اس شعر کے خالق کا نام ؟

380 views
Skip to first unread message

Iftikhar Ahmad

unread,
Sep 23, 2010, 12:20:57 PM9/23/10
to PakistaniWriters YahooGroup, bazme...@googlegroups.com
السلام علیکم:
کچھ دیر پہلے ایک انڈین چینل پہ ایک فلم چل رہی تھی ۔ فلم کے نام کا پتہ نہیں چل سکا ۔ اس فلم میں پاکستانی اداکار محمد علی اور زیبا نے بھی ایکٹ کیا ہے ۔ اس میں محمد علی صاحب نے ایک موقع پر ایک انتہائی خوبصورت شعر پڑھا ہے ۔
 
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئیے
 
کسی صاحب کے علم میں اگر اس شعر کے خالق کا نام ہو تو برائے مہربانی تحریر فرمائیں  تاکہ ان سے مزید ایسے معیاری کلام کی فرمائش کی جائے ۔
 
شکریہ
مخلص ۔ افتخار

syed aijaz shaheen

unread,
Sep 23, 2010, 12:48:55 PM9/23/10
to jhe...@hotmail.com, PakistaniWriters YahooGroup, bazme...@googlegroups.com

محترم افتخار صاحب  ،تسلیمات

یہ    مشہور شعر سبط علی صبا کا ہے۔ شاعر نے   کچے کی جگہ خستہ لکھا تھا۔مگر شعر مشہور ہوا  اسی ترمیم کے ساتھ

اعجاز شاہین
Syed  Aijaz  Shaheen
Dubai-UAE



2010/9/23 Iftikhar Ahmad <jhe...@hotmail.com>
--
اردو کے باوقار ادبی رسالے "کسوٹی جدید" تمام شمارے بزم قلم گروپ پر موجود ہیں۔درج ذیل لنک سے پڑھے اور ڈاؤن لوڈ لیۓ جا سکتے ہیںhttp://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/files
To Post in the group: bazme...@googlegroups.com
To Unsubscribe send mail :BAZMeQALAM+...@googlegroups.com

Saeed Javed Mughal

unread,
Sep 23, 2010, 6:49:17 PM9/23/10
to jhe...@hotmail.com, PakistaniWriters YahooGroup, bazme...@googlegroups.com, Saeed Mughal
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

یہ شعر ہےسبط علی صبا کا، لیکن صبا نے شعر کی جو شکل لکھی تھی وہ تھوڑی مختلف تھی:

دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی

اب دیکھیئے کہ خستہ کے مقابلے میں کچا زیادہ برجستہ اور موزوں لفظ ہے اور مصرعے کی چستی میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہاں ایک واقعے کا ذکر کرتا چلوں۔ کچھ عرصہ قبل ایک صاحب نے یہ شعر عوامی طریقے سے پڑھا۔ ہم نے فوراً اپنی قابلیت جتانے کے لیے اضافہ کرنا ضروری سمجھا:

’کچے مکان کی نہیں ’’خستہ‘‘ مکان کی۔‘

وہ صاحب چمک کر بولے، ’خستہ تو بسکٹ ہوتا ہے، پیسٹری ہوتی ہے، دیوار نہیں
 
سیدسبطِ علی صبا

ہر اک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح
رندوں کی انجمن میں کوئی جائے کس طرح
صحرا کی وسعتوں میں رہا عمر بھر جو گم
صحرا کی وحشتوں سے وہ گھبرائے کس طرح
جس نے بھی تجھ کو چاہا دیا اس کو تو نے غم
دنیا ! ترے فریب کوئی کھائے کس طرح
زنداں پہ تیرگی کے ہیں پہرے لگے ہوئے
پُرہول خواب گاہ میں نیند آئے کس طرح
زنجیرِپا کٹی تو جوانی گزر گئی
ہونٹوں پہ تیرا نام صبا لائے کس طرح

daniyal warsi

unread,
Sep 23, 2010, 7:46:48 PM9/23/10
to bazme...@googlegroups.com
Dear Javed bhai,haha   Loge  sher churate hain aap  latifa bhi churate hain.   is  sher ke  sath  ye latifa  bahut  purana  hai.bilkul thik yahi latifa. Aap  ne  churakar apne naam karliya. Mujhe  yaad  hai ke ye joke  isi forum  par  bhi kisi time  post hua tha.
Wo mail Mujhe nahi mil rahi hai .koi  dhoond  kar javed sahib ko dikha sakta hai?

 warsi



2010/9/24 Saeed Javed Mughal <sjmu...@hotmail.com>

Saeed Javed Mughal

unread,
Sep 23, 2010, 8:19:11 PM9/23/10
to nai...@gmail.com, bazme...@googlegroups.com, Saeed Mughal
محترم جناب دنیال وارثی صاحب
 
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
میرا جاب کمپیوٹرریلیٹیڈ اور میں نے اپنے سسٹم پر عربی اور اردو کی بورڈ ایڈ کیا ہوا ہے میں نے جلدی سے گوگل میں جا کر سرچ کیا اور جو مجھے اس کا ایک حصہ میں نے کاپی پیسٹ کر دیا۔ نہ مِیں شاعر ہوں اور نہ ہی مجھے شاعری آتی ہے اس لئے کوئی فکر والی بات نہیں کہ میں کہیں سے کچھ چراتا ہوں یا میں کچھ چراوں گا۔ بے فکر رہیں۔ مزید حاضر خدمت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
والسلام علیکم
نیاز مند
سعید جاوید مغل
الریاض
سعودی عرب
 
اردو کےمنفرد شاعراور منھ چھٹ نقاد ساقی فاروقی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ شاعر کو شعر کہتے وقت زبان و بیان کے سارے امکانات اچھی طرح سے کھنگال لینے چاہیئیں، ورنہ عوام اس شعر کی اصلاح کر دیتے ہیں۔ ساقی فاروقی فراق کے اس شعر کا ذکر کر رہے تھے:

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی


لیکن شاید عوام کو شعر کی یہ شکل پسند نہیں آئی کیوں کہ شعر کچھ یوں مشہور ہے:

شبِ وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے شباب کی دوشیزگی نکھر آئی

ظاہر ہے کہ ’جمال کی دوشیزگی‘ کی جگہ ’شباب کی دوشیزگی‘ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، اسی طرح پہلے مصرعے میں ’ذرا وصال۔۔۔‘ کی بجائے ’شبِ وصال ۔۔۔‘ نے بھی شعر کی رنگینی میں اضافہ کر دیا ہے۔

اصل میں بات یہ ہے کہ شاعر تو چند لمحوں کے اندر شعر کہہ کر الگ ہو جاتا ہے اور وہ شعر اگر مشہور ہو جائے تو یوں سمجھیئے کہ عوامی ڈومین میں آ جاتا ہے۔ اب یہ تو آپ جانتے ہی ہیں زبان ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے اندر بے تحاشا امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں اور کسی شخصِ واحد کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ بیک وقت تمام پہلوؤں پر قادر ہو سکے۔ اس لیے پبلک اپنے طریقے سے اس شعر کے ڈھانچے کو ٹٹولتی، پھرولتی اور اپنے اپنے خانوں میں رکھ کر دیکھتی ہے۔ اگر شعر کسا کسایا، گٹھا ہوا اور پوری طرح سے نک سے درست اور بے عیب نہ ہو تو زبان در زبان، سینہ بہ سینہ نقل در نقل کے عمل کے دوران شعر کی ساخت بدلنے کا احتمال رہتا ہے۔

ہم کوئی دعویٰ نہیں کر رہے کہ معاشرے کا اجتماعی شعور دھوکا نہیں کھا سکتا، تاہم دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بسا اوقات اشعار کی عوامی شکل اصل سے بہتر نکلتی ہے۔ اسی عوامی اصلاح کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

قائم چاند پوری میر و سودا کے عہد کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ ان کا شعر زباں زدِ خاص و عام ہے:

قسمت کی خوبی دیکھیئے، ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر قائم کی کلیات کھول کر دیکھیں، تو یہ شعر کچھ یوں لکھا نظر آتا ہے:

قسمت تو دیکھ، ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

فرق صاف ظاہر ہے ۔۔۔ ’دو چار ہاتھ‘ میں جو سنسی خیزی اور حرکت ہے، وہ ’کچھ دور‘ میں کہاں۔ اسی طرح ’قسمت کی خوبی دیکھیئے۔۔۔‘ میں لفظ ’خوبی‘ نے طنزیہ کیفیت پیدا کر دی ہے، جس سے شعر کی تہہ داری بڑھ گئی ہے۔

میر طاہر
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

عوام:
مکتبِ عشق کے دستور نرالے دیکھے
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

آپ نے دیکھا کہ عوامی شعر کی بندش اصل شعر سے کہیں چست ہے۔ ظاہر ہے کہ میر طاہر کو ردیف کی مشکل بھی درپیش رہی ہو گی، جب کہ عوام کے سامنے اس طرح کی کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی، کیوں کہ اس غزل کے دوسرے اشعار تو کیا، لوگ مرزا طاہر کے کسی اور شعر سے واقف نہیں ہیں۔

مومن
اس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو

عوام
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

شاید آپ مجھ سے اتفاق کریں کہ ’لپک‘ اس قدر متحرک لفظ ہے کہ اس کے سامنے ’چمک‘ کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔

ایک مصرع بہت مشہور ہے اورعام طور پر کسی ادیب کو داد دینے کے موقعوں پر خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے:

اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

یہ دراصل داغ کا شعر ہے لیکن انھوں نے اس شعر کو کسی اور انداز میں کہا تھا:

داغ
خط ان کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی
اللہ کرے حسنِ رقم اور زیادہ


ملاحظہ ہو کہ اس شعر میں داغ صرف خطاطی کی داد دے رہے ہیں، نہ کہ تحریر کے مضمون کی۔

شاگرد تو دیکھ لیا، اب ذرا داغ کے استاد کا بھی ذکرِ خیر ہو جائے، یعنی استاد شیخ ابراہیم ذوق:

کھل کے گل کچھ تو بہار اپنی صبا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے


پہلے مصرعے میں مسئلہ یہ تھا کہ مخاطب تو صبا ہے لیکن یہ لفظ دوسرے الفاظ کے درمیان اس طرح سے گھر گیا ہے کہ پہلی قرات میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پھول ’صبا دکھلا گئے‘، جو بے معنی سی بات ہے۔ اگر جدید علاماتِ قرات استعمال کی جائیں تو شعر کچھ یوں لکھا جائے گا:

کھل کے گل کچھ تو بہار اپنی، (اے) صبا!، دکھلا گئے

عوام کو یہ پیچیدگی پسند نہیں آئی، اس لیے انھوں نے بدل کر شعر کچھ یوں کر دیا:

پھول تو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے


قافیے کی تبدیلی سے شعر زیادہ رواں ہو گیا ہے۔ یہ شعر عام طور پر قبرستانوں میں بچوں کی قبروں پر لکھا نظر آتا ہے۔

اس موقعے پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہمارا قطعا یہ خیال نہیں ہے کہ کسی کو شاعر کے کلام میں تحریف کا حق حاصل ہے۔ شعر جیسے لکھا گیا، وہ پتھر کی لکیر کی طرح سے اٹل رہنا چاہیئے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ جیسے ندی میں پڑا ہوا پتھر کا ٹکڑا پانی کی ٹھوکریں کھا کھا کر ہموار، گول مٹول اور چکنا ہو جاتا ہے، ویسے ہی پبلک بھی شعر پڑھتے پڑھتے ادھر ادھر نکلے ہوئے کونے رگڑ رگڑ کر سیدھے کر دیتی ہے۔

پتھر کا ذکر چل نکلا ہے تو ذرا نسبتاً جدید زمانےکے شاعرمصطفیٰ زیدی کا بے حد مشہور شعر ملاحظہ فرمائیے:

انھی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے


میں نے کہا کہ مصطفیٰ زیدی کا شعر۔ لیکن اگر آپ مصفطیٰ زیدی کا دیوان کھول کر دیکھیں تو اس میں دوسرا مصرع یوں ہے:

میرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے

یہاں پر ’کوئی‘ کا لفظ خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ اس لفظ کے درجنوں معنی نکلتے ہیں۔ عوامی شعر میں’ کوئی‘ کا مطلب some نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے، بالکل، ہرگز، کسی بھی صورت میں۔ یہ وہی استعمال ہے جو اس محاورے میں ملتا ہے:

یہ دشتِ عشق ہے میاں، کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے

اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ دشتِ عشق ہرگز ہرگز اور کسی بھی صورت میں خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ اس کے مقابلے پر ’کہیں‘سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ گھر کے راستے میں دوسری چیزیں بھی ہیں، یعنی پہاڑ، دریا، کھائیاں، لیکن اس تمام راستے میں کسی مقام پر کہکشاں نہیں ہے۔

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے


یہ شعر ہےسبط علی صبا کا، لیکن صبا نے شعر کی جو شکل لکھی تھی وہ تھوڑی مختلف تھی:

دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی

اب دیکھیئے کہ خستہ کے مقابلے میں کچا زیادہ برجستہ اور موزوں لفظ ہے اور مصرعے کی چستی میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہاں ایک واقعے کا ذکر کرتا چلوں۔ کچھ عرصہ قبل ایک صاحب نے یہ شعر عوامی طریقے سے پڑھا۔ ہم نے فوراً اپنی قابلیت جتانے کے لیے اضافہ کرنا ضروری سمجھا:

’کچے مکان کی نہیں ’’خستہ‘‘ مکان کی۔‘

وہ صاحب چمک کر بولے، ’خستہ تو بسکٹ ہوتا ہے، پیسٹری ہوتی ہے، دیوار نہیں!‘

قارئین سے مودبانہ گذارش ہے کہ اس مضمون کی روشنی میں کسی کی اصلاح فرمانے سے پیشتر اس واقعے کو ذہن میں رکھیے گا تو آپ کو بھی اس موقعے پر بغلیں بجانے والے محاورے کی عملی تصویر نہ بننا پڑے۔

مضمون کا اختتام ایک بھاری پتھر اٹھانے سے کر رہا ہوں۔ چچا غالب کی مشہور ترین غزلوں میں سے ایک ہے:

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک


جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اس غزل کو کئی لوگوں نے گایا ہے، جن میں سہراب مودی کی مرزا غالب نام کی فلم میں ثریا بھی شامل ہیں۔ لیکن شاید کم لوگوں کو معلوم ہو کہ اس غزل کی ردیف کچھ اور ہے۔ دیوانِ غالب غالب کی زندگی میں پانچ بار شائع ہوا اور ہر نسخے میں آپ کو ردیف ’ہوتے تک‘ملے گی، نہ کہ ’ہونے تک۔‘ ہماری تحقیق کے مطابق انیسویں صدی میں غالب کے جو بھی نسخے شائع ہوئے ان میں ’ہوتے تک‘ لکھا تھا۔ بیسیوں صدی کے شروع میں کسی ستم ظریف کاتب نے غالب کی اصلاح کرتے ہوئے ’ہونے تک‘ کر دیا، اور اس کے بعد چل سو چل۔

اب ’ہوتے تک‘ میں جو مسئلہ ہے وہ صوتیات سے تعلق رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سبھی قارئین ہم س اتفاق نہ کریں، لیکن ہمارا خیال ہے کہ ’ہوتے تک‘ میں ت کی تکرار کانوں کو تھوڑی ناگوار گزرتی ہے۔ اصل میں یہ چیز شاعری کا عیب سمجھی جاتی ہے اور تکنیکی زبان میں اسے ’تنافر‘ کہا جاتاہے۔ اس کے مقابلے پر صوتی اعتبار سے ’ہونے تک‘ کہیں زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ دونوں صورتوں میں کوئی خاص معنوی فرق نہیں ہے۔

ہم نے اس مضمون کے عنوان کے ذریعے ابھرتے ہوئے شعرا کو ایک مشورہ دینے کی کوشش کی تھی۔ لیکن مضمون کے آخر تک پہنچتے پہنچتے ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ اس پر عمل کرنا آگ پر چلنے کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر مرزا غالب اس سے نہیں بچ سکے تو پھر کسی اور سے کیا گلہ؟

Bazm e Qalam

unread,
Sep 28, 2010, 4:06:54 PM9/28/10
to 5BAZMeQALAM

Join : http://groups.google.co.in/group/BAZMeQALAM


---------- Forwarded message ----------
From: Irshad Ahmad Aijaz <mufti....@gmail.com>

 

السلام علیکم،

میری رائے میں "خستہ" مکان کے لفظ میں جو حسن ہے وہ "کچے" کے لفظ میں نہیں ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ شاعر کا مقصود کیا ہے؟ میرے خیال میں شاعر کا مقصود نیرنگئی زمانے کے نتیجے میں آنے والی بےمائیگی اور بدحالی پر حسرت کرنا ہے کہ وہ لوگ جو کہ کل معاشرے میں معتبر تھے آج ان کی چاردیواری پامال ہے، اور چاردیواری کی پامالی کا شدت سے احساس ان کو ہوا کرتا ہے جو معاشرے میں دولت یا مرتبے کی وجہ سے معتبر ہوں اور گردش ایام ان کو بے اعتبار کردے۔ فرض کریں اگر بہادر شاہ ظفر یہ ترمیم شدہ شعر ("کچے مکان کی۔ ۔ ۔") پڑھتے تو بڑا بے معنی نہ ہوتا؟ بادشاہ کے گھر کی دیوار کے کچے ہونے کی کیا معنی ہیں؟ اس کے محل کی دیوار خستہ ہوسکتی ہے، جیسے بڑے بڑے خستہ حال قلعے آج اس بات کے گواہ ہیں مگر کچی نہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایک شاعر کے کلام میں تبدیلی غلط عمل ہے خواہ وہ عمل کتنا ہی معروف کیوں نہ ہوجائے۔

تیسری بات اس مصرعے کا حسن "خستہ مکان" کے جملے ہی سے قائم ہے، اس کو بدلنا ایسا ہی ہے کہ جیسے غالب کے شعر "دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا" میں "دھپا" کے لفظ پر ایک زمانے میں تعقید لفظی (الفاظ کے گنجلک ہونے) کا اعتراض ہوا کہ یہ تو بڑا بے ڈھب لفظ ہے معتبر لوگوں کے کلام میں کیسے آسکتا ہے؟ مگر اس اعتراض کا جواب یہی تھا کہ اگر اس لفظ کو نکال دیں تو شعر میں پھر بچتا کیا ہے؟

چوتھی بات، جن صاحب نے یہ فرمایا کہ خستہ تو بسکٹ ہوتا ہے پیسٹری ہوتی ہے شعر نہیں، ان کی خدمت میں پہلی گذارش یہ ہے کہ خستگی ایک ایسی صفت ہے جو اچھی اور بری دونوں ہوسکتی ہے، بسکٹ اور گجک کا خستہ ہونا اچھا ہوتا ہے مگر پیسٹری اور کیک کا خستہ ہونا اچھی صفت نہیں، کیک اور پیسٹری میں تو نرمی اچھی ہوتی ہے، خستگی سے تو وہ بکھر جاتے ہیں۔ دوسری گذارش ان کی خدمت میں یہ ہے کہ خستہ دیوار کا مطلب ایسی دیوار ہے جو کہنگی سے اب گرنے کے قریب ہو، اور
اہل علم و قلم ہمیشہ سے "خستہ حال" کے لفظ سے بدحالی اور کہنگی تعبیر کرتے آئے ہیں۔

بر سبیل تذکرہ ایک مرتبہ ایک ناقد نے کسی شاعر پر جو بسکٹ (کاف پر پیش کے ساتھ، یہ لفظ اگرچہ انگریزی سے اردوایا گیا ہے مگر اس کا تلفظ اردو میں کاف پر پیش کے ساتھ ہے جو آج کل متروک ہوتا جارہا ہے۔ وہ انگریزی الفاظ جو اب اردو کا حصہ ہیں ان کو انگریزی تلفظ میں بولنا مہذب ہونے کی نشانی سمجھا جانے لگا ہے اور اسی ذہنی پسماندی کے نتیجے میں اب آج کل بسکٹ کے لفظ کو انگریزی تلفظ میں کاف کے زیر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے جو درست نہیں ہے جیسے لفظ "مگا" آج کل بولنا گنوارپن سمجھا جاتا ہے اور "مگ"(Mug) بولنا رواج میں ہے جو کہ اصول کے اعتبار سے غلط ہے) فروخت کیا کرتے تھے، تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ: "جناب یہ شعر کہتے ہیں اور بسکٹ بیچتے ہیں، ہوتے دونوں خستہ ہیں"۔ اس حسنِ تنقید کے نمونہ جملے میں لفظ خستہ اپنے دونوں معانی کے ساتھ جلوہ گر ہے، بسکٹ کی خستگی عمدہ صفت جب کہ شعر کی خستگی اس کی خامی ہے۔


یہ بہرحال میری ایک رائے جس سے تمام اہل علم و قلم کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


والسلام:


ارشاد احمد اعجاز





2010/9/24 Saeed Javed Mughal <sjmu...@hotmail.com>

__._,_.___
Recent Activity:
International Urdu Writers' Club has been formed
to introduce great works by different writers and
poets around the globe. Here we all are gathered
to accomplish that gigantic task which was never
even accomplished by the governments that is
continuously reluctant to patronise writers and
their wonderful work.

Our International Urdu Writers' Club warmly
welcome all writers and poets from every corner
of the world and we shall try our best to explore
them around the globe. This group is not only for
all senior and professional writers, who are
exponents of a rich and exemplary culture and
traditions but it is also dedicated to educating
writers of all levels and disciplines in the
craft of writing and in the marketing of their
work.


Please join International Writers' Club:
http://groups.yahoo.com/group/PakistaniWriters/join


or send a blank email to:
PakistaniWrit...@yahoogroups.com


If you want to be a part of International Writers' Club
but do not wish to receive daily emails, send a blank
email to:
PakistaniWr...@yahoogroups.com
.

__,_._,___

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages