Groups
Groups

" حکایات رومی "

142 views
Skip to first unread message

M.Shahid Rizwan

unread,
Nov 14, 2013, 4:46:42 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

  • حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل جا رہے تھے کہ اُنھوں نے ایک چرواہے کی آواز سنی.. وہ اونچی اونچی کہہ رہا تھا..

    ’’اے میرے جان سے پیارے خدا.. تُو کہاں ہے..؟ میرے پاس آ.. میں تیرے سر میں کنگھی کروں ' جوئیں چنوں ' تیرا لباس میلا ہو گیا ہے تو دھوؤں ' تیرے موزے پھٹ گئے ہوں تو وہ بھی سیئوں ' تجھے تازہ تازہ دُودھ پلاؤں ' تو بیمار ہو جائے تو تیری تیمارداری کروں..

    اگر مجھے معلوم ہو کہ تیرا گھر کہاں ہے تو تمھارے لیے روز گھی اور دُودھ لایا کروں.. میری سب بکریاں تم پر قربان.. اَب تو آ جا.. "

    حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس کے قریب گئے.. اور کہنے لگے.. " ارے احمق.. تُو یہ باتیں کس سے کر رہا ہے..؟ "

    چرواہے نے جواب دیا.. " اُس سے کر رہا ہوں جس نے تجھے اور مجھے پیدا کیا اور یہ زمین آسمان بنائے.. "

    یہ سن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غضب ناک ہو کر کہا.. " ارے بدبخت.. تُو اِس بیہودہ بکواس سے کہیں کا نہ رہا.. بجائے مومن کے تُو تو کافر ہو گیا.. خبردار ایسی بے معنی اور فضول بکواس بند کر.. تیرے اِس کفر کی بدبو ساری دُنیا میں پھیل گئی..

    ارے بے وقوف.. یہ دُودھ ' لسی ہم مخلوق کے لیے ہے ' کپڑوں کے محتاج ہم ہیں ' حق تعالیٰ ان حاجتوں سے بے نیاز ہے.. نہ وہ بیمار پڑتا ہے نہ اِسے تیمارداری کی ضرورت ہے نہ اِس کا کوئی رشتہ دار ہے.. توبہ کر اور اِس سے ڈر.. "

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غیظ و غضب میں بھرے ہوئے یہ الفاظ سن کر چرواہے کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا ' چہرہ زرد پڑ گیا اور بولا.. " اے خدا کے جلیل القدر نبی ! تُو نے ایسی بات کہی کہ میرا منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور مارے ندامت کے میری جان ہلاکت میں پڑ گئی.. "

    یہ کہتے ہی چرواہے نے سرد آہ کھینچی ' اپنا گریبان تار تار کیا اور دیوانوں کی طرح اپنے سر پر خاک اُڑاتا ہوا غائب ہو گیا..

    حضرت موسیٰ علیہ السلام حق تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہِ طور پر گئے تو خدا نے فرمایا.. " اے موسیٰ ! تو نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کیوں کیا..؟ تو دُنیا میں جدائی کے لیے آیا ہے یا ملاپ کے لیے..؟

    خبردار ! اِس کام میں احتیاط رکھ.. ہم نے اپنی مخلوق میں ہر شخص کی فطرت الگ بنائی ہے اور ہر فرد کو دوسروں سے جدا عقل بخشی ہے.. جو بات ایک کے حق میں اچھی ہے وہ دوسرے کے لیے بُری ہے.. ایک کے حق میں تریاق کا اثر رکھتی ہے وہی دوسرے کے لیے زہر ہے.. ایک کے حق میں نور اور دوسرے کے حق میں نار.. ہماری ذات پاکی و ناپاکی سے مبریٰ ہے..

    اے موسیٰ ! یہ مخلوق ہم نے اِس لیے پیدا نہیں فرمائی کہ اِس سے ہماری ذات کو کوئی فائدہ پہنچے.. اِسے پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اِس پر ہم اپنے کمالات کی بارش کریں.. جو شخص جس زبان میں بھی ہماری حمد و ثناء کرتا ہے اِس سے ہماری ذات میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی.. مدح کرنے والا خود ہی پاک صاف ہوتا ہے.. ہم کسی کے قول اور ظاہر پر نگاہ نہیں رکھتے ہم تو باطن اور حال دیکھتے ہیں..

    اے موسیٰ ! خردمندوں کے آداب اور ہیں دل جلوں اور جان ہاروں کے آداب اور.. "

    حضرت موسیٰ نے جب خدا کا یہ عتاب آمیز خطاب سنا تو سخت پشیمان ہو ئے اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت ندامت اور شرم ساری سے معافی مانگی.. پھر اِسی اضطراب اور بے چینی میں اِس چرواہے کو ڈھونڈنے جنگل میں گئے.. صحرا و بیابان کی خاک چھان ماری پر چروہے کا کہیں پتا نہ چلا.. اِس قدر چلے کہ پیروں میں چھالے پڑ گئے لیکن تلاش جاری رکھی آخر آپ اِسے پا لینے میں کامیاب ہوئے..

    چرواہے نے انھیں دیکھ کر کہا.. " اے موسیٰ ! اب مجھ سے کیا خطا ہوئی ہے کہ یہاں بھی آ پہنچے..؟ "

    حضرت موسیٰ نے جواب دیا.. " اے چرواہے ! میں تجھے مبارک دینے آیا ہوں.. تجھے حق تعالیٰ نے اپنا بندہ فرمایا اور اِجازت عطا کی کہ جو تیرے جی میں آئے ' بلا تکلف کہا کر.. تجھے کسی ادب و آداب ' قاعدے ضابطے کی ضرورت نہیں.. تیرا کفر اصل دین ہے اور دین نورِ جاں.. تجھے سب کچھ معاف ہے بلکہ تیرے صدقے میں تمام دُنیا کی حفاظت ہوتی ہے.. "

    چرواہے نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا.. " اے پیغمبر خدا ! اب میں اِن باتوں کے قابل ہی کہاں رہا ہوں کہ کچھ کہوں.. میرے دِل کا خون ہو چکا ہے.. اب میری منزل بہت آگے ہے.. تُو نے ایسی ضرب لگائی کہ ہزاروں ' لاکھوں سال کی راہ طے کر چکا ہوں.. میرا حال بیان کے قابل نہیں اور یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اِسے بھی میرا احوال مت جان.. "

    مولانا رومی اِس حکایت سے ما حاصل یہ نکالتے ہیں کہ " اے شخص جو تو حق تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے کیا سمجھتا ہے..؟ تُو تو ابتداء سے اِنتہا تک ناقص اور تیرا حال و قال بھی ناقص.. یہ محض اِس پروردگار رحمن و کریم کا کرم ہے کہ وہ تیرے ناقص اور گندے تحفے کو قبول فرماتا ہے..!! "

    " حکایات رومی "

Mohammed Shahid Rizwan



Qamar Alam

unread,
Nov 14, 2013, 5:35:01 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

بهت خوب رضوان صاحب،
اسی حکایت کا ما حصل شعر:
تو برای وصل کردن آمدی،
نی برای فصل کردن آمدی،

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Ghazi Ozair

unread,
Nov 14, 2013, 5:42:39 AM11/14/13
to bazme...@googlegroups.com
Assalamo Alaikum ...
 
Yeh sab bakwas aur khurafaat ke siwa kuch naheen. Kiya Rumi ko in sab baaton ki wahi aayee thi? Agar naheen to unko kaisey pata chala? Kiya is qissey ka tazkarah Qur'an main hai? Kiya Allah ke Rasool (mpbuh) ne kabhi is ka tazkarah farmaya hai? Agar naheen to in sab shaitani baton se tobah karein. 

 

Date: Thu, 14 Nov 2013 01:46:42 -0800
From: abu....@yahoo.com
Subject: [مراسلہ نمبر:30075] " حکایات رومی "
To: BAZMe...@googlegroups.com

Maqsood Sheikh

unread,
Nov 14, 2013, 6:11:53 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

چشم کشا حکایت ۔ شاد باد شاہد رضوان و قمر عالم ۔ اسی طرح بزم سجاتے رہیئے۔
مقصود

Maqsood Sheikh

unread,
Nov 14, 2013, 6:17:41 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

غازی صاحب اپ سے تعارف نہیں مگر کہے بنا رہا نہیں جاتا ۔ ایک سبق اموز حکایت کو بکواس اور خرافات کہنا ؟؟؟؟ خدا ہم سب کو ہدایت دے ۔ امین

Syed Ahmed

unread,
Nov 14, 2013, 6:26:52 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب شاہد رضوان صاحب                     سلام مسنون
بہت خوب حکایت نقل کی ہے بلکہ اس کو اپنی زبان میں پیش کیا ہے، در اصل یہ حکایت مسلم شریف میں آئی ہے، شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ہمارے مزاج کے اعتبار سے پیش کیا ہے۔
اس گرما گرمی کے ماحول میں اس حکایت نے روح افزا کا کام کیا ہے۔
والسلام
سید احمد
9-1-1435ھ
12-11-2013ء


M.Shahid Rizwan

unread,
Nov 14, 2013, 6:27:29 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم جناب ڈاکٹر مقصود الہٰی شیخ صاحب
آپ بار بارمجھےشرمندہ کر رہے ہیں، آپکی حوصلہ افزائی اور پذیرائی پر دلی مشکور و ممنون ہوں
Mohammed Shahid Rizwan

Hajra Bano

unread,
Nov 14, 2013, 10:33:08 AM11/14/13
to BazmeQalam
bahut khob ..subhan allaha..iss tarah ki hikayat ko ziada se ziada tar logon k pass puhunchna chahyye.......


2013/11/14 M.Shahid Rizwan <abu....@yahoo.com>



--
Hajera bano

Qamar Alam

unread,
Nov 14, 2013, 10:52:56 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

بهت شکریه مقصود صاحب، اصلی کارنامه تو رضوان صاحب کا هي، مین تو فارسی ادب کا ادنی طالب علم هون.

Qamar Alam

unread,
Nov 14, 2013, 11:05:12 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Maaf kijiyega umair ghazi sb. Apni jazbat m itni is hikayat or maulana room ko badi bakwas keh diya,apko to abhi bht sakht zrurt h maulana ko sahi se padne ki ye wahi maulana romi hain:

چه تدبیر ای مسلمانان که من خود را نمی دانم،
نه ترسم،نه یهودم من،نه گبرم،نه مسلمانم،
مکانم لا مکان باشد،نشانم بی نشان باشد....

Qamar Alam

unread,
Nov 14, 2013, 11:51:08 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

مولانا روم کی غزل سی چند شعر ملاحظه هو::
نه شرقیم، نه غربیم، نه برییم، نه بحریم،
نه از کان طبیعییم، نه از افلاک گردانم،

نه از هندم، نه از چینم، نه از بلغار و سقسینم،
نه از ملک عراقینم، نه از خاک خراسانم،

مکانم لا مکان باشد، نشانم بی مشان باشد،
نه تن باشد،نه جان باشد که من از جان جانانم،

دوئ از خود بدر کردم،یکی دیدم دو عالم را،
یکی جویم، یکی دانم، یکی یابم، یکی خوانم،

الا ای شمس تبریزی، چنین مستم درین عالم،
که جز مستی و قلاشی، نباشد هیچ سامانم

محمد قمر ظالم علیگ

Syed Raheem

unread,
Nov 14, 2013, 11:56:28 AM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

تعجب ہے آپ نے بغیر حوالے کے مسلم شریف کا ذکر کردیا جب کہ یہ حدیث نہیں ہے اور مسلم شریف حدیث کی کتاب ہے شاید کہیں اسرائلیات میں ہو جس کی تصدیق کی جاسکتی ہے اور نہ تکذب وہ بھی اگر ہو تو۔۔۔۔

 

سید رحیم عمری


aapka Mukhlis

unread,
Nov 14, 2013, 2:13:15 PM11/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ کے حوالے سے اور انبیاء کے حوالے سے جو بات کی جائے اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر بات سے کئی مسئلے لوگ نکال لیتے ہیں۔ ہماری رہنمائی کے لیے اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافی ہے۔ بعض لوگ سنت نبوی سے بھی کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے جوشِ بیان و خطابت میں بہت سے الفاظ و فقرات کا اضافہ کردیتے ہیں جبکہ یہ باتیں من و عن بغیر کسی لفظ کی کمی بیشی کے بیان کرنی چاہییں۔ مذکورہ روایت جو حکایات رومی سے لی گئی ہے ظاہر ہے کہ رومی  پر وحی تو نہیں اتری تھی۔اور سید رحیم عمری صاحب نے کہا کہ یہ حدیث بھی نہیں اور قرآن میں بھی اس واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔ اگر یہ اسرائیلیات  سے لی گئی ہے تو ہم سب جانتے ہیں کہ سابقہ امتوں نے اپنی الہامی کتب تک میں بہت سی تحریفات کی ہیں اور گمراہ ہوگئے۔ علماء کہتے ہیں کہ اگر ان میں جو باتیں  شریعت اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہوں وہ مان تو سکتے ہیں کہ سچ ہوگا مگر اس کی وجہ سے وہ بھی قابلِ عمل نہیں ہیں۔ اس لیے اس ضمن میں بہت احتیاط 
کی ضرورت ہے۔ اب اسی روایت کو دیکھ لیجیے۔ اس کے  میں ایک جملہ اللہ سے منسوب کرکے لکھا گیا ہے
اے موسیٰ ! خردمندوں کے آداب اور ہیں دل جلوں اور جان ہاروں کے آداب اور.. "
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کے لیے شریعت کے احکامات مختلف ہیں۔ کوئی بھی خود کو دل جلا اور جان ہار قرار دے کر جو مرضی راستہ اختیار کرلے اور اگراس کو سنت کا راستہ بتایا جائے تو وہ اس حکایت کا حوالہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔
ازراہ کرم دینی حوالے سے کوئی بھی بات کرنے سے پہلے بالخصوص اللہ تعالیٰ سے منسوب کسی بھی بات پر یقین کرنے اور پھیلانے سے پہلے اس کے مستند ہونے کی تحقیق کر لیا کریں۔ 
والسلام
مخلص


Baderudduja Quadri

unread,
Nov 15, 2013, 10:18:36 PM11/15/13
to bazme...@googlegroups.com
Raheem saheb

yeh log aise hain ager koi autpatang baat deen ke baray main likhe maan laingay ager yehi baat unke baray main likho tho sari tahqeeq aur suboot mangain gay. Maslan ager shahed radwan saheb per ager koi ghalat ilzam lagao to woh fouran soboot mangain gay (kab kaise kahan) aur is waqt ham kaho ke ham kah rahay hain tho ghussa aaye ga, kahain gay bila suboot kaise ilzam laga rahay ho. Iska matlab saaf hai khud badalte nahin quran ko badal datay hain.
is aadmi ko aqal hi nahin imam ghazali aur muslim shareef main kitne sau saal ka zikr hai. ager yeh kaha jaye yeh shaks shahed per ager Mohan Das Karam chand gandhi ko halak kerne ka ilzam lagao to kaisa rahey ga? kiya woh chup chap qubool ker layga? hergiz nahin hum per hatk izat ka mamela darj kerwa ker bade se bada wakeel ki koshish kare ga. Allah in fitna angez logaon se bachayee.



From: syedrah...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: RE: [مراسلہ نمبر:30092] " حکایات رومی "
Date: Thu, 14 Nov 2013 19:56:28 +0300

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages
Search
Clear search
Close search
Google apps
Main menu