دین اسلام حقوق انسانی کا محافظ
محمد نصیر اصلاحی
ناظم اعلیٰ ، مجلس العلماء تحریک اسلامی مہاراشٹر
اس دنیا میں ہر پیدا ہونے والا انسان کچھ حقوق لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ ان حقوق سے ہی اس کی ترقی اور عظمت وابستہ ہوتی ہے ۔ یہ حقوق ہی اسے رفعت و بلندی عطا کرتے ہیں ۔ اگر یہ حقوق اس سے چھین لئے جائیں یا اس سے چھن جائیں تو وہ ذلت و پستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس کی ترقی کے سارے امکا نا ت ختم ہو جاتے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں ان حقوق کو انسانی حقوق کے نام سے یاد کیا جا تا ہے ۔ دراصل یہ فطری حقوق ہیں ۔ہر سال 10؍ دسمبر کو عالمی حقوق انسانی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ جدید دور کے مورخین کے نزدیک حقوق انسانی کی تاریخ کا آغاز میگنا کارٹا ( Magna Carta)معاہدہ سے ہوتا ہے ۔میگنا کارٹا کو انسانی حقوق کی سب سے پہلی با ضابطہ دستاویز کہا جاتا ہے ۔ آٹھ سو سال پہلے تیرہویں صدی عیسوی میں 15؍ جون2015ء کو شاہ برطانیہ جان (John)کے دور میں اس وقت کے بادشاہ جان (John)اور جاگیر داروں کے درمیان جھگڑے کی بنیاد پر یہ معاہدہ ہواتھا ۔ اس میں بادشاہ اور جاگیردراوں کے آپس کے حقوق و اختیارات متعین کئے گئے اس میں کوئی ایک آدھ عوام کا بھی حق تھا ۔ آپ اہل مغرب سے انسانی حقوق کے حوالے سے بات کریں گے تو وہ آپ سے کہیں گے کہ ہماری حقوق انسانی کی تاریخ کا آغاز میگنا کارٹا معاہدہ سے ہوتا ہے ۔ مغرب میں اس سلسلے میں اور بھی کوششیں ہوئیں ۔ مثال کے طور پر شاہ کانکرڈ ثانی (Concard II)نے ایک منشور کے ذریعہ پارلیمنٹ کے اختیارات متعین کئے ۔ 1118ء میں الفانسونہم (Afanso IX)سے حبس بے جا کے عدم جواز کا اصول تسلیم کرا یا گیا ۔ 1766ء میں فرانس کے معروف مفکر روسو نے معاہدۂ عمرانی لکھی ۔ اس کی بنیاد پر 1789ء میں فرانس کا منشور حقوق انسانی (Declaration of the Rights of Man)سامنے آیا ۔ 1776ء میںامریکی ریاست ورجینیا میں ایک اجتماع ہوا ، جس میں George Mosionکا مرتب کیا ہوا انسانی حقوق کا منشور منظور کیا گیا ۔ اقوام متحدہ نے مختلف مواقع پر بہت سی قرار دادیں منظور کیں ۔ آخر میں 10؍ دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ نے عالمی منشور حقوق انسانی (The Universal Declaration of Human Rihgts)کا بل پاس کیا ۔ دنیا کی زیادہ تر قوموں نے اس کی تائید کی ، جن قوموں نے تائید نہیں کی انہوں نے اس سے اختلاف بھی نہیں کیا ۔ ہمارا ملک بھارت بھی اقوام متحدہ کا رکن ہے ۔ اور اس نے بھی انسانی حقوق کے منشور پر دستخط کیا ہے ۔ جہاں اس اعلامیہ کی بہت سی خوبیاں ہیں ۔وہیں اس میں کچھ بنیادی خامیاں بھی ہیں ۔ ان خامیوں کی وجہ سے آج اس کے متوقع نتائج بر آمد نہیں ہو پارہے ہیں ۔ اس میں سب سے بڑی بنیادی خامی یہ ہے کہ اس منشور کے پیچھے کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اسے نافذ کرنے والی ہو ۔اس لئے اس کے فیصلوں اور قرار دادوں کی حیثیت صرف سفارش ، پند و نصائح اور اخلاقی تلقین کی ہو کر رہ جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے ان ممالک میں بھی جہاں ا س کے گن گائے جاتے ہیں اور اس اعلامیہ کو ایک مقدس صحیفہ سمجھا جاتا ہے، ان میں بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے واقعات کثرت سے ہوتے ہیں ۔ہر ملک اور وہاں کا حکمراں طبقہ پہلے اپنے اغراض و مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے ۔اسے دوسرے انسانوں اور ان کے حقوق کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اگرلاکھوں انسانوں کو قربان کرکے ان کا مفاد حاصل ہوتا ہے تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جا تا ۔ خود ہمارے ملک عزیز میں بھی انسانی حقوق کو پامال کرنے کے واقعات جس کثرت سے ہوتے ہیں ملک کا انصاف پسند طبقہ اس پر اپنی تشویش کا اظہارمسلسل کرتا رہتا ہے ۔ جو ادارے اور این جی اوز حقوق انسانی کو یقینی بنانے اور اس کے تحفظ کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان کی رپورٹیں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پرایک دستاویز ہیں ۔اظہار رائے کے حق ، اپنی پسند کے عقیدہ و مذہب پر عمل کرنے کاحق،مساوات اور برابری کا حق ، زندہ رہنے کا حق،،تعلیمی و تہذیبی حق ،انسانی زندگی کے تحفظ کا حق ، ہر ایک کے لئے عدل و انصاف کا حق جیسے بنیادی حقوق کی ابتر صورت حال سے ہم ضرور واقف ہوں گے ۔
سارے جہانوں کے خالق اور مالک نے اسلام کو سارے انسانوں کے لئے دین بنا کر بھیجا ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں انسانی حقوق کے تحریک کی تاریخ کل سات سو یا آٹھ سو سالوںپر مشتمل ہے ۔ لیکن اسلام نے آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے نہ صرف انسانی حقوق کی تعلیم دی ۔ اس کے تحفظ کی تلقین و تدبیر کی بلکہ عملاً ان کو حقوق دے کر انسانیت کو وہ بلندی وعظمت عطا کی ،جس کی مثال تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے ۔جہاں قرآن میں اللہ رب العزت نے انسانوں کے حقوق کی انتہائی تاکید کی ہے وہیں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے انسانوں کے حقوق ادا کرنے پر انتہائی زور دیا ۔ اس سلسلے میں پیغمبر اسلام ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کو بالیقین حقوق انسانی کا پہلا عالمی منشور قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کا حقوق انسانی کا چارٹر ہو یا دوسرے حقوق انسانی کے اعلامیے سب کی ترتیب و تدوین میں بنیادی طور پر اسلام کی تعلیمات سے ہی روشنی مستعار لی گئی ہے ۔
اسلام انسان کو جو حقوق دیتا ہے ان میں چند اہم ترین حقوق درج ذیل ہیں :
1 ۔ زندگی / زندہ رہنے کا حق : کسی شخص کے حقوق میں سب سے بڑا اور بنیادی حق اس کے زندہ رہنے کا حق ہے ۔ اسی پر دوسرے حقوق کا انحصار ہے ۔ یہ حق کسی سے چھین لیا جائے تو دوسرے حقوق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسلام نے ہر انسان کو زندگی کا حق عطا کیا ہے ۔ اس پر دست درازی سے سختی سے روکا ہے ۔ اسے پورا تحفظ دیا او ر اعلان کیا کہ جب تک حق ہی کا مطالبہ نہ ہو اسے اس زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔ اسلام کے نزدیک ہر انسان جو یہاں پیدا ہوتا ہے زندہ رہنے کا حق لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ زندگی اسے اللہ کی طرف سے ملی ہے ،وہی اس کا مالک ہے ۔ اسے کوئی چھیننے کا اختیار نہیں رکھتایہاں تک کہ وہ خود بھی اپنی زندگی ختم نہیں کر سکتا ۔اسی وجہ سے خودکشی حرام ہے ۔ کسی کو ناحق قتل کرنے کو اسلام سارے انسانوں کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیتا ہے اللہ کا ارشاد ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْساًم بِغَیْرٍ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَا َنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً ط وَمَن ْاَحْیَا ھَا فَکَاَنَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً ط (المائدۃ : 32) جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا ،اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ۔ قتل انسانی اسلامی نقطۂ نظر سے بد ترین جرم ہے ۔ اسلام میں انسانی جان کو انتہائی محترم اور مقدس بتایاگیا ہے ۔ اللہ کا حکم ہے لا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق (الاسراء : 33)کسی شخص کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام(محترم) قرار دیا ہے ۔
قرآن میں اسلام نے اہل ایمان کی ایک نمایاں خوبی یہ بیان کی ہے کہ وہ کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے ۔ اللہ کا فرمان ہے ۔ لَا یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ ( الفرقان : 68)
2 ۔ مساوات / برابری کا حق : اسلام میں مساوات انسانی کا اعلیٰ و ارفع تصور موجود ہے ۔اس حوالہ کوئی بھی مذہب اور قوم کا اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ دنیا نے مساوات کے تصور کو آج جتنی اہمیت دی ہے اسلام نے پہلے ہی اس سے کہیں زیادہ اسے اہمیت دی ہے ۔اسلام نے اس حق کو اس وقت اجاگر کیا جب دنیا اس سے بے خبر اور نا آشنا تھی ۔ وحدت انسانیت اور مساوات اسلام کی بنیادی تعلیمات میںشامل ہیں ۔انسانوں کے درمیان رنگ و نسل ، زبان ، خطہ اور علاقہ ، عہدہ اور منصب ، اور پیشہ وغیرہ کا فرق فطری طور پر پایا جاتا ہے ۔ اس فرق کو انسان نے اپنی نادانی سے یہی نہیں کہ حقیقی فرق سمجھ لیا بلکہ اس کو بلندی اور پستی کا معیار بھی بنا لیا ۔ کبھی سفید فام کو سیاہ فام سے اونچا قرار دیا گیا ۔ کبھی کسی نسل کو دوسری نسلوں سے برتر سمجھ لیا گیا ۔ کبھی کسی زبان بولنے والوں کو دوسری زبان بولنے والوں سے اعلیٰ سمجھ لیا گیا ۔ کبھی کوئی پیشہ اور کبھی کسی صنعت اور پیشہ کووجہ امتیاز بنا لیا گیا ۔ کبھی مرد اور عورت کے صنفی فرق کو تفوق اور برتری کی بنیاد قرار دے دیا گیا ۔ آج بھی مساوات کے بلند بانگ نعروں اور دعووں کے با وجود انسانوں کے درمیان بہت سا فرق باقی ہے ۔ اسلام نے انسانوں کے درمیان اس طرح کے فرق و امتیاز پر کاری ضرب لگائی اوربتایا کہ اس طرح کے اختلافات صرف تعارف کا ذریعہ ہیں ۔اللہ نے یہ فرق صرف اس لئے رکھا ہے کہ معلوم ہو کہ کس فرد کا کس ملک اور کس سر زمین سے تعلق ہے ؟ وہ کون سی زبان بولتا ہے اور اس کی جنس کیا ہے ؟ یہ صرف جاننے پہچاننے کا ذریعہ ہے۔ اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے ۔ یٰٓاَیُّھَالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ اُنْثیٰ وَّ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْباً وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُواْ ط اِنَّ اَکْرَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم خَبِیْرہ(سورۃ الحجرات : 13) اے لو گو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔ بے شک تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے ۔ یقینا اللہ علیم و خبیر ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد جو خطبہ دیا ۔ اس میں قومی اور نسلی احساسات کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ۔ ۔ آپ ؐ نے فرمایا : اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَ اِنَّ اَبَا کُمْ وَاحِدُٗ اَلَا لا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلیٰ اَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلیٰ عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلیٰ اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْویٰ (مسند احمد) ۔ اے لوگو! سن لو ، بے شک تمہارا رب ایک ہے ۔ اور تمہارا با پ بھی ایک ہے ۔ سن لو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کوکسی عربی پر ،کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پرکوئی فضیلت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے ۔ یہ انسان کے مساوات کا واضح ڈیکلیریشن تھا ۔ کہ کسی بھی فرد کو کسی نسل و قوم پر، چاہے اس کا تعلق کسی بھی نسل و قوم سے ہو کسی دوسری نسل و قوم کے فرد پر کو ئی برتری نہیں ہے ۔ رنگ ، نسل ،وطن ، زبان ان بنیادوں پر انسانوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ صرف تقویٰ اور خدا ترسی ہی عزت کا معیار ہے ۔
3۔ عدل و انصاف کا حق: انسانوں کے ساتھ برابری اور مساوات کا لازمی تقاضا ہے کہ ہر ایک کو انصاف ملے ۔ کوئی بھی شخص کسی طرح کے ظلم زیادتی کا شکار نہ بنے ۔ اسلامی تعلیمات جن بنیادوں پر قائم ہیں ان میں عدل اور انصاف ایک اہم بنیاد ہے ۔ اسلام نے واضح کیا کہ انسان اگر ظلم کی راہ پر چل پڑے تو معاشرہ لازماً بے چینی اور اضطراب سے دوچار رہے گا اور اس معاشرہ سے امن و سکون غائب ہو جائے گا ۔ اسلام جس معاشرہ کی تعمیر چاہتا ہے اس کا تصور عدل و انصاف کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔ قرآن میں اللہ نے حکم دیا ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
وَ اِیْتَائِ ذِی الْقُرْبیٰ وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ (سورۃ النحل :90)اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا اورقرابت داروں کو ان کا حق ادا کرنے کا اور روکتا ہے بے حیائی سے ، منکر سے اور زیادتی سے۔ اسلام نے تو دشمنوں کے ساتھ بھی عدل وانصاف کا رویہ اختیار کرنے کی تا کید کی ہے اور کہا کہ یہی اللہ سے ڈرنے والوں کا طریقہ ہے ۔ اسلام کے نزدیک اقتدار اور حکومت انصاف قائم کرنے کا ذریعہ ہے ۔ جس شخص کے ہاتھ میں ریاست کا باگ ڈور ہے اس کی ذمہ داری دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ وہ انصاف کو ہر حال میں قائم کرے اور ناانصافی اور ظلم سے اس کا دامن پاک ہونا چاہیے ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انصاف کرنے والا امام عرش الہی کے سایہ میں ہو گا ۔ اگر آج عدل و انصاف سے متعلق اسلام کی تعلیمات پر عمل در آمد ہو تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا ۔ معاشرہ سے ہر قسم کا نتشار ، اضطراب ، خوف اور دہشت ختم ہو جائے گی ۔
اسلام نے انصاف پر مبنی قانون ہی نہیں دیا بلکہ اس کی برتری بھی قائم کی ۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں شام کے ایک علاقہ کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اسلام قبول کرکے مکہ آیا ۔ وہ خانہ کعبہ کا طواف کررہاتھا ،اس کے قریب ایک عام مسلمان بھی طواف کر رہا تھا ۔ بادشاہ کے لمبے دامن پر اس کا پیر پڑ گیا ، جس سے بادشاہ الجھ کر گرنے کے قریب ہو گیا ۔ بادشاہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ وہ ایک غریب بدوی ہے ۔ بادشاہ نے اس کو ایک زور کا چانٹا مارا اور کہا کہ دیکھ کر نہیں چلتا ۔ اس کی شکایت اس بدوی نے خلیفہ وقت سے کی ۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ بدوی انتقام میں اس بادشاہ کو اسی طرح چانٹا مارے جیسا اس نے مارا ہے ۔جبلہ ہ بن ایہم تھا کہا کہ بادشاہ کو اب ایک عام شخص مارے گا ۔ میں اسلام چھوڑ دوں گا ۔ لیکن یہ ذلت برداشت نہیں کر سکتا ۔ خلیفہ نے کہا کہ اسلام میں رہنا یا چھوڑ دینا اس کا ذاتی معاملہ ہے لیکن اللہ کی نظر میں دونون برابر ہیں ، انتقام تو ضروری ہے ۔ اس پر جبلہ رات کے اندھیرے میں چھپ کر اپنے وطن واپس چلا گیا ۔ خلیفہ نے اس کی پروا نہیں کہ ایک بادشاہ کو اسلام میں باقی رہنے کے لئے ایک معمولی انسان کو جو آزادی اور مساوات کے حق کو نظر انداز کیا جائے ۔
اسلام کے نزدیک قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔ اس میں چھوٹے بڑے ، امیر و غریب کا کوئی فرق نہیں ہے ۔ ہر ایک کا فرض ہے کہ قانون کے سامنے سر جھکا دے ۔ اللہ کا ارشاد ہے ۔ وَمَاْ کَانَ لِمُؤمِنٍ وَّلَالِمُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضیٰ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَمْراً اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مَنْ اَمْرِھِمْ وَمَن یَّعصِ اللّٰہَ وَ رَسُولَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِیْناً (سورۃ الاحزاب : 36)۔ یہ کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کا طریقہ نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کردے تو انھیں اپنے معاملے کوئی اختیار باقی رہے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا ۔ رسول ؐ کاارشاد ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو جس چیز نے تباہ کیا وہ یہی تھی کہ جب ان میں سے کوئی شریف اور معزز آدمی چوری کرتا (کسی جرم کا ارتکاب کرتا )تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر قانون نافذ کرتے ۔ اسلام نے قانون کے سلسلے میں یہ اصول بیان کیا کہ ہر شخص کو بے گناہ سمجھا جائے گا اور اسے اسی وقت مجرم قرار دیا جائے گا جب کہ عدالت سے اس کا جرم ثابت ہو جائے ۔ اس کے لئے اسلام نے شہادت اور گواہی کے لئے ایک پورا ضابطہ مقرر کیا ۔
4۔ فکر کی آزادی : اللہ نے ہر انسان کو عقل و دماغ عطا کیاہے ۔ اس کا امتیازی وصف یہی ہے کہ وہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اسلام اس صلاحیت کی نشو و نما اور ترقی چاہتا ہے اور اسے دبانے اور کچلنے کی ہر کوشش کے خلاف ہے ۔ اس نے انسان کو غور فکر اور تدبر و تفکر پر ابھا را ۔ اسلام کے نزدیک غیر عقلی رویہ اختیار کرنا اور بے دلیل کسی بات پر اصرار کرنا انسانی عظمت کے منافی ہے ۔ اسلام ہر بات کو دلائل سے سمجھنے کا رجحان پیدا کرتا ہے اسے اپنے مخالفین سے شکایت ہے کہ وہ فہم و عقل سے کام نہیں لیتے اور اس کے دلائل پر غور نہیں کرتے ۔ غور فکر پر زور دینے کے ساتھ اسلام نے انسانی عقل کی محدودیت بھی واضح کردی ہے اور غور و فکر کی صحیح بنیادیں فراہم کی ہیں ۔ آج کا انسان دوسرے انسانوں سے فکر کی اس آزادی کا چھین لینا چاہتا ہے ۔آج ہر طاقت ور فرد اور لیڈر کا مطالبہ ہے کہ بغیر سوچے سمجھے میرے پیچھے رہو ۔ میں جو کہوں اور کروں وہی حق ہے ۔ تم اندھے اور بہرے میرے بھکت بنے رہو ۔مجھ سے کسی دلیل اور ثبوت کی خواہش نہ رکھو ۔
5۔ عمل کی آزادی : اللہ نے انسان کو مجبور نہیں کیا بلکہ ہر ایک کو حرکت و عمل کی آزادی دی ہے ۔ہر انسان اپنی مرضی سے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے ۔ لیکن ہدایت کی کہ اس آزادی کا بے قید استعمال تباہ کن ہے ۔ اسے ایسے اقدام کی اجازت نہیں دی جو معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہو اور بگاڑ کی وجہ بننے والا ہو ۔ قرآن میں تفصیل کے ساتھ قوم ثمود ، قوم عاد اور دیگر قوموں کی تاریخ اسی مقصدکے لئے بیان کی گئی ہے تاکہ انسان اللہ کی زمین پر فساد اور بگاڑ سے بچے اور انسانوں کے لئے اسے امن و سکون کا گہوارہ بنائے ۔
6۔ اظہار خیال کی آزادی : انسانی حقوق کے اور آزدی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود آج کی دنیا میں اختلاف رائے اور سوچ کو ایک جرم تصور کیا جاتا ہے ۔ ایک آزاد نظم کا یہ ٹکڑا آج کے حالات کا بہترین عکاس ہے
فقیہ شہر بولا بادشہ سے
بڑا سنگین مجرم ہے یہ آقا
اسے مصلوب کرنا ہی پڑے گا
کہ اس کی سوچ ہم سے مختلف ہے
مگر اسلام کے نزدیک انسان کا یہ فطری حق ہے کہ اس کی زبان بندی نہ ہو ۔ اسے اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت ہو ۔ اور وہ انھیں دوسروں کے سامنے پیش کر سکے ۔ لیکن اس نے اسے کچھ حدود کا پابند بھی بنایاہے ۔ ان حدود کی معقولیت اور افادیت ہر فرد اور سماج کے لئے مسلّم ہے ۔ اسلام نے بتا یا کہ اظہار خیال میں آدمی اخلا قیات کا پابند ہو ۔ وہ دوسروں کی عزت نفس کا احترام کرے ۔ اسے رسوا اور بد نام کرنے اور اس کی عزت و آبرو سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے ۔ جھوٹ ، الزام ، طنز ، گالی گلوچ ، بد زبانی اور بد گوئی جیسی اخلاقی خرابیوں سے بچے ۔ اظہار خیال کے نام پر بے حیائی اور بد کاری کے نشر واشاعت کی اجازت نہ ہو گی ۔ جو سوسائٹی اخلاق وتہذیب اور شرافت و علم کی علمبردار ہو وہ کسی بھی اخلاق باختگی کی اجازت نہ دے گی ۔ قر آن میں سور ہ حجرات ، سور ہ نور میں اس کی رہنمائی کی گئی ۔ موقع نہیں ہے کہ وہ آیا ت آپ کے سامنے پیش کی جائیں ۔
7۔ذاتی زندگی میں عد م مداخلت (پرائویسی) : اسلام میں انسان کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ اسے اپنی نجی اورشخصی زندگی میں آزادی حاصل رہے ۔ اس میں بیرونی مداخلت نہ ہو ۔ اسلام نے تاکید کی کہ کوئی شخص گھر یا گوشۂ تنہائی میں کیا کررہا ہے اس کی تحقیق و تفتیش نہ کی جائے ۔ اگر وہ غلط کام بھی کررہا ہے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے ۔ اسلام نے دوسروں کے متعلق ظن و گمان سے روکا ہے ۔ اسلام نے کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ لگا نے ، چپکے چپکے اس کی خامیوں کو تلاش کرنے اور تجسس کرنے سے منع کیا ہے ۔اسی کو موجودہ زمانہ میں پرائیویسی کا حق کہا جا تا ہے ۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے کہ یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا (سورۃ الحجرات : 12)اے لوگو جو ایمان لائے ہو بہت گمان کرنے سے پر ہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ موجودہ زمانہ میں انسان اپنے اس حق سے محروم ہوتا جارہاہے ۔ مختلف طریقوں سے اس کی جاسوسی کی جاتی ہے ۔ اس کی ذاتی زندگی میں خلل اندازی کی جاتی ہے ۔ ہمارے ملک میں اس طرح کے بہت سے واقعات اخبار کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ ذاتی معلومات دوسروں کو دے دی جاتی ہیں پیگا سس جاسوسی تازہ ترین معاملہ ہے ،جس سے شہریوں کی نگرانی کی جارہی تھی ۔اس کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعہ ایک کمیٹی تشکیل کی گئی ہے ۔
8۔عقیدہ و مذہب کی آزادی کا حق : اسلام اللہ کا نازل کیا ہو ادین ہے ۔ اب دنیا میں یہی واحد دین حق ہے ۔ اسلام اپنی تعلیمات کو سچی خدائی تعلیمات سمجھتا ہے اور ان کے بارے میں دلائل بھی فراہم کرتا ہے ،سارے انسانوں کو اسی دین کو اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کے یہاں قابل قبول یہی دین ہے ۔ لیکن کسی پر جبر نہیں کرتا ۔ بلکہ انسان کواختیار عطا کرتا ہے کہ وہ اس کے دین کو چاہے قبول کرے یا نہ کرے ۔ اللہ کا ارشاد ہے ۔ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ (سورۃ البقرۃ : 256)۔ دین کے معاملہ میں کوئی جبر اور زبر دستی نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ اسلام یہ بھی چاہتا ہے جب اس نے دین و مذہب کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں رکھا ہے تو اسلام کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہ بنے ۔ جب ایک شخص کسی بھی نظریۂ زندگی کو قبول کرنے کا حق رکھتا ہے ۔تو منطقی بات ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسلام کو بھی اپنا سکتا ہے ۔ اورکوئی اسے اس حق سے محروم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ہے ۔ اسلام کے بر عکس یورپ میں مذہب کے نام پر انسانیت کشی کی انتہائی شرمناک داستانیں رقم ہوئی ہیں ۔ آج کی دنیا بھی انسا ن یہ حق دینے کو تیا ر نہیں ہے ۔ ہمارے ملک میں تبدیلیٔ مذہب سے متعلق بنائے گئے قوانین اس کی زندہ مثال ہیں ۔
اس مضمون میںانتہائی اختصار کے ساتھ انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے درج بالا نکات پیش کئے گئے ہیں ۔اس سے آپ کو اندازہ ہوا ہوگا کہ انسانی حقوق کا اصل محافظ اور پاسبان اسلام ہے نہ کہ وہ ممالک اور ادارے جو آج حقوق انسانی کا ڈھیڈوراپیٹ رہے ہیں اور اس کے چمپیئن بنے ہوئے ہیں ۔آج بھی نسل ، رنگ، قومیت ،علاقہ ، زبان ، مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر بے شمار انسان ظلم کا شکار ہورہے ہیں ۔ وہ اب بھی اپنے بنیادی اور فطری حقوق سے محروم ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے ہم اسلام پر یقین رکھنے والے پہلے خود اسلام کی تعلیمات سے اچھی طرح واقف ہوں ۔پھر سارے عالم کو بتائیں کہ اسلام سلامتی ، رحمت ، اخوت ،محبت کا دین ہے ۔ اسلام کا مقصد مساوات اور عدل و انصاف پر مبنی استحصال سے پاک معاشرہ کا قیام ہے ۔ مساوات اور انسانی حقوق کے حقیقی علمبر دار پیغمبران کرام ہیں ۔انہوں نے دوسرے انسانوں کے احترام ، تحفظ اور اپنے تزکیۂ نفس کی تلقین کی ۔اسلام کی تعلیم ہی دنیا کے امن و سلامتی کا ضامن ہے ۔ آئیے اس کے مطابق اپنی دنیا کی تعمیر کریں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭