--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
جی ہاں فیروز ہاشمی صاحب ۔۔ بیشمار محیر العقل داستانیں ہیں جو آپ ہم سب بچپن سے سن پڑھ رہے ہیں۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ آج کے اس گوگل تحقیقی دور میں بھی ہمارے ادیب و شعراء انہی داستانوں کی بنیاد پر اسی تسلسل سے تخلیقات پیش کیے جا رہے ہیں۔
دو دہائی قبل آندھرا پردیش گروپ ون سروسز اور آل انڈیا سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کے سبب ہندو میتھالوجی بھی پڑھنا پڑا تھا اور تبھی اندازہ ہوا تھا کہ ہندو دیومالائی داستانوں اور متذکرہ داستانوں میں قدر مشترک ہے۔ حالانکہ نہ ہونی چاہیے کیونکہ دین ربانی ہم تک کسی ٹام ڈک ہیری کے ذریعے تو نہیں پہنچا بلکہ اس کے پس پشت وہ عظیم الشان سائنس "اسما و رجال" ہے جس کا مترادف آج تک ترقی یافتہ قومیں پیش نہیں کر سکیں۔
امید قوی ہے کہ آنے والے دور میں یہ سائنس بھی بھرپور طریقے سے انگریزی اور اردو میں (عربی میں تو پہلے سے موجود ہے مکتبہ الشاملہ کی شکل میں) جب آ جائے گی تب عقیدے یا عقیدت کے نام پر پھیلائی گئیں داستانوں کی حقیقت ہر کس و ناکس پر آشکار ہو جائے گی ان شاءاللہ۔ اور امید کی جانی چاہیے کہ اللہ کرے تب مسلکی اور فرقہ وارانہ طبقہ جاتی مذہبی تقسیم بھی ختم ہو جائے۔
رزق کی تلاش میں انسان شہر شہر ملک ملک در بدر پھر کر کچھ تو کچہ لوگوں کے ' ملکوں کے ' شہروں کے حالات وضع قطع رہن سہن چال ڈھال سے واقف ہوہی جاتا ہے نا اور پھر آپ بیتی اور جگ بیتی لکھنے بیٹھ جاتا ہے سینکڑوں کے بارے میں صفحات کے صفحات سیاہ کردیتا ہے تو سائینس یہ بھی تو ہے کہ انسان اس مقصد (اسماء الرجال) کے حصول کے لئے اپنے آپ کو وقف کردے اور وہ حاصل کرے جس کو آج ہم قیاسوں کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں چہ جائے کہ ان کی کوشش' خدمت دین ' جدوجہد پر شکوک کا اظہار کریں جو فی زمانہ مستشرقین (جن کو تحقیق علم کا بڑا نازہے ) بھی انکار نہیں کرتے۔
سید رحیم عمری
--
محترم، اسماء الرجال ایسا نہیں ہے کہ ایک آدمی کے دل میں آیا اور اس نے لوگوں کے بارے میں پوچهنا شروع کر دیا. ہر علاقے میں لوگوں کی اچهی بری شہرت ہوا کرتی ہے. پس جب اس سے کوئی روایت بیان کی جاتی تو ساته راوی کی حیثیت بهی بیان کی جاتی. دوسری صدی کے اواخر میں طوالت سے بچنے کیلئے اسماء الرجال کو روایت کی کتابوں سے علیحدہ ڈکر کیا جانے لگا.
حدیث کے راوی تو بے انتہاء تهے لیکن اب صرف وہ مذکور ہیں جو شہرت رکهتے تهے، پس کتابوں میں انہی پر جرح و تعدیل باقی رہ گئی. ذرا سوچئے کیا 100 سے 110 ہجری میں 500 لوگ تمام سلطنت میں حدیث بیان کرتے ہوں گے؟ ایسا نہیں ہے. بلکہ 5000 سے بهی زائد بیان کرتے تهے لیکن مثلا 120 یا 130 ہجری میں لوگوں نے باقیوں کو ترک کر دیا اور 500 کو رکها. پهر انہی 500 کی جرح اور تعدیل بهی باقی رہ گئی.
پهر یہ کہ کتابیں لکهی جاتی تهیں پهر متروک ہو جاتی تهیں. مثلا کیا امام بخاری رحمہ اللہ کے دور میں اور کسی نے نہیں لکهی؟ ایسا نہیں ہے. بلکہ جب ایک محدث کسی نئے صنیع پر بہتر تالیف کرتا ہے اور بعد کے لوگ اس کے بعد بعض کتابوں سے استغنی محسوس کرتے ہیں تو وہ متروک ہو جاتی ہیں اور یہ رہ جاتی ہے. اسماء الرجال میں بهی ایسا ہی ہے، لکهنے والوں نے پہلے سے مقبول و مکتوب عام باتوں کو اکٹها کیا، پس ہم عصروں نے اس تالیف کے بعد پہلے سے موجود صحیفوں اور رسالوں سے استغناء سمجها تو انہیں متروک کر دیا کیونکہ اب انہیں ساته رکهنے کی ضرورت نہیں رہی تهی.
ایسی تحریریں تب سامنے آتی ہیں جب ایک خداداد صلاحیت کا آدمی خود کو اس کام کیلئے وقف کر دیتا ہے. پس اسکا نام اور کام باقی رہ جاتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ پہلے کچه تها ہی نہیں اور اس نے اچانک کچه کر دیا.
اسماء الرجال کی کتابوں میں بعض اوقات ایک ہی راوی کے بارے میں مختلف آراء بهی ہوتی ہیں، مولف کی رائے زیادہ اہمیت نہیں رکهتی بلکہ اسکی رائے اہمیت رکهتی ہے جو اس آدمی سے ملا ہو اور جانتا ہو. مولف کی رائے ایسی ہی ہے جیسی کسی بهی اور عالم کی.
الغرض یہ ایک متصل، مسلسل اور متواتر عمل ہے جس میں ہر نسل پچهلی نسل سے علم لیتی آئی ہے. اس میں کچه بهی ماورا العقل نہیں. اب اسی بزم پر لوگوں کی اچهی بری شہرت ہے یا نہیں؟ کیا ممکن نہیں میں اسماء الرجال کی کتاب لکهوں جس میں پاکستان کے 500 لوگوں کا ذکر ہو، کوئی اور لوگ بهی لکهیں اور 2025 میں کوئی آدمی بعد تحقیق او تنقیح ایک جگہ تمام لکه دے تو کیا ضرورت باقی رہے گی اول الذکر کتابوں کی؟ خاص طور پر جب اسی دور کے لوگ اس تالیف کو عموما قبول بهی کر لیں کہ هاں اس نے پہلے والوں کی باتیں اکٹهی کر لی ہیں.
آپ کی دوسری بات، واقعہ کربلا. میرے علم کی حد تک کسی نے ظلم کی داستان ہونے کا انکار نہیں کیا، نہ ہی اس بات کا انکار ہے کہ ظلم کیا بهی اہل حکم نے ہے. اختلاف مجرموں کے جرم کی حد بیان کرنے میں ہے.
مع السلام
ہمایوں رشید.
--
پہلی بات تو یہ کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا نام بہت اچها ہے، جلیل القدر مہاجر صحابی کا نام ہے جن سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کا حکم دیا. کہتے ہیں لمبے چوڑے اور بالوں والے تهے کہ دیکهنے والے پر ہیبت طاری ہو جاتی تهی.
موضوع پر آتے ہیں. آپ تاریخ اور اسماء الرجال میں شاید فرق نہیں کر پا رہے. جو باتیں آپ نے بیان کیں یہ تاریخ کی ہیں. اسماء الرجال کا موضوع ایک آدمی ہوتا ہے، کہ مثلا، کب پیدا ہوا، علم کس سے حاصل کیا، تصانیف کیا ہیں، تلامذہ کون ہیں، کہاں کا سفر کیا، اسکے بارے میں دوسرے کیا رائے رکهتے تهے، عقیدے کے بارے میں کیا کہتا تها، حکمرانی کی تو کہاں اور کیسی، صوفیانہ رنگ تها فقیہانہ یا محدثانہ، مخالف کیا کہتے تهے اور موافق کیا، دیکهنے میں کیسا تها، لباس اور کاروبار، عمر کے کون سے حصے میں کیا کیا، کہاں فوت ہوا، اولاد زواج آباء وغیرہ وغیرہ. میں سے جو معلوم ہو سکے پیش کر دیا جاتا ہے.
دوسرا یہ کہ ایک آدمی کا نظریہ پیش نہیں کیا جاتا بلکہ جتنے لوگ بولتے ہیں سب قابل ذکر کی رائے جمع کر دی جاتی ہے تاکہ رائے کا وزن بهی معلوم ہو جائے.
دوسری بات تاریخی واقعات والی، تو رائے زنی نہیں کرنی چاہئے، میں آپ سے متفق ہوں. تاریخی واقعات پر نہ ہی رائے زنی کرنی چاہئے نہ ہی ان سے عقائد اخذ کرنے چاہئیں اور نہ ہی تاریخی واقعات سنا سنا کر لوگوں کو برانگیختہ کرنا چاہئے. یہ مرض مشرقی ممالک میں عام ہے خصوصا برصغیر میں تو شاید اسے ہی اہم سمجها جاتا ہے، اللہ تعالی ہمیں ہدایت دے.
مع السلام
ہمایوں رشید.
--