جھوٹے مدعیانِ نبوت

1,883 views
Skip to first unread message

Gul Bakhshalvi

unread,
Oct 12, 2021, 7:57:00 PM10/12/21
to Gul Bakhshalvi, Safdar Hamadani, asma mughal, Aijaz .Shaheen, Msnaz Naz, Urdu Net Japan

        جھوٹے مدعیانِ نبوت
                 گل بخشالوی
مسیلمہ کذاب :
اس کا پورانام ابوثمامہ مسیلمہ بن ثمامہ تھا یہ بنو حنیفہ (یمامہ)کا جھوٹا مدعی نبوت تھا اس نے آنحضرت ﷺکی زندگی ہی میں جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچایا تھا ۔سن 9ہجری میں جب مختلف وفود آئے تو یمامہ سے بنو حنیفہ کا وفد بھی آیا جس میں مسیلمہ کذاب بھی تھا جب یہ مسلمان ہو کر واپس گئے تو مسیلمہ مرتد ہوگیا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا اور من گھڑت الہامات سنانے لگا ۔اس نے مسجع ومقفع کلام بھی کہا مسیلمہ نے ایک خط کے ذریعے رسول اللہ ﷺسے نبوت اور حکومت میں شراکت کا سوال کیا مگر آپﷺ نے فرمایا ”میں تو معمولی سی چیز بھی دینے کو تیار نہیں ہوں اور تو نبوت میں حصہ مانگتا ہے “۔رسول اللہ ﷺکی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر ؓنے مرتدین کی سرکوبی کیلئے گیارہ لشکر ترتیب دئےے تھے جن میں سے ایک لشکر عکرمہ ؓکی سرکردگی میں روانہ ہوا ان کی پسپائی کے باعث خالد بن ولید اور شرحبیل بن حسنہ ؓ کو روانہ کیا جنہوں نے زبردست جنگ میں مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا۔
مسیلمہ کذاب کے قتل کے بعد اس قوم بنوحنیفہ نے صلح کی خاطر ہتھیار ڈال دئےے بنوحنیفہ کا سارا مال اور ہتھیار ضبط کر لےے گئے شرائط صلح طے ہو چکی تھیں کہ حضرت ابوبکر ؓکا حکم پہنچا کہ بنو حنیفہ کے تمام بالغ آدمی قتل کر دئےے جائیں لیکن حضرت خالد ؓنے صلح نامہ طے پانے کے بعد ایسا کرنے سے معذوری ظاہر کی کیونکہ یہ بدعہدی کے مترادف تھا مسلمانوں کا یہ طرز ِعمل دیکھ کر بنو حنیفہ نے اسلام قبول کر لیا ۔جنگ ِیمامہ میں بڑی خون ریزی ہوئی فریقین کا بہت زیادہ جانی نقصان ہواچھ سات سو مسلمان شہید ہوئے جن میں بعض اکابر اور نامور قراءاور حفاظ بھی شامل تھے ۔جنگ ِیمامہ کی تاریخ بعض مﺅرخوں نے 11ھ اور بعض نے 12ھ لکھی ہے ابن کثیر نے اس کی تطبیق یوں کی ہے کہ 11ھ میں شروع ہوئی اور 12ھ میں ختم ہوئی (تلخیص اُردو دائرہ معارف اسلامیہ138. 134/21)
طلیحہ اسدی :
رسول اللہ ﷺکی وفات کے بعد بنو اسلام سے منحرف ہوگئے تھے ان کے لشکر کو جو طلیحہ کذاب کے تحت مسلمانوں سے لڑنے نکلا تھا حضرت خالد بن ولید ؓنے بئیر بزاخہ پر 11ھ میں شکست دی جو بنواسد یا بنو طے کے علاقہ نجد میں ایک کنواں ہے اس لڑائی میں بنو طے کے 1ہزار آدمی طلیحہ سے الگ ہوکر حضرت خالد ؓکے لشکر سے آملے تھے ۔طلیحہ کی مدد پر عیینہ نے جب دیکھا کہ طلیحہ جن پیغمبری قوتوں کا دعویٰ کرتا تھا وہ مسلمانوں کے مقابلے میں عملاً بے کار ثابت ہورہی ہےں تو وہ میدان ِ جنگ سے بھاگ گیا چنانچہ طلیحہ کو بھی بھاگنا پڑا ۔بنواسد نے خالد ؓکی اعطاعت قبول کر لی آس پاس کے قبائل جیسے بنو عامر جوجنگ کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے اب اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے ۔(معجم البلدان 408/1طبری482/2:)
طلیحہ شکس کھاکر شام کی طرف فرار ہوا اور بنوکلب کے پاس جا ٹھہرا جب پتہ چلا کہ بنو اسد ،غطفان اور بنو عامر مسلمان ہوگئے ہیں تو اس نے بھی اسلام قبول کر لیا طلیحہ بعد میں جنگ نہاوند میں شہید ہوا (المنتظم 25/4)
سجاح بنت حارث:
سجاح بنت حارث عرب کی ایک کاہنہ اور ان چند متنبیوں میں سے تھی جو عرب میں ر ِدّہ سے تھوڑی مدت پہلے یا اس کے دوران میں نمودار ہوئے تھے وہ بنو تمیم میں سے تھی ماں کی طرف سے اس کی قرابت داری عیسائی قبیلہ بنو تغلب سے تھی وہ خود بھی عیسائی مذہب رکھتی تھی وہ منبر سے مقفیٰ نثر میں اپنے اعتقادات کا پرچار کیا کرتی اور ایک منادی اور ایک حاجب اس کی خدمت میں حاضر رہا کرتا اس کے نزدیک خدا کا ایک لقب رب السحاب تھا ۔سجاح نبی ﷺکی وفات کے بعد منظر عام پر آئی اس نے مسیلمہ کذاب سے شادی کر لی تو اس کی ساری سرگرمیاں پس منظر میں چلی گئیں ابن الکلبی کے مطابق اس نے تائب ہو کر اس وقت مذہب اسلام اختیار کیا جب اس کے خاندان نے بصرے میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا جو بنوامیہ کے تحت بنوتمیم کا صدر مقام بن گیا تھا اس نے وہیں اسلام کی حالت میں وفات پائی ۔(ملحض اُردو دائرہ معارف اسلامیہ 739, 738/10)
البطاح : یہ بنو اسد بن خزیمہ کے علاقے میں پائے جائے والے ایک چشمے کا نام ہے جہاں مسلمانوں کی حضرت خالد بن ولید ؓکی قیادت میں مرتدین سے لڑائی ہوئی اس جنگ میں ضرار
بن ازوراسدی ؓنے مالک بن نویرہ کو قتل کیا ۔(معجم البلدان445/1)
مہرة:
یہ عرب کے جنوب میں بحرہند (بحیرئہ عرب)کے کنارے ایک علاقہ ہے جو حضر موت اور ظفار کے درمیان واقع ہے لیکن عرب جغرافیہ نگار خود ظفار کو بھی مہرہ ہی کا حصہ قرار دیتے ہیں ۔(معجم البلدان234/5،اُردو دائرہ معارف اسلامیہ 898/21)آج کل مہرہ یمن میں شامل ہے اور مشرق میں خلیج قمر تک وسیع ہے ۔
تریم:
مہرة کے شمال مغرب میں وادی حضر موت میں تریم کا تاریخی شہر ہے جو صنعاءسے 735کلومیٹر مشرق میں واقع ہے اس مسجدوں کا شہر کہتے ہیں جہاں 365مساجد پائی جاتی ہیں آبادی 70ہزار ہے اس شہر کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ حضور ﷺکی وفات کے بعد یمن میں یہی ایک شہر تھا جو ارتداد کا شکار نہیں ہوا تھا تریم کے دروازوں پر مرتدین سے فیصلہ کن معرکہ ہوا تھا اور بہت سے صحابہ کرام ؓنے جام شہادت نوش فرمایا تھا اور اہل ایمان کو فتح ہوئی تھی ان اصحاب النبی کے مدفن کو یہاں ”الشہداء“کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔سیّد نا ابوبکر ؓنے اس شہر اور اس کے باسیوں کےلئے دعا بھی فرمائی تھی ۔(ارض الاحقاف کا سفر اور مشاہدات ....سیّد حامد عبدالرحما ن الکاف بحوالہ قرآن انسٹیٹیوٹ)
دومة الجندل:
یہ وادی سرحان کے سرے پر ایک نخلستان ہے وادی سرحان سعودی عرب اور اُردن میں جنوب مشرق سے شمال مغرب کی طرف پھیلی ہوئی ہے اس کے ایک سرے پر دومة الجندل اور دوسرے سرے پر حوران اور شام کا کوہستان ہے ۔دومة الجندل کا نخلستان ایک وسیع نشیبی زمین (الجوف)میں ہے جس کا طول تین میل ،عرض آدھ میل اور گہرائی پانچ سو فٹ ہے عرب مصنفین نے کہا ہے کہ جب تہامہ اسمٰعیل ؓکے کثیر التعداد گھرانوں کیلئے کافی چراگاہیں مہیا نہ کر سکا تو ان کا ایک فرزند ”دوم یا دومان یا دوما“نامی ہجرت کرکے اس علاقے میں چلا آیا اور اسی کے نام پر اس علاقے کا نام دومہ پڑگیا اس نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا جس کی وجہ سے اس کا نام دومة الجندل ہوگیا قبل از اسلام یہاں ودبت کی پرستش ہوتی تھی ۔
دومة الجندل کے باشندے بنوکلب کی شاخ بنوکنانہ سے تعلق رکھتے تھے ۔حضرت محمد ﷺنے اسے فتح کرنے کےلئے تین غزوات کیے پہلا غزوہ 5ھ میں ہوا جس میں خود نبی ﷺقائدالجیش تھے اس کا کچھ نتیجہ نہ نکلا کیونکہ نخلستان کے باشندے لشکر کے پہنچنے سے پہلے ہی تتر بتر ہوگئے تھے ۔دوسرا غزوہ 6ھ میں پیش آیا جس کے قائد الجیش حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓتھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سردار اصبح بن عمرو کلبی نے اسلام قبول کر لیا ۔تیسرے غزوے کی آنحضرت ﷺنے تبوک سے تیاری کی اور خالد بن ولید ؓکو اس مہم پر بھیجا ۔خالد بن ولیدؓنے دومة الجندل پر قبضہ کر لیا اور وہاں کی آبادی پرتاوان جنگ عائد کیااور سردار اکیدر بن عبدالمالک الکندی السکونی پر زور ڈالا کہ مدینہ منورہ جاکر نبی ﷺسے معاہدہ صلح کرے۔(فتوح البلدان،طبقات ابن سعد ،معجم البلدان)
1855ءمیں دومة الجندل حائل کے تحت ایک ریاست بن گیا 1909ءمیں قبائل روالہ کے سردار نوری ابن شعلان اور 1920ءمیں امیر شمر نے اس پر قبضہ کر لیا اور آخر کار عبدالعزیز بن سعود نے اسے اپنی ملکیت میں شامل کر لیا نومبر1925ءمیں ابن سعود اور انگریزوں کے درمیان حد بندی کا معاہدہ ہواتو اس میں سرحدیں معین کر دی گئیں اس وقت سے وادی سرحان مع دومة الجندل اور قریات الملح نجد(سعودی عرب)کا حصہ قرار پاگئے ۔(تلخیص اُردو دائرہ معارف اسلامیہ 473/9تا476)
8ہجری میں نبیﷺنے العلاءبن عبداللہ الحضرمی کو اہل بحرین کودعوت دینے کیلئے بھیجا کہ اسلام قبول کر لو یا جزیہ دینے پر آمادہ ہوجاﺅ۔انہوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا نبی ﷺکی وفات کے بعد اہل بحرین نے ارتد اد اختیار کیا تو حضرت خالد بن ولید ؓنے ان کی بغاوت کا قلع قمع کیا۔
بحرین: عہد ِنبوی میں اور اس کے بعد جزیرہ نمائے عرب کا مشرقی ساحل البحرین کہلاتا تھا جسے ان دنوں الاحساء(سعودی عرب)کہتے ہیں ۔معجم البلدان جلد اول میں لکھا ہے کہ ”یہ اس علاقے کا نام ہے جو بصرہ اور عمان کے درمیان بحر ہند (خلیج فارس)کے ساحل کیساتھ ساتھ واقع ہے “آج کل مملکت بحرین خلیج فارس کے چند جزائر پر مشتمل ہے جو قطر اور سعودی عرب کے درمیان واقع ہیں اور ان میں سب سے بڑا جزیرہ بحرین کہلاتا ہے ۔اب سعودی ساحل (الخبر)کو35کلومیٹرلمبے سمندری پل کے ذریعے جزیرہ بحرین سے ملا دیا گیا ہے ۔
تہامہ یمن: یہ بحیرئہ احمر کےساتھ ساتھ باب المندب اور خلیج عدن تک پھیلا ہوا ہے اس میں حدیدہ ،مناخہ،بیت الفقیہ ،زبید،عک،مخا اور تعز وغیرہ کے علاقے شامل ہیں ۔(اطلس العالم،مکتبہ لبنان ،بیروت)
ماخوذ (اٹلس سیرت النبی)

--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786
Serat Un NAbi ,,1.INP
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages