h f khan(a h khan)بحر کے ارکان کی کمی بیشی
آزاد نظم کی بنیاد
بحر کے ارکان کی تعداد کی یکسانیت سے بحر بنتی ہے ۔ ایک اور مسیلہ زحاف کا بھی
ہے۔جس سے مراد کسی رکن کی کسی جزو میں تبدیلی ہے۔رکن کے اجزا ہیں :۔
۱۔سبب { سبب خفیف}
۲۔وتد
سبب : دو حرفی کلمہ ہے ، جس کا پہلا حرف متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے۔جیسے
رب،گل ، شب ،رگوغیرہ
وتد : سہ حرفی کلمہ ہے جس کی دو اقسام ہیں۔ /وتد مجموع اور وتد مفروق / وتد
مجموع میں پہلے دو حرف متحرک اور تیسرا ساکن ہوتا ہے۔جیسے خلل،کرن، سنک وغیرہ / وتد مفروق میں پہلا اور آخری حرف متحرک اور
درمیانی ساکت ہوتا ہے۔جیسے درد، کان اور ناک
وغیرہ ۔/استاد شاعر رحمان جامی کا اعتراض ہے کہ ان الفاظ میں تیسرا لفظ
متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے۔/آخری حرف کے متحرک ہعنے کی دلیل یہ ہے کہ ماحرین
عروض جب دو حروف آخر ساکن ہوں تو شعر کی
تقطیع میں آخری حرف کو متحرک بنادیتے ہیں کیونکہ ادایگی میں بھی آخری حرف متحرک ہی
ادا ہوتا ہے۔جیسے : آخر اس درد کی دوا کیا ہے / اس میں تقطیع میں د متحرک، ر ساکن
اور د متحرک شمار ہوتاہے۔
چار حروف کے کلمہ کو : فاصلہ / صغری کہتے ہیںجس میں پہلے تین حروف متحرک اور
چوتھا ساکن ہوتا ہے۔ جیسے /ملکہ
علم عروض کی بنیاد حرف کے تصور پر قایم ہے۔ماہرین عروض کے پاس حروف علت کا
تصور نہیں تحااسی لیے حرف ان کے ہاں صوت کی علامت نہیں تحا۔حروف صحیح اور حروفعلت
میں ماہرین عروض کے پاس بہت معمولی فرق ہےاور وہ حروف علت کو بھی صامت سمجھتے
ہیں۔جو ان کے نزدیک حرکات کے بغیر بے صدا ہوتے ہیں۔ان ماہرین کا یہ اصرار ہے کہ جب
تک کا کی ک پر زبر نہ لگایا جاے اس وقت تک وہ پڑھا یا ادا نہیں کیا جاسکتا۔ نون
غنہ بھی ان کے اعتبار سے ایک مستقل حرف ہے۔جب کہ صوتیاتی لحاظ سے وہ الگ سے کوی
حرف نہیں ہے۔کسی مصوتے کیادایگی میں جب سانس نتھنوں سے نکلتی ہے تو انفسیت پیدا ہوتی ہے چنانچہ نون غنہ مصوتہ
ہے ،حرف نہیں۔اسی طرح سبب صوتیاتی اعتبار سے لمبا مصوتہ یا لمبے مصوتے کی ہم مقدار آواز ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بحروں اور اوزان کی تشکیل
میں مصمتوں کا دخل نہیں ہوتا ۔
جا اور کا جب اور کل کے ہم وزن ہیں مگر اس طرح سے کہان لفظوں میں ساکن مصمتے
حقیقت میں ساکت نہیں کیونکہ اداییگی کے وقتیہ یا تو پوری طرح متحرک ہوجاتے ہیں یا
پھر سانس اس مخرج کی راہ سے نکل کر چھوٹے مصوتے کا دوران پورا کرتی ہے۔اس طرح یہ
سبب ثقیل یعنی دو حرفی کلمہ جس میں دونوں حروف متحرک ہوں بن جاتے ہیں۔
عروض کے اعتبار سے بحر کے لیے ۸ اصل ارکان قرار پاے ہیں ، جو اس طرح ہیں:
۱۔ فعولن ۲۔فاعلن ۳۔ مفاعیلن
۴۔مفعولات ۵۔فاعلاتن ۶۔مستفعلن
۷۔متفاعلن ۸۔مفاعلتن
ان کے مختلف اجزا سبب ، وتد ، فاصلہ میں کمی یا اضافہ کرکے زحافات بناے جاتے
ہیں۔زھاف کی ایل ہی شکل مختلف ارکان میں آسکتی ہے
مگر ان کے بنانے کا طریقہ بدل جاے گا۔مثال کے طور پر ایک زحاف فعلن کو لے
کر دیکھیں گے کہ وہ مستقل ارکان سے کس طرح
اخذ کیا گیا ہے۔
۱۔ فاعلن سے : وتد مجموع کے
ساکن ن کو گراکر اس کے پہلے کے حرف ل کو
ساکن کرنااس سے فاعل بنے گا اسے فعلن سے بدل دیا گیا۔عروض میں اس عمل کو قطع کہتے
ہیں۔
۲۔ فعولن سے : وتد مجموع یعنی فعوپہلے
متحرک لفظ کو حذف کریں عولن بن جاے گا۔اس کو فعلن سے بدل دیا گیا ،اس عمل کوثلم
کہتے ہیں۔
۳۔ مستفعلن سے: رکن کے آکری وتد مجموع
علن کو ساقط کردیں تو مستف باقی رہے گا
جسے فعلن سے بدل دیتے ہیں۔ اس عمل کوحذذ کہتے ہیں۔
فاعلن کے ساکن ن کو کیوں گرایا گیا، فعولن کے پہلے متحرک حرف کو کیوں حذف کیا
گیا اور مستفعلن سے علن کو کیوں ساقط کیا
گیا اس کا کوی اصول یا طریقہ ماہرین عروض نے نہیں بتایا ہے ۔بس ان آمرین عروض نے
ایک حکم صادر فرمادیا ہے۔اور ہم کم سے کم چار صدیوں سے اس حکم پر عمل پیرا ہیں جس
کا جواز طلب کرنا یا اس میں کوی اصول مقر کرنے کی بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ یہ
عروض نہیں آسمانی کتاب ہو جس میں زیر ،زبر کا بھی رد و بدل نہیں کیا جاسکتا۔
اس طرح ایک صوتی شکل کو تین الگ زحاف سے تعبیر کیا گیا ہے۔اور زحافات کی تعداد
کو بڑھاکر چھیاسی کردیا گیا ہے۔جب کہ زحافات کی کل شکلیں صرف ۲۰ ہیںجو یہ ہیں: فع
، فاع، فعلن ، فعلن ،فعول، فعول، مفعول
،فعلات ، مفا عل ،مستفعلاتن ،مفتعلن ،مفاعیل مفاعلن ،فاعلات ، فعلاتن
،،فاعلان ، مفعولان ،مستفعلان ،متفاعلاتن
ان کے علاوہ فعولن ، فاعلن ،مفاعیلن
، فاعلاتن اور مستفعلن جو اصل ارکان ہیں عروضیوں نے فرعقرار دیتے ہوے
زحافات میں شامل کردیا گیا ہے۔ دوسرے اصل ارکان کو کیوں نہ فرع قرار دے کر زحافات
میں شاملنہ کرلیا جاے اس کا کوی جواب ان ماہرین یا آمرین نے نہیں دیا ہے۔اس کا بھی
کوی جواز نہیں پیش کیا گیا ہے کہ پانچ اسل ارکان یعنی فعولن، فاعلن ،مفاعیلن،
فاعلاتن اور مستفعلن کو کیوں فرع قرار دیا گیا ؟
اس من مانی کو ہم کیوں نہ کسی اصول اور طریقہ کار کا پابند کریں تاکہ عروض کے
ڈھانچے میں سادگی اور ایک نیا ڈھانچہ بن سکے۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے موجودہ دور
کے اساتذہ ایسی بات اٹھانے پر برہم ہوجاتے اور اس طرح کی معقول بات کرنے والے پر
یہ الزام لگا نے میں ذرا برابر بحی نہیں
ہچکچاتے کہ آنچ نہ آے آنگن ٹیڑھا۔
زحاف صوتی اعتبار سے رکن کی طرح مستقل اکای ہے۔اس کو مستقل رکن کی فرع قرار
دینے کا یہی ایک مصرف دکھای دیتا ہے کہ بحر کی شناخت کے لیے اسے ایک نام دے دیا جاے۔جیسے :
ہزج مثمن سالم محذوف الآخریعنی مفاعیلن مفاعیلنمفاعیلن فعولنفعولن کو جب
مفاعیلن سے ممستخرج کیا جاتاہے تو یہ زحاف حذف کہلاتا ہے۔ اس زحاف کا کسی کو
علم ہو تو محذوف الآخر کہنے پر وہ سمجھ
جاے گا کہ بحر ہزج کا کیا وزن ہے۔لیکن جب اصل رکن اور زحاف کی ترتیب سے کوی وزن
تشکیل دیا جاتا ہے تو محض بحر کے نام سے اس
کی شناخت نہیں ہو سکتی۔جیسے متقارب مثمن ثلم سالم الاخر فعلن فعولن فعلن فعولن
بحر متقارب سالم فعولن کی تکرار سے بنتی ہےسالمالآخر کہنے سے یہ واضح ہوتا
ہے کہ آخری رکن ساکن یعنی فعولن ہوگا۔اثلم
کہنے سے یہ واضح ہتا ہے کہفعولن سے زحاف فعلن بنایا گیا اور اسے بحر میں لایا
گیا۔مگر بحر کے نام سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں فعولن اور فعلن کی ترتیب کیا
ہےیعنی بحر کو اسقر پیچیدہ نام تو دے دیا گیا مگر اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ فعولن
،فعلن کی ترتیب کیا ہے اور اس ترتیب کی وجہ تسمیہ کیا ہے ۔ بس یہی سمجھا جاسکتا ہے
کہ یہ بھی ماہرین یا آمرین عروض کی بلا جواز ضد ہے۔
بحور اور اوزان چھوٹے اور لمبے مصوتوں کی ترتیب اور تکرار سے تشکیل پاتے
ہیں۔اردو زبان کت دس مصوتے ہیں:
۱۔ چھوٹے مصوتے
زبر، زیراور پیش
لمبے مصوتے : ا /آ/ ی / ایُ / ا
و /اُو
ے اے
لمبے مخلوط مصوتے : و /او/اے
اس تمھید کے بعد اب اصل موضوع کی طرف چلیے :
ارکان کی ترتیب اور تکرار سے بحریں تشکیل پاتی ہیں
کسی ایل رکن کی تکرار سے سالم بحریں بنتی ہیں، جیسے
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
فاعلاتن
مرکب بحریں ایک سے زیادہارکان اور زحافات کی ترکیب سے بنتی ہیں ، جیسے
مستفعلن فاعلاتن مستفعلن فاعلاتنذیلی اوزان ارکان اور انکےزحافات یا زحافات سے
بنای جاتی ہین ،جیسے
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان/
فاعلات {رمل مثمن مقصور }
فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلان / فعلات {رمل مثمن مجنون شعت مقصور }
مظہر امام نے جس آزاد غزل کا تجربہ کیا تھا اس میں ارکان کی تعداد میں کمی
بیشی کی تھی، محر اس میں بھی ایک مقررہ پن تھا جیسے پہلے مصرعَ کے ارکان اگر دو
اور دوسرے مصرعے کے ارکان چار ہوں تو یہ پابندی برقرار رہتے تھی ۔جیسے
؛
یہاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے
گیے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
آزاد نظم میں ایسی کوی پابندی نہیں ہے ، بلکہ کسی بھر کے کتنے ہی ارکان ایک مصرعے ِ٘میں جیسے پہلے مصرعے میں چار ارکان دوسرے میں تین ارکان تیسرے میں پانچ ارکا
ن لیے جاسکتے ہیں،جیسےساجدہ زیدی کی یہ نظم :
اختتام
سفر ہے
اختتام
سفر ہے
عجب
رہ گزر ہے
وجود
و عدم کی یہ مبہم کہانی
جو
قرطاس ہستی پہ پھیلی ہوی ہے
فراز
کہستاں
نشیب
زمانہ کی
اس
پر خطر داستاں کا
بس
اک گوشہ مختصر ہے
اختتام
سفر ہے
ایک
گام سفر ہے
اس نظم میں فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن والی بحر کے ارکان کی تعداد میں کمی بیشی
کی گیی ہے
اختتا / م سفر / ہے
فاعلن / فاعلن / فا
عجب / رہ گزر / ہے
علن /فاعلن /فا
وجو / د و عدم / کی یہ مب /ہم کہا / نی
علن/ فاعلن/ فاعلن /فاعلن /فا
زبیر رضوی کی یہ نظم
دعا
کبھی بہت سے /سنہرے دن ہوں
فعول فعلن /فعول فعلن
کبھی بہت سی / سلونی شامیں
فعول فعلن / فعول فعلن
مخدوم کی نظم
سب کا خواب
وہ شب مے / وہ شب مہ /تاب میری /ہی نہ
تھی
فاعلاتن / فاعلاتن /فاعلاتن /فا علا
وہ تو سب کا /خواب تحا
فاعلاتن /فاعلا
وہ جو میرا / خواب کہلا / تا تحا میرا/ ہی نہ تھا
فاعلاتن / فاعلاتن /فاعلاتن /فاعلا
وہ تو سب کا / خواب ٹحا
فاعلاتن ۔ فاعلا
سایہ گِی / سو میں بس جا / نے کے ارماں / دل میں تحے
فاعلاتن / فاعلاتن /فاعلاتن /فاعلا
میرے دل میں / ہی نہ تحے
فاعلاتن / فاعلا
وہ تو سب کا /خواب تحا
فاعلاتن/ فاعلا
اسی طرح اخترالایمان کی نظم ایک لڑکا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
کے ارکان میں کمی بیشی کی مثال ہے۔
اسی طرھ سبھی آزاد نظمیں بھور اور زحافات کے ارکان میں کمی بیشی کے ذریعہ
تشکیل کیے جاتے ہی٘ ۔
|