یہ حمدیہ کلام کس کا ہے
http://www.bhatkallys.com/audio/?sermon_id=4046
تو کوئی بے جان سا پتھر بھی نہیں ہے
تو کوئی فرشتہ یا پیامبر بھی نہیں ہے
تو علم کا چشمہ یا سمندر بھی نہیں ہے
پر رب کی نگاہوں میں تو کم تر بھی نہیں ہے
جو کچھ بھی ہے تو اپنی حدوں کوتو پہچان
رحمٰن کی پکڑ سے تو باہر بھی نہیں ہے
دنیا نہ بسا دل میں کہ دنیا کی حقیقت
مچھر کےکسی پر کے برابر بھی نہیں ہے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
سورج کے اجالے سے،قضاؤں سے، خلاء سے
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیاء سے
جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی اناء سے
پر ہول سمندر سے، پر اسرارگھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے، کڑکنے کی صدا سے
مٹی کے خزانوں سے،اناجوں سے غذا سے
برسات سے،طوفان سے۔ پانی سے،ہوا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
گلشن کی بہاروں سے تو کلیوں کی حیا سے
معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے
لہراتی ہوئی باد سحر باد صبا سے
ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قبا سے
چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے
موتی کی نزاکت سے تو ہیرے کی جرا سے
اوپر سے جھلکتے ہوئےفن اور کلاسے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
دنیا کے حوادث سے،جفاؤں سے،وفا سے
رنج و غم و آلام سے دردوں سے، دوا سے
خوشیوں سے، تبسم سے، مریضوں کی شفاء سے
بچوں کی شرارت سے تو ماؤں کی دعا سے
نیکی سے عبادات سے،لغزش سے۔ خطا سے
خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے،
اس رحمت سے تیری ہر غم پہ جو دیتی ہے دلاسے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
ابلیس کے فتنوں سےتو آدم کی خطا سے
اوصاف براہیم سے یوسف کی حیا سے
حضرت ایوب کی تسلیم و رضا سے
عیسیٰ کی مسیحائی سے،موسیٰ کے عصاء سے
نمرود کے، فرعون کے انجام فنا سے
کعبے کے تقدّس سے تو مروہ و صفا سے
تورات سے،انجیل سے،قرآن کی صدا سے
یاسین سے،طہ سے،مزمل سے، نبأسے
ایک نور جو نکلا تھا کبھی غار حرا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

Abdul Mateen Muniri