کفن

118 views
Skip to first unread message

abrar ahmed

unread,
Aug 18, 2013, 12:20:49 AM8/18/13
to bazme...@googlegroups.com

کفن

شاھنواز فاروقی
منشی پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ اردو افسانے کی تاریخ میں ایک سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس افسانے کو شائع ہوئے 77سال ہوگئے ہیں مگر یہ آج تک ’’نیا‘‘ ہے۔ اس کی وجہ بلاشبہ منشی پریم چند کا فن ہے، لیکن اس افسانے کے موضوع نے اسے مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ منشی پریم چند ترقی پسند تھے، ان کی فکر پر مارکسزم کا گہرا اثر تھا، اور مارکسزم میں معاشیات زندگی کی تعریف متعین کرنے والی واحد یا سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ’’کفن‘‘ میں منشی پریم چند نے دکھایا ہے کہ جاگیردارانہ معاشرہ ایسی ہولناک غربت پیدا کرتا ہے کہ انسان اپنی انسانیت بھی کھو دیتا ہے۔ غربت اور اس کے اثرات منشی پریم چند کے بہت سے افسانوں کا موضوع ہیں مگر ’’کفن‘‘ میں ان چیزوں نے گویا معراج حاصل کرلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کفن‘‘ ایک ایسی المناکی کو ہمارے سامنے لاتا ہے کہ افسانے کا قاری دہل اور لرز کر رہ جاتا ہے۔
کفن کی کہانی دو ہندو محنت کشوں گھیو اور مادھو کے گرد گھومتی ہے۔ گھیو اور مادھو میں باپ بیٹے کا رشتہ ہے۔ افسانے میں دکھایا گیا ہے کہ مادھو کی بیوی بدھیا کے یہاں ولادت ہونے والی ہے اور وہ کمرے میں دردِ زہ سے تڑپ رہی ہے، مگر گھیو اور اس کا بیٹا مادھو کمرے سے باہر بیٹھے آلو بھون کر کھا رہے ہیں اور انہیں بدھیا کی حالت کو کوئی فکر نہیں۔ گھیو مادھو سے کہتا بھی ہے کہ اندر جاکر اپنی بیوی کو دیکھ آ، تو وہ اس خوف سے اندر نہیں جاتا کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کا باپ اس کے حصے کے آلو کھا جائے گا۔ یہاں تک کہ دونوں آلو کھاکر آرام سے سوجاتے ہیں اور بدھیا تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہے۔ صبح کو آنکھ کھلی تو مادھو نے کمرے میں جاکر دیکھا کہ اس کی بیوی مری پڑی ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ ان کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی اور بدھیا کو جلانے کے لیے لکڑیاں اور کفن درکار تھا۔ چنانچہ گھیو اور مادھو روتے پیٹتے زمیندار کے پاس پہنچے جو ان کو ان کی عادات کی وجہ سے سخت ناپسند کرتا تھا، مگر بدھیا کی موت کا سن کر وہ بھی انہیں دو روپے دے دیتا ہے۔ کچھ اور لوگ بھی بدھیا کے کریا کرم کے لیے گھیو اور مادھو کی مالی مدد کرتے ہیں، چنانچہ ان کے پاس ساڑھے پانچ روپے جمع ہوجاتے ہیں جو اُس زمانے کے اعتبار سے اچھی خاصی رقم تھی۔ رقم لے کر دونوں کفن خریدنے کے لیے بازار پہنچتے ہیں مگر شام تک کفن خریدنے کے بجائے اِدھر اُدھر ٹہلتے رہتے ہیں اور شام ہوتے ہی ایک شراب خانے میں گھس جاتے ہیں اور کھانے پینے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ انہیں رہ رہ کر اس بات کا خیال آتا ہے کہ ان کے گھر میں ایک لاش پڑی ہے اور وہ اس
لاش کے لیے کفن لینے آئے تھے، مگر وہ اس خیال سے جان چھڑانے کے لیے اپنی سطح کے مطابق فلسفہ طرازی کرنے لگتے ہیں، مثلاً یہ کہ زندہ لوگوں کو تو پہننے کے لیے کپڑے دستیاب نہیں اور مُردوں کو اچھے کپڑے کا کفن دیا جاتا ہے، بھلا یہ بھی کوئی انصاف ہے! یہاں تک کہ وہ اپنے کھانے پینے کی یہ توجیہ بھی کرڈالتے ہیں کہ چونکہ بدھیا کے مرنے کی وجہ سے انہیں اچھا کھانا ملا ہے اس لیے اس کا ثواب بدھیا کو ضرور ملے گا۔ ایک مرحلے پر مادھو گھیو سے پوچھتا ہے کہ جب لوگ یہ سوال کریں گے کہ بدھیا کی آخری رسومات کے لیے ہم نے جو پیسے دیے تھے وہ کیا ہوئے، تو ہم کیا جواب دیں گے؟ گھیو یہ بات سن کر اطمینان سے کہتا ہے کہ ہم کہہ دیں گے کہ پیسے کھو گئے۔ اس کے بعد دونوں خوب شراب پیتے ہیں، خوب بھنا ہوا گوشت کھاتے ہیں۔ شراب اور اچھے کھانے کا نشہ چڑھتا ہے تو باپ بیٹا کھڑے ہوکر ناچنے اور گانے لگتے ہیں، یہاں تک کہ بے سدھ ہوکر شراب خانے ہی میں گرپڑتے ہیں۔

یہ افسانے کا ٹوٹا پھوٹا خلاصہ ہے، ورنہ افسانے کا بیانیہ غیر معمولی ہے، لیکن افسانے کا اختتام اتنا دھماکا خیز ہے کہ قاری کا ذہن تھوڑی دیر کے لیے سہی، مائوف ہوجاتا ہے۔ ذہن دوبارہ کام کرنا شروع کرتا ہے تو قاری نہ صرف یہ کہ انسانی زندگی میں معاشی پہلو کی مرکزیت کا قائل ہوجاتا ہے بلکہ اس کو جاگیردارانہ سماج سے نفرت محسوس ہوتی ہے، اس لیے کہ یہ سماج منشی پریم چند کے مطابق گھیو اور مادھو جیسے کردار تخلیق کرتا ہے۔ تو کیا منشی پریم چند کا نظریہ یا ان کا Thesis درست ہے؟
’’کفن‘‘ کا گہرا تجزیہ اس خیال کی تردید کرتا ہے، اس لیے کہ خود کفن میں منشی پریم چند نے ایسی شہادتیں مہیا کررکھی ہیں جو ان کے نظریے یا Thesis کی نفی کردیتی ہیں۔ مثال کے طور پر پریم چند نے لکھا ہے کہ گھیو اور مادھو جس گائوں میں رہتے تھے وہ کاشت کاروں کا گائوں تھا اور وہاں کام کی کمی نہ تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ گھیو اور مادھو کام چور تھے اور انہیں کوئی شخص کام پر اُسی وقت بلاتا تھا جب اُسے کوئی مزدور دستیاب نہ ہوپاتا تھا۔ مادھو کی شادی ہوئی تو اس کی بیوی کے کام کاج کی وجہ سے اسے کہیں نہ کہیں سے تھوڑا بہت آٹا مل جاتا تھا، چنانچہ جس گھر میں چولہا تک نہ جلتا تھا اس میں چولہا جلنے لگا، مگر اس صورت حال نے گھیو اور مادھو کو مزید کام چور بنادیا اور انہیں کوئی مزدوری کے لیے بلانے آتا تو وہ دوگنی مزدوری طلب کرتے۔ اس صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ گھیو اور مادھو کی بے پناہ غربت میں خود ان لوگوں کا بھی ہاتھ تھا۔ چنانچہ ان کرداروں کی تخلیق کی تمام تر ذمہ داری جاگیردارانہ سماج پر ڈالنا ٹھیک نہیں۔ اس بات سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ گھیو اور مادھو کے کردار استثنائی مثال ہیں، مگر منشی پریم چند نے ’’استثنائی مثال‘‘ کو ’’عمومی مثال‘‘ بنادیا ہے۔ یعنی انہوں نے Particularکو Generalize کردیا ہے۔ بلاشبہ فنکار خاص کو عام اور مقامی کو آفاقی بنادیتا ہے، لیکن استثنائی مثال کو عمومی مثال بنانا فنکارانہ طریقہ کار نہیں۔ یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی غریب چوری کرتا ہوا پکڑا جائے اور اس کی بنیاد پر کہا جائے کہ تمام غریب چور ہوتے ہیں۔ یا کوئی امیر ظالم ہو، اور اس بنیاد پر فیصلہ کرلیا جائے کہ تمام امیر ظالم ہوتے ہیں۔ گھیو اور مادھو کے گائوں میں اور لوگ بھی غریب تھے، مگر وہ چونکہ محنت کرتے تھے اور محنت انسان میں ایک وقار اور ایک عزتِ نفس پیدا کرتی ہے اس لیے ان کا کردار گھیو اور مادھو کے کردار سے مختلف تھا۔ مثلاً جب مادھو کی بیوی مر گئی تو ان کے آس پاس موجود لوگ ان کا غم بانٹنے کے لیے ان کے گھر آنے لگے، اور بعض لوگ مادھو کی بیوی کی چتا بنانے کے لیے جنگل سے لکڑیاں لینے چلے گئے۔ مادھو کی بیوی کے یہاں جب ولادت کا امکان ہوا تو مادھو کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس کے بچے کی پرورش کیسے ہوگی؟ مادھو کے باپ گھیو نے اس تشویش کو رد کرتے ہوئے مادھو سے کہا کہ میرے یہاں 9اولادیں ہوئیں اور گائوں والوں نے میرے ہر بچے کی پیدائش پر میری مدد کی۔ سوال یہ ہے کہ یہ بات جاگیردارانہ سماج کے حق میں جاتی ہے یا اس کے خلاف؟ مادھو کی بیوی مرتی ہے تو گائوں کے وہ خواص بھی ان کی مدد کرتے ہیں جو انہیں ان کی کام چوری کی وجہ سے پسند نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے جاگیردارانہ سماج کا انسانی پہلو سامنے آتا ہے یا غیر انسانی پہلو؟ گھیو اور مادھو جب شراب خانے میں لوگوں کی دی ہوئی رقم اڑا رہے ہوتے ہیں تو مادھو گھیو سے پوچھتا ہے کہ اب اس کی بیوی کا کیا ہوگا؟ اس کے جواب میں گھیو کہتا ہے کہ تمہاری بیوی کو کفن ہم نہیں دیں گے تو گائوں والے خود دیں گے، بلکہ اگر ہم دوبارہ بھی گائوں والوں سے رقم لے کر کھا جائیں گے تو بھی گائوں والے تمہاری بیوی کو کفن ضرور دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ گھیو کے اس بیان سے اس معاشرت کی حساسیت سامنے آتی ہے یا بے حسی جس پر پریم چند کو اعتراض ہے؟ اس سلسلے کی ایک مثال خود مادھو کی بیوی بدھیا ہے۔ وہ گھیو اور مادھو ہی کے طبقے سے آئی تھی اور عورت تھی، مگر اس کے باوجود اُس نے بے شرمی کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے محنت مزدوری کا راستہ اپنایا، اور اس طرح اپنے شوہر اور سسر کو گھر میں کچھ نہ کچھ پکاکر کھلانے لگی۔ جب بدھیا دردِ زہ سے تڑپ رہی ہوتی ہے تو گھیو کے کہنے کے باوجود مادھو اس کے پاس نہیں جاتا بلکہ وہ گھیو سے کہتا ہے کہ تم خود اس کے پاس جاکر دیکھ آئو۔ یہ سن کر گھیو کہتا ہے کہ چونکہ میں اس کا سسر ہوں اس لیے وہ مجھے دیکھ کر شرما جائے گی اور کچھ نہ کہہ سکے گی، اور ایسا کیوں نہ ہو، میں نے آج تک اس کا منہ نہیں دیکھا۔ مطلب یہ کہ بدھیا اپنے سسر سے ایسا پردہ کرتی تھی کہ ایک سال ساتھ رہنے کے باوجود اُس کے سسر نے کبھی اُس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ صورت حال روایتی سماج کی خامی بیان کرتی ہے یا خوبی؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ منشی پریم چند کے افسانے کے اجمال میں جو نظریہ، نقطہ نظر یا Thesis موجود ہے افسانے کی تفصیل خود اس کے پرخچے اڑا دیتی ہے۔ چنانچہ گھیو اور مادھو کا مسئلہ دو غریبوں کا نہیں، دو استثنائی مثالوں کا مسئلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ دو ایسی استثنائی مثالیں جو کسی بھی طبقے اور کسی بھی معاشرے میں موجود ہوسکتی ہیں۔

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages