برج نرائن چکبست

117 views
Skip to first unread message

Jhuley Lal

unread,
Aug 9, 2016, 1:42:38 PM8/9/16
to
برج نرائن چکبست

زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ِ ترتیب
موت کیا ہے؟ انہیں اجزا کا پریشاں ہونا


چکبست ، برج نرائن

قلمی نام

چکبست ، برج نرائن


نام

پنڈت برج نرائن



نقاد, ادیب, شاعر

رائے بریلی (اُتر پردیش) , بھارت


پیدائش
1882-00-00   فیض آباد (اُتر پردیش) - بھارت 
وفات
1926-02-12   رائے بریلی (اُتر پردیش) - بھارت 


پنڈت برج نرائن چکبست محلہ راٹھ حویلی فیض آباد (چکبست کے ننھیال) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ادت نرائن یقین تھا۔ چکبست نے اردو فارسی کی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ کاظمین اسکول لکھنؤ سے مڈل ، گورنمنٹ جوبلی اسکول سے میٹرک اور کنگ کالج سے ایف ۔اے اور بی ۔اے کے ا متحانا ت پاس کیے ۔ بعد میں اسی کالج سے ایل۔ایل۔بی کی ڈگری حاصل کی اور وکالت شروع کردی۔21 فروری 1926 کو رائے بریلی میں انتقال ہوا۔ 
روایت کے مطابق چکبست نے بھی شاعری کا آغاز غزل سے ہی کیا لیکن جلد ہی نظموں کی طرف پلٹ آئے اور اسی صنف سے انھیں مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی زیادہ تر نظمیں حبّ الوطنی کے جذبے سے معمور ہیں۔ ان کی زبان اور انداز بیان سادہ ہے۔ ان کی شاعری میں سلاست، روانی اور ایک قسم کا بہاؤ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں منظر نگاری، جذبات نگاری،بیداری اور درد مندی کے پہلو نمایاں ہیں۔ 
چکبست کی تصانیف میں صبح وطن ، کلیات چکبست(نظم) ، مضامین چکبست،جنت کی ڈاک(خطوط)،کملا (ڈرامہ)، چکبست اور باقیات چکبست (مجموعہ نثر و نظم)، مقالات چکبست(مجموعہ نثر) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چکبست کی کچھ نظمیں اور انتخابات الگ طور پر کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ ان میں قومی مسدس، فریاد قوم، وطن کاراگ، انتخاب کلام چکبست، انتخاب چکبست وغیرہ شامل ہیں۔ چکبست نے دوکتابیں مرتب بھی کیں۔ جن میں مثنوی گلزار نسیم مع دیوان نسیم اورانتخاب آتش و غالب شامل ہیں۔


فنا کا ہوش آنا زندگی کا دردسر جانا​
اجل کیا ہے خمار بادہء ہستی اُتر جانا​
عزیزانِ وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا​
خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا​
کرشمہ یہ بھی ہے اے بےخبر افلاسِ قومی کا​
تلاشِ رزق میں اہلِ ہنر کا دربدر جانا​
مصیبت میں بشر کے جوہر مردانہ کُھلتے ہیں​
مبارک بزدلوں کو گردش ِقسمت سے ڈرجانا​
اجل کی نیند میں بھی خواب ِہستی گر نظر آیا​
تو پھر بیکار ہے تنگ آکے اس دنیا سے مرجانا​
وہ سودا زندگی کا ہے کہ غم انساں سہتا ہے​
نہیں تو ہے بہت آساں اس جینے سے مرجانا​
بہت سودا رہا زاہد تجھے نارِ جہنم کا​
مزہ سوزِ محبت کا بھی کچھ اے بے خبر جانا​
چمن زارِ محبت میں اُسی نے باغبانی کی​
کہ جس نے اپنی محنت ہی کو محنت کا ثمر جانا​
وہ طبع یاس پرور نے مجھے چشمِ عقیدت دی​
کہ شامِ غم کی تاریکی کو بھی نورِ سحر جانا​
سدھاری منزلِ ہستی سے کس بےاعتنائی سے​
تنِ خاکی کو شاید رُوح نے گردِ سفر جانا​



Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Aug 12, 2016, 1:34:07 AM8/12/16
to بزم قلم یو اے ای, Khadi Ali Hashmi<
پتہ نہیں کیسے یہ میل میری نظر سے محو ہو گیا - آج نظرپڑی- ساری غزل مرصع ہے  ترسیل کا بہت شکریہ جناب!
جہاں تک میری یاد داشت ساتھ  دیتی ہے چکبست نے اردو میں منظوم  رامائن بھی  لکھی تھی
کسی کو لکھنو کی پرانی تہزیب کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ چکبست کی مثنوئی  گلزار نسیم میں اسے جیتی جاگتی ملے گی۔
زندگی اور موت کے بارے میں چکبست کے فلسفیانہ خیالات ضرب المثل کی طرح مستعمل ہیں -  ان کا یہ شعر
چمن زارِ محبت میں اُسی نے باغبانی کی
کہ جس نے اپنی محنت ہی کو محنت کا ثمر جانا

بڑا معنی خیزہے بلکہ رہنمایانہ اثر رکھتا ہے
میں تو اس کو اپنے لئے یوں پڑھتا ہوں

چمن زار دہر میں بھی اسی نے باغبانی کی
کہ جس نے اپنی محنت ہی کو محنت کا ثمر جانا  


Amna Alam

unread,
Aug 12, 2016, 4:17:51 AM8/12/16
to bazmeqalam

حترم ڈاکٹر  یاسین
اسلام علیکم
اپنے  گلزار نسیم  نامی  مثنوی کو   چکبست. سے   وابستہ  کیا ہے  یہ غلط ہے

گلزار نسیم   پنڈت دیا شنکر نسیم  نے تحریر کی تھی   اس کی تصحیح ضروری تھی اس لیے لکھ دیا

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Aug 12, 2016, 8:08:42 AM8/12/16
to Khadi Ali Hashmi<
محترمہ آ منہ عالم صاحبہ تصحیح کا شکریہ۔ شائد یاد داشت پر عمر کا اثر ہونے لگا ہے ۔ آپ بالکل صحیح ہیں ۔ رامائن بھی  نسیم ہی کی لکھی ہوی ہے ۔  ورنہ جھولے لال صاحب نہیں چوکتے -

Abbas Rizvi

unread,
Nov 21, 2016, 8:28:13 AM11/21/16
to BAZMe...@googlegroups.com
موت کیا ہے اِنہی ( اِن ہی ) اجزا کا پریشاں ہونا 
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages