From: Nadir Khan Sargiroh <tabd...@yahoo.com>
To: 5 BAZMe QALAM <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Friday, April 5, 2013 12:16 PM
Subject: {21409} چاہِ چائے ۔۔۔۔ ( طنز و مزاح )۔
--
بزم قلم کے زیر اہتمام پہلا عالمی طرحی مشاعرہ
مصرعہ طرح : جہاں تیرانقشِ قدم دیکھتے ہیں
قوافی : قدم،ارم،عدم
ردیف :دیکھتے ہیں
براہ کرم ۲۰ اپریل تک اپنی غزلیں اس پتہ پر بھیجیں
bazme...@googlegroups.com
تنویر پھول، کنوینر بزم قلم عالمی طرحی مشاعرہ
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Cc: maqsood ilahi <maqsood....@googlemail.com>
Sent: Saturday, April 6, 2013 12:28 PM
Subject: Re: {21464} چاہِ چائے ۔۔۔۔ ( طنز و مزاح )۔
| یہ چائے کچھ بد ذائقہ ہوگئی ہے اور پینے کے قابل نہیں رہی- چائے چینیوں کی ایجاد ہے لیکن وہ یاسمینی قہوہ شوق سے پیتے ہیں جسکی میں بھی رسیا ہوں بلکہ سبز چائے تو میری گھٹی میں پڑی ہے کیوکہ دادی جان نے پہلی خوراک ایک چمچ سبز چائے پلائی تھی--شمالی امریکہ میں جب پہلی مرتبہ" چائے" کاا شتہار دیکھا اور آرڈر دیا تو وہ مصالحہ دار چائے نکلی وہ وہاں پرچائے کے نام سے مقبول ہے - Chai teavana ایک بڑا اچھا سٹور بلکہ فرنچائز ہے اسمیں چائے کے ایک سے ایک ذائقے ، برانڈ اور خوشنما کیتلییاں ہیں شاید دوبیئ وغیرہ میں بھی ہوں- Japanese tea party جسطرح سے انجام پاتی ہے اسمیں انکی تہذیب و ثقافت کی نشاندہی ہوتی ہے کیا خوبصورتی سے کیمونو پہنے ہوئے جاپانی لڑکیاں اس رسم کو انجام دیتی ہیں- جب ہندوستان میں پہلی مرتبہ فوجیوں کو چائے سے متعارف کرایا گیا میرے ایک نانا جی جو انگریزی فوج میں صوبیدار تھے چھٹیوں پر آتے ہوئے ایک ٹین کا بڑا ڈبہ چائے کی
پتی کا لائے - نانی نے اسکو خشک ساگ سمجھ کر چولھے پر چڑھا دیا ااسوقت وہ گھر سے باہر تھے جب واپس ہوئے تو انہوں نے اس بدذائقہ ساگ کی شکائت کی اور نانا سر پیٹ کر رہگئے - اب ہمارے گاؤں میں بچہ بچہ پیالی پر پیالیا ں چڑھاتا رہتا ہے اور تھرموس بھرے ہوئے گردش میں رہتے ہیں میرے بچوں کو میرے گاؤں کی میٹھی چائے بہت پسند تھی- اور کراچی والے، انکی رگوں میں تو خون کی بجائے چائے گردش کر رہی ہے جب ہی تو خون بے قیمت ہوگیا -پنجاب والے اچھے ہیں جہاں ابھی تک بخار میں بھی لسی پی جارہی ہے اور سندھ میں چورہ چائے کی قسمت کی چمک دمک ہے ایل اے
میں ایک پرانی دوست کے ہاں گئی انہوں نے بڑے اہتمام سے کیتلی پیالیاں گرم پانی سے کنگالیں پتی ڈال کر کیتلی میں ٹی کوزی لگا کر چائے دم کی ساتھ کاڑھا ہوا دودھ، امریکہ میں اتنا اہتمام دیکھ کر چائے کا لطف آگیا - حالانکہ امریکہ نے ہماری زندگیوں سے ان تکلفات کو کافی حد تک ختم کردیا ہے جہاں فاسٹ فوڈ نے ہمیں کھانے کی میز کی تکلفات سے آزاد کردیا ہے وہاں ٹی بیگ نے ٹی سیٹ کا تصور ختم کردیا ہے بڑے بڑے مگوں نے نفیس پرچ پیالیوں سے بے نیاز کر دیا ہے - میری ایک عزیز دوست کافی میکر میں فلٹر ڈالکر چائے بناتی ہے اور میرے بھائی کے ہاں دودھ
پتی کا رواج ہے مجھے چھوٹی الائچی کی خوشبو والی بلکہ ہر معقول قسم کی چائے پسند ہے - حتی کہ ایر لائنز کی بے ذائقہ چائے بھی چل جاتی ہے -پہلے چائے کے نقصان ہی نقصان تھے اب فائدے ہی فائدے ہیں -اور ہماری کشمیری گلابی چائے کیا کہنے اسکے - ڈھاکہ کے نواب فیملی کے ہاں جو کشمیری چائے بنتی تھی وہ اسقدر میوے والی ہوتی تھی کہ پینے سے زیادہ کھانے کےلائق تھی- میری اپنی چائے تو آجکل زیادہ تر مائکرو ویو میں بنتی ہے پھیکی چائے، لیکن ساتھ میں گلاب جامن' برفی یا کوئی اور میٹھا ہو تو کیا کہنے زیادہ
نہٰیں لکھونگی ورنہ مضمون نگار مجھ پر اپنے مضمون کے اغوا کا الزام نہ دھر دیں- Abida Rahmani --- On Sat, 4/6/13, aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com> wrote: |
یاد نہیں کہیں پڑھا ہے یا سنا ہے ایک زمانے میں انگلستان میں رواج تھا چائے کی پتیاں ابال کر قہوہ پھینک دیتے تھے اور پتیاں چباتے تھے کہ اس سے دانت مضبوط ہوں گے ۔ میں یہ بھی کہتا کیا پوچھتا چلوں آپ نے مولانا آزاد کی غبار خاطر پڑھی ہے وہ بھی چائے فنجان اور چائے کی چسکیوں کا حال اس طرح لکھتے تھے کہ پڑھنے والا بھی چائے کا رسیا ہو جائے ۔ آپ کی تحریر میں بہار چاء مہک رہی ہے ۔ خوب !۔
مقصود
--
بزم قلم کے زیر اہتمام پہلا عالمی طرحی مشاعرہ
مصرعہ طرح : جہاں تیرانقشِ قدم دیکھتے ہیں
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامئے دستار
پَپ یعنی پ+زبر+ پ پپ لکھیں تو کیا خیال ہے۔
پوپ و سے لکھیں تو پادریوں کی طرف دھیان چلا جاتا ہے۔ اور ا سے پاپ لکھیں تو اور جھگڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔
ویسے اردو کہانیوں کا نام انگریزی لفظوں سے لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ پاپ/پوپ/پپ کہانیاں لکھنے والے غور و فکر کریں اور کوئی اور نام چن لیں یا گھڑ لیں۔ اگر کہانیاں گھڑی جا سکتی ہیں تو یہ کام کیوں نہیں ہو سکتا؟
بڑھاوء نہ آپس میں ملت زیادہ
مبادا کہ ہو جائے نفرت زیادہ
حالی
فاروق
Farooq Ahmed
Bahut khoob aur nadir bhi.
Chaah-e-Yousuf ke baad pahli baar “chaah” ki yeh tarkeeb dekhi aur achhi lagi.
Doosri “chaah” who hoti hai jismeN aashiq girta hai aur kabhi nikal nahi paata..
Waisi aik aur “chaah” bhi hoti hai jo gallon meN parti hai …aur jismeN maiN aksar gir jata hooN.
|
From: aleem khan <aleem...@yahoo.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, April 10, 2013 8:26 PM
Subject: {21655} چاہِ چائے ۔۔۔۔ ( طنز و مزاح )۔