محترم اسلم صاحب
خوش رہیے، سلامت رہیے۔ آپ کا مضمون لفظ بہ لفظ پڑھا۔ مضمون کے آخر میں درج موبائل نمبر سے کچھ اندازہ نہیں ہورہا کہ جناب کا تعلق کس ملک و شہر سے ہے۔ غالبا ہندوستان سے ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہماری خوشی دو چند ہوگی۔ 2009 کے بعد یک لخت ہونے والے احیاء ابن صفی کے بعد اہل ہند نے بقدر ظرف اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ لیکن زیادہ تر لکھنے والوں نے مکھی پر مکھی بٹھائی ہے۔ تعلق کہیں سے بھی کیوں نہ رہا ہو، ابن صفی صاحب یا کسی بھی پسندیدہ لکھنے والے پر قلم اٹھانے کے لیے کم از کم اتنا تو ہو کہ مضمون نگار نے متعلقہ مصنف کی تحریروں کو یکسوئی کے ساتھ پڑھا ہو لیکن افسوس کہ صفی صاحب کے معاملے میں یہ بھی نہیں ہورہا ہے۔ زیادہ تر لکھنے والے حکم لگاتے ہیں اور ہم ایسے دوانے اگر ایسا کوئی مضمون پڑھ لیں تو مجبورا متعلقہ پرچے کے مدیر کو مکتوب روانہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی ہی دو حالیہ مثالیں راقم الحروف کے پٹنہ کے "آمد" اور لاہور کے "الحمراء" کو بھیجے گئے طویل مکتوبات کی شکل میں موجود ہیں جن کی متوقع اشاعت کے بعد انہیں بزم قلم پر شامل کیا جائے گا۔
اس قدر اکتا دینے والی تمہید پر معافی چاہوں گا۔ یہ سب کچھ اس لیے کہا کہ آپ کے مضمون کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ آپ نے کس قدر ڈوب کر، کس قدر انہماک کے ساتھ ابن صفی کو پڑھا ہے, کوئی "حکم" نہیں لگایا ........... راقم جیسے کئی رہے ہوں گے جو اس کا حظ بحیثیت حافظ ابن صفی، اٹھا سکتے ہیں اور پھر خاکسار نے صفی صاحب پر کتاب مرتب کی ہے اور دوسری حال ہی میں مکمل کی ہے لہذا ان سے عقیدت و محبت کا ایک دعوی رکھتا ہے۔ آپ کے مضمون میں تمام ناولوں کے عمیق جائزے کے بعد دلچسپ و متنوع اقتباسات پیش کیے گئے ہیں جن میں سے بعض کی جانب میری نظر بھی نہ گئی تھی۔
مکرمی ناصر علی سید تو فرط مسرت سے جھوم اٹھے:
ALLAHO-AKBAR......ASLAM JI SARSHAR KR DIA AAP NE ZEHEN MAIN WO JO MAZI KI FILM CHALNA SHORU HO JATI HAI NA BAS OSI TARAH YE TEHREER MEHRUBAN HAWAUn K DOSH PR URRATI HOWEE AKHARI PARAO TAK AIK HI GO MAIN LE GAEE......WOW KIA TALASH HAI KIA TAJZIA HAI MEREY PEER BHAEE
پیر بھائی کے الفاظ سے تجسس مزید جاگا ہے۔
آپ نے لکھا:
"ابن صفی میرے اُستاد ہیں کیونکہ اُن کی تحریریں پڑھ کر میں نے اردو لکھنا سیکھا ہے۔ وہ میرے معالج بھی ہیں کیونکہ اُن کے ناول ’’تزکِ دوپیازی‘‘ پڑھ کرخارش کے چالیس سالہ پرانے مرض سے مجھے نجات ملی تھی۔مختلف پیتھیوں کے ذریعے اُس کا علاج کرانے کے باوجود مجھے شفا نہیں ملی تھی۔ ’’تزکِ دوپیازی‘‘ میں ہیرو نے ایک مریضہ کی کھجلی کا سبب مچھلی کے ساتھ مسور کی دال استعمال کرنا اور اُس کا علاج تُلسی کے پتوں کا لیپ اوربطور دوا اُنہیں کھانا بتایا ہے۔ میں نے پرہیز کے طور پر مچھلی کے ساتھ مسور کی دال، جو کہ میری مرغوب ترین ڈش تھی، کھانا ترک کردیا اور ساتھ ہی تُلسی کے پتوں کا استعمال بھی شروع کیا۔ حیرتناک طور پر مجھے چند ہفتوں میں ہی چالیس سالہ پرانے مرض سے نجات مل گئی۔"
یہ رشتہ بھی خوب ہے۔ مذکورہ بالا واقعے کو پڑھ کر نہ جانے کیوں یہ خیال آرہا ہے کہ صفی صاحب حیات ہوتے اور اس بات کو آپ کی زبانی سنتے تو کس قدر محظوظ ہوتے۔
آپ نے لکھا:
" میرے ایک چھوٹے بھائی کے پاس تو ان کے تقریباً تمام ناول ہیں۔"
کیا یہ کراچی ایڈیشنز کی بات ہے یا الہ آباد کی ? یقینا آپ نے الہ آباد ایڈیشن کا ہی ذکر کیا ہے کیونکہ ایک جگہ آپ لکھتے ہیں: "ان کی کتابوں کی طلب ہمیشہ رہی ہے جسے پورا کرنے کے لیے عباس حسینی مرحوم ابن صفی کے ناولوں کو دوبارہ اور سہ بارہ شائع کرچکے تھے"۔
کیا آپ کے لیے ممکن ہوگا کہ آپ اپنے ان بھائی صاحب سے ہمارا رابطہ بذریعہ ای میل کروادیں۔ اس صورت میں ہمیں چند الہ آباد ایڈیشنز کے سرورق اور اداریے مل جائیں گے جو یہاں کراچی میں ہمیں باوجود تلاش بسیار، نہ مل سکے۔
یہ فرمائیے کہ آپ کا یہ مضمون کیا کہیں شائع ہوا ہے ? اگر ایسا ہے تو اس کی تفصیل سے آگاہ کیجیے۔
کراچی میں مقیم میرے ایک بزرگ کرم فرما اور جناب ابن صفی کے دیرینہ دوست اپنے پرچے کا ابن صفی نمبر نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ خاکسار کی صفی صاحب پر مرتب کردہ کتاب "کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" (ابن صفی پر لکھے مضامین کا مجموعہ) کا دوسرا حصہ شائع کرنے کی نیت سے میرے ساتھ مل کر کام کا آغاز کرچکے ہیں۔ آپ کا یہ مضمون کسی ایک جگہ شامل کرنے کی باضابطہ اجازت چاہتا ہوں۔ اسے ان پیج میں منتقل کرنا میرا کام ہے جس کے بعد اسے آپ کو نظر ثانی کے لیے بھیجوں گا۔
کہیے اجازت ہے ?
مضمون سے متعلق چند معروضات عرض کرتا ہوں۔ سرخ رنگ میں ان الفاظ کو رنگ دیا ہے جہاں تصحیح کی ضرورت ہے، جبکہ نیلے رنگ میں ایچ اقبال صاحب کے نام کو بوجوہ نمایاں کیا ہے، یہاں بھی دوہراتا ہوں:
ایچ. اقبال ، ہمایوں اقبال - دراصل ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ ہمایوں اقبال ، ایچ اقبال کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ ایچ اقبال صاحب سے میں رابطے میں ہوں اور صفی صاحب پر گزشتہ دو برسوں میں ہوئی مختلف تقریبات میں اکثر ہم اکھٹے ہی گئے ہیں۔ یہ ابن صفی کے نقال ضرور تھے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنا راستہ اس وقت الگ کرلیا تھا جب میجر پرمود سیریز کے نام سے ایک منفرد جاسوسی سلسلہ شروع کیا۔ یہ بھی عرض کروں کہ اس سلسلے کو صفی صاحب کے بچے بھی پڑھا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں صفی صاحب کے دوست سہیل اقبال مرحوم بیان کرتے ہیں
:
"ابن صفی کی فراخدلی کا ایک واقعہ اور سن لیجئے۔ جب پہلی بار اپنے دوست ایچ اقبال کو لے کر ابن صفی کے گھر پہنچا تو وہ ایچ اقبال سے نہ صرف پرتپاک انداز میں ملا، بلکہ اس نے انتہائی اپنائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے صاحبزادے اظہار میاں (احمد صفی صاحب) کو آوازدی، جب اظہار میاں آگئے تو موصوف نے ایچ اقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار میاں سے پوچھا۔ کہیے آپ نے پہچانا انہیں؟ تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد اظہار میاں نے مسکرا کر جواب دیا ”جی ہاں....“ غالباً آپ ایچ اقبال صاحب ہیں....“
” جی....ہاں یہ وہی ایچ اقبال صاحب ہیں جن کے جاسوسی ناولوں کو آپ بہت شوق سے پڑھا کرتے ہیں۔ اظہار میاں ہنستے ہوئے کمرے سے چلے گئے توموصوف نے مزید کہا۔ میرے گھر میں حمید، فریدی اور عمران کے کرداروں پر لکھے ہوئے، میرے ناولوں کے بعد صرف ایچ اقبال کے ناول پڑھے جاتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر ابن صفی نے نہ صرف اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایچ اقبال کے اس مقام کا بھی تعین کر دیا جس کا وہ حقدار ہے۔"
واضح رہے کہ یہاں صفی صاحب کا اشارہ میجر مرمود سیریز کے ناولوں کی جانب تھا۔
ایچ اقبال کی صفی صاحب سے عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں ابن صفی کی زندگی میں اپنے ڈائجسٹ الف لیلہ کا ایک نہایت عمدہ "ابن صفی نمبر" 1972 میں شائع کیا تھا جس میں زیادہ تر لکھنے والے خالصتا ادبی لوگ تھے۔ مذکورہ نمبر میں پروفیسر مجنوں گورکھپوری کا اہم ایک مضمون بھی شامل ہے جو آج تک پاک و ہند میں شائع کیا جارہا ہے۔
ایک جگہ آپ لکھتے ہیں:
"ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھا ۔۔۔ جوش کے اس شعر پر ’خوفناک جزیرہ‘ میں فریدی کی زبانی بڑا اچھا تبصرہ کرایا ہے"
ناول کا درست نام "بھیانک جزیرہ" ہے۔ یہ جاسوسی دنیا کا 17واں ناول تھا جو جون 1953 میں الہ آباد سے شائع ہوا تھا۔
ایک جگہ آپ نے کرداروں کی بات کرتے ہوئے گیت اور خون کی "صفیہ" لکھا ہے۔ غالبا آپ فریدہ لکھنا چاہ رہے تھے کہ فریدہ ہی مذکورہ ناول کا سب سے جاندار کردار ہے۔ اسی طرح اسی جگہ لکھا گیا ہے: ""خوفناک جھیل میں سائرہ اور قلندر بیابانی"۔ ناول کا درست نام "شیطانی جھیل" ہے۔
ایک جگہ آپ لکھتے ہیں
:
"لیکن ایک ناول میں جوش کی ترقی پسند شاعری کو انہوں نے
فریدی ہی کی زبانی ’’ پتھر پھوڑنے ‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔"
ابن صفی نے یہ پرلطف و یادگار فقرے یا تبصرہ فریدی کی زبانی نہیں بلکہ عمران کی زبانی کہلوائے تھے۔ "پتھر توڑتے ہیں" درست الفاظ ہیں۔۔ یہ سردار جعفری کا ذکر ہے جن کی شاعری پر عمران نے تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا الفاظ کہے تھے۔ ناول کا نام ڈیڑھ متوالے ہے جو آپ کا پسندیدہ ناول ہے۔ آپ اور ہم بخوبی جانتے یہ ناول 21 اکتوبر 1963 کو پہلے کراچی سے شائع ہوا تھا اور چند روز بعد الہ آباد سے شائع ہوا تھا جس کے دو ایڈیشنز کی تقریب رونمائی بالترتیب لال بہادر شاستری اور اس وقت کے وزیر قانون علی ظہیر (سجاد ظہیر کے بھائی) نے کی تھی۔ اگر آپ کے بھائی صاحب کے پاس جاسوسی دنیا کے ناول "بیچارہ/ری" (اشاعت: 21 دسمبر، 1963) موجود ہو تو اس میں ان تقاریب کی تصویریں شائع ہوئی تھیں۔ یہ تصاویر کراچی ایڈیشن میں شائع نہیں کی گئی تھیں۔ (علی ظہیر و شاستری صاحبان کی تصاویر منسلک کررہا ہوں)
ایک جگہ آپ لکھتے ہیں:
"ایک ناول میں ابن صفی نے معاشرتی اور اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غالباً حکیم محمد اقبال صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
ان کا درست نام حکیم اقبال حسین ہے۔ خاکسار نے "ابن صفی-فن اور شخصیت" میں ان کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
حکیم اقبال حسین 1909 میں شاہ جہان آباد ، دہلی میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم سینٹ اسٹیفن کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں فارسی میں ایم اے کیا۔نومبر1948 میں پاکستان چلے آئے ۔وہ مولانا مودودی کے قریبی رفقاء میں تھے۔حکیم اقبال حسین کا انتقال 72 برس کی عمر میں 6 اپریل 1980 کو کراچی میں ہوا تھا۔ حکیم صاحب کی لکھی ایک عمدہ کتاب سیر و شکار 1966 میں شائع ہوئی تھی۔
آپ نے لکھا:
"’’پاگلوں کی انجمن‘‘ میں انہو ں نے استاد نرالے عالم سے ایک غزل نما نظم پڑھوائی ہے"
ان کا پورا نام استاد محبوب نرالے عالم ہے۔ یہ بھی خاکسار کی تحقیق کا عنوان رہے ہیں۔
مذکورہ بالا جن باتوں کی جانب خاکسار نے توجہ دلائی ہے، ان کی درستگی کا اختیار مجھے نہیں ہے، البتہ اگر آپ کی منظوری مل جائے تو خاکسار مجوزہ منصوبے کے تحت "ان پیج فائل" میں تصحیحات کے بعد اسے آپ کی منظوری کے لیے بھیج سکے گا۔
ایک ضروری بات
آپ نے لکھا:
"ابن صفی کے ناولوں میں مجھے صرف یہ بات اکثر کھٹکتی ہے کہ ان کا ہیرو اپنے کسی ساتھی پر اپنا میک اپ کرکے اور مجرموں کے گروہ کے کسی فرد کا بھیس بدل کر مجرموں کے درمیان گھس جاتا ہے ۔ وہ زیادہ تر اسی طریقے سے مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یا مجرم ٹولے کا کوئی فرد (زیادہ تر لڑکی) مجرمانہ زندگی سے بے زار ہوکر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہیرو کی مدد کرتا ہے۔"
یہاں بزم پر فرزند ابن صفی جناب احمد صفی بھی موجود ہیں، وہ اس معاملے میں اپنی رائے بہتر طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں یہ سراغرسانی کے پرانے طریقوں میں سے ایک تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے ہے کہ یہ ڈھنگ و مہارت سے استعمال کرنے پر یہ نہایت کارآمد طریقہ ہوتا ہے۔ دیو آنند کی 50 کی دہائی کی چند فلمیں مثلا سی آئی ڈی، سولہواں سال وغیرہ میں بھیس بدلنے کے اسی طریقے کو دکھایا گیا ہے۔
یہ بات بھی آپ کے لیے دلچسپ ہوگی کہ جاسوسی دنیا کے ایک ناول میں ابن صفی نے اپنے کردار کی زبانی اس طریقہ کار کو بحالت مجبوری استعمال کرتے ہوئے بھی دکھایا ہے۔
رہی یہ بات کہ حکیم صاحب جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور ان کے زیر اثر، بقول آپ کے، "ابن صفی کا تعمیری و اصلاحی رجحان اسلامی اور تحریکی رجحان میں تبدیل ہوگیا تھا" ۔ ۔ ۔ ۔۔ اس کا کوئی واضح تحریری (پیش رس کے تعلق سے) ثبوت تو نہیں ملتا لیکن اس سلسلے میں فرزند ابن صفی، احمد صفی ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔
آپ لکھتے ہیں:
"ایک ناول میں ابن صفی نے معاشرتی اور اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
"
کیا یہ پاگلوں کی انجمن کا ذکر ہے ? یا کسی اور ناول کا۔ براہ کرم وضاحت فرمائیے۔ بالخصوص ان سطور کا جن میں ابن صفی نے "مذہبی اصلاحی تحریکات" کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آپ لکھتے ہیں:
"ابن صفی کے بعض منفی کرداروں پر بھی ان کی نیک مزاجی اور پاکیزہ کرداری کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً سنگ ہی، جو جرائم اور اخلاقی گراوٹوں میں غرق ہے ،چونکہ عمران کو بھتیجا کہتا ہے (عمران پر اپنی برتری جتانے کے لیے) اس لیے ان عورتوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈالتا جو اپنے آپ کو عمران سے منسوب کردیتی ہیں۔"
نہیں صاحب، یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی
کیا سنگ ہی کی "پاکیزہ کرداری" کا یہ ثبوت ہے کہ وہ ان عورتوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈالتا جو اپنے آپ کو عمران سے منسوب کردیتی ہیں۔ گویا آدمی خود بے راہ روری کا حد درجے شکار ہو، عورت اور شراب کے بغیر ایک دن بھی گزار سکے اور اس کا کسی دوسرے سے منسوب (گلے پڑی کہیے تو بہتر ہوگا کہ عمران تو کبھی کسی عورت کی جانب مائل ہی ہوا تھا) عورت کی جانب نظر اٹھا کر نہ دیکھنا بھی پاکیزہ کرداری کا ثبوت ہے ? کردار کی پاکیزگی تو ایک شراب ہی میں ہی اڑن چھو ہوجاتی ہے، بقیہ علتیں تو بعد میں آتی ہیں۔...............یاد کیجیے عمران سیریز کے جونک اور ناگن سلسلے کی میتو ہاشی اور اس کا سنگ ہی سے تعلق کا بیان۔
زہریلا سیارہ کا حوالہ تو آپ بھی دے چکے ہیں۔ سنگ ہی کی شخصیت کا یہ مضحکہ خیز پہلو بھی اس میں سامنے آتا ہے کہ دو عورتوں (?) کو پکڑ لایا تھا اور وہ آخر میں دہائی سے رہی تھیں کہ پیسے بھی نہیں دیتا۔
لیکن ٹھہریے! کم از کم ایک مثال ایسی ہے جہاں سنگ ہی نے اس عورت پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی جو عمران کی یک طرفہ محبت میں گرفتار ہوگئی تھی۔ یہ ہے "زہریلی تصویر" کی ساجدہ۔
راقم کی کتاب "ابن صفی-فن اور شخصیت" میں "ابن صفی کے ناولوں کے رومانوی کردار" میں اس موضوع پر نہایت تفصیل سے بات کی گئی ہے۔
ایک علاحدہ ای میل میں صفی صاحب پر اپنی کتاب کا تعارف ارسال کررہا ہوں
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
--