کچھ باتیں معمر افراد سے

26 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Jul 12, 2023, 5:49:24 AM7/12/23
to bazme qalam
کچھ باتیں معمر افراد سے
سہیل انجم
آج معمر افراد یعنی سینئر سٹیزنس سے کچھ باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہم بھی سینئر سٹیزن ہیں اور اس کلب میں داخل ہوئے چند سال ہو گئے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگ معمر حضرات کو بزرگ بھی کہتے ہیں۔ لیکن ہم خود کو اس کٹگری میں نہیں پاتے۔ کیونکہ شیخ سعدی بہت پہلے فرما گئے ہیں کہ ’بزرگی بہ عقل است نہ بسال‘۔ یعنی بزرگی عقل سے ہوتی ہے نہ کہ عمر سے۔ پورا شعر یوں ہے: تونگری بہ دل است نہ بمال، بزرگی بہ عقل است نہ بسال۔ یعنی مالداری دل سے ہوتی ہے مال سے نہیں اور بزرگی عقل سے ہوتی ہے عمر سے نہیں۔ میں امیر تیمور لنگ کے مقابلے میں ا س نابینا بڑھیا کو مالدار مانتا ہوں جس نے ایک جملے سے تیمور کو لاجواب کر دیا تھا۔ کسی معاملے میں اس بڑھیا کو تیمور لنگ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ بڑھیا تمھارا کیا نام ہے۔ ا س نے جواب دیا دولت۔ تیمور کو ہنسی آگئی۔ اس نے بڑھیا کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ کیا دولت بھی اندھی ہوتی ہے۔ بڑھیا نے کہا ہاں۔ اگر وہ اندھی نہ ہوتی تو ایک لنگڑے کے پاس کیوں آتی۔ (لہٰذا ہمیں کوئی نہ تو بزرگ سمجھے نہ مالدار۔ ہر کس و ناکس نہ تو بزرگ ہو سکتا ہے اور نہ ہی مالدار)۔ سینئر سٹیزنس کے بہت سے مسائل ہیں۔ جن میں دو مسئلے خاص ہیں۔ ایک بیکاری اور دوسرا بیماری۔ اگر کوئی شخص ملازمت پیشہ ہے اور سبکدوش ہو چکا ہے تو اس کے سامنے بیکاری سینہ تانے کھڑی ہو جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ سبکدوشی کے بعد کسی نہ کسی مصروفیت کا عصا تھام لیتے ہیں تو بیکاری ان کے سامنے جانے کی جرأت بھی نہیں کر پاتی۔ اس لیے ملازمت سے ریٹائر ہو جانے والوں کو نہ تو خود کو بوڑھا سمجھنا چاہیے، نہ تھکا ہوا، نہ بیکار نہ بے مصرف۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک بار کہا تھا ’نہ ٹائرڈ نہ ریٹائرڈ‘۔ اس کے بعد وہ وزیر اعظم بنے تھے۔ یہی جملہ چند روز قبل شرد پوار نے بھی ادا کیا ہے۔ حالانکہ وہ 82 سال کے ہو چکے ہیں اور ان کے بھتیجے نے ان کو بوڑھا ہونے کا طعنہ دیا ہے۔ اس لیے سبکدوش ہو جانے والوں کو خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھنا چاہیے۔ دیگر بہت سے معاملات کی مانند اس معاملے میں بھی انگریز بہت سمجھدار ہوتا ہے۔ وہ عمر کی آخری ساعت تک بھی خواہ وہ سو سال کی عمر کو کیوں نہ پہنچ جائے، خود کو جوان تصور کرتا ہے۔ خیالات انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ اگر آپ کے خیالات مثبت ہیں تو آپ کی صحت پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور اگر منفی ہیں تو آپ جسمانی طور پر بھی بیمار رہیں گے اور ذہنی طور پر بھی۔
جہاں تک صحت کا معاملہ ہے تو اس کے کئی پہلو ہیں۔ لیکن اگر معمر حضرات اپنی زندگی میں اعتدال کو اپناتے ہیں تو ان کے سامنے صحت کے مسائل بے اعتدالوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ عام طور پر ساٹھ سال کے بعد بلکہ پچاس سال کے بعد ہی انسان کو اپنے معمولات میں جن میں خورد و نوش کا معاملہ بھی شامل ہے، تبدیلی لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں سینئر سٹیزنس کے ایک واٹس ایپ گروپ پر بہت اچھی معلومات حاصل ہوئیں۔ اچھی معلومات کو دوسروں تک پہنچانا بھی اچھا کام ہے۔ لہٰذا یہ معلومات میں قارئین تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ معمر اور غیر معمر دونوں کٹگری کے لوگ اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آگرہ میں ایک ڈاکٹر ہیں جن کا نام ہے نریش ملہوترہ۔ انھوں نے اپنی ایک ویڈیو میں سینئر سٹیزنس کو صحت مند رہنے کے لیے دس مشورے دیے ہیں۔ ان مشوروں تک پہنچنے سے قبل یہ اطلاع بھی قابل غور ہے جو صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے دی ہے۔ اس کے مطابق سو میں سے صرف گیارہ افراد ایسے ہیں جو ساٹھ سال کی عمر کو پار کر پاتے ہیں اور سات افراد ایسے ہیں جو ستر سال کی عمر کو پار کر پاتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ ساٹھ سال سے اوپر ہیں تو خود کو خوش قسمت سمجھیے۔ ا س کائنات کی سب سے بڑی اور خوبصورت نعمت زندگی ہے۔ اس کی قدر کیجیے۔ ڈاکٹر نریش کا سینئر سٹیزنس کو مشورہ ہے کہ آپ پانی خوب پیجئے پیاس لگے یا نہ لگے۔ اس کا انتظار مت کیجئے کہ پیاس لگے گی تب پئیں گے۔ اپنے جسم کو جتنا ہو سکے متحرک رکھیے۔ یعنی لیٹ کر شب و روز گزارنے کے بجائے کام کیجیے۔ کام نہیں ہے تو چلیے، تیرئیے، کھیلئے۔ کھانا کم کھائیے۔ صرف اتنا کھائیے جتنا جینے کے لیے ضروری ہو۔ (ہمارے بزرگ بہت پہلے کم خوردن، کم گفتن، کم خفتن کا مشورہ دے چکے ہیں)۔ جو بھی کھائیں وہ صحت بخش ہو۔ ہر چہ آید در گھسیٹم والا معاملہ نہیں چلے گا۔ چینی بالکل چھوڑ دیں۔ دو ہفتے چینی چھوڑنے کا اثر آپ کے چہرے پر نظر آئے گا۔ گوشت میں چکن کھا سکتے ہیں۔ مچھلی زیادہ کھائیں۔ پروٹین والی سبزیوں کو اپنی خوراک بنائیں۔ گاڑی کا استعمال کم سے کم کریں۔ پیدل زیادہ چلیں۔ اگر آپ کسی کثیر منزلہ عمارت میں رہتے یا کام کرتے ہیں تو لفٹ کے بجائے ٹانگوں کو زحمت دیں۔ اگر سواری کرنی ہی ہے تو سائیکل کی کریں۔ ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر اسکیلیٹر کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔ غصہ کرنے سے بچیں۔ غصے پر کنٹرول کریں۔ کم بولیں اور بولنے سے پہلے سوچیں۔ یاد رکھیں کہ زبان دماغ سے تیز چلتی ہے اس کو قابو میں رکھیں۔ دولت کا لالچ چھوڑ دیں۔ کمانے کی ہوس کو بالائے طاق رکھ دیں۔ اگر آپ کے پاس دولت کی کمی ہے تو احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں بلکہ خود کو مطمئن رکھیں۔ غرور اور انا کو تج دیں۔ نرم گفتاری، خوش مزاجی اور خندہ پیشانی کو اپنی عادت بنا لیں۔ چھوٹوں سے پیار کریں۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ ان کی عزت کریں۔ آپ کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ انھوں نے ایک اور مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ کے بال سفید ہو گئے ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ ان کو ڈائی کرکے خود کو جوان دکھانے کی کوشش کے بجائے خود کو ان بالوں کے ساتھ ایڈجسٹ کریں۔ بعض لوگوں کے بال انتہائی کم عمری میں بھی سفید ہو جاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سینئر سٹیزنس کلب کے ارکان ان مشوروں پر عمل کریں تو صحت کے بہت سے مسائل سے نجات پا سکتے ہیں۔ معمر افراد کو بلکہ بہت سے لوگوں کو پچاس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے گھٹنا پریشان کرنے لگتا ہے۔ آپریشن کروا کر ان کو بدلوانے کی نوبت آجاتی ہے۔ مختار مسعود نے اپنی کتاب ’حرف شوق‘ میں لکھا ہے کہ انھوں نے نیویارک سے طب و صحت سے متعلق ایک کتاب خریدی۔ اس میں لکھا ہے کہ انسان کے جسم میں 187 جوڑ ہیں۔ گھٹنے کے جوڑ کو عمر بھر جتنا بوجھ اٹھانا پڑتا اور کام کرنا پڑتا ہے اتنی مشقت کسی اور جوڑ کی قسمت میں نہیں لکھی ہے۔ ا س جوڑ کے بنانے میں قدرت سے ذرا سی چوک ہو گئی اور یہ اتنا مضبوط نہ بن سکا جتنا اس کو ہونا چاہیے۔ صرف امریکہ میں تقریباً پانچ کروڑ افراد ایسے ہیں جو گھٹنے کے درد میں مبتلا ہیں۔ اگر علم کی دولت سے مالامال ملک کا یہ حال ہے تو ہمارے جیسے پسماندہ ملکوں میں اس کی تباہ کاری کا کیا عالم ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں گھبرا کر دوسری کتاب اٹھا لیتا ہوں۔ ڈھائی سو سال قبل مسیح وفات پانے والے یونا نی شاعر تھیوک رے ٹس کے اس قول پر نظر ٹھہر گئی کہ ’ہر شخص کا فرض ہے کہ جب تک اس کے گھٹنوں کا پھرتیلاپن سلامت ہے وہ جو کچھ بھی کر سکتا ہے وہ کر دکھائے‘۔ انھوں نے تفریح طبع کے لیے ایک دلچسپ بات بھی لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’نیویارک سے ڈاکٹر فصیح احمد نے لکھا کہ بیگم کے گھٹنے بدلوانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے عیادت اور ہمدردی کی آڑمیں مشورت اور شرارت سے کام لینا چاہا۔ میں نے ان کو لکھا کہ پاکستان اور امریکہ کی قیمتوں کا فرق آپ کے خط سے واضح ہے۔ یہاں ایک گھٹنا بدلنے کا معاوضہ ایک لاکھ روپے ہے۔ آپ نے دو کی قیمت پینتالیس ہزار ڈالر یعنی اکتیس لاکھ روپے لکھی ہے۔ اتنی رقم میں تو آپ کوہ قاف سے کئی صحت مند کنیزیں خرید سکتے ہیں۔ سنا ہے خط پڑھنے کے بعد ان کی بیگم کے گھٹنوں کا درد یکایک دور ہو گیا۔ اس طریقہئ علاج کو علاج بالخوف کہتے ہیں‘۔

Mirza Muhammad Nawab

unread,
Jul 12, 2023, 3:31:59 PM7/12/23
to BAZMe...@googlegroups.com
Suhail Saheb
Salam wa Rahmat
Dilchasp wa dilpazeer.
Dr. Naresh Malhotra Saheb k mashwaron mein awwal pani ka zyada istemal hai. Abhi kuch din pahle kahin padha tha k pani ka zyada istemal jism k namak ko tahleel kar deta hai aur jijsm mein namak ki kami ki shikayat hone lagti hai. Is liye pani ka istemal had se zyada nuqsan dah hota hai.

Safed balon ko khizab ya dye lagane ka bhi ek nuqsan hai aur cancer ka imkan hota hai. Safed balon ki apni khoobsoorti hoti hai aur khaleeji wa maghrabi mumalik mein log - bilkhusoon 20+40- khawateen balon k ek hisse ko/mein chamakti safed dye ka istemal karti hain. Mard k tail (in particular coconut oil) lage safed bal agar lambe wa ghane hon to chahra jazib-e-nazar ho jata hai.  

Achche aur saf suthre kapde, thodi ched chad, moseeqee wa adab bhi sihat ka raaz hain. 

Ab raha کم خوردن. To is silsile mein arz hai k jo log muraghghan ghiza shruru se khate aye un ka hazma der tak unka saath deta hai aur agar unhei woh ghiza na mile to bechaini hone lagti hai. Hamare apne buzurgon k dastarkhwan par to ghee wa makkhan to lazmi hota tha aur woh kahte the k khuski se mahfooz rahna ho to khate waqt ghee wa makkhan ka istemal zaroor karo.  اعتدال bilkul zaroori hai.

Mirza


From: bazme...@googlegroups.com <bazme...@googlegroups.com> on behalf of Suhail Anjum <sanju...@gmail.com>
Sent: Wednesday, July 12, 2023 12:49 PM
To: bazme qalam <bazme...@googlegroups.com>
Subject: [بزم قلم:62484] کچھ باتیں معمر افراد سے
 
--
عالمی انعامی مقابلہ غزل کی تفصیل درجہ ذیل لنک میں
 
 
https://mail.google.com/mail/u/4/#sent/QgrcJHsNjCMDktBfcrqXBctvVwqJPbdTpql
 
 
 
 
www.bhatkallys.com
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/BAZMeQALAM/CAJOpirtG21duJk-%2BV4pmGXAH_HBWVfuiywJwsGR9wQuXV0nh1Q%40mail.gmail.com.
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages