اردو والے اپنے بچّوں کو بھولے جا رہے ہیں

79 views
Skip to first unread message

Khalid Umri

unread,
Mar 2, 2014, 3:27:30 PM3/2/14
to bazme...@googlegroups.com

اردو والے اپنے بچّوں کو بھولے جا رہے ہیں

 

رضا علی عابدی

شہر شہر اردو اور ادبی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے ادیب اور دانشور بڑے اعلیٰ ادب پر نہایت دانشمندانہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ تخلیقی اور تنقیدی ادب کے ہر گوشے پر گفتگو ہورہی ہے۔ ہر سطح کے قاری کی بات ہورہی ہے۔ مگر آپ نے ایک بات محسوس کی ہے؟ کہیں بھی، کسی بھی اجتماع میں، کسی مذاکرے میں بچّوں کے ادب کا ذکر تک نہیں۔ بڑے پایہ کے مفکر اور قلم کار بھولے سے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ وطن عزیز کی نئی نسل کو پڑھنے کے لئے کیا کچھ دیا جا رہا ہے اور کیا دینے کی ضرورت ہے۔ ذرا تصور تو کیا جائے کہ بچّوں کے ہاتھوں میں وہی گھسی پٹی درسی کتابیں ہیں، دقیانوسی،ناقص، اکتانے والی اور ذہن کی تربیت میں کسی کام کی نہیں۔ایسے میں ضرورت اور شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ہمارے جیّد اہل قلم اپنی بے پناہ مہارت اور دانشوری کو بروئے کار لائیں اور کبھی وقت نکال کر بچوں کا ادب بھی تخلیق کریں۔ کبھی نئی نسل کو بھی اپنی توجہ کا تحفہ عنایت کریں اور کچھ ایسا کر جائیں کہ ہمارے اپنے بچّوں کے کردار، ذہن اور اندازِفکر کی تربیت ہو۔

برطانیہ میں کتابوں کی اشاعت کو صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ دھیان رہے کہ بچّوں کی کتابوں کی طباعت کو بالکل الگ صنعت تصور کیا جاتا ہے۔ ہر لائبریری میں بچّوں کا شعبہ الگ ہوتا ہے، ان کے لئے ایک بڑا کمرہ مخصوص ہوتا ہے جس میں دبیز قالین بچھا ہوتا ہے، ہر طرف کتابیں چُنی ہوتی ہیں۔ بچّے اتنے اشتیاق سے کتابیں دیکھتے ہیں کہ انہیں یوں پڑھتا دیکھ کرہی خوشی ہوتی ہے۔ بھارت میں مرکزی حکومت نے بہت بڑا ادارہ قائم کیا ہے جو دنیا میں صرف ایک کام کرتا ہے۔ پورے ملک کے کروڑوں بچّوں کے لئے تیس سے زیادہ زبانوں میں کتابیں چھاپتا ہے۔ میں نے دلّی میں اس چلڈرنز بُک ٹرسٹ کی عمارت دیکھی ہے جو ہمارے بڑے بڑے اخباروں کی عمارتوں سے بھی بڑی ہے، اس میں چھاپہ خانہ بھی ہے اور ترجمے کا بہت باکمال شعبہ ہے جو کتابوں کو ملک کی درجنوں زبانوں میں منتقل کرتا ہے۔ ان کی اپنی دکانیں ہیں جو بچّوں کی دلچسپی کے سازو سامان سے بھری ہوتی ہیں۔ خریداروں کو کتابیں پٹ سن کی تھیلیوں میں دی جاتی ہیں اور ساتھ ہی سمجھایا جاتا ہے کہ کاغذ اور پلاسٹک کے تھیلے دنیا کے ماحول کے لئے اچھے نہیں۔

اب ہمارا حال سنئے۔ پاکستان کا ایک بڑا اشاعت گھر بچّوں کی کتابیں چھاپا کرتا تھا۔ اس نے اس کام سے توبہ کرلی۔ دو تین بچّوں کے رسالے نکلتے ہیں جو داد اور تحسین کے مستحق ہیں کہ اس لاتعلقی اور عدم دلچسپی کے دور میں جرأت سے کام لے رہے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو خبر ہو گی کہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں ایک عبدالحمید کھوکھر لائبریری ہے جس میں برصغیر سے شائع ہونے والے بچّوں کے زیادہ تر اخبار اور رسالے محفوظ ہیں۔ یہ نادر اور نایاب ذخیرہ ہے جس کی قدر ہونی چاہئے اور جہاں تحقیق کی بہت ضرورت ہے۔ کیا اچھا ہو کہ اہل ِ علم ان رسالوں کے انتخاب تیار کریں۔

عبدالمجید کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے ضیاء اﷲ صاحب نے’ بچّوں کی صحافت کے سو سال‘ کے عنوان سے اپنے کتب خانے کی فہرست مرتب کی ہے جس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ اسی طرح بہت تھوڑے اہل وطن جانتے ہوں گے کہ دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد میں بچّوں کے ادب کا پورا شعبہ قائم ہے جس کے نگراں ڈاکٹر محمد افتخار کھوکر ہیں ۔اس شعبے نے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ہے اور پاکستان میں بچّوں کے ادب کا ڈیٹا ترتیب دیا ہے۔بس یہ ہے کہ ان کے کام میں دین پر بہت زور ہے۔

میں نے جب ہوش سنبھالا، ہمارے گھر میں بچّوں کا اخبار یا رسالہ پھول آیا کرتا تھا۔ اس زمانے میں سرکردہ ادیب شاعر بچوں کے لئے باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔ کتنے ہی نو عمر لکھنے والے آگے چل کر نامور ادیب بنے۔ شکر ہے کہ پھول کے تمام شمارے فائل کی شکل میں محفوظ ہیں اور ان کے دو ایک انتخاب بھی نکلے ہیں۔ لیکن بچّوں کے ادب میں جو مقام دلّی کے ماہنامہ کھلونا کو حاصل تھا اس کا کوئی ثانی نہیں۔ بھارت میں اردو پر زوال آیا تو کھلونا بھی مر کھپ گیا۔ اس میں چوٹی کے ادیب شاعر لکھا کرتے تھے جن میں کرشن چندر سے لے کر راجا مہدی علی خاں تک بے شمار لوگ شامل تھے۔ کچھ عرصہ ہوا کھلونا مرحوم کے ایڈیٹر یونس دہلوی سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ کھلونا کا کوئی انتخاب نکلا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے پوچھا کہ رسالے کی فائلیں تو محفوظ ہوں گی؟انہوں نے ہاں میں جواب تو دیا لیکن اس میں نہیں صاف جھلک رہا تھا۔

پاکستان میں بچّوں کے لئے اہم کام حکیم محمد سعید مرحوم نے انجام دیا۔ بچّوں سے انہیں غیر معمولی لگاؤ تھا اور ان کے لئے حکیم صاحب نے بہت کچھ کیا، خصوصاً ان کارسالہ ’ ہمدرد نونہال‘ آج تک نکلتا ہے جس کے نگراں مسعوداحمدبرکاتی صاحب کے دم قدم سے ادارہ ہمدرد میں رونق ہے۔ روزناموں کے ساتھ بچّوں کے صفحے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی ایک اخبار تو بہت دلکش ضمیمہ نکالتا ہے، کچھ روزنامے الگ صفحے آراستہ کرتے ہیں لیکن وہ بات نہیں جو ہمارے زمانے میں تھی جب روزنامہ جنگ میں نونہال لیگ کی دھوم تھی اور اس کی بنیاد پر ماہ نامہ بھائی جان نکلا تھا۔

اب نظر یوں آتا ہے کہ پاکستان میں اس کاروبار میں منافع نہیں۔ نہ ناشر کو، نہ کتب فروش کو اور نہ ادیب شاعر کو۔ میں نے ایک بار کتابوں کی ایک بڑی دکان میں کسی گاہک کو یہ پوچھتے سنا کہ بچّوں کی کتابیں کہاں ہیں؟ جواب ملا اوپر پڑی ہیں۔ میں نے بالائی منزل پر جاکر دیکھا۔ بچوں کی کتابیں ایک کونے میں فرش پر پڑی تھیں۔ ایک اور بڑے شوروم میں یہ کتابیں سامنے تو رکھی تھیں لیکن ان پر گرد جمی ہوئی تھی اور صاف نظر آتا تھا کہ بہت عرصے سے کسی نے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔

ادیب شاعر کا معاملہ یوں ہے کہ کتاب کی رائلٹی اگر ملتی ہے تو اس چالیس پچاس روپے کی کتاب کا کتنا حصہ اس کی جیب میں جائے گا۔ ظاہر ہے برائے نام۔ دوسرے اس کی شہرت میں اضافے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے ۔حالانکہ شان الحق حقی صاحب اور ابن ِ انشاء جیسے لکھنے والوں نے بچوں کے لئے لکھ کر بہت عزت پائی۔ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکٹر ذاکر حسین تک کتنے ہی بڑے لوگوں نے بچّوں کے لئے لکھا۔سنہ 1849ء بچوں کے لئے ایک منظوم کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ اس پر کسی اور سے نہیں، اسداﷲ خاں غالب سے نظر ِ ثانی کرائی گئی۔ ایک نام میرے ذہن سے محو نہیں ہوتا، شفیع الدین نیّر۔ خوب لکھتے تھے اور مسلسل لکھتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ دنیا نے انہیں بھلا دیا۔ کہاں سے آئے تھے کدھر گئے، کچھ خبر نہیں۔ شاید دنیا کی یادداشت کا یہ حال دیکھ کر پھر ہر شفیع الدین نیّر نے پیدا ہونے سے گریز کیا۔

میں پھر لوٹتا ہوں عالمی اردو اور ادبی کانفرنسوں کی طرف۔ آپ دو تین دنوں میں کم سے کم چھ چھ سیشن کرتے ہیں۔ کیا ان میں سے ایک، صرف ایک ، بچّوں کے ادب کے لئے مخصوص نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مجھے ارمان ہی رہا کہ کبھی کسی کو بچّوں کی بہترین کتاب لکھنے پرکوئی قومی انعام یا اعزاز ملا ہو۔ کبھی نہیں۔ کتاب کا خیال نہیں تو نہ سہی، بچّوں کا خیال تو کیجئے۔یہ کسی اور کے نہیں، ہمارے ہی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

 

Mukarram Niyaz

unread,
Mar 3, 2014, 12:36:24 AM3/3/14
to bazmeqalam
شفیع الدین نیر ، "کھلونا" میں زیادہ لکھتے تھے۔ ہمیں اسکول میں ان کی اکثر نظمیں یاد کرائی جاتی تھیں۔ ان کی نظموں کے دو تین مجموعے کھلونا بک ڈپو نے بھی شائع کی تھیں جو میرے پاس موجود ہیں۔ کھلونا کی تمام جلدیں بھی چند دوست احباب کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ میرے پاس بھی کچھ شمارے محفوظ ہیں۔
یہ "کھلونا" ہی کے دور کی تربیت ہے کہ جب میں نے اردو میں پہلی بار کارٹون ویب سائٹ کا قیام عمل میں لایا تو انگریزی/ہندی کارٹونی کہانیوں کو سلیس اردو زبان میں ڈھالنے کیلیے مجھے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ ایک سال کے دوران میں نے کوئی 300 کے قریب کارٹون/ کامکس کہانیاں شائع کیں۔ مگر پھر دوسرے سال یہ ہمت بھی دم توڑ گئی۔ وجہ وہی ہے کہ ایک اکیلا بندہ بھی اسی وقت دل جمعی سے کام کر سکتا ہے جب اس کی مناسب حوصلہ افزائی بھی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ ایسا نہ ہو سکا۔

- مکرم نیاز


--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Syed Ahmed

unread,
Mar 3, 2014, 2:31:12 AM3/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com
جی مکرم صاحب رضا عابدی صاحب نے بڑے ہی پایہ کی بات کہی ہے، ہم بہت اہم حصہ کو فراموش کرے ہوئے ہیں جن پر مستقبل کا مدار ہے پچھلے چند سالوں قبل جب مجھے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے فکر ہوئی تو میدان خالی نظر آیا، کسی سے ذکر کرنے پر کچھ کتابیں جدہ میں دار السلام میں جا کر کھوجیں اور کچھ جدہ میں ہندوستانی وپاکستانی اسکولوں کے قریب کتب فروشوں سے دریافت کیا تقریبا نا امیدی سی ہوئی
خدا کرے کہ کوئی مخلص ادارہ اس کام کی طرف توجہ دے
والسلام
سید احمد
2-5-1435ھ
3-3-2014ء

Mehr Afroze

unread,
Mar 3, 2014, 5:20:36 AM3/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com
سلام مکرّم نیاز صاحب ،کل آپکے مضمون کی تلاش میں آپکی بچوّں کی کارٹون نیٹ ورک کھل گیء۔سرسری طور پر دیکھ پایء ۔کیا اسے متحرّک بنایا جاسکتا ھے؟اور ایک مشورہ اگر قابل قبول ہو تو،بیانیہ فقرے کافی لمبے ہیں اورزبان ادبی ،اگر اسے تھوڑا سا اور روز مرّہ کی زبان بنا دی جاے تو اور بہتر ہوجاےّ ویسے اردو کارٹون موجّد کے طور پر تاریخ میں  آپ  اپنا نا م درج کرچکے ہیں جسکے لےء بہت بہت مبارک باد اگر کسی لایق سمجھیں تو اس کار خیر میں ترجمے کا کام کرسکتی ہوں۔ضروری سمجھیں تو یاد کریں۔ ننیک خواہشات کے ساتھ                                                     خیر خواہ  
                                                            مہر افروز

With Regards

 

Afroza.M.Kathiawari. 

Co-ordinator,

British Council Trainings,

DIET, Dharwad.Karnatak,India

http://hudafoundation.in

Maqsood Sheikh

unread,
Mar 3, 2014, 5:36:07 AM3/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com
 مکرم نیاز صاحب بہت خوب تعمیری کام کیا ہے ۔ مستقبل کے لئے محفوظ کر کے بچوں کے ادب کو استحکام دیا ہے ۔ اللہ برکت دے اور قبول فرمائے ۔ مقصود ۔

This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active.


Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 3, 2014, 9:15:43 AM3/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com

اردو والے اب رضاعلی عابدی صاحب کے اصل میدان عمل کو بھی بھولتے جارہے  ہیں ، سنیچر کے روز بچوں کے لئے شاہین کلب کا  پروگرام کیا خوب اور دلچسپ ہوا کرتا تھا ۔ اسے صرف بچے نہیں بڑے بھی سنا کرتے تھے ۔

مضمون میں شفیع الدین نیر اور کھلونا کو یاد کیا گیا ہے ، مکتبہ جامعہ سے پرچہ نکلا کرتا تھا پیام تعلیم ، غالبا نیر صاحب اس کی  مجلس ادارت میں تھے ،  کھلونا سفید اور چکنے  کاغذ پر چھپا کرتا تھا ، اس کی طباعت کامعیار اردو پرچوں میں سب سے اچھا ہوا کرتا تھا۔

یہاں بچوں کے ایک اور ادیب مائل خیر آبادی  کا بھی تذکرہ ضروری ہے ، ان کے ساتھ خود اپنے لوگوں نے بڑا ظلم کیا ۔ پہلے ان کی ادارت میں پندرہ روزہ نور نکلتا تھا ، جس میں انہوں نے اپنا خون جلا کر بچوں کے لئے لکھا ، چونکہ ان کا تعلق ایک اسلامی تحریک سے تھا لہذا ان سے اعتنا نہیں برتا  برتا گیا، ناشر نے ان کی تحریروں سے خوب کمایا ، لیکن اس کی رایلٹی یہ کہ کر روک دی کہ آپ ہمارے ملازم تھے ، اور مائل صاحب کی کہانیوں پر مصنف کا نام مٹا کر اسے شائع کرنا شروع کیا ۔پھر مائل صاحب اپنا پرچہ خود نکالنے پر مجبور ہوگئے ، اور انہوں بچوں کو چھوڑ کر خواتین کے لئے حجاب کے نام سے پرچہ شروع کیا ، ہمیں لکھنا پڑھنا جو بھی آیا اس میں مائل صاحب کی تحریروں کا بھی بہت بڑا احسان ہے۔ انہوں نے  نوے سے زیادہ  کہانیاں لکھی۔

اللہ ان کے درجات بلند کرے۔

 

bhatkallys

عبد المتین منیری

Abdul Mateen Muniri

Director

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

Skype : ammuniri

image001.jpg

Syed Ahmed

unread,
Mar 3, 2014, 11:08:54 AM3/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم منیری صاحب                 سلام مسنون
جناب والا آج صبح جب اس موضوع پر مراسلے پڑھنا شروع کیے تو یہ احساس دامنگیر ہو رہا تھا کہ بچوں کے موضوع پر نور کو یاران بزم نے کیوں چھوڑ دیا لیکن اللہ اللہ آپ کی تحریر نے اس گوشہ کو بھی وا کر دیا واقعی کیا کیا چیزیں ہوا کرتی تھیں، بچوں کے لیے بڑے کام کے یہ رسالے ہوتے تھے، ننھے منے ذہنوں کے مطابق ان میں پڑھنے کے شوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معلومات بھی بڑے خوبصورت انداز میں ہوا کرتی تھیں۔
خبر نہیں کہ فی الوقت اس کی فائلوں کو کیا کسی نے اسکین کرکے نٹ پر ڈالا ہے یا نہیں۔
والسلام
طالب دعاء
سید احمد
2-5-1435ھ
3-3-2014ء
 

This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active.
 
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
image001.jpg

Sulaiman D.

unread,
Mar 3, 2014, 11:51:27 AM3/3/14
to bazme...@googlegroups.com
Muhutram Qarein, Urdu Waleay Apneay Bachoon keay Saath Urdu ko Bhi Bhool Raheay Hain. Aab Yeh Mushairay, Urdu Seminar aour Urdu ki AAlmi Conferences Bas Urdu ki SHAM-E-GHARIBAN HAIEN. ATTACHED HERE WITH PLEASE GO THROUGH MY ARTICLE "URDU KI kAHANI URDU KI ZUBANI" 


From: ammu...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: RE: [بزم قلم:33543] اردو والے اپنے بچّوں کو بھولے جا رہے ہیں
Date: Mon, 3 Mar 2014 18:15:43 +0400
URDU KI KAHANI, URDU KI ZABANI..inp

Mukarram Niyaz

unread,
Mar 3, 2014, 3:34:07 PM3/3/14
to bazmeqalam
مہر افروز صاحبہ ، یہ آپ نے درست گرفت کی ہے :
اور ایک مشورہ اگر قابل قبول ہو تو،بیانیہ فقرے کافی لمبے ہیں اورزبان ادبی ،اگر اسے تھوڑا سا اور روز مرّہ کی زبان بنا دی جاے تو اور بہتر ہوجاےّ

ڈیڑھ سال پہلے "دی سنڈے گارجین ، دہلی" کے ایک انٹرویو میں ، میں نے اسی بات کا ذکر کیا تھا ۔۔۔

Though Niyaz maintains the site, his wife, son, cousin and a friend help him with translation, selection of the cartoons, marketing and give him moral support. "As my wife is a teacher, she is aware of a child's behaviour. While translating, she helps me select the exact Urdu phrases based on a child's understanding. Sometimes when I translate a phrase according to 'gulabi (refined) Urdu', she bluntly rejects it and I have to rewrite it. She is also the main translator of this website after me," he says.


Mukarram Niyaz

unread,
Mar 3, 2014, 4:57:29 PM3/3/14
to bazmeqalam
عبدالمتین منیری بھائی ،
مائل خیرآبادی کی نظموں کے کئی چھوٹے چھوٹے مجموعے آج بھی جماعت اسلامی کے مرکزی مکتبہ پر دستیاب ہیں۔ میری اہلیہ نے ان میں سے کچھ کو یونیکوڈ میں کمپوز کر کے نیٹ پر ڈال رکھا ہے۔
ہمارے خاندان میں رسالہ "نور" اس وقت سے آتا ہے جبکہ وہ پندرہ روزہ تھا۔ پھر 1980 سے 1995 تک میں اسے اپنے نام منگایا کرتا تھا۔
1985 سے 1995 تک میں نے ادارہ الحسنات کے دو رسائل "نور" اور "بتول" میں تسلسل سے افسانے/کہانیاں لکھی ہیں۔ کچھ مقابلوں میں انعامات بھی مل چکے ہیں۔ ابھی آپ کے یاد دلانے پر فیس بک پر اپنے پہلے انعام کا توصیفی خط اسکین کر کے لگایا ہے۔
آپ کے لیے بھی یہاں پیش خدمت ہے
یہ ٹھیک 26 سال پرانا خط ہے ۔۔ 3/مارچ کا۔

Noor-Award-March-1988-SMN.jpg

Syed Ahmed

unread,
Mar 4, 2014, 12:58:42 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم: مکرم نیاز صاحب                      سلام مسنون
ایک بار پھر پرانی کاوش پر از سر نو مبارکباد پیش ہے، اللہ مزید توفیق عطاء فرمائے آمین
والسلام
دعاء گو
سید احمد
3-5-1435ھ
4-3-2014ء

Mehr Afroze

unread,
Mar 4, 2014, 3:12:09 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com

Salam mukkarram niyaz saheb; really very happy to know that your whole family is in the service of language n website. congrats any way I take back my offer be blessed n happy thanks for the reply.

Mehr Afroze

unread,
Mar 4, 2014, 5:24:57 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
سلام۔
اردو والے بچّوں کو بھول رہے ہیں۔دو دن سے مختلف اراء پڑھنے کو ملیں ۔اپنا ایک واقعہ یاد آیا۔وہ میری شادی کے شروعاتی دن تھے شوہر صاحب کسی رشتہ دار کی شادی میں ممبیء لے گےء ۔میرا ممبیء کا پہلا سفر تھا۔میں نے شہر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔روزانہ کہیں نہ کہیں نکل پڑتے۔ایک دن اتّفاق سے کباڑی بازار نکل پڑے وہان ہر پرانی چیزیں بکتی دیکھیں۔اچانک میری نگاہ کتابوں کے انبار پر پڑی،جو اردو کی تھیں ایسی ایسی نایاب کتب تھیں کہ آپ سوچ بھی نھین سکتے،میں نے فیض،مایّل خیرابادی میر تقی میر سر سیّد قتیل شفایء،مولانا آزاد اور جانے کس کس کو  صرف دو روپےء کلو میں خریدا۔مگر آنکھیں ضرور نم ہوٰیں اردو کی ناقدری پر،اولاد کی نا خلفی پر جو والدین کے مذہبی لسانی اورثقافتی اساس کو سنبھال نہ سکی بس ردی مٰیں ڈال دیں۔میں نے پورے پیسے کتابوں کو خریدنے میں خرچ کردےء شوہر نامدار کی ناراضگی الگ تھی۔۔۔آج وہ ساری کتب میرے کتب خانے کی اثاث ہیں۔مگر ایک خوف رہ ،رہ کے سر اٹھاتا  میرے بعد میری اپنی اولاد کیا اسکی ویسی ہی قدر کریگی؟۔۔۔۔۔۔۔۔اردو والے بچأوں کی لےء نہ سہی اپنی اولاد کو اردو پڑھاوء تاکہ تمہاری اپنی اثاث ردّی کے مول اتوار بازار میں نہ بکیں اور راشد اشرف انھیں بیس روپےء میں خریدنے وہان پہنچ جایں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر افروز

Syed Ahmed

unread,
Mar 4, 2014, 7:36:32 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمہ مہر صاحبہ              سلام مسنون
آپ کی فکر  ومضمون اردو کے متعلق بڑا درد مندانہ ہے، اس سلسلے میں ہمیں کوشش ضرور کرنا پڑی گی، جہاں نٹ وغیرہ کا استعمال مفید ہے وہاں خصوصی طور پر بچوں کی پہلے سے ذہن سازی شرط اول ہے اس لیے میں نے آج سے تقریبا دس بارہ سال قبل اپنے چھوٹے بھائی کو مشورہ دیا تھا کہ ہمیں اپنی ثقافت زندہ رکھنے کے لیے خود کچھ کرنا ہوگا، صرف رونے گانے کے بجائے اپنی مقدرت بھر کچھ کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ ایک اسکول قائم کیا اور وہ ہے تو انگلش میڈیم لیکن اس میں اردو پر کافی زور دیا جاتا ہے، وہ اسکول پبلک اسکول ہے اس میں بلا تفریق مذہب وملت ہر شخص اپنا بچہ داخل کرتا ہے، اسی میں ہمارے گھر اور خاندان کے بیشتر بچے زیر تعلیم رہتے ہیں میری چھوٹی بچی جو کہ اب سے تقریبا آٹھ نو ماہ قبل درجۂ پنجم کی طالبہ تھی میں نے اس سے اردو پڑھنے کی فرمائش کی جب اس نے پڑھنا شروع کیا تو جی بڑا خوش ہوا اس طرح الحمد للہ اردو کی کچھ شد بد بھی ہو جاتی ہے نیز اسی اسکول میں تیسواں  سپارہ اور دیگر بڑی چھوٹی سورتیں مع ترجمہ، نماز کا طریقہ اور دعائیں وغیرہ مترجم، سب کچھ اسی ضمن میں سکھا دیا جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے اداروں کی ضرورت ہر علاقہ وگاؤں میں ہے کیا ہی اچھا ہوگا کہ ہم سب اس پر غور کرکے اپنی مقدرت بھر اس کا اپنے اپنے علاقہ میں انتظام کریں اور اس طرح اپنے بچوں کو اعلی معیاری تعلیم سے آراستہ کریں جس میں ان کی اپنی زبان وتہذیب بھی باقی رہے۔
والسلام
سید احمد
3-5-1435ھ
4-3-2014ء

Mukarram Niyaz

unread,
Mar 4, 2014, 7:36:52 AM3/4/14
to bazmeqalam
میرے خیال سے اردو کے ساتھ ساتھ کتب بینی کا شوق بھی بچوں میں پیدا کرنا ضروری ہے۔
اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب والدین خود بھی ہر مہینے کتب و رسائل خریدنے کے عادت ڈالیں ، ان کا مطالعہ کریں اور بچوں کو بھی ہر ماہ پابندی سے بچوں کی کتب اور رسالے خرید کر دیں۔ جب ٹام اور جیری کی سی ڈیز دلائی جا سکتی ہیں تو اردو کتب کیوں نہیں؟
اور صرف اپنے ہی بچے کیوں؟ پاس پڑوس کے یا اقربا کی اولادوں کو بھی دینے کی عادت ڈالنا چاہیے۔ اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔۔۔ خود ہم لوگ باہر کسی ہوٹل میں چائے نوشی یا آؤٹنگ کے نام پر چند سو یا چند ہزار بلاجھجھک خرچ کر دیتے ہیں تو اردو کے نام پر بھی دل بڑا کرنے میں کیا خرابی ہے؟

Mukarram Niyaz

unread,
Mar 4, 2014, 7:49:43 AM3/4/14
to bazmeqalam
سید احمد بھائی ، بہت ہی اچھا مشورہ ہے آپ کا۔ جزاک اللہ خیر
میری اولادیں بھی انگریزی میڈیم اسکول میں ہیں لیکن پھر میرے اور چند دوسرے والدین کے تقاضے پر اسکول میں علیحدہ سے اردو کلاسز شروع ہوئیں اور ماشاءاللہ صرف ایک ماہ میں سب کو اچھا خاصا لکھنا پڑھنا آ گیا گو کہ دونوں بڑے بچے پہلے سے اردو پر کسی حد تک عبور رکھتے تھے۔ سال میں دو بار جب ایک ایک ماہ کے لیے ان سب سے ملاقات ہوتی ہے تو میں تمام کو ایک ماہ لکھنے کی مشق پر لگاتا ہوں ۔۔۔ روز ایک صفحہ لکھنے کے پانچ روپے (اور یہاں ریاض میں : روز ایک صفحہ کا ایک ریال ) ۔۔ اور خوش خطی پر انعام الگ سے۔
پچھلے دو سال سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ اب تو سب سے بڑے دونوں بچے اپنی مرضی سے کوئی نہ کوئی کہانی بنا کر خود سے لکھتے ہیں۔
سب سے چھوٹی ابھی صرف کنڈرگارٹن میں ہے اور صرف حروف تہجی ہی لکھ سکتی ہے ۔۔۔ مگر "ڈیڑھ ہشیاری" دیکھئے کہ جلدی جلدی 2 صفحے الف ب ت ث سے بھر کر 10 روپے اینٹھنے کے چکر میں رہتی ہے۔

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 4, 2014, 9:05:45 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com

اس وقت ہمیں ابتدائی درجات کے ایک  مشفق استا  د ماسٹر احمد نوری صاحب یاد آتے ہیں ۔ منگلور سے ان کا تعلق تھا ، کنڑی زبان میں آپ نے قرآن پاک کا پہلا ترجمہ لکھا، جب درجے کی آخر ی کلاس میں بچے بور ہوتے ، اور ماسٹر صاحب سے

کوئی کہانی سنانے کو کہتے تو وہ  کہانی سنانے کے بجائے   مائل خیرآبادی کی کوئی کہانی کی کتاب بچوں سے پڑھواتے ،  بچے ان سے بڑے متاثر ہوتے ، کبھی جذبات سے بھر جاتے کبھی تاثر سے رونے لگتے ، جس کا اثر یہ ہوتا کہ طلبہ کہانی کی کتاب دارالمطالعہ سے لیتے  اور اسے پڑھ کر مکمل کرتے ، شاید احباب کے لئے اچھنبے کی بات ہو کہ ہماری مادری زبان کونکنی اور مراٹھی سے ملتی جلتی  نائطی ہے ، روزی روٹی اللہ نے عربی رکھ چھوڑی ہے ، ویسے ہمارے علاقے میں سرکاری زبان کنڑی اور ہندی ہونے کی وجہ سے اردو کا کو ئی مادی فائدہ بھی نہیں ، البتہ اس زبان نے بھٹکل کو ملت سے جوڑ دیا ہے ۔ ہمارے استاد کے اس طریقہ کار سے  ہمیں بہت فائدہ ہوا ، اس کے طفیل ہمیں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا ۔

ہمارے محترم استاد نے سنہ ساٹھ کی دہائی میں ایک مرتبہ مائل خیر آبادی کی کتاب ترکستان سے ترکی تک سنوائی تھی ، جو کیمیونسٹ انقلاب کے بعد چیانک کیانگ کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت اور ان کی ہمالیائی پہاڑوں سے  ترکی تک گدھوں اور گھوڑوں کی پیٹھ پر برفانی راستوں اور نمک کے میدانوں سے گذرنے کی داستان ہے ، اس میں ایک بہادر  مجاہد  عثمان بطور کا بھی تذکرہ   آتا ہے ، اس کہانی کے طفیل ہم نے گوپامتل کے ادارے تحریک کی شائع کردہ عثمان بطور کی زندگی پر لکھی  کتاب حاصل کی ، ان کے طفیل  چین کا جغرافیہ او وہاں کے مسلمانوں کے حالات کا نقشہ ذہن میں تازہ تھا، گذشتہ سال ہمارے ادارے میں نومسلموں کے سیکشن میں ایک چینی داعی سے ہمارا تبادلہ خیال ہورہا تھا، اس نے عربی شام کے مدارس میں سیکھی تھیں ، جب ہم نے اس سے چین اور یہاں کے مجاہد عثمان بطور کے بارے میں بتایا تو ہکا بکا رہ گیا ، کہنے لگا کہ یہ باتیں چین میں اچھے اچھے پڑھے لکھے مسلمانوں کو معلوم نہیں، حیرت ہوتی ہے ہزاروں میل دور رہ کر ہمارے بارے میں تم یہ سب جانتے ہو۔ اب بھی ہمارا طریقہ ہے کہ جب  چھٹی پر وطن جاتے ہیں اپنی بچیوں سے اس قسم کی کتابیں سنتے ہیں ۔ انعام بھی دیتے ہیں ۔کبھی کبھار مختصر خوبصورت عبارتیں نقل کرنے کو بھی دیتے ہیں ۔ جس کا بہت فائدہ محسوس ہوتا ہے ۔

 

bhatkallys

عبد المتین منیری

Abdul Mateen Muniri

Director

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

Skype : ammuniri

 

 

 

image001.png
image002.jpg

Mehr Afroze

unread,
Mar 4, 2014, 1:19:53 PM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
---------- Forwarded message ----------
From: kathiawa...@gmail.com
Date: Mar 4, 2014 11:49 PM
Subject: Re: [بزم قلم:33573] اردو والے اپنے بچّوں کو بھولے جا رہے ہیں
To: <BAZMe...@googlegroups.com>
Cc:

On Mar 4, 2014 11:39 PM, "Mehr Afroze" <kathiawa...@gmail.com> wrote:
سلام قارین ۔
بحث چل پڑی ہے تو اگے ؓبھی بڑھے۔اردو کے پڑھانے سے بچوں میں ادبی ذوق نہین پنپتا اسکی آبیاری کرنی پڑتی ہے۔ہماری نسل کے لوگوں کو یہ موقعہ خوب ملا کہ ابھی کچھ شعراء و ادیب نطر  [معیاری] آتے ہیں ۔اب کی جو پڑھی لکھی نسل ہے اردو کا املا صحیح ڈھنگ سے لکھ نہیں پاتی ۔خاصکر نےء اساتذہ کی جو کھیپ نکلی ہے وہ ماشا اللہ کیا کہوں!چھوٹا منہ بڑی بات میرے ادارہء ہدی ؑمیں ہر سال سو سے زیادہ لڑکیاں مفت تٹوشن کے لےء داخلہ لیتی ہیں نہ ڈھنگ کی اردو آتی ہے نہ انگریزی۔ مجھے کم از کم دونوں زبانوں کی بنیاد کے لیے 45 دن کا برج کورس کرنا پڑتا ہے اسکے بعد ساینس حساب اغیرہ کی ٹیوشن شروع ہوتی ہے۔یہ بنیادی حقیقت ہے ،میرے اور اپکے گھر کے بچےّ غلطی سے بھی صحیح اردو سیکھ جاتے جو غلط اردو سیکھی بھیڑ میں یا تو تنہا ہو جایں گے یا پھر خود کو کسی اور سیأرے کا باشندہ محسوس کرین گے اردو میڈم سے نکلی اس بھیڑ کا کیا کریں گے؟ جو میرے اور اپکے بچوں کی قارین اور سا معین ہونگی۔۔اگر میرا یہ احسا س کسی کو چھوسکے تو میری محنت کا میاب سمجھوں۔۔۔۔۔۔۔ ویسے میرے بچے انگریزی بذ ریعہ تعلیم کی ہی پیداوار ہیں شاعری کے کیڑے ۔اورتقریر کے جراثیم لے کر پیدا ہوےء ہیں مگر اردو کی محبت کی کمی میں نے ان مٰیں محسوس کی ہے حالانکہ اردو پڑھ اور لکھ بھی سکتے ہیں۔یہ میرا ہی نہیں اپکے شہر کا المیہ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا شھر نہ بھتکل ہے نہ حیدرآباد۔۔۔۔۔۔۔اسلے۴ میری اثاث کوسنبھالنے کے لےء میں نے اپنے ادارے میں ہزار بچےّ گود لے رکھے ہیں ۔۔۔یہ اردو کے لیے میری کمزور کوششیں ہیں۔۔اللہ قبول کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          مہر افروز

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 4, 2014, 3:39:59 PM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com

محترمہ یہ آپ بھٹکل اور حیدرآباد کے چکرمیں کہاں پھنس گئیں ، آپ تو ایک ایسی جگہ سے تعلق رکھتی ہیں جو علم و تحقیق  کا گہوارہ سمجھی جاتی ہے ، یہاں کی کرناٹکا یونیورسٹی کا تو بھٹکل خوشہ چیں ہے ، ویسے کیا پدا کیا پدے کا شوربہ

بھٹکل کی بساط ہی کیا ، پانچ چھ کلومیٹر کے احاطہ پر ساٹھ ستر ہزار کی آبادی کا ایک قصبہ ،اگر میں غلطی نہیں کررہاہوں تو مدراس یونیورسٹی اور کرناٹک یونیورسٹی اپنی قدامت اور شہرت میں  ہم پلہ سمجھی جاتی رہی ہیں ،

کاروار اور دھاڑوار ہی تو بھٹکل کو اساتذہ فراہم کرتے آرہے تھے، لیکن اساتذہ کی وہ نسل ختم ہوگئی ، جس کے نزدیک تعلیم وتربیت ایک مشن ہوا کرتا تھا ، اردو کے زوال میں کم از کم مہاراشٹر، کرناٹک اور ٹامل ناڈو کی حد تک

اتنا قصور سرکار کا نہیں ہے ، جتنا ان لوگوں کا ہے جن کی روزی روٹی اردو سے وابستہ رہی ہے ، حکومت کی سہولیات سے انہوں نے خوب نفع اٹھایا ، لیکن  اپنی کوکھ انہوں نے بانجھ کی  ، انہوں نے اردو کو کچھ دینے کے بجائے اس کی دیوار ڈھانے میں کوئی

کوئی کسر نہیں چھوڑی ، آج سے دو عشرے قبل تک کرناٹک کے سرکاری  اردو اسکول بڑی اچھی نسلیں تیار کررہے تھے ، لیکن اب پرائیوٹ اسکولوں کو شاید سرخاب کے پر لگ گئے ہیں ، اردو والوں نے سرکاری اسکولوں میں

اپنے نونہالوں کو بھیجنا بند کردیا  اور انہیں غریب اور نادار طلبہ کے لئے چھوڑ دیا ،پرائیوٹ تعلیمی ادارے چاہے وہ مسلمانوں کے ہی کیوں نہ ہوں ، ان میں اردو سے وہ اعتناء برتا نہیں جاتا جو سرکاری اسکولوں میں برتا جاتا تھا،

اپنے زخموں کو کریدنے  کا کیا فائدہ ،ان کو مندمل کرنے کا سوچا جائے ۔

 

عبد المتین منیری

Director " BHATKALLYS"

Bhatkal , Karnataka

Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals

www.akhbaroafkar.com 

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

image002.jpg
image003.png

Syed Ahmed

unread,
Mar 5, 2014, 1:52:35 AM3/5/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم: مکرم نیاز صاحب                           سلام مسنون
بھئی بات وہی ہے کہ جب تک عملا کچھ نہ کیا جائے تبادلۂ خیال کافی نہیں، آپ دیکھیں، منیری صاحب نے اپنے بچپن کی باتیں لکھیں، صرف ایک استاذ کی جہد نے کیسا رنگ دکھایا، وہ بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کی مادری زبان اردو نہیں پھر بھی خوب لکھتے ہیں، یہ اور اس طرح کی مثالیں بہت مل سکتی ہیں اگر تلاش کیا جائے، بس اقوال کے ساتھ اعمال بھی ہوں تو وہ جہود رائیگاں نہیں جاتیں۔
اور میاں میں تو تعلیم کے سلسلے میں رفاہی نظریہ سے ہٹ کر بھی سوچتا ہوں کہ اسکول قائم کیے جائیں اقتصادیاتی اصولوں پر، کہ بلا مال کے اعمال بھی ہولے ہولے دم توڑ دیتے ہیں، ہاں صرف مال کمانے کی ہوس نہ ہو۔
اساتذہ کی اچھی کھیپ چنی جائے، اچھا مشاہرہ دیا جائے، معیار تعلیم کے ساتھ معیار اخلاق بھی بلند ہو تو لوگ آج بھی اس طرح کے اسکولوں کی تلاش میں پریشان رہتے ہیں، اس میں نہ کوئی مذہب آڑے آتا ہے نہ کوئی مسلک بلکہ جہاں کردار سازی ہو وہاں ہر شخص اپنا بچہ داخل کرانا اپنی کامیابی سمجھتا ہے، شاید اسی گر کو بعض دوسری قوموں نے سمجھ لیا ہے۔
(يا لَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ).
والسلام
خیر اندیش
سید احمد
4-5-1435ھ
5-3-2014ء
 

http://www.taemeernews.com/ : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
http://www.urdukidzcartoon.com/ : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.


 
--
With Regards
 
Afroza.M.Kathiawari. 
Co-ordinator,
British Council Trainings,
DIET, Dharwad.Karnatak,India
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
C.E.O Taemeer Web Development
http://www.taemeernews.com/ : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
http://www.urdukidzcartoon.com/ : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
C.E.O Taemeer Web Development
http://www.taemeernews.com/ : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
http://www.urdukidzcartoon.com/ : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net
 
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.


 
--
With Regards
 
Afroza.M.Kathiawari. 
Co-ordinator,
British Council Trainings,
DIET, Dharwad.Karnatak,India
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st 
Urdu cartoon/comics project on the net
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
image002.jpg
image001.png

مهتا ب قدر

unread,
Mar 5, 2014, 2:42:57 AM3/5/14
to BAZMe...@googlegroups.com
واہ بہت درد انگیز واقعہ ہے اردو کی ناقدری کا مگر اس کے ذمہ دار اولاد نہیں میرے خیال میں ہم لوگ ہیں جنہوں معیشت کی درستگی اور استحکام کےلئے انگریزی تو خوب پڑھای مگر تہذیب اور تمدن کی وراثت کے بچاو کےلئے انہیں اردو سکھانا چاہے گھر میں ہی سہی گوارا نہ کیا۔ مگرم نیاز اور دیگر مثبت رائے رکھنے والوں کا ممنون ہوں شکریہ آپ کا بھی کہ آپ نے مجھے کچھ کہنے کا موقع دیا

                   مہتاب قدر
               Mahtab Qadr 
              Editor 
        Global Urdu News and Views
 
    میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
   میرا   اصلی   وطن   مدینہ    ہے

Mehr Afroze

unread,
Mar 5, 2014, 2:59:37 AM3/5/14
to BAZMe...@googlegroups.com
سلام متین صاحب وقت کی کروٹ ہر چیز کو بدل دیتی ہے۔دھارواڑ کا وہ تربیتی ادارہ کاب کا باند ہو چکا کچھ اپنوں کی کوتاہی تھی کچھ غیروں کی عصبیت تھی۔دھارواڑ یونیورسٹٰی کا اردو ڈپارٹمنٹ بند ہونے کو ہے۔مشکل سے طلبا اردو پڑھتے ہیں۔شاعروں کی نیء نسل جو نکلی ہے وہ ماشا اللہ ہے۔اردو مدارس کے حال پر جتنا رویں کم ہے۔بھٹکل اور حیدرآباد کا تذکرہ اسلیے کیا کہ وھاں اردو کے فروغ کے لیے محنتیں ہورہی ہیں جبکہ یہاں رونے والے بھی کم بچے ہیں۔
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages