توبۃ النصوح---نصوح اور منجھلے بیٹے کی گفتگو

70 views
Skip to first unread message

Aapka Mukhlis

unread,
Jan 20, 2015, 3:43:04 PM1/20/15
to bazm qalam
​​

 

 

نصوح اور منجھلے بیٹے علیم کی گفتگو

 

 

 

نصوح نے نماز عصر سے فارغ ہو  کر منجھلے بیٹے علیم کو پچھوایا کہ دیکھو مدرسے سے آئے یا نہیں۔   معلوم ہوا کہ ابھی آئے ہیں اور کپڑے اتار رہے ہیں۔   تو کہلا بھیجا کہ اپنی ضرور توں سے فارغ ہو  کر ذرا میرے پاس ہو جائیں۔   تھوڑی دیر میں علیم مدرسے کا لباس اتار کتابیں ٹھکانے سے رکھ باپ کی خدمت میں جا حاضر ہوا۔  دیکھتے ہی باپ نے کہا : " آؤ صاحب آج کل تو میں نے سنا ہے کہ تم کو بہت ہی محنت  کرنی پڑتی ہے۔  "

 

بیٹا : ششماہی امتحان قریب ہے، اسی  کے واسطے کچھ تیاری  کر رہا ہوں۔   دن تھوڑے سے رہ گئے ہیں اور کتابیں دیکھنے کو بہت باقی ہیں۔   ہر چند ارادہ  کرتا ہوں کہ رات کو گھر پر کتاب دیکھا  کروں۔   مگر بن نہیں پڑتا۔  لوگ جو بھائی جان  کے پاس آ  کر بیٹھتے ہیں، ایسی اودھم مچاتے ہیں کہ طبیعت اچاٹ ہوئی چلی جاتی ہے۔ 

 

باپ : پھر تم کچھ اس کا انسداد نہیں  کرتے؟

 

بیٹا : اس کا انسداد میرے اختیار سے خارج ہے اور رات رائیگاں جاتی ہے۔   دن کو البتہ میں نے مکان کا رہنا ہی چھوڑ دیا۔  صبح ہوئی اور اپنے کسی ہم جماعت  کے یہاں چلا گیا۔

 

باپ : اور بڑے امتحان  کے واسطے بھی کچھ تیاری  کر رہے ہو؟

 

بیٹا : ابھی اس  کے بہت دن پڑے ہیں۔   اس سے فارغ ہو  کر دیکھا جائے گا۔

 

باپ : کیا اس کا کوئی وقت مقرر ہے؟

 

بیٹا : جناب، ہاں۔   بڑے دن کی تعطیل  کے قریب ہوا  کرتا ہے۔ 

 

باپ : نہیں نہیں، تم نے میری مراد کو نہیں سمجھا۔  میں حسابِ آخرت کو بڑا امتحان کہتا ہوں۔   کیا وہ بڑا امتحان نہیں ہے؟

 

بیٹا : کیوں نہیں۔   سچ پوچھئے تو سب سے بڑا امتحان وہی ہے۔ 

 

باپ : تو میں جب تمہارے ان دنیاوی چھوٹے چھوٹے امتحانوں کی خبر رکھتا ہوں، تو کیا اس بڑے سخت امتحان کی نسبت میں نے تم سے پوچھا تو کچھ بے جا کیا؟

 

بیٹا : جناب میں نے یہ تو نہیں کہا کہ آپ نے بے جا کیا۔  ایسا کہنا میرے نزدیک گستاخی اور گناہ دونوں ہے۔ 

 

باپ : اچھا تو میں سننا چاہتا ہوں کہ تم اس بڑے سخت امتحان  کے واسطے کیا تیاری  کر رہے ہو؟

 

بیٹا : جناب، سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس امتحان  کے واسطے مطلق تیاری نہیں کی۔

 

باپ : کیا یہ غفلت نہیں ہے؟

 

بیٹا : جناب، غفلت بھی پرلے درجے کی غفلت ہے۔ 

 

باپ : لیکن جب تم ایسے دانش مند ہو کہ دنیا  کے چھوٹے چھوٹے امتحانوں  کے لیے مہینوں اور برسوں پہلے سے تیاری  کرتے ہو تو اس سخت امتحان سے غافل رہنا بڑے تعجب کی بات ہے۔ 

 

بیٹا : شامت نفس۔

 

باپ : لیکن تمہاری غفلت کا کچھ اور بھی سبب ضرور ہو گا۔

 

بیٹا : سبب یہی ہے، میری سہل انگاری۔

 

باپ : تم جواب دیتے ہو لیکن صرف لفظوں کو پھیر پھار  کر۔  میں نے تم سے غفلت کا سبب پوچھا اور تم نے کہا کہ سہل انگاری اور سہل انگاری اور غفلت ایک ہی چیز ہے۔   تو گویا تم نے غفلت کو غفلت کا سبب کہا۔

 

بیٹا : شاید گھر میں دین داری کا چرچا ہونے سے میری غفلت کو ترقی ہوئی ہو۔

 

باپ : بے شک، یہی سبب ہے تمہاری غفلت کا اور میں نے تم سے کھود کھود  کر اسی لیے دریافت کیا کہ جہاں تک تمہاری غفلت میری بے پرواہی کی وجہ سے ہے اس کا الزام مجھ پر ہے اور ضرور ہے کہ میں تمہارے روبرو اس کا اقرار  کروں اور تم چھوٹے ہو  کر مجھ کو ملامت  کرو۔

 

بیٹا : نہیں جناب قصور سراسر میرا ہے۔   مجھ کو خدا نے اتنی موٹی بات  کے سمجھنے کی عقل دی تھی کہ مجھ کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے اور میرے پیدا  کرنے سے صرف یہی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ میں جانوروں کی طرح کھانے اور پانی سے اپنا پیٹ بھر  کر سو رہا  کروں۔ 

 

باپ : تمہاری با توں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمہاری دینی معلومات بھی کم درجے کی نہیں ہیں۔   لیکن نہ تو میں نے دین  کے مسائل تم کو خود سکھائے اور ان  کے سیکھنے کی کبھی تاکید کی۔  مدرسے میں تاریخ و جغرافیہ اور ہندسہ و ریاضی  کے سوائے کوئی دوسری چیز پڑھاتے نہیں۔   پھر دینی معلومات حاصل کیں تو کہاں سے کیں؟

 

بیٹا : اس میں شک نہیں کہ میں نے چھوٹی سی عمر میں قرآن پڑھا تھا لیکن وہ دوسرے ملک کی زبان میں ہے۔   طوطے کی طرح اول سے آخر تک پڑھ گیا، مطلق سمجھ میں نہیں آیا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔   اور کیا اس کا مطلب ہے۔   پھر مکتب میں گیا تو وہاں بھی کوئی دین کی کتاب پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا، قصے کہانی، ان میں بھی اکثر بری بری باتیں۔   یہاں تک کہ جن دنوں میں بہار دانش پڑھتا تھا، ایک پادری صاحب چاندنی چوک میں سر بازار وعظ کہا  کرتے تھے، مکتب سے آتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ دیکھ  کر میں بھی کھڑا ہو جاتا تھا۔  پادری صاحب  کے ساتھ کتابوں کا بھی ایک بڑا ذخیرہ تھا اور اکثر لوگوں کو اس میں سے کتابیں دیا  کرتے تھے۔   ہمارے مکتب  کے کئی لڑ کے بھی کتابیں لائے تھے۔   انہوں نے کتاب کی جلد تو اکھاڑ لی، اور ورقوں کو یا تو پھاڑ  کر پھینک دیا یا پٹھے بنائے۔   کتابوں کی عمدہ عمدہ جلدیں دیکھ  کر مجھ کو بھی لالچ آیا اور میں نے کہا، چلو ہم بھی پادری صاحب سے کتاب مانگیں۔   مکتب سے اٹھ میں سیدھا پادری صاحب  کے پاس چلا گیا۔  بہت سے لوگ ان کو گھیرے ہوئے تھے۔   ان میں ہمارے مکتب  کے بھی دو چار لڑ کے تھے۔   لوگ ان  کے ساتھ کچھ مذہبی بحث  کر رہے تھے۔   اس کو میں نے خوب نہیں سمجھا۔  مگر ایک بات تھی کہ اکیلے پادری صاحب ایک طرف تھے اور ہندو، مسلمان، سینکڑوں آدمی ایک طرف۔  لوگ ان کو بہت سخت سخت باتیں بھی کہتے تھے۔   کوئی دوسرا ہوتا تو ضرور لڑ پڑتا مگر پادری صاحب کی پیشانی پر چیں بھی تو نہیں آتی تھی۔  سخت بات سن  کر الٹے مسکرا دیتے تھے۔   لڑ کے ایک شیطان ہوتے ہیں۔   تھوڑی دیر تک تو کھڑے سنتے رہے، چلنے لگے تو ان میں ایک نے کہا : " لولو ہے بے، لولو ہے۔  " اس کی یہ بات سب لوگوں کو ناگوار ہوئی اور دو چار آدمیوں نے اس کو مارنے  کے لیے تھپڑ بھی اٹھائے۔   پادری صاحب نے روکا اور منع کیا کہ خبردار! اس سے کچھ مت بولو۔  لولو موتی کو بھی کہتے ہیں۔   شاید اس نے یہ سمجھ  کر کہا ہو تو اس کو انعام دینا چاہیے۔  پادری صاحب کی اس بات نے مجھ کیا، شاید سب لوگوں  کے دل پر بڑا ہی اثر کیا اور جب شام ہوئی، لوگ رخصت ہوئے تو کئی آدمی آپس میں کہتے جاتے تھے کہ بھائی اس شخص کا عقیدہ چاہے کیسا ہی ہو لیکن حلم اور بردباری، یہ صفت اس میں اولیاء اللہ کی سی ہے۔ 

 باقی آئندہ

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages