محترم افتخار صاحب ،تسلیمات
یہ مشہور شعر سبط علی صبا کا ہے۔ شاعر نے کچے کی جگہ خستہ لکھا تھا۔مگر شعر مشہور ہوا اسی ترمیم کے ساتھ
اعجاز شاہین--
اردو کے باوقار ادبی رسالے "کسوٹی جدید" تمام شمارے بزم قلم گروپ پر موجود ہیں۔درج ذیل لنک سے پڑھے اور ڈاؤن لوڈ لیۓ جا سکتے ہیںhttp://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/files
To Post in the group: bazme...@googlegroups.com
To Unsubscribe send mail :BAZMeQALAM+...@googlegroups.com
warsi
السلام
علیکم،
میری رائے میں "خستہ" مکان کے لفظ میں جو
حسن ہے وہ "کچے" کے لفظ میں نہیں ہے۔ ذرا غور
کیجئے کہ شاعر کا مقصود کیا ہے؟ میرے خیال میں شاعر کا مقصود نیرنگئی زمانے کے نتیجے میں آنے والی بےمائیگی اور بدحالی پر حسرت کرنا ہے کہ وہ لوگ
جو کہ کل معاشرے میں معتبر تھے آج ان کی چاردیواری
پامال ہے، اور چاردیواری کی پامالی کا شدت سے احساس ان کو ہوا کرتا ہے جو معاشرے میں دولت یا مرتبے کی وجہ سے معتبر
ہوں اور گردش ایام ان کو بے اعتبار کردے۔ فرض کریں اگر بہادر شاہ ظفر یہ ترمیم شدہ
شعر ("کچے مکان کی۔ ۔ ۔") پڑھتے تو بڑا بے معنی نہ ہوتا؟ بادشاہ کے
گھر کی دیوار کے کچے ہونے کی کیا معنی ہیں؟ اس کے محل کی دیوار خستہ
ہوسکتی ہے، جیسے بڑے بڑے خستہ حال قلعے آج اس بات
کے گواہ ہیں مگر کچی نہیں ۔
دوسری
بات یہ ہے کہ ایک شاعر کے کلام میں تبدیلی غلط عمل ہے خواہ وہ عمل کتنا ہی معروف کیوں نہ
ہوجائے۔
تیسری
بات اس مصرعے کا حسن "خستہ مکان" کے جملے ہی سے قائم ہے، اس کو بدلنا ایسا ہی ہے کہ جیسے غالب کے شعر "دھول دھپا اس
سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا" میں "دھپا"
کے لفظ پر ایک زمانے میں تعقید لفظی (الفاظ کے گنجلک ہونے) کا اعتراض ہوا کہ یہ تو بڑا بے ڈھب لفظ ہے معتبر لوگوں کے
کلام میں کیسے آسکتا ہے؟ مگر اس اعتراض کا جواب
یہی تھا کہ اگر اس لفظ کو نکال دیں تو شعر میں پھر بچتا کیا ہے؟
چوتھی
بات، جن صاحب نے یہ فرمایا کہ خستہ تو بسکٹ ہوتا ہے پیسٹری ہوتی ہے شعر نہیں، ان کی خدمت میں پہلی گذارش یہ ہے کہ خستگی ایک ایسی صفت ہے
جو اچھی اور بری دونوں ہوسکتی ہے، بسکٹ اور گجک کا
خستہ ہونا اچھا ہوتا ہے مگر پیسٹری اور کیک کا خستہ ہونا اچھی صفت نہیں،
کیک اور پیسٹری میں تو نرمی اچھی ہوتی ہے، خستگی
سے تو وہ بکھر جاتے ہیں۔ دوسری گذارش ان کی خدمت میں یہ ہے کہ خستہ دیوار کا مطلب ایسی دیوار ہے جو کہنگی سے اب گرنے کے قریب ہو، اور اہل علم و قلم ہمیشہ سے "خستہ حال" کے
لفظ سے بدحالی اور کہنگی تعبیر کرتے آئے ہیں۔
بر
سبیل تذکرہ ایک مرتبہ ایک ناقد نے کسی شاعر پر جو بسکٹ (کاف پر پیش کے ساتھ، یہ لفظ اگرچہ انگریزی سے اردوایا گیا ہے مگر اس کا تلفظ اردو میں کاف پر پیش کے ساتھ ہے جو آج کل متروک ہوتا جارہا ہے۔ وہ انگریزی الفاظ جو اب اردو کا حصہ ہیں ان کو انگریزی تلفظ میں بولنا مہذب ہونے کی نشانی سمجھا جانے لگا ہے اور اسی ذہنی پسماندی کے نتیجے میں اب آج کل بسکٹ کے لفظ کو انگریزی تلفظ میں کاف کے زیر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے جو درست نہیں ہے جیسے لفظ "مگا" آج کل بولنا گنوارپن سمجھا جاتا ہے اور "مگ"(Mug) بولنا رواج میں ہے جو کہ اصول کے اعتبار سے غلط ہے) فروخت کیا کرتے تھے، تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ: "جناب یہ شعر کہتے ہیں اور بسکٹ بیچتے ہیں، ہوتے دونوں خستہ ہیں"۔ اس حسنِ تنقید کے نمونہ جملے میں لفظ خستہ اپنے دونوں معانی کے ساتھ جلوہ گر ہے، بسکٹ کی خستگی عمدہ صفت جب کہ شعر کی خستگی اس کی خامی ہے۔
یہ بہرحال میری ایک رائے جس سے تمام اہل علم و قلم کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
والسلام:
ارشاد احمد اعجاز