بیٹے کا مشورہ ۔ باپ کا عمل از ڈآکٹر مقصود الہٰی صاحب

2 views
Skip to first unread message

Aapka Mukhlis

unread,
Sep 26, 2014, 12:28:02 PM9/26/14
to bazm qalam

ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ صاحب کی ایک پوپ کہانی حاضر ہے۔۔

کہانی کیا ہے۔۔ایک تیز دھار نشتر ہے۔ جو ہماری نئی نسلوں کے ذہنوں میں سیاسی ماحول 

سے آلودہ سرطان زدہ مواد دنیا کو دکھلا رہا ہے۔۔۔اپنی   اخلاقی اقدار اور ثقافت  کی نیم مردہ

حالت  واضح کررہا ہے۔۔۔اس میں قصور کس کا ہے؟ والدین کا یا جدید ذرائع ابلاغ کا۔۔۔

اہلِ بزم  سے اس سوال کا جواب مطلوب ہے۔۔


پوپ کہانی
مقصود الٰہی شیخ

بیٹے کا مشورہ ۔ باپ کا عمل 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا : ابا جی آپ سارا دن تسبیح پڑھتے رہتے ہیں کوئی کام ہی کیا کیجئے ۔
ابا جی: تم کام بتاؤ !۔
بیٹا : ہم میاں بیوی کے پاس سانس لینے کو وقت نہیں، بچوں پر توجہ دے ہی نہیں سکتے ۔ آپ بچوں کو جمع کر کے مذہب اور کلچر کے بارے میں معلومات دیا کریں نا!۔
ابا جی : وہی تو پوچھ رہا ہوں، کیا؟
بیٹا : جیسے ہمیں سبق آموز کہانی سناتے تھے " شیر آیا ۔ شیر آیا " ۔
اباجی : شیر آیا شیر آیا ۔۔۔۔۔  کیا؟
بیٹا : اباجی! آپ بھول گئے ؟ آپ نے کہانی سنائی تھی ۔ ایک ٹین ایج گڈریا جنگل میں بکریاں چرانے لے جاتا تھا ۔ ایک روز تنہائی سے تنگ آ کر اس نے شور مچایا کہ لوگو شیر آیا شیرآیا ۔ گاؤں والوں کو گڈریئے اور بھیڑ بکریوں کی فکر ہوئی ۔ دوڑے دوڑے آئے ۔۔۔۔ مگر وہاں کوئی شیر ویر نہ تھا ۔ اسی طرح دو ایک بار ہوأ ۔ فالس (جوٹھا) الارم پر  گاؤں والے خفا ہوئے ۔ بات آئی گئی ۔ ایک روز واقعی شیر آ گیا ۔ لڑکے نے شور مچایا مگر گاؤں سے کوئی نہ آیا ۔
شیر آیا اپنا کام کر گیا ۔ نہ بھیڑ بکریاں رہیں نہ گڈریا !!۔ 
سبق یہ بتلایا کہ جھوٹ نہیں بولنا چایئے اعتبار جاتا رہتا ہے ۔
******
ایک روز اباجی نے بچوں کو جمع کیا ۔ آؤ بچو کہانی سنو ۔
بچے شوق سے دادا کے پاس جمع ہو گئے
دادا :۔ ایک بادشاہ تھا ۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا ملک کا بادشاہ ۔۔۔۔۔۔
ایک بچہ:۔ کٹ شارٹ ۔ اب بادشاہ نہیں ہوتا ۔
دوسرے بچے نے اسے چپ کرایا : چپ بد تمیز !!۔
دو بچوں نے گانا شروع کر دیا" دل بدتمیز ۔ دل بد تمیز ۔۔۔۔۔"
طوفان بدتمیزی تھما تو پتہ چلا 
داد روٹھ چکے ہیں ۔  
لیکن بچوں نے منا لیا ۔
سمجھو ایک بادشاہ تھا ، نام اس کا محمود تھا ۔ 
بچے خاموشی سے سننے لگے ۔ 
محمود غزنوی نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا غزنوی اس کا سرنیم تھا؟ 
دادا سوال نظر انداز کر کے بولتے چلے گئے ۔ محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے ۔۔۔
کوئی بیچ میں بول پڑا"واٹ از سترہ؟"
دادا :۔" سیونٹین ۔۔۔۔۔۔اور ہر بار دولت لوٹ کر وطن چلا گیا ۔ یہ تو امیر لوگ تھے جن کا دماغ خراب ہو گیا ۔عوام کے پاس اس وقت بھی روٹی کپڑا مکاں نہ تھا ۔ پیسے کا نشہ برا ہوتا ہے ۔ ہوس بڑھ جاتی ہے یعنی لالچ بڑھ جاتا ہے ۔  امیر درباری سازشیں کرنے لگے "۔

 یہ سازش والی بات بچوں کو ہضم نہ ہوئی مگر اس ڈر سے کہ دادا ابا روٹھ  نہ جائیں وہ سب چپ رہے ۔دادا نے کہانی جاری رکھی ۔" درباریوں نے بادشاہ کے ولی عہد شہزادے کو پٹی پڑھانی شروع کی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے سوال کرنے ہی لگے تھے مگر داد نے انگلی ہونٹوں پر رکھ چپ کرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔" کہ پرنس صاحب وزیر اعظم بننے کا حق تمہارا ہے ۔"۔

  دو بچے مل کر گانے لگے ۔۔۔۔" ساڈا حق ایتھے رکھ" ۔۔۔۔۔

 دادا نے دھیان نہ دیا جب بچے خاموش ہوئے تو انہوں نے کہا" ایاز ایک گڈریا تھا ۔"

 ایک بچے کا نام ایاز تھا سب اسے انگلیاں چبھونےلگے، گدگدانے لگے ۔ دادا برابر کہانی سنانے میں محو رہے ۔"  بادشاہ سلامت جنگل سے اٹھا لائےغریب فقیر ایازکو وزیر اعظم بنانے چلے ہیں ۔۔۔۔  شہزادہ صاحب اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے پیارے پرنس کچھ کرو" ۔

  چلبلے بچوں کو چین کہاں تھا سوال کرنے کو بے چین تھے مگر بڑی مشکل سے کہانی میں دلچسپ موڑ آیا تھا ۔ بس پہلو بدل کر دادا کی طرف متوجہ رہے ۔
دادا: ۔ ایک روز کیا ہوأ ؟ ۔۔۔
کیا ہوا؟ بچے ایک ساتھ چیخے ۔
دادا:، ایک ایجنسی نے سازش والی بات بادشاہ تک پہنچا دی ۔ بادشاہ چالاک تھا، بیٹے سے کہا ۔ سنْڈے کو سب درباریوں کو اکٹھا کرو ۔ سب کے سامنے وجہ بیان کروں گا کہ وزارت کس کا حق ہے؟
بچے پھر گانے ،لگے ۔۔۔ ساڈا حق ایتھے ۔۔ ایتھے رکھ !!۔
لو جی سنڈے آ گیا ۔ دربار لگا یعنی پارلیمنٹ کی میٹنگ ہوئی ۔
ابھی لوگ ٹھیک سے، ڈھنگ سے بیٹھ بھی نہ پائے تھے کہ بادشاہ نے اچانک اپنے بیٹے کو حکم دیا یہ سامنے جو نہایت قمتی ہیروں سے جڑا تھال رکھا ہے اٹھا کر دھڑام سے زمین پر پھینک دو ۔
شہزادہ ولی عہد کھڑا ہوا ۔ آّداب بجا لایا اور پل دو پل ٹھہر کر بولا : اتنا قیمتی تحفہ وہ بہت بڑے ملک کا تحفہ !۔ خیال فرمائیے زمین پر دے مارا تو ٹوٹ پھوٹ نہ جائےگا ؟
بادشاہ نے کہا ۔ بیٹھ جاؤ

 پھر باشاہ نے یہی حکم اپنے غلام ایاز کو دیا جسے وہ وزیر اعظم بنانے جا رہا تھا ۔ ایاز نے حکم سنا ۔ اٹھا، آؤ دیکھا نہ تاؤ ہیرے جواہرات جڑا تھال زمین پر دے مارا ۔ پورے دربار یعنی پارلیمنٹ پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ 
 ایک ذہین نواسہ جو عمر میں دوسروں سے تھوڑا بڑا تھا: بولا" نانا ابا یہ سکتہ کیا ہوتا ہے؟" ۔ 
دادا اباَ : سمجھو! تھوڑی دیر کو سب کے سب کومے میں چلے گئے ۔
جب اسپیکر نے بیل بجا کر لنچ کا اعلان کیا کہ لنچ کے بعد چار بجے دوبارہ اجلاس ہو گا ۔ 
بچے بھی اٹھ کر جانے لگے تو دادا ابا نے کہا بھئی ابھی تمہارے لنچ کا وقت نہیں ہوأ ۔ بیٹھئے رہو ۔ اب کہانی ختم ہونے جا رہی ہے ۔
دادا ابا ذرا ذرا مسکرائے اور کہا : اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر بادشاہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا ۔ بعض وقت ملک میں اچانک دھرنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ شورش کا خطرہ ہوتا ہے ۔ میرا مطلب کچھ لوگ بغاوت پر آمادہ ہوتے ہیں یعنی حکومت توڑنے پر تل جاتے ہیں ۔ ادھر باشاہ کو انٹیلی جنس رپوٹیں ملی ہوتی ہیں جن کی روشنی میں فوری قدم اٹھانا پڑتا ہے ۔ پولیس اور رینجر اور فوج بلانی پڑتی ہے ۔ ایسے وقت میں اچھی سوچ  دھری رہ جاتی ہے اور ضرورت ایاز کی طرح فوری عمل کرنے کی ہوتی ۔ آملیٹ بنانے کے لئے انڈے توڑنے پڑتے ہیں ۔ بچوں نے بور بور کے نعرے لگائے ۔ یہ بھی کوئی کہانی ہے ؟ دادا ابا کوئی اچھی سی کہانی سنائے ۔۔۔۔۔
********    

Mukarram Niyaz

unread,
Sep 27, 2014, 3:10:54 PM9/27/14
to bazmeqalam

دلچسپ بہترین پوپ کہانی ہے۔




--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Maqsood Sheikh

unread,
Sep 27, 2014, 8:16:27 PM9/27/14
to BAZMe...@googlegroups.com

مکرم نیاز صاحب ۔
ایک وضاحت کرنا چاہوں گا ۔ تعمیر ویب پر بریڈ فورڈ ۔ لندن لکھا ہے ۔
چھوٹائی بڑائی کے لحاظ سے بریڈ فورڈ انگلستان (یو کے ) کا دسواں شہر ہے اور لندن سے دوسو دس میل کے فاصلے پر ہے ۔
 
پوپ کہانی " بیٹے کا مشورہ ۔ باپ کا عمل " کی پسندیدگی اور تعمیر ویب پر اشاعت کے لئے شکریہ قبول کیجئے ۔
مقصود ۔


This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active.


M.Shahid Rizwan

unread,
Sep 27, 2014, 11:42:29 PM9/27/14
to BAZMe...@googlegroups.com
بہت بہترین کہانی ہے۔ حسب حال
 
Mohammed Shahid Rizwan

Maqsood Sheikh

unread,
Sep 28, 2014, 2:42:58 AM9/28/14
to BAZMe...@googlegroups.com

شکریہ ۔
مقصود ۔

Rafeeq Sultan

unread,
Sep 28, 2014, 11:18:09 AM9/28/14
to BAZMe...@googlegroups.com

عمدہ کہانی ۔۔۔۔
دل کو چھو لینے والی۔۔۔

دماغ کو جھن جھنا دینے والی ۔۔۔

واہ صاحب واہ

Maqsood Sheikh

unread,
Sep 28, 2014, 1:18:59 PM9/28/14
to BAZMe...@googlegroups.com

رشید رضوان ساحب اور رفیق سلطان صاحب ۔
میں آپ دونوں کا ممنون ہوں ۔ آپ نے کہانی پسند کی، میری حوصلہ افزائی ہوئی اور ادب کی اس نئی صنف پوپ کہانی کو بڑھاوا ملا ۔ انشاللہ جلد ہی اور بھی پوپ کہانیاں پیش کروں گا ۔
مجھے معلوم ہوأ کہ بزم قلم کے اراکین میں ادب پسند کرنے والے احباب بھی ہیں اور بزم صرف ایک خاص حلقے تک محدود نہیں جو ہر بات کھنیچ تان کر اپنی موشگافیوں سے بتنگڑ بنا دیتے ہیں ۔
واسلام
مقصود ۔

Tanwir Phool

unread,
Sep 28, 2014, 2:50:03 PM9/28/14
to Aijaz Shaheen
بہت خوب مقصود بھائی ! کیا منفرد انداز ہے!
داد اور دلی مبارک باد قبول کیجئے ۔
والسلام   ،  تنویرپھولؔ

Maqsood Sheikh

unread,
Sep 28, 2014, 8:23:32 PM9/28/14
to BAZMe...@googlegroups.com

پھول بھائی ! شکریہ ۔ آپ کے الفاظ  تحسین میرے لئے سند ہیں ۔ مکرر شکریہ۔
مقصود

Syed Ahmed

unread,
Sep 29, 2014, 2:56:24 AM9/29/14
to bazme...@googlegroups.com

محترم مقصود شیخ صاحب. سلام مسنون
آپ کی مخصوص ایجاد پوپ کہانی بہت اچھی لگی, یوں تو بزم پر روزانہ کوئی نہ کوئی کہانی چسپاں کی جاتی ہے اور ہر شخص اس محفل کو زعفران زار بنائے رکھنے میں اپنی سی کوشش کرتا ہے مگر اس کہانی میں جو چند چیزیں دل چھوتی ہوئی ہیں ان میں سے کچھ یہ بھی ہیں کہ آپ نے کہانی کو ابتداء سے انتہاء تک رشتوں کے ایک فطری ومنطقی تسلسل سے مربوط کیا, ایک بیٹا جو اپنے باپ کو جو مشورہ دیتا دکھائی دیتا ہے اس کے اندر بھی اپنی مصروفیات کی باوجود اس تہذیبی ورثہ کی قدر وقیمت موجود ہے جو خود ہی در اصل اس باپ (دادا) کی کمائی ہے اور وہ بیٹا اپنے بچوں (پوتوں) تک منتقل کرکے اس
تسلسل کو
جاری رکھنے کا خواہشمند ہے, مزید برآں یہ کہانی یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ماحول اور زبان کے بدلنے کے باوجود مخاطب کی رعایت سے بات کی جائے تو بات اپنا اثر چھوڑتی ہے, مزید زبان وبیاں کا اچھوتا انداز سونے پہ سہاگا, اس کے سوا کچھ اور بھی.
والسلام
سید احمد
04/12/1435ھ
29/09/2014ش



------------------------------
On Sat, Sep 27, 2014 8:15 PM EDT Maqsood Sheikh wrote:

>
>مکرم نیاز صاحب ۔
>ایک وضاحت کرنا چاہوں گا ۔ تعمیر ویب پر بریڈ فورڈ ۔ لندن لکھا ہے ۔
>چھوٹائی بڑائی کے لحاظ سے بریڈ فورڈ انگلستان (یو کے ) کا دسواں شہر ہے اور
>لندن سے دوسو دس میل کے فاصلے پر ہے ۔
>
>پوپ کہانی " بیٹے کا مشورہ ۔ باپ کا عمل " کی پسندیدگی اور تعمیر ویب پر
>اشاعت کے لئے شکریہ قبول کیجئے ۔
>مقصود ۔
>
>On 27/09/2014 20:10, Mukarram Niyaz wrote:
>
> دلچسپ بہترین پوپ کہانی ہے۔
> پوپ کہانی - بیٹے کا مشورہ باپ کا عمل
> <http://www.taemeernews.com/2014/09/pop-story-Father-follows-son-advice.html>
>
> 2014-09-26 19:27 GMT+03:00 Aapka Mukhlis <aap...@gmail.com
> <mailto:aap...@gmail.com>:
> www.urduaudio.com <http://www.urduaudio.com>
> <https://groups.google.com/forum/#%21searchin/BAZMeQALAM/zest%7Csort:relevance>
>
>
>
>
> --
> /Syed Mukarram Niyaz
> www.taemeer.com
> <http://sa.linkedin.com/pub/mukarram-niyaz/52/ba3/191>|https://www.facebook.com/taemeer
> <https://www.facebook.com/taemeer>|http://twitter.com/taemeer
> <http://twitter.com/taemeer>|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz
> <https://plus.google.com/+MukarramNiyaz>|http://www.youtube.com/user/taemeer
> <http://www.youtube.com/user/taemeer>|http://www.pinterest.com/taemeer/ <http://www.pinterest.com/taemeer/>
> /
> C.E.OTaemeer Web Development <http://www.taemeer.com/>
> www.taemeernews.com <http://www.taemeernews.com/>: the very 1stdaily
> /_Urdu_/News searchable web portal on the net
> www.urdukidzcartoon.com <http://www.urdukidzcartoon.com/>: the very
> 1st/_Urdu_/cartoon/comics project on the net
> <https://groups.google.com/forum/#%21searchin/BAZMeQALAM/zest%7Csort:relevance>
>
>
>
>---
>This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active.
>http://www.avast.com

Maqsood Sheikh

unread,
Sep 29, 2014, 5:42:23 AM9/29/14
to BAZMe...@googlegroups.com
بھائی سید احمد
آپ نگاہ دور رس رکھتے ہیں ۔ آپ نے کہانی کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کا مقصد بھی پڑھ لیا ۔ واہ!! ۔ پسندیدگی کا شکریہ ۔
والسلام
مقصود ۔

Gul Bakhshalvi

unread,
Oct 2, 2014, 11:08:40 AM10/2/14
to BAZMe...@googlegroups.com
مخلص صاحب آپ کی پسند آپ کی ہے ۔۔۔۔۔۔ اچھا ہوا بچوں نے بور بور کے نعرے لگائے ۔۔۔ گو نواز گو کے نعرے نہیں لگائے ،،،،،، بخشالوی




--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786
360.gif

Maqsood Sheikh

unread,
Oct 2, 2014, 1:22:27 PM10/2/14
to BAZMe...@googlegroups.com

مخلص صاحب اچھے سے جانتے ہیں کہ بعض بڑی عمر کے بچے بھی اس قسم کے نعرے لگا سکتے ۔ خاص طور پر جب کوئی محض داد پر ہی جیتا ہو ۔
مقصود ۔ 

Aapka Mukhlis

unread,
Oct 2, 2014, 5:26:00 PM10/2/14
to bazm qalam
جی ہاں
ادیب اور شاعر کے لیے داد ٹانک کا کام کرتی ہے۔
کیا میں نے سچ فرمایا ڈاکٹر صاحب؟
مخلص
360.gif

Maqsood Sheikh

unread,
Oct 2, 2014, 5:46:13 PM10/2/14
to BAZMe...@googlegroups.com

تساں کوئی جھوٹ نیئں بولیا  ۔

Tanwir Phool

unread,
Oct 2, 2014, 8:22:01 PM10/2/14
to Aijaz Shaheen
میر تقی میرؔ آج زندہ ہوتے تو اپنا شعر تبدیل کر دیتے اور کہتے :

؎  مستند  مخلص  کا  فرمایا  ہُوا
               ساری محفل پر ہے وہ چھایا ہُوا
360.gif

Aapka Mukhlis

unread,
Oct 3, 2014, 3:28:19 AM10/3/14
to bazm qalam
نہیں بلکہ وہ یہ کہتے

ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میر ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھولؔ کی خوشبو کے سب اسیر ہوئے

یا یوں کہتے کہ

ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میر ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔  بزمِ تنویر کے سب اسیر ہوئے

یا پھر یوں کہتے 

ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میر ہوئے۔۔۔۔ تنویرِ بزم کے سب اسیر ہوئے

(وزن خود برابرکرلیجیے گا)

مخلص
360.gif
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages