|
شرح دیوان غالب بقیہ ردیف ی از نظم طباطبائی |
ہم قدم دُوریِ منزل ہے نماياں مجه سے
ہم قدم دُوریِ منزل ہے نماياں مجه سے ميری رفتار سے بهاگے ہے بياباں مجه سے يعنی بياباں جس چال سے بهاگ رہا ہے وہ ميری سی ہی چال ہے کہ
جتنا ميں چلتا ہوں اتنا ہی راستہ دُور ہوتا جاتا ہے اور ہر ہر قدم پر دُوری منزل بڑهتی جاتی ہے۔
درسِ عنوانِ تماشا بتغافل خوش تر ہے نگہ رشتۂ شيرازۀ مژگاں مجه سے
يعنی ميری نگاہ شيرازہ مژگاں کا رشتہ بن گئی ہے حاصل يہ کہ تغافل پسند ہونے کے سبب سے آنکه سے باہر نہيں نکلتی اور تماشائے دُنيا سے درس لينا بهی
بتغافل ہی اچها ہے اور عنوان کا پہلا لفظ مبالغہ پيدا کرنے کے لئے لائے ہيں يعنی سارا تماشا تو ايک طومار ہے اس کے ديکهنے کا کسے دماغ ہے يہاں عنوان تماشا کے
بهی ديکهنے سے تغافل ہے۔ وحشتِ آتش دل سے شبِ تنہائی ميں
دود کی طرح رہا سايہ گريزاں مجه سے شب تنہائی ميں ميرا
سايہ ميری آتش دل سے وحشت کهاکے اس طرح بهاگتا رہا جيسے آگ سے دُهواں بهاگتا ہے۔ غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
کس قدر خانۂ آئينہ ہے ويراں مجه سے پہلے مصرع ميں دُعا ہے يعنی خدا نہ کرے کہ عشاق کا غم حسينوں کو سادگی
سکهائے اور ان سے زينت و آرائش چهڑوائے ايک ميرے مرنے سے کس قدر خانہ آئينہ ويراں ہو گيا کہ اب اس ميں جلوۀ حسن نہيں دکهائی ديتا اور ميرے سوگ ميں
حسينوں نے آئينہ ديکهنا اور بناؤ کرنا چهوڑ ديا اثر آبلہ سے جادۀ صحرائے جنوں
صورت رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجه سے ميرے پاؤں کے چهالوں سے جادۀ صحرا رشتۂ گوہر کی طرح چراغاں ہو گيا ’ اثر
آبلہ ، کا لفظ اس معنی کے لئے ہے کہ
آبلوں سے لہو جادۀ صحرا پر ڻپکاہے جس نے اُسے رشتۂ گوہر اور چراغاں بناديا ہے۔ بے خودی بستر تمہيد فراغت ہو جو
پر ہے سايہ کی طرح ميرا شبستاں مجه سے کہتے ہيں بے خودی کو بستر تمہيد فراغت ہونا نصيب رہے کہ اس کی بدولت ميرا
شبستاں اس طرح مجه سے پر ہے جيسے سايہ اپنے حيز پر افتادہ ہوتا ہے يعنی بهلا ہو بے خودی کا جس کے سبب سے ميں سايہ کی طرح بے حس پڑا ہوا ہوں۔ تمہيد
کے لغوی معنی بچهانے کے ہيں اور يہ بستر کے مناسبات ميں سے ہے اور اصطلاح ميں تمہيد اُسے کہتے ہيں کہ کسی کام سے پہلے کچه ايسی باتيں کرنا جن
پر وہ کام موقوف ہے اور يہی معنی مصنف کو مقصود ہيں يعنی بے خودی حصول فراغت کی تمہيد ہے ، فراغت کے لغوی معنی خالی ہونے کے
ہيں اور يہ پر ہونے کے مناسبات ميں سے ہيں اور اصطلاح ميں راحت کے معنی پر ہے اور يہی معنی يہاں مقصود ہيں ، ’ ہو جيو ، خود ہی واہيات لفظ ہے مصنف مرحوم نے اُس پر اور
طرہ کيا کہ تخفيف کر کے ’ ہو جو ، بنايا۔ شوق ديدار ميں گر تو مجهے گردن مارے
ہوں نگہ مثل گل شمع پريشاں مجه سے گل شمع کہتے ہيں شمع کے گل کو بهی اور شعلہ شمع کو بهی يہاں دونوں معنی
ربط رکهتے ہيں يعنی جس طرح گلگير سے شمع کا گل ليتے ہيں تو اس ميں سے دُهواں نکل کے پهيلتا ہے اسی طرح شوق ديدار ميں اگر تو مجهے گردن مارے تو
ميری نگاہيں دُهوئيں کی طرح نکل کر پريشان ہوں۔ يا جس طرح شمع کا سر کاڻنے کے بعد اُس کا شعلہ زيادہ روشن ہو جاتا ہے اور اُس کی روشنی پهيل
جاتی ہے اسی طرح ميرا سر قلم ہونے کے بعد شوقِ ديد ميں ميری نگاہيں چاروں طرف پهيل جائيں گی۔
بے کسی ہائے شبِ ہجر کی وحشت ہے ہے سايہ خورشيدِ قيامت ميں ہے پنہاں مجه سے
يعنی شب غم کی بے کسی اور اُداسی سے وحشت کها کر ميرا سايہ مجه سے بهاگا ہوا ہے اور آفتاب قيامت ميں
جا کر چهپ رہا حالاں کہ سايہ آفتاب سے بهاگتا ہے مگر ميرا سايہ مجه سے ايسا بهاگا کہ آفتاب ميں اور آفتاب حشر ميں پنہاں ہو گيا۔ ’
ہيں ہيں ، بهی کہتے ہيں خوف ميں بهی اور چڑانے ميں بهی۔ گردش ساغر صد جلوۀ رنگيں تجه سے
آئينہ داری يک ديدہ حيراں مجه سے تيرا جلوۀ رنگيں اس محفل ميں گردش ساغر کا کام کر رہا ہے اور ميرا
ديدہ حيران آئينہ کا جلوہ کو ساغر اس وجہ سے کہا کہ وہ بهی مثل ساغر ہوشربا ہے۔ نگہ گرم سے ايک آگ ڻپکتی ہے اسد
ہے چراغاں خس و خاشاکِ گلستاں مجه سے يعنی ميری نگاہ گرم نے باغ ميں آگ لگادی ہے مگر نگاہ کے گرم ہونے کی وجہ
کچه نہ معلوم ہوئی۔ _______
نکتہ چيں ہے غم دل اُس کو سنائے نہ بنے کيا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
بات کا بننا اور بن پڑنا تدبير بن پڑنے کے معنی پر ہے اور بات کا بنانا بات کو پهير پهارکر اپنا مطلب نکالنے کے معنی پر ہے کہتے ہيں وہ ايسا نکتہ چيں ہے کہ لاکه
ميں بات بنا کر اپنا غم دل اُس کو سنانا چاہوں وہ سمجه جاتا ہے اور اُس کو کاٹ ديتا ہے اس مطلع کے قافيے سنانا اور بنانا کو ايطار کہتے ہيں اس وجہ سے کہ
دونوں لفظوں ميں الف زائد ايک ہی طرح کاہے يعنی معنی تعديہ کے لئے ہے اور ساری غزل ميں ’ سنائے نہ بنے ، اور ’ آئے نہ بنے ، اور ’ بلائے نہ بنے ، کے
سوا سب قافيے شائگاں ہيں يعنی سب ميں الف تعديہ ہے حاصل يہ کہ ساری غزل بهر ميں چار ہی قافيہ ميں جس ميں ايک شائگاں ہے جو سات
جگہ بندها ہے۔ ميں بلاتا تو ہوں اُس کو مگر اے جذبۂ دل اُس پہ بن جائے کچه ايسی کہ بن آئے نہ بنے
کسی پر بن جانا اُس کا مصيبت ميں مبتلا ہونا ہے۔ کهيل سمجها ہے کہيں چهوڑ نہ دے بهول نہ جائے
کاش يوں بهی ہو کہ بن ميرے ستائے نہ بنے کاش يہی ہو کہ بن ميرے ستائے اُسے چين نہ
آئے۔ غير پهرتا ہے لئے يوں ترے خط کو کہ اگر کوئی پوچهے کہ يہ کيا ہے تو چهپائے نہ بنے
اُردو کے شاعروں نے رقيب کا نام غير رکه ليا ہے اور اس قدر ان معنی پہ يہ لفظ مشہور ہوا ہے کہ حکم علم اس پر ہو گيا ہے اس اعتبار سے مصنف کا يہ مصرع
غير پهرتا ہے لئے الخ صحيح ہے ورنہ محاورہ ميں غيراسم صفت ہے اور رقيب کے لئے بهی کچه خاص نہيں ہے اور بول چال ميں ہميشہ صفت ہوکر بولا جاتا ہے
جس طرح ’ اپنا ، اسم صفت ہے کہ بے موصوف کے نہيں بولتے۔ معشوق پر طعن کرتے ہيں کہ تو نے جو غير کو نامۂ شوق لکها ہے وہ اس کے چهپانے ميں احتياط
نہيں کرتا تجهے رُسوا کرے گا يہ مضمون بہت نيا اور سچاہے۔ اس نزاکت کا برا ہو وہ بهلے ہيں تو کيا
ہاته آويں تو انهيں ہاته لگاتے نہ بنے يہ شعر کہہ کر مصنف نے نزاکت کی تصوير دکهادی لفظ نزاکت کے غلط ہونے
ميں کوئی شبہ نہيں ، اس وجہ سے کہ نازک فارسی لفظ ہے اُس کا مصدر نزاکت عربی کے قياس پر بناليا ہے ليکن اساتذہ فارس کی يہ گڑهت ہے جن کی تقليد آنکه
بند کر کے اُردو والے کرتے ہيں اسی طرح اُردو ميں بهی چاہنے کا اسم
مصدر چاہت اور رنگ سے رنگت اور اسی طرح بادشاہت بناليا ہے اور محاورہ نے اور اساتذہ کے استعمال نے ان سب لفظوں کو صحيح بناديا ہے۔
کہہ سکے کون کہ يہ جلوہ گری کس کی ہے پردہ چهوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُڻهائے نہ بنے
مپردہ چهوڑنا استعارہ ہے عالم امکان سے اور اسی استعارہ نے مضمون شعر کو جلوہ ديا ہے۔
موت کی راہ نہ ديکهوں کہ بن آئے نہ رہے تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
کہتے ہيں ميں موت کی راہ کيوں نہ ديکهو کہ وہ بغير آئے نہيں رہے گی ، يہ مجه سے نہيں ہو گا کہ تم سے کہوں کہ تم نہ آؤ کہ پهر مجه سے بلاتے بهی نہ بن پڑے
يعنی آپ ہی آنے کو منع کروں تو پهر کس منہ سے بلاؤں۔ اشارہ اس بات
کی طرف ہے کہ تمہارے نہ آنے سے موت کا آنا بہتر ہے۔ بوجه وہ سر سے گرا ہے کہ اُڻهائے نہ اُڻهے
کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے ايک تو مضمون بہت اچها دوسرے دونوں مصرعوں کی ترکيب کو متشابہ کر کے
اور بهی شعر کو برجستہ کر ديا۔ عشق پر زور نہيں ہے يہ وہ آتش
غالب کہ لگائے نہ لگے اور بجهائے نہ بنے يعنی اگر چاہيں کہ عشق کی آگ معشوق کے دل کو بهی لگے تو يہ بهی زور نہيں
چلتا اگر چاہيں کہ اپنی لگی کو بجهائيں تو يہ بهی نہيں بن پڑتا۔ ساری غزل مرصع کہی ہے اور يہی رنگ غزل خوانی کاہے
_______ چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عريانی
کرے صبح کے مانند زخم دل گريبانی کرے يعنی حالتِ عريانی ميں اگر وحشت چاک گريبان کی خواہش کرے تو صبح کی طرح
ميرا زخم دل بهی گريبان بن کر چاک ہو۔ جلوہ کا تيرے وہ عالم کہ گر کيجئے خيال
ديدۀ دل کو زيارت گاہ حيرانی کرے يعنی تيرے جلوہ کے خيال سے دل کو حيرانی ہوتی
ہے۔ ہے شکستن سے بهی دل نوميد يارب کب تلک آبگينہ کوہ پر عرض گر انجانی کرے
کوہ استعارہ ہے سختی و شدت غم کا اور دل کو شيشہ سے تشبيہ دی ہے لفظ شکستن نے شعر کو کهنکهنا کر ديا ترکيب اُردو ميں فارسی کے اور الفاظ لے ليتے
ہيں ليکن فارسی مصدر کا استعمال سب نے مکروہ سمجها ہے اور مصنف مرحوم کے سوا اور کسی کے کلام ميں نظم ہو يا نثر ايسا نہيں ديکها۔
ميکدہ گر چشم مست ناز سے پائے شکست موئے شيشہ ديدۀ ساغر کی مژگانی کرے
جو چشم کہ شرابِ ناز سے مست ہورہی ہے اُس کے مقابلہ ميں اگر ميخانہ کو شکست ہو جائے تو شيشہ ميں جو بال پڑيں وہ ديدۀ ساغر کے لئے پلکيں بن جائيں
اور ساغر اس آنکه سے اُس
کی چشم مست کو ديکه کر حيران ہو جائے اس قدر تصنع اور مضمون کچه نہيں۔ خطِ عارض سے لکها ہے زلف کو اُلفت نے عہد
يک قلم منظور ہے جو کچه پريشانی کرے يعنی اُس کے رخساروں پر خط يہ نہيں ہے بلکہ ميری اُلفت نے زلف کو يہ عہد نامہ
لکه ديا ہے کہ جو کچه ميرے حق ميں پريشانی کو کرنا ہو کرے يک قلم مجهے منظور ہے۔ مصنف نے يک قلم کے لفظ ميں دوہری رعايت رکهی ہے ايک تو
رخسار پر قلميں ہوتی ہيں ، دوسرے خط بهی قلم سے لکهتے ہيں۔ يہ شعر بهی تصنع بے مزہ سے خالی نہيں۔
_______ وہ آکے خواب ميں تسکين اضطراب تو دے
ولے مجهے تپش دل مجال خواب تو دے پہلے مصرع
ميں ’ تو ، امکان کے معنی رکهتا ہے يعنی اُس کا خواب ميں آنا ممکن ہے اور دوسرے مصرع ميں خواب کو مہتم بالشان کرنے کے لئے ’ تو ، کا لفظ ہے
يعنی خواب ہی کا آنا بڑی چيز ہے کرے ہے قتل لگاوٹ ميں تيرا رو دينا
تری طرح کوئی تيغ نگہ کو آب تو دے يعنی تيری آنکه کا آنسو تيغ نگاہ ميں وہ آبداری پيدا کرتا ہے کہ ميں تو قتل ہو
جاتا ہوں اس شعر ميں ’ تو ، کے معنی يہ ہيں کہ چاہے اور کچه کرشمہ کوئی نگاہ ميں پيدا کر لے مگر اس طرح تلوار کو آب دينا کوئی نہيں جانتا۔
دکها کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہيں جواب تو دے
’ کہيں ، کوئی نہ کوئی جگہ کے معنی پر ہے ليکن يہاں کوئی نہ کوئی طرح کے معنی پر ہے اور يہ بهی محاورہ ہے اس شعر ميں دو جگہ ’تو ، ہے پہلی جگہ شرط
و جزا ميں ربط کے لئے ہے اور رديف ميں جواب ميں اہتمام پيدا کرنے کے لئے ہے۔
پلادے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے پيالہ گر نہيں ديتا نہ دے شراب تو دے
يعنی اگر مجهے مسلمان سمجه کر تو کچه جانتا ہے اور اپنے پيالہ ميں پلاتے
ہوئے کراہت آتی ہے تو اوک سے پلادے اوک يعنی دونوں چلو ملا کر۔ خوشی سے مرے ہاته پاؤں پهول گئے اسد
کہا جو اُس نے ذرا ميرے پاؤں داب تو دے دابنا متعدی ہے لازم اس کا دبنا ہے الف تعديہ آخر ميں اکثر ہوتا ہے جيسے دبنے
سے دبانا وغيرہ اور کبهی الف کو درميان ميں لاتے ہيں جيسے دابنا يا نکلنا اور نکالنا اور سنبهلنے سے سنبهالنا اور تهمنے سے تهامنا اور گڑنا سے گاڑنا اور اسی
طرح کڻنا اور کاڻنا وغيرہ اور ’ تو ، اس شعر ميں زائد ہے يہ غرض نہيں ہے کہ بهرتی کاہے بلکہ اس مقام پر زائد بولنا محاورہ ميں داخل ہے۔
_______ تپش سے ميری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
مرا سر رنج باليں ہے مرا تن بارِ
بستر ہے ميرے تڑپنے سے بستر کا تار تار ايذا ميں ہے ، ميرا سر تکيہ کے لئے ايک عذاب ، ميرا تن بستر کی جان کو آفت ہے۔
سر شکِ سر بصحرا دادہ نورالعين دامن ہے دلِ بے دست و پا افتادہ برخوردار بستر ہے
آنسو دامن کی آنکه کا تارا اور دل بستر مرض کا مرادوں والا ہے يعنی آنسو ہميشہ دامن ميں رہتا ہے اور دلِ بيمار کو بستر پر پڑے رہنے سے اُنس ہو گيا۔
خوشا اقبال رنجوری عيادت کو تم آئے فروغِ شمع باليں طالع بيدارِ بستر ہے
بيمار کے سرہانے شمع جلانے کا دستور شاعروں ميں مشہور ہے اور شمع کے صفات ميں سے بيداری بهی ہے تو کہتے ہيں کہ کيا اچهی يہ بيماری ہے کہ تم
ميرے ديکهنے کو آئے اب شمع
باليں کو ميں اپنا طالع بيدار سمجهتا ہوں کہ بستر مرض پر گرنے سے نصيبا چمکا۔ بہ طوفاں گاہِ جوش اضطرابِ شامِ تنہائی
شعاعِ آفتابِ صبح محشر تارِ بستر ہے پہلے مصرع ميں چار اضافتيں پے درپے اور دوسرے ميں تين ہيں اور اُردو ميں
اضافت خود ہی ثقل رکهتی ہے تاکہ اتنی اضافتيں متوالی تين اضافتوں سے زيادہ ہونا عيب ميں داخل ہے ليکن پهر بهی يہ اضافتيں اس قدر بری نہيں معلوم ہوتيں
جس قدر کہ اب بہ طوفان گاہ ميں بری معلوم ہوتی ہے مگر يہ بهی اتنی بری نہيں ہے جتنا کہ فارسی مصدر اُردو کی ترکيب ميں برا ہے مثلاً : ’ تو اور ايک وہ
ناشنيدن کہ کيا کہوں ، اور ’ ياں زميں سے آسماں تک سوختن کا باب تها ، اور ’ ہے شکستن سے بهی دل نوميد
يارب کب تلک الخ ، مطلب شعر کا يہ ہے کہ شبِ غم ميں ايسا اضطراب و تاريکی ہے کہ گويا ہر ايک تارِ بستر آفتاب روزِ حشر کی
کرن ہے ہر ايک سفيد تار اس اندهيرے ميں چمک رہا ہے جس طرح آفتاب کی کرن چمکتی ہے ليکن يہ کرن آفتاب حشر کی ہے اس سبب سے کہ جوش اضطراب ہے۔
ابهی آتی ہے بو بالش سی اُس کی زلفِ مشکيں کی ہماری ديد کو
خوابِ زليخا عارِ بستر ہے يعنی زليخا کی طرح خواب ميں ديدار ہونا ميرے لئے ننگ اور ميرے بستر کے
لئے عار ہے ، اس سبب سے کہ يہ وہ بستر ہے کہ : ’ بسی ہے بو ابهی تکيوں ميں اُس زلفِ معنبر کی ، يعنی کل ہی تو شبِ وصل تهی۔ ايک بات يہ بهی لحاظ کے قابل
ہے کہ ’ بالش سے ، کی جگہ ’تکيوں سے ، اگر کہتے تو وزن ميں کچه خلل نہ تها مگر مصنف مرحوم نے تکيہ چهوڑکر بالش کہا حالاں کہ تکيہ محاورہ کا لفظ ہے
اس سے ان کا طرز انشا ظاہر ہوتا ہے کہ فارسی لفظ کو ہندی محاورہ پر شعر ميں ترجيح ديتے ہيں۔ ايک فائدہ کی بات يہ بهی ہے کہ ’ اس کی زلفِ مشکيں کی ،
يعنی دو جگہ ’ کی ، ثقل سے خالی نہيں اس کو نہ عيب کہہ سکتے ہيں نہ غلط کہہ سکتے ہيں کوئی شاعر اس سے نہيں بچا ليکن جہاں ايسی صورت ہو کہ دو
لفظ مؤنث جمع ہو جائيں اور اضافت ہو جيسے يہاں ’ بو ، بهی مونث ’ زلف ، بهی مونث تو وہاں ممکن ہو تو دونوں ميں سے ايک کو لفظ بدل کر مذکر کر ديں اور
يہاں لفظ کا بدلنا ممکن تها جيسے ’ ابهی آتی ہے بو بالش سے اُس گيسوئے مشکيں کی ،۔ يا بالش سے اپنے اُس کے گيسو کی دوسری صورت ثقل کے دفع کرنے کی
يہ ہے کہ اديب کو چاہئے
ايسے موقع پر ايک اضافت فارسی کی لے آئے يعنی ’ اس کی زلف کی بو ، کے بدلے ’ بوئے زلف اس کی ، کہے اور شاعر کے لئے
ايک صورت اور بهی ہے يعنی دو ’ کی ، جمع ہوں تو ايک ’ کی ، کو اس طرح نظم کرے کہ ’ ی ، گرجائے يہ بهی کسی قدر بہتر ہو گا اور ثقل کم ہو جائے گا
اور ’ کی ، کے بہ نسبت ’ کے ، ميں ثقل کم ہے اور يہ کليہ ہے کہ تکرار ہر لفظ کی ثقيل ہے۔
کہوں کيا دل کی کيا حالت ہے ہجر يار ميں غالب کہ بے تابی سے ہر يک تارِ بستر خارِ بستر ہے
_______ خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
غرور دوستی آفت ہے تو دُشمن نہ ہو جائے معشوق سے خطاب ہے کہ ميری دوستی و محبت پر تجهے غضب کا غرور ہوا
ہے ايسا نہ ہو کہ دُشمنی کی طرف منجر ہو جائے اور يہ رشتہ اُلفت تيرے لئے رگِ گردن ہو جائے اور رگِ گردن غرور کو کہتے ہيں يعنی ايسا نہ ہو کہ غرور ميں آ
کر دُشمن کی طرح ہميشہ مجه سے گردن ڻيڑهی ہی رہے اور ’ خطر ہے ، يعنی مجهے يہ خطر ہے ’ يہ ، کا حذف اس مصرع ميں بلاشبہ برا معلوم ہوتا ہے اور
پهر اُس کے بعد کاف بيان
بهی محذوف ہے اور ’ يہ ، کا اشارہ بيانِ خطر کی طرف ہے وہ يہ ہے کہ ’ رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے ، عجب نہيں کہ مصنف نے
پہلے يوں کہا ہو ’ يہ ڈر ہے رشتۂ اُلفت الخ ، مگر يہ کی’ ہ ، کا گرنا ثقيل سمجه کر ’ يہ ڈر ، کو خطر کر ديا ہے کو اس ’ ہ ، کا گرنا دُرست ہے مگر ثقل سے خالی
نہيں خصوصاً ابتدائے کلام ميں۔ سمجه اس
فصل ميں کوتاہی نشوونما غالب اگر گل سرو کی قامت پہ پيراہن نہ ہو جائے کيا پوچهنا اس مبالغہ کا کہ مبالغہ کے ضمن ميں ايک دلکش نقشہ بهی دکها ديا ليکن
قامت سرود پر گل کے پيراہن ہو جانے سے يہ مراد نہيں ہے کہ ايک گل اتنا بڑا ہو جائے کہ سرو کا پيرہن بنے بلکہ مصنف کی غرض يہ ہے کہ شاخ ہائے گل کو اس
قدر نمو ہو کہ سرو کے
گرد لپٹ کر پهولوں کی قبا اُسے پہناديں اور اس مبالغہ ميں يہی خوبی ہے کہ کوئی محال بات لازم نہيں آتی اور گل سے ايک گل مراد ليں تو
مبالغہ محال کی طرف منجر ہوتا ہے اور يہ امر عيب ہے مبالغہ ميں اور ہميشہ سے اس عيب کو عيب لکهتے آتے ہيں مگر فارس و ہند کے شعرا شايد اسے صنعت
سمجهے ہوئے ہيں کہ احتراز نہيں کرتے اس عيب ميں سبهی سے ہوئے ہيں خود مصنف مرحوم کو بهی محال گوئی سے احتياط نہيں ہے مثلاً يہ شعر گذر چکاہے :
ابهی ہم قتل گہ کا ديکهنا آساں سمجهتے ہيں نہيں ديکها شناور بحر خوں ميں تيری تو سن کو
يعنی وہ ايسا خونريز ہے جس کا گهوڑا دريائے خون ميں پيرتا ہے يہ محض مبالغہ کہتے ہيں : محال ہے خواجہ وزير
تو نہا کر جو پهرا غم سے
سمٹ کر دريا آگيا ديدۀ گرداب ميں آنسو ہوکر اس شعر ميں مبالغہ محال ہے اور اس کے ضمن ميں آنکه اور آنسو کا نقشہ دکهايا
ہے مگر يہ نقشہ ويسا دلکش نہيں ہے جيسا کہ سرو کے گل پوش ہونے کا مصنف نے دکهايا ہے اور کسی کا يہ شعر ہے :
باديہ گردی ميں فکر برہنہ پائی نہيں بن گيا
پاپوش پا اتنا پهپولا بڑه گيا اس شعر ميں مبالغہ تو محال عادی نہيں ہے مگر پاؤں ميں پاپوش ہونے کی صورت
کہتے ہيں : کچه کيفيت نہيں رکهتی۔ ناسخ مرتبہ کم حرص رفعت سے ہمارا ہو گيا
آفتاب اونچا ہوا اتنا کہ تارا ہو گيا اس شعر ميں آفتاب کے بلند ہونے ميں کيا ہے اور اُس کا تارا ہو جانا ايک صورت
دکهاتا ہے ليکن معمولی صورت ہے اور سرو کا گلپوش ہونا مشکل بديع ہے ليکن بات يہ ہے شيخ ناسخ نے يہاں آفتاب سے مرتبہ کو مراد ليا ہے اسے مبالغہ
غيرعادی نہ سمجهنا چاہئے پهر کہتے ہيں : ايک درہم اور داخل گنج قار دل ميں ہوا
پست ايسا ميرے طالع کا ستارا ہو گيا اس شعر ميں بے شک مبالغہ غيرعادی ہے
اور ايک روپيہ کا بہت سے روپوں ميں مل جانا بهی کوئی کيفيت نہيں ليکن گنج قاروں ميں ايک درہم اور بڑه جانا البتہ امر
بديع ہے پهر کہتے ہيں : يہ صفائی يہ لطافت جسم ميں ہوتی نہيں تم نے جو دل ميں چهپايا آشکارا ہو گيا
اس شعر ميں دو وجہوں سے محال ہے ايک تو جسم ميں ايسی لطافت کا ہونا کہ جو شئے دل ميں ہو وہ باہر سے دکهائی دے دوسرے راز کا دکهائی دينا کہ وہ ديکهنے
کی شئے نہيں ہے غرض کہ گو ائمہ فن نے مبالغہ غيرعادی کو عيوب بلاغت ميں لکها ہے مگر کوئی مانتا نہيں اور نہ کوئی عمل کرتا ہے خصوصاً قصيدہ ميں تو
سوائے مبالغہ غيرعادی کے اور کوئی مضمون ہی نہيں باندهتے ہيں جسے سن کر ممدوح اپنی ہجو سمجهتا ہے اديب کو يہ بات نہ بهولنا
چاہئے کہ مبالغہ کلام کا حسن ہے ليکن مبالغہ ميں افراط کہ مضمون غيرعادی و محال پيدا ہو جائے باتفاق ائمہ فن
عيب قبيح ہے جس کا نام انهوں نے اغراق و غلو رکها ہے مبالغہ جبهی تک حسن رکهتا ہے جب تک واقعيت و امکان اُس ميں پايا جائے مثلاً کسی زخمی کو کہنا کہ
خون کا دريا بہہ گيا ، اغراق ہے اور لہو کا پرنالہ چل گيا مبالغہ مقبول ہے۔ مير انيس کے ايک اصلاحی مرثيہ ميں ہے : ’ بہ کر لہو جگر کا رکابوں تک آگيا ،
کہتے ہيں : ديکهو مبالغہ کيسا واقع سے مطابق ہے۔ مونس برچهوں اُڑ جاتا ہے دب دب کے فرس رانوں سے
آنکه لڑ جاتی ہے دريا کے نگہبانوں سے ايک مرثيہ ميں تلوار کی مدح ميں ہے ’ دوڑا وہ کہ چهوجائے تو الماس ترش جائے
، يا ’ کس ايسا
تيغ ميں کہ کمر سے لپيٹ لو ،۔ ان مبالغوں کا جواب کاہے کو ہے اور جہاں مبالغہ کرنے کے بعد کوئی نقشہ کهنچ جاتا ہے وہ مبالغہ زيادہ تر لطيف ہوتا
ہے خصوصاً جہاں وہ نقشہ بهی معمولی نہ ہو بلکہ نادر و بديع شکل ميں پيدا ہو اور مصنف کے اس شعر ميں دونوں خوبياں موجود ہيں۔
_______ فرياد کی کوئی لے نہيں ہے
نالہ پابند نے نہيں ہے يعنی جو بات کہ دل سے ہوتی ہے اثر اسی ميں ہے اور اُسے صناعت اور تصنع
سے کچه لگاؤ نہيں ہے۔ کيوں بوتے ہيں باغبان تو بنے گر باغ گدائے مے نہيں ہے
انهيں تو بنوں سے کشکول گدا اور کدو سے شراب بنتا ہے غرض کہ باغ ان تو بنوں کی کشکول بنا کر گدائی کرتا ہے اور شراب بهيک ميں ملتی ہے۔
ہر چند ہر ايک شئے ميں تو ہے پر تجه سی تو کوئی شے نہيں ہے
’ سی ، سی تشبيہ کے لئے ہے يعنی تو تشبيہ جسمانيات سے منزہ ہے۔ سی کی ’ ی ، جس جگہ واقع ہوئی ہے يہ مقام حرف متحرک کاہے يعنی مفعول مفاعلن فعولن
ميں مفاعلن کے ميم کی جگہ ’ ی ، واقع ہوئی ہے
اور ’ ی ، ساکن ہے تو گويا مفاعلن کے ميم کو مصنف نے ساکن کر ليا ہے يعنی مفعول مفاعلن کے بدلے مفعولم
فاعلن اب ہو گيا ہے جسے مفعولن فاعلن سمجهنا چاہئے يہ زحاف گو اُردو فارسی ميں نامانوس معلوم ہوتا ہے مگر سب لايا کرتے ہيں نسيم لکهنؤی کی مثنوی اسی
وزن ميں ہے اور جابجا اس زحاف کو لائے ہيں : کحال پيرو
پريں عيسی کی جس نے آنکهيں ديکهيں ہاں کهائيو مت فريب ہستی
ہر چند کہيں کہ ہے نہيں ہے ہاں ہاں کہيں دهوکا نہ کهانا کوئی کہے نہ ماننا نہيں تو ايسے طلسم اوہام ميں پهسے
گا کہ جلوۀ حقيقت سے محروم رہے گا يہ سارا شعر انشائے تحذير کے لئے ہے۔ شادی سے گذرکہ غم نہ
ہووے نہيں ہے اُردی جو نہ ہو تو دے يعنی اگر اپنے تئيں نشاط بہار کا خوگر نہ کر تو غم خزاں بهی پهر نہ ہو۔
کيوں رد و قدح کرے ہے زاہد مے ہے يہ مگس کی قے نہيں ہے
اے زاہد قدح شراب کو رد نہ کر يہ سارنگ مکهی کی قے نہيں ہے جسے تو بڑی نعمت سمجهتا ہے۔
ہستی ہے نہ کچه عدم ہے غالب آخر تو کيا ہے ، ہے نہيں ہے عجب شوخی کی ہے اس شعر ميں لفظ ’ نہيں ہے ، کو نام بناليا ہے کہتے ہيں نہ تو
ہستی محض ہے مثل واجب کے نہ تو عدم بحث ہے مثل ممتنع کے يعنی تو ہے بهی ہے اور نہيں بهی ہے تو تيرا نام ’ نہيں ہے ، رکهنا چاہئے۔
_______ نہ پوچه نسخہ مرہم جراحت دل کا
کہ اس ميں ريزۀ الماس جزو اعظم ہے اور باقی اجزا نمک ہے اور مشک ہے يعنی جن چيزوں سے زخم اور بڑه جاوے۔
بہت دنوں ميں تغافل نے تيرے پيدا کی وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
بڑا حسن اس شعر کا يہ ہے کہ معشوق کے تغافل کی تصوير دکهادی ہے دوسرا لطف يہ ہے کہ ايک نگاہ ميں ايسی تفصيل کہ نگاہ اور نگاہ سے کم ہونا اس کے
علاوہ ايک لطيفہ بهی ہے يعنی نگہ کم ہے نگاہ سے کہ اس ميں الف ہے اس ميں نہيں ہے۔
_______ ہم رشک کو اپنے بهی گوارا نہيں کرتے
مرتے ہيں ولے ان کی تمنا نہيں کرتے يعنی جس طرح
انتہائے بخل کا مرتبہ يہ ہے کہ بخيل خود بهی اپنی دولت سے محروم رہتا ہے وہی حال انتہائے رشک کاہے کہ تمنائے وصل کرتے ہوئے اپنے
اُوپر آپ رشک آتا ہے۔ درپردۀ اُنهيں غير سے ہے ربط نہانی ظاہر کا يہ پردا ہے کہ پردہ نہيں کرتے
يعنی ان کا مجه پر يہ ظاہر کرنا کہ فلاں شخص سے ہم پردہ نہيں کرتے يہ ظاہر کا پردہ ہے درحقيقت اُس سے ربط نہانی ہے ورنہ پردہ نہ کرنے کا کيا باعث دوسرا
پہلو پردہ نہ کرنے کا يہ ہے کہ اِ خفا نہيں کرتے يعنی کسی بات کے چهپانے کی ہميں عادت نہيں ہے۔
يہ باعث نوميدی اربابِ ہوس ہے کو برا کہتے ہو اچها نہيں کرتے غالب
يعنی غالب تو عاشق تها جب اس کو کہا تو رقيب
بوالہوس کو پهر کيا تم سے اُميد رہے گی۔ _______
کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ خط پيالہ سراسر نگاہ گلچيں ہے
يعنی لب تيرا پهول ہے اور بادہ گلچيں ہے اور خط ساغر نگاہ گلچيں ہے اور لفظ سراسر براے بيت ہے۔
کبهی تو اس دل
شوريدہ کی بهی داد ملے کہ ايک عمر سے حسرت پرست باليں ہے ايک عمر سے حسرت پرست باليں ہونا دو معنی رکهتا ہے ايک تو يہ کہ مدت سے
باليں پر سر رکهنے کی حسرت ہے دوسرے يہ کہ ايسی ناتوانی ہے کہ باليں سے سر نہيں اُڻه سکتا اور اس صورت ميں عجب نہيں کہ دل کا لفظ غلط کاتب ہو اور
مصنف نے سرشوريدہ کہا ہو مگر معنی شعر ہر طرح
سے ظاہر ہيں۔ بجا ہے گر نہ سنے نالہائے بلبل زار کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگيں ہے
گل کو کان سے تشبيہ ديا کرتے ہيں اور جب اُس پر شبنم ہوئی تو گويا کان ميں روئی رکه لی پهر نالہ بلبل کو کيوں کر سنے يہ شعر بهی اسی قسم کاہے جيسا شعر
آگے گذر چکا : سبد گل کے تلے بند کرے ہے
گلچيں مثردہ اے مرغ کہ گلزار ميں صياد نہيں اور بات يہ ہے کہ گل و بلبل و شمع و پروانہ وغيرہ کا ذکر شعر ميں جب ہی تک
کہتے حسن ديتا ہے جب کوئی تمثيل کا پہلو اس ميں صاف نکلے جيسے حزيں ہيں :
اے وائے بر اسيری کزياد رفتہ باشد در دام ماندہ باشد صياد رفتہ باشد
يا جيسے يہ شعر ہے : گهر کو چهوڑے ہوئے مدت ہوئی صياد مجهے
کس چمن ميں تها نشيمن يہ نہيں ياد مجهے يا جيسے : پهونک دے برق اُجاڑ دے گلچيں
اب غرض کيا ہے آشيانہ سے ليکن جہاں تمثيل صاف نہ نکلے اور يہ معلوم ہو کہ فقط گل و ببل ہی کا حال
بيان کرنا مقصود شعر ہے وہ شعر بے مزہ ہوتا ہے جيسے : قفس کو شام سے لڻکا کے فرش خواب کے پاس
سنا کيا مری تاصبح داستاں صياد کہتے ہيں : اور مصنف کے يہ دونوں شعر بهی اسی قسم کے ہيں جراٴت
ذرا تو اپنے اسيروں کی لے خبر صياد قفس ميں کيسے تڑپتے ہيں آب و دانے کو
آتش کہتا ہے : گستاخ بہت شمع سے پروانہ ہوا ہے
موت آئی ہے سر چڑهتا ہے ديوانہ ہوا ہے ليکن اکثر کلام مصنف کا اس بے لطفی سے پاک ہے برخلاف اکثر شعرا کے کہ
زيادہ تر اُن کے کلام ميں ايسے ہی شعر ہوتے ہيں۔ ہے نزع ميں چل بے وفا برائے خدا اسد
مقام ترک حجاب و وداع تمکيں ہے يعنی اگر حجاب آتا ہے تو ايسے وقت ميں حجاب کو ترک کر اور اگر تمکين و وقار
مانع ہے تو اس وقت اُسے بهی رخصت کر۔ _______
کيوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کيوں نہ ہو يعنی اس بيمار کو نظارہ سے پرہيز ہے
اس بيمار کو يعنی چشم بتاں کو
ايک بات يہ بهی يہاں غور کرنے کی ہے کہ لفظ تغافل پر مطلب تمام ہو گيا تها مگر مصرع تمام ہونے ميں کچه بڑهانے کی
ضرورت تهی اور ايسی ضرورت پر جو لفظ بڑهائے جاتے ہيں وہ اکثر بهرتی کے بے مزہ ہوتے ہيں مثلاً کوئی کم مشق ہوتا وہ يہاں پر ’ ہر گهڑی ، کا لفظ يا ’ رات
دن ، کا لفظ ’ ہم نشيں ، وغيرہ کہہ ديتا اور يہ لفظ گو درد کی طرح بهرے ہوئے بدنما معلوم ہوتے ليکن مصنف نے کس خوبی سے مصرع کو پورا کيا يعنی ’ کيوں
نہ ہو ، کو مکرر لے آئے اور اس سے اور حسن بڑه گيا۔ مرتے مرتے ديکهنے کی آرزو رہ جائے گی
وائے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تيز ہے کاش کے ميرے قتل کے لئے کند چهری ہوتی کہ جتنی دير ميں گلا کڻتا اتنی دير تو
ميں اُسے ديکه ليتا يہ
کہا ہوا مضمون ہے۔ عارض گل ديکه روئے يار ياد آيا اسد جوشش فصل بہاری اشتياق انگيز ہے
ديکه کر کے مقام پر ديکه کہنا نظم ميں دُرست ہے ليکن عجز شاعر معلوم ہوتا ہے۔ _______
Abida Rahmani |