فیل ہونے کے فوائد
بشارت کہتے ہیں کہ بی اے کا امتحان دینے کے بعد یہ فکر لاحق ہوئی کہ اگر فیل ہو گئے تو کیا ہو گا۔ وظیفہ پڑھا تو بحمد للہ یہ فکر تو بالکل رفع ہو گئی، لیکن اس سے بھی بڑی ایک اور تشویش لاحق ہو گئی۔ یعنیٰ اگر خدانخواستہ پاس ہو گئے تو؟ نوکری ملنی محال۔ یار دوست سب تتر بتر ہو جائیں گے۔ والد ہاتھ کھینچ لیں گے۔ بے کاری، بے روز گاری، بے زری، بے شغلی۔۔۔ زندگی عذاب بن جائے گی۔ انگریزی اخبار فقط wanted کے اشتہارات کی خاطر خریدنا پڑے گا۔ پھر ہر کڈھب اسامی کے سانچے میں اپنی کوالیفیکیشنز کو اس طرح ڈھال کر درخواست دینی ہو گی گویا ہم اس عالمِ رنگ وبُو میں صرف اس ملازمت کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ اک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنا ہو گا۔ روزانہ دفتر بہ دفتر ذلت اٹھانا پڑے گی۔ تا وقتے کہ ایک ہی دفتر میں اس کا مستقل بندوبست نہ ہو جائے۔ ہر چند کہ فیل ہونے کا قوی امکان تھا، لیکن پاس ہونے کا خدشہ بھی لگا ہوا تھا۔
بعض لڑکے اس ذلّت کو مزید دو سال کے لیے ملتوی کرنے کی غرض سے ایم اے اور ایل ایل بی میں داخلہ لے لیتے تھے۔ بشارت کی جان پہچان کے جن مسلمان لڑکوں نے تین سال پہلے یعنی 1933 میں بی اے کیا تھا، وہ سب جوتیاں چٹخا تے بیکار پھر رہے تھے۔ سوائے ایک خوش نصیب کے، جو مسلمانوں میں اول آیا تھا اور اب مسلم مڈل اسکول میں ڈرل ماسٹر لگ گیا تھا۔ 1930 کی بھیانک عالم گیر کساد بازاری اور بے روزگاری کی تباہ کاریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں تھیں۔ مانا کہ ایک روپے کے گیہوں پندرہ سیر اور اصلی گھی ایک سیر ملتا تھا، لیکن ایک روپیہ تھا کس کے پاس؟
کبھی کبھی وہ ڈر ڈر کے مگر سچ مچ تمنّا کرتے کہ فیل ہی ہو جائیں تو بہتر ہے۔ کم از کم ایک سال اور بے فکری سے کٹ جائے گا۔ فیل ہونے ہر تو، بقول مرزا، صرف ایک دن آدمی کی بے عزتی خراب ہوتی ہے۔ اس کے بعد چین ہی چین۔ بس یہی ہو گا نا کہ جیسے عید پر لوگ ملنے آتے ہیں، اسی طرح اس دن خاندان کا ہر بزرگ باری باری برسوں کا جمع شدہ غبار نکالنے آئے گا اور فیل ہونے اور خاندان کی ناک کٹوانے کی ایک مختلف وجہ بتائے گا۔ اس زمانے میں نوجوانوں کا کوئی کام، کوئی فعل ایسا نہیں ہوتا تھا جس کی جھپیٹ میں آ کر خاندان کی ناک نہ کٹ جائے۔ آج کل والی صورت نہیں تھی کہ اول تو خاندانوں کے منھ پر ناک نظر نہیں آتی اور ہوتی بھی ہے تو less tyre tube۔ کی مانند جس میں آئے دن ہر سائز کے پنکچر ہوتے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر آپی آپ جڑتے رہتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات خاندان کے دور و نزدیک کے بزرگ چھٹی ساتویں جماعت تک فیل ہونے والے بر خورداروں کی، حسبِ قرابت و طاقت، دستِ خاص سے پٹائی بھی کرتے تھے۔ لیکن لڑکا جب ہاتھ پیر نکالنے لگے اور اتنا سیانا ہو جائے کہ وہ آوازوں سے رونے لگے، یعنی تیرہ چودہ سال کا ہو جائے تو پھر اسے تھپڑ نہیں مارتے تھے، اس لیے کہ اپنے ہی ہاتھ میں چوٹ لگنے اور پہنچا اترنے کا اندیشہ رہتا تھا۔ فقط لعن طعن اور ڈانٹ پھٹکار سے کام نکالتے تھے۔ ہر بزرگ اس کی certified (مستند، مصدقہ ) نالائقی کا اپنے فرضی تعلیمی ریکارڈ سے موازنہ کرتا اور نئی پود میں تا حدِ (موٹی ) نظر، انحطاط، اور گراوٹ کے آثار دیکھ کر اس خوشگوار نتیجے پر پہنچتا کہ ابھی دنیا کو اس جیسے بزرگ کی ضرورت ہے۔ بھلا وہ ایسی نا لائق نسل کو دنیا کا چارج دے کر اتنی جلدی کیسے رحلت کرسکتا ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ ہر بزرگ بڑے پیغمبرانہ انداز میں بشارت دیتا تھا کہ تم بڑے ہو کر بڑے آدمی نہیں بنو گے ! صاحب یہ تو اندھے کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ حد تو یہ کہ خود ہمیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظر آ رہا تھا۔ یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے سفید داڑھی یا ستارہ شناس ہونے کی شرط نہیں تھی۔ بہر طور، یہ ساری farce ایک ہی دن ختم ہو جاتی تھی۔ لیکن پاس ہونے کے بعد تو ایک عمر کا رونا تھا۔ خواری ہی خواری۔ ذلّت ہی ذلّت۔
جاری ہے۔۔۔۔
نجیب احمد نجیب
asakye silsila bahot hi accha shuru kiya aap nebaaz waqt ek chhota sa unkta padhhne men aajae to phir zahn apna bhikhoob bhaagne lagta hai. is se faida hogaaleem
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
بعض لڑکے اس ذلّت کو مزید دو سال کے لیے ملتوی کرنے کی غرض سے ایم اے اور ایل ایل بی میں داخلہ لے لیتے تھے۔ بشارت کی جان پہچان کے جن مسلمان لڑکوں نے تین سال پہلے یعنی 1933 میں بی اے کیا تھا، وہ سب جوتیاں چٹخا تے بیکار پھر رہے تھے۔ سوائے ایک خوش نصیب کے، جو مسلمانوں میں اول آیا تھا اور اب مسلم مڈل اسکول میں ڈرل ماسٹر لگ گیا تھا۔ 1930 کی بھیانک عالم گیر کساد بازاری اور بے روزگاری کی تباہ کاریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں تھیں۔ مانا کہ ایک روپے کے گیہوں پندرہ سیر اور اصلی گھی ایک سیر ملتا تھا، لیکن ایک روپیہ تھا کس کے پاس؟
لیکن وہ"پرسکون ماحول"پر مر مٹے۔ دھیرج گنج کانپور اور لکھنؤ کے درمیان ایک بستی تھی جو گاؤں سے بڑی اور قصبے سے چھوٹی تھی۔ اتنی چھوٹی کہ ہر شخص ایک دوسرے کے آبا و اجداد کے کرتوتوں تک سے واقف تھا۔ اور نہ صرف یہ جانتا تھا کہ ہر گھر میں جو ہانڈی چولھے پر چڑھی ہے اس میں کیا پک رہا ہے، بلکہ کس کس کے ہاں تیل میں پک رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے زندگی میں اس بری طرح دخیل تھے کہ آپ کوئی کام چھپ کر نہیں کر سکتے تھے۔ عیب کرنے کے لیے بھی ساری بستی کا ہنر اور تعاون درکار تھا۔ عرصے سے ان کی تمّنا تھی کہ قسمت نے ساتھ دیا تو ٹیچر بنیں گے۔ لوگوں کی نظر میں استاد کی بڑی عزت تھی۔ کانپور میں ان کے والد کی عمارتی لکڑی کی دکان تھی۔ مگر آبائی کاروبار کے مقابلے میں انھیں دنیا کا ہر پیشہ دلچسپ اور کم ذلیل لگتا تھا۔ بی اے کا نتیجہ نکلتے ہی والد نے ان کی تالیفِ قلب کے لیے اپنی دکان کا نام بدل کر"ایجوکیشنل ٹمبر ڈپو"رکھ دیا۔ پر طبیعت ادھر نہیں آئی۔ مارے باندھے کچھ دن دکان پر بیٹھے، مگر بڑی بے دلی کے ساتھ۔ کہتے تھے بھاؤ تاؤ کرنے میں صبح سے شام تک جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ جس دن سچ بولتا ہوں اس دن کوئی بوہنی بکری نہیں ہوتی۔ دکان میں گردا بہت اڑتا ہے اور گاہک چیخ چیخ کر گفتگو کرتے ہیں۔" ہوش سنبھالنے سے پہلے وہ انجن ڈرائیور اور ہوش سنبھالنے کے بعد اسکول ٹیچر بننا چاہتے تھے۔ کلاس روم بھی کسی سلطنت سے کم نہیں۔ استاد ہونا بھی ایک طرح کی فرماں روائی ہے۔ جبھی تو اورنگ زیب نے شاہ جہان کو ایّامِ اسیری میں بچّوں کو پڑھانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بشارت خود کو شاہ جہاں سے زیادہ خوش نصیب سمجھتے تھے۔ خصوصاً اس لیے کہ انہیں تو معاوضے میں پورے پچیس روپے بھی ملنے والے تھے۔
اس میں شک نہیں کہ اس زمانے میں معلمی کا پیشہ بہت با وقار اور با عزّت سمجھا جاتا تھا۔ زندگی اور کیریئر میں دو چیزوں کی بڑی اہمیت تھی۔ اول عزّت۔ دوم ذہنی سکون اور بے فکری۔ دنیا کے کسی اور ملک میں"عزت"پر کبھی اتنا زور نہیں رہا جتنا کہ بر صغیر میں۔ انگریزی میں تو اس مفہوم کا حامل کوئی ڈھنگ کا مترادف بھی نہیں ہے۔ چنانچہ انگریزی کے بعض صحافیوں اور نامور کہانی لکھنے والوں نے اس لفظ کو انگریزی میں جوں کا توں استعمال کیا ہے۔ آج بھی جہاں دیدہ بزرگ جب کسی کو دعا دیتے ہیں تو خواہ صحت، عافیت، کثرتِ اولاد، آسودہ حالی اور فزونیِ ایمان کا ذکر کریں یا نہ کریں، یہ دعا ضرور کرتے ہیں کہ اللہ تمہیں اور ہمیں عزّت و آبرو کے ساتھ (بالترتیب ) رکھے۔ اٹھائے۔ ملازمت کے ضمن میں بھی ہم حسنِ کارکردگی، ترقیِ درجات اور بلندی مناصب کی دعا نہیں مانگتے۔ اپنے لیے ہماری واحد دعا یہ ہوتی ہے کہ عزّت کے ساتھ سبکدوش ہوں ! یہ دعا آپ کو دنیا کے کسی اور زبان یا ملک میں نہیں ملے گی۔ سبب یہ کہ ملازمت پیشہ آدمی بے توقیری کو Professional hazard سمجھ کر قبول اور انگیز کرتا ہے۔ فیڈل عہد کی روایت، خو بو اور خواری جاتے جاتے جائے گی۔ ان دنوں ملازم خود کو نمک خوار کہتے اور سمجھتے تھے۔ ( روم میں تو عہدِ قدیم میں سپاہیوں کو تنخواہ کے بجائے نمک دیا جاتا تھا اور غلاموں کی قیمت نمک کی شکل میں ادا کی جاتی تھی۔ ) تنخواہ تقسیم کرنے والے محکمے کو بخشی خانہ کہتے تھے۔
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
اشتہار میں مولوی سیّد محمد مظفّر
نے، کہ یہی اسکول کے بانی، منتظم، مہتمم، سرپرست اور خازن و خائن کا نام تھا نے
مطلع کیا تھا کہ امیدواروں کو تحریری درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔ اپنی ڈگری اور نیک
چلنی کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ صبح آٹھ بجے اصالتاً پیش ہوں۔ بشارت کی سمجھ میں نہ
آیا کہ نیک چلنی کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ بد چلنی کا البتہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً
چالان، مچلکہ، وارنٹِ گرفتاری، مصّدقہ نقل حکم سزایابی یا "بستہ الف" جس
میں نامی بدمعاشوں کا اندراج ہوتا ہے۔ پانچ منٹ میں آدمی بد چلنی تو کرسکتا ہے، نیک
چلنی کا ثبوت فراہم نہیں کرسکتا۔ مگر ان کا تردّد بے جا تھا۔ اس لیے کہ جو حلیہ
انھوں نے بنا رکھا تھا، یعنی منڈا ہوا سر، آنکھوں میں سرمے کی تحریر، اٹنگا
پاجامہ، سر پر مخمل کی سیاہ رام پوری ٹوپی، گھر، مسجد اور محلّے میں پیر پر
کھڑاؤں۔۔۔۔۔۔ اس حلیے کے ساتھ وہ چاہتے بھی تو نیک چلنی کے سوا اور کچھ ممکن نہ
تھا۔ نیک چلنی انکی مجبوری تھی، اختیاری وصف نہیں۔ اور ان کا حلیہ اس کا ثبوت نہیں،
سائن بورڈ تھا۔
یہ وہی حلیہ تھا جو اس علاقے میں مڈل کلاس خاندانی شریف گھرانوں کے نوجوانوں کا ہوا کرتا تھا۔ خاندانی شریف سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں شریف بننے، رہنے اور کہلانے کے لیے ذاتی کوشش قطعی نہیں کرنی پڑتی تھی۔ مہرِ شرافت، جائداد اور مذکورہ بالا حلیہ نسلاً بعد نسل اس طرح ورثے میں ملتے تھے جس طرح ہما شما کوGenes اور موروثی امراض ملتے ہیں۔ عقیدے، مبلغِ علم اور حلیے کے لحاظ سے پڑپوتا اگر ہو بہو اپنا پڑ دادا معلوم ہو تو یہ خاندانی نجابت، شرافت اور اصالت کی دلیل تصور کی جاتی تھی۔ انٹرویو کے لیے بشارت نے اسی حلیے پر صیقل کر کے نوک پلک سنواری۔ اچکن دھلوائی۔ بد رنگ ہو گئی تھی لہٰذا دھوبی سے کہا ذرا کلف زیادہ لگانا۔ سرپر ابھی جمعے کو"زیرو نمبر"کی مہین مشین پھروائی تھی۔ اب استرا اور اس کے بعد آم کی گٹھلی پھروا کر آملہ کے تیل سے مالش کروائی۔ دیر تک مرچیں لگتی رہیں۔ ٹوپی پہن کر آئینہ دیکھ رہے تھے کہ اندر منڈے ہوئے سر سے پسینہ اس طرح رسنے لگا جیسے پیشانی پر"وکس"یا"بام"لگانے کے بعد جھڑتا ہے۔ ٹوپی اتارنے کے بعد پنکھا جھلا تو ایسا لگا جیسے کسی نے ہوا میں پیپر منٹ ملا دیا ہو۔ یہاں یہ اعتراف غالباً بے محل نہ ہو گا کہ ہم نے اپنا ایشیائی خول اتار کے یورپ کے رنگ ڈھنگ پہلے پہل"ننگی آنکھ"سے دیکھے تو ہمارے سارے وجود کو بالکل ایسا ہی محسوس ہوا۔ پھر بشارت نے جوتوں پر تھوک سے پالش کر کے اپنی پرسنلٹی کو فنشنگ ٹچ دیا۔ سلیکشن کمیٹی کا چیرمین تحصیل دار تھا۔ سننے میں آیا تھا کہ تقرریوں کے معاملے میں اسی کی چلتی ہے۔ پھکڑ، فقرے باز، ادب دوست، ادیب نواز، ملنسار، نڈر اور رشوت خور ہے۔ گھوڑے پر کچہری آتا ہے۔ نادم تخلص کرتا ہے۔ آدمی بلا کا ذہین اور طبیعت دار ہے۔ اسے اپنا طرف دار بنانے کے لیے بادامی کاغذ کا ایک دستہ اور چھ سات نیزے ( نرسل ) کے قلم خریدے اور راتوں رات اپنے کلام کا انتخاب یعنی ستائیس غزلوں کا گلدستہ مرتب کیا۔ مخمور تخلص کرتے تھے جو ان کے استاد جوہر الٰہ آبادی کا عطا کردہ تھا۔ اسی کی رعایت سے کلیاتِ نا تمام و بادہ خام کا نام"خمخانہ مخمور کانپوری ثم لکھنوی"رکھا۔ ( لکھنو کو ان سے صرف اتنی نسبت تھی کہ پانچ سال قبل اپنا پِتّا نکلانے کے سلسلے میں دو ہفتے وہاں کے اسپتال میں تقریباً نیم بے ہوشی کی حالت میں قیام فرمایا تھا) پھر اس میں ایک ضخیم ضمیمہ بھی شامل کر دیا۔
اس ضمیمے کا قصّہ یہ ہے کہ اپنی غزلوں اور اشعار کا انتخاب انھوں نے دل پر پتھر بلکہ پہاڑ رکھ کر کیا تھا۔ شعر کتنا ہی لغو اور کمزور کیوں نہ ہو اسے بقلم خود کاٹنا اور حذف کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا اپنی اولاد کو بد صورت کہنا یا زنبور سے اپنا ہلتا ہوا دانت خود اکھاڑنا۔ غالب تک سے یہ مجاہدہ نہ ہو سکا۔ کاٹ چھانٹ مولانا فضل حق خیرآبادی کے سپرد کر کے خود ایسے بن کے بیٹھ گئے جیسے بعض لوگ انجکشن لگواتے وقت دوسری طرف منھ پھیر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ بشارت نے اشعار قلم زد کرنے کو تو کر دیے، مگر دل نہیں مانا۔ چنانچہ آخر میں ایک ضمیمہ اپنے تمام منسوخ کلام کا شامل کر دیا۔ یہ کلام تمام تر اس دور سے تعلق رکھتا تھا جب وہ بے استادے تھے اور فریفتہ تخلص کرتے تھے۔ اس تخلص کی صفت یہ تھی کہ جس مصرعے میں بھی ڈالتے، وہ بحر سے خارج ہو جاتا۔ چنانچہ بیشتر غزلیں بغیر مقطعے کے تھیں۔ چند مقطعوں میں ضرورتِ شعری کے تحت فریفتہ کا مترادف شیدا اور دلدادہ استعمال کیا اور صراحتاً اوپر ڈوئی بھی بنا دی، مگر اس سے شعر میں کوئی اور سقم پیدا ہو گیا۔ بات دراصل یہ تھی کہ غیب سے جو مضامین خیال میں آتے تھے ان کے الہامی وفور اور طوفانی خروش کو وزن و عروض کے کوزے میں بند کرنا انسان کے بس کا کام نہ تھا۔
aisa lag raha hai jaise bhoola hua sabaq yaad kar raha hoon ek zamana pahla paddha thhaaleem
From: Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
Subject: Re: {22906} Re: دھیرگ گنج کا پہلا مشاعرہ
To: "Aijaz .Shaheen" <bazme...@googlegroups.com>
خدا بنے تھے یگانہ، خدا بنا نہ گیا
کلیات کے سر ورق کی محراب پر"اِنَ من الِشّعر لِحکمتَہ وَ اِنَ مِنَ البیَان لسّحراً"لکھا۔ اور اس کے نیچے"خمخانہ مخمور کانپوری ثم لکھنوی۔ ترتیبِ جدید۔" نیچے کی دو سطروں میں"باہتمام کیسری داس سپرنٹنڈنٹ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ میں چھپ کر شائع ہوا"لکھا۔ پھر"ہوا"کا الف مٹا کر اس کی جگہ بہت باریک خط میں"گا"اس طرح لکھا کہ پہلی نظر میں"ا"ہی دکھائی دیتا تھا۔ آخری سطر میں"پہلا ایڈیشن۔ دسمبر 1937 قیمت للعہ۔" کتاب کے نام کے نیچے اس سے دگنے جلی حروف میں اپنا نام لکھا:
" بشارت علی فاروقی کانپوری ثم لکھنوی۔ بی اے (آگرہ یونی ورسٹی)
جانشین افسر الشعرا، افصح الفصحا حضرت جوہر چغتائی الہ آبادی اعلیٰ اللہ مقامہ۔" ہمارے جن پڑھنے والوں کو اس میں غلو یا زیبِ داستان کا شائبہ نظر آئے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ 1947 تک کرشن چند ر بھی اپنے نام کے ساتھ ایم اے کا دُم چھلہ لگاتے تھے۔ اور اس کے بغیر ان کا نام بالکل ننگ دھڑنگ بلکہ کسی اور کا معلوم ہوتا تھا۔ اور ایک انھیں پر موقوف نہیں، ان سے بہت پہلے اکبر الہ آبادی کا نام ان کے مجموعوں اور رسالوں میں اس طرح چھپتا تھا:
" از لسان العصر خان بہادر اکبر حسین صاحب۔ پینشنر سشن جج، الہ آباد"
اور بشارت کے پسندیدہ شاعر یگانہ چنگیزی نے جو خود کو"امام الغزل، ابوالمعانی، یگانہ علیہ السلام"کہتے اور لکھتے تھے، اپنے دوسرے مجموعہ کلام کو اپنے ہیرو اور مرشدِ روحانی، چنگیز خاں کے نام انتہائی عقیدت سے ان الفاظ کے ساتھ معنون کیا:
" تحفہ ادب بجناب ہیبت مآب، پیغمبرِ قہر و عزاب، شہنشاہ بنی آدم سر تاج سکندر و جم، حضرت چنگیز خانِ اعظم، قہر اللہ، منجانب میرزا یگانہ چنگیزی، لکھنوی۔"
ایک سنگین غلطی البتہ نادانستہ در آئی۔ بشارت نے ساری عبارت اور القاب مع قیمت للعہ، نول کشور پریس کی ایک ٹائٹل سے من و عن نقل کیے تھے۔ روا روی میں اپنے استاد جوہر چغتائی الہ آبادی کے نام کے آگے"اعلیٰ اللہ مقامہٗ" نقل کرتے وقت یہ خیال نہ رہا کہ ابھی تو وہ حیات ہی نہیں، جواں بھی ہیں اور آخرت میں ان کے مقامات بلند ہونے میں ابھی خاصی دیر ہے۔
یگانہ نے اپنے مطبوعہ دیوان میں اپنی پسندیدگی کی مناسبت سے اشعار پر ص کے نشان بالالتزام چھپوائے تھے۔ جو اشعار زیادہ پسند آئے ان پر دو ص ص اور جن پر خود لوٹ ہو ہو جاتے تھے ان پر تین ص ص ص لگوائے، تاکہ کل کلاں کو لا پرواہ پڑھنے والا یہ نہ کہے کہ مجھے خوب، خوب تر اور خوب ترین کے فرق سے کب کسی نے آگاہی بخشی؟ بشارت نے استاد کا تتبع تو کیا، مگر اتنی سی ترمیم کے ساتھ کہ صاد کے دقیانوسی نشان کے بجائے سرخ ٹک مارک دائیں اور بائیں دونوں حاشیوں میں لگا دیے۔
دھیرج گنج کی ملازمت پر انھیں صرف ایک اعتراض تھا۔ مخمور کے آگے دھیرج گنجوی لکھنا تخلص اور تغزّل کا دہرا خون کرنے سے کم نہ تھا۔ لیکن جب ان مظلوم شاعروں پر نظر کی جو اس سے بھی زیادہ گنوارو اور کڈھب نام کے قصبوں، مثلاً پھپھوند، بہرائچ، گونڈہ، بارہ بنکی، چریا کوٹ، جالندھر، لوہارو، لدھیانہ، مچھلی شہری کے ساتھ نباہ کیے جا رہے تھے تو بقول انکے"صبر تو نہیں آیا، سمجھ آ گئی"پھر ایک دن لیٹے لیٹے دفعتاً خیال آیا کہ عظیم شاعر نظامی بھی تو اپنے تخلص کے بعد گنجوی لکھتا تھا۔ چلیے،" گنج"کی خلش دور ہو ئی۔ اللہ نے چاہا تو اسی طرح دھیرج کا کانٹا بھی دفعتاً نکل جائے گا۔
حفظِ ما تقرر کے طور پر تحصیل دار تک سفارش پہنچانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ البتہ مولوی مظفر (جو حقارت، اختصار اور پیار میں مولوی مجّن کہلاتے تھے ) کے بارے میں جس سے پوچھا اس نے ایک نیا عیب نکالا۔ ایک صاحب نے کہا: قوم کا درد رکھتا ہے، حکام رس ہے، پر کم ظرف۔ بچ کے رہنا۔ دوسرے صاحب بولے، مولی مجّن ایک یتیم خانہ، شمع الاسلام بھی چلاتا ہے۔ یتیموں سے اپنے پیر دبواتا اور اسکول کی جھاڑو دلواتا ہے۔ اور ماسٹروں کو یتیموں کی ٹولی کے ساتھ چند ہ اکھٹا کرنے کانپور اور لکھنؤ بھیجتا ہے۔ وہ بھی بِلا ٹکٹ۔ مگر اس میں شک نہیں کہ دھن کا پکّا ہے۔ مسلمانانِ دھیرج گنج کی بڑی خدمت کی ہے۔ دھیرج گنج کے جتنے بھی مسلمان آج پڑھے لکھے اور بر سرِ روزگار نظر آتے ہیں وہ سب اسی اسکول کے زینے سے اوپر چڑھے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا لگتا کہ لوگوں کو مولوی مظفر سے بغضِ للہّی ہو گیا ہے۔ بشارت کو ان سے ایک طرح کی ہمدردی ہو گئی۔ یوں بھی ماسٹر فاخر حسین نے ایک مرتبہ بڑے کام کی نصیحت کی تھی کہ کبھی اپنے کسی بزرگ یا باس یا اپنے سے کم بد معاش کی اصلاح کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ انہیں غلط راہ پر دیکھو تو تین دانا بندروں کی طرح اندھے، بہرے اور گونگے بن جاؤ۔ ٹھاٹ کرو گے۔
ایک جلے تن بزرگ جو رسالہ " زمانہ " میں کاتب تھے، فرمانے لگے " وہ چھاکٹا یہ نہیں چرکٹا بھی ہے۔ پچیس روپے کی رسید لکھوا کر پندرہ رُپلّی ہاتھ میں ٹکا دے گا۔ پہلے تمہیں جانچے گا۔ پھر آنکے گا۔ اس کے بعد تمام عمر ہانکے گا۔ اس نے دستخط کرنے اس وقت سیکھے جب چند ے کی جعلی رسیدیں کاٹنے کی ضرورت پڑی۔ ارے صاحب! سرسیّد تو اب جا کے بنا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اسے اپنے نکاح نامے پر انگوٹھا لگاتے دیکھا ہے۔ ٹھوٹھ جاہل ہے۔ مگر بَلا کا کڑھا ہوا ہے۔ گِھسا ہوا بھی ہے اور گھٹا ہوا بھی۔ ایسا ویسا چپڑ قنات نہیں ہے۔ لُقّہ بھی ہے۔ لُچہ بھی اور ٹُچّہ بھی" بزرگوار موصوف نے ایک ہی سانس میں پاجی پن کے ایسے باریک شیڈز گنوا دیے کہ جب تک آدمی ہر گالی کے بعد لغت نہ دیکھے، یا ہماری طرح عرصہ دراز تک زبان دانوں کی صحبت کے صدمے نہ اٹھائے ہوئے ہو، وہ زبان اور نالائقی کی ان نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔
سید اعجاز حسین وفا کہنے لگے " مولی مجّن پانچوں وقت ٹکریں مارتا ہے۔ گھُٹنوں، ماتھے اور ضمیر پر یہ بڑے گٹے پڑ گئے ہیں۔ تھانے دار اور تحصیل دار کو اپنے حسنِ اخلاق، اسلامی جذبۂ اخوت و مدارات اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشوت سے قابو میں کر رکھا ہے۔ دمے کا مریض ہے۔ پانچ منٹ میں دس دفعہ آستین سے ناک پونچھتا ہے۔ " دراصل انہیں آستین سے ناک پونچھنے پر اتنا اعتراض نہ تھا جتنااس پر کہ آستین کو اَستین کہتا ہے۔ یخنی کو اَخنی اور حوصلہ کو حونصلہ۔ انھوں نے اپنے کانوں سے اسے مجاز شریف اور شبرات کہتے سنا تھا۔ جہلا، دہقانیوں اور بکریوں کی طرح ہر وقت، میں، میں !، کرتا رہتا ہے۔ لکھنؤ کے شرفا انانیت سے بچنے کی غرض سے خود کو ہمیشہ " ہم" کہتے ہیں۔ اس پر ایک نحیف و لاغر بزرگ نے اضافہ فرمایا کہ ذات کا قصائی کنجڑا یا دِلّی والا معلوم ہوتا ہے۔ کس واسطے کہ تین دفعہ گلے ملتا ہے۔ اودھ میں اشراف صرف ایک مرتبہ گلے ملتے ہیں۔
یہ اودھ کے ساتھ سراسر زیادتی تھی۔ اس لیے کہ صرف ایک دفعہ گلے ملنے میں شرافت و نجابت کا غالباً اتنا دخل نہ تھا جتنا نازک مزاجی کا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ اس زمانے کے چونچلے ہیں جب نازک مزاج بیگمات خشکے اور شبنم کو آلہ خود کشی کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔ اور یہ دھمکی دیتی تھیں کہ خشکہ کھا کر اوس میں سو جاؤں گی۔ وہ تو خیر بیگمات تھیں، تانا شاہ ان سے بھی بازی لے گیا۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ گرفتار ہو کر دربار میں پا بجولاں پیش کیا گیا تو سوال یہ پیدا ہوا کہ اسے کسطرح مروایا جائے۔ درباریوں نے ایک سے ایک تجویز پیش کی ہو گی۔ مثلاً ایک درباری نے کہا کہ ایسے عیّاش کو مست ہاتھی کے پیر سے باندھ کر شہر کا گشت لگوانا چاہیے۔ دوسرا کورنش بجا کے بولا: بجا، مگر مست ہاتھی کو شہر کا گشت کون مائی کا لال لگوائے گا۔ ہاتھی گشت لگانے کے لیے تھوڑا ہی مست ہوتا ہے۔ البتہ آپ تانا شاہ کی عیاشی کی سزا ہاتھی کو دینا چاہتے ہیں تو اور بات ہے۔ اس پر تیسرا درباری بولا کہ تانا شاہ جیسے عیاش کی اس سے زیادہ اذیت ناک سزا نہیں ہو سکتی کہ اسے مخنث کر کے اسی کے حرم میں کھلا چھوڑ دیا جائے۔ ایک اور درباری نے تجویز پیش کی کہ آنکھوں میں نیل کی سلائی پھروا کر اندھا کر دو۔ پھر قلعہ گوالیار میں دوسال تک روزانہ نہار منہ پوست کا پیالہ پلاؤ تالہ اپنے کو دھیرے دھیرے مرتے ہوئے خود بھی دیکھے۔ اس پر کسی تاریخ داں نے اعتراض کیا کہ سلطان ذی شان کا تانا شاہ سے کوئی خون کا رشتہ نہیں ہے۔ یہ سلوک تو صرف سگے بھائیوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ایک شقی القلب نے کہا کہ قلعے کی فصیل سے نیچے پھینک دو۔ مگر یہ طریقہ اس بنا پر رد کر دیا گیا کہ اس کا دَم تو مارے ڈر کے رستے میں ہی نکل جائے گا۔ اگر مقصد اذیت دینا ہے تو وہ پورا نہیں ہو گا۔ بالآخر وزیر نے، جس کا باتدبیر ہونا ثابت ہو گیا، یہ مشکل حل کر دی۔ اس نے کہا کہ اگر ذہنی اذیت دے کر اور تڑپا کر مارنا ہی مقصود ہے تو اس کے پاس سے ایک گوالن گزار دو۔ جن پڑھنے والوں نے بگڑے ہوئے رئیس اور گوالن نہیں دیکھی ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مکھّن اور کچے دودھ کی بُو، ریوڑ باس میں بسے ہوئے لہنگے اور پسینے کی کھار سے سفید پڑے ہوئے سیاہ شلوکے کے ایک ہی بھبکے سے امراورؤسا کا دماغ پھٹ جاتا تھا۔ پھر انھیں ہرن کے نافے سے نکلے ہوئے مادّے کے لخلخے سنگھا کر ہوش میں لایا جاتا تھا۔
انٹرویو کی غرض سے دھیرج گنج جانے کے لیے بشارت صبح تین بجے ہی نکل کھڑے ہوئے۔ سات بجے مولوی مظفر کے گھر پہنچے تو وہ تخت پر بیٹھے جلیبیوں کا ناشتہ کر رہے تھے۔ بشارت نے اپنا نام پتہ بتایا تو کہنے لگے " آئیے آئیے ! آپ تو کان ہی پور کے ( کانپور ہی کے ) رہنے والے ہیں۔ کانپور کو گویا لکھنؤ کا آنگن کہیے۔ لکھنؤ کے لوگ تو بڑے مدمغ اور ناک والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ناشتے کے لیے جھوٹوں بھی نہیں ٹوکوں گا۔ اے ذوق تکّلف میں ہے تکلیف برابر( جی ہاں۔ انھون نے سراسر، کو، برابر، کر دیا تھا) ظاہر ہے ناشتہ تو آپ کر کے آئے ہوں گے۔ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ انجمن کے دفتر میں ایک گھنٹہ بعد ہو گی۔ وہیں ملاقات ہو گی۔ اور ہاں جس ناہنجار سے آپ نے سفارش کروائی وہ نہایت بخیل اور نا معقول آدمی ہے۔ "
اس تمام گفتگو میں زیادہ سے زیادہ دو منٹ لگے ہوں گے۔ مولوی مظفر نے بیٹھنے کو بھی نہیں کہا۔ کھڑے کھڑے ہی بھگتا دیا۔ گھر سے منھ اندھیرے چلے تھے، مولوی مظفر کو گرم جلیبی کھاتے دیکھ کر ان کی بھوک بھڑک اٹھی۔ محمد حسین آذاد کے الفاظ میں بھک نے ان کی اپنی ہی زبان میں ذائقہ پیدا کر دیا۔ گھوم پھر کر حلوائی کی دکان دریافت کی اور ڈیڑھ پاؤ جلیبیاں گھان سے اترتی ہوئی تلوائیں۔ دونے سے پہلی جلیبی اٹھائی ہی تھی کہ حلوائی کا کتّا ان کے پورے عرض کے غرارے نما لکھنؤی پاجامے کے پائنچے میں منھ ڈال کر بڑی تندہی سے لپڑ لپڑ ان کی پنڈلی چاٹنے لگا۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ، بے حس و حرکت چٹواتے رہے۔ اس لیے کہ انھوں نے کسی سے سن رکھا تھا کہ کتّا اگر پیچھا کرے یا آپ کے ہاتھ پیر چاٹنے لگے تو بھاگنا یا شور نہیں مچانا چاہیے، ورنہ وہ مشتعل ہو کر سچ مچ کاٹ کھائے گا۔ جیسے ہی انھوں نے اسے ایک جلیبی ڈالی، اس نے پنڈلی چھوڑ دی۔ اس اثنا میں انھوں نے خود بھی ایک جلیبی کھائی۔ کتّا اپنی جلیبی کٹم کرتے ہی پھر شروع ہو گیا۔ زبان بھی ٹھیک سے صاف نہیں کی۔ اب ناشتے کا یہ "پیٹرن" بنا کہ پہلے ایک جلیبی کتّے کو ڈالتے تب خود بھی ایک کھا پاتے۔ جلیبی دینے میں ذرا دیر ہو جاتی تو وہ لپک کر دوبارہ بڑی رغبت و انہماک سے پنڈلی چچوڑنے لگتا۔ شاید اس لیے کہ اس کے اندر ایک ہڈی تھی۔ لیکن اب دل سے کُتے کا خوف اس حد تک نکل چکا تھا کہ اس کی ٹھنڈی ناک سے گدگدی ہو رہی تھی۔ انہوں نے کھڑے کھڑے دو نہایت اہم فیصلے کیے۔ اول یہ کہ آئندہ کبھی جہلائے کانپور کی طرح سڑک پر کھڑے ہو کر جلیبی نہیں کھائیں گے۔ دوم، شرفائے لکھنؤ کی دیکھا دیکھی اتنے چوڑے پائینچے کا پاجامہ ہرگز نہیں پہنیں گے۔ کم از کم زندہ حالت میں۔ کتّے کو ناشتہ کروا چکے تو خالی دونا اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ شیرہ چاٹنے میں منہمک ہو گیا تو حلوائی کے پاس دوبارہ گئے۔ ایک پاؤ دودھ کلھڑ میں اپنے لیے اور ڈیڑھ پاؤ کتے کے لیے خریدا، تاکہ اسے پیتا چھوڑ کر سٹک جائیں۔ اپنے حصّے کا دودھ غٹاغٹ پی کر قصبے کی سیر کو روانہ ہونے لگے تو کتّا اپنا دودھ چھوڑ کر ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ انھیں جاتا دیکھ کر پہلے کتّے کے کان کھڑے ہوئے تھے، اب ان کے کھڑے ہوئے کہ بد ذات اب کیا چاہتا ہے۔ تین چار جگہ جہاں انھوں نے ذرا دم لینے کے لیے رفتار کم کرنے کی کوشش کی، یا اپنی مرضی سے مڑنا یا لوٹنا چاہا تو کتّا کسی طرح راضی نہ ہوا۔ ہر موڑ پر گلی کے کتّے چاروں طرف سے انہیں اور اسے گھیر لیتے اور کھدیڑتے ہوئے دوسری گلی تک لیجاتے جس کی بین الکلبی سرحد میں دوسرے تازہ دَم کتّے چارج لے لیتے۔ کتّا بڑی بے جگری سے تنہا لڑ رہا تھا۔ جب تک جنگ فیصلہ کن طریقے سے ختم نہ ہو جاتی یا کم از کم عارضی سگ بندی نہ ہو جاتی یا بصورت دیگر، دوسری گلی کے شیروں سے ازسِرنو مقابلہ شروع نہ ہوتا، وہ UNO کی طرح بیچ میں خاموش کھڑے دیکھتے رہتے۔ وہ لونڈوں کو کتوں کو پتھر مارنے سے بڑی سختی سے منع کر رہے تھے۔ اس لیے کہ سارے پتھر انھی کو لگ رہے تھے۔ وہ کتّا دوسرے کتّوں کو ان کی طرف بڑھنے نہیں دیتا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ان کی اخلاقی ہمدردیاں بھی اب اپنے ہی کتّے کے ساتھ ہو گئیں تھیں۔ دو فرلانگ پہلے جب وہ چلے تھے تو وہ محض ایک کتّا تھا۔ مگر اب رشتہ بدل چکا تھا۔ وہ اس کے لیے کوئی اچھا سا نام سوچنے لگے۔
انھیں آج پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ گاؤں میں اجنبی کی آمد کا اعلان کتّے، مور اور بچے کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سارے گاؤں اور ہر گھر کا مہمان بن جاتا ہے۔
انھیں یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ حلوائی اور بچے اس کتّے کو ٹیپو! ٹیپو! کہہ کر بلا اور دھتکار رہے تھے۔ سرنگا پٹم کی خون آشام جنگ میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے کثرت سے کتّوں کا نام ٹیپو رکھنا شروع کر دیا تھا۔ اور ایک زمانے میں یہ نام شمالی ہندوستان میں اتنا عام ہوا کہ خود ہندوستانی بھی آوارہ اور بے نام کتّوں کو ٹیپو کہہ کر بلاتے اور ہشکارتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جانے بغیر کہ کتّوں کا یہ نام کیسے پڑا۔ باستثنائے نپولین اور ٹیپو سلطان، انگریزوں نے ایسا سلوک اپنے کسی اور دشمن کے ساتھ روا نہیں رکھا۔ اس لیے کہ کسی اور دشمن کی ان کے دل میں ایسی ہیبت اور دہشت کبھی نہیں بیٹھی تھی۔ بر صغیر کے کتے سو سال تک سلطان شہید کے نام سے پکارے جاتے رہے۔ کچھ برگزیدہ شہید ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی آزمائش، عقوبتِ مطہرہ اور شہادتِ عظمیٰ ان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ ربِ جلیل انہیں شہادتِ جاریہ کی سعادت سے سرفراز فرماتا ہے۔
حالانکہ ان کا اپنا گھر پختہ اور اسکول نیم پختہ تھا، لیکن مولوی مظفر نے اپنی دیانت اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی سادگی کا نمونہ پیش کرنے کے غرض سے اپنا دفتر ایک کچے ٹن پوش مکان میں بنا رکھا تھا۔ سلیکشن کمیٹی کا اجلاس اسی جگہ ہونے والا تھا۔ بشارت سمیت کل تین امیدوار تھے۔ باہر دروازے کے بائیں طرف ایک بلیک بورڈ پر چاک سے یہ ہدایات مرقوم تھیں (1) امیدوار اپنی باری کا انتظار صبر و تحمل سے کریں (2) امیدواروں کو سفر خرچ اور بھتہ ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ ظہر کی نماز کے بعد ان کے طعام کا انتظام یتیم خانہ شمع الاسلام میں کیا گیا ہے (3) انٹرویو کے وقت امیدوار کو مبلغ ایک روپے چند ے کی یتیم خانے کی رسید پیش کرنا ہو گی(4) امیدوار حضرات براہِ کرم اپنی بیڑی بجھا کر اندر داخل ہوں۔"
بشارت جب انتظار گاہ یعنی نیم کی چھاؤں تلے پہنچے تو کتا ان کی جلو میں تھا۔ انھوں نے اشاروں کنایوں سے کئی بار اس سے رخصت چاہی مگر وہ کسی طور ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ نیم کے نیچے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گئے تو وہ بھی ان کے قدموں میں آن بیٹھا۔ نہایت مناسب وقفوں سے دُم ہلا ہلا کر انہیں ممنون نگاہوں سے ٹکر ٹکر دیکھ رہا تھا۔ اس کا یہ انداز انھیں بہت اچھا لگا اور اس کی موجودگی سے انھیں کچھ تقویت سی محسوس ہونے لگی۔ نیم کے سائے میں ایک امیدوار جو خود کو الہ آباد کا L.T بتاتا تھا، اُکڑوں بیٹھا تنکے سے ریت پر ایک تکسیر یعنی 20 کا مبارک نقش بنا رہا تھا، جس کے خانوں کے عدد کسی طرف سے بھی گنے جائیں، حاصل جمع 20 بنتا تھا۔ تسخیرِزن اور افسر کو رام کرنے کے لیے یہ نقش تیر بہدف سمجھا جاتا تھا۔ کان کے پیچ و خم میں جو سوالیہ نشان کے اندر ایک اور سوالیہ نشان بنا ہوتا ہے، ان دونوں کی درمیانی گھائی میں اس نے عطرخس کا پھویا اُڑس رکھا تھا۔" زلفِ بنگال ہیئر آئل"سے کی ہوئی سینچائی کے ریلے جو سر کی فوری ضروریات سے زائد تھے، پیشانی پر بہ رہے تھے۔ دوسرا امیدوار جو کالپی سے آیا تھا، خود کو علی گڑھ کا بی اے، بی ٹی بتلاتا تھا۔ دھوپ کی عینک تو سمجھ میں آتی تھی، لیکن اس نے گلے میں سلک کا سرخ اسکارف بھی باندھ رکھا تھا، جس کا اس چلچلاتی دھوپ میں بظاہر یہی مصرف نظر آتا تھا کہ چہرے سے ٹپکا ہوا پسینا محفوظ کر لے۔ اگر اس کا وزن سو پونڈ کم ہوتا تو وہ سوٹ جو وہ پہن کر آیا تھا، بالکل فِٹ آتا۔ قمیض کے دو نیچے کے بٹن اور پتلون کے دو اوپر والے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ صرف سولر ہیٹ صحیح سائز کا تھا۔ فیروزے کی انگوٹھی بھی غالباً تنگ ہو گئی تھی، اس لیے کہ انٹرویو کے لیے آواز پڑی تو اس نے جیب سے نکال کر چھنگلیا میں پہن لی۔ جوتے کے تسمے جنہیں وہ کھڑے ہونے کے بعد دیکھ نہیں سکتا تھا، کھلے ہوئے تھے۔ کہتا تھا گول کیپر رہ چکا ہوں۔ اس تن و توش کے باوجود خود کو نیم کے دو شاخے میں اس طرح فٹ کیا تھا کہ دور سے ایک V نظر آتا تھا جس کی ایک نوک پر جوتے اور دوسری پر ہیٹ رکھا تھا۔ یہ صاحب اوپر ٹنگے ٹنگے ہی گفتگو میں حصہ لے رہے تھے۔ اور وہیں سے پیک کی پچکاریاں اور پاسنگ شو سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا بجا کر جھاڑ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بشارت کے پاس ایک جنگم فقیرآن بیٹھا۔ اپنا سونٹا ان کے ماتھے پر رکھ کر کہنے لگا۔ " قسمت کا حال بتاتا ہوں پاؤں کے تلوے دیکھ کر۔ ابے جوتے اتار۔ نہیں تو سالے کو یہیں بھسم کر دوں گا۔ " انھوں نے اسے پاگل سمجھ کر منھ پھیر لیا، لیکن جب اس نے نرم لہجے میں کہا " بچہ! تیرے پیڑو پہ تِل اور سیدھی بغل میں مَسّا ہے۔ " تو انھوں نے خوفزدہ ہو کر جوتے اتار دیے، اس لیے کہ اس نے بالکل صحیح نشاندہی کی تھی۔ ذرا دور پر ایک بَڑ کے درخت کے نیچے تیسری جماعت کے لڑکے ڈرل کر رہے تھے۔ اس وقت ان سے ڈنڑ لگوائے جا رہے تھے۔ پہلے ہی ڈنڑ میں " ہوں !" کہتے ہوئے سر نیچے لے جانے کے بعد صرف دو لڑکے ہتھیلیوں کے بل اٹھ پائے۔ باقی ماندہ وہیں دھول میں چھپکلی کی طرح پٹ پڑے رہ گئے۔ اور گردن موڑ موڑ کر بڑی بے چارگی سے ڈرل ماسٹر کو دیکھ رہے تھے، جو انھیں طعنے دے رہا تھا کہ تمہاری ماؤں نے تمہیں کیسا دودھ پلایا ہے ؟
دروازے پر سرکنڈوں کی چق پڑی تھی جس کا نچلا حصہ جھڑ چکا تھا۔ سُتلی کی لڑیاں لٹکی رہ گئی تھیں۔ سب سے پہلے علیگ امیدوار کو اس طرح آواز پڑی جیسے عدالت میں فریقینِ مقدمہ کے نام مع ولدیت پکارے جاتے ہیں۔ پکارنے کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا گویا سو دو سو امیدوار ہیں جو ڈیڑھ دو میل دور کہیں بیٹھے ہیں۔ امیدوار مذکور نیم کی غلیل سے دھم سے کود کر سولر ہیٹ سمیت دروازے میں داخل ہونے والا تھا کہ چپراسی نے راستہ روک لیا۔ اس نے یتیم خانے کی رسید طلب کی اور پاسنگ شو کی ڈبیا جس میں ابھی دو سگریٹ باقی تھے بصیغہ خراج دَھر والی۔ پھر جوتے اتروا کر بحالتِ رکوع اندر لے گیا۔ پچاس منٹ بعد دونوں باہر نکلے۔ چپراسی نے دروازے کے پاس رکھی ہوئی چوبی گھوڑی میں معلق گھنٹے کو ایک دفعہ بجایا جس کا مقصد اہالیانِ قصبہ اور امیدواروں کو مطلع کرنا تھا کہ پہلا انٹرویو ختم ہوا۔ باہر کھڑے ہوئے لڑکوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ اس کے بعد الہ آبادی امیدوار کا نام پکارا گیا اور وہ بیس کا نقش مٹا کر لپک جھپک اندر چلا گیا۔ پچاس منٹ بعد پھر چپراسی نے باہر آ کر گھنٹے پر دوبارہ اتنے زور سے ضرب لگائی کہ قصبے کے تمام مور چنگھاڑنے لگے۔ ہر انٹرویو کا دورانیہ وہی تھا جو اسکول کے گھنٹوں کا۔ چپراسی نے آنکھ مار کر بشارت کو اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
[1] جنگم فقیر: جس کے سر پر جٹائیں، ہاتھ میں سونٹا اور پاؤں میں زنجیر ہوتی تھی۔ ہاتھ میں ایک گھنٹی ہوتی تھی، جسے بجاتا پھرتا تھا۔
بشارت انٹرویو کے لیے اندر داخل ہوئے تو کچھ دیر تک تو کچھ نظر نہ آیا، اس لیے کہ بجز ایک گول موکھے کے، روشنی آنے کے لیےکوئی کھڑکی یا روشندان نہیں تھا۔ پھر دھیرے دھیرے اسی اندھیرے میں ہر چیز کی آؤٹ لائن اُبھرتی، اُجلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ دیواروں پر کہگل یعنی پیلی مٹی اور گوبر کی تازہ لپائی میں مضبوطی اور گرفت کے لیے جو کڑبی کی چھیلن اور توڑی کے تنکے ڈالے گئے تھے ان کا قدرتی سنہری وارنش اندھیرے میں چمکنے لگا۔ دائیں طرف نیم تاریک کونے میں دو بٹن روشن نظر آئے۔ وہ چل کر ان کی طرف آنے لگے تو انہیں خوف محسوس ہوا۔
یہ اس بلّی کی آنکھیں تھیں جو کسی اَن دیکھے چوہے کی تلاش میں تھی۔ بائیں طرف ایک چار فُٹ اونچی مچان نُما کھاٹ پڑی تھی جس کے پائے غالباً درختوں کے سالم تنے سے بنائے گئے تھے۔ بسولے سے چھال اتارنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی تھی۔ اس پر سلیکشن کمیٹی کے تین ممبر ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے۔ اس کے پاس ہی ایک اور ممبر بغیر پشت کے مونڈھے پر بیٹھے تھے۔ دروازے کی طرف پشت کیے مولوی مظفر ایک ٹیکی دار مونڈھے پر براجمان تھے، جس کے ہتھوں کی پیڈنگ نکلنے کے بعد سر کنڈے ننگے سر کھڑے رہ گئے تھے۔ ایک بغیر بازو والی لوہے کی کرسی پر ایک نہایت خوش مزاج شخص الٹا بیٹھا تھا۔ یعنی اس کی پشت سے اپنا سینہ ملائے اور کنارے پر اپنی ٹھوڑی رکھے ہوئے۔ اس کا رنگ اتنا سانولا تھا کہ اندھیرے میں صرف دانت نظر آ رہے تھے۔ یہ تحصیلدار تھا جو اس کمیٹی کا چیئرمین تھا۔ ایک ممبر نے اپنی تُرکی ٹوپی کھاٹ کے پائے کو پہنا رکھی تھی۔ کچھ دیر بعد جب بلّی اس کے پھُندنے سے طمانچے مار مار کے کھیلنے لگی تو اس نے پائے سے اتار کر اپنے سر پر رکھ لی۔ سب کے ہاتھ میں کھجور کے پنکھے تھے۔ مولی مجّن پنکھے کی ڈنڈی گردن کے راستے شیروانی میں اتار کر بار بار اپنی پیٹھ کھجانے کے بعد ڈنڈی کی نوک کو سُونگھتے تھے۔ تحصیل دار کے ہاتھ میں جو پنکھا تھا اس میں سرخ گوٹ اور درمیان میں چھوٹا سا آئینہ لگا ہوا تھا۔ امیدوار کے بیٹھنے کے لیے ایک اسٹول، جس کے وسط میں گُردے کی شکل کا ایک سوراخ تھا جو اس زمانے میں سب اسٹولوں میں ہوتا تھا۔ اس کا مصرف ایک عرصے تک ہماری سمجھ میں نہ آیا۔ بعض لو گ گرمیوں میں اس پر صراحی یا ٹھلیا رکھ دیتے تھے تاکہ سوراخ سے پانی رِستا رہے اور پیندے کو ٹھنڈی ہوا لگتی رہے۔ بشارت آخر وقت تک یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ وہ خود نروس ہیں یا اسٹول لڑکھڑا رہا ہے۔ تحصیل دار پیڑے کی لسی پی رہا تھا اور بقیہ ممبران حقہ۔ سب نے جوتے اتار رکھے تھے۔ بشارت کو اگر یہ علم ہوتا تو یقیناً صاف موزے پہن کر آتے۔ مونڈھے پر بیٹھا ہوا ممبر اپنے بائیں پیر کو دائیں گھٹنے پر رکھے، ہاتھ کی انگلیوں سے پاؤں کی انگلیوں کے ساتھ پنجہ لڑا رہا تھا۔ بدقلعی اگالدان گردش میں تھا۔ ہوا میں حقے، پان کے بنارسی تمباکو، کونے میں پڑے ہوئے خربوزے کے چھلکوں، عطرِخس اور گوبر کی تازہ لپائی کی بو بسی ہوئی تھی۔۔۔ اور ان سب پر غالب وہ بھبکا جس کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ دیسی جوتوں کی بو ہے جو پیروں سے آ رہی ہے یا پیروں کی سڑاند ہے جو جوتوں سے آ رہی ہے۔
جس موکھے کا ہم ذکر کر چکے ہیں اس کے بارے میں فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ وہ روشنی کے لیے بنایا گیا ہے یا اندر کی تاریکی کو contrast (تضاد، تقابل) سے اور زیادہ تاریک دکھانا مقصود ہے۔ باہر کا منظر دیکھنے کے لیے روزن ہے یا بہر والوں کو اندر تانک جھانک کرنے کے لیے جھانکی مہیا کی گئی ہے۔ روشندان، ہوادان، دودکش، دریچہ، پورٹ ہول۔۔ بقول بشارت یہ ایشیا کا سب سے کثیر المقاصد سوراخ تھا جو بے حد overworked اور چکرایا ہوا تھا۔ چنانچہ ان میں سے کوئی سا فریضہ بھی ٹھیک سے انجام نہیں دے پا رہا تھا۔ فی الوقت اس میں ہر پانچ منٹ میں ایک نیا چہرہ فٹ ہو جاتا تھا۔ ہو یہ رہا تھا کہ باہر دیوار تلے ایک لڑکا گھوڑا بنتا اور دوسرا اس پر کھڑے ہو کر اس وقت تک اندر ک اتماشہ دیکھتا رہتا جب تک گھڑے کے پیر نہ لڑکھڑانے لگتے اور وہ کمر کو کمانی کی طرح لچکا لچکا کے یہ مطالبہ نہ کرنے لگتا کہ یار! اُتر مجھے بھی تو دیکھنے دے۔ گاہے گاہے یہ موکھا آکسیجن اور گالیوں کی رہگزر کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مولی مجّن دمے کے مریض تھے۔ جب کھانسی کا دورہ پڑتا اور ایسا لگتا کہ شاید دوسرا سانس نہیں آئے گا وہ دوڑ کر آکسیجن کے لیے موکھے میں اپنا منھ فٹ کر دیتے اور جب سانس کی آمد و شد بحال ہو جاتی تو قرات سے الحمد للہ کہنے کے بعد لونڈوں کو سڑی سڑی گالیاں دیتے۔ تھوڑی دیر بعد دھوپ کا رُخ بدلا تو سورج کا ایک چکا چوند لپکتا نیزہ اس روزن سے داخل ہو کر کمرے کی تاریکی کو چیرتا چلا گیا۔ اس میں دھوئیں کے بل کھاتے مرغولوں اور ذروں کا ناچ دیدنی تھا۔ بائیں دیوار کے طاق میں دینیات کے طلبہ کے ہاتھ کے بنائے ہوئے استنجے کے نہایت سڈول ڈھیلے قرینے سے تلے اوپر سجے تھے، جن پر اگر مکھیاں بیٹھی ہوتیں تو بالکل بدایوں کے پیڑے معلوم ہوتے۔
دائیں دیوار پر شہنشاہ جارج پنجم کے فوٹو پر گیندے کا سُوکھا کھڑنک ہار لٹک رہا تھا۔ اس کے نیچے مصطفیٰ کمال پاشا کا فوٹو اور مولانا محمد علی کی تصویر جس میں وہ چغہ پہنے اور سُموری ٹوپی پر چاند تارا لگائے کھڑے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان مولی مجّن کا بڑا سا فوٹو اور اس کے نیچے فریم کیا ہوا سپاس نامہ جو اساتذہ اور چپراسیوں نے ان کی خدمت میں ہیضے سے جانبر ہونے کی خوشی میں درازی عمر کی دعاؤں کے ساتھ پیش کیا تھا۔ ان کی تنخواہ پانچ مہینے سے رکی ہوئی تھی۔
ہم یہ بتانا تو بھول ہی گئے کہ جب بشارت انٹرویو کے لیے اٹھ کر جانے لگے تو کتّا بھی ساتھ لگ لیا۔ انھوں نے بہتیرا روکا مگر وہ نہ مانا۔ چپراسی نے کہا، آپ اس پلید کو اندر نہیں لے جا سکتے۔ بشارت نے جواب دیا یہ میرا کتّا نہیں ہے۔ چپراسی بولا تو پھر آپ اسے دو گھنٹے سے آغوش میں لیے کیوں بیٹھے تھے ؟ اس نے ایک ڈھیلا اٹھا کر رسید کرنا چاہا تو کتے نے جھٹ پنڈلی پکڑ لی۔ اور وہ چیخنے لگا۔ بشارت کے منع کرنے پر اس نے فوراً پنڈلی چھوڑ دی۔ شکریہ ادا کرنے کے بجائے چپراسی کہنے لگا، اس پر آپ کہتے ہیں کہ کتّا میرا نہیں ہے ! جب وہ اندر داخل ہوئے تو کتا بھی ان کے ساتھ گھس گیا۔ روکنا تو بڑی بات ہے اب چپراسی میں اتنا حوصلہ نہیں رہا تھا کہ ٹوک بھی سکے۔ اس کے اندر گھُستے ہی ایک بھونچال آ گیا۔ ممبرانِ کمیٹی نے چیخ چیخ کر چھپر سر پر اٹھا لیا۔ لیکن جب کتا ان سے بھی زیادہ زور سے بھونکا تو سب سہم کر اپنی اپنی پنڈلی گود میں لے کر بیٹھ گئے۔ بشارت نے کہا کہ اگر آپ لوگ خاموش و ساکت ہو جائیں تو یہ بھی چپکا ہو جائے گا۔ اس پر ایک صاحب بولے کہ آپ انٹرویو میں کتّا ساتھ لے کر کیوں آئے ہیں ؟ بشارت نے قسم کھا کر کتے سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا تو وہی صاحب بولے اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ یہ کتّا آپ کا نہیں ہے تو آپ اس کی عادات قبیحہ سے اس درجہ کیوں کر واقف ہیں ؟
بشارت انٹرویو کے لیے اپنی نشست پر بیٹھ گئے تو کتّا ان کے پیروں سے لگ کر بیٹھ گیا۔ ان کا جی چاہا کہ وہ یونہی بیٹھا رہے۔ اس کی وجہ سے اب وہ نروس محسوس نہیں کر رہے تھے۔ انٹرویو کے دوران دو مرتبہ مولی مجّن نے بشارت کی کسی بات پر بڑی حقارت سے زور دار قہقہہ لگایا تو کتّا ان سے بھی زیادہ زور سے بھونکنے لگا اور وہ سہم کر اپنا قہقہہ بیچ میں ہی سوئچ آف کر کے چپکے بیٹھ گئے۔ بشارت کو کتّے پر بے تحاشہ پیار آیا۔
انٹرویو سے پہلے تحصیل دار نے گلا صاف کر کے سب کو خاموش کیا تو ایسا سناٹا طاری ہوا کہ دیوار پر لٹکے ہوئے کلاک کی ٹک ٹک اور مولوی مظفّر کے ہانپنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ پھر انٹرویو شروع ہوا اور سوالوں کی بوچھار۔ اتنے میں کلاک نے گیارہ بجائے اور سب دوبارہ بالکل خاموش ہو گئے۔ دَھیرج گنج میں کچھ عرصے رہنے کے بعد بشارت کو معلوم ہوا کہ جب کلاک کچھ بجاتا ہے تو دیہات کے آداب کے مطابق سب خاموش ہو کر سنتے ہیں کہ غلط تو نہیں بجا رہا۔
انٹرویو دوبارہ شروع ہوا تو جس شخص کو وہ چپراسی سمجھتے تھے وہ کھاٹ کی اَدواین پر آ کر بیٹھ گیا۔ وہ دینیات کا ماسٹر نکلا جو ان دنوں اردو ٹیچر کے فرائض بھی انجام دے رہا تھا۔ انٹرویو میں سب سے زیادہ دھر پٹخ اسی نے کی، گو کہ مولوی مظفّر اور ایک ممبر نے بھی جو عدالت منصفی کے ریٹائرڈ سرشتہ دار تھے، اینڈے بینڈے سوال کیے۔ تحصیل دار نے البتہ درپردہ مدد اور طرف داری کی اور سفارش کی لاج رکھ لی۔ چند سوالات ہم نقل کرتے ہیں جن سے سوال کرنے والے اور جواب دینے والے دونوں کی قابلیت کا اندازہ ہو جائے گا۔
مولوی مظفّر: ("کلیاتِ مخمور"پر چمکارنے کے انداز سے ہاتھ پھیرتے ہوئے ) شعر کہنے کے فوائد بیان کیجیے۔
بشارت: (چہرہ پر ایسا ایکسپریشن گویا آؤٹ آف کورس سوال پوچھ لیا) شاعری... میرا مطلب ہے۔ شعر... یعنی اس کا گویا مقصد... تلامیذ الرحمٰن... بات دراصل یہ کہ شوقیہ...
مولوی مظفّر: اچھا ! خالق باری"کا کوئی شعر سنائیے۔
بشارت:
خالق باری سر جن ہار
واحد ایک بِدا کرتار
سرشتہ دار: آپ کے والد، دادا اور نانا کس محکمے میں ملازم تھے ؟
بشارت: انھوں نے ملازمت نہیں کی۔
سرشتہ دار: پھر آپ کیسے ملازمت کرسکیں گے ؟ چار پشتیں یکے بعد دیگرے اپنا پتّا ماریں، تب کہیں ملازمت کے لائق جوہرِ قابل پیدا ہوتا ہے۔
بشارت: (سادہ لوحی سے ) جناب عالی! میرا پتِّا آپریشن کے ذریعے نکالا جا چکا ہے۔
دینیات ٹیچر: شگاف دکھائیے۔
تحصیل دار: آپ نے کبھی بید استعمال کیا ہے ؟
بشارت: جی نہیں۔
تحصیل دار: آپ پر کبھی بید استعمال ہوا ہے ؟
بشارت: بار ہا۔
تحصیل دار: آپ یقیناً ڈسپلن قائم رکھ سکیں گے۔
سرشتہ دار: اچھا یہ بتائیے، دنیا گول کیوں بنائی گئی ہے ؟
بشارت: (سرشتہ دار کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے چاروں خانے چت ہونے کے بعد پہلوان اپنے حریف کو دیکھتا ہے )
تحصیل دار : سرشتہ دار صاحب، انھوں نے اردو ٹیچری کی درخواست دی ہے۔ جغرافیہ والوں کے انٹرویو جمعرات کو ہیں۔
دینیات ٹیچر: بلیک بورڈ پر اپنی خوشخطی کا نمونہ لکھ کر دکھائیے۔
سرشتہ دار: داڑھی پر آپ کو کیا اعتراض ہے ؟
بشارت: کچھ نہیں۔
سرشتہ دار: پھر رکھتے کیوں نہیں ؟
دینیات ٹیچر: آپ کو چچا سے زیادہ محبت ہے یا ماموں سے ؟
بشارت: کبھی غور نہیں کیا۔
دینیات ٹیچر: اب کر لیجیے۔
بشارت: میرے کوئی چچا نہیں ہیں۔
دینیات ٹیچر: آپ کو نماز آتی ہے ؟ اپنے والد کی نمازِ جنازہ پڑھ کر دکھائیے۔
بشارت: وہ حیات ہیں !
دینیات ٹیچر: لاحول ولا قوۃِ میں نے تو بُشرے پر قیاس کیا تھا۔ تو پھر اپنے دادا کی پڑھ کر دکھائیے۔ یا آپ ابھی ان کے سائے سے بھی محروم نہیں ہوئے ؟
بشارت: (مری آواز میں ) جی، ہو گیا۔
مولوی مظفّر: مسّدس حالی کا کوئی بند سنائیے۔
بشارت: مسّدس کا تو کوئی بند اس وقت یاد نہیں آ رہا۔ حالی ہی کی "مناجاتِ بیوہ" کے چند اشعار پیش کرتا ہوں[1]
تحصیل دار: اچھا، اب کوئی اپنا پسندیدہ شعر سنائیے، جس کا موضوع بیوہ نہ ہو۔
بشارت:
توڑ ڈالے جوڑسارے باندھ کر بندِ کفن
گور کی بغلی سے چت ہیں پہلواں، کچھ بھی نہیں
تحصیل دار: کس کا شعر ہے ؟
بشارت: زبان کا شعر ہے۔
تحصیل دار: اے سبحان اللہ! قربان جائیے۔ کیسی کیسی لفظی رعایتیں اور قیامت کے تلازمے باندھے ہیں ! توڑ کی ٹکر پہ جوڑ۔ ایک طرف باندھا ہے تو دوسری طرف بند۔ واہ وا! اس کے بعد بغلی قبر اور بغلی داؤ کی طرف لطیف اشارہ۔ پھر بغلی داؤ سے پہلوان کا چت ہونا۔ اخیر میں چت پہلوان اور چت مردہ اور کچھ بھی نہیں، کہہ کر دنیا کی بے ثباتی کو تین لفظوں میں بھُگتا دیا۔ ڈھیر سارے صنائع بدائع کو ایک شعر کے کوزے میں بند کر دینا اعجاز نہیں تو اور کیا ہے۔ ایسا ٹھُکا ہوا، اتنا پختہ اور اتنا خراب شعر کوئی استاد ہی کہہ سکتا ہے۔
مولوی مظفر: آپ سادگی پسند کرتے ہیں یا عیش و عشرت؟
بشارت: سادگی۔
مولوی مظفّر: شادی شدہ ہیں یا چھڑے دم؟
بشارت: جی۔ غیر شادی شدہ ہوں۔
مولوی مظفّر: پھر آپ اتنی ساری تنخواہ کا کیا کریں گے ؟ یتیم خانے کو ماہوار کتنا چند ہ دیں گے ؟
تحصیل دار: آپ نے شاعری کب شروع کی؟ اپنا پہلا شعر سنائیے ؟
بشارت: ہے انتظارِ دید میں لاشہ اچھل رہا
حالانکہ کوئے یار ابھی اتنی دور ہے
تحصیل دار: واہ وا! " حالانکہ" کا جواب نہیں۔ واللہ! اَوسراُفتادہ زمین میں " لاشہ" نے جان ڈال دی۔ اور "اتنی دور" میں کچھ نہ کہہ کر کتنا کچھ کہہ دیا۔
بشارت: آداب بجا لاتا ہوں !
تحصیل دار: چھوٹی بحر میں کیا قیامت شعر نکالا ہے۔ شعر میں کفایتِ الفاظ کے علاوہ خست خیال بھی پائی جاتی ہے۔
بشارت: آداب!
تحصیل دار: ( کتّا بھونکنے لگتا ہے ) معاف کیجیے، میں آپ کے کتّے کے بھونکنے میں مخل ہو رہا ہوں۔ یہ بتائیے کہ زندگی میں آپ کی کیا ambition ہے ؟
بشارت: یہ ملازمت مل جائے۔
تحصیل دار: تو سمجھیے مل گئی۔ کل صبح اپنا اسباب، برتن بھانڈے لے آئیے گا۔ ساڑھے گیارہ بجے مجھے آپ کی Joining Report مل جانی چاہیے۔ تنخواہ آپ کی چالیس روپے ماہوار ہو گی۔
مولوی مظفّر چیختے اور پیر پٹختے ہی رہ گئے کہ سنیے تو! گریڈ پچیس روپے کا ہے۔ تحصیل دار نے انہیں جھڑک کر خاموش کر دیا۔ اور فائل پر انگریزی میں یہ نوٹ لکھا کہ اس امیدوار میں وہ تمام اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں جو کسی بھی لائق اور ambitious نوجوان کو ایک کامیاب پٹواری یا کلاس ٹیچر بناسکتے ہیں، بشرطیکہ مناسب نگرانی اور رہنمائی میسر آ جائے۔ عدیم الفرصتی کے باوجود میں اسے اپنا کچھ وقت اور توجہ دینے کو تیار ہوں۔ ابتدا میں، میں نے اسے 100 میں سے 80 نمبر دیے تھے، مگر بعد میں پانچ نمبر خوش خطی کے بڑھائے۔ لیکن پانچ نمبر شاعری کے کاٹنے پڑے۔
[1] یہ جواب سن کر کھاٹ پر بیٹھے ہوئے ممبران معنی خیز انداز میں مسکراتے ہیں۔ تحصیل دار بشارت کو آنکھ مارتا ہے۔ مولوی مجن کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا ہے۔ سبب؟ کچھ عرصے پہلے مولوی مجن نے حساب کے ٹیچر کی بیوہ بہن سے دوسری شادی رچائی تھی اور سالے کی تنخواہ میں چار روپے کا اضافہ کیا تھا، جس سے ان سینئر ٹیچروں کی بڑی حق تلفی ہوئی تھی جن کی کوئی بیوہ بہن نہیں تھی۔ قصبے میں ان کے نکاحِ صغیرہ و کبیرہ اور سالے کی ترقی کے بڑے چرچے تھے۔ لیکن سالا چار روپے سے مطمئن نہیں تھا۔ ہر وقت شاکی ہی رہتا اور بار بار طعنے دیتا تھا:
ہم سے کب پیار ہے، ہمشیر تمہیں پیاری ہے
بشارت نے دوپہر کا کھانا یتیم خانے کے بجائے مولوی بادل (عباد اللہ) کے ہاں کھایا جو اسی اسکول میں فارسی پڑھاتے تھے۔ مکھن سے چپڑی ہوئی گرم روٹی اور آلو کا بھُرتا اور لہسن کی چٹنی مزہ دے گئی۔ مولوی بادل نے اپنی شفقت اور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ برخور دار! میں تمہیں کھُونتے کو رفو کرنا، آٹا گوندھنا اور ہر طرح کا سالن پکانا سکھا دوں گا۔ بخدا! بیوی کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو گی۔ سرِ دست انہوں نے مُولی کی بھجیا بنانے کی جو ترکیب بتائی وہ خاصی پیچیدہ اور پُر خطر تھی۔ اس لیے کہ اس کی ابتدا مولی کے کھیت میں پو پھٹنے سے پہلے جانے سے ہوتی تھی۔ انھوں نے ہدایت کی کہ دیہات کے آداب کے خلاف، لہلہاتے کھیت میں علی الصبح منھ اٹھائے نہ گھس جاؤ، بلکہ مینڈھ پر پہلے اس طرح کھانسو کھنکھارو جیسے بے کواڑ یا ٹاٹ کے پردے والے بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے کھنکھارتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہدایت کہ ٹخنے سے ایک بالشت اونچا لہنگا اور ہنسلی سے دو بالشت نیچی چولی پہننے والی کھیت کی مالکن دھاپاں سے تازہ گدرائی ہوئی مولی کا محلِ وقوع اور اسے توڑنے کی اجازت کس طرح لی جائے کہ نظر دیدنی پر نہ پڑے۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ چمگادڑ سبزیاں مقوی اور کاسِر ریاح ہوتی ہیں۔ اس سے ان کی مراد وہ پودے تھے جو اپنے پیر آسمان کی طرف کیے رہتے ہیں۔ مثلاً گاجر، گوبھی، شلغم۔ پھر انھوں نے پتے دیکھ کر یہ پہچاننا بتایا کہ کون سی مُولی کھاری، پھپھس نکلے گی اور کون سی جڑیلی اور مچھیل۔ ایسی تیزابی کہ کھانے والا کھاتے وقت منہ پیٹ لے اور کھانے کے بعد پیٹ پیٹتا پھرے۔ اور کوئی ایسی سڈول، چکنی اور میٹھی کہ بے تحاشا جی چاہے کہ گز بھر کی ہوتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کبھی غلطی سے تیزابی مولی اکھاڑ لو تو پھینکو مت۔ اس کا عرق نکال کے اونٹ کی کھال کی کُپّی میں محفوظ کر لو۔ چالیس دن بعد جہاں داد یا ایگزیما ہو وہاں پھریری سے لگاؤ۔ اللہ نے چاہا تو جلد ایسی نکل آئے گی جیسے نوزائیدہ بچے کی! کچھ عرصے بعد جیسے ہی بشارت نے اپنے ماموں کے ایگزیما کی پھنسیوں پر اس عرق کی پھریری پھیری تو بزرگوار بالکل نو زائدہ بچّے کی طرح چیخیں مارنے لگے۔
بشارت انٹرویو سے فارغ ہو کر با مراد شام کو نکلے تو کتّا ان کے ساتھ نتھی تھا۔ انھوں نے حلوائی سے تین پوریاں اور ربڑی خرید کر اسے کھلائی۔ وہ ان کے ساتھ لگا لگا مولوی بادل کے ہاں بھی گیا۔ انٹرویو میں آج جو معجزہ ان کے ساتھ ہوا، اسے انھوں نے اسی کے دَم قدم کا ظہورا سمجھا۔ کانپور واپس جانے کے لیے وہ لاری میں سوار ہونے آئے تو وہ ان سے پہلے چھلانگ لگا کر اس میں گھس گیا جس سے مسافروں میں کھلبلی اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔ کلینر اسے انجن اسٹارٹ کرنے والے ہینڈل سے مارنے کو دوڑا تو انھوں نے لپک کر اس کی کلائی مروڑ دی۔ کتّا لاری کے چھت پر کھڑا ان کے ہمراہ کانپور آیا۔ ایسے با وفا کتّے کو کتّا کہتے ہوئے اب انھیں حجاب محسوس ہونے لگا۔ انھوں نے اسی وقت اس کا نام بدل کر لارڈ ولزلی رکھا جو اس جنرل کا نام تھا جس سے مقابلہ کرتے ہوئے ٹیپو نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
کانپور پہنچ کر انھوں نے پہلی مرتبہ اس پر ہاتھ پھیرا۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ کتّے کا جسم اتنا گرم ہوتا ہے۔ اس پر جا بجا لڑکوں کے پتھروں سے پڑے ہوئے زخموں کے نشان تھے۔ انھوں نے اس کے لیے ایک خوبصورت کالر اور زنجیر خریدی۔
دوسرے دن بشارت اپنی ساری کائنات ٹین کے ٹرنک میں سمیٹ کر دھیرج گنج آ گئے۔ ٹرنک پر انھوں نے ایک پینٹر کو چار آنے دے کر اپنا نام، ڈگری اور تخلص سفیدے سے پینٹ کروا لیے تھے جو بمشکل دو سطروں میں سما پائے۔ یہ ٹرنک ان کی پیدائش سے پہلے کا تھا، مگر اس میں چار لیور والا پیتلی تالا ڈال کر لائے تھے۔ اس میں کپڑے اتنے کم تھے کہ راستے بھر اندر رکھا ہوا مراد آبادی لوٹا ڈھولک بجاتا آیا۔ اتنا شور مچانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے اثاث البیت میں یہ تازہ قلعی شدہ لوٹا ہی سب سے قیمتی شے تھی۔ ابھی انھوں نے منھ ہاتھ بھی نہیں دھویا تھا کہ تحصیل دار کا چپراسی ایک لٹھ اور یہ پیغام لے کر وارد ہوا کہ تحصیل دار صاحب بہادر نے یاد فرمایا ہے۔ انھوں نے پوچھا ابھی؟ بولا، اور کیا؟ فوراً سے بیشتر! بالمواجہ، اصالتاً۔ چپراسی کے منھ سے یہ منشیانہ زبان سن کر انھیں حیرت ہوئی اور خوشی بھی، جو اس وقت ختم ہوئی جب اس نے یہ پیغام لانے کا انعام، دوپہر کا ما حضر اور زادِ راہ اسی زبان میں طلب کیا۔ کہنے لگا، تحصیل ہٰذا میں یہی دستور ہے۔ بندہ تو اجورہ دار[1] ہے۔ جتنی دیر وہ ان مطالبات پر غور کریں، وہ اپنے لٹھ کی چاندی کی شام کو منھ کی بھاپ اور انگوچھے سے رگڑ رگڑ کر چمکاتا رہا۔
جھلستی جھلساتی دوپہر میں بشارت ڈیڑھ دو میل پیدل چل کر ہانپتے کانپتے تحصیل دار کے ہاں پہنچے تو وہ قیلولہ کر رہا تھا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے انتظار کے بعد اندر بلائے گئے تو خس کی ٹٹی کی مہکیلی ٹھنڈک جسم میں اُترتی چلی گئی۔ لُو سے جھلسی ہوئی آنکھوں میں ایک دَم ٹھنڈی ٹھنڈی سی روشنی سی آ گئی۔ اوپر چھت میں لٹکا ہوا جھالر دار پنکھا ہاتھی کے کان کی طرح ہل رہا تھا۔ فرش پر بچھی چاندنی کی اُجلی ٹھنڈک ان کی جلتی ہوئی ہتھیلی کو بہت اچھی لگی۔ اور جب اس کی حدّت سے چاندنی گرم ہو ہو جاتی تو وہ ہتھیلی کھسکا کر دوسری جگہ رکھ دیتے۔ تحصیل دار بڑے تپاک اور شفقت سے پیش آیا۔ برف میں لگے ہوئے تربوز کی ایک قاش اور چھلے ہوئے سنگھاڑے پیش کرتے ہوئے بولا، تو اب اپنے کچھ ایسے اشعار بھی سنائیے جو مہمل نہ ہوں، چھوٹی بحر میں نہ ہوں۔ وزن اور تہزیب سے گرے ہوئے نہ ہوں۔ بشارت اشعار سنا کر داد پا چکے تو اس نے اپنی تازہ نظم " ماہ و پرویں ہیں یہ ذراتِ زمیں آج کی رات" سنائی جو ڈپٹی کلکٹر کے حالیہ دورہ دھیرج گنج کے موقع پر لکھی تھی۔ نظم بشارت کو پکڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ 27 تاریخ کو ڈپٹی کلکٹر کے سالے کی شادی ہے۔ اسی نمونے کے مطابق ایک پھڑکتا ہوا سہرا لکھ کر مجھے دکھائیے۔ (آنکھ مارتے ہوئے ) بحر وہی اپنی "مناجاتِ بیوہ" والی ٹھیک رہے گی۔
[1] اجورہ دار: وہ ہرکارہ جس کی اُجرت، آمد و رفت اور قیام و طعام کا خرچ اس ماتحت کو برداشت کرنا پڑتا تھا جس کے نام وہ سرکاری احکام لے کر آتا تھا۔ یہ ایک نوع کی سزا ہوتی تھی۔ کچھ علاقوں میں یاد دہانیوں (reminders) کی ترسیل اجورہ دار ہی کے ذریعے ہوتی تھی تاکہ آئندہ کو سبق ہو۔
حالانکہ ان کا اپنا گھر پختہ اور اسکول نیم پختہ تھا، لیکن مولوی مظفر نے اپنی دیانت اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی سادگی کا نمونہ پیش کرنے کے غرض سے اپنا دفتر ایک کچے ٹن پوش مکان میں بنا رکھا تھا۔ سلیکشن کمیٹی کا اجلاس اسی جگہ ہونے والا تھا۔ بشارت سمیت کل تین امیدوار تھے۔ باہر دروازے کے بائیں طرف ایک بلیک بورڈ پر چاک سے یہ ہدایات مرقوم تھیں (1) امیدوار اپنی باری کا انتظار صبر و تحمل سے کریں (2) امیدواروں کو سفر خرچ اور بھتہ ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ ظہر کی نماز کے بعد ان کے طعام کا انتظام یتیم خانہ شمع الاسلام میں کیا گیا ہے (3) انٹرویو کے وقت امیدوار کو مبلغ ایک روپے چند ے کی یتیم خانے کی رسید پیش کرنا ہو گی(4) امیدوار حضرات براہِ کرم اپنی بیڑی بجھا کر اندر داخل ہوں۔"
بشارت جب انتظار گاہ یعنی نیم کی چھاؤں تلے پہنچے تو کتا ان کی جلو میں تھا۔ انھوں نے اشاروں کنایوں سے کئی بار اس سے رخصت چاہی مگر وہ کسی طور ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ نیم کے نیچے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گئے تو وہ بھی ان کے قدموں میں آن بیٹھا۔ نہایت مناسب وقفوں سے دُم ہلا ہلا کر انہیں ممنون نگاہوں سے ٹکر ٹکر دیکھ رہا تھا۔ اس کا یہ انداز انھیں بہت اچھا لگا اور اس کی موجودگی سے انھیں کچھ تقویت سی محسوس ہونے لگی۔ نیم کے سائے میں ایک امیدوار جو خود کو الہ آباد کا L.T بتاتا تھا، اُکڑوں بیٹھا تنکے سے ریت پر ایک تکسیر یعنی 20 کا مبارک نقش بنا رہا تھا، جس کے خانوں کے عدد کسی طرف سے بھی گنے جائیں، حاصل جمع 20 بنتا تھا۔ تسخیرِزن اور افسر کو رام کرنے کے لیے یہ نقش تیر بہدف سمجھا جاتا تھا۔ کان کے پیچ و خم میں جو سوالیہ نشان کے اندر ایک اور سوالیہ نشان بنا ہوتا ہے، ان دونوں کی درمیانی گھائی میں اس نے عطرخس کا پھویا اُڑس رکھا تھا۔" زلفِ بنگال ہیئر آئل"سے کی ہوئی سینچائی کے ریلے جو سر کی فوری ضروریات سے زائد تھے، پیشانی پر بہ رہے تھے۔ دوسرا امیدوار جو کالپی سے آیا تھا، خود کو علی گڑھ کا بی اے، بی ٹی بتلاتا تھا۔ دھوپ کی عینک تو سمجھ میں آتی تھی، لیکن اس نے گلے میں سلک کا سرخ اسکارف بھی باندھ رکھا تھا، جس کا اس چلچلاتی دھوپ میں بظاہر یہی مصرف نظر آتا تھا کہ چہرے سے ٹپکا ہوا پسینا محفوظ کر لے۔ اگر اس کا وزن سو پونڈ کم ہوتا تو وہ سوٹ جو وہ پہن کر آیا تھا، بالکل فِٹ آتا۔ قمیض کے دو نیچے کے بٹن اور پتلون کے دو اوپر والے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ صرف سولر ہیٹ صحیح سائز کا تھا۔ فیروزے کی انگوٹھی بھی غالباً تنگ ہو گئی تھی، اس لیے کہ انٹرویو کے لیے آواز پڑی تو اس نے جیب سے نکال کر چھنگلیا میں پہن لی۔ جوتے کے تسمے جنہیں وہ کھڑے ہونے کے بعد دیکھ نہیں سکتا تھا، کھلے ہوئے تھے۔ کہتا تھا گول کیپر رہ چکا ہوں۔ اس تن و توش کے باوجود خود کو نیم کے دو شاخے میں اس طرح فٹ کیا تھا کہ دور سے ایک V نظر آتا تھا جس کی ایک نوک پر جوتے اور دوسری پر ہیٹ رکھا تھا۔ یہ صاحب اوپر ٹنگے ٹنگے ہی گفتگو میں حصہ لے رہے تھے۔ اور وہیں سے پیک کی پچکاریاں اور پاسنگ شو سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا بجا کر جھاڑ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بشارت کے پاس ایک جنگم فقیر [1]آن بیٹھا۔ اپنا سونٹا ان کے ماتھے پر رکھ کر کہنے لگا۔ " قسمت کا حال بتاتا ہوں پاؤں کے تلوے دیکھ کر۔ ابے جوتے اتار۔ نہیں تو سالے کو یہیں بھسم کر دوں گا۔ " انھوں نے اسے پاگل سمجھ کر منھ پھیر لیا، لیکن جب اس نے نرم لہجے میں کہا " بچہ! تیرے پیڑو پہ تِل اور سیدھی بغل میں مَسّا ہے۔ " تو انھوں نے خوفزدہ ہو کر جوتے اتار دیے، اس لیے کہ اس نے بالکل صحیح نشاندہی کی تھی۔ ذرا دور پر ایک بَڑ کے درخت کے نیچے تیسری جماعت کے لڑکے ڈرل کر رہے تھے۔ اس وقت ان سے ڈنڑ لگوائے جا رہے تھے۔ پہلے ہی ڈنڑ میں " ہوں !" کہتے ہوئے سر نیچے لے جانے کے بعد صرف دو لڑکے ہتھیلیوں کے بل اٹھ پائے۔ باقی ماندہ وہیں دھول میں چھپکلی کی طرح پٹ پڑے رہ گئے۔ اور گردن موڑ موڑ کر بڑی بے چارگی سے ڈرل ماسٹر کو دیکھ رہے تھے، جو انھیں طعنے دے رہا تھا کہ تمہاری ماؤں نے تمہیں کیسا دودھ پلایا ہے ؟
[1] جنگم فقیر: جس کے سر پر جٹائیں، ہاتھ میں سونٹا اور پاؤں میں زنجیر ہوتی تھی۔ ہاتھ میں ایک گھنٹی ہوتی تھی، جسے بجاتا پھرتا تھا۔
aisa lag raha hai jaise bhoola hua sabaq yaad kar raha hoon ek zamana pahla paddha thhaaleem
From: Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com>
Subject: Re: {22906} Re: دھیرگ گنج کا پہلا مشاعرہ
To: "Aijaz .Shaheen" <bazme...@googlegroups.com>
Date: Friday, May 3, 2013, 4:47 PM
تحصیل دار نے زنانے سے اپنے صاحبزادگان کو بلوایا اور ان سے کہا، چچا جان کو آداب کرو۔ یہ کل سے تمہیں پڑھانے آئیں گے۔ بڑے اور چھوٹے لڑکے نے آداب کیا۔ منجھلے نے دائیں ہاتھ سے اوک بنایا اور جھک جھک کے دو دفعہ آداب کرنے کے بعد جب تیسری دفعہ رکوع میں گیا تو ساتھ ہی منھ بھی چڑایا۔
اب تحصیل دار کا موڈ بدل چکا تھا۔ لڑکے قطار بنا کر واپس چلے گئے تو وہ بشارت سے کہنے لگا " پرسوں جغرافیہ ٹیچر کی اسامی کے لیے انٹرویو ہیں۔ میں آپ کو سلیکشن کمیٹی کا ممبر نامزد کرتا ہوں۔ دینیات کا ٹیچر اس لائق نہیں کہ کمیٹی کا ممبر رہے۔ مولی مجّن کو مطلع کر دیا جائے گا۔ " یہ سنتے ہی بشارت کے گدگدیاں ہونے لگیں۔ اس وقت کوئی انھیں وائسرائے بنا دیتا تب بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ اب وہ بھی انٹرویو میں اچھے اچھوں کو خوب رگیدیں گے۔ اور پوچھیں گے میاں، تم ڈگریاں بغل میں دبائے افلاطون بنے پھرتے ہو۔ ذرایہ بتاؤ کہ دنیا گول کیوں بنائی گئی ہے ؟ بڑا مزہ آئے گا۔ یہ عزت کس کو نصیب ہوتی ہے کہ خود بلاوجہ ذلیل ہونے کے فوراً بعد دوسروں کو بلاوجہ ذلیل کر کے حساب برابر کر دے۔ ان کی گھائل انا کے سارے گھاؤ پل بھر میں بھر گئے۔
مارے خوشی کے وہ یہ وضاحت کرنی بھول گئے کہ بندہ ہر انٹرویو کے بعد نہ آواز لگائے گا، نہ گھنٹا بجائے گا۔ چلنے لگے تو تحصیل دار نے گرداوَر قانون گو کو آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا اور اس نے پندرہ سیر گندم اور ایک ہانڈی پیوسی کی ساتھ کر دی۔ اسے یہ بھی ہدایت کر دی کہ کل اتالیق صاحب کے گھر جَواسے کی ایک گاڑی ڈلوا دینا۔ اور بیگار میں کسی پنی گر کو بھیج دینا کہ ہاتھوں ہاتھ ٹٹی بنا دے۔ اس زمانے میں جو لوگ خس کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، وہ جواسے کے کانٹوں کی ٹٹی پر اکتفا کرتے تھے۔ اور جو اس قابل بھی نہ ہوتے وہ خس کی پنکھیا پر کوری ٹھلیا کا پانی چھڑک لیتے۔ اسے جَھلتے جَھلتے جب نیند کا جھونکا آتا تو خس خانہ و برفاب کی خوابناک خنکیوں میں اترتے چلے جاتے۔
یتیم جمع کرنا بشارت کو چند ہ جمع کرنے سے بھی زیادہ دشوار نظر آیا۔ اس لیے کہ مولی مجّن نے یہ پَخ لگادی کہ یتیم تندرست، مسٹنڈے نہ ہوں۔ صورت سے بھی مسکین معلوم ہونا چاہئیں۔ خوش خوراک نہ ہوں۔ نہ اتنے چھوٹے ٹوئیاں کہ چونچ میں چوگا دینا پڑے۔ نہ اتنے ڈھؤ کے ڈھؤ اور پیٹو کہ روٹیوں کی تھئی کی تھئی تھور جائیں اور ڈکار تک نہ لیں۔ پر ایسے گلبدن بھی نہ ہوں کہ گال پہ ایک مچھر کا سایہ بھی پڑ جائے تو شہزادہ گلفام کو ملیریا ہو جائے۔ پھر بخار میں دودھ پلاؤ تو ایک ہی سانس میں بالٹی کی بالٹی ڈکوس جائیں۔ بعضا بعضا لونڈا ٹخنے تک پولا ہوتا ہے۔ لڑکے باہر سے لاغر مگر اندر سے بالکل تندرست ہونے چاہییں۔ نہ اتنے نازک کہ پانی بھرنے کنویں پر بھیجو تو ڈول کے ساتھ یوسفِ بے کارواں خود بھی کھچے کھچے کنویں کے اندر چلے جا رہے ہیں۔ جب دیکھو حرام کے جَنے ثبوت میں ٹوٹے گھڑے کا منھ لیے چلے آ رہے ہیں۔ ابے مجھے کیا دکھا رہا ہے ؟ یہ ہنسلی اپنی میا بہنا کو پہنا۔ میانہ قد اور درمیانہ عمر کے ہوں۔ اتنے بڑے اور ڈھیٹ نہ ہوں کہ تھپڑ مارو تو ہاتھ گھنٹے بھر تک جھنجھناتا رہے اور ان حرامیوں کا گال بھی بیکا نہ ہو۔ جاڑے میں زیادہ جاڑا نہ لگتا ہو۔ یہ نہیں کہ ذرا سی سردی بڑھ جائے تو سارے قصبے میں کانپتے، کپکپاتے، کٹکٹاتے پھر رہے ہیں اور یتیم خانے کو مفت میں بدنام کر رہے ہیں، اور ہاں یہ تصدیق کر لیں کہ رات کو بستر میں پیشاب نہ کرتے ہوں۔ خاندان میں فی اور سر میں لیکھیں نہ ہوں۔ اُٹھان کے بارے میں مولوی مجّن نے وضاحت کی کہ اتنی معتدل بلکہ مفقود ہو کہ ہر سال جوتے اور کپڑے تنگ نہ ہوں۔ اندھے، کانے، لولے، لنگڑے، گونگے، بہرے نہ ہوں، مگر لگتے ہوں۔ لونڈے خوش شکل ہر گز نہ ہوں۔ منھ پر مہاسے اور ناک لمبی نہ ہو۔ ایسے لونڈے آگے چل کر لوطی نکلتے ہیں۔ وہ آئیڈیل یتیم کا حلیہ بیان کرنے لگے تو بار بار بشارت کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے آرٹسٹ پورٹریٹ بناتے وقت ماڈل کا چہرہ دیکھ دیکھ کر کینوس پر آؤٹ لائن بناتا ہے۔ وہ بولتے رہے، لیکن بشارت کا دھیان کہیں اور تھا ان کے ذہن میں ایک سے ایک منحوس تصویر ابھر رہی تھی۔ بلکہ tableau کہنا چاہیے، جس میں وہ خود کو کسی طرح فٹ نہیں کر پا رہے تھے۔
پہلا منظر: ٹرین کا گارڈ ہری جھنڈی ہاتھ میں لیے سیٹی بجا رہا ہے۔ چھ سات لڑکے لپک کر چلتی ٹرین کے تھرڈ کلاس کمپارٹمنٹ میں چڑھتے ہیں، جس سے ابھی ابھی ایک سُرمہ اور سلاجیت بیچنے والا اُترا ہے۔ سب نیکر پہنے ہوئے ہیں۔ صرف ایک لڑکے کی قمیض کے بٹن سلامت ہیں، لیکن آپس کی لڑائی میں حریف اس کی داہنی آستین جڑ سے نوچ کر لے گیا۔ کسی کے پیر میں جوتا نہیں، لیکن ٹوپی سب پہنے ہوئے ہیں۔ ایک لڑکے کے ہاتھ میں بڑا سا فریم ہے۔ جس میں ضلعے کے ایک گمنام لیڈر کا سرٹیفکٹ جڑا ہوا ہے۔ کمپارٹمنٹ میں گھستے ہی لڑکوں نے کہنیوں اور دھکوں سے اپنی جگہ بنا لی۔ جیسے ہی ٹرین سگنل سے آگے نکلی، سب سے بڑے لڑکے نے ریزگاری سے بھرا ہوا ٹین کا گولک جھن جھنے کی طرح بجانا شروع کیا۔ ڈبّے میں خاموشی چھا گئی۔ ماؤں کی گود میں روتے بچّے سہم کر دودھ پینے لگے اور دودھ پیتے ہوئے بچّے دودھ چھوڑ کر رونے لگے۔ مردوں نے سامنے بیٹھی عورت کو گھورنا اور اس کے میاں نے اونگھنا چھوڑ دیا۔ جب سب مسافر اپنا اپنا شغل روک کر لڑکے کی طرف متوجہ ہو گئے تو اس نے اپنا گولک راگ بند کیا۔ اس کے ساتھیوں نے اپنے منھ آسمان کی طرف کر لیے اور آسمانی طاقتوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کے ثبوت میں سب نے ایک ساتھ آنکھوں کی پتلیاں اتنی اوپر چڑھا لیں کہ صرف سفیدی دکھائی دینے لگی۔ پھر سب مل کر انتہائی منحوس لے میں کورس گانے لگے :
ہماری بھی فریاد سُن لیجیے
ہمارے بھی اک روز ماں باپ تھے
تھرڈ کلاس کے ڈبّے میں یتیم خانے کے جو لڑکے داخل ہوئے ان سب کی آوازیں پھَٹ کر کبھی کی بالغ ہو چکی تھیں۔ صرف ایک کے کنٹھ نہیں پھوٹے تھے یہی لڑکا چیل جیسی آواز میں کورس کو lead کر رہا تھا۔ اس زمانے میں پشاور سے ٹرانکور اور کلکتے سے کراچی تک ریل میں سفر کرنے والا کوئی مسافر ہو گا جو اس نحوستوں سے لبریز گانے اور اس کی خانہ برباد لے سے نا آشنا ہو۔ جب سے برصغیر میں ریل اور یتیم خانے آئے ہیں، یہی ایک دھُن چل رہی ہے۔ اسی طرح برصغیر ہندو پاکستان میں کوئی آدم آزار شخص مثنوی مولانا روم کی ایسی اسطوخودوس[1] مولویانہ دھُن کمپوز کر گیا ہے کہ پانچ سو سال سے اوپر گزر گئے، اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ شعر کو اس طرح ناک سے گا کر صرف وہی مولوی پڑھ سکتا ہے جو گانے کو واقعی حرام سمجھ کر گاتا ہو۔ کسی شخص کو گانے، تصوف، فارسی اور مولوی، چاروں سے بیک وقت متنفر کرنا ہو تو مثنوی کے دو شعر اس دھُن میں سنوادیجیے۔ " سنا دیجیے " ہم نے اس لیے نہیں کہا کہ یہ لے صرف ایسے شخص کے گلے سے نکل سکتی ہے جس نے زندگی میں کسی ایرانی کو فارسی بولتے نہ سنا ہو اور جس کے گلے سے مفت کی مرغی کے علاوہ کوئی چیز نہ اُتری ہو۔
دوسرا منظر: یتیم خانے کا بینڈ بج رہا ہے۔ آگے آگے سر کو دائیں بائیں جھلاتا بینڈ ماسٹر چل رہا ہے۔ جس طرح پہلوان، فوج کے جوان اور بے کہی لڑکیاں سینہ نکال کے چلتی ہیں، اسی طرح یہ پیٹ نکال کر چل رہا ہے۔ کچھ لڑکوں کے ہاتھ میں پیتل کے بھونپو نما باجے ہیں جو جلیبی اور Angry Young Men کی طرح پیچ و تاب کھا کے بالآخر بڑی آنت کی شکل میں اختتام پزیر ہوتے ہیں۔ یوں تو ان باجوں کی ٹونٹی لڑکوں نے اپنے ہونٹوں سے لگا رکھی ہے، لیکن انھیں پھونکنے، دھونکنے کا غریبوں میں دَم درود کہاں۔ لہٰذا بیشتر وقت ڈھول اور بانسری ہی بجتی رہتی ہے۔ بعض وقت بانسری کی بھی سانس اکھڑ جاتی ہے اور تنہا ڈھول سارے آرکسٹرا کے فرائض انجام دیتا ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ ایسا بینڈ باجا تو خدا دشمن کی شادی میں بھی نہ بجوائے۔ بینڈ کی اجاڑ دھن بھی برصغیر کے طول وعرض میں ایک ہی تھی۔ لیکن ہندوؤں اور مسلمانوں کے بینڈ میں چند دلچسپ فرق تھے۔ مثلاً یہی کہ مسلمان بالعموم مجیرے نہیں بجاتے تھے۔ اور ہندوؤں کے اناتھ آشرم کے بینڈ میں ڈھول بجانے والا اتنی مستی سے گھوم گھوم کے ڈھول نہیں پیٹتا تھا کہ ترکی ٹوپی کا پھندنا ہر ضرب پر 360 ڈگری کا چکر لگائے۔ ہندو یتیم لڑکے پھندنے کے بجائے اپنی اصلی چوٹیاں استعمال کرتے تھے۔ دوم، ہندوؤں میں یہ بینڈ صرف اناتھ آشرم کے یتیم بجاتے تھے۔ مسلمانوں میں یتیم ہونے کی شرط نہیں تھی۔ چنانچہ کراچی کے بعض اسکولوں میں ہم نے اسکول بینڈ کو اسپورٹس ڈے پر marching songs بھی اسی دھن میں بجاتے ہوئے سنا ہے :
ہمارے بھی اک روز ماں باپ تھے، ہمارے بھی اک روز ماں باپ تھے[1] اسطوخودوس: اس کے لغوی معنی تو ظاہر ہے کچھ اور ہیں۔ مرزا یہ لفظ اس کے صوتیاتی کڈھب پن کے سبب اکثر استعمال کیا کرتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہاں ادا کرنا مقصود ہے وہ کسی اور لفظ سے ادا نہیں ہو سکتا۔ یقین نہ آئے تو آپ اس کی جگہ کوئی اور لفظ جڑ کر دیکھ لیں۔ ویسے لغت میں اس کے معنی ہیں : نزلے اور پاگل پَن کی ایک دوا جسے اطبّا دماغ کی جھاڑو کہتے ہیں !
اس لائن (ہمارے بھی اک روز ماں باپ تھے ) کی خوبی یہ ہے کہ اس کے سات الفاظ، چار اجزائے ترکیبی پر مشتمل ہیں اور یہ چاروں ہی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارے بھی/ اک روز / ماں باپ / تھے۔ آپ کسی بھی جزو پر زور دے کر پڑھیں، بے کسی اور نحوست کا ایک نیا پرت ابھرے گا۔ حد یہ کہ تنہا " تھے " بھی پوری لائن کے تاکیدی معنی، رخ اور لہجہ بدل کے رکھ دے گا۔ تھے ے ے ے ! ایسے چومُکھے مصرعے بڑے بڑے شاعروں کو نصیب نہیں ہوتے۔ البتہ مہدی حسن اپنی گائیکی سے شعر کے جس لفظ کو چاہیں کلیدی بنا دیتے ہیں۔ ان میں جہاں ایک ہزار ایک خوبیاں ہیں وہاں ایک بری عادت یہ پڑ گئی ہے کہ اکثر اپنی سخن فہمی کا ثبوت دینے کے لیے شعر کا کوئی سا لفظ جس پر انہیں کلیدی ہونے کا شبہ ہو جائے، پکڑ کے بیٹھ جاتے ہیں۔ الاپ روک کے سامعین کو نوٹس دیتے ہیں کہ اب ذرا جگر تھام کے بیٹھو۔ گنجینہ معنی کا طلسم دکھاتا ہوں۔ پھر آدھ گھنٹے تک اس لفظ کو جھنجھوڑتے بھنبھوڑتے ہیں۔ اسے طرح طرح سے پٹخنیاں دے کر ثابت کرتے ہیں کہ سارا مفہوم اس ایک لفظ میں بند ہے۔ باقی تمام الفاظ فقط طبلہ بجانے کے لیے ہیں۔ یعنی صرف شعر کا وزن پورا کرنے اور ٹھیکا لگانے کے لیے۔ مقصد یہ جتانا ہوتا ہے کہ میں شعر سمجھ کر ہی نہیں، سمجھا سمجھا کر گا رہا ہوں۔ ان کی دیکھا دیکھی اوروں نے خود سمجھے بغیر ہی سمجھا سمجھا کر گانا شروع کر دیا ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ مہدی حسن کبھی اس لفظ کو کھدیڑتے ہوئے راگ اور غزل کی No۔ man's۔ land (نہ تیری نہ میری زمین) میں چھوڑ آتے ہیں۔ اور کبھی " کبڈی! کبڈی!" کہتے ہوئے اسے اپنے پالے میں لے آتے ہیں۔ پھر فری اسٹائل میں اس کے مختلف حصّوں کو کو اپنی طاقت اور سامعین کی برداشت کی حد تک توڑتے، مروڑتے اور کھینچتے ہیں۔ وہ بے دَم ہوکے سَت چھوڑ دے تو اسے پھپھیڑنے لگتے ہیں۔ ابھی، لمبی سی گٹکری کے بعد ، عجیب سا منھ بنائے، اسے پپول پپول کے دیکھ رہے تھے اور اپنی ہی لذّت سے آنکھیں بند کیے ہوئے تھے۔ ذرا دیر میں اس کی ہڈی تک چچوڑ کے طبلہ نواز کے سامنے پھینک دی کہ استاد، اب کچھ دیر جگل بندی ہو جائے۔ کبھی حرفِ سادہ کے راگ انگ جی بھر کے جھنجھوڑنے کے بعد اس کی چھاتی پہ اپنے ریشمی کُرتے، زرین واسکٹ اور ہارمونیم سمیت چڑھ جاتے ہیں۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو چوم چاٹ کے واپس لِٹال دیتے ہیں :
چمٹے رہو سینے سے ابھی رات پڑی ہے
پھر وہ ساعتِ نایاب بھی آتی ہے جب یہ راگ بھوگی، اس کے منھ میں اپنی زبان اس طرح رکھ دیتا ہے کہ راگنی چیخ اٹھتی ہے :
تم اپنی زبان مرے منھ میں رکھے، جیسے پاتال سے مری جان کھینچتے ہو
بالآخر گھنٹوں رگیدنے کے بعد اسے تھپڑ مار کے چھوڑ دیتے ہیں کہ " جا! اب کے چھوڑ دیا۔ آئندہ یاروں کے سامنے اس طرح نہ آئیو۔
جس کو ہو دِین و دل عزیز مرے گلے میں آئے کیوں