ڈگر سے ذرا ہٹ کر-ڈاکٹر سہیل مقبول کا ایک دلچسپ مضمون

57 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Jun 13, 2014, 5:08:48 AM6/13/14
to 5BAZMeQALAM, shersh...@hotmail.com, shershah syed

کراچی سے ادبی جریدے کولاژ کا تازہ شمارہ شائع ہوا ہے جس کا تعارف راقم نے دو روز قبل یہاں پیش کیا تھا۔ مذکورہ شمارے میں سہیل مقبول صاحب کا مضمون "ڈگر سے ذرا ہٹ کر" شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون خاصا چونکا دینے والا ہے۔ سعیدہ بانو احمد کی خودنوشت "ڈگر سے ہٹ کر" پاکستان میں 2006 میں شائع ہوئی تھی۔  مضمون اسی خودنوشت سے متعلق ہے۔ 
مذکورہ مضمون زیر نظر پوسٹ کے ہمراہ منسلک کیا جارہا ہے۔

سہیل مقبول صاحب کو اپنے مضمون میں دو مقامات پر سہو ہوا ہے۔
اول: انہوں نے فنکارہ سلمی آغآ کے نانا کا نام جگل کشور لکھا جبکہ درست نام رفیق غزنوی ہے
دوم: یہ لکھا ہے کہ ڈاکٹر پرویز پروازی کی چاروں کتابوں میں سے کسی یں بھی "ڈگر سے ہٹ کر" پر تبصرہ موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب پر جلد اول و دوم (ایک جلد میں) کے صفحہ 184 پر تبصرہ موجود ہے۔

سماجی رابطوں کے ایک فورم پر جب یہ مضمون پیش کیا گیا تو ہمارے احباب نے اس پر دلچسپ تبصرے کیے، ملاحظہ کیجیے:

عثمان قاضی، اسلام آباد:
سہیل مقبول صاحب کے مضمون کی تمام تر منطق اس نکتے پر قائم ہے کہ حسب نسب انسان کی شخصیت کی پرداخت کے لئے کلیدی عمل کی حیثیت رکھتا ہے. نہ صرف یہ نکتہ بلکہ نور الدین صاحب کے مزعومہ خاندانی پس منظر کا بیان دونوں کی صحت مشکوک ہے. ہمارے لوگ تو ہر شخص کی ذاتی زندگی اور سات پشتوں تک تاکا جھانکی کے خوگر ہیں. نور الدین صاحب انتخابی سیاست میں مدت تک متحرک رہے، تعجب ہے کہ دہلی کے جملہ مسلم و غیر مسلم ووٹر سہیل صاحب کے بیان کردہ پس منظر کے باوجود انہیں منتخب کرتے رہے


مصطفی ارباب، میر پور خاص:
مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھ کے ہی میں نے،ڈگر سے ہٹ کر،پڑھی تھی-مجھے یہ خود نوشت اچھی لگی تھی-ایک عورت ہونے کے ناتے بہت کچھ بیان کیا گیا ہے-مشفق خواجہ نجی محفل میں کہتے تھے خود نوشتوں کو ہمیشہ محتاط ہوکر پڑھنا چاہیے-
اس مضمون میں حقائق سے قطع نظر،،تلخی، ضرورت سے زیادہ ہے-انسان متضاد رویوں کا مجموعہ ہوتا ہے-ایک پہلو کو پوری شخصیت پر چسپاں کرنا مناسب نہیں-
اگر میری یاد داشت میرا ساتھ دے رہی ہے تو خاکوں کی کتاب ،،دلی والے،، میں نورالدین احمد ہی کی وضع داری کا واقعہ لکھا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے جامع مسجد دلی جاتے تو مسجد میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ایک دوست کی مسجد سے متصل دکان میں بیٹھ کر خطبہ سنتے اور وہیں نماز ادا کرتے-یہ ان کا برسوں کا معمول رہا-دلی کا میئر بننے کے بعد بھی اس معمول کو جاری رکھا،مسجد میں خواص کے لیے مختص جگہ قبول نہیں کی-اگر مجھے نورالدین کے نام میں سہو ہو رہا ہے تو میری درستی کی جائے،شکر گزار رہوں گا-

----------------------------


مصطفی ارباب صاحب کا خیال درست تھا، نور الدین بیرسٹر کا خاکہ دیدہ شنیدہ" کے عنوان سے ڈاکٹر صلاح الدین نے لکھا تھا جو دلی والے کی جلد اول میں شامل ہے۔ ارباب صاحب کو مذکورہ خاکہ فراہم کردیا گیا۔

ادھر مضمون پڑھنے کے بعد راقم کو تجسس ہوا کہ آخر یہ سہیل مقبول صاحب ہیں کون ? مضمون کی تعارفی سطور میں انہوں نے اپنے دوست ڈاکٹر شیر شاہ سید کا تذکرہ کیا ہے جن کی تحریک پر یہ مضمون لکھا گیا۔ ڈاکٹر صاحب ہمارے خاص کرم فرما ہیں اور یہاں محفل میں بھی موجود رہتے ہیں۔ ادارہ تھا کہ ڈاکٹر 
شیر شاہ سید سے دریافت کیا جائے کہ اسی اثناء میں مدیر کولاژ اقبال نظر صاحب نے راقم الحروف کو فون کیا، کہنے لگے میں اس وقت کراچی کے ایک اسپتال میں سہیل مقبول صاحب کے پاس بیٹھا ہوں، آپ ان سے بات کیجیے۔

ہم نے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ۔

ڈاکٹر سہیل مقبول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  عمر 66 برس

یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دل میں طوفاں چھپائے بیٹھے ہوتے ہیں، ایک عہد گزار کر آئے ہوتے ہیں۔ اپنے پیشے کے برخلاف جنہوں نے اردو ادب کو گھول کر پیا ہوتا ہے مگر حیف کہ کبھی قلم نہیں اٹھایا ہوتا۔ دو روز میں مختلف اوقات میں ان سے سیر حاصل گفتگو رہی۔
عرض کیا حضور! آپ بھی غضب کرتے ہیں، مضمون میں رام پور رضا لائبریری کے سرخیل جناب عابد رضا بیدار کا تذکرہ پڑھ کر تو میں چونک گیا، آپ ٹھہرے طبی معالج اور مضمون کے حوالے ایسے, زبان کی چاشنی ایسی، علمیت گویا چھلک چھلک جاتی ہے، تحریر پتہ دیتی ہے کہ لکھنے والا جہاں دیدہ بھی ہے اور جہاں گرد بھی رہا ہے۔  وہ لکھے اور پڑھا کرے کوئی۔ تو پھر ہماری باری دیر کیوں اتنی کری ?
کہنے لگے "کیا مطلب
عرض کیا مطلب صاف ہے، لکھیے اور خدارا لکھیے، قلم کو مت روکیے۔
 آ
پ نے اپنے مضمون کے آغآز و اختتام میں خود ہی تو کہا کہ "اصل سے خطا نہیں اور کم اصل سے وفا نہیں
تو پھر آپ کا قلم نہ اٹھانا خطا ہی کہلائے گا نا ۔

ڈاکٹر صاحب راضی تو ہوئے، مگر اس سے قبل ایک ایسی بات کہہ بیٹھے کہ میں سٹپٹا گیا۔ کہنے لگے آپ اتنی باتیں کررہےہیں، اتنے حوالے دے رہے ہیں، ایک امتحان آپ کا لیتا ہوں۔"

اس امتحان کی بابت بھی عرض کرتا ہوں مگر پہلے یہ بتاتا چلوں کہ دوران گفتگو راقم جواب آں غزل کے طور پر جو مختلف کتابوں کے حوالے دے رہا تھا، اس پر وہ جزبز بھی ہوئے تھے۔  غالبا" یہی سبب تھا کہ انہوں نے ہمارا امتحان لینے کی ٹھانی تھی۔  ایک موقع پر بات آغا اشرف کی خودنوشت "ایک دل ہزار داستان" پر چل نکلی، کہنے لگے وہ انہوں نے اس کتاب میں سے سرقہ کیا ہے  ۔۔۔ وہ  ۔۔۔۔۔۔
عرض کیا "یوسف حسین خاں کی یادوں کی دنیا"
"جی جی وہی" وہ بولے "مشفق خواجہ نے اس سرقے کی نشان دہی کی ہے۔
عرض کیا "ایک نشان دہی آپ کے اس خادم نے بھی کی ہے، ایسی جس پر خواجہ صاحب کی نظر بھی نہیں گئی تھی۔ "
حیران ہو کر کہا " وہ کیا"
عرض کیا کہ آغا صاحب نے ایک جگہ پورا سالم ٹکڑا شوکت صدیقی کے ایک افسانے سے نقل کیا ہے، یہ بات اپنے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں جو پشاور کے ایک جریدے میں چند ماہ قبل شائع ہوا ہے۔  

اب سہیل صاحب کے امتحان کی بات پر آتا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب کہنے لگے "امریکہ کے فلاں صاحب کا نام سنا ہے کبھی"?
عرض کیا "ان فلاں صاحب (جو خودنوشتوں کے ازحد شائق ہیں) سے رابطہ عرصہ ایک برس سے ہے، مطلوبہ کتابوں کے تین عدد بھاری بھرکم پارسل بھیج چکا ہوں اور رقم کی ادائگی ان بزرگ کی جانب سے ایسی ترنت ہوتی ہے کہ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔"

تس پر ڈاکٹر مقبول سہیل موم ہوئے۔ کہا ملاقات کے لیے آئیے۔
ہماری رگ شرارت پھڑکی، عرض کیا عدیم الفرصت ہوں, زیادہ تر فضولیات ہی میں تضیع اوقات کرتا ہوں
 مگر آپ کے پاس اکتساب علم کی غرض سے حاضری ضرور دوں گا، کچھ وقت دیجیے۔ مگر ایک بات کہتا ہوں، اسے شرط سمجھیے یا کچھ بھی مگر یہ استدعا ہے کہ لکھیے اور فی الفور شروعات کیجیے۔

جواب ملا "ٹھیک ہے، تو کیوں نہ رام پور رضا لائبریری کے عابد رضا بیدار سے شروعات کروں ?
عرض کیا "منتظر رہوں گا اور بے چینی سے رہوں گا"
خیر ہماری بات تو ایک نوآزمودہ
و ناتجربہ کار شخص  کی بات ہے، اطمینا یہ ہے کہ ڈاکٹر شیر شاہ سید، سہیل صاحب کے دوستوں میں سے ہین اور یقینا ان کو مزید لکھنے پر آمادہ ضرور کریں گے۔

-----------------

تو صاحبو! آپ میں خدا جانے کتنے ایسے ہوں گے جنہوں نے راقم کی اس لاف گزاف کو یہاں اختتام تک پڑھنے کی زحمت کی ہوگی، یقینا" کم ہی تعداد رہی ہوگی مگر ڈاکٹر سہیل مقبول کا مضمون تو یقینا پڑھا ہوگا۔ تو کہیے کیسا لگا ?

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے






Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-068.JPG
Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-069.JPG
Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-070.JPG
Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-071.JPG
Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-072.JPG
Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-073.JPG
Collage-Karachi-Issue 3-July 2014-page-074.JPG

M.Shahid Rizwan

unread,
Jun 14, 2014, 1:18:30 AM6/14/14
to BAZMe...@googlegroups.com, shersh...@hotmail.com, shershah syed
راشد صاحب
آپ کی گفتگو کا احوال بھی آخر تک پڑھا اور ڈاکٹر صاحب کا مضمون بھی
مضمون کے شروع میں ہی ایک جملہ ہے "مقصد غالبا عمر رسیدہ لوگوں کے حافظے کو ٹہوکا لگانا مقصود ہوتا ہے"
یہاں مقصود کا استعمال اضافی لگا، اب یہ علم نہیں کاتب کی غلطی ہے یا مصنف کی؟

 
Mohammed Shahid Rizwan





--
پونہ میں ہندوراشٹر سینا کےغنڈوں کے ہاتھوں شہید ہونےوالا نوجوان محسن شیخ۔درجہ زیل لنک پڑھئے
http://www.siasat.com/english/news/appeal-help-shaheed-mohsin-family


Hussain Sikandar

unread,
Jun 14, 2014, 2:21:41 AM6/14/14
to 'M.Shahid Rizwan' via بزمِ قلم‎
یہ مضمون ان لوگوں کے لے دلچسپ ھو سکتا ھے جو دوسروں کی زندگی میں تاک جھانک اور جنیسی فحش مواد کی تلااش میں رھتےھیں جوشریعت کے َخلااف ھے کیا فرماتے ھیں مخلص اور ھمایوں رشید صاحبان؟


"'M.Shahid Rizwan' via بزمِ قلم" <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

راشد صاحب
آپ کی گفتگو کا احوال بھی آخر تک پڑھا اور ڈاکٹر صاحب کا مضمون بھی
مضمون کے شروع میں ہی ایک جملہ ہے "مقصد غالبا عمر رسیدہ لوگوں کے حافظے کو ٹہوکا لگانا مقصود ہوتا ہے"
یہاں مقصود کا استعمال اضافی لگا، اب یہ علم نہیں کاتب کی غلطی ہے یا مصنف کی؟

 
Mohammed Shahid Rizwan





On Friday, June 13, 2014 1:08 PM, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:


کراچی سے ادبی جریدے کولاژ کا تازہ شمارہ شائع ہوا ہے جس کا تعارف راقم نے دو روز قبل یہاں پیش کیا تھا۔ مذکورہ شمارے میں سہیل
مقبول صاحب کا مضمون "ڈگر سے ذرا ہٹ کر" شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون خاصا چونکا دینے والا ہے۔ سعیدہ بانو احمد کی خودنوشت "ڈگر سے ہٹ کر" پاکستان میں 2006 میں شائع ہوئی تھی۔  مضمون اسی خودنوشت سے متعلق ہے۔ 
مذکورہ مضمون زیر نظر پوسٹ کے ہمراہ منسلک کیا جارہا ہے۔

سہیل مقبول صاحب کو اپنے مضمون میں دو مقامات پر سہو ہوا ہے۔
اول: انہوں نے فنکارہ سلمی آغآ کے نانا کا نام جگل کشور لکھا جبکہ درست نام رفیق غزنوی ہے
دوم: یہ لکھا ہے کہ ڈاکٹر پرویز پروازی کی چاروں کتابوں میں سے کسی یں بھی <span st

Gul Bakhshalvi

unread,
Jun 14, 2014, 8:23:26 AM6/14/14
to BAZMe...@googlegroups.com
شاہد رضوان صاحب  اگر آپ اپنی کسی تحریر میں " مقصد غالبا عم رسیدہ لوگوں کے حافظے کو ٹہوکا لگانا مقصود ہوتا ھے : لکھتے۔۔۔۔۔۔ تو کیسے لکھتے ، آپ نے غلطی کی نشان دہی کی ہے تو بزم قلم  میں اہل قلم کی املا کی غلطی بھی درست   کر دیا کریں  اس لیےکہ بزم قلم اردو کی تربیت گاہ بھی ہے
                                                                                         بخشالوی


دوم: یہ لکھا ہے کہ ڈاکٹر پرویز پروازی کی چاروں کتابوں میں سے کسی یں بھی --
پونہ میں ہندوراشٹر سینا کےغنڈوں کے ہاتھوں شہید ہونےوالا نوجوان محسن شیخ۔درجہ زیل لنک پڑھئے
http://www.siasat.com/english/news/appeal-help-shaheed-mohsin-family



--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786

shaikh hussain

unread,
Jun 15, 2014, 2:40:04 AM6/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com, shersh...@hotmail.com, shershah syed
please see positive picture in the followintg link
 twocircles.net/2010dec19/barrister_nuruddin_ahmed_1904_–_1975.html
Dr. Sikandar Hussain
Prof physiology and HOD, Dr. V.R.K. Women's medical college, Hyd
Ex Vice Principal, Deccan College of Medical Sciences, Hyderabad
Ex Associate Professor ,Tabriz Medical College,Islamic Republic Iran.
Ex Professor Physiology, Qaseem Medical College, Saudi Arabia

Mob: 08712737913


Ahmad Safi

unread,
Jun 15, 2014, 5:48:13 AM6/15/14
to 5BAZMeQALAM
سکندر حسین صاحب کے مہیا کردہ لنک پر تو کچھ اور ہی کہانی ہے۔۔۔

Nuruddin Ahmed was born in 1904 in one of the noblest families of old Delhi with wealth and erudition. His father “Principal” Mushtaq Ahmed Zahidi was member of the Indian Educational Service and a contemporary of Sajjad Haider “Yeldrim” – Yeldrim’s legendary daughter Qurrtulain Haider has written a lot about her Mushtaq “chahcha”. Nuruddin had his early education in St Xavier’s school Delhi along with classical education at home with the result that his knowledge of Latin and English was matched by his deep insight in Persian and Arabic poetry. After two years of post school education at St Stephens’ College, Delhi he left for Cambridge where he did B.A Honours or Classic tripos from Corpus 
Christi College. He went to London to study Law and was called to the bar from Inner Temple. 

کیا درست ہے اور کیا غلط؟؟؟
کیا مقبول سہیل صاحب نے سعیدہ بانو احمد کی کتاب کے علاوہ بی اسناد و حوالے مہیا کیئے ہیں کہ نہیں۔۔۔ اگر نہیں تو پھر ان کی نگارشات کو بقول افرنگ، نمک کی ایک چٹکی کے ساتھ لینا پڑے گا!

احمد صفی


Rashid Ashraf

unread,
Jun 16, 2014, 3:02:30 AM6/16/14
to 5BAZMeQALAM, shersh...@hotmail.com, shershah syed
بہت شکریہ
کتابت ہی کی غلطی ہے جناب

راشد

Ahmad Safi

unread,
Jun 16, 2014, 7:47:45 AM6/16/14
to BAZMe...@googlegroups.com
کتابت کی نہیں متن کی غلطی. ولدیت ہی بدل دی مقبول صاحب نے بلکہ ناجائز بھی قرار دے دیا... اس لئیے سند دریافت کی...

احمد صفی
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages