اردو والے اپنے بچّوں کو بھولے جا رہے ہیں
شہر شہر اردو اور ادبی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے ادیب اور دانشور بڑے اعلیٰ ادب پر نہایت دانشمندانہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ تخلیقی اور تنقیدی ادب کے ہر گوشے پر گفتگو ہورہی ہے۔ ہر سطح کے قاری کی بات ہورہی ہے۔ مگر آپ نے ایک بات محسوس کی ہے؟ کہیں بھی، کسی بھی اجتماع میں، کسی مذاکرے میں بچّوں کے ادب کا ذکر تک نہیں۔ بڑے پایہ کے مفکر اور قلم کار بھولے سے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ وطن عزیز کی نئی نسل کو پڑھنے کے لئے کیا کچھ دیا جا رہا ہے اور کیا دینے کی ضرورت ہے۔ ذرا تصور تو کیا جائے کہ بچّوں کے ہاتھوں میں وہی گھسی پٹی درسی کتابیں ہیں، دقیانوسی،ناقص، اکتانے والی اور ذہن کی تربیت میں کسی کام کی نہیں۔ایسے میں ضرورت اور شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ہمارے جیّد اہل قلم اپنی بے پناہ مہارت اور دانشوری کو بروئے کار لائیں اور کبھی وقت نکال کر بچوں کا ادب بھی تخلیق کریں۔ کبھی نئی نسل کو بھی اپنی توجہ کا تحفہ عنایت کریں اور کچھ ایسا کر جائیں کہ ہمارے اپنے بچّوں کے کردار، ذہن اور اندازِفکر کی تربیت ہو۔
برطانیہ میں کتابوں کی اشاعت کو صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ دھیان رہے کہ بچّوں کی کتابوں کی طباعت کو بالکل الگ صنعت تصور کیا جاتا ہے۔ ہر لائبریری میں بچّوں کا شعبہ الگ ہوتا ہے، ان کے لئے ایک بڑا کمرہ مخصوص ہوتا ہے جس میں دبیز قالین بچھا ہوتا ہے، ہر طرف کتابیں چُنی ہوتی ہیں۔ بچّے اتنے اشتیاق سے کتابیں دیکھتے ہیں کہ انہیں یوں پڑھتا دیکھ کرہی خوشی ہوتی ہے۔ بھارت میں مرکزی حکومت نے بہت بڑا ادارہ قائم کیا ہے جو دنیا میں صرف ایک کام کرتا ہے۔ پورے ملک کے کروڑوں بچّوں کے لئے تیس سے زیادہ زبانوں میں کتابیں چھاپتا ہے۔ میں نے دلّی میں اس چلڈرنز بُک ٹرسٹ کی عمارت دیکھی ہے جو ہمارے بڑے بڑے اخباروں کی عمارتوں سے بھی بڑی ہے، اس میں چھاپہ خانہ بھی ہے اور ترجمے کا بہت باکمال شعبہ ہے جو کتابوں کو ملک کی درجنوں زبانوں میں منتقل کرتا ہے۔ ان کی اپنی دکانیں ہیں جو بچّوں کی دلچسپی کے سازو سامان سے بھری ہوتی ہیں۔ خریداروں کو کتابیں پٹ سن کی تھیلیوں میں دی جاتی ہیں اور ساتھ ہی سمجھایا جاتا ہے کہ کاغذ اور پلاسٹک کے تھیلے دنیا کے ماحول کے لئے اچھے نہیں۔
اب ہمارا حال سنئے۔ پاکستان کا ایک بڑا اشاعت گھر بچّوں کی کتابیں چھاپا کرتا تھا۔ اس نے اس کام سے توبہ کرلی۔ دو تین بچّوں کے رسالے نکلتے ہیں جو داد اور تحسین کے مستحق ہیں کہ اس لاتعلقی اور عدم دلچسپی کے دور میں جرأت سے کام لے رہے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو خبر ہو گی کہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں ایک عبدالحمید کھوکھر لائبریری ہے جس میں برصغیر سے شائع ہونے والے بچّوں کے زیادہ تر اخبار اور رسالے محفوظ ہیں۔ یہ نادر اور نایاب ذخیرہ ہے جس کی قدر ہونی چاہئے اور جہاں تحقیق کی بہت ضرورت ہے۔ کیا اچھا ہو کہ اہل ِ علم ان رسالوں کے انتخاب تیار کریں۔
عبدالمجید کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے ضیاء اﷲ صاحب نے’ بچّوں کی صحافت کے سو سال‘ کے عنوان سے اپنے کتب خانے کی فہرست مرتب کی ہے جس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ اسی طرح بہت تھوڑے اہل وطن جانتے ہوں گے کہ دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد میں بچّوں کے ادب کا پورا شعبہ قائم ہے جس کے نگراں ڈاکٹر محمد افتخار کھوکر ہیں ۔اس شعبے نے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ہے اور پاکستان میں بچّوں کے ادب کا ڈیٹا ترتیب دیا ہے۔بس یہ ہے کہ ان کے کام میں دین پر بہت زور ہے۔
میں نے جب ہوش سنبھالا، ہمارے گھر میں بچّوں کا اخبار یا رسالہ پھول آیا کرتا تھا۔ اس زمانے میں سرکردہ ادیب شاعر بچوں کے لئے باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔ کتنے ہی نو عمر لکھنے والے آگے چل کر نامور ادیب بنے۔ شکر ہے کہ پھول کے تمام شمارے فائل کی شکل میں محفوظ ہیں اور ان کے دو ایک انتخاب بھی نکلے ہیں۔ لیکن بچّوں کے ادب میں جو مقام دلّی کے ماہنامہ کھلونا کو حاصل تھا اس کا کوئی ثانی نہیں۔ بھارت میں اردو پر زوال آیا تو کھلونا بھی مر کھپ گیا۔ اس میں چوٹی کے ادیب شاعر لکھا کرتے تھے جن میں کرشن چندر سے لے کر راجا مہدی علی خاں تک بے شمار لوگ شامل تھے۔ کچھ عرصہ ہوا کھلونا مرحوم کے ایڈیٹر یونس دہلوی سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ کھلونا کا کوئی انتخاب نکلا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے پوچھا کہ رسالے کی فائلیں تو محفوظ ہوں گی؟انہوں نے ہاں میں جواب تو دیا لیکن اس میں نہیں صاف جھلک رہا تھا۔
پاکستان میں بچّوں کے لئے اہم کام حکیم محمد سعید مرحوم نے انجام دیا۔ بچّوں سے انہیں غیر معمولی لگاؤ تھا اور ان کے لئے حکیم صاحب نے بہت کچھ کیا، خصوصاً ان کارسالہ ’ ہمدرد نونہال‘ آج تک نکلتا ہے جس کے نگراں مسعوداحمدبرکاتی صاحب کے دم قدم سے ادارہ ہمدرد میں رونق ہے۔ روزناموں کے ساتھ بچّوں کے صفحے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی ایک اخبار تو بہت دلکش ضمیمہ نکالتا ہے، کچھ روزنامے الگ صفحے آراستہ کرتے ہیں لیکن وہ بات نہیں جو ہمارے زمانے میں تھی جب روزنامہ جنگ میں نونہال لیگ کی دھوم تھی اور اس کی بنیاد پر ماہ نامہ بھائی جان نکلا تھا۔
اب نظر یوں آتا ہے کہ پاکستان میں اس کاروبار میں منافع نہیں۔ نہ ناشر کو، نہ کتب فروش کو اور نہ ادیب شاعر کو۔ میں نے ایک بار کتابوں کی ایک بڑی دکان میں کسی گاہک کو یہ پوچھتے سنا کہ بچّوں کی کتابیں کہاں ہیں؟ جواب ملا اوپر پڑی ہیں۔ میں نے بالائی منزل پر جاکر دیکھا۔ بچوں کی کتابیں ایک کونے میں فرش پر پڑی تھیں۔ ایک اور بڑے شوروم میں یہ کتابیں سامنے تو رکھی تھیں لیکن ان پر گرد جمی ہوئی تھی اور صاف نظر آتا تھا کہ بہت عرصے سے کسی نے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔
ادیب شاعر کا معاملہ یوں ہے کہ کتاب کی رائلٹی اگر ملتی ہے تو اس چالیس پچاس روپے کی کتاب کا کتنا حصہ اس کی جیب میں جائے گا۔ ظاہر ہے برائے نام۔ دوسرے اس کی شہرت میں اضافے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے ۔حالانکہ شان الحق حقی صاحب اور ابن ِ انشاء جیسے لکھنے والوں نے بچوں کے لئے لکھ کر بہت عزت پائی۔ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکٹر ذاکر حسین تک کتنے ہی بڑے لوگوں نے بچّوں کے لئے لکھا۔سنہ 1849ء بچوں کے لئے ایک منظوم کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ اس پر کسی اور سے نہیں، اسداﷲ خاں غالب سے نظر ِ ثانی کرائی گئی۔ ایک نام میرے ذہن سے محو نہیں ہوتا، شفیع الدین نیّر۔ خوب لکھتے تھے اور مسلسل لکھتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ دنیا نے انہیں بھلا دیا۔ کہاں سے آئے تھے کدھر گئے، کچھ خبر نہیں۔ شاید دنیا کی یادداشت کا یہ حال دیکھ کر پھر ہر شفیع الدین نیّر نے پیدا ہونے سے گریز کیا۔
میں پھر لوٹتا ہوں عالمی اردو اور ادبی کانفرنسوں کی طرف۔ آپ دو تین دنوں میں کم سے کم چھ چھ سیشن کرتے ہیں۔ کیا ان میں سے ایک، صرف ایک ، بچّوں کے ادب کے لئے مخصوص نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مجھے ارمان ہی رہا کہ کبھی کسی کو بچّوں کی بہترین کتاب لکھنے پرکوئی قومی انعام یا اعزاز ملا ہو۔ کبھی نہیں۔ کتاب کا خیال نہیں تو نہ سہی، بچّوں کا خیال تو کیجئے۔یہ کسی اور کے نہیں، ہمارے ہی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
|
|
|
|
|
With Regards
Afroza.M.Kathiawari.
Co-ordinator,
British Council Trainings,
DIET, Dharwad.Karnatak,India
اردو والے اب رضاعلی عابدی صاحب کے اصل میدان عمل کو بھی بھولتے جارہے ہیں ، سنیچر کے روز بچوں کے لئے شاہین کلب کا پروگرام کیا خوب اور دلچسپ ہوا کرتا تھا ۔ اسے صرف بچے نہیں بڑے بھی سنا کرتے تھے ۔
مضمون میں شفیع الدین نیر اور کھلونا کو یاد کیا گیا ہے ، مکتبہ جامعہ سے پرچہ نکلا کرتا تھا پیام تعلیم ، غالبا نیر صاحب اس کی مجلس ادارت میں تھے ، کھلونا سفید اور چکنے کاغذ پر چھپا کرتا تھا ، اس کی طباعت کامعیار اردو پرچوں میں سب سے اچھا ہوا کرتا تھا۔
یہاں بچوں کے ایک اور ادیب مائل خیر آبادی کا بھی تذکرہ ضروری ہے ، ان کے ساتھ خود اپنے لوگوں نے بڑا ظلم کیا ۔ پہلے ان کی ادارت میں پندرہ روزہ نور نکلتا تھا ، جس میں انہوں نے اپنا خون جلا کر بچوں کے لئے لکھا ، چونکہ ان کا تعلق ایک اسلامی تحریک سے تھا لہذا ان سے اعتنا نہیں برتا برتا گیا، ناشر نے ان کی تحریروں سے خوب کمایا ، لیکن اس کی رایلٹی یہ کہ کر روک دی کہ آپ ہمارے ملازم تھے ، اور مائل صاحب کی کہانیوں پر مصنف کا نام مٹا کر اسے شائع کرنا شروع کیا ۔پھر مائل صاحب اپنا پرچہ خود نکالنے پر مجبور ہوگئے ، اور انہوں بچوں کو چھوڑ کر خواتین کے لئے حجاب کے نام سے پرچہ شروع کیا ، ہمیں لکھنا پڑھنا جو بھی آیا اس میں مائل صاحب کی تحریروں کا بھی بہت بڑا احسان ہے۔ انہوں نے نوے سے زیادہ کہانیاں لکھی۔
اللہ ان کے درجات بلند کرے۔

عبد المتین منیری
Abdul Mateen Muniri
Director
Skype : ammuniri
This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active. |
Salam mukkarram niyaz saheb; really very happy to know that your whole family is in the service of language n website. congrats any way I take back my offer be blessed n happy thanks for the reply.
) ۔۔ اور خوش خطی پر انعام الگ سے۔اس وقت ہمیں ابتدائی درجات کے ایک مشفق استا د ماسٹر احمد نوری صاحب یاد آتے ہیں ۔ منگلور سے ان کا تعلق تھا ، کنڑی زبان میں آپ نے قرآن پاک کا پہلا ترجمہ لکھا، جب درجے کی آخر ی کلاس میں بچے بور ہوتے ، اور ماسٹر صاحب سے
کوئی کہانی سنانے کو کہتے تو وہ کہانی سنانے کے بجائے مائل خیرآبادی کی کوئی کہانی کی کتاب بچوں سے پڑھواتے ، بچے ان سے بڑے متاثر ہوتے ، کبھی جذبات سے بھر جاتے کبھی تاثر سے رونے لگتے ، جس کا اثر یہ ہوتا کہ طلبہ کہانی کی کتاب دارالمطالعہ سے لیتے اور اسے پڑھ کر مکمل کرتے ، شاید احباب کے لئے اچھنبے کی بات ہو کہ ہماری مادری زبان کونکنی اور مراٹھی سے ملتی جلتی نائطی ہے ، روزی روٹی اللہ نے عربی رکھ چھوڑی ہے ، ویسے ہمارے علاقے میں سرکاری زبان کنڑی اور ہندی ہونے کی وجہ سے اردو کا کو ئی مادی فائدہ بھی نہیں ، البتہ اس زبان نے بھٹکل کو ملت سے جوڑ دیا ہے ۔ ہمارے استاد کے اس طریقہ کار سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ، اس کے طفیل ہمیں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا ۔
ہمارے محترم استاد نے سنہ ساٹھ کی دہائی میں ایک مرتبہ مائل خیر آبادی کی کتاب ترکستان سے ترکی تک سنوائی تھی ، جو کیمیونسٹ انقلاب کے بعد چیانک کیانگ کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت اور ان کی ہمالیائی پہاڑوں سے ترکی تک گدھوں اور گھوڑوں کی پیٹھ پر برفانی راستوں اور نمک کے میدانوں سے گذرنے کی داستان ہے ، اس میں ایک بہادر مجاہد عثمان بطور کا بھی تذکرہ آتا ہے ، اس کہانی کے طفیل ہم نے گوپامتل کے ادارے تحریک کی شائع کردہ عثمان بطور کی زندگی پر لکھی کتاب حاصل کی ، ان کے طفیل چین کا جغرافیہ او وہاں کے مسلمانوں کے حالات کا نقشہ ذہن میں تازہ تھا، گذشتہ سال ہمارے ادارے میں نومسلموں کے سیکشن میں ایک چینی داعی سے ہمارا تبادلہ خیال ہورہا تھا، اس نے عربی شام کے مدارس میں سیکھی تھیں ، جب ہم نے اس سے چین اور یہاں کے مجاہد عثمان بطور کے بارے میں بتایا تو ہکا بکا رہ گیا ، کہنے لگا کہ یہ باتیں چین میں اچھے اچھے پڑھے لکھے مسلمانوں کو معلوم نہیں، حیرت ہوتی ہے ہزاروں میل دور رہ کر ہمارے بارے میں تم یہ سب جانتے ہو۔ اب بھی ہمارا طریقہ ہے کہ جب چھٹی پر وطن جاتے ہیں اپنی بچیوں سے اس قسم کی کتابیں سنتے ہیں ۔ انعام بھی دیتے ہیں ۔کبھی کبھار مختصر خوبصورت عبارتیں نقل کرنے کو بھی دیتے ہیں ۔ جس کا بہت فائدہ محسوس ہوتا ہے ۔
سلام قارین ۔بحث چل پڑی ہے تو اگے ؓبھی بڑھے۔اردو کے پڑھانے سے بچوں میں ادبی ذوق نہین پنپتا اسکی آبیاری کرنی پڑتی ہے۔ہماری نسل کے لوگوں کو یہ موقعہ خوب ملا کہ ابھی کچھ شعراء و ادیب نطر [معیاری] آتے ہیں ۔اب کی جو پڑھی لکھی نسل ہے اردو کا املا صحیح ڈھنگ سے لکھ نہیں پاتی ۔خاصکر نےء اساتذہ کی جو کھیپ نکلی ہے وہ ماشا اللہ کیا کہوں!چھوٹا منہ بڑی بات میرے ادارہء ہدی ؑمیں ہر سال سو سے زیادہ لڑکیاں مفت تٹوشن کے لےء داخلہ لیتی ہیں نہ ڈھنگ کی اردو آتی ہے نہ انگریزی۔ مجھے کم از کم دونوں زبانوں کی بنیاد کے لیے 45 دن کا برج کورس کرنا پڑتا ہے اسکے بعد ساینس حساب اغیرہ کی ٹیوشن شروع ہوتی ہے۔یہ بنیادی حقیقت ہے ،میرے اور اپکے گھر کے بچےّ غلطی سے بھی صحیح اردو سیکھ جاتے جو غلط اردو سیکھی بھیڑ میں یا تو تنہا ہو جایں گے یا پھر خود کو کسی اور سیأرے کا باشندہ محسوس کرین گے اردو میڈم سے نکلی اس بھیڑ کا کیا کریں گے؟ جو میرے اور اپکے بچوں کی قارین اور سا معین ہونگی۔۔اگر میرا یہ احسا س کسی کو چھوسکے تو میری محنت کا میاب سمجھوں۔۔۔۔۔۔۔ ویسے میرے بچے انگریزی بذ ریعہ تعلیم کی ہی پیداوار ہیں شاعری کے کیڑے ۔اورتقریر کے جراثیم لے کر پیدا ہوےء ہیں مگر اردو کی محبت کی کمی میں نے ان مٰیں محسوس کی ہے حالانکہ اردو پڑھ اور لکھ بھی سکتے ہیں۔یہ میرا ہی نہیں اپکے شہر کا المیہ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا شھر نہ بھتکل ہے نہ حیدرآباد۔۔۔۔۔۔۔اسلے۴ میری اثاث کوسنبھالنے کے لےء میں نے اپنے ادارے میں ہزار بچےّ گود لے رکھے ہیں ۔۔۔یہ اردو کے لیے میری کمزور کوششیں ہیں۔۔اللہ قبول کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر افروز
محترمہ یہ آپ بھٹکل اور حیدرآباد کے چکرمیں کہاں پھنس گئیں ، آپ تو ایک ایسی جگہ سے تعلق رکھتی ہیں جو علم و تحقیق کا گہوارہ سمجھی جاتی ہے ، یہاں کی کرناٹکا یونیورسٹی کا تو بھٹکل خوشہ چیں ہے ، ویسے کیا پدا کیا پدے کا شوربہ
بھٹکل کی بساط ہی کیا ، پانچ چھ کلومیٹر کے احاطہ پر ساٹھ ستر ہزار کی آبادی کا ایک قصبہ ،اگر میں غلطی نہیں کررہاہوں تو مدراس یونیورسٹی اور کرناٹک یونیورسٹی اپنی قدامت اور شہرت میں ہم پلہ سمجھی جاتی رہی ہیں ،
کاروار اور دھاڑوار ہی تو بھٹکل کو اساتذہ فراہم کرتے آرہے تھے، لیکن اساتذہ کی وہ نسل ختم ہوگئی ، جس کے نزدیک تعلیم وتربیت ایک مشن ہوا کرتا تھا ، اردو کے زوال میں کم از کم مہاراشٹر، کرناٹک اور ٹامل ناڈو کی حد تک
اتنا قصور سرکار کا نہیں ہے ، جتنا ان لوگوں کا ہے جن کی روزی روٹی اردو سے وابستہ رہی ہے ، حکومت کی سہولیات سے انہوں نے خوب نفع اٹھایا ، لیکن اپنی کوکھ انہوں نے بانجھ کی ، انہوں نے اردو کو کچھ دینے کے بجائے اس کی دیوار ڈھانے میں کوئی
کوئی کسر نہیں چھوڑی ، آج سے دو عشرے قبل تک کرناٹک کے سرکاری اردو اسکول بڑی اچھی نسلیں تیار کررہے تھے ، لیکن اب پرائیوٹ اسکولوں کو شاید سرخاب کے پر لگ گئے ہیں ، اردو والوں نے سرکاری اسکولوں میں
اپنے نونہالوں کو بھیجنا بند کردیا اور انہیں غریب اور نادار طلبہ کے لئے چھوڑ دیا ،پرائیوٹ تعلیمی ادارے چاہے وہ مسلمانوں کے ہی کیوں نہ ہوں ، ان میں اردو سے وہ اعتناء برتا نہیں جاتا جو سرکاری اسکولوں میں برتا جاتا تھا،
اپنے زخموں کو کریدنے کا کیا فائدہ ،ان کو مندمل کرنے کا سوچا جائے ۔
عبد المتین منیری
Director " BHATKALLYS"
Bhatkal , Karnataka
Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals
http://www.taemeernews.com/ : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
http://www.urdukidzcartoon.com/ : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
With RegardsAfroza.M.Kathiawari.Co-ordinator,British Council Trainings,DIET, Dharwad.Karnatak,India
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|