An Article On Ibn Safi

261 views
Skip to first unread message

M A Ghazi BazmeQalam

unread,
Dec 3, 2012, 7:32:46 AM12/3/12
to bazme...@googlegroups.com
محترم ارکان بزم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہٗ
محمد اسلم غازی ؔ صاحب کا ابن صفی پر لکھا ہوا مضمون پیش خدمت ہے ۔

باسمہٖ تعالیٰ
ذکرِ ابن صفی ......... حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
محمد اسلم غازی
میرے پسندیدہ ترین مصنف ابن صفی مرحوم پر آج کل بہت کچھ لکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کے ناولوں کی طلب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کی کتابوں کی طلب ہمیشہ رہی ہے جسے پورا کرنے کے لیے عباس حسینی مرحوم ابن صفی کے ناولوں کو دوبارہ اور سہ بارہ شائع کرچکے تھے۔ بعد میں دیگر اداروں نے بھی موقعے اور طلب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ناول شائع کیے۔ بک اسٹالوں پر ہمیشہ سب سے زیادہ تعداد ابن صفی کی کتابوں کی ہی ہوتی ہے۔ پہلے ہر ماہ ان کا صرف ایک ناول چھپتا تھا۔ آج کل تو ایک ساتھ کئی کئی ناول چھپ رہے ہیں۔
ابن صفی کے ناول میں اس وقت سے پڑھ رہا ہوں جب میں ساتویں جماعت میں تھا۔ میرا ایک ہم جماعت دوران کلاس اساتذہ کی نظریں بچا کر ناولیں پڑھا کرتا تھا۔ اسی سے لے کر میں نے بھی کچھ ناول پڑھے تھے جن کے بعض واقعات میرے ذہن سے چپک کر رہ گئے تھے۔ اس وقت میں ابن صفی سے ناواقف تھا۔ بعد میں جب میں شعوری طور پر ابن صفی کے ناول پڑھنے لگا اور ان کے ناول ’’خوفناک جنگل ‘‘ اور ’’گیارہواں زینہ‘‘ پڑھے تو یاد آیا کہ یہ وہی ناول ہیں جو میں اسکول میں پڑھ چکا ہوں۔ ابن صفی نے تقریباً 300 ناول لکھے ہیں۔ میں وہ سب ناول پڑھ چکا ہوں۔ بعض تو کئی کئی بار پڑھے ہیں۔ بعض سیریز بھی کئی کئی بار پڑھی ہیں۔ مثلاً: شعلہ سیریز ، شکرال سیریز، ڈیڑھ متوالے سیریز، ڈاکٹر دعاگو سیریز،بوغا سیریز، ڈاکٹر ڈریڈ سیریز وغیرہ ۔ ان کا ناول’’زمین کے بادل‘‘ میں نے شاید دس بار پڑھ لیا ہوگا۔ اس میں ابن صفی نے اپنے تخلیق کردہ دونوں ہیروؤں، کرنل فریدی اور عمران، کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ان کا سب سے اچھا ناول ہے۔ ابن صفی مرحوم اور ان کی تصنیفات سے میرے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میں نے اپنے چھوٹے بھائیوں اور اپنے بچوں کو بھی ان کے ناول پڑھوائے۔ اب انہیں بھی ان کا چسکا لگ چکا ہے۔ میرے ایک چھوٹے بھائی کے پاس تو ان کے تقریباً تمام ناول ہیں۔
ابن صفی منفرد طرز نگارش کے مالک تھے۔ ان کی تحریریں پڑھنے کے بعد ، مولانا ابوالاعلی مودودی ؒ کی تحریروں کے سوا ،مجھے کسی اور کی تحریر بالکل نہیں جچی ۔ ایچ. اقبال ، ہمایوں اقبال وغیرہ نقالوں کو میں سخت نا پسند کرتا تھا اور غلطی سے بھی ان کے ناول پڑھ نہیں پاتا تھا۔ البتہ اکرم الہ آبادی اور عارف مارہروی کے جاسوسی ناول پڑھ لیا کرتا تھا۔ کیونکہ ان میں بھی ادب کی چاشنی اور پلاٹ اور کہانی کی ندرت مل جاتی تھی۔ اکرم الہ آبادی کے کردار سپرنٹنڈنٹ حضور احمد خان اور سارجنٹ بالے نیز عارف مارہروی کے کردار میجر نیازی اور کیپٹن افضال (فریدی حمید کی طرز پر) اور قیصر حیات نکھٹو عرف مارشل کیو (عمران اور ایکسٹوکی طرز پر) گوارا تھے۔ اکرم الہٰ آبادی کا تخلیق کردہ ایک منفی کردار ڈاکٹر سالازار ایک عجیب و غریب کردار تھا۔ اس کے علاوہ ابن صفی کے کردار قاسم کی نقل ’’شوکت عرف سُکّٹ‘‘ کو بھی اکرم الہٰ آبادی نے بہتر انداز میں پیش کیا تھا۔ سچائی یہ ہے کہ یہ دونو ں حضرات بہتر لکھتے ضرور تھے لیکن کبھی بھی اس بلند معیار تک نہیں پہنچ سکے جو ابن صفی نے قائم کیا تھا۔
کردار نگاری ابن صفی کا بے مثال وصف تھا ۔وہ کردار نگاری کے شہنشاہ تھے۔ انہو ں نے جو کردار تخلیق کیے وہ زندہ جاوید ہوگئے۔ قاری ان سے اس قدر متاثر ہوجاتا ہے کہ وہ انہیں جیتے جاگتے زندہ پیکر محسوس کرنے لگتا ہے۔ کم از کم میں تو فریدی، حمید، عمران اور دیگر مثبت اور منفی کرداروں سے اس قدر مانوس اور ان کا اتنا گرویدہ ہوگیا کہ جب ابن صفی کا انتقال ہوا تو مجھے لگا گویا فریدی حمید اور عمران وغیرہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ میں کئی دنوں تک ملول رہا۔ کبھی کبھی مجھے یہ خیال بھی آتا کہ ابن صفی سے تو ان شاء اللہ آخرت میں ملاقات ہوگی لیکن کیا ان کے کرداروں سے بھی ملاقات ہوسکے گی؟ پھر میں خود ہی اپنے اس مضحکہ خیز خیال کو ذہن سے جھٹک دیتا !
ابن صفی نے لگ بھگ 30سالوں تک اپنے کرداروں کو تقریباً 300ناولوں میں پیش کیا۔ لیکن جو کردار اوّل روز جیسا پیش کیا تھا وہ آخری دن تک ویسا ہی رہا۔ مجال ہے کہ ان کی پیش کش میں کہیں کمزوری یا جھول آجائے؟ ان کے تخلیق کردہ لازوال اور زندہ جاوید کرداروں میں کرنل فریدی کو سب پر فوقیت حاصل ہے۔ غیر معمولی عقل و ذہانت ، قوت و طاقت، مردانہ حسن ووجاہت اور اعلیٰ انسانی اخلاق و کردار کا حامل یہ کردار خود ابن صفی کو بھی اپنے تمام کرداروں سے زیادہ عزیز تھا۔ ’’زمین کے بادل‘‘ میں انہوں نے اسے عمران پر فوقیت دی ہے جو ان کے کرداروں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ تیسرا کردار کیپٹن حمید ہے۔ ان کے علاوہ انور، رشیدہ ،انسپکٹر آصف ، قاسم، جولیانا فٹز واٹر، روشی، صفدر ، تنویر، جوزف، سلیمان، کیپٹن فیاض ،ظفر الملک، جیمسن، سرسلطان، رحمان صاحب ، عمران کی بہن ثریا، انسپکٹر ریکھا،استاد نرالے عالم، سنگ ہی، فنچ، تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا( ٹی تھری بی) وغیرہ سب مستقل کردار ہیں جو ان کے ناولوں میں بار بار سامنے آتے ہیں۔ ان سب کو ابن صفی نے بڑی چابکدستی سے تخلیق کیا اور برتا ہے۔ ہر کردار اپنی الگ شخصیت اور نفسیاتی خصوصیات رکھتا اور جیتا جاگتا کردار لگتا ہے۔ تیس سالوں تک اور سینکڑوں ناولوں میں ان خصوصیات میں معمولی سی تبدیلی نہیں آئی اور جھول محسوس نہیں ہوا۔ میرا یہ احساس بھی ہے کہ ابن صفی کے علاوہ ان کرداروں کو کوئی اور پیش نہیں کرسکتا۔ ان کے علاوہ بھی کئی کردار ہیں جن کے ذکر سے مضمون طوالت اختیار کر لے گا۔
ابن صفی نے ایسے بھی کئی کردار تخلیق کیے ہیں جو صرف ایک بار کسی ناول میں پیش کیے گئے لیکن اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ مثلاً ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ میں صبیحہ،شعلہ سیریز میں خانم،چاندنی کا دھواں میں صوفیہ اور جیلانی، ساتواں جزیرہ اور خوفناک جھیل میں سائرہ اور قلندر بیابانی ، سہمی ہوئی لڑکی اور قاتل کا ہاتھ میں رضیہ ،’ڈیڑھ متوالے ‘میں توبیک وقت کئی زندہ جاوید کردار پیش کیے گئے تھے ۔ مثلاً کبڑا( ہمبگ دی گریٹ )اور اس کی لمبوتری بیوی رانی آف ساجد نگر،نواب صفدر جنگ اور اس کے مصاحبین نینایعنی نسیم النساء خاتون ، منشی کرامت اللہ ہارڈی، شیخ ثناء اللہ شارٹی، شیخو عرف ٹونی اورخمیسو ڈاکو، ’گیت اور خون‘ میں صفیہ، ستاروں کی چیخیں اور ستاروں کی موت میں مردنگ ،ریگم بالا میں سب انسپکٹر واجد، دشمنوں کا شہر میں نادر وغیرہ۔ یہ فہرست بھی بہت طویل ہے ۔بلکہ یہ کہنے میں ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان کے ہر ناول میں ایک دو ایسے کردار ضرور ہوتے ہیں جو اسی ناول تک محدود ہوتے ہیں لیکن ذہنوں سے ایسے چپک جاتے ہیں کہ بھُلائے نہیں بھولتے۔ ابن صفی کے تخلیق کردہ ہر کردار کی نفسیاتی تحلیل کرکے ان پر طویل تجزیاتی مضامین لکھے جاسکتے ہیں۔
ابن صفی مرحوم کا طرز نگارش اس قدر رواں ،شگفتہ اور چٹخارہ دار ہے کہ قاری پڑھتے پڑھتے کبھی نہیں اوبتا۔ یہ ناممکن ہے کہ ان کا ناول پڑھنا شروع کرکے قاری درمیان سے چھوڑ دے۔ میری طرح ان کے لاکھوں قارئین ہوں گے جنہو ں نے ان کے اکثر ناولوں کو کئی کئی بار پڑھا ہوگا۔
ابن صفی کے ناولوں کے پلاٹ بے حد چست اور گتھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کہانی کو تیزی سے آگے بڑھانے اور پھیلانے کے فن میں مرحوم کامل مہارت رکھتے تھے۔ وقوعہ نگاری کے فن پر بھی انہیں مکمل دسترس حاصل تھی۔ واقعات بڑی تیزی سے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے ان کے ناول بہت تیز رفتار اور دلچسپ ہوتے ہیں۔
انہوں نے بعض مہماتی اور ایڈونچر سے بھرپور ایسی کہانیاں لکھی ہیں جن میں قاری ناول کے کرداروں کے ساتھ خود کو جنگلوں اور پہاڑوں کے درمیان محسوس کرتا نیز انہیں کی طرح خوف، سنسنی،تحیر ، اضطراب اور امید و بیم کی کیفیتوں سے گزرتا ہے۔ مثلاً پہاڑوں کی ملکہ، درندوں کی بستی، خوفناک جزیرہ،زمین کے بادل وغیرہ ۔ ابن صفی کے ان مہماتی ناولوں نے رائیڈر ہیگرڈ اور دیگر غیر ملکی مصنفین کے ناولوں کے اردو ترجموں کی مانگ بالکل ختم کردی تھی۔ ابن صفی کے ناولوں میں شہروں اور مقامات کے تذکرے اتنی خوبی سے کیے گئے ہیں کہ وہ فرضی ہونے کے باوجود حقیقی معلوم ہوتے ہیں ۔ تارجام، ٹیکم گڑھ، شکرال وغیرہ ہماری دنیا کے ہی خطے لگتے ہیں۔
وہ آرٹس گریجویٹ تھے لیکن ان کی قوت متخیلہ کسی سائنسداں سے کم نہیں تھی۔ اپنی ناولوں میں انہوں نے ایسی ایسی محیرالعقول مشینوں اور آلات سے متعارف کرایا تھا جو40/30 سالوں بعد واقعی عالم وجود میں آگئیں۔ مثلاً ’’ساتواں جزیرہ‘’ میں انہوں نے آئیڈنٹیٹی کاسٹ اکوپمنٹ یعنی شناخت ڈھالنے کا آلہ پیش کیا جس کے ذریعے کرنل فریدی چہرے، آنکھوں، ناک اور ہونٹوں وغیرہ کی مختلف ساختوں کو یادداشت کے سہارے یکجا کرکے مجرم کا حلیہ تیار کرلیتا ہے۔ آج کل پولس اور خفیہ محکمے یہ مشین استعمال کرکے مشتبہ ملزموں کے چہروں کے خاکے روزانہ اخبارات میں شائع کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کنفیشن چیئریعنی سچ اگلوانے والی مشین کاتذکرہ اپنے کئی ناولوں میں کیا ہے ۔ اسی طرح ’چاندنی کا دھواں‘ میں ابن صفی نے ایک ایسا TVپیش کیا تھا جس کی تصاویر فضاء میں دیکھی جاسکتی تھیں۔ تقریباً 25-20 سال قبل ایک فرانسیسی کمپنی نے ممبئی کے گرگاؤں چوپاٹی ساحل پر اسی طرح کا ایک شو کیا تھا جس میں ہوا میں تصاویر نظر آتی تھیں۔ اسی طرح زیرولینڈ سیریز کے ایک ناول میں ابن صفی کے تخیل نے تصاویر اور آواز کی طرح انسان کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسمٹ (منتقل) کردیا تھا۔ ممکن ہے کہ سفر کا یہ جدید ترین طریقہ بھی سائنس جلد ہی دریافت کرلے۔
ابن صفی بڑے صاحب قلم ادیب تھے۔ وہ بہترین نثار اور اعلی درجے کے شاعر تھے۔ان کا ہر ناول زبان و ادب کااعلیٰ نمونہ ہے۔ صرف ایک مثال پیش ہے:
* ’’خداکی پناہ۔ ۔ ۔ تو ابھی تک اسی لڑکی کا چکر چل رہا ہے؟‘‘
’’ اور دیکھو کب تک چلتا ہے !‘‘ صفدر نچلے ہونٹ دانتوں میں دبائے عمران کو گھورتا رہا ۔
’’ لیکن ایک بات ہے!‘‘ عمران کچھ دیر بعد بولا۔ ‘‘جسے یہ پیغام دینا تھا اسے شاید وہ بھی نہیں جانتا تھا ورنہ میرے حوالے کیوں کرجاتا ہے‘‘
’’سوچتے اور کڑھتے رہیے !‘‘
’’ہائیں۔۔۔ کیا مطلب ؟ کیا آج کل تم بیگمات میں زیادہ اٹھ بیٹھ رہے ہو؟ یہ کڑھنا وڑھنا بولنے لگے ہو۔۔!‘‘ (گیارہ نومبر)
ان کی نثر اور نظم میں کون زیادہ بہتر ہے یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ اگر وہ شاعری پر توجہ دیتے تو اردو کے عظیم شاعروں میں ان کا شمار ہوتا۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جاسوسی نگاری نے اردو سے ایک بڑا شاعر چھین لیا۔
وہ اردو کے عظیم نقاد بھی تھے۔ مثلاً:
* ؂ ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھا ۔۔۔ جوش ؔ کے اس شعر پر ’خوفناک جزیرہ‘ میں فریدی کی زبانی بڑا اچھا
تبصرہ کرایا ہے ۔ ’’ ہے ہے۔۔بعض اوقات میں جوش کی پیغمبری کا قائل ہوجاتا ہوں۔ کیا شعر کہہ دیا ظالم نے ۔‘‘ لیکن ایک ناول میں جوش کی ترقی پسند
شاعری کو انہوں نے فریدی ہی کی زبانی ’’ پتھر پھوڑنے ‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔
* بعض ترقی پسند اور جدید نقادوں پر اس طرح طنز کرتے ہیں:
صاحبزادے ادبی ذوق رکھتے تھے۔ ذہین بھی تھے ۔ لہذا جارحیت پسندی نے انہیں نقاد بنادیا۔ ایسے دھواں دار تنقیدی مضامین لکھتے تھے کہ اچھوں اچھوں
کی پیشانیاں بھیگ جائیں۔اکثر پڑھے لکھے لوگ شیخ صاحب سے کہتے ’’ لونڈا قابل ضرور ہے۔ مگر اسے قابو میں رکھو ۔ا رے وہ تو میرؔ و غالبؔ کے منہ آنے
کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی مصحفیؔ کے گریبان پر ہاتھ ڈالتا ہے اور کبھی حالیؔ کا مفلر گھسیٹ لیتا ہے۔‘‘
یہ باتیں شیخ صاحب کے پلے نہ پڑتیں ۔ پھر بھی اخلاقاً کہتے ’’ جی میں سمجھا دونگا۔ ان لوگوں سے کہیے کہ بچہ سمجھ کر معاف کردیں آئندہ ایسی حرکت نہیں
کرے گا!‘‘۔باپ بیٹے میں یہ تضاد دیکھ کر لو گ عبرت پکڑتے اور خاموش ہوجاتے ۔
ایک بار خود شمس الدین سے کسی نے پوچھا تھا۔’’میاں اس قدر جامے سے باہر کیوں رہتے ہو؟‘‘
اس پر وہ ہنس کر بولے تھے۔’’حسن تدبیر۔۔۔ جس طر ح مداری تماشائیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پہلے بنسری اور ڈگڈی بجاتا ہے اسی طرح میرے
مضامین کے عنوانات بھی محض توجہ مبذول کروانے کے لیے ہوتے ہیں۔اگر اپنی تنقید کو جوش کی شاعری کا نام دوں تو لوگ سرسری نظر ڈالیں گے اور صفحہ
الٹ دیں گے ۔ ۔۔ لیکن اگر میرے تنقیدی مضامین کا عنوان جوش اور پاپوش ہو تو خود سوچیے کیا ہوگا؟ آپ اسے ضرور پڑھیں گے۔ جلد شہرت حاصل
کرنے کا بہترین طریقہ ۔ بھلا اس سے جوش صاحب کا کیا بگڑے گا۔۔۔ لیکن میری شہرت مسلم ہے ۔(پاگلوں کی انجمن)
* ’’ ٹیڈی جمپرا اور ٹیڈی شلوار میں کیسا لگوں گا؟‘‘ حمید بولا
’’اتر آئے گھٹیا باتوں پر!‘‘ فریدی نے کہا
’’بھوک مجھے لفنگا بنا دیتی ہے!‘‘
’’اب ادیبوں کی سی باتیں کرنے لگے! ‘‘ فریدی مسکرایا
’’خوب یاد دلایا ۔ سنا ہے ادب میں جمود ہوگیا ہے؟ ‘‘
فریدی کچھ نہ بولا ۔ حمید بکتا رہا۔’’ میرا مقدر ہی خراب ہے۔ ابھی حال ہی میں افسانہ نگاری شروع کی تھی کہ یہ بری اطلاع ملی۔ کل شام ریڈیو پر چند جغادری
قسم کے ادیب مع ایک محترمہ اردو افسانہ کے انحطاط کے اسباب تلاش کر رہے تھے۔ ایک بزرگوار بولے جاسوسی ناولوں کی وجہ سے لوگ مختصر افسانے
سے بے توجہی برت رہے ہیں۔ وہ محترمہ حقارت سے بولیں ‘ اور یہ ناول بھی انگریزی کا چربہ ہوتے ہیں۔ دوسرے صاحب بولے کہ محترمہ ہمارا مشاہدہ ہی
جب انگریزوں کا چربہ بنتا جارہا ہے تو پھر یہ ناول کیوں نہ ہوں؟ ویسے ان جغادری ادیبوں میں ایک صاحب ایسے بھی تھے جو واشنگٹن ارونگ کے انداز
بیان ۔۔۔اور جان رکسن کے طرز انتقادکی نقالی کر کے جغادری ادیب بنے ہیں ۔ بس یہی کہنا پڑتا ہے کہ اگر وہ خدا کے وجود کے قائل ہوں تو خدا ان کی
مغفرت فرمائے۔‘‘ ( اشاروں کے شکار)
وہ بہت اچھے طنز و مزاح نگار تھے۔ قاری کو بے ساختہ مسکرانے اور قہقہ لگانے پر مجبور کرنے والی ان کی تحریروں کو عوامی مقامات مثلاً بس یا ٹرین میں پڑھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ دوران سفر ان کی تحریر پڑھتے ہوئے باوجود کوشش کے میں اپنی ہنسی نہ روک پایا اور میرے آس پاس کے ہم سفرمجھے حیرت سے تکتے رہے۔ انہوں نے کئی طنزیہ و مزاحیہ مضامین اور ناول لکھے۔ اگر وہ باقاعدگی سے طنزو مزاح نگاری کرتے تو یقیناًاُردو کے سب سے بڑے مزاح نگار ہوتے۔انہوں نے ہندوستان اور پاکستانی فلمی گانوں پر بھی کئی بار اپنے طنز ومزاح سے پھلجڑیاں چھوڑی ہیں۔
ابن صفی بنیادی طور پر اصلاحی اور تعمیری رجحان رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کے ناولوں میں نیکی کو ہمیشہ ظفرمند اور باطل کو ہمیشہ شکست خوردہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ چاہتے تو اپنے کرداروں کو اُس دور کے فیشن کے مطابق جدید تہذیب کے نمائندے بنا کر پیش کرسکتے تھے۔ لیکن ان کے کردار اخلاقی گراوٹوں سے پاک اور اعلیٰ اخلاق و تہذیب کی نمائند گی کرتے ہیں۔ فریدی اور عمران دونوں انتہائی پاک باز بلکہ زاہد خشک قسم کے کردار ہیں۔ حمید کو دو چار بار شراب پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن بہ ایں طور کہ انجام کار اس کی فضیحتی ہی ہوتی ہے اور وہ بھی آئندہ کے لیے توبہ کرکے قاری کو شراب کے اثرات بد سے محفوظ رہنے کا سبق دیتا ہے۔
عشق معاشقے کی برائی سے بھی ابن صفی کے کردار اور ناول عموماً پاک رہتے ہیں۔ ابن صفی کا ایک کردار گرانڈیل قاسم جنسی طور پر ہمیشہ ناآسودہ رہتا ہے کیونکہ اس کے پہاڑ جیسے جسم کے مقابلے میں اس کی بیوی کاجثہ گلہری جیسا ہونے کی وجہ سے دونوں میں کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوپاتے۔ اس لیے قاسم ہمیشہ موٹی تازی عورتوں کو دیکھ کر للچاتا اور جاگتے میں بھی ان کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔ ابن صفی نے اپنے اس کردار کو بھی کبھی جنس زدگی کا شکار نہیں ہونے دیا اور اس کی خواہشات اور بے چینی کو ہمیشہ طنز و مزاح کے پردوں میں چھپا کر ہی پیش کیا۔
ابن صفی نے ہر قسم کے کردار پیش کیے لیکن تہذیب اور شرافت و ادب کو کبھی پامال ہونے نہیں دیا۔ کیپٹن حمید اور اس کا دوست دیوزاد قاسم اُن کے ایسے کردار ہیں جو ہر وقت شرارت و شوخی اور ایک دوسرے سے نوک جھونک کرتے رہتے ہیں۔ ان لاابالی کرداروں کو پیش کرتے ہوئے بھی ابن صفی کا قلم تہذیب و اخلاق کی حدوں کی کس طرح پابندی کرتا ہے اس کے چند نمونے ملاحظہ فرمایئے۔ئ* ’’ایک تو وہ حرامی مارے ڈال رہا ہے۔ کئی سال پہلے کے پیسے باقی تھے وہ بھی نہیں دیے۔‘‘
اور تب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہے۔
’’تب تو جی معاف کردو‘‘ قاسم بولا ’’بہت ہلکی گالی دی تھی تم نے‘‘ (زہریلا سیارہ)
* قاسم کچھ بڑبڑایا تھا۔ یقیناًکوئی گندی سی گالی رہی ہوگی۔ (نیلم کی واپسی)
* ’’خیر سگالی کیا ہوتی ہے؟‘‘
’’تم نے دیکھا۔ اُردو میں آکر اس میں بھی گالی شامل ہوگئی۔‘‘
’’ہو ہی نہیں سکتا۔ تم غلط بول رہے ہو۔ خیرسالی ہوگا۔‘‘
’’خیرسگالی ہی درست ہے۔‘‘
اس پر خیر سگالی کو بھی ایک گندی سی گالی ہضم کرنی پڑی تھی۔ (موروثی ہوس)
* ایک گندی سی گالی قاسم کے ذہن میں گونج کر رہ گئی اور اس نے سختی سے ہونٹ بھینچ لیے کہ کہیں زبان سے بھی نہ پھسل جائے اور پھر اس کی زبان !
چھٹانک بھر کی گالی بھی ڈیڑھ من کی معلوم ہوتی تھی۔ (دہشت گر)
* ’’خبردار جو میری بیوی کا نام لیا۔ گدّی سے زبان کھینچ لوں گا اور حمید کی تو .....!‘‘
اتنی خوفناک گالی تھی کہ حمید کو پسینہ آگیا لیکن کرتا کیا، سننی ہی پڑی کیوں کہ قراقاخان تھا (دہشت گر)
ابن صفی کے بعض منفی کرداروں پر بھی ان کی نیک مزاجی اور پاکیزہ کرداری کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً سنگ ہی، جو جرائم اور اخلاقی گراوٹوں میں
غرق ہے ،چونکہ عمران کو بھتیجا کہتا ہے (عمران پر اپنی برتری جتانے کے لیے) اس لیے ان عورتوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈالتا جو اپنے آپ کو عمران سے منسوب کردیتی ہیں۔ اسی طرح ’فنچ‘ ’ننھا شیطان یا ننھا فتنہ ہے لیکن وہ شراب بھی نہیں پیتا اور خواتین کا بھی احترام کرتا ہے۔
ابن صفی کا تعمیری و اصلاحی رجحان اپنے کرداروں کی اخلاقی پاکیزگی اور بدی پر نیکی کی فتح کے اظہار تک ہی نہیں رُکتا بلکہ یہ آگے بڑھ کر باطل نظریات پر ضرب کاری لگاتا اور اسلام کے روشن نظریے کی تبلیغ بھی کرتا ہے۔ مثلاً :
* عمران اپنے کرشچین ماتحت جوزف کو یومیہ شراب کی چھ بوتلیں پینے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن اپنے مسلم ماتحتوں کو نشہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ابن صفی اپنے بعض کرداروں کی زبانی شراب کے حرام ہونے کی بات کہلواتے ہیں۔
* بابا سگ پرست سیریز اور نیلم کی واپسی وغیرہ میں انہوں نے پردے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔
* صحرائی دیوانہ میں انہو ں نے کرنل فریدی کی زبانی کہلوایا ہے کہ کالی کملی والے( حضرت محمدؐ) اس (فریدی) کے استاد ہیں۔
* ان کے ناولوں میں خالص توحید پر بھی درس ملتے ہیں۔ ’’ تیسری ناگن ‘‘ سیریز کے آخری ناول ریگم بالا میں ایک جگہ حمید اور قاسم کی گفتگوکے دوران وہ
موقع نکال لیتے ہیں:
اچانک قاسم نے ٹھوکر کھائی اور حمید کو بھی اپنے ساتھ لیتا ہوا ڈھیر ہوگیا۔
’’ ارے مردود ۔۔۔ !‘‘ حمید کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔
’’ قیا قروں۔۔۔ سالی جندگی اجیرن ہوغئی ہے۔ اللہ میاں نے اتنا بڑا ڈیل ڈول دیا تھا تو لونڈیوں کے چکر میں نہ ڈالا ہوتا!‘‘
’’ خاموش رہو ۔۔۔ کفر نہ بکو ۔۔۔ بے ہودے۔۔ اللہ میاں نے نہیں تمھارے ابا میاں نے لونڈیوں کے چکر میں ڈالا ہے !‘‘ حمید اٹھتا ہوا بولا۔
* ایک ناول میں ابن صفی نے معاشرتی اور اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غالباً حکیم محمد اقبال صاحب ،
جو’ جماعت اسلامی پاکستان‘ کے رکن تھے ، کے زیر علاج رہنے کی وجہ سے ابن صفی کا تعمیری و اصلاحی رجحان اسلامی اور تحریکی رجحان میں تبدیل ہوگیا تھا۔
* ’’پاگلوں کی انجمن‘‘ میں انہو ں نے استاد نرالے عالم سے ایک غزل نما نظم پڑھوائی ہے جس کا ہر شعر اشتراکیت کارد اور اسلام اور شریعت محمدیؐ کے تفوق کا
اظہار ہے۔ چند شعر ملاحظہ فرمائیں ؂
ایک دن جلال جبہ و دستار دیکھنا

ارباب مکر و فن کو سر دار دیکھنا
قرآں میں ڈھونڈتے ہیں مساوات احمریں

یارو نیا یہ فتنۂ اغیار دیکھنا
ورد زباں ہیں خیر سے آیات پاک بھی

ہے اہرمن بہ خرقہ و پندار دیکھنا
کل تک جو بتکدے کی اڑاتا تھا دھجیاں

اس کے گلے میں حلقۂ زنار دیکھنا
لائی گئی ہے لال پری سبزہ زار میں

ہوتے ہیں کتنے لوگ گنہ گار دیکھنا
فرصت ملے جو لال حویلی کے درس سے

ایک بوریہ نشیں کے بھی افکار دیکھنا
سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں، یوروپ اور امریکہ کی عالمی ریشہ دوانیوں اور مغربی تہذیب کی کمزوریوں کابھی انہوں نے کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کے کئی ناولوں میں بتایا گیا ہے کہ مشنری چرچوں اور پادریوں کے بھیس میں سرمایہ دار ممالک کے مغربی ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ مثلاً سبز لہو اور تابوت میں چیخ وغیرہ۔
ہندوستان کی دیہی اور افلاس زدہ تہذیب اور مغرب کی نمائشی تہذیب کے فرق کو ابن صفی نے انتہائی طنزیہ انداز میں ’’ساتواں جزیرہ‘‘ اور اپنے دیگر ناولوں میں پیش کیا ہے۔ وہ مغربی تہذیب کے مظاہر پر بھی بڑی بے باکی سے پر مزاح طنز کیا کرتے ہیں۔ مثلاً:
* ’’ اس لڑکی کی پتلون تو ڈھیلی ہی کرادیجیے۔ بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے دو تربوز آپس میں لڑتے جھگڑتے چلے جارہے ہوں۔‘‘(ڈیڑھ متوالےأ* ڈاکٹر دعاگو سیریز میں ڈاکٹر کی نرس کے لپ اسٹک لگے ہونٹوں پرعمران طنز کرتا ہے ’’جیسے بلبل الٹ گیا ہو۔ ۔۔‘‘
* ساتواں جزیرہ میں انگریزی تہذیب کے متوالوں پر طنز ہے کہ وہ بیت الخلاء کے طور پر کھڈی کے بجائے کموڈپسند کرنے لگتے ہیں۔
* ’’انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کا سب کچھ غلط کردیا تھا۔ صرف ٹونٹی دار اور بغیر ٹونٹی کے لوٹے کوغلط نہ کر سکے کیونکہ ہندو اور مسلمان صرف اسی ایک
بات پر متفق تھے کہ چاہے جان چلی جائے ہم تو کاغذ ہرگز استعمال نہیں کریں گے ۔‘‘(پاگلوں کی انجمن)
* ’میناروں والیاں‘ میں جدید طبقے میں رائج بے حیائی پر اس طرح انگشت نمائی کی ہے:
’’آج سردی بڑھ گئی ہے ‘‘ ایک کہہ رہی تھی۔
’’ پرواہ نہ کرو‘‘ دوسری آواز آئی۔
’’ تھوڑی تکلیف اُٹھاؤ اور اپنے شوہر کے کرتوت سے آگاہ ہوجاؤ۔‘‘
’’ مجھے یقین نہیں آتا۔ ‘‘
’’بس جیسے ہی وہ آئے تم اس کی گاڑی کے پیچھے چھپ جانا اور دیکھنا کہ وہ کیسے انداز میں مجھ سے عشق کرتا ہے‘‘۔
صفدر بے حس و حرکت بیٹھا رہا ۔ دوسری نے کہا ’’تم مخواہ مخواہ مجھے پریشان کرتی ہو ۔ مجھے اس سے سروکار نہیں کہ وہ باہر کیا کرتا ہے۔‘‘
’’ مجھے حیرت ہے کہ تم کیسی عورت ہو ؟‘‘
’’میں بھی تو خاور کو چاہتی ہوں اور اسے اس کا علم نہیں!‘‘
’’ تب تو او ر بھی اچھی بات ہے ۔ اس وقت تم اسے پکڑ و اور اسی کو بنیاد بناکر اس سے چھٹکارا حاصل کرو!‘‘
’’ کس لیے‘‘
’’ اس لیے کہ خاور سے شادی کرسکو!‘‘
’’ہشت۔۔ اس کے بعد مجھے کسی دوسرے خاور کی تلاش ہوگی ۔ شوہر ایک ضرورت ہے اور محبوب ۔۔۔ہا۔۔۔ کسی محبوب کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتی‘‘
’’کمال ہے !‘‘
’’ میں اپنے ذہن کو اچھی طرح سمجھتی ہوں ۔ مجھے اس میں بڑی لذت محسوس ہوتی ہے کہ میرا شوہر خاور کے وجود سے لا علم ہے !‘‘
صفدر کی کھوپڑی سلگنے لگی۔ و ہ قطعی بھول گیا تھا کہ یہاں اس کی موجودگی کس بنا پر ہے ۔ اس نے کھڑکی سے سر نکال کر کہا۔’ ’ آپ بلا شبہ شوہر سے چھٹکارا
حاصل کرکے خاور سے شادی کر سکتی ہو ۔ محبوبیت کے لیے میں اپنی خدمات پیش کردوں گا۔‘‘
* ابن صفی نے ’’ تصویر کی اڑان ‘‘ میں بھی جدید تہذیب پر ایسا ہی کاٹ دار طنز کیا ہے ۔
ابن صفی میرے اُستاد ہیں کیونکہ اُن کی تحریریں پڑھ کر میں نے اردو لکھنا سیکھا ہے۔ وہ میرے معالج بھی ہیں کیونکہ اُن کے ناول ’’تزکِ دوپیازی‘‘ پڑھ کرخارش کے چالیس سالہ پرانے مرض سے مجھے نجات ملی تھی۔مختلف پیتھیوں کے ذریعے اُس کا علاج کرانے کے باوجود مجھے شفا نہیں ملی تھی۔ ’’تزکِ دوپیازی‘‘ میں ہیرو نے ایک مریضہ کی کھجلی کا سبب مچھلی کے ساتھ مسور کی دال استعمال کرنا اور اُس کا علاج تُلسی کے پتوں کا لیپ اوربطور دوا اُنہیں کھانا بتایا ہے۔ میں نے پرہیز کے طور پر مچھلی کے ساتھ مسور کی دال، جو کہ میری مرغوب ترین ڈش تھی، کھانا ترک کردیا اور ساتھ ہی تُلسی کے پتوں کا استعمال بھی شروع کیا۔ حیرتناک طور پر مجھے چند ہفتوں میں ہی چالیس سالہ پرانے مرض سے نجات مل گئی۔
ابن صفی کے ناولوں میں مجھے صرف یہ بات اکثر کھٹکتی ہے کہ ان کا ہیرو اپنے کسی ساتھی پر اپنا میک اپ کرکے اور مجرموں کے گروہ کے کسی فرد کا بھیس بدل کر مجرموں کے درمیان گھس جاتا ہے ۔ وہ زیادہ تر اسی طریقے سے مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یا مجرم ٹولے کا کوئی فرد (زیادہ تر لڑکی) مجرمانہ زندگی سے بے زار ہوکر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہیرو کی مدد کرتا ہے۔
ابن صفی کی حیات میں اگریہ اعتراض ان کے سامنے آتا تو مجھے اندازہ ہے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے! اپنے مزاحیہ اور طنز آمیز طرز میں وہ لکھتے :’’ یہ تو ممکن نہیں کہ فریدی /عمران کو خواجہ عمرو کی گلیم اور زنبیل مل جائے یاوہ گنڈے تعویذوں کی مدد سے کامیابی حاصل کریں ۔ آپ کے پاس مجرموں کو پکڑنے کی اگر کچھ اور تدبیریں ہوں تو بتائیں تا کہ ان دونوں کووہ تدبیریں سجھائی جا سکیں۔۔۔۔ ۔‘‘


محمد اسلم غازی
Mobile: 09869106329
Email: magha...@gmail.com

nasirali syed

unread,
Dec 3, 2012, 11:38:36 AM12/3/12
to bazm e qalam
ALLAHO-AKBAR......ASLAM JI SARSHAR KR DIA AAP NE          ZEHEN MAIN  WO JO MAZI KI FILM CHALNA SHORU HO JATI HAI NA BAS OSI TARAH YE TEHREER MEHRUBAN HAWAUn K DOSH PR URRATI   HOWEE AKHARI PARAO TAK AIK HI GO MAIN LE GAEE......WOW   KIA TALASH HAI KIA TAJZIA HAI MEREY  PEER BHAEE     BAHOT SHUKRIA. NASIR ALI SYED PESHAWAR
 

Date: Mon, 3 Dec 2012 18:02:46 +0530
Subject: {16831} An Article On Ibn Safi
From: maslamghaz...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
 
 

Ainee Niazi

unread,
Dec 3, 2012, 12:05:43 PM12/3/12
to BAZMe...@googlegroups.com
بہت محنت سے لکھا گیا ایک مکمل مضمون جو لکھاری کی  محنت کا منہ بو لتا ثبوت ہے بہت مبارک باد
Ainee niazi








2012/12/3 nasirali syed <nasira...@hotmail.com>

Abida Rahmani

unread,
Dec 3, 2012, 12:46:55 PM12/3/12
to BAZMe...@googlegroups.com
واقعی اسلم غازی صاحب نے ابن صفی کو بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے،اب راشد اشرف کے تبصرے اور تآثرات کا انتظار ہے-
میں یہ جاننا چاہونگی کہ مصنف کا تعلق کا تعلق کیا عبالجبار غازی صاحب کے خاندانسے ہے ؟

2012/12/3 Ainee Niazi <ainee...@gmail.com>



--



عابدہ

Abida Rahmani



Rashid Ashraf

unread,
Dec 4, 2012, 1:39:39 AM12/4/12
to BAZMe...@googlegroups.com, maslamghaz...@gmail.com, abida.r...@gmail.com, nasira...@hotmail.com, ainee...@gmail.com, magha...@gmail.com, Ahmad Safi, Maeraj Jami, Mohammad Hanif

محترم اسلم صاحب

خوش رہیے، سلامت رہیے۔ آپ کا مضمون لفظ بہ لفظ پڑھا۔ مضمون کے آخر  میں درج موبائل نمبر سے کچھ اندازہ نہیں ہورہا کہ جناب کا تعلق کس ملک و شہر سے ہے۔ غالبا ہندوستان سے ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہماری خوشی دو چند ہوگی۔  2009 کے بعد یک لخت ہونے والے احیاء ابن صفی کے بعد اہل ہند نے بقدر ظرف اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ لیکن زیادہ تر لکھنے والوں نے مکھی پر مکھی بٹھائی ہے۔ تعلق کہیں سے بھی کیوں نہ رہا ہو، ابن صفی صاحب یا کسی بھی پسندیدہ لکھنے والے پر قلم اٹھانے کے لیے کم از کم اتنا تو ہو کہ مضمون نگار نے متعلقہ مصنف کی تحریروں کو یکسوئی کے ساتھ پڑھا ہو لیکن افسوس کہ صفی صاحب کے معاملے میں یہ بھی نہیں ہورہا ہے۔ زیادہ تر لکھنے والے حکم لگاتے ہیں اور ہم ایسے دوانے اگر ایسا کوئی مضمون پڑھ لیں تو مجبورا متعلقہ پرچے کے مدیر کو مکتوب روانہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی ہی دو حالیہ مثالیں راقم الحروف کے پٹنہ کے "آمد" اور لاہور کے "الحمراء" کو بھیجے گئے طویل مکتوبات کی شکل میں موجود ہیں جن کی متوقع اشاعت کے بعد انہیں بزم قلم پر شامل کیا جائے گا۔

اس قدر اکتا دینے والی تمہید پر معافی چاہوں گا۔ یہ سب کچھ اس لیے کہا کہ آپ کے مضمون کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ آپ نے کس قدر ڈوب کر، کس قدر انہماک کے ساتھ ابن صفی کو پڑھا ہے, کوئی "حکم" نہیں لگایا ........... راقم جیسے کئی رہے ہوں گے جو اس کا حظ بحیثیت حافظ ابن صفی، اٹھا سکتے ہیں اور پھر خاکسار نے صفی صاحب پر کتاب مرتب کی ہے اور دوسری حال ہی میں مکمل کی ہے لہذا ان سے عقیدت و محبت کا ایک دعوی رکھتا ہے۔ آپ کے مضمون میں تمام ناولوں کے عمیق جائزے کے بعد دلچسپ و متنوع اقتباسات پیش کیے گئے ہیں جن میں سے بعض کی جانب میری نظر بھی نہ گئی تھی۔

مکرمی ناصر علی سید تو فرط مسرت سے جھوم اٹھے:


ALLAHO-AKBAR......ASLAM JI SARSHAR KR DIA AAP NE          ZEHEN MAIN  WO JO MAZI KI FILM CHALNA SHORU HO JATI HAI NA BAS OSI TARAH YE TEHREER MEHRUBAN HAWAUn K DOSH PR URRATI   HOWEE AKHARI PARAO TAK AIK HI GO MAIN LE GAEE......WOW   KIA TALASH HAI KIA TAJZIA HAI MEREY  PEER BHAEE

پیر بھائی کے الفاظ سے تجسس مزید جاگا ہے۔

آپ نے لکھا:


"ابن صفی میرے اُستاد ہیں کیونکہ اُن کی تحریریں پڑھ کر میں نے اردو لکھنا سیکھا ہے۔ وہ میرے معالج بھی ہیں کیونکہ اُن کے ناول ’’تزکِ دوپیازی‘‘ پڑھ کرخارش کے چالیس سالہ پرانے مرض سے مجھے نجات ملی تھی۔مختلف پیتھیوں کے ذریعے اُس کا علاج کرانے کے باوجود مجھے شفا نہیں ملی تھی۔ ’’تزکِ دوپیازی‘‘ میں ہیرو نے ایک مریضہ کی کھجلی کا سبب مچھلی کے ساتھ مسور کی دال استعمال کرنا اور اُس کا علاج تُلسی کے پتوں کا لیپ اوربطور دوا اُنہیں کھانا بتایا ہے۔ میں نے پرہیز کے طور پر مچھلی کے ساتھ مسور کی دال، جو کہ میری مرغوب ترین ڈش تھی، کھانا ترک کردیا اور ساتھ ہی تُلسی کے پتوں کا استعمال بھی شروع کیا۔ حیرتناک طور پر مجھے چند ہفتوں میں ہی چالیس سالہ پرانے مرض سے نجات مل گئی۔"

یہ رشتہ بھی خوب ہے۔ مذکورہ بالا واقعے کو پڑھ کر نہ جانے کیوں یہ خیال آرہا ہے کہ صفی صاحب حیات ہوتے اور اس بات کو آپ کی زبانی سنتے تو کس قدر محظوظ ہوتے۔

آپ نے لکھا:


" میرے ایک چھوٹے بھائی کے پاس تو ان کے تقریباً تمام ناول ہیں۔"

کیا یہ کراچی ایڈیشنز کی بات  ہے یا الہ آباد کی ? یقینا آپ نے الہ آباد ایڈیشن کا ہی ذکر کیا ہے کیونکہ ایک جگہ آپ لکھتے ہیں: "ان کی کتابوں کی طلب ہمیشہ رہی ہے جسے پورا کرنے کے لیے عباس حسینی مرحوم ابن صفی کے ناولوں کو دوبارہ اور سہ بارہ شائع کرچکے تھے"۔

کیا آپ کے لیے ممکن ہوگا کہ آپ اپنے ان بھائی صاحب سے ہمارا رابطہ بذریعہ ای میل کروادیں۔ اس صورت میں ہمیں چند الہ آباد ایڈیشنز کے  سرورق اور اداریے مل جائیں گے جو یہاں کراچی میں ہمیں باوجود تلاش بسیار، نہ مل سکے۔

یہ فرمائیے کہ آپ کا یہ مضمون کیا کہیں شائع ہوا ہے ? اگر ایسا ہے تو اس کی تفصیل سے آگاہ کیجیے۔
کراچی میں مقیم میرے ایک بزرگ کرم فرما اور جناب ابن صفی کے دیرینہ دوست اپنے پرچے کا ابن صفی نمبر نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ خاکسار کی صفی صاحب پر مرتب کردہ کتاب "کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" (ابن صفی پر لکھے مضامین کا مجموعہ) کا دوسرا حصہ شائع کرنے کی نیت سے میرے ساتھ مل کر کام کا آغاز کرچکے ہیں۔ آپ کا یہ مضمون کسی ایک جگہ شامل کرنے کی باضابطہ اجازت چاہتا ہوں۔ اسے ان پیج میں منتقل کرنا میرا کام ہے جس کے بعد اسے آپ کو نظر ثانی کے لیے بھیجوں گا۔

کہیے اجازت ہے ?

مضمون سے متعلق چند معروضات عرض کرتا ہوں۔ سرخ رنگ میں ان الفاظ کو رنگ دیا ہے جہاں تصحیح کی ضرورت ہے، جبکہ نیلے رنگ میں ایچ اقبال صاحب کے نام کو بوجوہ نمایاں کیا ہے، یہاں بھی دوہراتا ہوں:
 
ایچ. اقبال ، ہمایوں اقبال - دراصل ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ ہمایوں اقبال ، ایچ اقبال کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ ایچ اقبال صاحب سے میں رابطے میں ہوں اور صفی صاحب پر گزشتہ دو برسوں میں ہوئی مختلف تقریبات میں اکثر ہم اکھٹے ہی گئے ہیں۔ یہ ابن صفی کے نقال ضرور تھے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنا راستہ اس وقت الگ کرلیا تھا جب میجر پرمود سیریز کے نام سے ایک منفرد جاسوسی سلسلہ شروع کیا۔ یہ بھی عرض کروں کہ اس سلسلے کو صفی صاحب کے بچے بھی پڑھا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں صفی صاحب کے دوست سہیل اقبال مرحوم بیان کرتے ہیں
:
"ابن صفی کی فراخدلی کا ایک واقعہ اور سن لیجئے۔ جب پہلی بار اپنے دوست ایچ اقبال کو لے کر ابن صفی کے گھر پہنچا تو وہ ایچ اقبال سے نہ صرف پرتپاک انداز میں ملا، بلکہ اس نے انتہائی اپنائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے صاحبزادے اظہار میاں (احمد صفی صاحب) کو آوازدی، جب اظہار میاں آگئے تو موصوف نے ایچ اقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار میاں سے پوچھا۔ کہیے آپ نے پہچانا انہیں؟ تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد اظہار میاں نے مسکرا کر جواب دیا ”جی ہاں....“ غالباً آپ ایچ اقبال صاحب ہیں....“
 ” جی....ہاں یہ وہی ایچ اقبال صاحب ہیں جن کے جاسوسی ناولوں کو آپ بہت شوق سے پڑھا کرتے ہیں۔ اظہار میاں ہنستے ہوئے کمرے سے چلے گئے توموصوف نے مزید کہا۔ میرے گھر میں حمید، فریدی اور عمران کے کرداروں پر لکھے ہوئے، میرے ناولوں کے بعد صرف ایچ اقبال کے ناول پڑھے جاتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر ابن صفی نے نہ صرف اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایچ اقبال کے اس مقام کا بھی تعین کر دیا جس کا وہ حقدار ہے۔
"
 
واضح رہے کہ یہاں صفی صاحب کا اشارہ میجر مرمود سیریز کے ناولوں کی جانب تھا۔
ایچ اقبال کی صفی صاحب سے عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں ابن صفی کی زندگی میں اپنے ڈائجسٹ الف لیلہ کا ایک نہایت عمدہ "ابن صفی نمبر" 1972 میں شائع کیا تھا جس میں زیادہ تر لکھنے والے خالصتا ادبی لوگ تھے۔ مذکورہ نمبر میں پروفیسر مجنوں گورکھپوری کا اہم ایک مضمون بھی شامل ہے جو آج تک پاک و ہند میں شائع کیا جارہا ہے۔
 
ایک جگہ آپ لکھتے ہیں:

"ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھا ۔۔۔ جوش کے اس شعر پر ’خوفناک جزیرہ‘ میں فریدی کی زبانی بڑا اچھا تبصرہ کرایا ہے"
 
ناول کا درست نام "بھیانک جزیرہ" ہے۔ یہ جاسوسی دنیا کا 17واں ناول تھا جو جون 1953 میں الہ آباد سے شائع ہوا تھا۔
 
ایک جگہ آپ نے کرداروں کی بات کرتے ہوئے گیت اور خون کی "صفیہ" لکھا ہے۔ غالبا آپ فریدہ لکھنا چاہ رہے تھے کہ فریدہ ہی مذکورہ ناول کا سب سے جاندار کردار ہے۔  اسی طرح اسی جگہ لکھا گیا ہے: ""خوفناک جھیل میں سائرہ اور قلندر بیابانی"۔ ناول کا درست نام "شیطانی جھیل" ہے۔
 
ایک جگہ آپ لکھتے ہیں
:

"لیکن ایک ناول میں جوش کی ترقی پسند شاعری کو انہوں نے
 فریدی ہی کی زبانی ’’ پتھر پھوڑنے ‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔"
 
ابن صفی نے یہ پرلطف و یادگار فقرے یا تبصرہ فریدی کی زبانی نہیں بلکہ عمران کی زبانی کہلوائے تھے۔ "پتھر توڑتے ہیں" درست الفاظ ہیں۔۔ یہ سردار جعفری کا ذکر ہے جن کی شاعری پر عمران نے تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا الفاظ کہے تھے۔ ناول کا نام ڈیڑھ متوالے ہے جو آپ کا پسندیدہ ناول ہے۔ آپ اور ہم بخوبی جانتے یہ ناول 21 اکتوبر 1963 کو پہلے کراچی سے شائع ہوا تھا اور چند روز بعد الہ آباد سے شائع ہوا تھا جس کے دو ایڈیشنز کی تقریب رونمائی بالترتیب لال بہادر شاستری اور اس وقت کے وزیر قانون علی ظہیر (سجاد ظہیر کے بھائی) نے کی تھی۔ اگر آپ کے بھائی صاحب کے پاس جاسوسی دنیا کے ناول "بیچارہ/ری" (اشاعت: 21 دسمبر، 1963) موجود ہو تو اس میں ان تقاریب کی تصویریں شائع ہوئی تھیں۔ یہ  تصاویر کراچی ایڈیشن میں شائع نہیں کی گئی تھیں۔ (علی ظہیر و شاستری صاحبان کی تصاویر منسلک کررہا ہوں)
 
ایک جگہ آپ لکھتے ہیں:
"ایک ناول میں ابن صفی نے معاشرتی اور اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غالباً حکیم محمد اقبال صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 
ان کا درست نام حکیم اقبال حسین ہے۔ خاکسار نے "ابن صفی-فن اور شخصیت" میں ان کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
 
حکیم اقبال حسین 1909 میں شاہ جہان آباد ، دہلی میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم سینٹ اسٹیفن کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں فارسی میں ایم اے کیا۔نومبر1948   میں پاکستان چلے آئے ۔وہ مولانا مودودی کے قریبی رفقاء میں تھے۔حکیم اقبال حسین کا انتقال 72 برس کی عمر میں 6 اپریل 1980 کو کراچی میں ہوا تھا۔ حکیم صاحب کی لکھی ایک عمدہ کتاب سیر و شکار 1966 میں شائع ہوئی تھی۔
 

آپ نے لکھا:

"’’پاگلوں کی انجمن‘‘ میں انہو ں نے استاد نرالے عالم سے ایک غزل نما نظم پڑھوائی ہے"
 
ان کا پورا نام استاد محبوب نرالے عالم ہے۔ یہ بھی خاکسار کی تحقیق کا عنوان رہے ہیں۔
 
مذکورہ بالا جن باتوں کی جانب خاکسار نے توجہ دلائی ہے، ان کی درستگی کا اختیار مجھے نہیں ہے، البتہ اگر آپ کی منظوری مل جائے تو خاکسار مجوزہ منصوبے کے تحت "ان پیج فائل" میں تصحیحات کے بعد اسے آپ کی منظوری کے لیے بھیج سکے گا۔
ایک ضروری بات
آپ نے لکھا:

"ابن صفی کے ناولوں میں مجھے صرف یہ بات اکثر کھٹکتی ہے کہ ان کا ہیرو اپنے کسی ساتھی پر اپنا میک اپ کرکے اور مجرموں کے گروہ کے کسی فرد کا بھیس بدل کر مجرموں کے درمیان گھس جاتا ہے ۔ وہ زیادہ تر اسی طریقے سے مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یا مجرم ٹولے کا کوئی فرد (زیادہ تر لڑکی) مجرمانہ زندگی سے بے زار ہوکر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہیرو کی مدد کرتا ہے۔"
 
یہاں بزم پر فرزند ابن صفی جناب احمد صفی بھی موجود ہیں، وہ اس معاملے میں اپنی رائے بہتر طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں یہ سراغرسانی کے پرانے طریقوں میں سے ایک تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے ہے کہ یہ ڈھنگ و مہارت سے استعمال کرنے پر یہ نہایت کارآمد طریقہ ہوتا ہے۔ دیو آنند کی 50 کی دہائی کی چند فلمیں مثلا سی آئی ڈی، سولہواں سال وغیرہ میں بھیس بدلنے کے اسی طریقے کو دکھایا گیا ہے۔
 
یہ بات بھی آپ کے لیے دلچسپ ہوگی کہ جاسوسی دنیا کے ایک ناول میں ابن صفی نے اپنے کردار کی زبانی اس طریقہ کار کو بحالت مجبوری استعمال کرتے ہوئے بھی دکھایا ہے۔
رہی یہ بات کہ حکیم صاحب جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور ان کے زیر اثر، بقول آپ کے، "ابن صفی کا تعمیری و اصلاحی رجحان اسلامی اور تحریکی رجحان میں تبدیل ہوگیا تھا" ۔ ۔ ۔ ۔۔ اس کا کوئی واضح تحریری (پیش رس کے تعلق سے) ثبوت تو نہیں ملتا لیکن اس سلسلے میں فرزند ابن صفی، احمد صفی ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔
 
آپ لکھتے ہیں:

"ایک ناول میں ابن صفی نے معاشرتی اور اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
"
کیا یہ پاگلوں کی انجمن کا ذکر ہے ? یا کسی اور ناول کا۔ براہ کرم وضاحت فرمائیے۔ بالخصوص ان سطور کا جن میں ابن صفی نے "مذہبی اصلاحی تحریکات" کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 
آپ لکھتے ہیں:

"ابن صفی کے بعض منفی کرداروں پر بھی ان کی نیک مزاجی اور پاکیزہ کرداری کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً سنگ ہی، جو جرائم اور اخلاقی گراوٹوں میں غرق ہے ،چونکہ عمران کو بھتیجا کہتا ہے (عمران پر اپنی برتری جتانے کے لیے) اس لیے ان عورتوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈالتا جو اپنے آپ کو عمران سے منسوب کردیتی ہیں۔"
 
نہیں صاحب، یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی
کیا سنگ ہی کی "پاکیزہ کرداری" کا یہ ثبوت ہے کہ وہ ان عورتوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈالتا جو اپنے آپ کو عمران سے منسوب کردیتی ہیں۔ گویا آدمی خود بے راہ روری کا حد درجے شکار ہو، عورت اور شراب کے بغیر ایک دن بھی گزار سکے اور اس کا کسی دوسرے سے منسوب (گلے پڑی کہیے تو بہتر ہوگا کہ عمران تو کبھی کسی عورت کی جانب مائل ہی ہوا تھا)  عورت کی جانب نظر اٹھا کر نہ دیکھنا بھی پاکیزہ کرداری کا ثبوت ہے ? کردار کی پاکیزگی تو ایک شراب ہی میں ہی اڑن چھو ہوجاتی ہے، بقیہ علتیں تو بعد میں آتی ہیں۔...............یاد کیجیے عمران سیریز کے جونک اور ناگن سلسلے کی میتو ہاشی اور اس کا سنگ ہی سے تعلق کا بیان۔
 
زہریلا سیارہ کا حوالہ تو آپ بھی دے چکے ہیں۔ سنگ ہی کی شخصیت کا یہ مضحکہ خیز پہلو بھی اس میں سامنے آتا ہے کہ دو عورتوں (?) کو پکڑ لایا تھا اور وہ آخر میں دہائی سے رہی تھیں کہ پیسے بھی نہیں دیتا۔
   
لیکن ٹھہریے! کم از کم  ایک مثال ایسی ہے جہاں سنگ ہی نے اس عورت پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی جو عمران کی یک طرفہ محبت میں گرفتار ہوگئی تھی۔ یہ ہے "زہریلی تصویر" کی ساجدہ۔ 
 
راقم کی کتاب "ابن صفی-فن اور شخصیت" میں "ابن صفی کے ناولوں کے رومانوی کردار" میں اس موضوع پر نہایت تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ 
  
ایک علاحدہ ای میل میں صفی صاحب پر  اپنی کتاب کا تعارف ارسال کررہا ہوں
 
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
 
 
 
 
 


 
2012/12/3 M A Ghazi BazmeQalam <maslamghaz...@gmail.com>
--
01.jpg
02.jpg

M. Khalid Rahman

unread,
Dec 4, 2012, 2:16:51 AM12/4/12
to BAZMe...@googlegroups.com
Laajawab tehreer. Musannif tehseen kay mustahiq hein. Kaash issko nisaab mein bhi shaamil kiya jaata. Kya ye kaheen, kisi adabi jareeday waqhera mein, shaa'e ho chuki hay?
KR



From: Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Monday, December 3, 2012 10:46 PM
Subject: Re: {16841} An Article On Ibn Safi

Ahmad Safi

unread,
Dec 5, 2012, 12:56:04 PM12/5/12
to BAZMe...@googlegroups.com, maslamghaz...@gmail.com
محترم اسلم غازی صاحب،۔ سلام مسنون

آپ نے مضمون کے آغاز میں مصرعہ دیا کہ ’’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہؤا‘‘۔  مگر سچ پوچھئے تو اس قدر اچھا مضمون لکھ کر آپ نے واقعی  حق ادا کردیا ہے۔ بہت مبارکباد قبول کیجیئے۔

مضمون بہت خوب ہے اور عمومی تحقیقی مضامین کی طرح یکرنگا نہیں ہو جاتا بلکہ ایک دلچسپ انداز میں اپنے قاری کو گرفت میں لئے رہتا ہے حتٰی کہ آخری سطر پر لے آتا ہے۔ اس مقام پر پڑھنے والا چونک اٹھتا ہے کہ یہ ذکر تو اختتام کو پہنچا۔ اور پھر ہل من مزید کے نعرے کے ساتھ 
تشنگی کچھ اور بڑھ جاتی ہے۔

مضمون کے کچھ پہلوؤں کی طرف راشد میاں نے اشارہ کیا ہے۔ راشد جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے حافظ ہیں۔ ان کی اس خصوصیت پر رشک آتا ہے۔ بچپن سے اب تک کئی دفعہ تمام ناولوں کو کئی بار پڑھا مگر اس انداز میں حافظہ نہ ہو سکا کہ جیسے راشد کا ہے۔ دو منٹ میں حوالہ بمع کتاب کے نام کے لے آتے ہیں۔ ما شاء اللہ۔ مگر اس بھول جانے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ جب ناول پڑھو نیا ہی لگتا ہے اور تجسس مکمل طور 
پر برقرار رہتا ہے۔

جن نکات کی طرف راشد نے میرے ناتواں کاندھوں کا استعمال کر لیا ہے ان پر چند الفاظ لکھے دیتا ہوں۔۔۔

۔۔ حکیم اقبال حسین  صاحب نے ابو کا علاج کیا تھا اور تین سالہ  بیماری کا خاتمہ ان ہی کے زیر علاج ہؤا۔ ابو ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ لیکن ابو کا تعمیری اور اصلاحی رجحان ان کی پہلی تحریر سے لے کر آخری تک ایک ہی انداز میں برقرار رہا۔۔۔ وہ معاشرے میں قانون کےاحترام  اور بالا دستی کے قائل تھے اور ایک مشن کی طرح انہوں نے اس کا پرچار کیا۔ اس کے علاوہ وہ معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور اعلیٰ انسانی اقدار کے نفاذ کا خواب بھی دیکھتے تھے۔ اگر ان سب باتوں کو دین کی نظر سے دیکھا جائے تو عین اسلامی شعائر دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ لہٰذا ان کا مشن یا ان کے آدرش کسی ایک شخصیت سے متاثر ہونے کی وجہ سے نہیں تھے بلکہ ایک وسیع مطالعے اور وقت کے ساتھ  گہرے ہونے والے عقیدے کی وجہ سے تھے۔

 ۔۔ بھیس بدل کر جاسوسی کرنے کی تاریخ تو داستان امیر حمزہ تک جا پہنچتی ہے جہاں عمرو عیار یہ کام کیا کرتے تھے اور اس کے بعد برق فرنگی اور چالاک بن عمرو نے بھی دشمنوں کی صفوں میں ایسے ہی دراڑ ڈالی۔۔۔ جس زمانے میں ابو یہ کہانیاں لکھ رہے تھے اس وقت پلاسٹک میک اپ کا زمانہ آ چکا تھا۔۔۔ اور چہرہ بدل کر جاسوسی کرنے کا تذکرہ عموماً غیر ملکی سری ادب میں بھی مل جاتا تھا۔ بعد کو  سن ستر کی دھائی میں امریکن ٹی وی   سیریز مشن امپاسبل میں  اداکار مارٹن لینڈاؤ کو پلاسٹک میک اپ کرتے اکثر دکھایا جاتا تھا۔ ان کا کردار پھر موجودہ دور میں ٹام کروز صاحب نے ادا کیا اور وہ پلاسٹک کے ٹکڑوں کی بجائے ریپڈ پروٹوٹائیپنگ  کے ذریعے پورے چہرے کا  ماسک بمطابق اصل بنا کر چہرے پر پہن لیا کرتے ہیں۔  یہ محض داستانی چیز نہیں۔۔۔ ۲۰۰۵ میں پاکستان میں پہلی بار اس مشین کو متعارف کرانے میں راقم کا حصہ بھی ہے۔ اسے انڈسٹری میں مختلف کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن جس بات کا خیال دوسروں نے نہیں رکھا اور کہانیوں میں جھول آنے دیا اس کا خیال ابن صفی نے خصوصاً اپنی کہانیوں میں رکھا۔ مثلاً عمران جب ظفرالملک پر اپنا میک اپ کرتا ہے تو راوی اس بات کا تذکرہ خاص طور پر کرتا ہے کہ اس کا ڈیل ڈول اور قد و قامت عمران ہی جیسا تھا لہٰذا  عمران کا چہرہ لگاتے ہی وہ ایک قابل اعتبار ڈبل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اسی طرح جاسوسی دنیا کی ناولوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنکھ کا میک اپ بہت مشکل ہے اور فریدی اس کا ایکسپرٹ مانا جاتا تھا (ہے)۔ اسی طرح کچھ غیر ارادی حرکتیں اسی ہوتی ہیں کہ جو میک اپ کیا ہوا آدمی نہ کرے تو اس کی طرف سے شبہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کسی کا روپ دھارتے ہؤے اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں کو ذہن میں رکھتے ہؤےا س کی شخصیت کو اپنے اوپر طاری کر لینے کے بعد ہی میک اپ کامیاب ہو سکتا ہے۔

باقی نکات کے بارے میں راشد میاں پہلے ہی تفصیلاً لکھ چکے ہیں لہٰذا ان میں کچھ اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک بار پھر اتنا اچھا مضمون لکھنے پر مبارکباد۔

خیر اندیش

احمد صفی
لاہور، پاکستان


2012/12/3 M A Ghazi BazmeQalam <maslamghaz...@gmail.com>:
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages