Respected all,
I shared the link of part one of the same article; on the following links you can see Part Two and Three and also the remaining part of the same essay:
Thanks
Part Two:
http://www.nadiatimes.com/arachive/30_04_2011/page_4_large.html Part Three:
http://www.nadiatimes.com/arachive/02_05_2011/page_4_large.html
ڈاکٹر صفات علوی
بریڈفورڈ، ویسٹ یارک شائر، یو کے
فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ از عمران شاہد بھنڈر
ایک طویل عرصے کے بعد کوئی ایسی کتاب اردو کے قاری کے سامنے آئی ہے جو باوجود اس کے کہ خشک و ثقیل مضمون پر ہوپر ساتھ ہی اس کی سوچ کو للکارتی ہو اور اس کو بدا بدی میں ڈالتی ہو۔ مزید اس پرطرہ یہ ہے کہ لکھنے والا ابھی اپنی عمر کے حصے اُس میں ہے جس میں برصغیر ہند کے جوان یونیورسٹی میں تتلیوں کے پیچھے دوڑنے،ہمجولیوں کے ساتھ کینٹین میں بیٹھے چائے کی ایک پیالی کے بعد دوسری اور پھر تیسری پیالی شکم میں انڈیلنے اور سگریٹوں کا دھواں اُڑانے ،گپیں ہانکنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مخول مستی کرنے میں اپنا وقت عام طور سے صرف کرتے ہیں یا پھر ایسی شاعری، افسانہ نگاری، ناول نگاری پرگرم جوشی سے پر سطحی بحث کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کے موضوعات کاتعلق دور اول کے بلوغ کے غدود میں کچھ ہلچل پیدا کرنے سے ہوتا ہے (یا) کسی شعر میں لفظوں کی بیٹھک کو شعری قواعد کی دھرم کانٹے پر تولنے میں صرف کرتے نظر آتے ہیں اوربہت تیر مارا تو اس شعر کی وجدانی کیفیت پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ زمین جس پر وہ زندگی کرتے ہیں، جہاں وہ جیتے مرتے ہیں، جہاں کی ہوامیں ان کے پرکھوں کی قبر کی مٹی کی سوندھی باس اور ان پرکھوں کی جتاؤں کی راکھ اُڑ کر ان کے بدن کے ساتھ معشوق کی طرح لپٹتی ہے، اس زمین یعنی سر زمین ہند اور اختراعی ادب کی اصناف کا آپس کاتعلق کیا ہے شاید ہی کبھی زیر بحث آتا دیکھا ئی یا سنائی دیتا ہے۔
عمران شاہد نے اپنی انگلی بالکل صحیح نتیجے پر رکھی کہ جہاں مغربی شعوری فلسفوں کا آغاز ہی دنیا کو حقیقی تسلیم کرنے سے ہوتا ہے وہیں برصغیر ہند کی فکر ویدانیت سے جڑی ہوئی ہے جس کے مطابق دنیا سراب ہے (ص۔16)۔ یورپ کے برخلاف وہاں قاری اس بات کی کوشش کرتا ہوا نظر نہیں آتا کہ کسی کہانی کے بیانیہ میں لفظ میں چھپے ہوئے معنی ہم سے کیا کہہ رہے ہیں، شعر کی پرت داری میں شاعر قاری کو کس قسم کی معروضی دعوت فکر دے رہا ہے؟ وہ فکر ،وہ بات وہاں کے سماج اور زمینی حقائق سے مربوط ہے یا نہیں۔ مغرب کا قاری اس کتاب کو پڑھ کر سوچتا ہے ...کیابرصغیر ہندکے قاری میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت کی کمی ہے؟حصول آزادی کے بعد وہاں کی درس گاہیں کسی آزاد ملک کے نوجوان میں شعور آزادی اورشخصی سوچ کی آبیاری کیوں نہیں کر پا رہی ہیں جس سے ان میں قدر آفرین علوم کا تجزیہ اپنے سماج اور ماحول کی نسبت سے کرنے کا شعور پیدا ہو؟ مزید وہ سوچتا ہے کہ وہاں اردو کے اہلیان قلم کے درمیان کس قسم کی اخلاقی اقدار ہیں کہ دیدہ دلیری سے کسی اور کے کام میں تصرف کر تے ہیں اور اس کی نشان دہی کرنا ضروری نہیں سمجھتے؟ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے انسان کی اخذ کردہ اقدار زمان و مکان اور کسی مخصوص سماج کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے وقتاً فوقتاًجنم لیتی ہیں تاہم وہ آفاقی انسانی اساسی اقدار کی حدود میں ہی کام کرتی ہیں ۔ جب کوئی علاقائی قدر کسی دوسرے ماحول ، کسی اورمعاشرتی نظام میں در آمد کی جاتی ہے تو یقیناً اس کی پس پردہ فلسفیانہ سوچ اس معاشرے میں تغیر لا نے کی اہلیت بھی رکھتی ہے اور اس سماج کے منضبط نظام میں مثبت یا منفی اثرات بھی مرتب کرسکتی ہے۔
جس طرح کا موضوع زیرنظر کتاب کا ہے اس طرح کے موضوعات عام دل چسپی کے نہیں ہوتے اور ہر ایرا غیرا ایسی کتاب نہ تو لکھتاہے اور نہ ہی پڑھتا ہے۔ لیکن ادیب ( نثار/ شاعر) کوئی ایرا غیرا شخص نہیں ہوتا وہ تو اس منتخب قبیلے سے تعلق رکھتاہے جو عوام کی زندگی میں روشنی بکھیرتا ہے اور انہیں شعور زندگی عطا کرتاہے۔بالخصوص وہ قلم کارجس کا تعلق شعر اور فکشن یعنی ادب کہ اصناف لطیفہ کی پیدائش ا و پرداخت سے ہو،ایسے قلم کارکا کام اپنے قاری کی زندگی کو قدر آفرینی بخشنا ہے۔ اس لئے زیرنظر کتاب کے موضوع کی جان کاری اور اس کا شعور پیدا کرنا ہر شاعر اورفکشن نگار کے لئے ہے نہایت ضروری اور کارآمد ہے۔ دوئم یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ برصغیر ہند میں وہاں اردو کے قاری کے لئے اس کی اپنی مثبت قدروں کا سجھاؤ دینے میں یہاں سے برآمد مغربی فلسفیانہ تنقیدی نظریات کس حد تک معاون ہوسکتے ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اس قسم کے موضوعات کی اپنی مخصوص زبان اور اصطلاحات ہوتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر شاعر یا فکشن نگار اس زبان اور ان اصطلاحات سے خاطر خواہ واقف بھی ہو۔
سوال یہ ہے قاری ادب کی اصناف لطیفہ کا مطالعہ کیوں کرتا ہے؟ آسان جواب تو یہ ہے کہ عموماً قاری ادب کی ایسی اصناف کا مطالعہ وقت گزاری اورحظ کے لئے کرتا ہے۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ اصنافِ لطیفہ کے ادیب کے کام میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ وقتی طور پر اس کے ذہن میں کسی واقع نے مرتسم کئے اور پھر کاغذپر بکھر گئے جیسے کہ خود ٹی ایس ایلیٹ جیسے فن کار نے ویسٹ لینڈ کی لفظیات پر یونیورسٹی کے طلبأ کے اعتراض کے جواب میں کہا تھا کہ اس وقت اس کے ذہن میں وہ ہی الفاظ وارد ہوئے تھے جو اس نے نظم میں استعمال کیئے تھے۔ غور کریں تو یہ جواب ایک نہایت دبیز، خود پروردہ شاعرانہ انا کی پیداوار ہے اور ہرگزتشفی بخش جواب نہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ کوئی فن کار جب کوئی لفظ استعمال کرتا ہے تو وہ اس کی اس نفسیاتی کیفت کو ظاہر کرتا ہے جس سے وہ وقتی طورپر مغلوب ہوا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کی تربیت، اس کی پرداخت،اس کا سماج میں مقام ، اس کا اپنا فلسفہ حیات سب اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ مزید یہ بات اس وقت اور نکھر کر سامنے آتی ہے کہ جب الفاظ کا چناؤ اس طرح ہو جس طرح غالب کو گذشتہ شب غزل کہنے کے بعداس میں مستعمل لفظیات کو’’ گنجینہ معٰنی کا طلسم‘‘ (۱)کے درجے پر پہنچانے کے لئے اگلی صبح اس کی نوک پلک درست کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی تو پھر ایسے ادب لطیف کا درجہ آفاقی ہوتا ہے ، عالم گیر انسانی ورثہ قرار پاتا ہے۔ ایسا ادب سماج کے لئے قدر آفریں ہوتا ہے۔ اس میں ادیب اپنے فلسفۂ حیات کی توانائی کو الفاظ میں بدل کر قاری کے سامنے لاتا ہے ، تونائی جو نہ صرف قاری کی بلکہ پورے سماج میں زندگیوں کو بدل سکتی ہے۔
چند منٹ پہلے قاری کو دعوت فکر دینے کے لئے چند سوالات پیش کیئے گئے۔ ان کے جواب عمران شاہد نے اپنی اس کتاب میں دینے کی کوشش کی ہے۔ ضروری تونہیں کہ آپ ان کے جوابات کو تسلیم کریں ۔ تاہم جب کسی خاص دشا میں سوچ سست یا خفتہ ہو تو اس کوفعال حالت میں لانے کے لئے نہ صرف للکارنا اور لگام کسنا پڑتی ہے بلکہ چابک یا انی بھی لگانے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ اور زیر نظرکتاب چاروں فعل بخوبی انجام دیتی ہے۔ عمران شاہد نے برصغیر ہند میں اور دیگر جگہوں کے اردو کے ڈائی اسپورا (Urdu Diaspora)کے حوالے سے اردو ادب میں تنقیدی رویوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میرے خیال میں اردو کے اختراعی ادب کے لکھاڑیوں کے سامنے سب سے اہم سوال برصغیر کی آزادی کے بعد فی الوقت جو ہوناچاہیئے وہ ہے کہ وہاں کی مقامی دیگر زبانوں بالخصوص جنوبی ہند کی زبانوں مثلا ملیالم، مراٹھی، تیلگو، اور شمال کی مقامی زبانوں مثلاً بنگالی، راجستھانی، پنجابی کا ادب کس تنقیدی سمت میں سفر کر رہا ہے؟ ان کے یہاں کس قسم کے تنقیدی رویے کارفرما ہیں؟ مزید ہندوستان کی قومی زبان کا ادب کس نہج پر رواں دواں ہے؟ پھر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہاں کا مقامی ادب کا رُخ کیا ہے؟ وہ کس طرح کے نظریات اپنی تنقید کے سلسلے میں استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مقامی زبانیں، سندھی، بلوچی، پشتو، ہندکو کا جدید ادب کون سے تنقیدی نظریات کا داعی ہے۔ کیا ان کے زبانوں کے اختراعی ادب قومی یک جہتی کے ساتھ ساتھ علاقائی تہذیب، اور ادب کے فروغ کو بھی شامل کرتے ہیں یا صرف علاقائی مفاد کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ قیاس ہے کہ متحدہ پاکستان کے دو لخت ہونے میں مشرقی پاکستان کی مقامی زبان اور اس کے ادب نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ رہا اردو کے تنقید کا سلسلہ، تو اس کی نیو حالی ؔ مرحوم نے روز اول ہی مغربی افکار پر ڈالی تو تھی لیکن اس کو وہاں کے سماج اور دیگر زمینی حقائق کے بجائے مذہبی اخلاقی رویوں کے تابع کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ لامحالہ اردو اختراعی ادب ایک جانب مسلم افکار کا نمائندہ اور خود زبان مسلم شناخت کی داعی بن گئی۔ اور وہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ مزید آزادی کے بعد مغرب سے برآمد تنقیدی رویے بھی پہنچے۔ اور یہ رویے، خواہ وہ اختراعی ادب کے ہوں یا سماجی علوم کے یا سائنسی علوم کے، قدر آفرینی کے ہوں یا پھر زندگی کے عملی اہمیت کے ،سب کے سب مسیحی/صیہونیت فاشزم کے منبع سے نکلے ہوئے ہیں۔عمران شاہد نے صحیح کہا ہے ،
’’مغربی فلسفیوں نے شعوری فلسفوں کے علاوہ، فلسفے کے وجودی و الہیاتی جہت اس کی اخلاقی جہت کے ساتھ پیش کیا ہے، لیکن جہاں کہیں کسی ’’دوسرے ‘‘کی بحث شامل ہوتی ہے اس مفہوم میں نہیں کہ ’’ دوسرے‘‘ کا محض استحصال کرنا ہے۔ استحصال کے پہلو کو مغربی سماج کی سیاسی اور معاشی جہات سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔ مغربی سامراج نے شعوری فلسفوں کو ایک ایسے نظام کے دفاع کے لئے استعمال کیا ہے کہ جس میں تضادات کی نوعیت اس سطح تک پہنچ جاتی ہے کہ شعوری فلسفوں کا استعمال اس نظام کا دفاع نہیں کرسکتا۔ مغربی سامراجی نظام کی موت شعوری فلسفے اور ان کے تحت وضع کیئے گئے اصول و قواعد نہیں بلکہ حقیقی سماجی عمل کے وہ انگنت سماجی تضادات ہیں جو بوژوا سماج میں اس حد تک راسخ ہوچکے ہیں کہ ان کا واحد حل سماج کی ساخت کو محض نظری سطح پر توڑنا نہیں بلکہ اسے حقیقی سطح پر پاش پاش کرنا ہے‘‘۔( ص۔17-18)
اگر غور کریں اور تیرھویں چودھویں صدی کے مشرق سے مغرب کی موجودہ ا قوام کا موازنہ کریں تو جلد یہ محسوس ہوجائے گا کہ یہ مغربی معاشرہ اب کسی نزاعی کیفیت سے دوچار ہے اس میں ابتذال کے ویسے ہی آثار ہیں جو اُن صدیوں میں مشرقی اقوام میں نظر آتے تھے۔ اس وقت مشرق میں نئی دو قومیں خاصی سرعت سے دور حاضر کی ٹیکنالوجی میں قدم جمارہی ہیں۔ ادھر یورپ میں ان کا سدباب کرنے کی مساعی میں مغربی یورپ کی اقوام ریاستہائے متحدہ یورپ قائم کرنے کی فکر میں جتے ہوئے ہیں ۔ یہاں کی یہ ہی قومیں جو پچھلی صدیوں میں تیسری دنیا کے اقوام کا استحصال کرنے اور وہاں پر سامراج قائم کرنے کی کوشش میںآپس میں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہوا کرتی تھیں اب سر جوڑے اپنے اپنے سروں کی جوئیں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ رہے ہیں۔ کہتے ہیں مرا ہاتھی سوا لاکھ کا، کوئی قوم ایک دن میں اپنے پاتال میں نہیں گر پڑتی۔ گراوٹ اپنا وقت لیتی ہے۔
عمران شاہد بھنڈر نے جوایک اور اہم سوال پیش کیا ہے وہ یہ کہ اگر مغربی نظریات کی تشکیل میں مشرق کی شمولیت صرف اور صرف استحصال تک محدود ہوسکتی ہے تو مشرقی فکر اس استحصال کا رد پیش کیوں نہیں کرتی یا استحصال کا بطور استحصال جواز تلاش کرنے سے کیوں قاصر ہے؟مغربی فلسفے کی اصطلاح ’’ دوسرا‘‘ کے حوالے ’’دوسرا ‘‘ اگر بر صغیر ہند ہے تو وہ عدم شناخت کے پہلوؤں کو سامنے لاکر ان کے رد کرنے کے لئے نظریاتی طریقہ کار اختراع کرنے سے کیوں معذور ہے؟ اس کا جواب شاعروں یا فکشن نگاروں کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ شعوری فلسفہ کے دائرۂ اختیار میں ہے یعنی عمران شاہد اور ان کے ہمعصر فلسفیوں کا کام ہے۔البتہ اردو کے اختراعی ادب کے حوالے سے ان کا یہ مشاہدہ
اختراعی ادب میں قاری غائب ہوگیا ہے (ص۔32)
یقیناًآج کے اختراعی اردو ادب کے ادیب ، یعنی شاعر اور نثر نگار، کے لئے اہم ہے۔ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں جہاں آج کا اردوکا فکشن نگار اور شاعر یہ نہیں جاننے کی کوشش کرتا کہ ’’لفظ کا جادو‘‘ دنیا کو الٹ پلٹ کرسکتا ہے بس میرؔ کی رِیس میں ’’ مستند ہے میرافرمایا ہوا‘‘ کہتا ہے جب کہ میر ؔ کے علمی تبحر اور اس کے یہاں غزل کے حیات پذیرتاثر کے بارے میں غالب کو بھی ناسخ کے قول کو دھرانا پڑا ع’’آپ بے بہرہ ہے، جو معتقد میر نہیں‘‘(۲)۔
زیر نظر کتاب کے ص۔۹۸ محترم بھنڈر نے جس حقیقت کو قلم بند کیا ہے یعنی
مغرب میں ادبی و سماجی نقاد ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر اپنے سماجی پس منظر میں مختلف موضوعات پر خیال آرائی کرنے کے علاوہ سماجی عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ فوکو، وریدا،سارتریا، ہائیڈیگر جیسے مفکر، ........،مختلف تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں اور مختلف گروہوں اور طبقات کے ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے لڑتے رہے ہیں
لیکن ہمارے اردو کے ادیب اور نقاد عوام سے کٹے ہوئے ہیں کچھ تو ان کا اہنکار اس کی وجہ ہے اورکچھ اُس ہدف کی غیر موجودگی جو آزادی ہند سے پہلے اردو کے اختراعی ادب میں پائی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ اردو کا مزاج نہ معلوم لڑائی جھگڑ ے سے کیوں مملو ہے؟ مقتدر بالخصوص کسی حکومتی بندوبستی نظام سے لڑائی کی جگہ ترغیب و خاطر نشینی سے بھی تو کام لیا جاسکتا ہے۔ غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی دور حکومت میں ہندی زبان کا اجرا ترغیبی عمل کا نتیجہ تھا نہ کہ کسی لڑائی سے حاصل ہوا تھا۔
فی الوقت بر صغیر ہند کا اردو ڈائی اسپورا (Urdu Diaspora)کامسئلہ اس کا مسلم متوسط طبقہ ہے جو ابھی تک یک جانب اپنے اِس غرّہ سے نجات نہیں پاسکا کہ کبھی ان کے ابا واجداد نے وہاں حکومت کی تھی تو دوسری جانب آزادی برصغیر ہند کے پچاس ساٹھ برس بعد بھی احساس کم مائیگی میں مبتلا ہے اور مغرب کی وکٹوریائی اقتدار کی عُلویَّت کے زیر اثر ہے۔ مزید اس نے اردو کو مذہبی شناخت دے دی ہے اور اردو کو مسلم مذہبی اقدار کا حصہ بنالیا ہے۔ اور جیسا آپ نے کتاب کے صفحہ 32 پر بالکل صحیح مشاہدہ درج کیا ہے کہ یہ ہر ایسے نظریے کو مسترد کردیتے ہیں جو ان کے مذہبی اعتقادات سے مطابقت نہ رکھتا ہو(۳)۔ اب مغرب سے برآمد کیئے ہوئے اختراعی ادب کے تنقیدی نظریات کو قبول کرنے کا سوال ہے تو اکثر نظریات کی فطرت آفاقی ہوتی ضرور ہے لیکن ان کا انطباق کسی معاشرے میں اس کی ضرورتوں کے تحت رد و بدل کرکے کرتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ موجودہ بھارت کے غیر مسلم ان درآمد نظریات کو کسی ایسی ہی استحصالی ضرورت کے تحت فروغ دے رہے ہوں جس طرح برطانوی سامراج نے د و ڈھائی سوسال کی حکومت میں ایک کثیر الجہت معاشرے کے پرخچے اُڑانے کے لئے اپنی کامیاب حکمت عملی اختیار کی تھی۔ شاید اس بات کی جانچ اور اس کے سلسلے میں تحقیق کی ضرورت پر توجہ ضروری ہے۔
عمران شاہد نے زیر نظر کتاب کے صفحہ 39 پر دیا گیا قضیہ (thesis) ،
’’ سیاسی عمل کی درستگی ادبی کہانیوں سے کہیں زیادہ سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہیں سیاست میں ایک غلطی پورے سماج کی تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔ ادب و جمالیات کی حیثیت کم از کم سماجی و سیاسی عمل کی سنجیدگی کے حوالے سے ثانوی حیثیت اختیار کرجاتی ہے‘‘،
بادی النظر میں دل پذیراور مَنطِقی استدلال پر پورا اُترتا ہے۔ لیکن ایک دوسری حقیقت بھی ہے کہ سیاسی درستگی کا عمل صرف اس وقت عمل میں آتا ہے جب عوامی سطح پر کسی قسم کی جذبات انگیختگی کوئی فعال عوامی تحریک کی شکل اختیار کرلے جب کہ منطقی استدلال عموماً جامعات کے اساتذہ کے خصوصی دائرۂ اختیار و عمل داری (Prerogative) سے تعلق رکھتا ہے۔ ریورنڈ باربرا گلے سن کا یہ قول غور طلب ہے
We use stories in various ways to keep memory alive,to celebrate our history /identity; to drive lessons about how to act effectively; to inspire action;and as a tool of persuasion in policy debates. We uncover persuasion in policy debates. We uncover buried stories. We create new stories. We invent metaphors around which policy stories pivot. Stories, carefully heard, have the potential to act as bridge between ingrained habits and new features. Stories can usefully disrupt habits of thoughts and action that control every day life. (Rev.Barbara Glasson in "A Spirituality of Survival : Enabling a Response to Trauma and Abuse, P)
کہانیاں زندگی کی یادیں تازہ کراتی ہیں، ہماری تاریخ، ہمارے تشخص کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہمارے آنے والے دنوں کے لائحۂ عمل کو مرتب کرنے میں معاون ہوتی ہیں، یہ حکمت عملی کو طے کرنے میں موثر کردار ادا کرتی ہیں ساتھ ہی ہمیں اپنی بھولی بسری باتوں کی یاد دہانی کراتی ہیں اور وہ کہانیاں جن کا تانا بانا احتیاط سے بُنا گیاہو تو وہ ہماری پختہ عادتوں، روایتوں اور نئی ضرورتوں کے درمیان ربط پیدا کرنے میں موثر کردار ادا کرتی ہیں نہ صرف یہ بلکہ ہمارے ان خیالات اور روزمرے میں تبدیلی لانے کی اہلیت رکھتی ہیں جن سے ہماری صبح و شام کی زندگی مملو ہوتی ہے ( آزاد ترجمہ)
مزید یہ کہ ابراہیمی مذاہب کے آسمانی صحائف اور غیر ابراہیمی مذاہب بالخصوص ہند دھرم کے کلاسیکی ادب میں بھی کہانیوں کی موجودگی ان کی عموامی اہمیت کی نشان دہی
کرتی نظر آتی ہیں۔ گو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مذہب کے کُلّی شعائر و عقائد کو جوں کا توں مان لیں لیکن پھر بھی سوچنے کا مقام تو ہے ہی کہ تاریخی اعتبار سے کہانی کی اہمیت عوامی سطح پر کیا کچھ نہیں۔ چناں چہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب سے برآمد ادبی نظریات کو برصغیر ہند کی سماجی ضرورتوں کے تحت اُن کی تفسیر کی جائے اور اردو کا شاعر اور نثر نگار اُن کے اثرات کا لحاظ اپنے فن میں ملحوظ رکھے۔
صفحہ 94 پرمحترم بھنڈر صاحب نے اردو کے قد آور ناقدین کے شعائر نقدکو وحدۃ الوجودی فلسفہ سے ہم آہنگ کرکے جو مشاہدہ تحریر کیا ہے وہ ہر پہلو سے صحیح ہے۔ لیکن یہاں پر بھی دو باتیں ضروری ہیں :
(۱) اختراعی اردوادب کی بالخصوص وہ صنف جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ اردو زبان کی ترقی اور ترویج میں سب سے زیادہ معاون ہے۔ اور لفظ کے استعمال کی سندصرف اور صرف اس صنف سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے، مطلب ہے صنف شعر سے۔ اردو کے شعرا کا اہنکار انہیں مشاعرہ بازی کے علاوہ کوئی معروضی ارتقائی کام سے روکے ہوئے ہے۔ مشاعرے کے اُدَھم کا دار ومدار غزل خوانی ہے ... غزل، ایک صنف ادب جو اپنی ذات میں انتشارِ خیال، نشاط آنگیں، عیش پرستی کی علامت ہے۔ لیکن کسی وحدۃ الوجودی معاشرے میں ان خصوصیات کو نظر انداز کیسے کیا جاسکتا ہے لہذا نقاد کھینچ تان کر اس میں مابعد طبیعاتی تناظر ڈحونڈ کر گناہ بخشوانے کا کام لیتا ہے، اور اس کو مقام عزت بخشوانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم یہ صنف کسی طرح بھی معاشرے کے کسی بھی معروضی ارتقأ کے عمل میں مفید کام انجام نہیں دیتی سوائے وقتی طور پرسامعین کے وقتی ’’ہو ہا‘‘ اور شاعر کی دبیز انا کی پرورش کے۔
(۲) دوئم اردو زبان کے ارتقا کا زمانہ بھی نظر میں رہنا ضروری ہے۔ برطانوی سامراج کے مکمل انعقاد سے پہلے شمالی ہند میں ایک طرف اسے شاہ کی اور خواص کی سرپرستی حاصل تھی اور دوسری طرف یہ بازار میں ، فقیروں مرشدوں کے تکیوں اور خانقاہوں، طوائفوں کے کوٹھوں میں بھٹکتی پھرتی تھی۔ اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی جس سے اس کی پرداخت کسی منضبط طریقے سے ہوتی۔ شاہی مَحَل اور خواص کے دیوان خانوں نے اس میں غزل گوئی سے تصنع کے عناصر بھرے ، تکیوں اورخانقاہوں نے اس میں مابعد طبیعاتی روح پھونکی ، بازار اور کوٹھوں نے اسے تعیش پسندی، پھکڑپن اور بانکپن دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ایک مصنوعی زبان ، ایک بولی ٹھولی کی لسان بن کر رہ گئی۔ برطانوی سامراج نے اسے پہلی بار اپنی ضرورت کے تحت سرکاری حیثیت دی۔اس کی پہلی اولین قواعد بزبان انگریزی ضبط تحریر میں آئی اور اس کی ارتقائی صور ت پذیری کے آثار پیدا ہوئے۔ لیکن ۷۵۸۱ ء میں جب وہاں پر برطانوی سامراج کا جوا اُتار پھینکنے کی عسکری مہم اور بعدہ ٗ سیاسی تحریکِ آزادی نے زور پکڑا تو اس زبان نے ایک طرف احتجاج کی سمت میں قدم رکھا اور دوسری جانب اپنے لئے خود ترحمی اور دوسرے کو ملزم ٹھہرانے کا۔ شعر کی فطری صلاحیت نے احتجاجی ، خود ترحمی اور الزام تراشی کی زبان کو فروغ دیا(۴)۔
مزیددقت اردو زبان کی قواعد کی ہے جہاں اس کے فعل کی گردانیں بلحاظ زمان محدود ہیں ۔ مشکل سے اسم ضمیر، اور اس کی حالت تصریفی مختلف اشکال، مثلاًحالت فاعلی (Nominative case)،حالت نصبی، مفعول لہٗ (Dative case)، حالت مفعولی (Accusative case) اور تصریفی حالت کے اعتبارسے فعل کی گردان ،حرف جار کے استعمال میں بھی کوئی شعوری کوشش اردو کے لیکھک کرتے نظر نہیں آتے ہیں۔ اسی طرح اردو میں بواسطہ اور بلا واسطہ گفتگو کو قاری یا سامع تک پہنچانے کا کوئی منضبط طریقہ لکھاڑی استعمال نہیں کرتے۔ اورجب ایسے لکھاڑی کو کسی چنوتی کا سامنا ہوتو وہ معترض کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے حیائی سے کہتا ہے ، ’’بات آپ کی سمجھ آگئی، جھگڑا کس بات کا؟‘‘ یہ دوسری بات ہے کہ ’’سمجھ آنا‘‘ حصولِ پختگئ شعور و بلوغت کامحاورہ ہے۔ ایسے لوگ اپنی کمزوری کی لیپا پوتی کے واسطے گاہے گاہے ’’آسان اردو ‘‘کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔
عمران شاہد کی محنت کی داد نہ دینا بخل اور کنجوسی ہے ۔اُن کی اس کتاب پر گفتگوعمران اور ان کی اپنی اہلیت و قابلیت کے چنیدہ چنیدہ اکیڈمیشن اور وسیع المطالعہ دانشور کسی سمینار کے ماحول میں گفتگو کریں تو خاطر خواہ مفید نئی راہیں کھلتی نظر آئیں گی، مثلا ص۔97 پر سیوسیئر (Saussure) کے اقتباس سے’’ خارج‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ لیکن خارج کیا وہ ہی شے ہے جس کو بیان کرنے سے پہلے تصور میں لایا جاسکے؟ کیا قبل تجربی انسان حقیقت کا کوئی بھی مفہوم نہیں رکھتا؟ ص۔ 94 پرعمران نے سوال اُٹھایا ہے ،
’’اگر گناہ بخشوانا ادب کا کام ہے تومذہب اور ادب میں فرق کیسے کیا جائے؟ ‘‘
مزید ،
’’ مذہبی جمالیات جبریت کی علامت ہے جب کہ اصل سوال ’’ٹھوس‘‘ کی وضاحت کا ہے۔ ادب تو انسا ن کا فطرت اور سماج سے براہِ راست رشتہ جوڑتا ہے۔ تخلیقیت سے حاصل ہونے والا سکون مذہبیت کی جگہ اس وقت لیتا ہے جب مبنی بر خوف روحانیت یا مذہبیت کو خیر باد کہہ دیا جائے۔‘‘ ( ص۔۴۹)
یہ دونوں باتیں نہایت غور طلب ہیں۔یقیناً ادب کا کام گناہ بخشوانا نہیں لیکن احساس گناہ پیدا کرنا اور گناہ بخشوانے میں بہت فرق ہے۔ مذہبی جمالیات کیا واقعتًا جبریت کی علامت ہے؟ میں سمجھتا ہوں ان کی مراد ’’ جبریت‘‘سے’’ نظری�ۂ جبر‘‘ ( Determinism) ہے،یعنی کہ انسان کے سارے اعمال اس کے ’’آزاد ارادے( Free Will) پر منحصر نہیں بلکہ ان کا تعین توریتی یا ماحولی اثرات کے تحت ہوتا ہے ۔ بہ الفاظ دیگرمصنف یہاں مذہبی جمالیات کو قضا و قدرکے تحت لا رہا ہے۔ لیکن جب اور جہاں منتہائے جمال ہی کوئی ماورائی قوت ہو تو پھر ’’جمالیات ‘‘ یعنی انسانی زندگی، آفاقی ،اخلاقی اُس ذات کی دی ہوئی ہر اقدار لامحالہ جبریت سے مملو ہوں گی۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں ،’’ٹھوس‘‘ سے عمران کی مراد اس ’’نظری�ۂارادیت (Voluntrism)‘‘ سے ہے جہاں انسان بلارادہ و بالقصد زندگی کرنے کے افعال انجام دیتا ہے۔ یعنی ایسے حقائق کا سامنا کرتا ہے جو سیاہ و سپید کی طرح عیاں ہوتے ہیں اور کلیۃً انسان کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں۔اُن کا یہ کہنا اپنی جگہ بہت وزن رکھتا ہے کہ تخلیقیت سے حاصل ہونے والا’’ سکون‘‘ ، مذہبیت کی جگہ اس وقت لیتا ہے جب مبنی بر’’ خوف‘‘ روحانیت یا مذہبیت کو خیر باد کہہ دیا جائے‘‘۔ یہاں لفظ ’’سکون/خوف‘‘ نہایت قابل غور ہیں۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی صحیح ہوگا ایسا سکون صرف اس وقت حاصل ہوگا جہاں فرد خوف بر بنا کسی کٹر لامذہبیت، وجودیاتی اور کونیاتی فلسفے کے تحت مرتب معاشرے کی عام پابندیوں سے آزاد ہوکر زندگی کرے۔ انسانی زندگی کی ضرورتیں روحانی اور جسمانی (مادی) دونوں ہیں ۔ قدرۃً وہ غول پسند، مجلسی اور صحبت پسند ہے۔ جس کی وجہ سے ’’جبر‘‘ اس کی زندگی میں ایک اہم کردار اداد کرتا ہے۔
جہاں تک نارنگ اور اس کے حالی موالی جرگہ کا تعلق ہے ، میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں پر انگلی اُٹھانا بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے اور اس لئے کوئی ایسی بات ہی کہہ دینا کافی ہے جیسے کسی نے ابھی چند دن پہلے ٹونی بلیر کی سوانح حیات کیصرف ایک جملے میں مٹی پلید کردیا۔ اور وہ جملہ تھا
Tony's book is a good August read, unfortunately it is September
یا پھر ٹونی بلیر کی سیاسی سوجھ بوجھ پر یہ ایک جملہ اس کی سیاسی دور اندیشی پر قاتل ہے۔
Tony Blair allied us umbilically to the worst Americam President of my life time. We know the consequences (Chris Mullen)
تاہم اردو ڈائی اسپوراکو کم از کم نارنگ کا یہ احسان ماننا پڑے گا کہ اس کے توسط سے مغربی (لامذہبی؟) فلسفی خیالات کے نظریات کے نام سے تو انہیں واقفیت ہوگئی بھلے سے ان کی تفسیر وہ نہیں جوعمران شاہد بھنڈر صاحب پیش کررہے ہیں۔ اور جس کے لئے ہم ان کے شکرگزار بھی ہیں اور انہیں مبارک باد کا مستحق سمجھتے ہیں۔
مزید مجھ جیسا قاری اس مخمصے میں بھی ہے کہ بر صغیر کے اس قدر بڑے ڈائی اسپورا میں ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں نارنگ کے ہم عصر اپنی کسی ذاتی مصلحت یا مصلحتوں کی بنا پر سرقے کو سامنے لانے سے کتراتے ہوں لیکن اس کے ہمعصر تو پاکستان میں بھی ہیں اور یقیناًبرصغیر سے باہر مہجری اردو کا خاصا بڑا ڈائی اسپورا بھی موجود ہے تو یہ سب کیوں اور کس مصلحت کی بنا پر آج تک منہ میں گھومنیا ڈالے بیٹھے رہے ؟ اور کیوں وہ بھی ناگوار مجرمانہ کاروائی کے ساجھی بنے رہے ؟
ایک بات کتاب کے لے آؤٹ (Lay-out) پر بھی ہوجائے تو میرے خیال سے کوئی حرج نہیں۔ میں فلسفہ کی کتابوں کے لے آوٹ سے واقف نہیں۔ لیکن فلسفہ کی کتاب کے بحیثیت اناڑی قاری کے میں محسوس کرتا ہوں کہ جن معتبر اور معزز فلاسفہ کے نظریات کا موازنہ عمران شاہد بھنڈرنے پیش کیا ہے ، اچھا ہوتا کہ اگر پہلے ان کے فرداً فرداً نظریے کو کلی یا اختصار کے ساتھ عامی قاری کے سامنے لایا جاتا تاکہ وہ خود اپنی فہم کو مبارزت میں ڈالتا اور مصنف کے کیئے ہوئے موازنوں کی اچھی طرح سے داد و تحسین کے قابل ہوجاتا۔
۳۲/ ستمبر ۰۱۰۲ ء
(۱) پورا شعر یہ ہے
گنجینہ معٰنی کا طلسم اس کو سمجھیے// جو لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوئے
ظہور احمد خان ، رانا عبد الرحمن اور ایم سرور کے تدوین شدہ نسخہ ’’دیوان غالب‘‘ ، ص۔۸۶۱،مطبوعہ فکشن ہاؤس، لاہو، اور اسی طرح پروفیسر یوسف سکیم چشتی نے ’’ شرح دیوان غالب‘‘، ص۔۷۲۷، مطبوعہ عشرت پبلی شنگ ہاؤس، لاہور، بھی’’گنجینہ معٰنی کا طلسم‘‘ ہی دیا ہے لیکن نہ معلوم کیوں سہا مجددی نے ’’مطالب الغالب‘‘ طبع چہارم، ص۔۰۸۲،مدھیہ پردیش اردو اکادمی، بھوپال میں ’’گنجینہ معنی کا طلسم‘‘ کی جگہ ’’گنجینہ معٰنی کا علم ‘‘لکھا ہے۔
(۲) پورا شعر یہ ہے
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ// آپ بے بہرہ ہے، جو معتقد میر نہیں ۔
(۳)(۳) اس کی ادنیٰ سی مثال یہ ہے۔ پاکستان کے وسطانوی مدرسوں کی جیومیٹری کی کتابوں میں ٹرائی انگل کا ترجمہ تیکون دیا ہوا تھا۔ میں وہاں حیدآباد دکن سے نیا نیا وارد ہواتھا جہاں ہم اس اقلیدسی شکل کو ’’مثلث‘‘ کے نام سے پڑھتے پڑھاتے تھے۔پوچھنے پروہاں بزرگ استاد نے لفظ مثلث کے خلاف یہ تقریر فرمائی کہ اس سے عیسائیت کی تثلیث کا شائبہ بچے کے ذہن میں بیٹھ جائے گا۔ مجھے تعجب نہ ہوگا جب ان جیسا کوئی منچلا نماز مغرب کی تین فرض نماز کو عیسیٰ ؑ کے صلیب پر وقت رَحلت سے جوڑ کر تین کی جگہ دو یا چار رکعات کی تبلیغ شروع نہ کردے۔ دوسری مثال اسی ملک سے ہے جہاں دو ایک سال ہوئے جب یہاں پر فٹ بال ورلڈ کپ کھیلا جارہا تھا توایک پاکستانی دادا /نانانے اپنے صغر سِن پوتوں/ناتیوں کو گھر کی کھڑکی میں انگلینڈ کا مثنی پرچم صرف اس لئے لہرانے سے روک دیا کہ اس کی سفید سر زمین پر سرخ رنگ کا صلیب کا نشان تھا ۔اور ہم جانتے ہیں کہ بچے اپنے مکتب کے ہمعصروں کی دیکھا دیکھی ان کے ساتھ اپنی اجتماعی شناخت کی تلاش میں ایسی حرکت کرتے ہیں۔
(۴) ذیل میں چند اشعار ہیں جہاں احتجاج،ود ترحمی، اپنی کوتاہیوں کا الزام دوسروں پر رکھنے کی کوشش قاری دیکھ سکتے ہیں
وائے ناکامی، فلک نے تاڑ کر ٹوڑا اُسے //میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لئے
کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیوں کر ہوا//اور اسیرِ حلقۂ دامِ ہوا کیوں کر ہوا
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں//یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زبان میری
دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام//ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دود!
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روٹی// اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو