بقیہ شرح دیوان غالب

224 views
Skip to first unread message

Abida Rahmani

unread,
Jun 25, 2012, 6:01:16 AM6/25/12
to bazme...@googlegroups.com
ردیف
( ه )

ازمہر تابہ ذرّہ دل و دل ہے آئينہ

طوطی کوشش جہت سے مقابل ہے آئينہ

يعنی عالم ميں رُخ و رُخ اور دل و دل باہم دگر آئينہ ہيں ، يعنی اُس کو اُس ميں اپنی

صورت دکهائی ديتی ہے اور اس کو اس ميں غرض يہ ہے کہ سارا عالم متحد

بوجودِ واحد ہے اور ايک کو دوسرے سے غيريت نہيں ، يہ اُس ميں اپنے تئيں اس

طرح ديکهتا ہے جيسے آئينہ ميں کوئی ديکهے ، جب يہ حالت ہے تو طوطی جس

طرف رُخ کرے آئينہ سامنے موجود ہے اور طوطی محض استعارہ ہے ، مراد اس

سے وہ شخص ہے جسے يہ اتحاد دکهائی دے اور وجد و حال ميں ترانۂ انا الحق

بلند کرے۔

_______

ہے سبزہ زار ہر در و ديوار غم کدہ

جس کی بہار ہو پهر اُس کی خزاں نہ پوچه

کہتے ہيں ميرے غم کدہ کی فصل بہار يہ ہے کہ در و ديوار سبزہ زار بن گيا ہے ،

اب يہ تصور کرنا چاہئے کہ مکان کے ديواروں پر سبزہ کس حالت ميں اُگتا ہے ،

مدتوں ڈهنڈهار پڑا رہے سالہا سال کی برساتوں ميں چهتيں منہدم ہو جائيں ،

ديواروں پر بارش کی اور دهوپ کی کچه روک نہ رہے جب کہيں جا کر سبزہ اتنا

بلند ہوکر لہلہاتا ہے پهر جب بہار اس آفت کی ہو تو خزاں ميں کيا مصيبت نہ ہو گی۔

ناچار بے کسی کی بهی حسرت اُڻهائيے

دُشواریِ رہ وستم ہم رہاں نہ پوچه

يعنی ہم رہوں کے ہاته سے جو ستم کہ مجه پر ہوتا ہے اُس مصيبت کا کاڻنا راہ

دُشوار ہے کہ اُس کی دُشواری کچه نہ پوچه حسرت ہوتی ہے کہ کاش ہم بے کس و

تنہا ہوتے ، ايک نسخہ يوں ہے کہ دشواری رہ و ستم ہم رہا نہ پوچه اور يہ اُس سے

صاف ہے اور زيادہ تر قريب بہ فہم ہے۔

_______

ردیف

( ی )

صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اُڻهائيے

طاقت کہاں کہ ديد کا احساں اُڻهائيے

نازک دماغی اور نازک مزاجی شاعر کے لئے مخصوص ہے اور اس کے متعلق

مضامين نازک وہ پيدا کيا کرتے ہيں ، مطلب يہ ہے کہ ہمارا دماغ نازک اس کا

تحمل نہيں رکهتا کہ نظارہ کا احسان اُڻهاسکے ہميں دُنيا کے سير و تماشے سے آنکه

بند رکهنے ہی ميں مزا ملتا ہے۔

ہے سنگ پر برات معاش جنوں عشق

يعنی ہنوز منت طفلاں اُڻهائيے

فرمان اور حکم نامہ وغيرہ کو برات کہتے ہيں ، يعنی جنون کا فرمان معاش سنگ

پر ہے غرض يہ ہے کہ جنون کی معاش سنگِ طفلاں مقرر ہوئی ہے۔

ديوار بارِ منتِ مزدور سے ہے خم

اے خانماں خراب نہ احساں اُڻهائيے

اے خانہ خراب اپنی گهر کی ديوار کو ديکه يقين مان کہ اس کے خم ہونے کی کوئی

اور وجہ نہيں ہے محض بارِ احسان مزدور نے اُسے جهکاديا ہے ، اس سے عبرت

کر اور کسی کا احسان نہ اُڻها کہ يہ بار قابل برداشت نہيں ہے ، ديوار کا خم ہونا اور

پهر بارِ احسان سے دونوں باتوں ميں اوجائے شاعرانہ ہے۔

يا ميرے زخم رشک کو رُسوا نہ کيجئے

يا پردۀ تبسم پنہاں اُڻهائيے

يعنی يا تو ايسا کيجئے کہ رشک کے سبب سے جو ميرے دل ميں زخم خنداں پڑے

ہيں ، ان کو رُسوا نہ کيجئے يا رقيب کے ساته پردہ ميں چهپ چهپ کر ہنسنا چهوڑ

ديجئے۔

_______

مسجد کے زير سايہ خرابات چاہئے

بهوں پاس آنکه قبلۂ حاجات چاہئے

آنکه کی ميخانہ سے اور بهوں کی محراب سے مسجد سے تشبيہ مشہور ہے ،

مصنف نے يہاں جدت يہ کی ہے کہ اُس تشبيہ کا عکس ليا ہے ، قبلۂ حاجات مسجد

کے ضلع کا لفظ ہے ليکن بڑے محاورہ کا لفظ ہے اور بات يہ ہے کہ جہاں محض

ضلع بولنے کے لئے محاورہ ميں تصرف کرتے ہيں ، وہاں ضلع برا معلوم ہوتا ہے

اور جب محاورہ پورا اُترے تو يہی ضلع بولنا حسن ديتا ہے اور ہر صنعتِ لفظی کا

يہی حال ہے۔

عاشق ہوئے ہيں آپ بهی اک اور شخص پر

آخر ستم کی کچه تو مکافات چاہئے

لکهنؤ کے شعراء معشوق دوسرے پر عاشق ہونا نہيں باندهتے اور يہ مضمون بهی

ان کے متروکات ميں سے ہے اور اُن کی نظر ميں پهيکاہے۔

دے داد اے فلک دلِ حسرت پرست کی

ہاں کچه نہ کچه تلافیٴ مافات چاہئے

يعنی بہت سی حسرتيں تو نہ نکليں کوئی آرزو تو اب پوری کر۔

سيکهے ہيں مہ رُخوں کے لئے ہم مصوری

تقريب کچه تو بہر ملاقات چاہئے

مصوری کنايہ ہے شاعری سے ، مگر عاشق مزاجوں کے فنوں ميں مصوری بهی

ہے ، شاعری بهی ہے ، داستان گوئی بهی ہے ، بذلہ سنجی بهی ہے ، موسيقی بهی

ہے ، يعنی دهر پدگانا يا بين بجانا اس کے علاوہ چوسر اور گنجيفہ ايک فن جداگانہ

ہے ، پهر اہل خرابات ميں سے ہونا بهی شرط ہے جب اس ديوار سے آراستہ ہوئے

تو حسينوں کی صحبت ميں پہنچنے کے سب ذريعہ حاصل ہو گئے ، ايک بڑا فن

يہاں سے شروع ہوا جس کے ابواب يہ ہيں ، حسن خطاب ، ردِ جواب ، اظہارِ فخر و

ناز ، نشست و برخاست کا اندازِ چشم و ابرو کو پہچاننا ، چہرہ سے دل کا جاننا ،

حال مرا جدائی کی باتيں کرنا ، نازک مزاجی سے ڈرنا ، جس پر چاہنا اُس پر جوڑ

مارنا ، جسے چاہنا اُسے دل سے اُتارنا ، عرض حال ميں رو دينا ، تعريفِ حسن ميں

غش کهانا ، ملاپ ميں خوش اختلاطی اور دل لگی بگاڑ ميں ، ضد اور جلی کڻی

چهيڑ چهيڑکر زبان کهلوانا ، ستا ستا کر طرزِ ستم سکهانا ، لبها لينے کی باتيں ، منا

لينے کی گهاتيں نعوذ بالله من الخبر والخراف۔

مے سے غرض نشاط ہے کس روسياہ کو

اک گونہ بے خودی مجهے دن رات چاہئے

يعنی بے ہوشی و بے خودی ميں غم بہلا رہتا ہے۔

فروع کو 􀀀 نشوونما ہے اصل سے غالب

خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہئے

ہے رنگ لالہ و گل نسريں جدا جدا

ہر رنگ ميں بہار کا اثبات چاہئے

سر پائے خم پہ چاہئے ہنگام بے خودی

روسوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہئے

يعنی بحسبِ گردش پيمانۂ صفات

عارف ہميشہ مستِ مے ذات چاہئے

اس قطعہ کا مطلب يہ ہے کہ تمام عالم اجسام کا مبداٴ جسم و جسمانيہ سے منزہ ہے

اور اس عالم سے ماہر ہے جيسے درخت کی شاخيں سب جڑ سے پهوٹ کر نکلی

ہيں ليکن جڑ چهپی ہوئی ہے۔ دوسری تمثيل يہ ہے کہ جو بات ہے وہ خاموشی ہی

سے نکلی ہے يعنی پہلے معنی اُس کے ذہن ميں آئے ، کہيں اُس کے بعد اُس سے

بات پيدا ہوئی ہے اور خود معنی پوشيدہ ہيں۔ تيسری تمثيل يہ ہے کہ باغ ميں رنگ

رنگ کے پهول ہيں اور ہر رنگ ميں وجودِ بہار کا اثبات ہوتا ہے اور خود بہار

آنکهوں سے اُوجهل ہے اُس کے بعد کہتے ہيں کہ گلہائے رنگا رنگ سے يہ سبق

لينا چاہئے کہ ہر رنگ ميں انسان اپنے مبداٴ کو ثابت کرے ، کبهی نشہ مے ميں

سرشار رہے ، کبهی زاہد شبِ زندہ دار رہے يعنی يہ سب رنگ ذات کے صفات ميں

سے ہيں اور ہر ہر صفت اپنے اپنے وقت پر ظہور کرتی ہے اور وجودِ ذات کی

گواہی ديتی ہے ، خاموشی کی ی وزن ميں نہيں سماتی اس سے مصنف کا يہ مذہب

ظاہر ہوتا ہے کہ فارسی لفظ کے بهی آخر ميں سے نظم اُردو ميں حروفِ علت کا

گرجانا وہ جائز سمجهتے تهے مگر سارے ديوان بهر ميں الف کو يا واؤ کو مصنف

نے لفظ فارسی سے نہيں گرنے ديا ہے ، اس مسئلہ ميں لکهنؤ کے شعراء اختلاف

کرتے ہيں اور فارسی گويوں کی طرح ی کا گرانا بهی جائز نہيں سمجهتے اور

ناسخ کے زمانہ سے يہ امر متروک ہے ، قول فيصل اس باب ميں يہ ہے کہ جب

بروقت محاورہ اور اثنائے گفتگو ميں بہت جگہ حروفِ علت کا تلفظ ميں سے

گرادينا ہم لوگوں کی عادت ميں ہے اور اس ميں لفظ فارسی و ہندی کا امتياز نہيں

کرتے تو وزن شعر ميں گرانے کو کون مانع ہے اور ہر زبان شعر کا مدار محاورہ

مرحوم نے محض فارسی پر قياس کر کے اس کے ترک کا حکم ديا 􀀀 پر ہے ناسخ

تها ليکن يہ قياس صحيح نہيں ، يہ کيا ضرور ہے کہ جو امر فارسی والوں کی زبان

􀀀 پر ثقيل ہے وہ اُردو ميں بهی ثقيل ہو ، يہی وجہ ہے کہ خواجہ حيدر علی آتش

مغفور نے اس کی پابندی نہيں کی اور حروفِ علت کے 􀀀 مرحوم اور مير انيس

گرانے ميں لفظ فارسی و اُردو کا امتياز نہيں کيا مگر يہ امر البتہ عجيب ہے کہ

مصنف نے الف اور واؤ ميں تو پابندی کی اور

ی ، کو گراديا حالاں کہ يائے

معروف کا اور اسی طرح واؤ معروف کا خواہ لفظ فارسی ميں ہو خواہ کلمۂ ہندی

ميں ہو وزن سے گرجانا زبان اُردو پر ثقيل ہے اور واؤ اور يائے مجہول کا گرانا

ثقيل نہيں ہے بلکہ روابط ميں سے گرانا تو فصيح ہے اور الف کے گرانے نہ

گرانے کا مدار محاورہ پر ہے ، جو

ی ، اور واؤ کہ ماقبل مفتوع ہيں ، اُن کا گرانا

بشہادت محاورہ اُردو ميں ثقيل ہے جيسا کہ فارسی ميں ثقيل ہے واؤ مجہول کو

فارسی والے بهی اکثر لفظوں سے گراتے ہيں ليکن يائے مجہول کو وہ اس سبب

سے نہيں گراتے کہ

ی ، کے گرنے سے اور زير کے باقی رہ جانے سے اضافت

کے ساته التباس ہو جاتا ہے اور ہماری زبان ميں ويسی اضافت نہيں ہے اس سبب

سے يائے مجہول کا گرانا ہماری زبان ميں ثقيل نہيں ہے البتہ اگر منادی ميں يائے

مجہول ہو اور حروفِ ندا محذوف ہو ، تو اسی

ی ، کا گرنا برا معلوم ہوتا ہے مثلاً

کے اس شعر ميں سے

: 􀀀 جرٴات

کس مزہ سے يہ باظہار وفا اُس نے کہا

مت بنا بات نہيں اب تری جهوڻی وہ آنکه

اگر

ی ، کو گراديں اور مصرع کو يوں کر ديں :

مت بنا بات نہيں ہے اب تری جهوڻی وہ آنکه ، تو ديکهو کيسا برا معلوم ہوتا ہے۔

_______

بساط عجز ميں تها ايک دل يک قطرۀ خوں وہ بهی

سو رہتا ہے بہ انداز چکيدن سرنگوں وہ بهی

اُردو کی زبان متحمل نہيں ہے کہ چکيدن کا لفظ اس ميں لائيں ، مگر مصنف پر

فارسيت غالب تهی اس سبب سے وہ نامانوس نہ سمجهے۔

رہے اُس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے

تکلف برطرف تها ايک اندازِ جنوں وہ بهی

پہلے تکلف کے معنی بناوٹ اور تصنع اور دوسرے تکلف سے مراد لحاظ و پاس

خاطر جو دل سے نہ ہو اور بتصنع ہو يعنی اگر اُسے جنوں نہ کہوں تو گويا اپنے

سے آپ تکلف کيا۔

خيال مرگ کب تسکيں دل آزردہ کو بخشے

مرے دام تمنا ميں ہے اک صيد زبوں وہ بهی

بخشيدن فارسی مصدر ہے اُس سے اُردو ميں بخشنا بناليا ہے جيسے بخشنا اور

تجويزنا اور خريدنا ، مگر ايسے لفظ کے استعمال کو کسی قدر غيرفصيح سمجهتے

ہيں ، اس شعر ميں تمنا کی تشبيہ حال سے اور خيال مرگ کی تشبيہ ايک مريل

شکار سے محسوس کی غيرمحسوس سے تشبيہ ہے اور پهر وجہ شبہ مرکب اس

سبب سے تشبيہ بديع ہے۔

نہ کرتا کاش نالہ مجه کو کيا معلوم تها ہمدم

کہ ہو گا باعثِ افزائش دردِ دُروں وہ بهی

پہلا مصرع محاورہ ميں ڈهلا ہوا ہے ليکن دوسرے مصرع پر فارسيت بے طرح

غالب آتی ہے ، ہمدم کا لفظ نالہ کے مناسب ہے ، ورنہ يہاں

پہلے ، کا لفظ يا

ناصح ، کا لفظ بهی کهپ سکتا ہے۔

نہ اتنا برشِ تيغ جفا پر ناز فرماؤ

مرے دريائے بے تابی ميں ہے اک موجِ خوں وہ بهی

قتل ہوتے وقت تڑپنے کے عالم ميں يہ خطاب ہے اور تيغ جفا سے خود وہ تلوار

مراد ہے جس سے قتل ہورہا ہے اور جس سے جفا ہورہی ہے مگر موج کی تشبيہ

تلوار سے مبتذل ہے ، اُسی دريائے بے تابی کی موج خون کہہ کر جدت پيدا کی

ہے۔ حاصل يہ کہ تمہاری ايک تلوار کيا چيز ہے ميرا دريائے بے تابی جو موجزن

ہورہا ہے تو سينکڑوں ايسی تلواريں مجه پر چل رہی ہيں۔

مے عشرت کی خواہش ساقيٴگردوں سے کيا کيجئے

لئے بيڻها اک دوچار جام و اژگوں وہ بهی

ايک دو چار سات آسمان ہوئے۔

شوق وصل و شکوۀ ہجراں 􀀀 مرے دل ميں ہے غالب

خدا وہ دن کرے جو اُس سے ميں يہ بهی کہوں وہ بهی

لفظ غالب يہاں دونوں معنی رکهتا ہے۔

_______

ہے بزم بتاں ميں سخن آزردہ لبوں سے

تنگ آئے ہيں ہم ايسے خوشامد طلبوں سے

سخن کو خوشامد طلب کہا ہے يعنی محفل معشوق ميں سخن ميرے لب سے روڻه گيا

ہے ، چاہتا ہے خوشامد کروں تو لب تک آئے ، غرض يہ ہے کہ معشوق کے

سامنے بات منہ سے نہيں نکلتی يا معشوقوں کو خوشامد طلب کہا ہے کہ ان کی

خوشامد کرتے کرتے سخن لبوں سے بيزار ہو گيا ہے۔

ہے دورِ قدح وجہ پريشانی صہبا

يک بار لگادو خم مے ميرے لبوں سے

دور ميں پريشانی صہبا ہونا ظاہر ہے کہ جو جو شريک دور ہے وہ پئے گا اور

شراب تقسيم ہو جائے گی اور تقسيم کو پريشانی لازم ہے اور جب ايک ہی شخص

سب شراب پی لے تو شراب پريشانی سے بچ جائے گی ، جس طرح خم ميں ايک

جگہ تهی اُسی طرح اب دماغ ميں ايک ہی جگہ رہے گی۔ کثرتِ مے خواری ميں

مبالغہ کرنا شعراء کی عادتِ قديم سے چلی آتی ہے۔ مصنف نے بهی تقليداً کہہ ديا ،

ورنہ يہ مضمون کوئی لطف نہيں رکهتا۔

رندانِ درِ ميکدۀ گستاخ ہيں زاہد

زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے

اے زاہد يہ رند جو ميخانہ کے دروازہ پر بهيڑ لگائے ہوئے ہيں ، بہت گستاخ ہيں ،

زنہاران کے منہ نہ لگنا يعنی کہيں شراب کی حرمت ان کے سامنے بيان نہ کرنا

کے زمانہ کا محاورہ ہے۔ 􀀀 کسی سے طرف ہونا اب متروک ہے ، مير

بيداد وفا ديکه کے جاتی رہی آخر

ہر چند مری جان کو تها ربط لبوں سے

ہر چند کہ ميری جان لبوں سے بہت مانوس تهی يعنی ہميشہ ہونڻوں ہی پر جان رہا

کرتی تهی ، ليکن وفا کے چلتے آخر جاتی رہی اور ايسے مانوس اور محبوب

رفيقوں کو يعنی لبوں کو اُس نے چهوڑ ديا اور اس طرح کہ ايک روح دو قالب

رفيقوں ميں جدائی غم وفا کے ظلم سے ہو گئی۔

_______

تاہم کو شکايت کی باقی نہ رہے جا

سن ليتے ہيں گو ذکر ہمارا نہيں کرتے

يعنی اگر کوئی ميرا ذکر خود سے اُن کے سامنے چهيڑتا ہے تو اُسے منع بهی نہيں

کرتے کہ وہ تو صاف صاف بے مروتی اور بگاڑ ہے اور شکايت کا موقع مل جائے

گا ، يعنی چاہتے ہيں کہ مجهے اُن سے بات کرنے کا موقع ہی نہ ملے ، اس شعر

ميں مصنف نے معشوق کے مزاج کی اس حالت کو نظم کيا ہے جو انتہائی درجہ

کے بگاڑ ميں ہوتی ہے بمعنی خفگی بهی نہيں ظاہر کرتا کہ معذرت کريں ، نفرت

بهی نہيں ظاہر کرتا کہ شکايت کريں ، اظہارِ ملال بهی نہيں کہ مناليں ، گويا کہ

ہمارے اُس کے کبهی کی ملاقات ہی نہ تهی اس قسم کی حالتوں کا نظم کرنا ادقع فی

النفس ہوا کرتا ہے اور يہ بڑی مرتبہ کی شاعری ہے گو کہ بيان اور بديع کی کوئی

خوبی اس ميں نہيں ہے شيخ الرئيس نے شفا ميں شعر کے لذيذ ہونے کا سبب وزن

کے علاوہ محاکات يعنی شاعر کے نقشہ کهينچ دينے کو لکها ہے کہتا ہے

( والدليل

علی فوجهم بالمحاکاة انهم يسيرون بتامل الصور المنقوشۃ للحيوانات الکريهۃ متنفرة

منها ولو شاهد وها انفسها لتنطسوا عنها فيکون المفرح ليس نفس تلک الصورة

ولا المنقوش بل کونہ محاکاتہ

) يعنی محاکات سے لذت پانے کی دليل يہ ہے کہ جو

جانور کريہ المنظر اور قابل نفرت ہيں اُن کی تصوير ديکه کر لوگ خوش ہوتے ہيں

، اگر خود ان کو ديکهيں تو ادهر سے آنکه پهيرليں تو معلوم ہوا کہ نہ اُس صورت

ميں لذت ہے نہ تصوير ميں ہے ، بلکہ تصوير من حيث المحاکات لذيذ ہے ، غرض

يہ ہے کہ تصوير کے لذيذ ہونے کا بهی وہی باعث ہے يعنی شاعری وہی اچهی جس

ميں مصوری کی شان نکلے بہت بڑها ہوا وہی شعر ہے جس ميں معشوق کے کسی

انداز يا کسی ادا کی تصوير کهينچی ہوئی ہو بلکہ معشوق کی کيا تخصيص ہے

مرحوم نے طيور کا نقشہ دکهايا ہے

: 􀀀 ديکهو وحيد

چڻکی کلی تو رہ گئے پر تولتے ہوئے

پتی ہلی تو مل کے اُڑے بولتے ہوئے

اس بيت ميں طيور کی ادا ہے معشوق کی بهی نہيں مگر محاکات پائی جاتی ہے اس

سبب سے کس قدر لذيذ ہے۔

ترا احوال سناديں گے ہم اُن کو 􀀀 غالب

وہ سن کے بلاليں يہ اجارہ نہيں کرتے

شعر تو بہت صاف ہے ، ليکن اس کے وجوہ بلاغت بہت دقيق ہيں بيچ والوں کا يہ

کہنا کہ

سناديں گے ہم اُن کو ، اس کے معنی محاورہ کی رو سے يہ ہيں کہ کسی

نہ کسی طرح کسی نہ کسی موقع پر اُن کے مزاج کو ديکه کر باتوں باتوں ميں يا

ہنسی ہنسی ميں تيرا حال اُن کے گوش گذار کر ديں گے اتنا ذمہ ہم کرتے ہيں يعنی

صاف صاف کہنے کی جراٴت نہيں رکهتے ، غرض کہ يہ سب معانی اس لفظ سے

مترشح ہيں اس وجہ سے کہ اُس کا موقع استعمال يہی ہے اور بالتزام اس سے

معشوق کا غرور اور تمکنت اور رعب و نازک مزاجی اور خودبينی و خودرائی

بهی ظاہر ہوتی ہے فرض کرو اگر مصنف نے يوں کہا ہوتا کہ

کہہ ديں گے ہم اُن

سے ، تو اکثر ان معانی ميں سے قوت ہو گئے ہوتے اور يہ کہنا کہ

اجارہ نہيں

کرتے ، اس کے کہنے کا موقع جب وہی ہوتا ہے جب کوئی نہايت مصر ہو اور

کہے کہ جس طرح بنے ميرے اُن کے ملاپ کروادو نہيں تو تم سے شکايت رہے

گی ، غرض کہ اس فقرہ نے عاشق کے اصرار بے تابانہ کی تصوير کهينچی ہے

ايک تو کلام کا کثيرالمعنی ہی ہوتا وجوہ بلاغت ميں سے بڑی وجہ ہے پهر اُس پر

يہ ترقی کہ اِ دهر معشوق کی تمکنت و ناز اُدهر عاشق کی بے تابی و اصرار کی

دونوں تصويريں بهی اسی شعر ميں سے جهلکی دکهلا رہی ہيں۔

_______

گهر ميں تها کيا کہ ترا غم اُسے غارت کرنا

وہ جو رکهتے تهے ہم اک حسرت تعمير سو ہے

اس حسرت کو غم عشق نے بهی نہ غارت کيا۔

_______

غم دُنيا سے گر پائی بهی فرصت سر اُڻهانے کی

فلک کا ديکهنا تقريب تيرے ياد آنے کی

يعنی جب غم دُنيا سے اُڻهايا تو فلک کو ديکها اور فلک کا ديکهنا تيری ياد آجانے کی

تقريب ہے

ہے ، دوسرے مصرع ميں سے محذوف ہے اور تقريب کی وجہ يہ کہ

تو ہميشہ ظلم کيا کرتا تها کہ ہم فلک کو ديکه کر رہ جاتے تهے اب جو اتفاق سے

کبهی فلک کو ديکه ليتے ہيں تو تو ياد آجاتا ہے حاصل يہ کہ بارِ غم سے سر

اُڻهانے کی باری آئی تو فلک کو ديکه کر معشوق ياد آيا اور پهر غم کا سامنا ہو گيا۔

کهلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا يارب

قسم کهائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

يعنی خط کهولئے تو اُس سے اُميد ہی نہيں اب جلانے کی بهی اُس نے قسم کهالی ،

کاش کہ جلاتا اور مکتوب سے شعلہ اُڻهتا تو مضمون مکتوب کهلتا اور حال سوزِ

غم اُس پر ظاہر ہو جاتا يعنی ميرے مکتوب کے کهلنے کی وہاں کوئی صورت اگر

تهی تو يہی تهی کہ وہ اُسے جلاديا کرتا تها اب وہ بهی اُميد نہ رہی۔

لپڻنا پرنياں ميں شعلۂ آتش کا آساں ہے

ولے مشکل ہے حکمتِ دل ميں سوزِ غم چهپانے کی

يہ ظاہر ہے کہ حرير ميں شعلہ لپڻا ہوا نہيں رہ سکتا اور بهڑک اُڻهتا ہے مگر پهر

بهی دل ميں سوزِ غم چهپالينے سے يہ آسان ہے آسان کہنے سے يہ معنی پيدا ہوئے

کہ دل پرنياں سے نازک تر ہے اور سوزِ غم شعلہ سے بهی زيادہ سرکش ہے۔

انهيں منظور اپنے زخميوں کا ديکه آنا تها

اُڻهے تهے سير گل کو ديکهنا شوخی بہانے کی

يعنی اُڻهے تهے اس بہانے سے کہ باغ کی سير کو جاتے ہيں اور مطلب يہ تها کہ

اپنے زخميوں کو ديکه آئيں ، شوخی اس بہانہ ميں يہ نکلی کہ زخميوں کے ديکهنے

کو آپ باغ کی سير سمجهتے ہيں۔

ہماری سادگی تهی التفاتِ ناز پر مرنا

ترا آنا نہ تها ظالم مگر تمہيد جانے کی

يعنی تو اسی لئے آيا تها کہ تهوڑی دير ميں چلا جائے اور ہم اپنی سادگی سے اُسے

التفات سمجهے اور اسی التفات پر مرنے لگے۔

لکد کوبِ حوادث کا تحمل کر نہيں سکتے

مری طاقت کہ ضامن تهی بتوں کے ناز اُڻهانے کی

مطلب يہ ہے کہ اب ايسی بے طاقتی ہے کہ بارِ حوادث نہيں اُڻه سکتا ، وہی ہم ہيں

کہ بتوں کے ناز اُڻهايا کرتے تهے ، اس سے يہ معنی نکلتے ہيں کہ بتوں کے ناز

شاعر کے عقيدے ميں حوادث آفات سے بڑهے ہوئے ہيں۔

􀀀 کہوں کيا خوبیٴ اوضاع ابنائے زماں غالب

بدی کی اُس نے جس سے ہم نے کی تهی بارہا نيکی

اس غزل کے سب شعروں ميں

کی ، جز وقائيہ تها اور اس شعر ميں جز و رديف

ہو گيا ہے قواعد قافيہ ميں اس قسم کے قافيہ کو معمول کہتے ہيں اور اسے عيوبِ

قافيہ شمار کيا ہے ، ليکن شعرائے تصنع اسے ايک صنعت سمجهتے ہيں ، چنانچہ

اہلی شيرازی نے ساری مثنوی سحر حلال ميں ہر ہر شعر ميں قافيہ معمولہ کا بهی

التزام کر ليا ہے اور اسی طرح مفتی مير عباس مغفور نے عربی کی مثنوی مرصع

ميں قافيہ معمولہ کی قيد کو لازم کر ليا ہے۔

_______

حاصل سے ہاته دهو بيڻه اے آرزو خرامی

دل جوش گريہ ميں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

آرزو خرامی سے مصنف کی مراد خرام حسبِ آرزو مراد ہے ليکن عبرت کرنا

چاہئے نہ کہ تقليد ايسے ترکيبوں کے واہيات ہونے ميں شک نہيں پهر اُسے منادی

بنا کر اور بهی ستم کيا ، ڈوبی ہوئی اسامی وہ مال گذار ہے جس سے محصول

وصول ہونے کی اُميد نہ ہو ، مطلب يہ ہے کہ جوش گريہ سے کوئی ايسا ثمرہ

حاصل نہ ہو گا کہ حسبِ آرزو و موافق مراد خرام کر سکوں دل کو ڈوبی ہوئی

اسامی سمجهنا چاہئے کہ اس کا رياض بے ثمر رہا۔ اس شعر ميں ہاته دهونا اور

ڈوبنا جوش گريہ کے ضلع کے لفظيں ہيں اور خرام کے واسطے بيڻه کا لفظ لائے

ہيں۔

اُس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجهادے

ميں بهی جلے ہوؤں ميں ہوں داغِ ناتمامی

ميں داغِ ناتمامی ہوں يعنی مجهے اپنے ناتمام رہ جانے کا داغ ہے ، جو لوگ زبان

اُردو کے تنگ کرنے پر کمر باندهے ہوئے ہيں اور فن معانی سے بہرہ نہيں رکهتے

اُن کی رائے ميں

سے ، کا لفظ اس شعر ميں برائے بيت ہے اور طرح کے بعد

سے ، کا لفظ بولنا اور لکهنا اور نظم کرنا انهوں نے چهوڑديا ہے ليکن يہ محاورہ

کہتے ہيں

: 􀀀 ميں تصرف ہے يا قياس ہے اور دونوں ناجائز ہيں۔ مير

داغ ہوں رشکِ محبت سے کہ اتنا بے تاب

کس کی تسکيں کے لئے گهر سے تو باہر نکلا

يعنی مجهے رشکِ محبت کا داغ ہے۔

_______

کيا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے

جس ميں کہ ايک بيضۂ مور آسمان ہے

يعنی جس جہان کا آسمان بيضۂ مور ہے۔

ہے کائنات کو حرکت تيرے ذوق سے

پر تو سے آفتاب کے ذرّہ ميں جان ہے

يعنی کائنات تجه کو اپنا مبداٴ واصل سمجه کر بتقاضائے فطرت تيری طرف دوڑ

رہی ہے جس طرح پرتو آفتاب سے ذرّہ ميں جان پڑجاتی ہے اس شعر ميں ذرّہ کے

جاندار ہونے نے بڑا لطف ديا يعنی اس کو ذی روح سے تشبيہ دی اور وجہ شبہ

حرکت ہے۔

حال آنکہ ہے يہ سيلی خار اسے لالہ رنگ

غافل کو ميرے شيشہ پہ مے کا گمان ہے

يعنی ميرا شيشہ پتهر کی چوٹ کها کر لال ہورہا ہے اور لوگ جانتے ہيں کہ اس

ميں شراب بهری ہوئی ہے ، مگر پتهر کی چوٹ سے شيشہ کا ڻوڻنا سب باندهتے

ہيں ، چوٹ کها کر سرخ ہو جانا خلاف واقع ہے ، اس شعر ميں صدر کلام ميں لفظ

حال آنکہ خبر ديتا ہے کہ مصنف نے پہلے نيچے کا مصرع کہہ ليا ہے اس کے بعد

مصرع بالا بہم پہنچاہے۔

کی اُس نے گرم سينۂ اہل ہوس ميں جا

آوے نہ کيوں پسند کہ ڻهنڈا مکان ہے

اہل ہوس رقيب سے مراد ہے کہ اُس کے سينہ ميں سوزِ عشق نہيں ہے اور اسی

سبب سے اُسے ڻهنڈا مکان کہا ہے۔

کيا خوب تم نے غير کو بوسہ نہيں ديا

بس چپ رہو ہمارے بهی منہ ميں زبان ہے

يعنی بوسۂ رقيب کے الزام پر معشوق نے لڑنا شروع کيا ہے اور يہ خفگی اور

عتاب سے اُس سے زيادہ گفتگو کرنا پسند نہيں کرتے۔

بيڻها ہے جو کہ سايۂ ديوار يار ميں

فرمان روائے کشور ہندوستان ہے

ہندوستان کی تخصيص يہ ہے کہ سايہ ميں تيرگی ہوتی ہے اور ہندوستان بهی کالا

ملک ہے ، اس شعر ميں مصنف نے ہندوستان کو باعلان نون نظم کيا ہے۔ مير

مرحوم کے اس مصرع پر

: 􀀀 انيس

مسکن چهڻا ہمارا سعادت نشان سے

لکهنؤ ميں اعتراض ہوا تها کہ حرف مد کے بعد جو نون کہ آخر کلمہ ميں پڑے

فارسی والوں کے کلام ميں کہيں باعلان نہيں پايا گيا تو جب اُردو ميں ترکيب فارسی

کو استعمال کيا اور کشور ہندوستان کہہ کر مرکب اضافی بنايا ، ہمارے سعادت نشان

بانده کر مرکب توصيفی بنايا تو پهر نحو فارسی کی متبعيت نہ کرنے کا کيا سبب ،

اگر لفظ ہندوستان يا نشان بانده کر مرکب توصيفی بنايا تو شاعر کو اعلان کرنے نہ

کرنے کا اختيار تها ، ليکن ترکيب فارسی ميں نحو فارسی کا اتباع ضرور ہے اور

کے وقت سے متروک ہے۔ 􀀀 اس طرح کا اعلان لکهنؤ کے غزل گويوں ميں ناسخ

ہستی کا اعتبار بهی غم نے مڻاديا

کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے

يعنی غم سے داغ ہوا اور داغِ جگر کو کها گيا ، اب اگر کسی سے کہتا ہوں کہ

کبهی ہم بهی جگر رکهتے تهے اور اُس کی نشانی داغ اب تک موجود ہے ، تو کسی

کو ميرے کہنے کا اعتبار نہيں آتا۔ يہ مضمون بہت نيا اور خاص مصنف مرحوم کا

نتيجہ فکر ہے۔

ہے بار اعتماد وفاداری اس قدر

ہم اس ميں خوش ہيں کہ نامہربان ہے 􀀀 غالب

يعنی معشوق کے نامہربان ہونے سے ہم خوش ہيں کہ ہماری وفاداری پر اُس کو

بهروسہ ہے ، جانتا ہے کہ بے رُخی کرنے سے بهی يہ ترکِ محبت نہ کرے گا۔

_______

درد سے ميرے ہے تجه کو بے قراری ہائے ہائے

کيا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے

يہ ساری غزل معشوق کا مرثيہ ہے ، اس شعر ميں يہ مطلب ہے کہ مجه کو حالتِ

نزع ميں ديکه کر جو دردمند ہورہا ہوں تو تو اُس عالم ميں بهی ميرا تم گوارا نہيں

کرتا اور بے قرار ہورہا ہے وہ دن کدهر گئے جب ہم مرتے تهے اور تم بات نہ

پوچهتے تهے۔

تيرے دل ميں گر نہ تها آشوبِ غم کا حوصلہ

تو نے پهر کيوں کی تهی ميری غم گساری ہائے ہائے

يعنی اُسی طرح کاش مجه سے ناآشنا تو رہتا تو اچها تها۔

کيوں مری غم خوارگی کا تجه کو آيا تها خيال

دُشمنی اپنی تهی ميری دوست داری ہائے ہائے

يعنی ميری غم خواری کر کے اپنے تئيں سوا کيا ، پهر شرم رُسوائی سے اپنی جان

دے دی۔

عمر بهر کا تو نے پيمان وفا باندها تو کيا

عمر کو بهی تو نہيں ہے پائدای ہائے ہائے

گو کہ تو نے عمر بهر نباہنے کا عہد کيا ، ليکن تيری عمر ہی نے وفا نہ کی۔

زہر لگتی ہے مجهے آب و ہوائے زندگی

يعنی تجه سے تهی اُسے ناسازگاری ہائے ہائے

يعنی جب زندگی نے تجه سے وفا نہ کی تو ميں بهی اس زندگی سے بيزار ہوں۔

گلفشانی ہائے ناز جلوہ کو کيا ہو گيا

خاک پر ہوتی ہے تيری لالہ کاری ہائے ہائے

يا تو جلوہ افروزی کے وقت ناز و انداز سے پهول جهڑتے تهے يا اب لوحِ قبر پر

گل کاری ہورہی ہے۔

شرم رُسوائی سے جا چهپنا نقابِ خاک ميں

ختم ہے اُلفت کی تجه پر پردہ داری ہائے ہائے

يعنی لوگوں سے چهپ کر عمر بهر کے لئے مجه سے پيمان وفا باندها مگر شرم

رُسوائی سے اپنے تئيں ہلاک بهی کيا۔

خاک ميں ناموسِ پيمانِ محبت مل گئی

اُڻه گئی دُنيا سے راہ و رسم ياری ہائے ہائے

اس شعر ميں شکايت ہے ليکن قصد شکايت نہيں بلکہ توجع ہے۔

ہاته ہی تيغ آزما کا پيار سے جاتا رہا

دل پہ اک لگنے نہ پايا زخم کاری ہائے ہائے

يعنی مجهے آرزو تهی کہ تو مجهے چهرياں مارے اور وہ آرزو پوری نہ ہوئی زخم

اُڻهانے کی آرزو يہاں معنی حقيقی پر نہيں ہے بلکہ برسبيل توجع ہے۔

کس طرح کاڻے کوئی شبہائے تار برشکال

ہے نظر خو کردۀ اختر شماری ہائے ہائے

يعنی ہميں تو عادت تهی کہ شوقِ وصال ميں اور شبِ فراق تارے گن گن کر رات

کاڻتے تهے ، اب يہ برسات کی اندهيری راتيں کيوں کر ہم سے کڻيں گی برشکال

استعارہ ہے رونے سے اور شبہائے غم کو شبہائے تار کہا ہے۔

گوش مہجورِ پيام و چشم محرومِ جمال

ايک دل تس پر يہ نا اُميدواری ہائے ہائے

وغيرہ 􀀀 و مومن 􀀀 وغيرہ اور دلی ميں ذوق 􀀀 و ناسخ 􀀀 لکهنؤ کے شعراء ميں آتش

مصنف کے عصر سے کسی قدر پيشتر ہی ہيں

تس پر ، کسی کے کلام ميں نہيں

ہے اور نہ لکهنؤ ميں نہ دلی ميں ، طرصہ سے يہ لفظ بولا جاتا ہے ، مصنف کے

قلم سے اس لفظ کا نکلنا نہايت حيرت ہے اور يہ لفظ اس بات کا شاہد ہے کہ مرزا

نوشہ مرحوم کی زبان دلی سے کسی قدر علاحدہ ہے۔

ابهی وحشت کا رنگ 􀀀 عشق نے پکڑا نہ تها غالب

رہ گيا تها دل ميں جو کچه ذوق خواری ہائے ہائے

ميری ہرزہ گردی و دشت نوردی کی نوبت نہ آئی تهی کہ شرم و رُسوائی سے

معشوق نے اپنی جان دے دی اور دل ميں ذوق خواری جو تها وہ دل ہی ميں رہ گيا۔

_______

سرگشتگی ميں عالم ہستی سے پاس ہے

تسکيں کو دے نويد کہ مرنے کی آس ہے

يعنی سرگشتگی کے سبب سے زندگی سے ياس ہے اب تسکين کو نويد ہو کہ مرنے

کے بعد سرگشتگی سے نجات ہو جائے گی۔

ليتا نہيں مرے دل آوارہ کی خبر

اب تک وہ جانتا ہے کہ ميرے ہی پاس ہے

وہ ابهی تک يہی جانتا ہے کہ ميرا دل ميرے پاس موجود ہے اور يہاں وہ اختيار

سے جاچکا۔

کيجئے بياں سرورِ تپ و غم کہاں تلک

ہرمو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے

يعنی تپ غم کے چڑهنے ميں جو رونگڻا کهڑا ہوتا ہے وہ زبان سپاس ہو جاتا ہے۔

تک اور تلک کے باب ميں شعرائے حال نے تلک کو متروک اور تک کو اختيار کيا

ہے ليکن قدما کے کلام کو ديکهنے سے يہ پتہ لگتا ہے کہ لفظ تک اور تلک دونوں

متحدث ہيں ، اگلے زمانہ ميں کہاں تلک کی جگہ کہاں تئيں اور کہاں تک بولتے

تهے ، اُس سے تلک بنا يعنی تئيں ميں سے

ت ، کو لے ليا اور لگ ميں گاف کو

کاف کر ديا ، اس کے بعد تلک ميں بهی تخفيف کر کے تک کہنے لگے ليکن تلک

کا لفظ بهی ابهی تک محاورہ سے خارج نہيں ہے اس کا ترک بلاوجہ ہے۔

ہے وہ غرور حسن سے بيگانۂ وفا

ہر چند اُس کے پاس دل حق شناس ہے

يعنی ميرا دل حق شناس اسی کے پاس ہے اور اُس نے حق وفا سے آگاہ کر ديا ہے ،

مگر وہ غرور حسن ميں کب سنتا ہے اگر دل حق شناس سے معشوق کا دل مراد ليں

تو محاورہ کے خلاف ہو گا يہ کوئی نہيں کہتا کہ اس کے پاس دل روشن اور چشم

بينا ہے بلکہ يوں کہنا چاہئے کہ اس کا دل روشن ہے اور چشم بينا۔

پی جس قدر ملی شب مہتاب ميں شراب

اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

يعنی چاندنی رات ڻهنڈی ہوتی ہے اور ميرا مزاج بلغمی کيوں کر شراب نہ پيتا يا يہ

کہ شب ماہ کا مزاج مرطوب ہے اُس کے لئے شراب پينا مصلح ہے۔

􀀀 ہر اک مکان کو ہے مکيں سے شرف اسد

مجنوں جو مرگيا ہے تو جنگل اُداس ہے

يعنی جنگل کی اُداسی کا يہ سبب ہے ورنہ اُداس نہ ہوتا۔

_______

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

خوش ہو کہ ميری بات سمجهنی محال ہے

يعنی ميں وہ مجذوب ہوں کہ ميری بات سمجهنی محال ہے تو خاموشی کا فائدہ بے

خاموش ہوئے مجهے حاصل ہے اور حال سے واردات قلبيہ مراد ہيں۔

کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ

دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے

يعنی حسرت اظہار زبان کے گويا نہ ہونے سے گلہ مند ہے کس کے آگے اس گلہ

کو بيان کروں اور فرد جمع و خرچ سے طومار شکايت مراد ہے يعنی اظہار شوق

زبان سے نہ ہو گا تو دل ميں زبان کی شکايتيں بهری ہوئی ہيں۔ مصنف نے زبان کو

جمع اس اعتبار سے کہا ہے کہ بہت سے موقعوں پر زبان نے اظہار شوق ميں

کوتاہی کی ہے اور ممکن ہے کہ احباب کی زبانيں مراد ليں۔

کس پردہ ميں ہے آئينہ پرداز اے خدا

رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے

لب بے سوال کا بے نفس ہونا ضرور ہے اور لب کو بے سوال و بے نفس اس

مناسبت سے کہا ہے کہ نفس کے پہنچنے سے آئينہ مکدر ہو جاتا ہے تو ضرور ہوا

کہ آئينہ پرداز سے ملنے کی خواہش لب بے سوال سے کرنا چاہئے اور آئينہ پرداز

جو آئينہ کو جلا کرے رحمت کا فعل محذوف ہے ، يعنی رحم کر۔

ہے ہے خدانخواستہ وہ اور دُشمنی

اے شوق منفعل يہ تجهے کيا خيال ہے

شوق کی صفت منفعل اچهی نہيں مطلب يہ ہے کہ اے شوق تو جو پشيمان ہورہا ہے

کہ ہم سے دُشمن کو دوست سمجه کر ربط کيا يہ خيال تيرا غلط ہے۔

کے قدم سے جان 􀀀 مشکيں لباس کعبہ علی

نافِ زمين ہے نہ کہ ناف غزال ہے

جان اس شعر ميں بلان کا ترجمہ ہے يا اعلم کا زمين ترکيب اضافی فارسی ميں ہے

اور اعلان نون کے ساته ہے۔ حالاں کہ نون فارسی کے يہ خلاف ہے ، اس لئے کہ

جب زمين ميں اعلان نون کيا تو وہ مہند لفظ ہو گيا ، پهر اُس کی طرف اضافت

کا يہ مصرع

تن پر اگر زبان ہو ، 􀀀 فارسی کيوں کر صحيح ہو گی ، جيسے سودا

بجائے ہر ايک مورکہ ميں ترکيب فارسی ميں ايک کا لفظ آگيا ہے اور ايک مہند ہے

يک کا کعبہ کو ناف زمين کہنا حديث کا مضمون ہے اور ناف زمين وسط زمين مراد

ہے ليکن اس پر يہ اعتراض ہوتا ہے کہ وسط زمين کب ہے ، خط استوار سے اکيس

درجہ اور کئی دقيقہ شمال ميں ہڻا ہوا ہے اس کا جواب يہ ممکن ہے کہ اول تو ايسی

حديثيں بہت کم ہيں جن کا قطعی الصدور ہونا اور محفوظ المتن ہونا ثابت ہو اور مان

لينے کے بعد ديکهو اہل يورپ نے خاک چهان کر جو تاريخی حالات تحقيق کئے

ہيں ان ميں سے يہ امر بهی حيرت خيز ہے کہ اقصائے شمال ميں جہاں برف اور

سردی انتہا کی ہے ، بکثرت ايسے جانوروں کی ہڈياں ملتی ہيں جو گرم ملکوں کے

رہنے والے ہيں اور کبهی منطقہ حارہ سے باہر رہ کر زندہ نہيں رہ سکتے۔ يہ امر

بڑا قرينہ ہے ، اس بات کا کہ کسی زمانہ ميں يہ ملک منطقہ حارہ کے نيچے تها

اور جہاں برف پڑتی ہے ، يہاں لو چلا کرتی تهی اس سے يہ امر بخوبی نکلا کہ

جب اقصائے شمال منطقہ حارہ ميں تها تو عرب کا ملک ضرور خط استواء پر ہو

گا۔

وحشت پہ ميری عرصۂ آفاق تنگ تها

دريا زمين کو عرق انفعال ہے

جب ميری صحرا نوردی کے لئے زمين کی وسعت ہيچ ثابت ہوئی تو زمين عرق

شرم ميں غرق ہو گئی يہ دريا گويا عرق انفعال ہے۔







Abida Rahmani



Wali Alam Shaheen

unread,
Jun 26, 2012, 12:07:16 PM6/26/12
to bazme...@googlegroups.com

عابدہ رحمانی صاحبہ، میں نے آپ کی پیش کردہ شرح دیوان غالب کی کئی قسطیں دیکھیں اور اپنے علم میں اضافہ کیا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ کیا یہ آپ کی تصنیف ہے؟ ممکن ہے آپ نے شروع میں شارح کا نام دیا ہولیکن بہتر ہوگا اگر ہر قسط میں شارح کا نام درج کر دیا جائے۔ الف کی ردیف میں ایک اہم اور مشکل شعر

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب  

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

ہر اعتبار سے شرح طلب ہے لیکن مجھے اس کی تشریح نظر نہیں آئی۔

دیوان غالب کے دوسرے شارحوں کے ہاں بھی بہت سارے اشعار کی شرحیں مزید سوالات کی متقاضی ہوتی ہیں۔ لیکن اسی طرح ادبی افہام و تفہیم کی راہیں کھلتی ہیں۔

شاہین

 

 

   

--- On Mon, 6/25/12, Abida Rahmani <abidar...@yahoo.com> wrote:

--
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Abida Rahmani

unread,
Jun 26, 2012, 11:40:24 PM6/26/12
to bazme...@googlegroups.com
آلسلام علیکم جناب
انشاءاللہ اگلی قسط کے ساتھ مصنف کا نام ڈال دونگی - یہ ہرگز میری تصنیف نیں
ہے- آپکا بیحد شکریہ




Abida Rahmani





--- On Tue, 6/26/12, Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com> wrote:
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages