--
www.kitaabistan.com
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam
23ستمبر 2018 کو اخبار ہی شائع نہیں ہوا ۔
اتوار۳۰ستمبر ۲۰۱۸
ممبئی اُردو نیوز کا تازہ ادبی صفحہ
مطلع
ادبی شخصیت کے عناصر میں بہت سے عنصر ایسے ہوتے ہیں
جنہیں عطائے رب کے سِوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
ان میں پہلا عنصر’’ ذوق‘‘ ہے یہ وہ صلاحیت ہے جو کسی ادبی تخلیق
بالخصوص شاعری کو سمجھنے میں پہلے رونما ہوتی ہے۔
ذوقِ لطیف کے بغیر آپ کسی شاعر کے عہد اور شخصیت کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔
ادب کے سماجی پہلؤوں پر بحث کر سکتے ہیں لیکن ہر لفظ کے معنی جاننے
کے باوجود شعر کو نہیں سمجھ سکتے۔
٭ ابو الخیر کشفی
خوشبو
عروج بخت مبارک، مگر یہ دھیان رہے
انہی دنوں کے تعاقب میں ہیں زوال کے دن
٭ محسن بھوپالی
مضمون
مجروح ؔ سلطانپوری کو تاریخِ ادب فراموش نہیں کرسکتی
رفعت سروش
یہ حرف جو راقم الحروف بمبئی کے حوالے سے لکھتا ہے، نہ تنقیدی مقالے ہیں ،
نہ تحقیقی تحریریں اور نہ یہ تحریریں خاکہ نگاری کی تعریف میں آتی ہیں۔
ان کو بے ترتیب تاثرات کا نام دیا جاسکتا ہے کسی جگہ ، شخص یا کسی اور
حوالے سے راقم الحروف کے ذہن پر مرتب ہوتے ہیں اور جنہیں غیررسمی اور
بے تکلفانہ انداز میں رقم کردیا جاتا ہے۔ کچھ یادیں ، کچھ باتیں، کچھ
ملاقاتیں اور کچھ وارداتیں ضبط ِ تحریر میں آجاتی ہیں ۔ کبھی کبھی ،
’’مقطع میں سخن گسترانہ‘‘ بات بھی آجاتی ہے، مگر خلوص کے ساتھ ۔ کسی
کی دل آزاری مقصود نہیں ہوتی۔ یہ تحریریں ان سنہرے دنوں کی عکس ریزی کرتی
ہیں جو میں نے بمبئی میں گزارے ۔ ۴۵ء سے ۵۸ء تک مستقل اور اس کے
بعد گاہے گاہے راقم الحروف بمبئی کو سلام کرنے آتا جاتا رہا ۔ شہر
بمبئی کی رنگارنگی اور طرحداری میرے ذہن میں بسی ہوئی ہے اس لئے مدت سے
دلّی رہنے کے باوجود بمبئی یاد آتی ہے۔ بار بار یاد آتی ہے ۔ راقم
الحروف نے تین ناول بمبئی کی زندگی پر لکھے ہیں۔ ریت کی دیواریں، اندھیرے
اجالے کے بیچ اور شہرِ نگاراں۔ اوّل الذکر اردو ہندی میں شائع ہوچکے
ہیں اور ’ شہرِ نگاراں‘ گزشتہ دو سال سے پبلشر تخلیق کار کی دراز
میں کمپوز کیا ہوا رکھا ہے کہ اب چھپے اور اب چھپے ۔
نثری ڈراموں کا
مجموعہ ’’ڈگرپنگھٹ کی‘‘ بیشتر بمبئی کی زندگی کے رنگ و آہنگ پر مشتمل ہے۔
صرف ڈرامہ ’’ڈگر پنگھٹ کی‘‘ حضرت امیر خسرو کی زندگی پر ہے ۔ بمبئی
سے یہ ذہنی قربت مجھے کبھی کی بمبئی کھینچ لے جاتی ۔ مگر ظالم ٹرین کے
حادثے نے ’شکستہ پائی‘ کا تحفہ دے دیا اس لئے اب سوئے بمبئی خیال جاتا ہے
، قدم نہیں۔ لیکن ہائے وہ زمانہ جو بمبئی کی ٹرامیں اور بسیں مجھے بمبئی
اور مضافات ِ بمبئی میں لئے پھرتی تھیں۔
۴۵ء کے اواخر کی کوئی
خوبصورت شام تھی جب یہ خاکسار میوزک ڈائریکٹر نوشادعلی کے دولت خانے پر
باندرہ پہنچا۔ وہاں پہلے سے موجود تھے ایک خوبرو نوجوان ،
گھونگھریالے بال، آنکھ پر عینک، نہایت خوبصورت شیروانی زیب تن کئے ہوئے ۔
میں دیکھتے ہی پہچان گیا کہ یہ تو مجروح سلطانپوری ہیں جو گزشتہ
سال اردو بازار (دہلی میں) مولوی سمیع اللہ (مرحوم) کی دُکان پر ملے
تھے ، اور انہوں نے اپنے مسحور کن ترنم میں ایک غزل کے علاوہ وہ
رومانی نظم بھی سنائی تھی … ’’کیا کہئے مجھے کیا یاد آیا‘‘… میں ان
دنوں دِلّی کے ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا۔ شامت ِ اعمال کہ نوکری پر
لات مار کر فلمی گانے لکھنے کے شوق میں بمبئی کی سڑکیں ناپنے اور شاعروں
کی طرح میں بھی بمبئی پہنچ گیا اور بمبئی میں شروع ہوا فلمی اسٹوڈیوز
اور میوزک ڈائریکٹروں کے گھروں کے چکر کاٹنے کا عمل ۔ مجروح اگرچہ
ایک سال قبل بمبئی پہنچ گئے تھے اور فلم ’’شاہجہاں‘‘ میں ان کے گانے بھی
آچکے تھے ، مگر کچھ دن کاردار فلمز میں ملازمت کرنے کے بعد وہ بھی
’’فری لانسر‘‘ ہوگئے تھے ۔
نوشاد صاحب کے گھر مجروح سے یہ دوسری
ملاقات ہوئی ۔ اور وہاں سے ہم دونوں ایس ۔یو۔سَنی کی گاڑی میں باندرہ سے
لوٹے ۔ مجروح نے اپنے مخصوص انداز میںسَنی صاحب سے اپنی فلم میں گانے
لکھانے کی گزارش کی ۔ مگر مجھ میں یہ جرأت نہ تھی کہ میں بھی اپنی
’’زبانی درخواست‘‘ بہ حضور ایس۔یو۔سنی پیش کرسکتا۔
دن گزرتے
رہے۔ میں نے ریڈیو کی نوکری کرلی اور فلمی اسٹوڈیو اور میوزک ڈائرکٹروں
کے گھروں کے ہیرے پھیرے چھوڑ دیئے ۔ اس وقت تک مجروح کا ترقی پسندی سے
کوئی تعلق نہیں تھا۔ سید سجاد ظہیر نے اپنی کتاب ’’روشنائی‘‘ میں لکھا ہے
کہ ’ ’ مجروح جگر صاحب کے ساتھ لگے لگے بمبئی آئے۔‘‘ ۱۹۴۵ء میں
حیدرآباد میں مشہور زمانہ انجمن ترقی پسند مصنفین (اردو) کی کانفرنس ہوئی
۔ وہاں بھی دور دور تک مجروح کا نام نہیں تھا۔ البتہ جب سجاد ظہیر
صاحب کے گھر انجمن کی ہفتہ وار نشستیں منعقد ہونے لگیں تو ایک دن مجروح
آئے ۔ جلسے میں وہ غزل سنائی :
مری نگاہ میں ہے ارض ماسکو یہ مجروح
وہ آسماں کہ ستارے جسے سلام کریں
اور میرے سامنے کی بات ہے کہ مجروح نے سردار جعفری سے کہا کہ اگر آپ کے
پرچے کے مطابق ہوں تو میری غزلیں ’’نیا ادب‘‘ میں شائع‘‘ فرمائیں۔
سردار نے ہامی بھرلی اور پھر مجروح آہستہ آہستہ ترقی پسندوں کے ہراول
دستے میں شامل ہوگئے ۔ فلمی میدان میں ان کے حریف شکیل بدایونی
کامیابیوں کی منزلیں طے کررہے تھے اور مجروح ؔ ترقی پسندانہ خیالات سے
اپنی غزل کے گیسو سنوارنے میں لگ گئے تھے :
آنکل کے باہر اب دو رخی کے خانے سے
کام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سے
اہلِ دل اگر اگائیں گے کھیت میں مہ و انجم
اب گہر سبک ہوگا ایک جو کے دانے سے
مجروح سلطان پوری انقلابی مشاعروں میں بھی حصہ لینے لگے ۔ اور اپنے
ہم عصر غزل گو شعرا نخشب جارچوی ، خمار بارہ بنکوی اور شکیل بدایونی سے
الگ ان کی شہرت کا گراف اونچا ہونے لگا حالانکہ مجروح ان سب میں
جونیئر شاعر تھے۔
مجروح کی انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستگی
بربنائے مصلحت نہیں ، بلکہ بربنائے خلوص تھی۔ وہ جوش و خروش سے انجمن کے
ماہانہ جلسوں میں آتے تھے اور بحث و مباحثہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے
تھے۔ اس وقت وہ تنہا شاعر تھے جو غزل کے حامی تھے اور خم ٹھونک کر کہتے
تھے کہ غزل میں ہر قسم کے موضوعات کو بیان کرکے کی صلاحیت ہے ۔ اب یہ
اور بات ہے کہ ان کی غزل پروپیگنڈے کا رنگ پکڑنے لگی تھی اور آج محسوس
ہوتا ہے کہ ان کی ’’نام نہاد ترقی پسند غزلیں‘‘ خود ان کے اپنے کلام کے
مقابلے میں پست ہوتی جارہی تھیں۔ بہرحال یہ تو آج کی بات ہے ۔ اس وقت تو
مجروح کی غزل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور ایسی ہی ایک غزل کی
پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا:
امن کا جھنڈا اس دھرتی پر کس نے کہا لہرانے نہ پائے
ہے یہ کوئی ہٹلر کا چیلا مارلے ساتھی جانے نہ پائے
ایک مشاعرے میں یہ غزل پڑھنے پر ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا ۔
وہ سات آٹھ ماہ تک روپوش رہے اور جب دیکھا کہ اب بات پرانی ہوگئی ہے تو
مستان تالاب(بمبئی) کے ایک مشاعرے میں اس غزل کے ساتھ منظرِ عام پر آئے :
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں کہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ‘ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
اور جب مشاعرہ کے اسٹیج سے اترے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس سخن
فہم انسپکٹر شیخ نے یہ مصرعہ پڑھتے ہوئے ان کا ہاتھ تھام لیا :
ترا ہاتھ‘ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
جیل جا کر مجروح ؔ سخت آزمائش سے گزرے ۔ ان کی نئی نئی شادی ہوئی
تھی ۔ ان کی بیگم کو روپے بھیجنے کے لئے ہم سب ادیبوں نے چندہ کیا مگر پھر
راجندر سنگھ بیدی نے ، جن کی مالی حالت بہتر ہوگئی تھی، کہا کہ میں
اخراجات کی کفالت کروں گا ۔ اور جیل سے رہا ہونے کے بعد مجروح
سنجیدگی سے اپنا فلمی کریئر بنانے میں جٹ گئے۔
نوشاد ؔ تو شکیل کے
علاوہ کسی اور سے گانے لکھاتے ہی نہیں تھے ، ایس ڈی برمن کے پیٹنٹ شاعر
تھے ساحر لدھیانوی ، اوپی نیر نے مجروح سے گانے لکھائے اور ان کا
گانا ’’کبھی آر ، کبھی پار لاگا تیرِ نظر‘‘ ان کی فلمی کامیابی کا
زینہ ثابت ہوا…اور پھر…
سی اے ٹی کیٹ … کیٹ یعنی بلی
آر اے ٹی ریٹ … ریٹ یعنی چوہا
قسم کے گانوں سے مجروح نے اپنے آپ کو فلمی ماحول میں ڈھال لیا ۔ البتہ
راجندرسنگھ بیدی نے اپنی فلم(دستک) میں مجروح کی معیاری غزل پیش کی ۔
یہ بیدی کی خوداعتمادی تھی ۔ غزل بہت مشہور ہے:
ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
اُٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
مجروح انجمن کے جلسوں میں آتے تھے ، مگر اب ان کی تخلیقی سرگرمیوں
پر اوس پڑتی تھی ۔ نظریاتی طور پر وہ آخر وقت تک ترقی پسند رہے مگر ان
کا سرمایۂ سخن بے حد قلیل ہے۔ صرف ایک مجموعۂ غزل ، جو ایک ایک دو
غزلوں کے اضافہ کے ساتھ کئی بار شائع ہوا … یہ ان کی شاعری پر تنقید و
تبصرہ کا موقع نہیں ہے ۔ میں تو اِدھر ُادھر کی بکھری یادیں جمع کررہا
ہوں … ساحر اور شکیل کے انتقال اور خمار کے فلمی زندگی چھوڑ نے کے بعد
مجروح کے سامنے کامیابی کا راستہ تھا … اور وہ فلمی کریئر کے سب سے
اونچے ، مقبولیت اور شہرت کے مینار تک پہنچے ۔ انہیں فل کا سب
سے بڑا ’’دادا صاحب پھالکے‘‘(سرکاری) ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ مگر ادب
میں انہیں ’ساہتیہ اکاڈمی‘ ایوارڈ نہ مل سکا ، کیونکہ ان کی کتاب
ہی نہیں شائع ہوئی ۔ ہاں ان کی مجموعی خدمات پر بھوپال کا ’’اقبال
سمان‘‘ انہیں تفویض کیا گیا جو بلاشبہ ایک بڑا ادبی اعزاز ہے ۔ (اب
یہ موقع اس بحث کا نہیں کہ آج کے ادبی منظرنامے میں ایوارڈ اور سمان کس
طرح دیئے جاتے ہیں)۔
مجروح غزل کے بڑے زبردست حامی تھے۔ ۱۹۴۷ء
میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسے میں غزل اور نظم پر ایک زوردار
بحث ہوئی تھی۔ غزل کے زبردست مخالف تھے جوش ملیح آبادی اور زبردست
حامی مجروح سلطانپوری ۔
مجروح ایک شریف النفس انسان تھے ۔ وہ صاف
گو تھے مگر کینہ پرور نہیں تھے۔ سازشی مزاج کے حامل نہیں تھے ۔ وہ مستند
طبیب تھے اور طبابت کا پیشہ چھوڑ کر فلمی زندگی سے وابستہ ہوئے تھے۔
انہوں نے بے حد جدوجہد کے بعد فلموں میں کامیابی کا منہ دیکھا تھا اور اس
کامیابی کو انہوں نے آخر تک دانتوں سے پکڑ کر رکھا اور ایک خوشحال
زندگی گزاری ۔ آخر آخرمیں اپنے جوان بیٹے کی وفات کے باعث آزردہ خاطر
رہنے لگے تھے ۔ کم گو ہونے کے باوجود مجروح سلطانپوری اردو شاعری میں
اپنا ایک مقام بنا کر گئے ۔ اور تاریخِ ادب انہیں فراموش کرنے کی جرأت
نہیں کرسکتی ۔ ان کی چند غزلیں ترقی پسندی کے نقار خانے میں ’’طوطی
کی آواز‘‘ ہیں۔ ٭
انتخابِ مجروح
مندرجہ ذیل اشعار مجروح (مرحوم) نے ۱۷؍جنوری۲۰۰۰ کو خود منتخب فرمائے تھے
بتوسط: عبید اعظم اعظمی(ممبرا)
جنونِ دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
قد وگیسو سے اپنا سلسلہ دارو رسن تک ہے
ختم شورِ طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی
شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا
میں ہی اّپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی
کہاں وہ شب کہ ترے گیسوئوں کے سائے میں
خیا لِ صبح سے ہم آستیں بھگو دیتے
بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ
کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے
کہیں ظلمتوں میں گھر کر ،ہے تلاشِ دستِ رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش ِ پا سے راہیں
کبھی جادئہ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں باہیں
دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن، جوشِ بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پائوں کی زنجیر نہ دیکھ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہ آگ اور نہیں ، دل کی آگ ہے ناداں
چراغ ہو کہ نہ ہو، جل بجھیں گے پروانے
دستِ منعم مری محنت کا خریدار سہی
کوئی دن اور میں رُسوا سرِ بازار سہی
اہلِ تقدیر ! یہ ہے معجز ئہ دستِ عمل
جو خزف میں نے اٹھایا وہ گہر ہے کہ نہیں
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ، ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے
سر پر ہوائے ظلم چلے ، سو جتن کے ساتھ
اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ
سر خیِ مے کم تھی میں نے چھو لئے ساقی کے ہونٹ
سَر جھکا ہے، جو بھی اب اربابِ میخانہ کہیں
اے فصلِ جنوں ہم کو پئے شغلِ گریباں
پیوند ہی کافی ہے اگر جامہ گراں ہے
میں ہزار شکل بدل چکا، چمن ِ جہاں میں سن اے صبا
کہ جو پھول ہے ترے ہاتھ میں، یہ مرا ہی لختِ جگر نہ ہو
شبِ ظلم نرغۂ راہزن سے پکارتا ہے کوئی مجھے
میں فرازِ دار سے دیکھ لوں کہیں کاروانِ سحر نہ ہو
سرشک ، رنگ نہ بخشے تو کیوں ہو بارِ مژہ
لہو حنا نہیں بنتا تو کیوں بدن میں رہے
بے تیشۂ نظر نہ چلو راہِ رفتگاں
ہر نقشِ پا بلند ہے دیوار کی طرح
سوئے مقتل کہ پئے سیرِ چمن جاتے ہیں
اہلِ دل جام بکف سر بہ کفن جاتے ہیں
جو ٹھہرتی تو ذرا چلتے صبا کے ہمراہ
یوں بھی ہم روز کہاں سوئے چمن جاتے ہیں
روک سکتا ہمیں زندانِ بلا کیا مجروحؔ
ہم تو آواز ہیں دیوار سے چَھن جاتے ہیں
سیلِ رنگ آہی رہے گا ، مگر اے کشتِ چمن
ضربِ موسم توپڑی بندِ بہاراں تو کھلا
ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے اور تم نے بھی دیکھا دور سے لیکن
یہ نہ سمجھنا ہم کو ہوا ہے ،جان کا نقصاں تم سے زیادہ
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں صاحبانِ چمن
مری طرف سے گلوں کو بہت دعا کہئے
یہی ہے جی میں کہ وہ رفتۂ تغافل وناز
کہیں ملے تو وہی قصۂ وفا کہئے
رہے نہ آنکھ تو کیوں دیکھئے ستم کی طرف
کٹے زبان تو کیوں حرفِ نا سزا کہئے
ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
پھر آئی فصل کہ مانندِ برگِ آوارہ
ہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے
بلا ہی بیٹھے جب اہلِ حرم تو اے مجروحؔ
بغل میں ہم بھی لئے اک صنم کاہات چلے
مانا شبِ غم ، صبح کی محرم تو نہیں ہے
سورج سے ترا رنگِ حنا کم تونہیں ہے
چاہے وہ کسی کا ہو لہو دامنِ گل پر
صیاد یہ کل رات کی شبنم تو نہیں ہے
اب کارگہِ دہر میں لگتا ہے بہت دل
اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے
کرو مجروحؔ تب دار و ر سن کے تذ کرے ہم سے
جب اس قامت کے سائے میں تمہیں جینے کا ڈھنگ آئے
اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہانہ جائے
جب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائے
میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیرِ بام ودر
میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے
برقِ تپیدہ بادِ صبا ، شعلہ اور ہم
ہیں کیسے کیسے اس کے گرفتار دیکھئے
ساز میں یہ شورشِ غم لائے مطرب کس طرح
اُس کی دھن پابندِ نے نغمہ ہمارا نے شکن
دیکھئے کب تک بلائے جاں رہے اک حرفِ شوق
دل حریصِ گفتگو اور چشمِ خوباں کم سخن
مصلوب ہوا کوئی سرِ راہ تمنا
آوازِ جرس پچھلے پہر تیز بہت ہے
میں ہم آغوشِ صنم تھا مگر اے پیرِ حرم
یہ شکن کیسے پڑی آپ کے پیراہن میں
مجھ سے کہا جبریلِ جنوں نے یہ بھی وحیِ الٰہی ہے
مذہب تو بس مذہبِ دل ہے باقی سب گمراہی ہے
سنگ تو کوئی بڑھ کے اٹھائو شاخِ ثمر کچھ دور نہیں
جسکو بلندی سمجھے ہو ان ہاتھوں کی کوتاہی ہے
ہم ہیں کعبہ، ہم ہیں بتخانہ، ہمی ہیں کائنات
ہوسکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجئے
پاکبازی میں ہیں نورِ عارض لالہ رخاں
ہیں سیہ کاری میں کحلِ نرگسِ مستانہ ہم
شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ بجھا دیا کبھی اک چراغ جلا دیا
ہٹ کے روئے یار سے تزیینِ عالم کر گئیں
وہ نگاہیں جن کو اب تک رائگاں سمجھا تھا میں
نظارہ ہائے دہر بہت خوب ہیں مگر
اپنا لہو بھی سرخیِ شام وسحر میں ہے
وہ بعدِ عرضِ مطلب ،ہائے رے شوقِ جواب اپنا
کہ خاموش تھے اور کتنی آوازیں سنیں میں نے
٭ ٭
ایوا ن ِغزل
دُشمن بہت اپنی جان کے ہیں
ہم آدمی آن بان کے ہیں
جھرنے ہوں بگولے ہوں کہ گرداب
سب اپنے ہی خاندان کے ہیں
قوسین بس اک زقند بھر کے
ہفت آسماں اِک اُڑان کے ہیں
رستے میں بچھے ہیں چاند سورج
نقشے مِرے مہربان کے ہیں
ذرّوں کا بھی ہے کہیں ٹھکانہ
تارے ہیں سو آسمان کے ہیں
ہر اِینٹ پَہ خون جم رہا ہے
آثار مرے مکان کے ہیں
کاغد کے لباس کانچ کے دِل
یہ لوگ تو داستان کے ہیں
٭ڈاکٹرمظفرحنفی (دہلی)
رابطہ:9911067200
آتشیں دن، سلگتی رات ہے کیا
آ بتاؤں تجھے حیات ہے کیا
ہم مسافر ہیں ریل گاڑی کے
چند گھنٹوں کا ساتھ،ساتھ ہے کیا
کم نصیبی سے تجھ کو شکوہ ہے
میرے حصے میں کائنات ہے کیا
پوچھ لے اپنی بےنیازی سے
وجۂ ترکِ تعلقات ہے کیا
آپ کے دم قدم سے رونق ہے
ورنہ بزمِ تخیلات ہے کیا
ہم صنم کو خدا نہیں کہتے
تم ہو شاعر تمہاری بات ہے کیا
عزتِ نفس رکھ نظر میں ریاضؔ
دیکھ معیارِ التفات ہے کیا
٭ریاض الدین ریاض (بہر یا- الہ آباد)
رابطہ:9118654829