ مبارکباد

 

جاوید اختر

دھلی

 

2013/5/9 aleem khan <aleem...@yahoo.com>

السلام علیکم

 مسلمان معاشرے میں آج طلاق جتنی آسان ہوگئی ہے خلع اتنی ہی مشکل ہوگئی ہے ۔ اگرچہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق دیئے ہیں لیکن اسلامی قانون کی پدر شاہی تعبیر نے  آج عورت کو بغاوت پر مجبور کردیا ہے۔ صحیح اسلامی تعلیمات، مسلم پرسنل لا اور ہندوستانی دستور کی روشنی میں ایک اہم گفتگو میں شرکت کی درخواست ہے۔ 

 

 

 

Seminar Organized by SocioReforms Society, on

 

   Why Talaq easy and Khula impossible

    in Muslim Society? What is the solution?

 

Speakers: Advocate Osman Shaheed

Prosecutor General AP High Court and 

Aleem Khan Falaki

 

Friday, 10th May, 2pm Imdtly after Friday prayer

             At: Shadaab Hall, Azizia, Jeddah

 

Ladies are most welcome as the issues to be discussed are mostly concerned with the the women. Ladies are requested to avoid bringing the children below 10 years. 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "
بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "
بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "
بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "
بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "
بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

--
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM
 
www.urduaudio.com
 
http://hudafoundation.org/


--
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM
 
www.urduaudio.com
 
http://hudafoundation.org/

Sabir Rahbar

unread,
Jul 24, 2014, 7:23:42 AM7/24/14
to BAZMe...@googlegroups.com
shukriya


Sulaiman D.

unread,
Jul 26, 2014, 7:45:42 AM7/26/14
to bazme...@googlegroups.com
ASSALAM ALAIKUM SABIR SAHAB, JAZAKUM ALLAH KHAIR, IT IS A NO DOUBT IT IS VERY GOOD INFORMATIVE ARTICLE, BUT I WOULD LIKE TO ASK THAT IN THE SECOND "TALLAQ HASSAN " YOU MENTIONED ABOUT "HALALA" IS IT AUTHENTIC IN ISLAM? PLEASE DO ANSWER WITH SOLID PROOF FROM QURAN AND HADEETH, 



Date: Thu, 24 Jul 2014 16:53:24 +0530
Subject: Re: [بزم قلم:37396] ایک محفل کی تین طلاق
From: sabirr...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Sabir Rahbar

unread,
Jul 27, 2014, 6:33:46 AM7/27/14
to BAZMe...@googlegroups.com
 اسلا م کا دستور طلاق ایک تجزیاتی مطالعہ
                                             محمد صا بر رضارہبرؔ مصباحی
 اللہ عز وجل نے مرد وعورت کی تخلیق فرمائی پھر ان کے درمیان الفت ومحبت قائم   کرنے کے لیے فطرت سے ہم آہنگ نکاح وطلاق کا ایک جامع دستور دیا تاکہ وہ دائرۂ انسانیت میں رہ کر ایک دوسرے کو تسکین کا سامان بہم پہونچائیں ، اس طرح وہ نکاح کے مقدس رشتے سے منسلک ہو کر نسل انسانی کی بقاکی ضامن بنے رہیں۔ اگر وہ دونوں یا ان میںسے کوئی ایک نکاح سے آزاد ہونا چاہے تو پھر طلاق کے ذریعہ معا شر تی حیات کے چین وسکون کو درہم برہم کئے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہوجائے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سماج میں نکاح وطلاق کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیوںکہ جس طرح سے مردوزن کے مابین قلبی سکون کے رشتے استوار کرنے کے لیے نظام نکاح پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک گھریلو اورسماجی امن وامان کو غارت ہونے سے بچانے کے لیے طلاق کی ضرورت پڑتی ہے۔معاشرہ سے اگر طلاق کے احکام اٹھالیے جائیں تو بہت سے افراد کی عائلی زندگی جہنم کی صورت اختیار کرجائے گی اور بہت سے آباد گھر چشم زدن میں تباہی وبربادی عبرت انگیز نمونہ پیش کرتا ہوا نظر آنے لگیں گے ۔
اسلام کا نظریہ طلاق: اسلام نے اپنے ماننے والوں کو طلاق کا راستہ دیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مرد جب چاہے غیر معمولی باتوں پرعورت کو طلاق دے کر اس کی ز ندگی سے کھلواڑ کرے یاپھر عورت محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق کا مطالبہ کر ے بلکہ اس کے لیے اس نے ایک ضابطہ اوراصول متعین کیا ہے۔ کیوں کہ اسلام کے نظریہ ٔ طلاق کا مقصد کسی گھر کو اجاڑنا نہیں، بسانا ہے۔ معمولی باتوں کی وجہ سے طلاق دینے والا شخص اسلام کی نظر میں برااورگنہگار ہے اور یونہی بلا وجہ طلاق طلب کرنے والی عورت بھی، حدیث شریف میں ہے’’ عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ ان اعظم الذنوب عند اللّٰہ رجل تفرج امراۃ فلما قضی حاجتہ منہا وذہب بمہر ہا‘‘(۱)
 حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کرے اور پھر جب اپنی ضرورت پوری کرلے تو اسے طلاق دیدے اور اس کا مہر بھی ادانہ کرے۔’’وعن ثوبان رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ ﷺ قال ایّماامراۃ سألت زوجہا طلاقا من غیر باس فحرام علیہا مرائحۃ الجنۃ ‘‘(۲)
یعنی جو عورت بلا وجہ اپنے شوہرسے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
واضح ہوکہ طلا ق حلال ہونے کے باوجود اسلام میں ناپسند یدہ عمل ہے ، حدیث شریف میں ہے ’’عن محارب قال قال رسول اللّٰہ ﷺ ما احل اللّٰہ شیئا ابغض الیہ من طلاق‘‘ (۳)
 یعنی اللہ نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے ان میں طلاق اللہ کے نزدیک سب سے ز یادہ نا پسندیدہ ہے۔
طلاق کی ضرورت واہمیت:معاشرہ میں امن وسکون قائم کرنے میں جس طرح سے نکاح کا اہم رول ہے اسی طرح سماج میں چین وسکون کی فضاہمو ار کرنے میں  کبھی کبھی طلاق کابھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شادی کے بعد زوجین کے مابین مزاج کی عدم موافقت یا پھر دیگر وجوہات کی بنا پرگھر میں جنگ کا ساماحول پیدا ہوجاتاہے اور کبھی کبھی اس جنگ کو سرد کرنے میں گفت وشنید اور افہمام وتفہیم کے ہر حربے ناکام ہوجاتے ہیں،نوبت یہاں تک پہونچ جاتی ہے کہ بجائے اس کے کہ دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے بعد الفت ومحبت کا مظاہرہ کرے ، نفرت وعداوت اور بیزاری کااظہار کرنے لگتے ہیں،ایسی ناگوار صورتحال میں وہ دونوں اپنی زندگی کو پُر لطف بنانے کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں خوشگوار زندگی دے سکے۔ چنانچہ اس وقت ’’طلاق‘‘ کی ضرورت واہمیت کا احساس بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے تاکہ بھلائی کے ساتھ طلاق کے ذریعہ ان دونوں کو علیحدہ کرکے نفرت وبیزاری کی جنگ کاخاتمہ کردیا جائے ۔گویا اسلام کا نظریہ طلاق بھی انسان کوآپسی شورہ پستی سے بچانے کی ایک انمو ل کوشش ہے۔
طلاق کب د یا جائے اور کیوں :قرآن مقدس میں ہے’’وَعاَشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِہْتُمُوْ ہُنَّ فَعٰسٓی اَنْ تَکْرَہُوْاشَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْراً کَثِیْرًا‘‘ (۴)
یعنی اپنی بیبیوں کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک کے ساتھ رہو اور اگر تم کو وہ ناپسندہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو کوئی چیز ناپسند ہو اور اللہ تعالی اس میں بہت ہی بھلائی پیدا کردے۔ 
یعنی اگر مرد کو بیوی پسند نہ ہو یا اس کی کوئی ادا نا پسندہو تو وہ پہلے اسے سدھارنے کی کوشش کرے۔اس کے لیے وہ افہام وتفہیم کی راہ اپنائے، اگر وہ اپنی بری عادت سے باز نہ آئے تواس سے اپنا بستر الگ کرلے ،پھر بھی وہ نہ مانے تواس کو سزادے۔ اگر اس کے باوجود وہ نہ سنبھلے تو اس کے میکے والے  اسے سمجھائے یعنی ان کے درمیان رشتہ زوجیت برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔اگردونوں کے مابین تلخی زیادہ بڑھ جائے توفریقین اس کوسلجھانے کی کوشش کریں ۔قرآن مقدس میں ہے ’’وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِماَ فَابْعَثُوْاحَکَمًا مِّنْ اَہِلِہٖ وَحَکَمًامِّنْ اَھِلِہَااِنْ یُّرِیْدَ آ اِصْلَاحاًیُّوََفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَااِنَّ اللّٰہَ کاَنَ عِلِیْمًاخَبِیْراً‘‘(۵)
یعنی اگر تمہیں میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہوتوایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجواورایک پنچ عورت والوں کی طرف سے ۔یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تواللہ ان میں میل کرادے گا بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
طلاق کا معنی: طلاق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے عورت کا قید نکاح سے آزاد ہونا۔(۶)
طلاق کی تعریف  :اصطلاح شرع میں مخصوص الفاظ کے ذریعہ فورا یا کچھ دیر بعد نکاح کو ختم کردینے کا نام ’’طلاق‘‘ہے۔ خواہ ان الفاظ مخصوصہ کا استعمال شوہر خود کرے یا اس کا وکیل یا قاضی شرع ،واضح رہے کہ بعض حالات میں قاضی شرع کو اس کا حق حاصل ہے ۔ (۷)
طلاق کے اقسام : طلاق کی تین قسمیں ہیں :(۱)طلاق احسن (۲)طلاق حسن(۳)طلاق بدعی 
ان میں سے او ل الذکر دونوں اسلام کے نزدیک بہتر ہے جبکہ آخرالذکر صورت ناپسند ہے اور قبیح ہے۔
  طلاق احسن: یہ  ہے کہ عورت کو اس کے پاکی کے دنوں میں ( یعنی جس ایام میں ماہواری نہ آئے) اس سے صحبت کئے بغیر ایک طلاق دینا۔ اس میں مرد کو رجوع کا اختیار رہتا ہے اور عدت کے اندر بلا نکاح صرف یہ کہہ کر کہ ہم نے رجوع کیا یا بیوی کو بوسہ لے لے تو رجعت ثابت ہو جائے گی۔ اس کو طلاق رجعی کہتے ہیں۔
 طلاق حسن:یہ ہے کہ عورت کو اس کے پاکی کے دنوں میں بلا مقاربت ا یک طلاق دینا پھر عدت گزرنے کے بعد دوسرے طہر میں ایک، پھر تیسرے طہر میں ایک طلاق دینا اگر شوہر دوطلاق دے کر رجوع کرنا چاہے تو نکاح کے ذریعہ عدت کے اندر لوٹا سکتا ہے ورنہ تیسری طلاق کے بعد اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور وہ اس کے لیے حلال نہ ہو گی۔ پہلی صورت کو طلاق بائن کہتے ہیں(یعنی دوطلاق والی صورت میں) اور دوسری صورت کو طلاق مغلظہ(تین طلاق والی صورت میں)
  طلاق بدعی: یہ ہے کہ مرد عورت کو اس کے ماہواری کے دنوں میں ا یک یا اس سے زائد طلاق دے،یہ طریقہ اسلام کے نزدیک صحیح نہیں ہے ۔
اگر کسی نے اس فعل کا ارتکاب کرلیا تو اس پررجعت واجب ہے ، لیکن ان ایّام میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی اور دینے والا گنہ گار ہوگا’’ عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ انہ طلق امراتہ وہی حائض فی عہد رسول اللّٰہ ﷺ فسال عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ رسول اللّٰہ ﷺ عن ذالک فقال لہ رسول اللّٰہ ﷺ مرہ فلیراجعہا ثم لیترکہا حتی تطہرثم تحیض ثم تطہر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس فتلک العدۃ التی امر اللّٰہ ان یطلق لہا النسائ‘‘ (۸)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر بن الخطاب نے اس بارے میں رسول اللہ  ﷺ سے دریافت کیا تو آپ  ﷺ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے۔ پھر اسے چھوڑ دے یہاںتک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے۔ پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو جائے، اب وہ صحبت کئے بغیر چاہے تو روک رکھے ،چاہے تو طلاق دے دے کہ اور طلاق دینے کا یہی وقت ہے جس میں اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
حلالہ اوراس کی صورت :اگر کسی نے اپنی بیوی کوایک بار میں یا چند بار میں تین طلاق دینے کے بعدوہ دونوں غور وفکر اور سوچ وبچارکر کے مصالحت کر نے اور ایک ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ وہ عورت پہلے کسی دوسرے سے نکاح کر ے پھر وہ مرد اس کو طلاق دے اس کے بعد وہ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ اسلام میں اس طریقے کو’’ حلالہ ‘‘کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے’’ فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہٗ فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ جُناَحَ عَلَیْہِمَآاَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآاَنْ یُّقِیْمَاحُدُوْدَ اللّٰہِ ‘‘(۹)
پھر اگر تیسری مرتبہ طلاق دی تو وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک نکاح کرکے دوسرے کے پاس نہ رہے پھر وہ دوسرا شوہر اگر طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ دوبارہ نکاح کریں اگر دونوں سمجھتے ہیںکہ اللہ کی حدیں نباہ سکیںگے۔
واضح ہو کہ شوہر ثانی محض نکاح کرکے طلاق نہ دے بلکہ وہ اس کے سا تھ جماع بھی کرے۔ اگر کسی نے بلا جماع طلاق دے دی تو وہ عورت شوہر اول کے لیے حلال نہ ہوگی۔
کچھ نا عا قبت اندیش لوگ اسلام کے اس قانون پربھی انگلی اٹھا تے ہیں جب کہ اسلام کا اس سے مقصد طلاق کی بڑھتی شرح کو روکنا ہے اور یہ سزا کے طور پر مرد کی غیرت کو چیلنج ہے تاکہ وہ تین طلاق دینے سے پہلے خوب غور وفکر کر لے ۔ حدیث پاک میں ہے’’ عن عائشۃ ان رجلا طلق امراتہ ثلاثا۔ فتزوجت فطلق۔ فسئل النبی ﷺ أ تحل للاول قال ’’لا‘‘ حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول‘‘(۱۰)
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ  ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدیا پھر وہ عورت دوسرے سے نکاح کی اور اس نے بھی طلاق دیدی،تو کیا وہ شوہر اول کے لئے حلال ہوگی ؟ تو آپ  ﷺ نے فرمایا ’’نہیں‘‘ جب تک اس کے شہد کا مزہ دوسرا نہ چکھ لے۔ جیسا کہ پہلا شوہر چکھا ہے۔(یعنی جماع نہ کرے) 
اسلام نے جوعورت کوفرد افردا ہر طہر میں طلاق دینے اور دورا ن عدت بیوی کو اپنے پاس رکھنے اوراس کو نان ونفقہ دینے کا حکم دیاہے اس میں بہت بڑا حکمت مضمر ہے اور وہ راز سربستہ یہ ہے کہ ان کے درمیان کسی بھی طرح پھرسے میل ومحبت ہو جائے اور وہ دونوں رشتہ ٹوٹنے کے آخری مرحلے میں بھی ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جائے۔ کیوںکہ اس طویل وقفے میںان دونوں کو ماضی کی باتوں پر سوچنے اور غور وفکر کرنے کا کافی مواقع میسرآتے ہیں، ہو سکتا ہے مرد جس وجہ سے طلاق دی ہو وہ ختم ہو جائے یا اس کی ناپسند عادت پسند آجائے ،یا لوگوں کے سمجھانے سے دونوں راضی ہو جائیں یا عورت کی کوئی بات یا عادت اس کو اپنی جانب مائل کرلے اور یہ سب چیزیں اسی وقت وجود پذیر ہوںگی جب دونوں ایک ساتھ رہیں گے۔ یوں ہی کہا گیا ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کو اپنے ساتھ رکھو۔ کیوں کہ کبھی کبھی بچے کی محبت بہت سے بگڑتے رشتے کو سنوار دیتی ہے۔ ممکن ہے کہ مرد بچے کی وجہ سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ واضح رہے کہ طلاق کے بعد بچہ جب تک عورت دوسری شادی نہ کرلے اس کے پاس رہے گی مگر مردکو اس سے ملنے جلنے کا اختیا ر رہے گا اگر دونوں بچہ کو اپنے ساتھ رکھنے پر بضد ہو ںتو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا جائے گا اور ہاں! اگر بچہ عاقل و بالغ ہے یا ذی شعور ہے تو فیصلہ وہ خود کرے گا کہ ہمیں والدین میں سے کس کے پاس رہنا ہے اور اسی کا فیصلہ حرف آخر تصورکیا جائے گا ۔
وقوع طلاق کے شرائط:طلاق واقع ہونے کی چند شرطیں ہیں:(۱) طلاق دینے والاعاقل وبالغ ہو۔جیسا کہ فرمایا گیا’’ ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل‘‘  (۱۱)
(۲) طلاق دینے والا ہوش وحواس میں ہو اور بیداری کی حالت میں طلاق دے رہا ہو۔اسلام میں بچہ، مجنوں، معتوہ ، سرسامی کیفیت میں مبتلا، بے ہوش اور نیند کی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہے۔ ایسے حالات میں دی گئی طلاق واقع نہ ہوگی’’ لا یقع طلاق المجنوں والصبی والمعتوہ والمبرسم والمغمی علیہ والمد ہو ش والنائم‘‘(۱۲)
(۳) نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی  (۱۳)
(۴) اگر کسی نے بھول کر یا جان بوجھ کر کوئی ایسی چیز استعمال کرلی جو نشے والی نہیں تھی، مگر مزا ج کی عدم موافقت کی وجہ سے استعمال کے بعد اس پر نشہ طاری ہو گیا اور اسی حالت میں اس نے طلاق دیدی تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ (۱۴)
(۵) ہنسی، مذاق، اور سنجیدگی میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی’’ عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال۔ قال رسول اللّٰہ ﷺ ثلاث جدّہن جدّوہز لہنّ جدّا لنکاح ، والطلاق، والرجعۃ‘‘ (۱۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ تین چیزیں مثلاً سنجیدگی، ہنسی، مذاق میں کہی گئی بات واقع ہوجاتی ہے۔ پہلی نکاح،دوسری طلاق، تیسری چیز رجعت۔
 (۶) غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی۔ ہاں اگر غصہ اس قدر ہوکہ ہوش وہواس باقی نہ رہے اور بوقت طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ اس حال میں دی گئی طلاق واقع نہ ہوگی۔(۱۶)
(۷) طلاق کے لیے استعمال کے گئے جملے کی نسبت صراحۃً یا کنایۃً بیوی کی طرف ہو (۱۷)
( ۸) طلاق لکھ کر دینے یا طلاق نامہ پر مضمون سننے کے بعد دستخط کر د ینے سے طلاق واقع ہوجائے گی۔(۱۸)
(۹) گونگا اگرلکھ کر طلاق دے یا طلاق نامہ پر مضمون سننے کے بعد دستخط کر د ے یا اپنے ان مخصوص اشاروں میں طلاق دے جن کو اس کے پاس رہنے والے لوگ سمجھتے ہوں تو طلاق واقع ہو جائے گی اور عدد طلاق کی تعیین بھی اشاروں کے ذریعہ ہوگا۔ (۱۹)
(۱۰) زبر د ستی دلائی گئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
(۱۱) دل میں دی گئی طلاق واقع نہ ہوگی جب تک اس کو وہ زبان پر نہ لائے ۔ حدیث پاک میں ہے’’عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال رسول اللّٰہ ﷺ ان اللّٰہ تجاوز لامتی عما حدثت بہ نفسہا ما لم تعمل بہ او تکلم بہ‘‘(۲۰)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے میری امت کو ان کے دل میں آنے والی باتوں کو معاف فرمادیا ہے ۔جب تک وہ اس پر عمل نہ کریںیا زبان سے ادا نہ کرے۔
 (۱۲) طلا ق دیتے وقت وہ شادی شدہ ہو غیر بیوی کو طلاق دینا درست نہیں ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’روی شعیب عن ابیہ عن جدہ رضی اللّٰہ عنہم ان رسول اللّٰہ ﷺ قال لا طلاق فیما لا یملک‘‘ (۲۲)
حضرت شعیب روایت کرتے ہیں اپنے باپ سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے دادا سےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس (عورت) کا انسان مالک نہیں اس کو طلا ق نہیں دے سکتا۔
 (۱۳) طلاق کے واقع ہونے کے لیے گواہ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
 (۱۴) ایک ساتھ دی گئی تین طلاق تین ہی ہوںگی۔ خواہ وہ ایک ہی جملے میں ہوں یا متعدد جملے میں۔حدیث پاک میں ہے ’’عن سہل بن سعد رضی اللّٰہ عنہ فی ہذالخبر قال فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ ﷺ فانقذہ رسول اللّٰہ ﷺ ‘‘ (۲۳)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تورسول اللہ ﷺ نے ان طلاقوں کو نافذ کردیا۔
ایک ساتھ دی گئی تین طلاق تین ہی واقع ہوگی ایسانہیںہے کہ وہ ایک شمار ہوگی۔ جیسا کہ بعض کا خیال ہے اگر چہ بیک وقت تین طلاق دینا صحیح نہیں ہے اور دینے والا گنہ گار ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے ’’عن مخرمۃ عن ابیہ قال سمعت محمود بن لبید قال اخبر رسول اللّٰہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضبا ثم قال ایلعب بکتاب اللہ وانا بین ظہر کم حتی قام رجل وقال یا رسول اللّٰہ! الااقتلہ‘‘ (۲۴)
 یعنی حضرت مخرمہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ سے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمود بن لیبد سے سنا کہ رسول اللہ  ﷺ کو خبر دی گئی ایسے شخص کے بارے میں جس نے بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں تھیں۔ یہ سن کر آپ  ﷺ سخت ناراض ہوکرکھڑے ہوگئے پھر فرمایا کتاب اللہ کے ساتھ کھیلو ا ڑ کرتے ہو جبکہ میں تمہارے درمیا ن موجود ہوں ۔یہاں تک کہ ایک شخص مجلس سے کھڑاہوا۔ عرض کیا یارسول اللہ!  ﷺ کیا میںاس کو قتل نہ کردوں۔ 
(۱۵)طلاق کا اختیار صرف مرد کوہے عورت کو نہیں۔ اگر عورت خود اپنے آپ کو طلاق دے یا اپنے شوہر کو طلاق دے جیساکہ آج کل ہو رہا ہے تو طلاق واقع نہ ہوںگی۔ ہاں! اگر شوہر بیوی کو اس کا اختیار دے دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں’’ عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا خیّرنا رسول اللّٰہ ﷺ فاخترناہ فلم یعد ذالک شیئا‘‘ (۲۵)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں طلاق کا اختیار دیا تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو پسند کیا۔ چنانچہ آپ نے طلاق کا شمار نہ کیا ( یعنی اپنے اختیار کا استعمال نہ کیا)
طلاق دینے کے طریقے:اگر مرد کو بیوی ناپسند ہو یا دونوں ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوں اور ان کے درمیان صلح کی کوئی بھی امید نہ ہو تو بجائے اس کے کہ مرد عورت کو اپنے نکاح میں رکھ کر اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرے اور دونوں اپنا سکون غارت کرکے زندگی جہنم بنالے۔ طلاق کے ذریعہ علیحدگی اختیار کر لینا زیادہ بہتر ہے۔ قرآن مقدس میں ہے’’ اَلْطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعرُوْفِ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانِ وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْ ہُنَّ شَیْئًا ِلَّآ اَنْ یَّخَافَآاَلا َّیُقِیْمَاحُدُوْدَ اللّٰہ ِفَاِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلاَجُناَحَ عَلَیْہِمَا فِیْماَ اِفْتَدَتْ بِہِ تَلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا وَمَنْ یَّتَعْدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰالِمُوْنِ‘‘ (۲۶)
’’ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں کچھ واپس لے لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریںگے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہیںگے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘
اس آیت کریمہ میں دو چیزیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ طلاق رجعی دو بارتک ہے اس کے بعد رجعت نہیں کر سکتے۔ دوسرا خلع کا بیان یعنی اگردونوں کو یہ خوف ہو کہ وہ اللہ کے حدوں پر قائم نہ رہ سکیںگے تو مرد طلاق دے دے۔ اگر عورت مطالبہ کررہی ہے تو مرد طلاق دینے کے بدلے عورت سے کچھ لے کر اس کو اپنے نکاح سے آزاد کردے۔ بیوی کو ستانے کی نیت سے طلاق نہ دینا گناہ ہے۔ اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے۔ قرآن مقدس میں ہے’’ وَاذا طلقتم النساء فبلغن اجلہن فامسکوھن بمعروف او سرّ حوھن بمعروف ولاتمسکوھن ضرارالتعتدواومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ‘‘ (۲۷)
 یعنی اورجب تم عورتوں کو طلاق دواوران کی معیاد آلگے تواس وقت بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دو اورانہیں ضرر دینے کے لیے روکنانہ ہوکہ حد سے بڑھو اورجوایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
زمانہ ماضی میںلوگ اپنی بیبیوں کوستانے کے لیے یہ طریقہ اپناتے تھے یعنی وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدیتے اورجبکہ عدت کی مدت قریب ہوتی تو وہ رجعت کرلیتے چنانچہ اسلام نے اس طریقہ کو باطل قراردیا۔
مردکوخیارطلا ق کے اسباب:اسلام میں طلاق دینے کا حق صرف مرد کو حاصل ہے ، عورت کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے شوہر کو طلاق دے ۔ مساوات کے کھوکھلے نعرہ لگا نے والے ناعاقبت اندیشوں نے اسلام کے اس دستور کو لے کر یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسلام نے صرف مردوں کو طلاق کاحق دے کرعورتوں پر ظلم وستم کا دروازہ کھول دیا ہے کہ مرد جب چاہے اس پر ظلم کرے اور اس نے اس کے ساتھ سوتیلا سلوک اختیار کیا ہے ۔حالانکہ اسلام نے عورتوں کو حق طلاق نہ دے کر اسے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کو جہنم بنا نے سے بچایا ہے جو عورتوں پر اسلام کا احسان عظیم ہے۔ مردوں کو طلاق کا اختیار کیوں دیا گیا اس کی چند وجہیںہیں۔
 پہلی وجہ:  شوہر اپنی بیوی کا مالک ہوتا ہے اس کے نان ونفقہ کا سارا بوجھ اس کے سر ہوتا ہے۔ لہذا طلاق کا مالک وہی ہوگا اوریہ حق اسی کو ملنی چاہیے کہ وہ اپنی ملکیت سے کسی کو بے دخل کردے۔
 دوسری وجہ: عورت میں غور وفکر اور سوچنے سمجھنے کا مادہ کم ہوتا ہے۔ وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام لیتی ہے۔ مشاہدات وتجربات سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہونچ چکی ہے کہ عورت کبھی کبھی معمولی باتوں پر طلاق کا مطالبہ کرنے لگتی ہے۔ بسااوقات ایسی ایسی بات پر طلاق کا مطالبہ کربیٹھتی ہے جس کو سن کر ایک انسان بے ساختہ ہنس پڑتاہے ۔ گزشتہ برسوں ہندوستانی مشہور اداکارہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ محض اس لیے کی تھی کہ اس کے شوہر نے اس کو باہر ملک اپنے ساتھ اپنی بیٹی کو لے جانے سے منع کردیا، یہی نہیں اس کے لیے اس نے کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹا یا جب کہ دیکھا گیا کہ کچھ دونوں بعد ان دونوں کے درمیان صلح ہوگئی۔ 
کیا اس چھوٹے سے معاملہ کو سلجھانے کے لئے مطالبہ ٔ طلاق کے علاوہ افہام وتفہیم کی راہیںموجود نہ تھیں؟ اس کے باوجود طلاق کا مطالبہ عورت کی کم عقلی اور عجلت پسندی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کے علاوہ بھی بہت ساری وجہیں ہیں لیکن تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔
خلع اوراس کے احکام
خلع کی تعریف: مرد کی طرف سے کسی ایسے مال کے مقابلے میں جس پر زوجین کا اتفاق ہوگیا ہو،رشتۂ نکاح کو ختم کرنا خلع ہے۔ مثلاً شوہر کہے کہ میں تجھے اتنے مال کے بدلے طلاق دیتا ہوں اوربیوی اسے قبول کرلے یا بیوی شوہر سے کہے کہ حق مہر کے بدلے طلاق دے دو اور شوہر طلاق دے دے۔(۲۸)
خلع کا حکم :  خلع کرنے سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ بیوی اگر شوہر کو ناپسند کرتی ہو اور اس کے ساتھ رہنا نہ چاہتی ہو توشوہر کوکچھ مال دے کر طلاق حاصل کرسکتی ہے۔ قرآن مقدس میں ہے’فَاِنْ خِفْتُمْ ألاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلاَجُناَحَ عَلَیْہِمَا فِیْماَ  افْتَدَتْ بِہٖ‘‘ (سورہ البقرہ آیت ۲۲۹)
  یعنی اگر تم کواندیشہ ہوکہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہوکہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہیں گے توان پرکچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ ہے دے کرعورت چھٹی لے ۔(۲۹)
ایلا اوراس کا حکم
ایلا کی تعریف:چارماہ یا اس سے زائد عرصہ کے لیے یابلا تعیین مدت کے اپنی بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھا لینا۔ یا بیوی سے صحبت کرنے پرکسی ایسے کام کواپنے اوپر لازم کرلینا جس کا اداکرنا فی نفسہ مشکل ہو’’ ایلا ‘‘کہلاتا ہے ۔مثلاً کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ اگرمیںتجھ سے چار ماہ کے ا ندر وطی کروں گا تومجھ پرحج یا ایک ماہ کا روزہ لازم ہوگا، لیکن کسی ایسی چیز کا ذکرنا جس کا ادا کرنا آسان ہوتووہ ایلا نہیں ہوگا۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر میں چار ماہ کے اندرتجھ سے وطی کروں تو مجھ پرچار رکعت نماز یا ایک دن کا روزہ لازم ہوگا۔
ایلا کا حکم:اگرشوہر نے ایلا کی مدت کے اندر بیوی سے صحبت نہ کی اورمدت گذرگئی توطلاق بائن واقع ہوجائے گی۔(۳۰)
ظہار اوراس کا حکم
ظہار کی تعریف:  مرد کا اپنی بیوی کے کسی ایسے جزظاہر کویاایسے جز کو جس کوکل سے تعبیر کیاجاتا ہو۔ ایسی عورت سے تشبیہ دینا جواس مرد پرہمیشہ کے لیے حرام ہے یا ایسی عورت کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس عضو کی طرف اس مرد کو دیکھنا حرام ہے۔ جیسے کسی نے کہاکہ’’ تومجھ پرمیری ماں کے مثل ہے’’ظہار‘‘کہلاتا ہے۔
ظہار کا حکم :  ظہار سے طلاق واقع نہیں ہوتا ہے، کفارہ واجب ہوتا ہے۔ ظہار کرنے والے پرجماع سے قبل کفارہ اداکرنا لازم ہے۔
ظہار کا کفارہ : ظہار کا کفارہ غلام یا لونڈی کوآزاد کرنا ہے۔ اگریہ ممکن نہ ہو تووہ پے درپے دومہینے کا روزہ رکھے یا ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے۔(۳۱)
لعان اور اس کا حکم
لعان کی تعریف:مرد کا اپنی پاک دامن بیوی پرزنا کی تہمت لگانا’’ لعان‘‘ ہے۔(۳۲) 
لعان کے لیے عورت کا عاقلہ بالغہ حرّہ مسلمہ عفیفہ ہونا شرط ہے۔(۳۳)
لعان کا طریقہ :  لعان کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے سامنے پہلے شوہر قسم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت دے۔ یعنی کہے کہ ’’میں اللہ کی قسم کھا کرگواہی دیتا ہوں کہ میں نے جو اس عورت پر زنا کی تہمت لگائی ہے اس میں سچا ہوں۔‘‘ پھرپانچویں مرتبہ کہے کہ’’ مجھ پرخدا کی لعنت ہواگر اس بات میں جھوٹا ہوں‘‘۔اورعورت چار بار کہے کہ ’’میں گواہی دیتی ہوں خدا کی قسم کھا کر۔ اس نے جو مجھ پرزنا کی تہمت لگائی ہے اس بات میںوہ جھوٹا ہے۔‘‘ اورپانچویں مرتبہ یہ’’ کہے کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ مجھ پر خداکی لعنت ہواگریہ اس میں سچا ہے جومجھے زنا کی تہمت لگائی۔‘‘ 
لعان کی شرط :  مردو عورت کا عاقل وبالغ ہونا جس پروہ تہمت لگارہا ہووہ اس کی بیوی ہو۔اگرمرد تہمت لگائے اورعورت اقرار کرے تولعان نہ ہوگا۔(۳۴)
لعان کا حکم:  اگر لعان ثابت ہوجائے توقاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کرادے گا اوریہ تفریق طلاق بائن کے حکم ہوگی۔(۳۵)
۱؎ بخاری شریف صفحہ:۹۸۵
۲؎ کتاب سنن ترمذی صفحہ:۳۱۰
۳؎ سنن ابوداؤد جلد:۱ صفحہ:۳۹۶۔لاہور
۴؎قرآن مقدس سورہ نساء آیت ۱۹
۵؎ قرآن مقدس سورہ نساء آیت ۳۵
۶؎  فرہنگ آصفیہ جلد:۲صفحہ: ۱۳۳۶
۷؎ الدرالمختار، جلد:۲صفحہ۵۶۹/۵۷۱
۸؎ قرآن مقدس سورہ بقرہ آیت ۲۸۸
۹؎ قرآن مقدس سورہ طلاق آیت ۶
۱۰؎ بخاری شریف صفحہ: 557 مسلم شریف صفحہ: ۹۸۷
۱۱؎ قرآن مقدس،آیت
۱۲؎ بخاری شریف صفحہ:۹۸۸؍ نسائی صفحہ: 555
۱۳؎ قرآن مقدس
۱۴؎ تنویر الابصار جلد۲صفحہ۲۷۶
۱۵؎تنویر الابصار جلد۲صفحہ:۵۸۵
۱۶؎ ،۱۷؎تنویرالابصارجلد۲۲ صفحہ: ۳۴۰
۱۸؎ ترمذی شریف صفحہ:۳۰۹
۱۹؎ الدرالمختار جلد۲ صفحہ:۵۷۹
۲۰؎ ایضا جلد۲ صفحہ:۳۴۰
۲۱؎  ایضاً جلد۲صفحہ۵۸۴/۵۸۹
۲۲؎ایضا
۲۳؎ ترمذی صفحہ: ۳۰۹ابن ماجہ صفحہ: ۹۹۱
۲۴؎ سنن ترمذی  صفحہ:۳۰۸
۲۵؎سنن ابوادؤد جلد۱صفحہ۳۰۶
۲۶؎ سنن نسائی صفحہ:۵۵۴
۲۷؎ بخاری شریف صفحہ:۹۸۹؍مسلم شریف  صفحہ:۵۶۲
۲۸؎ الدرالمختارجلد۲ صفحہ:۷۶۶؍فتح القدیرجلد۳ صفحہ:۲۲۳
۲۹؎ قرآن مقدس سورہ نساء آیت ۳۵
۳۰؎ الدرالمختار جلد۲ صفحہ:۷۴۹/۷۵۰
۳۱؎ قانون شریعت جلد۲ صفحہ:۹۵ 
۳۲؎ الدرالمختار جلد۲ صفحہ:۸۰۸
۳۳؎ ایضاً جلد۲ صفحہ:۸۱۰
۳۴؎ ایضاً جلد۲ صفحہ:۸۱۱
۳۵؎ ایضاً جلد۲ صفحہ:۸۰۵

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages