حادثہ کربلا کے تاریخی واقعات

142 views
Skip to first unread message

Mukarram Niyaz

unread,
Nov 12, 2013, 7:23:00 AM11/12/13
to bazmeqalam
مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:
اس وقت جس قدر بھی مقبول اور متداول ذخیرہ اس موضوع (حادثہ کربلا) پرموجود ہے وہ زیادہ تر نوحہ خوانی سے تعلق رکھتا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ گریہ و بکا کی حالت پیدا کر دینا ہے نہ کہ تاریخی حیثیت سے بیان واقعات!
[شہیداعظم - ص:6]

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وقد صنف جماعة من القدماء في مقتل الحسين تصانيف فيها الغث والسمين والصحيح والسقيم
اور متقدمین نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں رطب و یابس ، صحیح و غلط سب موجود ہے۔
[الإصابۃ لابن حجر : 2/81]



--

Firoz Hashmi

unread,
Nov 12, 2013, 10:59:37 AM11/12/13
to BAZMe...@googlegroups.com
صحیح بات نقل کی ہے آپ نے۔ شکریہ
فیروزہاشمی


2013/11/12 Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM



--
Dr. Mohammad Firoz Alam 
D.H.M.S, D.B.S.M. (ICAM)
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Ex Editor Urdu I.T. Monthly "Nai Shanakht" New Delhi
91-98117 42537
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201301 INDIA
          

Mukarram Niyaz

unread,
Nov 12, 2013, 2:27:41 PM11/12/13
to bazmeqalam
جی ہاں فیروز ہاشمی صاحب ۔۔ بیشمار محیر العقل داستانیں ہیں جو آپ ہم سب بچپن سے سن پڑھ رہے ہیں۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ آج کے اس گوگل تحقیقی دور میں بھی ہمارے ادیب و شعراء انہی داستانوں کی بنیاد پر اسی تسلسل سے تخلیقات پیش کیے جا رہے ہیں۔
دو دہائی قبل آندھرا پردیش گروپ ون سروسز اور آل انڈیا سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کے سبب ہندو میتھالوجی بھی پڑھنا پڑا تھا اور تبھی اندازہ ہوا تھا کہ ہندو دیومالائی داستانوں اور متذکرہ داستانوں میں قدر مشترک ہے۔ حالانکہ نہ ہونی چاہیے کیونکہ دین ربانی ہم تک کسی ٹام ڈک ہیری کے ذریعے تو نہیں پہنچا بلکہ اس کے پس پشت وہ عظیم الشان سائنس "اسما و رجال" ہے جس کا مترادف آج تک ترقی یافتہ قومیں پیش نہیں کر سکیں۔
امید قوی ہے کہ آنے والے دور میں یہ سائنس بھی بھرپور طریقے سے انگریزی اور اردو میں (عربی میں تو پہلے سے موجود ہے مکتبہ الشاملہ کی شکل میں) جب آ جائے گی تب عقیدے یا عقیدت کے نام پر پھیلائی گئیں داستانوں کی حقیقت ہر کس و ناکس پر آشکار ہو جائے گی ان شاءاللہ۔ اور امید کی جانی چاہیے کہ اللہ کرے تب مسلکی اور فرقہ وارانہ طبقہ جاتی مذہبی تقسیم بھی ختم ہو جائے۔



2013/11/12 Firoz Hashmi <firoz...@gmail.com>



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Naeemuddin Syed Shah

unread,
Nov 12, 2013, 9:14:19 PM11/12/13
to BAZMe...@googlegroups.com

 مکرم نیاز صاحب. آپ نے درست بات کہی. بیشمار حقیقتیں مبالغہ آرائی 
کی نذر ہوکر اپنی اصلیت کھو چکی ہیں اور  جو بھی ہے وہ صرف زیب_دادتان 
سے زیادہ نہیں.    حمیداللہ خان (رح ) ، جنہوں نے اپنی عمر کا بہت بڑا حصہ پیرس 
میں گزارا ' نے خطبات بہاولپور میں کہا  ہے کہ عربی زبان میں لکھے ہوے بے شمار 
 قلمی نسخے یوروپی شہروں کی لائبراریوں میں رکھے ہوے ہیں. مگر صرف ان کے 
پڑھنے کی اجازت ہے. ان کی فوٹو کاپی کرنے، یا کسی بھی طریقہ سے  نقل 
ممنوع ہے. مرحوم کا یہ بھی کہنا تھا کہ   ان میں لکھا ہوا مواد جب منظر عام پر 
آئیگا تو مسلمانوں کو اپنے کئی معاملات پر نظر  ثانی  کرنی پڑیگی.
سید شاہ نعیم الدین 
     


On Tuesday, November 12, 2013 1:28 PM, Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com> wrote:
جی ہاں فیروز ہاشمی صاحب ۔۔ بیشمار محیر العقل داستانیں ہیں جو آپ ہم سب بچپن سے سن پڑھ رہے ہیں۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ آج کے اس گوگل تحقیقی دور میں بھی ہمارے ادیب و شعراء انہی داستانوں کی بنیاد پر اسی تسلسل سے تخلیقات پیش کیے جا رہے ہیں۔
دو دہائی قبل آندھرا پردیش گروپ ون سروسز اور آل انڈیا سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کے سبب ہندو میتھالوجی بھی پڑھنا پڑا تھا اور تبھی اندازہ ہوا تھا کہ ہندو دیومالائی داستانوں اور متذکرہ داستانوں میں قدر مشترک ہے۔ حالانکہ نہ ہونی چاہیے کیونکہ دین ربانی ہم تک کسی ٹام ڈک ہیری کے ذریعے تو نہیں پہنچا بلکہ اس کے پس پشت وہ عظیم الشان سائنس "اسما و رجال" ہے جس کا مترادف آج تک ترقی یافتہ قومیں پیش نہیں کر سکیں۔
امید قوی ہے کہ آنے والے دور میں یہ سائنس بھی بھرپور طریقے سے انگریزی اور اردو میں (عربی میں تو پہلے سے موجود ہے مکتبہ الشاملہ کی شکل میں) جب آ جائے گی تب عقیدے یا عقیدت کے نام پر پھیلائی گئیں داستانوں کی حقیقت ہر کس و ناکس پر آشکار ہو جائے گی ان شاءاللہ۔ اور امید کی جانی چاہیے کہ اللہ کرے تب مسلکی اور فرقہ وارانہ طبقہ جاتی مذہبی تقسیم بھی ختم ہو جائے۔



2013/11/12 Firoz Hashmi <firoz...@gmail.com>
صحیح بات نقل کی ہے آپ نے۔ شکریہ
فیروزہاشمی

abdul aziz khan

unread,
Nov 13, 2013, 1:49:10 AM11/13/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جب لوگوں کا روزگار ہی دین بگاڑنے پر منحصر ہو تو ایمان کی سلامتی کہاں ممکن ہے۔ دینِ اسلام کسی تاریخی واقعہ کی وجہ سے بدل نہیں سکتا۔ احترام اپنی جگہ لیکن اس واقعے کی وجہ سے دینی اقدار کو پامال کرنا ہر حالت مین قابلِ مذمت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوتا کہ ان کی شہادت کی وجہ سے پوری امت میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوجاءے گی تو وہ کوءی اور طریقہ اختیار فرماتے إ یہ الگ بات کہ یزید کی بیعت وہ پھر بھی نہین کرتے إ


2013/11/13 Naeemuddin Syed Shah <sshah...@yahoo.com>

Mukarram Niyaz

unread,
Nov 13, 2013, 4:10:23 AM11/13/13
to bazmeqalam
عبدالعزیز خان بھائی۔ آپ ساری اچھی باتیں کرتے کرتے آخر میں پھر وہی داستانی تاریخ پر پلٹ گئے۔
امام بلاذری کی انساب الاشراف میں صحیح سند سے درج ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت پر رضامند ہو گئے تھے۔
بلاذری کی انساب الاشراف کے حوالے سے گوگل سرچ میں یہ الفاظ تلاش کر لیں :
أن يسيروه إِلَى يزيد فيضع يده فِي يده
اہل تشیع کے عالم دین جسٹس ایم اے مشتہی نے بھی اسی بات کا ذکر اپنی کتاب میں دلائل کے ساتھ کیا ہے۔ وہ بھی ملاحظہ کر لیجیے۔

ویسے واضح رہے کہ بادشاہ وقت کی بیعت سے رضامندی پر امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ الحمدللہ مستند احادیث شہیدِ کربلا (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت و تفوق کے ثبوت میں پیش کی جا سکتی ہیں۔


2013/11/13 abdul aziz khan <abdulaz...@gmail.com>

Aapka Mukhlis

unread,
Nov 13, 2013, 4:42:23 AM11/13/13
to bazm qalam
 جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت اور کوفہ کے بدلے ہوئے حالات کی خبر ملی تو انھوں نے مکہ واپسی کا قصد کر لیا تھا مگر  حضرت مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے خون کا بدلہ لینے پر اصرار کیا جس پرحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ان کی بات ماننی پڑی۔
جب کوفی لشکر نے قافلے کا محاصرہ کر لیا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے سپہ سالار کے سامنے تین تجاویز رکھیں کہ ان میں سے کسی ایک کو مان لیں۔
1۔مجھے دمشق جانے دیا جائے میں خود یزید سے مل کر سارے معاملات طے کر لوں گا۔
2۔ مجھے مکہ واپس جانے دیا جائے۔
3۔ مجھے سرحد کی طرف جانے دیا جائے جہاں اپنی زندگی جہاد میں بسر کردوں۔
یہ تجاویز کوفہ گورنر ابن زیاد کے پاس بھیجی گئیں اور اس نے بھی ان کو معقول قرار دیا مگر شمر ذی الجوشن نے اصرار کیا کہ تمھارے لیے اپنی پوزیشن بنانے کا بڑا اچھا موقع ہے۔ یہ موقع اور یہ قافلہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لیے ان لوگوں سے صرف اور صرف بیعت کے لیے کہو۔ چنانچہ شمر کے کہنے پر ابن زیاد نے صرف بیعت ہی کو قابلِ قبول قرار دیا۔
واضح رہے کہ یزید درحقیقت ابنِ زیاد کے خلاف تھا۔ اس نے ابنِ زیاد کو اس لیے کوفہ کا گورنر بنایا تھا کہ اگر وہ اس تازہ مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہوا تو اس سے جان چھوٹ جائے گی اور اگر اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ناخوشگوار کارروائی کی تو اس کا ذمہ دار ابنِ زیاد ہی قرار دیا جائے گا۔


2013/11/13 Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Nov 14, 2013, 1:52:34 PM11/14/13
to bazmeqalam
السلام علیکم، عزیزان من' یہ موضوع تاریخ کا موضوع ہے' لیکن افسوس کہ تاریخ سے نکل کر عقائد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ اس میں دونوں طرف کی انتہاء میں جانا ٹھیک نہیں۔ نہ ہی یزید کو اس سے بری قرار دیا جا سکتا ہے نہ ہی کلی مجرم۔
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ بنو امیہ مکہ کا سب سے مضبوط خاندان تھا' یہاں تک کہ جب بھی مسلمانوں سے مقابلے کیلئے مکہ والے نکلے تو بنو امیہ کی سرکردگی میں' بنو ھاشم انہی کے جھنڈے تلے نکل کر مسلمانوں سے لڑتے تھے۔ جب خلیفہ مظلوم رضی اللہ عنہ کے خلاف آگ بھڑکا دی گئی تب معاویہ رضی اللہ عنہ نے' جو کہ عرب سے مغربی دنیا کی طرف اسلام کا پرچم لہرا رہے تھے' بارھا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ شام تشریف لے آئیں لیکن خلیفہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا کہ جہاں نبی علیہ السلام کے پاس ہجرت کی ہے وہ جگہ نہیں چھوڑ سکتا۔ یہاں تک کہ خلیفہ رضی االلہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔ تین دن تک نعش کو نہیں اُٹھایا جا سکا' پھر تیسری رات لوگوں نے اُٹھا بھی لیا تو باغیوں نے بقیع میں داخل نہیں ہونے دیا پس جو دیوار مسلمانوں اور یہودیوں کی قبروں میں فاصل تھی اُس کے پار دفن کیا۔ کیا یہ ظلم ایسا نہیں کہ جس پر نوحہ کیا جائے؟ ایک دوست نے بتایا کہ پچھلے مہینے جمعہ کے دن خطیب صاحب نے منبر پر آ کر پوچھا' کیا معلوم ہے اِن دنوں میں تاریخ میں کون شہید ہوا تھا یا کیا گیا تھا؟ تو مسجد میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ کہنے لگے صد افسوس کہ خلیفہ مظلوم کی شہادت کا تذکرہ بھی نہیں۔ بہرحال' بنو امیہ بھی گوشت پوست کے انسان تھے اور طاقتور بھی تھے یہاں تک کہ علی کرم اللہ وجھہ کے دور میں بھی فتوحات کا سلسہ اس طرف نہیں رکنے پایا۔ یہ تمام اس لئے ذکر کیا کہ پس منظر معلوم ہو تو بہت سی باتیں سمجھنا آسان ہو جاتی ہیں۔ پس جب یزید حکمران بنا تو یہ سب حالات (یعنی بنو امیہ سے ٹکراؤ) اُس کے سامنے تھے۔ آپ ذرا غور کیجئے' آج کوئی سید زادہ کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں کھڑا ہو جائے کہ بعین وہی دین نافذ کروں گا جو اللہ کے رسول نے کیا' تو کیا اسے اول وہلے میں بغاوت نہیں مان لیا جائے گا؟ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی شان اس سے اعلٰی تھی' لیکن یزید ایک عام حکمران کی سوچ تو بہرحال رکھتا تھا۔
امام حسن رضی اللہ نے حسین رضی اللہ عنہ کو نصیحت کی تھی کہ کوفیوں کہ نہیں سننی' یہ تمہیں ایسے ہی خراب کریں گے جیسا کہ والد صاحب کو کیا۔ بہرحال امام رضی اللہ عنہ کو میری دانست میں تین باتوں نے نکلنے پر امادہ کیا۔
1۔ حجاز میں لوگوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ھاتھ پر بیعت کی تھی۔ جنہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے عھد کیا تو اُنہوں نے تو عھد نہیں توڑا لیکن اکثریت نے عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کے ھاتھ پر بیعت کر لی۔ پس امام صاحب سمجھتے تھے کہ کچھ تگ و دو سے اس خلافت کو اتم کیا جا سکتا ہے۔
2۔ خطوط جو کہ اہل کوفہ نے لکھے۔ پس خطوں کا تھیلا امام صاحب ساتھ لے کر کوفہ کی طرف چلے تھے۔
3۔ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا پیغام کہ اگر ضرورت پڑی تو دس ہزار سے زائد جنگجو شہر میں آپ کی مدد کیلئے موجود ہیں۔
ابھی یہ معاملات چل رہے تھے کہ یزید نے اپنے چچیرے بھائی ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا اور یہ ذمہ داری سونپی کہ امام صاحب کوئی ایسا کام نہ کر سکیں جو حکومت کیلئے نقصان دہ ہو۔ پس ابن زیاد نے آتے ہی قتل و غارت اور زد و کوب کے ذریعے حالات کو سمبھالنے کی کوشش کی۔ مسلم بن عقیل نے قبل از وقت جوانوں کو اکٹھا کیا اور گورنر سے مقابلے کو نکلے لیکن یہ مددگار ایک دن بھی نہ ٹہر سکے اور تتر بتر ہو گئے یہاں تک کہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو ایک عورت کے گھر سے پکڑ کر بغاوت کے الزام میں شہید کر دیا گیا۔
یہ بات امام صاحب تک پہنچی تو مشہور ہے کہ اُنہوں نے شائد کوفیوں سے دل برداشتہ ہو کر واپسی کا ارادہ کیا کہ خواہ مخواہ فتنہ پھیلے گا' لیکن مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں نے بغیر بدلے کے واپسی قبول نہ کی تو امام رضی اللہ عنہ نے سفر جاری رکھا۔ ابن زیاد نے خط و کتابت پر خوب پابندی لگا رکھی تھی کہ کوفہ کے لوگوں کو امام صاحب کے قریب پہنچنے کی خبر بھی نہ ہوئی' جب تک ہوئی تب تک غالبا شہادت ہو چکی تھی۔ خبر ہو جاتی تو معلوم نہیں ساتھ دیتے یا وہی کرتے جو مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔
شمر کا اصرار تھا کہ ہتھیار ہمارے حوالے کریں اور بغیر کسی شرط کے ہمارے ساتھ گورنر کے پاس چلیں۔ گویا یہ ایک ملزم کی سی حیثیت بنتی تھی۔ یہ امام صاحب کے شایان شان نہ تھی۔ ابن زیاد سے ویسے ملاقات امام صاحب جیسا عالی مرتبت گوارہ نہیں کرتا کجا کہ بطور ملزم کے پیش ہو۔ یزید کیوںکہ حکمران بن چکا تھا اس لئے اُس سے ملنا تو ضروری تھا ہی' پس یہی امام صاحب نے کہا کہ میرا رستہ چھوڑ دو میں خود یزید سے مل کر معاملات طے کر لوں گا۔
جو شخص اس بات کا راوی ہے کہ کس نے پہلا تیر امام صاحب رضی اللہ عنہ پر چلایا وہی اس بات کا بھی راوی ہے کہ کچھ عرصے بعد اس تیر چلانے والے کا سر اُس نے ایک لکڑی پر ٹنگے ہوئے دیکھا' پھر لکڑی کو سر سمیت جلا دیا گیا۔ جب امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا شر مبارک ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو طنزیہ مسکرا کے کہنے لگا' اچھا تو یہ ہیں جن کے حسن کے چرچے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ موجود تھے غصے سے کہنے لگے کیسی بات کرتے ہو کیا تم نہیں جانتے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہیں؟ بہرحال یہ بھی تاریخ میں لکھا ہے کہ ابن زیاد کے ساتھ تین اور جرنیل کچھ ہی عرصے بعد قتل کر دئے گئے اور ایسے ہی ان کے سر زمین پر دھرے گئے تو ایک سانپ آیا جو ناک یا کان سے داخل ہوتا تھا کچھ دیر اندر رہ کے نکلتا تھا۔ ایسا بارھا کر کے غائب ہو گیا۔ یہ عبرت ہے۔
یزید کے حالات معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کیسے تھے' یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر ان شاء اللہ پھر ضرورت پڑی تو بات کریں گے۔ لیکن اس واقعے کے بعد تو حالات بد تر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ واقعہ حرا بھی پیش آیا جو کہ اکیلا ہی یزید کے فسق کیلئے کافی ہے۔
پورے سانحے کے تمام واقعات میں آدھے سے بھی کم ایسے ہیں جن کی کوئی نہ کوئی سند ہے۔ پھر ان لڑیوں کو ایک کرنے میں داستان گو حضرات نے اپنی منطق کے مطابق اپچ لگانے کی کوشش کی ہے۔ پس اسطرح ایک مکمل ملع ساز داستان بن گئی۔ اس واقعے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فساق کو عادل ثابت نہیں کیا سکتا لیکن داستان ایسی بھی نہیں جیسی بیان کی جاتی ہے۔
شائد بات اور لمبی کرنا مناسب نہیں۔
مع السلام
ہمایوں رشید۔


2013/11/13 Aapka Mukhlis <aap...@gmail.com>

aapka Mukhlis

unread,
Nov 14, 2013, 2:28:40 PM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جہاں تک میرے علم میں ہے اہلِ حجاز نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کے لیے بعیت کی تھی اس سے پہلے انھوں نے یزید کے خلاف علم بلند نہیں کیا تھا۔

Humayun Rasheed

unread,
Nov 14, 2013, 2:53:38 PM11/14/13
to bazmeqalam
جی ھاں علم بلند کرنا بعد کا مسئلہ ہے لیکن اگر آپ البدایہ والنہایہ میں یزید اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خط و کتابت دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یزید حجازیوں سے خائف تھا' جب اُسے معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیعت پر قائم ہیں اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں دے رہے تو اُس نے شکریہ ادا کیا اور اس بات پر امادہ کیا کہ لوگوں کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے متنفر کریں تاکہ کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔ لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صاف بتا دیا کہ بیعت نہ توڑنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے قابل نہیں سمجھتے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی جن معدودے چند خواص نے یزید کی بیعت کا صاف انکار کیا تھا اُن میں ابن زبیر اور حسین رضی اللہ عنھما پیش پیش تھے۔
جب امام رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے تب لوگوں نے بیعت بھی توڑی اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے ھاتھ پر کھلم کھلا بیعت بھی کی جس پر سیخ پا ہو کر یزید نے مدینہ پر چڑھائی کا حکم دیا۔ گویا بات پہلے سے چل رہی تھی لیکن ظاہر واقعے کے بعد ہوئی۔ زیادہ نہیں شاید چند ماہ کا عرصہ ہے جس میں یہ سب کچھ ہو گیا۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے معاملے میں اقدامی کاروئی نہ کرتے تھے دفاعی کرتے تھے' علی رضی اللہ عنہ کی صنیع پر' اور اسی کوشش میں تھے کہ خلافت اُسی نہج پر قائم رہے جس پر اول حضرات نے کی۔ لیکن بنو امیہ کے روایتی طریقہ حکمرانی اور سیاست کے سامنے یہ طریقہ نہ چل سکا یہاں تک کہ مکہ میں شہید کر دئے گئے۔
یہ میری سمجھ ہے' تاریخ سے کسی ایک پہلو پر جزم شائد ناممکنات میں سے ہے' یہاں تک کہ جو بات بین بین ہو اُسے اُسی درجے میں مان لینا چاہئے' کسی ایک طرف نکالنے کی کوشش میں توازن نہیں رہے گا۔


2013/11/14 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>

Dr.Miqdad Hussain

unread,
Nov 16, 2013, 9:53:25 AM11/16/13
to bazme...@googlegroups.com
مکرمی
۔میری ناقص عقل یہ سسمجھنے سے قاصر ھے کہ سائنس" اسما ء الرجال" ذیادہ محیرالعقول ہے یا واقعات کربلا؟
کیا کسی ایک شخص کا ملک ملک؛شھر شھر،قریہ قریہ حاکر کسی راوی کے حالات معلوم کرنا،اسکے کردار اور اقوال کا غیر جانبدارانہ محاسبہ کرنا کیا عقل قبول کرسکتی ہے۔
اسکے بر خلاف عقل یہ قبول کر سکتی ہےکہ سياسی اور قبایلی عصبیت کے باعث اہل باطل اہل حق  پر یقینا ظلم کر سکتے ہین اگر چیکہ داستان بیان کرنے میں دونوں گروہ مبالغہ آرائ کرسکتے ھیں۔



--
Dr. Miqdad M.P.T(Neurology), M.I.A.P
Cell: 9949350488

Syed Raheem

unread,
Nov 16, 2013, 10:10:27 AM11/16/13
to BAZMe...@googlegroups.com

رزق کی تلاش میں انسان شہر شہر ملک ملک در بدر پھر کر کچھ تو کچہ لوگوں کے '  ملکوں کے  '  شہروں کے حالات وضع قطع رہن سہن چال ڈھال سے واقف ہوہی جاتا ہے نا اور پھر آپ بیتی اور جگ بیتی لکھنے بیٹھ جاتا ہے سینکڑوں کے بارے میں صفحات کے صفحات سیاہ کردیتا ہے تو سائینس یہ بھی تو ہے کہ انسان اس مقصد (اسماء الرجال) کے حصول کے لئے اپنے آپ کو وقف کردے اور وہ حاصل کرے جس کو آج ہم قیاسوں کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں چہ جائے کہ ان کی کوشش' خدمت دین '  جدوجہد پر شکوک کا اظہار کریں جو فی زمانہ مستشرقین (جن کو تحقیق علم کا بڑا نازہے ) بھی انکار نہیں کرتے۔

سید رحیم عمری


--

Humayun Rasheed

unread,
Nov 16, 2013, 2:40:28 PM11/16/13
to BAZMe...@googlegroups.com

محترم، اسماء الرجال ایسا نہیں ہے کہ ایک آدمی کے دل میں آیا اور اس نے لوگوں کے بارے میں پوچهنا شروع کر دیا. ہر علاقے میں لوگوں کی اچهی بری شہرت ہوا کرتی ہے. پس جب اس سے کوئی روایت بیان کی جاتی تو ساته راوی کی حیثیت بهی بیان کی جاتی. دوسری صدی کے اواخر میں طوالت سے بچنے کیلئے اسماء الرجال کو روایت کی کتابوں سے علیحدہ ڈکر کیا جانے لگا.
حدیث کے راوی تو بے انتہاء تهے لیکن اب صرف وہ مذکور ہیں جو شہرت رکهتے تهے، پس کتابوں میں انہی پر جرح و تعدیل باقی رہ گئی. ذرا سوچئے کیا 100 سے 110 ہجری میں 500 لوگ تمام سلطنت میں حدیث بیان کرتے ہوں گے؟ ایسا نہیں ہے. بلکہ 5000 سے بهی زائد بیان کرتے تهے لیکن مثلا 120 یا 130 ہجری میں لوگوں نے باقیوں کو ترک کر دیا اور 500 کو رکها. پهر انہی 500 کی جرح اور تعدیل بهی باقی رہ گئی.
پهر یہ کہ کتابیں لکهی جاتی تهیں پهر متروک ہو جاتی تهیں. مثلا کیا امام بخاری رحمہ اللہ کے دور میں اور کسی نے نہیں لکهی؟ ایسا نہیں ہے. بلکہ جب ایک محدث کسی نئے صنیع پر بہتر تالیف کرتا ہے اور بعد کے لوگ اس کے بعد بعض کتابوں سے استغنی محسوس کرتے ہیں تو وہ متروک ہو جاتی ہیں اور یہ رہ جاتی ہے. اسماء الرجال میں بهی ایسا ہی ہے، لکهنے والوں نے پہلے سے مقبول و مکتوب عام باتوں کو اکٹها کیا، پس ہم عصروں نے اس تالیف کے بعد پہلے سے موجود صحیفوں اور رسالوں سے استغناء سمجها تو انہیں متروک کر دیا کیونکہ اب انہیں ساته رکهنے کی ضرورت نہیں رہی تهی.
ایسی تحریریں تب سامنے آتی ہیں جب ایک خداداد صلاحیت کا آدمی خود کو اس کام کیلئے وقف کر دیتا ہے. پس اسکا نام اور کام باقی رہ جاتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ پہلے کچه تها ہی نہیں اور اس نے اچانک کچه کر دیا.
اسماء الرجال کی کتابوں میں بعض اوقات ایک ہی راوی کے بارے میں مختلف آراء بهی ہوتی ہیں، مولف کی رائے زیادہ اہمیت نہیں رکهتی بلکہ اسکی رائے اہمیت رکهتی ہے جو اس آدمی سے ملا ہو اور جانتا ہو.  مولف کی رائے ایسی ہی ہے جیسی کسی بهی اور عالم کی.

الغرض یہ ایک متصل، مسلسل اور متواتر عمل ہے جس میں ہر نسل پچهلی نسل سے علم لیتی آئی ہے. اس میں کچه بهی ماورا العقل نہیں. اب اسی بزم پر لوگوں کی اچهی بری شہرت ہے یا نہیں؟ کیا ممکن نہیں میں اسماء الرجال کی کتاب لکهوں جس میں پاکستان کے 500 لوگوں کا ذکر ہو، کوئی اور لوگ بهی لکهیں اور 2025 میں کوئی آدمی بعد تحقیق او تنقیح ایک جگہ تمام لکه دے تو کیا ضرورت باقی رہے گی اول الذکر کتابوں کی؟ خاص طور پر جب اسی دور کے لوگ اس تالیف کو عموما قبول بهی کر لیں کہ هاں اس نے پہلے والوں کی باتیں اکٹهی کر لی ہیں.

آپ کی دوسری بات، واقعہ کربلا. میرے علم کی حد تک کسی نے ظلم کی داستان ہونے کا انکار نہیں کیا، نہ ہی اس بات کا انکار ہے کہ ظلم کیا بهی اہل حکم نے ہے. اختلاف مجرموں کے جرم کی حد بیان کرنے میں ہے.

مع السلام
ہمایوں رشید.

--

Dr.Miqdad Hussain

unread,
Nov 17, 2013, 6:00:21 AM11/17/13
to bazme...@googlegroups.com
محترم ھمایون صاحب۔آپ نے بزم قلم کا حوالہ دیا ہے جس نے میری الجھن اور بڑھا دی ہے مثلا بزم میں آپ'مخلص صاحب' شیخ مقصودصاحب ایک طرف ہیں تو دوسری طرف ڈاکٹر شیر شاہ کا گروپ ہے اب اگر آپ طالبان کے تعلق سے کوئ نظریہ قائم کرنا چاہیں تو کس طرح کریں گے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ھمارے لیے یہ ناممکن ہے کہ ھم طالبان'شام' مصر یا افغانستان کے تعلق سے صحیح اور یقینی راے قائم نہیں کر سکتے تو آج سے چودہ سو سال پہلے کے واقعات پر کسطرح راے زنی کر سکتے ہیں۔


2013/11/16 Dr.Miqdad Hussain <miqdad....@gmail.com>

Maqsood Sheikh

unread,
Nov 17, 2013, 7:42:50 AM11/17/13
to BAZMe...@googlegroups.com

ڈاکٹر صاحب
میں عرض کروں گا کہ میرا تعلق بزم کے کسی گروپ سے نہیں ۔ میں ٓازادانہ اظہار رائے کرتا ہوں ۔ جب کبھی ڈاکٹر شیر شاہ کی بات پسند ائے تو ان کو بھی داد دیتا ہوں ۔ ہاں! سیاسی اور مذہبی بحث میں حصہ لینے سے باز رہتا ہوں ۔ میں بزم مین اس لئے حصہ لیتا ہوں کی اس کے موڈریٹر ہر کسی کا نقطۃ نظر پیش کر دیتے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے ۔
بریڈفورڈ (یوکے) ۔
ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ 

Humayun Rasheed

unread,
Nov 17, 2013, 11:49:11 AM11/17/13
to BAZMe...@googlegroups.com

پہلی بات تو یہ کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا نام بہت اچها ہے، جلیل القدر مہاجر صحابی کا نام ہے جن سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کا حکم دیا. کہتے ہیں لمبے چوڑے اور بالوں والے تهے کہ دیکهنے والے پر ہیبت طاری ہو جاتی تهی.
موضوع پر آتے ہیں. آپ تاریخ اور اسماء الرجال میں شاید فرق نہیں کر پا رہے. جو باتیں آپ نے بیان کیں یہ تاریخ کی ہیں. اسماء الرجال کا موضوع ایک آدمی ہوتا ہے، کہ مثلا، کب پیدا ہوا، علم کس سے حاصل کیا، تصانیف کیا ہیں، تلامذہ کون ہیں، کہاں کا سفر کیا، اسکے بارے میں دوسرے کیا رائے رکهتے تهے، عقیدے کے بارے میں کیا کہتا تها، حکمرانی کی تو کہاں اور کیسی، صوفیانہ رنگ تها فقیہانہ یا محدثانہ، مخالف کیا کہتے تهے اور موافق کیا، دیکهنے میں کیسا تها، لباس اور کاروبار، عمر کے کون سے حصے میں کیا کیا، کہاں فوت ہوا، اولاد زواج آباء وغیرہ وغیرہ. میں سے جو معلوم ہو سکے پیش کر دیا جاتا ہے.
دوسرا یہ کہ ایک آدمی کا نظریہ پیش نہیں کیا جاتا بلکہ جتنے لوگ بولتے ہیں سب قابل ذکر کی رائے جمع کر دی جاتی ہے تاکہ رائے کا وزن بهی معلوم ہو جائے.
دوسری بات تاریخی واقعات والی، تو رائے زنی نہیں کرنی چاہئے، میں آپ سے متفق ہوں. تاریخی واقعات پر نہ ہی رائے زنی کرنی چاہئے نہ ہی ان سے عقائد اخذ کرنے چاہئیں اور نہ ہی تاریخی واقعات سنا سنا کر لوگوں کو برانگیختہ کرنا چاہئے. یہ مرض مشرقی ممالک میں عام ہے خصوصا برصغیر میں تو شاید اسے ہی اہم سمجها جاتا ہے، اللہ تعالی ہمیں ہدایت دے.
مع السلام
ہمایوں رشید.

--

Rasheed Ansari

unread,
Nov 17, 2013, 12:41:58 PM11/17/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Rasheed  Ansari.
============
    Points    eaised     by   Mohtram  Maqsood  Shaikh    cannot  be  denied   by  any  prudent  person.
   Similarly  Dr.     Miqdad   is   also   correct.
        We   must  agree   that   our  History   is   not  100%   correct.,    nence  why  unnecessary
arguments?     


Syed Ahmed

unread,
Nov 17, 2013, 2:16:43 PM11/17/13
to bazme...@googlegroups.com

محترم حضرات وبزم قلم کے پیارے دوستو
اللہ سب کو سلامت رکھے، اختلافِ رائے تو انسانی فطرت ہے، اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس طرح افہام وتفہیم کا راستہ کھلا رہتا ہے، لیکن پورا فائدہ جبھی ہوسکتا جب ہم سب ایک دوسرے کو برداشت کریں، دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ جب بحث زیادہ طویل ہو جاتی ہے تو پھر ضد رہ جاتی ہے اور جانبین میں سے کوئی بھی پھر کسی کی بھی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا، آخر پھر اس کا فایدہ کیا، سوائے ایک دوسرے پر دبے لفظوں میں اتہام اور لفظی دشنہ اندازی کے کچھ باقی نہیں رہتا اور جس شدّت پسندی سے ہر شخص بیزاری ظاہر کرتا ہے نہ چاہتے ہوئے خود اس کا شکار ہو جاتا ہے، بڑا ہی اچھا
ہوگا کہ ہم مسائل کو چھیڑ کر انتہائی ضبط وتحمّل کا مظاہرہ کریں.
اور ایک دوسرے کی قدر کریں کہ ہمارا مخاطب جاہل نہیں گو کہ نظریہ اور رائے کا اختلاف ہے.
خدا ہم سب میں محبتیں پیدا فرما دے.
نا کارہ
سید احمد
14/1/1435ھ
17/11/2013ء

------------------------------

Syed Ahmed

unread,
Nov 17, 2013, 2:16:42 PM11/17/13
to bazme...@googlegroups.com

Mukarram Niyaz

unread,
Nov 17, 2013, 3:34:57 PM11/17/13
to bazmeqalam
جزاک اللہ خیرا۔
سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل اقتباس ۔۔۔۔۔

اسماء الرجال کا موضوع ایک آدمی ہوتا ہے، کہ مثلا، کب پیدا ہوا، علم کس سے حاصل کیا، تصانیف کیا ہیں، تلامذہ کون ہیں، کہاں کا سفر کیا، اسکے بارے میں دوسرے کیا رائے رکهتے تهے، عقیدے کے بارے میں کیا کہتا تها، حکمرانی کی تو کہاں اور کیسی، صوفیانہ رنگ تها فقیہانہ یا محدثانہ، مخالف کیا کہتے تهے اور موافق کیا، دیکهنے میں کیسا تها، لباس اور کاروبار، عمر کے کون سے حصے میں کیا کیا، کہاں فوت ہوا، اولاد زواج آباء وغیرہ وغیرہ. میں سے جو معلوم ہو سکے پیش کر دیا جاتا ہے.
دوسرا یہ کہ ایک آدمی کا نظریہ پیش نہیں کیا جاتا بلکہ جتنے لوگ بولتے ہیں سب قابل ذکر کی رائے جمع کر دی جاتی ہے تاکہ رائے کا وزن بهی معلوم ہو جائے.
دوسری بات تاریخی واقعات والی، تو رائے زنی نہیں کرنی چاہئے۔۔۔۔ تاریخی واقعات پر نہ ہی رائے زنی کرنی چاہئے نہ ہی ان سے عقائد اخذ کرنے چاہئیں اور نہ ہی تاریخی واقعات سنا سنا کر لوگوں کو برانگیختہ کرنا چاہئے.


2013/11/17 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages