199 views
Skip to first unread message

aapka Mukhlis

unread,
Jul 22, 2012, 2:05:37 AM7/22/12
to bazm qalam
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا الطاف حسین حالی کی مشہورنظم مدوجزر اسلام جو مسدس حالی کے نام سے مشہور ہوئی، پیشِ خدمت ہے۔نظم چونکہ طویل ہے اس لیے قسط وار ارسال کرتارہوں گا۔ کوشش ہوگی کہ ایک قسط میں ایک مکمل مضمون پیش کیا جائے۔مثلاً نظم کے آغاز میں قبل از اسلام عربوں کے جغرافیائی ،معاشرتی اور مذہبی حالات بیان کیے گئے ہیں تو یہ ان حالات پر مشتمل حصہ ایک یا دو اقساط میں پیش کیا جائے گا۔لیکن نظم کے آغاز سے قبل مولانا حالی کے دودیباچے پیش کیے جائیں جس سے علم ہوگا کہ اس نظم کی تخلیق کا محرک کیا تھا۔ ان دیباچوں میں مولانا نے امت مسلمہ کے لیے اپنے دل کا درد کھول کر رکھ دیا ہے۔ امید ہے کہ احبابِ بزم اس سلسلے کو شرفِ قبولیت بخشیں گے۔
والسلام
مخلص

مسدسِ حالی

الطاف حسین حالی

پہلا دیباچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حامد اً و مصلیاً

 بلبل کی چمن میں ہم زبانی چھوڑی                 بزم شعرا میں شعر خوانی چھوڑی

  جب سے دل زندہ تو نے ہم کو چھوڑا              ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی

 بچپن کا زمانہ جو کہ حقیقت میں دنیا کی بادشاہت کا زمانہ ہے ایک ایسے دلچسپ اور پر فضا میدان میں گزارا جو کلفت کے گرد و غبار سے بالکل پاک تھا ۔ نہ وہاں ریت کے ٹیلے تھے ، نہ خاردار جھاڑیاں تھیں ، نہ آندھیوں کے طوفان تھے ، نہ باد سموم کی لپٹ تھی۔

 جب اس میدان سے کھیلتے کودتے آگے بڑھے تو ایک اور صحرا اس سے بھی زیادہ دلفریب نظر آیا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں ولولے اور لاکھوں امنگیں خود بخود دل میں پیدا ہو گئیں ۔ مگر یہ صحرا جس قدر نشاط انگیز تھا ۔ اس کی سر سبز جھاڑیوں میں ہولناک درندے چھپے ہوئے تھے اور اس کے خوشنما پودوں پر سانپ اور بچھو لپٹے ہوئے تھے۔ جونہی اس کی حد میں قدم رکھا ہر گوشہ سے شیر و پلنگ اور مارو کژدم نکلے آئے ۔ باغ جوانی کی بہار اگر چہ قابل دید تھی مگر دنیا کی مکروہات سے دم لینے کی فرصت نہ ملی، نہ خود آرائی کا خیال آیا، نہ عشق و جوانی کی ہوا لگی ، نہ وصل کی لذت اٹھائی ، نہ فراق کا مزا چکھا۔

  پنہاں تھا دام سخت قریب آشیانے کے        اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

 البتہ شاعری کی بدولت چند روز جھوٹا عاشق بننا پڑا ۔ ایک خیالی معشوق کی چاہ میں برسوں دشت جنوں کی وہ خاک اڑائی کہ قیس و فرہاد کو گرد کر دیا۔ کبھی نالۂ نیم شب سے ربع مسکوں کو بلا ڈالا۔ کبھی چشم دریا بار سے تمام عالم کو ڈبو دیا۔ آہ د فغاں کے شور سے کرو بیوں کے کان بہرے ہو گئے۔شکایتوں کی بوچھاڑ سے زمانہ چیخ اٹھا ۔ طعنوں کی بھر مار سے آسمان چھلنی ہو گیا۔ جب رشک کا تلاطم ہوا تو ساری خدائی کو رقیب سمجھا ۔ یہاں تک کہ آپ اپنے سے بد گمان ہو گئے ۔ جب شوق کا دریا امنڈا تو کشش دل سے جذب مقناطیسی اور قوت کہر بائی کا کام لیا ۔ بارہا تیغ ابرو سے شہید ہوئے اور بارہا ایک ٹھوکر سے جی اٹھے۔ گویا زندگی ایک پیرا ہن تھا کہ جب چاہا اتار دیا اور جب چاہا پہن لیا۔ میدان قیامت میں اکثر گزرا ہوا۔ بہشت و دوزخ کی اکثر سیر کی۔ بادہ نوشی پر آئے تو خم کے خم لنڈھا دئیے اور پھر بھی سیر نہ ہوئے۔ کبھی خانۂ خمار کی چوکھٹ پر جبہ سائی کی ۔ کبھی مے فروش کے در پر گدائی کی۔ کفر سے مانوس رہے ایمان سے بیزار رہے۔ پیر مغاں کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ برہمنوں کے چیلے بنے۔ بت پوجے ۔ سنار باندھا۔ قشقہ لگایا ۔ زاہدوں پر پھبتیاں کہیں ۔ واعظوں کا خاکہ اڑایا ۔ دیر اور بت خانہ کی تعظیم کی۔ کعبہ اور مسجد کی توہین کی ۔ خدا سے شوخیاں کیں ۔ نبیوں سے گستاخیاں کیں ۔ اعجاز مسیحی کو ایک کھیل جانا۔ حسن یوسفی کو ایک تماشا سمجھا ۔ غزل کہی تو پاک شہدوں کی بولیاں بولیں ۔ قصیدہ لکھا تو بھاٹ اور باد خوانوں کے منہ پھیر دیئے ۔ ہر مشت خاک میں اکسیر اعظم کے خواص بتلائے ، ہر چوب خشک میں عصائے موسوی کے کرشمے دکھائے۔ ہر نمرود وقت کو ابراہیم خلیل سے جا ملایا۔ ہر فرعون بے سامان کو قادر مطلق سے جا بھڑایا۔ جس کے مداح بنے اسے ایسا بانس پر چڑھایا کہ خود ممدوح کو اپنی تعریف میں کچھ مزا نہ آیا ۔ غرض نامۂ اعمال ایسا سیاہ کیا کہ کہیں سفید باقی نہ چھوڑی۔

چو پرسش گنہم روز حشر خواہد بود      تمسکات گناہان خلق پارہ کنند

 بیس برس کی عمر سے چالیسویں سال تک تیلی کے بیل کی طرح اسی ایک چکر میں پھرتے رہے اور اپنے نزدیک سارا جہاں طے کر چکے ۔ جب آنکھیں کھیلیں تو معلوم ہوا کہ جہاں سے چلے تھے اب تک وہیں ہیں ۔

شکست رنگ شباب و ہنوز رعنائی    در آں دیار کہ زاوی ہنوز آنجائی

 نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دائیں بائیں آگے پیچھے ایک میدان وسیع نظر آیا جس میں بے شمار راہیں چاروں طرف کھلی ہوئی تھیں اور خیال کے لیے کہیں عرصہ تنگ نہ تھا۔ جی میں آیا کہ قدم آگے بڑھائیں اور اس میدان کی سیر کریں مگر جو قدم بیس برس تک ایک چال سے دوسری چال نہ چلے ہوں اور جن کی دوڑ گز دو گز زمین میں محدود رہی ہو ان سے اس وسیع میدان میں کام لینا آسان نہ تھا۔ اس کے سوا بیس برس کی بیکار اور نکمی گردش میں ہاتھ پاؤں چور ہو گئے تھے اور طاقت رفتار جواب دے چکی تھی ۔ لیکن پاؤں میں چکر تھا اس لیے نچلا بیٹھنا بھی دشوار تھا ۔ چند روز اسی تردد میں  یہ حال رہا کہ ایک قدم آگے پڑتا تھا دوسرا پیچھے ہٹتا تھا۔ ناگاہ دیکھا کہ ایک  خدا کا بندہ جو اس میدان کا مرد ہے ایک دشوار گزار رستے میں رہ نورد  رہے ۔ بہت سے لوگ جو اس کے ساتھ چلے تھے تھک کر پیچھے رہ گئے ہیں ۔ بہت سے ابھی اس کے ساتھ افتاں و خیزاں چلے جاتے ہیں ۔ مگر ہونٹوں پر پیڑیاں جمی ہیں ۔ پیروں میں چھالے پڑے ہیں ۔ دم چڑھ رہا ہے ۔ چہرہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں ۔ لیکن وہ اولو العزم آدمی جوان سب کا رہنما ہے ۔ اسی طرح تازہ دم ہے ۔ نہ اسے رستے کی تکان ہے نہ ساتھیوں کے چھوٹ جانے کی پروا ہے ۔نہ منزل کی دوری سے کچھ ہر اس ہے۔ اس کی چتون میں غضب کا جادو بھرا ہے کہ جس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے وہ آنکھیں بند کر کے اسی کے ساتھ ہو لیتا ہے اس کی ایک نگاہ ادھر بھی پڑی اور اپنا کام کر گئی۔ بیس برس کے تھکے ہارے خستہ و کوفتہ اسی دشوار گزار رستہ پر پڑ لیے ۔ نہ یہ خبر ہے کہاں جاتے ہیں نہ یہ معلوم ہے کہ کیوں جاتے ہیں ۔ نہ طلب صادق ہے نہ قدم راسخ ہے نہ عزم ہے نہ استقلال نہ صدق ہے نہ اخلاص ہے مگر ایک زبردست ہاتھ ہے کہ کھینچے لیے چلا جاتا ہے۔

آں دل کہ رم نمودے از خو بروں جواناں           دیرینہ سال پیرے بردس بیک نگاہے

 زمانہ کا نیا ٹھاٹھ دیکھ کر پرانی شاعری سے دل سیر ہو گیا تھا اور جھوٹے ڈھکوسلے باندھنے سے شرم آنے لگی تھی۔ نہ یاروں کے ابھاروں سے دل بڑھتا تھا ۔ نہ ساتھیوں کی ریس سے کچھ جوش آتا تھا ۔ مگر یہ ایک ناسور کا منہ بند کرنا تھا جو کسی نہ کسی راہ سے تراوش کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اس لیے بخارات درونی جن کے رکنے سے دم گھٹا جاتا  تھا ، دل و دماغ میں تلاطم کر رہے تھے ۔ اور کوئی رخنہ ڈھونڈتے تھے ۔ قوم کے ایک سچے خیر خواہ نے ( جو اپنی قوم کے سوا تمام ملک میں اسی نام سے پکارا جاتا ہے اور جس طرح خود اپنے پر زور ہاتھ اور قوی بازو سے بھائیوں کی خدمت کر رہا ہے ۔ اسی طرح ہر اپاہج اور نکمے کو اسی کام میں لگانا چاہتا ہے )

آ کر ملامت کی اور غیرت دلائی کہ حیوان ناطق ہونے کا دعویٰ کرنا اور خدا کی دی ہوئی زبان سے کچھ کام نہ لینا بڑے شرم کی بات ہے ۔

روچو انسان لب بجبنباں در دہن                 در جمادی لاف انسانی مزن

 قوم کی حالت تباہ ہے ۔ عزیز ذلیل ہو گئے ہیں ۔ شریف خاک میں مل گئے ہیں ۔ علم کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ دین کا صرف نام باقی ہے ۔ افلاس کی گھر گھر پکار ہے ۔ پیٹ کی چاروں طرف دہائی ہے ۔ اخلاق بالکل بگڑ گئے  ہیں اور بگڑتے جاتے ہیں ۔ تعصب کی گھنگھور گھٹا تمام قوم پر چھائی ہوئی ہے ۔ رسم و رواج کی بیٹی ایک ایک کے پاؤں پہنچا سکتے ہیں غافل اور بے پروا ہیں ۔ علماء جن کو قوم کی اصلاح میں بہت بڑا دخل ہے زمانہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے ناواقف ہیں ۔ ایسے میں جس سے جو کچھ بن آئے تو بہت ہے ورنہ ہم سب ایک ہی ناؤ میں سوار ہیں اور ساری ناؤ کی سلامتی میں ہماری سلامتی ہے ۔ ہر چند لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور لکھ رہے  ہیں۔  مگر نظم جو کہ بالطبع سب کو مرغوب ہے اور خاص کر عربوں کا ترکہ اور مسلمانوں کا موروثی حصہ ہے قوم کے بیدار کرنے کے لیے اب تک کسی نے نہیں لکھی ۔ اگر چہ ظاہر ہے کہ اور تدبیروں سے کیا ہوا جو اس تدبیر سے ہو گا ۔ مگر ایسی تنگ حالتوں میں انسان کے دل پر ہمیشہ دو طرح کے خیال گزرتے رہے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ دوسرے یہ کہ ہم کچھ کرنا چاہیے ۔ پہلے خیال کا یہ نتیجہ ہوا کہ کچھ نہ ہوا ۔ اور دوسرے خیال سے دنیا میں بڑے عجائبات ظاہر ہوئے ۔

در فیض ست منشیں از کشائش ناامید ایں جا                  برنگ دانہ از ہر قفل می روید کلید ایں جا

 " اور وہ ایسا خدا ہے کہ جب لوگ نا امید ہو جاتے ہیں تو مینہ برسات ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے"

 ہر چند اس حکم کی بجا آوری مشکل تھی اور خدمت کا بوجھ اٹھانا دشوار تھا ۔ مگر ناصح کی جادو بھری تقریر جی میں گھر کر گئی ۔ دل سے ہی نکلی تھی دل میں جا کر ٹھہری ۔برسوں کی بجھی ہوئی طبعیت میں ایک ولولہ پیدا ہوا۔ اور باسی کڑھی میں ایک ابال آیا ۔ افسردہ دل بوسیدہ دماغ جو امراض کے متواتر حملوں سے کسی کام کے نہ رہے تھے انہیں سے کام لینا شروع کیا اور ایک مسدس کی بنیاد ڈالی۔ دنیا کے مکروہات سے فرصت بہت کم ملی ۔ اور بیمار یوں کے ہجوم سے اطمینان کبھی نصیب نہ ہوا مگر ہر حال میں یہ دھن لگی رہی۔ بارے الحمد للہ کہ بہت سے وقتوں کے بعد ایک ٹوٹی پھو ٹی نظم اس عاجز بندہ کی بساط کے موافق تیار ہو گئی ۔ اور ناصح مشفق سے شرمندہ نہ ہونا پڑا ۔ صرف ایک امید کے سہارے پر یہ راہ دور دراز طے کی گئی ہے ۔ ورنہ منزل کا نشان نہ اب تک ملا ہے اور نہ آئندہ ملنے کی توقع ہے ۔

خبر نیست کہ منزل گہ مقصود کجاست      ایں قدر ہست کہ بانگ جر سے مے آید

 اس مسدس کے آغاز میں پان سات بند تمہید کے لکھ کر اول عرب کی اس ابتر حالت کا خاکہ ،کوکب اسلام کا طلوع ہونا اور نبی  امی کی تعلیم سے  اس ریگستان کا دفعتاً سر  سبز و شاداب ہو جانا اور اس ابر رحمت کا امت کی کھیتی کو رحلت کے وقت ہر ابھرا چھو ڑ جانا اور مسلمانوں کا دینی و دنیوی ترقیات میں تمام عالم پر سبقت لے جانا بیان کیا ہے ۔ اس کے بعد ان کے تنزل کا حال کھا ہے اور قوم کے لیے اپنے بے ہنر ہاتھوں سے ایک آئینہ خانہ بنایا ہے جس میں آ کر وہ اپنے خط و خال دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کون تھے اور کیا ہو گئے ۔ اگر چہ اس جانکاہ نظم میں جس کی دشواریاں لکھنے والے کا دل اور دماغ ہی خوب جانتا ہے بیان کا حق نہ مجھ سے ادا ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔ مگر شکر ہے کہ جس قدرہو گیا اتنی بھی امید نہ تھی ۔ ہمارے ملک کے اہل مذاق ظاہراً اس روکھی پھیکی سیدھی سادی نظم کو پسند نہ کریں گے ۔ کیونکہ اس میں تاریخی واقعات ہیں چند آیتوں اور حدیثوں کا ترجمہ ہے یا جو آج کل قوم کی حالت ہے ، اس کا صحیح صحیح نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ نہ کہیں نازک خیالی ہے ، نہ رنگیں بیانی ، نہ مبالغہ کی چاٹ ہے ، نہ تکلف کی چاشنی ہے ، غرض کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اہل وطن کے کان مانوس اور مذاق آشنا ہوں اور کوئی کرشمہ ایسا نہیں ہے کہ لاعین  راَت ولا اذنٌ سمعت ولا خطر علی قلب بشر  (نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی بشر کے دل میں گزارا)  گویا اہل دہلی و لکھنؤ کی دعوت میں ایک ایسا دستر خوان چنا گیا ہے جس میں ابالی کھچڑی اور بے مرچ سالن کے سوا کچھ نہیں مگر اس نظم کی ترتیب مزے لینے اور وہ واہ سننے کیلیےنہیں کی گئی ۔ بلکہ عزیزوں اور دوستوں کو غیرت اور شرم دلانے کے لیے کی گئی ہے ۔ اگر دیکھیں اور پڑھیں اور سمجھیں تو ان کا احسان ہے ورنہ کچھ شکایات نہیں ۔

حافظ وظیفۂ تو دعا گفتن است و بس    در بند آں مباش کہ تشنید یا شنید

 

دوسرا دیباچہ اگلی قسط میں پیش کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

 

aapka Mukhlis

unread,
Jul 22, 2012, 2:10:52 AM7/22/12
to bazm qalam


-----

I Am BazMi

unread,
Jul 22, 2012, 6:26:50 AM7/22/12
to bazme...@googlegroups.com
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ سلسلہ شروع کیا ہے ۔۔۔۔ 
جزاک اللہ خیر ۔۔
 



Regards
BazMi
Karachi-Pakistan





 



From: aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>
To: bazm qalam <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Saturday, July 21, 2012 11:10 PM
Subject: {13146} مسدس حالی مع دیباچہ

--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
 
 
 


Azmat Sharif

unread,
Jul 22, 2012, 5:26:33 PM7/22/12
to bazme...@googlegroups.com

Assalam u alykum wa rahmatullahi wa barakathuh, 

Mu'af kerna .. color combination kuch ayssa hai keh parhna dushwaar hai.


==================================================================================================Please Please join us on Internet Islamic Urdu voice and text channel (directed by 12 authentic ahluss sunnah wal jama'at scholars) 'FAHM UL QURAN operating 24 hours a day.  For more description  and how to  benefit from it,  see                   http://aasimfq.wordpress.com/  and
Click on the flashing JOIN FQ  sign to get step by step method.
====================================================


--- On Sun, 7/22/12, I Am BazMi <soul_o...@yahoo.com> wrote:

Abid Al-Dulemi

unread,
Jul 23, 2012, 3:18:03 PM7/23/12
to bazme...@googlegroups.com

Abida Rahmani

unread,
Jul 24, 2012, 12:09:53 PM7/24/12
to bazme...@googlegroups.com
بالکل صحیح فرما رہے ہیں آپ واقعی پڑھنا مشکل ہے مخلص صاحب توجہ فرمائیں
شکریہ






Abida Rahmani





--- On Sun, 7/22/12, Azmat Sharif <abr...@yahoo.com> wrote:

aapka Mukhlis

unread,
Jul 24, 2012, 12:57:27 PM7/24/12
to bazme...@googlegroups.com
پتا نہیں کیا بات ہے
میرے پاس تو بالکل صحیح نظر آرہاہے
سبز پس منظر میں سفیدتحریر ہے
میں دوبارہ بھیجتا ہوں
 



Regards
BazMi
Karachi-Pakistan



 
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   

aapka Mukhlis

unread,
Jul 24, 2012, 1:00:53 PM7/24/12
to bazme...@googlegroups.com

مسدسِ حالی

الطاف حسین حالی

پہلا دیباچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حامد اً و مصلیاً

 بلبل کی چمن میں ہم زبانی چھوڑی                 بزم شعرا میں شعر خوانی چھوڑی

  جب سے دل زندہ تو نے ہم کو چھوڑا              ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی

 بچپن کا زمانہ جو کہ حقیقت میں دنیا کی بادشاہت کا زمانہ ہے ایک ایسے دلچسپ اور پر فضا میدان میں گزارا جو کلفت کے گرد و غبار سے بالکل پاک تھا ۔ نہ وہاں ریت کے ٹیلے تھے ، نہ خاردار جھاڑیاں تھیں ، نہ آندھیوں کے طوفان تھے ، نہ باد سموم کی لپٹ تھی۔

 جب اس میدان سے کھیلتے کودتے آگے بڑھے تو ایک اور صحرا اس سے بھی زیادہ دلفریب نظر آیا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں ولولے اور لاکھوں امنگیں خود بخود دل میں پیدا ہو گئیں ۔ مگر یہ صحرا جس قدر نشاط انگیز تھا ۔ اس کی سر سبز جھاڑیوں میں ہولناک درندے چھپے ہوئے تھے اور اس کے خوشنما پودوں پر سانپ اور بچھو لپٹے ہوئے تھے۔ جونہی اس کی حد میں قدم رکھا ہر گوشہ سے شیر و پلنگ اور مارو کژدم نکلے آئے ۔ باغ جوانی کی بہار اگر چہ قابل دید تھی مگر دنیا کی مکروہات سے دم لینے کی فرصت نہ ملی، نہ خود آرائی کا خیال آیا، نہ عشق و جوانی کی ہوا لگی ، نہ وصل کی لذت اٹھائی ، نہ فراق کا مزا چکھا۔

  پنہاں تھا دام سخت قریب آشیانے کے    اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

 البتہ شاعری کی بدولت چند روز جھوٹا عاشق بننا پڑا ۔ ایک خیالی معشوق کی چاہ میں برسوں دشت جنوں کی وہ خاک اڑائی کہ قیس و فرہاد کو گرد کر دیا۔ کبھی نالۂ نیم شب سے ربع مسکوں کو بلا ڈالا۔ کبھی چشم دریا بار سے تمام عالم کو ڈبو دیا۔ آہ د فغاں کے شور سے کرو بیوں کے کان بہرے ہو گئے۔شکایتوں کی بوچھاڑ سے زمانہ چیخ اٹھا ۔ طعنوں کی بھر مار سے آسمان چھلنی ہو گیا۔ جب رشک کا تلاطم ہوا تو ساری خدائی کو رقیب سمجھا ۔ یہاں تک کہ آپ اپنے سے بد گمان ہو گئے ۔ جب شوق کا دریا امنڈا تو کشش دل سے جذب مقناطیسی اور قوت کہر بائی کا کام لیا ۔ بارہا تیغ ابرو سے شہید ہوئے اور بارہا ایک ٹھوکر سے جی اٹھے۔ گویا زندگی ایک پیرا ہن تھا کہ جب چاہا اتار دیا اور جب چاہا پہن لیا۔ میدان قیامت میں اکثر گزرا ہوا۔ بہشت و دوزخ کی اکثر سیر کی۔ بادہ نوشی پر آئے تو خم کے خم لنڈھا دئیے اور پھر بھی سیر نہ ہوئے۔ کبھی خانۂ خمار کی چوکھٹ پر جبہ سائی کی ۔ کبھی مے فروش کے در پر گدائی کی۔ کفر سے مانوس رہے ایمان سے بیزار رہے۔ پیر مغاں کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ برہمنوں کے چیلے بنے۔ بت پوجے ۔ سنار باندھا۔ قشقہ لگایا ۔ زاہدوں پر پھبتیاں کہیں ۔ واعظوں کا خاکہ اڑایا ۔ دیر اور بت خانہ کی تعظیم کی۔ کعبہ اور مسجد کی توہین کی ۔ خدا سے شوخیاں کیں ۔ نبیوں سے گستاخیاں کیں ۔ اعجاز مسیحی کو ایک کھیل جانا۔ حسن یوسفی کو ایک تماشا سمجھا ۔ غزل کہی تو پاک شہدوں کی بولیاں بولیں ۔ قصیدہ لکھا تو بھاٹ اور باد خوانوں کے منہ پھیر دیئے ۔ ہر مشت خاک میں اکسیر اعظم کے خواص بتلائے ، ہر چوب خشک میں عصائے موسوی کے کرشمے دکھائے۔ ہر نمرود وقت کو ابراہیم خلیل سے جا ملایا۔ ہر فرعون بے سامان کو قادر مطلق سے جا بھڑایا۔ جس کے مداح بنے اسے ایسا بانس پر چڑھایا کہ خود ممدوح کو اپنی تعریف میں کچھ مزا نہ آیا ۔ غرض نامۂ اعمال ایسا سیاہ کیا کہ کہیں سفید باقی نہ چھوڑی۔

چو پرسش گنہم روز حشر خواہد بود  تمسکات گناہان خلق پارہ کنند

 بیس برس کی عمر سے چالیسویں سال تک تیلی کے بیل کی طرح اسی ایک چکر میں پھرتے رہے اور اپنے نزدیک سارا جہاں طے کر چکے ۔ جب آنکھیں کھیلیں تو معلوم ہوا کہ جہاں سے چلے تھے اب تک وہیں ہیں ۔

شکست رنگ شباب و ہنوز رعنائی    در آں دیار کہ زاوی ہنوز آنجائی

 نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دائیں بائیں آگے پیچھے ایک میدان وسیع نظر آیا جس میں بے شمار راہیں چاروں طرف کھلی ہوئی تھیں اور خیال کے لیے کہیں عرصہ تنگ نہ تھا۔ جی میں آیا کہ قدم آگے بڑھائیں اور اس میدان کی سیر کریں مگر جو قدم بیس برس تک ایک چال سے دوسری چال نہ چلے ہوں اور جن کی دوڑ گز دو گز زمین میں محدود رہی ہو ان سے اس وسیع میدان میں کام لینا آسان نہ تھا۔ اس کے سوا بیس برس کی بیکار اور نکمی گردش میں ہاتھ پاؤں چور ہو گئے تھے اور طاقت رفتار جواب دے چکی تھی ۔ لیکن پاؤں میں چکر تھا اس لیے نچلا بیٹھنا بھی دشوار تھا ۔ چند روز اسی تردد میں  یہ حال رہا کہ ایک قدم آگے پڑتا تھا دوسرا پیچھے ہٹتا تھا۔ ناگاہ دیکھا کہ ایک  خدا کا بندہ جو اس میدان کا مرد ہے ایک دشوار گزار رستے میں رہ نورد  رہے ۔ بہت سے لوگ جو اس کے ساتھ چلے تھے تھک کر پیچھے رہ گئے ہیں ۔ بہت سے ابھی اس کے ساتھ افتاں و خیزاں چلے جاتے ہیں ۔ مگر ہونٹوں پر پیڑیاں جمی ہیں ۔ پیروں میں چھالے پڑے ہیں ۔ دم چڑھ رہا ہے ۔ چہرہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں ۔ لیکن وہ اولو العزم آدمی جوان سب کا رہنما ہے ۔ اسی طرح تازہ دم ہے ۔ نہ اسے رستے کی تکان ہے نہ ساتھیوں کے چھوٹ جانے کی پروا ہے ۔نہ منزل کی دوری سے کچھ ہر اس ہے۔ اس کی چتون میں غضب کا جادو بھرا ہے کہ جس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے وہ آنکھیں بند کر کے اسی کے ساتھ ہو لیتا ہے اس کی ایک نگاہ ادھر بھی پڑی اور اپنا کام کر گئی۔ بیس برس کے تھکے ہارے خستہ و کوفتہ اسی دشوار گزار رستہ پر پڑ لیے ۔ نہ یہ خبر ہے کہاں جاتے ہیں نہ یہ معلوم ہے کہ کیوں جاتے ہیں ۔ نہ طلب صادق ہے نہ قدم راسخ ہے نہ عزم ہے نہ استقلال نہ صدق ہے نہ اخلاص ہے مگر ایک زبردست ہاتھ ہے کہ کھینچے لیے چلا جاتا ہے۔

آں دل کہ رم نمودے از خو بروں جواناں      دیرینہ سال پیرے بردس بیک نگاہے

 زمانہ کا نیا ٹھاٹھ دیکھ کر پرانی شاعری سے دل سیر ہو گیا تھا اور جھوٹے ڈھکوسلے باندھنے سے شرم آنے لگی تھی۔ نہ یاروں کے ابھاروں سے دل بڑھتا تھا ۔ نہ ساتھیوں کی ریس سے کچھ جوش آتا تھا ۔ مگر یہ ایک ناسور کا منہ بند کرنا تھا جو کسی نہ کسی راہ سے تراوش کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اس لیے بخارات درونی جن کے رکنے سے دم گھٹا جاتا  تھا ، دل و دماغ میں تلاطم کر رہے تھے ۔ اور کوئی رخنہ ڈھونڈتے تھے ۔ قوم کے ایک سچے خیر خواہ نے ( جو اپنی قوم کے سوا تمام ملک میں اسی نام سے پکارا جاتا ہے اور جس طرح خود اپنے پر زور ہاتھ اور قوی بازو سے بھائیوں کی خدمت کر رہا ہے ۔ اسی طرح ہر اپاہج اور نکمے کو اسی کام میں لگانا چاہتا ہے )

آ کر ملامت کی اور غیرت دلائی کہ حیوان ناطق ہونے کا دعویٰ کرنا اور خدا کی دی ہوئی زبان سے کچھ کام نہ لینا بڑے شرم کی بات ہے ۔

روچو انسان لب بجبنباں در دہن                 در جمادی لاف انسانی مزن

 قوم کی حالت تباہ ہے ۔ عزیز ذلیل ہو گئے ہیں ۔ شریف خاک میں مل گئے ہیں ۔ علم کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ دین کا صرف نام باقی ہے ۔ افلاس کی گھر گھر پکار ہے ۔ پیٹ کی چاروں طرف دہائی ہے ۔ اخلاق بالکل بگڑ گئے  ہیں اور بگڑتے جاتے ہیں ۔ تعصب کی گھنگھور گھٹا تمام قوم پر چھائی ہوئی ہے ۔ رسم و رواج کی بیٹی ایک ایک کے پاؤں پہنچا سکتے ہیں غافل اور بے پروا ہیں ۔ علماء جن کو قوم کی اصلاح میں بہت بڑا دخل ہے زمانہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے ناواقف ہیں ۔ ایسے میں جس سے جو کچھ بن آئے تو بہت ہے ورنہ ہم سب ایک ہی ناؤ میں سوار ہیں اور ساری ناؤ کی سلامتی میں ہماری سلامتی ہے ۔ ہر چند لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور لکھ رہے  ہیں۔  مگر نظم جو کہ بالطبع سب کو مرغوب ہے اور خاص کر عربوں کا ترکہ اور مسلمانوں کا موروثی حصہ ہے قوم کے بیدار کرنے کے لیے اب تک کسی نے نہیں لکھی ۔ اگر چہ ظاہر ہے کہ اور تدبیروں سے کیا ہوا جو اس تدبیر سے ہو گا ۔ مگر ایسی تنگ حالتوں میں انسان کے دل پر ہمیشہ دو طرح کے خیال گزرتے رہے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ دوسرے یہ کہ ہم کچھ کرنا چاہیے ۔ پہلے خیال کا یہ نتیجہ ہوا کہ کچھ نہ ہوا ۔ اور دوسرے خیال سے دنیا میں بڑے عجائبات ظاہر ہوئے ۔

در فیض ست منشیں از کشائش ناامید ایں جا                  برنگ دانہ از ہر قفل می روید کلید ایں جا

 " اور وہ ایسا خدا ہے کہ جب لوگ نا امید ہو جاتے ہیں تو مینہ برسات ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے "

 ہر چند اس حکم کی بجا آوری مشکل تھی اور خدمت کا بوجھ اٹھانا دشوار تھا ۔ مگر ناصح کی جادو بھری تقریر جی میں گھر کر گئی ۔ دل سے ہی نکلی تھی دل میں جا کر ٹھہری ۔برسوں کی بجھی ہوئی طبعیت میں ایک ولولہ پیدا ہوا۔ اور باسی کڑھی میں ایک ابال آیا ۔ افسردہ دل بوسیدہ دماغ جو امراض کے متواتر حملوں سے کسی کام کے نہ رہے تھے انہیں سے کام لینا شروع کیا اور ایک مسدس کی بنیاد ڈالی۔ دنیا کے مکروہات سے فرصت بہت کم ملی ۔ اور بیمار یوں کے ہجوم سے اطمینان کبھی نصیب نہ ہوا مگر ہر حال میں یہ دھن لگی رہی۔ بارے الحمد للہ کہ بہت سے وقتوں کے بعد ایک ٹوٹی پھو ٹی نظم اس عاجز بندہ کی بساط کے موافق تیار ہو گئی ۔ اور ناصح مشفق سے شرمندہ نہ ہونا پڑا ۔ صرف ایک امید کے سہارے پر یہ راہ دور دراز طے کی گئی ہے ۔ ورنہ منزل کا نشان نہ اب تک ملا ہے اور نہ آئندہ ملنے کی توقع ہے ۔

خبر نیست کہ منزل گہ مقصود کجاست      ایں قدر ہست کہ بانگ جر سے مے آید

 اس مسدس کے آغاز میں پان سات بند تمہید کے لکھ کر اول عرب کی اس ابتر حالت کا خاکہ ،کوکب اسلام کا طلوع ہونا اور نبی  امی کی تعلیم سے  اس ریگستان کا دفعتاً سر  سبز و شاداب ہو جانا اور اس ابر رحمت کا امت کی کھیتی کو رحلت کے وقت ہر ابھرا چھو ڑ جانا اور مسلمانوں کا دینی و دنیوی ترقیات میں تمام عالم پر سبقت لے جانا بیان کیا ہے ۔ اس کے بعد ان کے تنزل کا حال کھا ہے اور قوم کے لیے اپنے بے ہنر ہاتھوں سے ایک آئینہ خانہ بنایا ہے جس میں آ کر وہ اپنے خط و خال دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کون تھے اور کیا ہو گئے ۔ اگر چہ اس جانکاہ نظم میں جس کی دشواریاں لکھنے والے کا دل اور دماغ ہی خوب جانتا ہے بیان کا حق نہ مجھ سے ادا ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔ مگر شکر ہے کہ جس قدرہو گیا اتنی بھی امید نہ تھی ۔ ہمارے ملک کے اہل مذاق ظاہراً اس روکھی پھیکی سیدھی سادی نظم کو پسند نہ کریں گے ۔ کیونکہ اس میں تاریخی واقعات ہیں چند آیتوں اور حدیثوں کا ترجمہ ہے یا جو آج کل قوم کی حالت ہے ، اس کا صحیح صحیح نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ نہ کہیں نازک خیالی ہے ، نہ رنگیں بیانی ، نہ مبالغہ کی چاٹ ہے ، نہ تکلف کی چاشنی ہے ، غرض کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اہل وطن کے کان مانوس اور مذاق آشنا ہوں اور کوئی کرشمہ ایسا نہیں ہے کہ لاعین  راَت ولا اذنٌ سمعت ولا خطر علی قلب بشر  (نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی بشر کے دل میں گزارا)  گویا اہل دہلی و لکھنؤ کی دعوت میں ایک ایسا دستر خوان چنا گیا ہے جس میں ابالی کھچڑی اور بے مرچ سالن کے سوا کچھ نہیں مگر اس نظم کی ترتیب مزے لینے اور وہ واہ سننے کی لیےنہیں کی گئی ۔ بلکہ عزیزوں اور دوستوں کو غیرت اور شرم دلانے کے لیے کی گئی ہے ۔ اگر دیکھیں اور پڑھیں اور سمجھیں تو ان کا احسان ہے ورنہ کچھ شکایات نہیں ۔

حافظ وظیفۂ تو دعا گفتن است و بس    در بند آں مباش کہ تشنید یا شنید

From: Abida Rahmani <abidar...@yahoo.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Tuesday, July 24, 2012 7:09 PM


Regards
BazMi
Karachi-Pakistan



 
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"   

nasirali syed

unread,
Jul 27, 2012, 2:45:01 PM7/27/12
to bazme...@googlegroups.com

 
۔ ۔ ۔ سن جا دل کی داستاں


وہ جاتی بہار کی ایک عام سی شام تھی جب میں لان میں کرسی پر بیٹھا ایک پھول کو بوڑھا ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا وہ چپکے سے آکر میرے پاس کھڑی ہوگئی تھی میں نے اسے آتے ہوئے تو نہیں دیکھا مگر اس کی خوشبو کو محسوس کرتے ہی میں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ ہمیشہ کی طرح ایک کھلنڈری سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر کھیل رہی تھی، اس نے فوراً کہا ’’کہاں کھوئے ہوئے ہو، دیکھو اتنی دیر سے میں کھڑی ہوں‘‘ وقت کو ناپنے کے اس کے اپنے پیمانے تھے، اس لئے اس کے سوال کا دوسرا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہوئے اسے کہا میں اس پھول کو دیکھ رہا ہوں۔ جاتی بہار کی سانولی ہوتی ہوئی شام میں یہ کتنا اکیلا اداس اور بے آسرا سا ہوگیا ہے اور دیکھو نا یہ کتنی تیزی سے بوڑھا ہورہا ہے۔ پھول بوڑھا ہورہا ہے اس کی کھلنڈری مسکراہٹ ایک ایسی ہنسی میں ڈھل گئی جسے سن کر ایک لمحہ کو تو پھول کے چہرے پر بھی نکھار آگیا ہے جیسے اسے کلی سے دامن چھڑائے زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، اب وہ میرے سامنے بیٹھ کر حسب معمول اپنے لئے چائے بنانے لگی۔
وہ میرے سامنے تھی میں اسے دیکھ بھی رہا تھا مگر اس کے خوبصورت بالوں کی ایک جھالر میری آنکھوں اور اس کی آنکھوں کے درمیان حائل تھی، میں انتظار کرنے لگا کہ وہ چائے کا کپ اٹھائے تو شاید میں اسے دیکھ سکوں مگر لگتا تھا جیسے وقت رک سا گیا ہے نہ جانے پھر کتنے ہی مہ و سال اس جاتی بہار کی اس افسردہ شام کی دہلیز پر سر رکھے سوتے رہے، پھر اس نے اس طرح سر جھکائے ہوئے آہستگی سے پوچھا’’پھر میری کہانی کے بارے میں کیا سوچا؟‘‘ ہوں میں جیسے اس سوال کے لئے تیار نہ تھا،پھر یہی کہہ سکا۔ سوچ رہا ہوں کہ کہاں سے شروع کروں؟ کیا مطلب؟ اس نے کہا آغاز سے ، اور کہاں سے ، میں نے آہستگی سے کہا، مگر ابھی آغاز ہوا ہی کہاں ہے؟ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو پھر اختتام سے شروع کردو، بوڑھے ہوتے ہوئے پھول نے جیسے پھر ایک انگڑائی لی۔ اختتام سے کہانی کا آغاز تو بہت جان لیوا ہوتا ہے، اختتام سے تو محض مردہ کہانی ہی لکھی جاسکتی ہے یاپھر بوڑھی کہانی یعنی کانپتی، لرزتی اور کھانستی ہوئی ،جان کنی کے عذاب سہتی ہوئی کہانی ہی لکھی جاسکتی ہے، اس نے فوراً چائے کا کپ میز پر جھٹک کر رکھاااور کھڑی ہوگئی، تو تم میری کہانی یوں لکھوگے؟ اور پھر میرے لاکھ روکنے پر بھی وہ نہ رکی پاؤں پٹختی ہوئی وہ چلی گئی، میں نے بے بسی سے پھول کی طرف دیکھا تو جیسے وہ بھی شکستوں سے چور پتی پتی بکھرنے کی تیاری کررہا تھا، تب میں نے ارادہ کیا کہ اسے منانے کی خاطر میں اس کی کہانی ضرور لکھوں گا، کہانی تو میں بہت پہلے لکھنا چاہتا تھا شاید اب تک لکھ چکا ہوتا مگر میں اس کی اس کڑی شرط کا کیا کرتا جو اس نے لگا رکھی تھی’’ دیکھو یہ کہانی حرف حرف میری ہو مگر میں اس کہانی میں کہیں نظر نہ آؤں‘‘ کہانی کی اپنے سو پردے ہوتے ہیں مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کی کہانی لکھی جارہی ہو۔ وہ کہانی میں نظر نہ آئے، پھر نہ جانے میں نے کتنی ہی راتیں سوچا مگر کاغذ پر لفظوں کا پہلا پھول نہ کھل سکا۔
میری ریاضت میں کمی نہیں آئی اور میں مسلسل سعی ناکام میں الجھا رہا اور یہ کل شام کی بات ہے کہ جب ایک تتلی خشک پودوں میں نہ جانے کیا تلاش کرنے میرے لان میں بھٹکتی پھر رہی تھی تو جیسے کہانی کی الجھی ڈور کا سرا میرے ہاتھ آگیا اور میں نے فوراً اس کی کہانی لکھنا شروع کردی ، اسے منانے کے لئے میں ساری رات اس کی کہانی لکھتا رہا۔ لکھتا رہا۔ میں نے جھیل سی گہری ملکوتی آنکھوں کا ذکر کیا مگر اس کا نام نہیں لکھا۔ میں نے اس کے چہرے پر جھالر بناتے ہوئے بالوں کی شوخیوں کا ذکر کیا مگر چہرے چھپائے رکھا۔ میں نے اس کے جوش جذبات میں کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کا مزہ کاغذ پر اتارا مگر لفٹ میں تنہائی کے لمحات کی مستی میز کی دراز میں رکھ دی، میں نے قم باذنی کا ورد کرتی ہوئی مسکراہٹ کا جادو الفاظ میں ڈھالا مگر شفاپانے والے رو گیوں سے آنکھیں پھیرلیں۔ صبح تک کہانی مکمل تھی۔ مگر مجھے لگا جیسے میں خود کرچی کرچی ہوگیاہوں۔ ایک پردہ دار کہانی لکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ شاید اب اس کے بعد مزید کوئی اور کہانی نہیں لکھ پاؤں گا۔
یوں بھی کہانی کی دیوی میرے پاس لوٹ کر اب کبھی نہیں آئے گی، کیونکہ میں نے دیانتداری سے کہانی نہیں لکھی۔ لیکن یہ سودا مہنگا نہیں وہ تو مان جائے گی، میں کہانی لے کر اس کی طرف آیا۔ اسے ملا، کہانی اس کو دی اور کہا ، دیکھو میں نے تمہاری کہانی لکھ لی ہے ۔ ۔ ۔ اس نے نقاہت بھرے لہجے میں کہا، پڑھ کر بھی سنادو، مجھے تو ٹھیک سے اب نظر بھی۔ ۔ ۔ اور پھر اسے کھانسی کا دورہ پڑا۔ ۔ ۔ میں نے خزاں کی ویرانی کو حلق میں اترتے محسوس کیا تو لوٹ آیا۔ میرے گھر کے آنگن میں خزاں کے پھولوں کی بہار تھی۔ میں نے پھولوں کی ایک کیاری میں وہ کہانی دور تک دفنادی۔ اب اگر بہار کے کسی پیلے شگوفے پر اس کا نام ابھر آئے تو اس میں میرا کوئی قصو نہ ہوگا، میں نے تو بہت احتیاط کی اور جب میں لان کی طرف سے لوٹ رہا تھا تو دور سے ہیمنت کمار کی کرلاتی ہوئی آواز میرے ساتھ ہی میرے کمرے تک چلی آئی۔
پیڑوں کی شاخوں پہ سوئی سوئی چاندنی
تیرے خیالوں میں کھوئی کھوئی چاندنی
اور تھوڑی دیر میں تھک کے لوٹ جائے گی
رات یہ بہار کی ، پھر کبھی نہ آئے گی
دو ایک پل اور ہے یہ سماں
سن جادل کی داستان






ادب سرائے 27 جولائی 2012 آپ کے لئے۔ناصر علی سید
Epaper | 27 July 2012 | literature  Daily Aaj

Date: Thu, 26 Jul 2012 14:18:59 -0700
From: abidar...@yahoo.com
Subject: Re: {13305} Fwd: BaKhabar, August 2012 issue [Ramadan Special], available now: Download or Read Online
To: bazme...@googlegroups.com; aijazs...@gmail.com
CC: asma0...@gmail.com


AA Asma
Your this whole Bakhabr issue is truely inspiring.Your editorial is fabulous, comparison of the defective Ferrari's with this mortal world and traits of Islam.What an amazing idea? Congrats for this wonderful issue as usual!
This is a great combination of Urdu + English with great quotes & verses.
Keep up the amazing task!





Abida Rahmani





--- On Thu, 7/26/12, asma khan <asma0...@gmail.com> wrote:

From: asma khan <asma0...@gmail.com>
Subject: {13301} Fwd: BaKhabar, August 2012 issue [Ramadan Special], available now: Download or Read Online
To: bazme...@googlegroups.com, "Syed Aijaz Shaheen" <aijazs...@gmail.com>
Date: Thursday, July 26, 2012, 10:15 AM



---------- Forwarded message ----------
From: Rahbar International <myra...@gmail.com>
Date: Thu, Jul 26, 2012 at 2:42 AM
Subject: BaKhabar, August 2012 issue [Ramadan Special], available now: Download or Read Online
To:


BAKHABAR: The monthly newsmagazine of Bihar Anjuman

August 2012 Issue [Ramadan Special]: Download

BaKhabar




Download Previous Printable Issues :: July 2012 || June 2012 || May 2012 || April 2012 || March 2012 || Feb 2012 || Jan 2012 || Dec 2011 || Nov 2011 || Oct 2011 || Sep 2011 || Aug 2011 || July 2011 || June 2011 || May 2011 || April 2011 || March 2011 || February 2011 || January 2011 || December 2010 || November 2010 || October 2010 || September 2010 || August 2010 || July 2010 || June 2010 || May 2010 || April 2010 || March 2010 || February 2010 || January 2010 ||December 2009 || November 2009 || October 2009 || September 2009 || August 2009 || July 2009 ||June 2009 ||May 2009 ||April 2009 || September-2008 || August-2008 ||July-2008 ||June-2008 ||May-2008 || April-2008 || March-2008 || Feb-2008 || Jan-2008

View Previous Online Issues :: July 2012 || June 2012 || May 2012 || April 2012 || March 2012 || Feb 2012 || Jan 2012 || Dec 2011 || Nov 2011 || Oct 2011 || Sep 2011 || Aug 2011 || July 2011 || June 2011 || May 2011 || April 2011 || March 2011 || February 2011 || January 2011 || December 2010 || November 2010 || October 2010 || September 2010 || August 2010 || July2010 || June 2010 || May 2010 || April 2010 || November-2009 || October-2009 || July-2009 || June-2009 || May-2009 ||December-2008 || November-2008 || October-2008 || September-2008 || August-2008 ||July-2008

Call for articles

Volume-5, Issue No 9, September 2012

Would you like to share your thoughts and ideas? This would not be tough for an intellectual like you. You may even share some good news related to yourself or to your family, or to a friend.

Are we still alive-and-kicking? If you think you carry feelings that must be expressed, news or views that must be shared, write down and send on. Now!

Submit your article today : bakh...@biharanjuman.org

Volume-5, Issue No 9, September 2012: Last Date to receive articles is 20th August 2012

On other Pages of this Ramadan Special:

Quick Update on Bihar Anjuman's activities of May 2012: Index Page [Page-2]|| [Page-8] || [Page-9]


> Our Journey To The Day Of Resurrection, Part-XIV [Page-3]

> What is Zakat? [Page-3]

> I am a Muslim, alhamdulillah! Is my pocket also a Muslim? [Page-4]

> When will this mass slaughter stop? [Page-4]

> The Essence of Ramadan [Page-5]

> Muslims and their (Islamic) Banking[Page-5]

> Preparing for an Amazing Ramadan[Page-6]

> Islam encourages Lawful earning, prohibts unlawful earnings and lustful lifestyle [Page-6]

> Ramadan boosts Emotional Intelligence, Part-1 [Page-7]

> Fighting Burn-Out: Becoming A Well Balanced Productive Muslim [Page-7]

> When you thought I wasn't looking [Page-7]

> Masha-Allah! Maahe Mubarak kee Barkat [Page-9]

> Preparing For Ramadan-The 'Month Of Mercy' [Page-10]


Verily, Allah will never change the condition of a nation unless they strive to change it themselves ... Quran, 13:11 >> God helps those who help themselves!! Share knowledge even if it be one verse only ..... .

Information About Article for next issue:

Your Article must reflect your original thoughts. Articles may be on various contemporary issues, news, views, our mission, vision, objectives, activities and future projects of Bihar Anjuman or other Muslim organizations. We look forward to you to be generous in taking up responsibilities and in submitting your contributions in the form of articles, worth publishing news or information related to Ummah in general and Bihar or Jharkhand in particular.

We will not consider for publication the issues or matters which:

  • are political in nature or controversial in motive
  • are against the law in any country of the world,
  • are against letter and spirit of Indian constitution,
  • perpetrate any kind of social disharmony, fasad, or fitna
  • do not uphold accepted Islamic values.

You are, therefore, requested to come forward and participate with your articles or suggestion or important news or problems of the respective areas in Bihar and Jharkhand, ongoing social work needing attention, etc. All the accepted materials will become part of the monthly Newsletter and selected ones will also find their place in the "Articles" section of www.biharanjuman.org, thus ensuring wide coverage to them. You can get the details about article at http://www.biharanjuman.org/aboutarticle.html

Shikwa-e-zulmat-e-shab se to kahin behtar tha; Apne hissey ki koi shamm'a jalaate jaatey. [Ahmad Faraz]

Better light a candle than curse the darknesscandle


--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/

اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760

To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics

To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com

To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite

To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"




--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics

To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com

To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite

To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"




--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760

Abida Rahmani

unread,
Jul 27, 2012, 7:16:55 PM7/27/12
to bazme...@googlegroups.com
بہت پیاری کہانی ہے ناصر صاحب
اردوادب کے لئے
اپکی کاؤشیں انتہائی قابل ستائیش ہیں- میری کتاب پر ادب  سرائے میں تبصرے
کے لئے بیحد ممنون ہوں- 
 
 
 
Abida Rahmani




--- On Fri, 7/27/12, nasirali syed <nasira...@hotmail.com> wrote:

MOHAMMAD SIDDIQ IRFAN

unread,
Jul 29, 2012, 1:58:08 PM7/29/12
to Bazm e Qalam
BAZM KAY QARE'EEN KI KHIDMAT MEIn AIK N'AAT PAISH KARNAY KI SA'AADAT HASIL KAR RAHA HUn.  AAP SABKI DUA'OUn KA MUTAMMANY: Mohammad S. Irfan
N'aat.gif

aapka Mukhlis

unread,
Jul 29, 2012, 4:29:56 PM7/29/12
to bazme...@googlegroups.com
بہت خوب
ہر شعر بہت عمدہ اور لاجواب ہے
مبارک ہو

PULLMAN Jeddah Al Hamra,Credit Dept

unread,
Jul 30, 2012, 10:27:14 AM7/30/12
to bazme...@googlegroups.com

Iftekhar Arif se Muhammad Mujahid Syed ki mulaqat nazr e qareen hai. (attachment ki shakl me)

 

Shukriyah.

 

Tashfeen Syed

 

This e-mail, any attachments and the information contained therein ("this
message") are confidential and intended solely for the use of the
addressee(s). If you have received this message in error please send it
back to the sender and delete it. Unauthorized publication, use,
dissemination or disclosure of this message, either in whole or in part is
strictly prohibited.

----------------------------------------------------------------------------------------

Ce message electronique et tous les fichiers joints ainsi que les informations
contenues dans ce message (ci apres "le message"), sont confidentiels et
destines exclusivement a l'usage de la personne a laquelle ils sont adresses.
Si vous avez recu ce message par erreur, merci de le renvoyer a son
emetteur et de le detruire. Toute diffusion, publication, totale ou partielle ou
divulgation sous quelque forme que ce soit non expressement autorisees de
ce message, sont interdites.

INTERVIEW WITH IFTEKHAR ARIF BY MUJAHID SYED Published in Urdu New, Jeddah.pdf

Mukhtar Ali

unread,
Jul 30, 2012, 3:54:10 PM7/30/12
to bazme...@googlegroups.com
shukria slamat rahiye.

--
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages