You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM, arif.waqar, Moinuddin Aqeel
سید مبارک شاہ جیلانی، بانی مبارک لائبریری محمد آباد (گاؤں)، تحصیل صادق آباد، پنجاب، لائبریری 1926 میں قائم کی جو آج تک سلامت ہے، 21 نومبر 1969 کو انتقال کرگئے تھے
گزشتہ دنوں پرانی کتابوں کے اتوار بازار سے مبارک شاہ جیلانی کی کتاب بیاض مبارک ملی، کتاب کی تفصٰیل کچھ یوں ہے:
بیاض مبارک (سید مبارک شاہ جیلانی) مرتب: سید زرور حسین شاہ ناشر: میری لائبریری ، لاہور سن اشاعت: 1974
صفحات: 152
یہ دراصل مبارک شاہ جیلانی صاحب کی "آٹو گراف بک" تھی جسے کتاب کی شکل میں محفوظ کردیا گیا تھا
بیاض مبارک میں سر عبدالقادر، اختر علی خان، حرمان خیر آبادی، عرش ملیسانی، نفیس خلیلی، جوش ملیسانی، بسمل الہ آبادی، روش صدیقی، نازش حیدری، مولانا ظفر علی خان، اسد ملتانی، حاجی لق لق، تلوک چند محروم، خواجہ حسن نظامی، ملا واحدی، شیر محمد افضل، احمق پھوندوی، شاہد دہلوی، برجموہن کیفی، بیخود دہلوی و دیگر مشاہیر کی تحریروں کے نمونے شامل ہیں
شاہ صاحب ایک علم دوست شخص تھے، ان کی مادری زبان سرائیکی اور سندھی تھی لیکن تمام عمر انہوں نے اردو کی ترویج کے لیے اس خطے میں کام کیا جہاں آج زبان (سرائیکی) کی بنیاد پر علاحدگی کی تحریک چل رہی ہے!
لائبریری کی دیکھ بھال شاہ صاحب کے اسی سالہ صاحبزادے سید انیس شاہ جیلانی کے ذمے ہے جو خود بھی ادیب ہیں، اردو زبان سے محبت کرتے ہیں، ویرانے میں ڈیرہ جمائے آس پاس والوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے کی تلقین کرتے ہیں
انیس اپنے والد کے بارے میں لکھتے ہیں:
"" ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے تو لہجے کی درشتی میں ٹھہراؤ اور دھیما پن ضرور پایا جاتا تھا، غصہ پینے میں بلانوش تھے، اپنا نقصان برداشت کرتے، اپنی جان پر کھیلتے رہتے، زبان سے کچھ نہ کہتے، خوش مذاقی سے بدکلامی کے نشتر سہتے اور ہنسی میں اڑا دیتے، زبان دراز تو تھے ہی نہیں، گالی بکنا کیسا۔ بیوقوف جلالی کیفیت کا آخری ہتھیار تھا جسے بڑی احتیاط اور بخل سے استعمال کرتے۔ عام لوگوں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھتے تو مشفقانہ رشک مسرت آمیز کا اظہار فرماتے اور سب کو کارزار زیست میں بڑھ بڑھ کر جادہ پیمائی کی تلقین تو بہرحال کیا کرتے، واعظانہ نصیحت بھی نہیں بس مشورہ کہہ لیجیے، لطیف اور لذیذ انداز فہمائش، نہ کسی کے احساسات مجروح ہوں نہ عزت نفس پر حرف آئے۔ بولی ٹھولی کا مزہ تو نہیں، البتہ شعر بلکہ سحر آمیز ادیبانہ شان ان کی تحریر میں پائی جاتی تھی، شوکت الفاظ وصف خاص تھا، خود اپنے ہی سوز باطنی سے انہوں نے ایک شمع روشن کی اور ایک راہ نکالی۔ جملوں کی ساخت کیسی اور کیونکر ہونی چاہیے یہ انہوں نے نیاز فتحپوری سے سیکھا بلکہ وہ تو ان کا سورما کس ڈھب کس سج سے کس پہلو سے بیٹھ کر لکھتا ہے، یہ دیکھنے کے لیے 1925 میں اپنے گاؤں محمد آباد سے بھوپال جاپہنچے۔ نیاز نے اپنے دیوانے کو پہلو میں بٹھایا، لکھنؤ لے گئے اور ریاض خیر آبادی کی ہم نشینی کا مزہ چکھایا۔ سفر سے واپسی پر 1926 میں محمد آباد میں مبارک لائبریری کا سنگ بنیاد رکھا، اس لائبریری کے قیام اور اس کی عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں بابائے اردو مولوی عبدالحق، نیاز فتحپوری اور سید سلیمان ندوی سے مشورے ہوئے مقامی لوگوں نے اسے ایک سنک سمجھ کر مذاق اڑایا، گرہ میں مال نہ تھا تاہم ہمت ہارنے والے نہ تھے، چار چھے ہزار کتابیں چھوڑ کر مرے۔ نہ کسی جماعت کی سرپرستی نہ دربار سرکار میں رسائی۔ خوش آواز تھے اور اچھی آواز پر جان دیتے تھے، لکھنؤ میں ہارمونیم تک خرید لیا تھا، سفر خرچ تمام ہوا تو بیچ کھایا، وصل بلگرامی سے کہا کہ گروی رکھ لو، وصل جہاندیدہ اور خرانٹ تھے مگر مسافر کو سمجھ نہ پائے، منہ نہ لگایا، دوسرے ہی دن منی آڈر پہنچا، مسافر کو وصول کرتا دیکھا تو خوشامد کرکے اپنے ماہنامے مرقع کا زرسالانہ بٹورنا چاہا، دل دکھا چکے تھے، صلہ کیا پاتے! ""
مبارک شاہ جیلانی کا نمونہ تحریر ملاحظہ ہو:
"" زمانہ کی پکار تھی کہ اے سادات لو شریف (لوگ احتراما گھوٹکی کو اس نام سے یاد کرتے ہیں) جدید تعلیم حاصل کرو، مقتضیات وقت کا ساتھ دو، ہوا کے رخ کو دیکھ کر کشتی چلاؤ، یہ للکار سرسید دے رہے تھے لیکن ہم خواب گراں سے اب چونکے، حیرت یہ ہے کہ سرسید کی گونج نے ہمیں آج بیدار کیا ہے، اگر آج سے ساٹھ ستر برس پیشتر ہندو کی طرح ہم نئی تعلیم میں لگ جاتے تو ہمارے گھرانے کے افراد جماعت بن کر سندھ میں پھیل جاتے، چھا جاتے اور ترقی یافتہ ٹولی میں پیش پیش رہتے۔""
بیاض مبارک میں شامل ادباء کی تحریروں کے چند نمونے اس پوسٹ کے ساتھ منسلک کررہا ہوں
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to bazme...@googlegroups.com
محمود شام صاحب
آپ نے ہمارے جذبات کی ترجمانی کر کے حق ادا کر دیا، معمر قذافی کی شہادت کا بہ حثیت مسلمان اور خصوصاً بہ
حثیت پاکستانی بہت دکھ ہے . الله انکو جنّت الفردوس میں جگہ دے
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to bazme...@googlegroups.com
Janab Mahmood Shaam sahib assalam alaikum qaddafi Shaheed per kalaam kis ka hai, aap ka ya jelani sahib ka Gawah urdu weekly hyd.deccan mein insha allah shaaya kiya jaraha hai. ww.gawahweekly.com per next thursday mulahiza kar saktet hain.
Fazil Hussain parvez Editorr Gawah
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to bazme...@googlegroups.com
Mohtramaan.
Ghaddafi ko Shaheed Ka Derja De Kar, Lafz Shaheed Ki Tuaheen Hai.Aur un haqeeqhi shoda ke Muqham Azmat ki be adabi. Bahut Kuch likha ja sakta hai is mouzoon per. Magar iktesran yehi kafi hai.
SHAITAAN KO RAJEEM KEH DIYA THA EK DIN EK SHOOR MACHA KHILAF TEHZEEB HAI YEH.
It is my poem my pain of heartSent from my BlackBerry® smartphone from ZonG
Rashid Ashraf
unread,
Oct 23, 2011, 10:24:33 PM10/23/11
Reply to author
Sign in to reply to author
Forward
Sign in to forward
Delete
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to bazme...@googlegroups.com, Amir Khan
جناب عامر صاحب، آداب
آپکا بہت شکریہ، دلنواز تبصرے پر ممنون ہوں
اتوار بازار ایک حیرت انگیز جگہ ہے!
اس مرتبہ "وار" خالی گیا
البتہ ایک بیحد محترم کرم فرما میرے ہمراہ تھے، ان کو ان کے مطلب کی چند کتابیں مل گئیں، ایک ساتھ اکڑوں بیٹھ کر ہم کتابیں دیکھا کیے، وہ خزانہ کچھ تھا ہی ایسا کہ اس نے ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کروالی
کسی لائبریری پر ہاتھ مارا تھا ظالموں نے، اور صاحب قیمت کتنی، بیس بیس روپے، مجھے حیرت یہ ہوئی کہ بیاض مبارک بھی رکھی تھی جسے میں نے ان کے حوالے کیا اور وہ آہستہ سے کہنے لگے کہ میں بزم قلم پر مبارک شاہ صاحب سے متعلق پوسٹ دیکھ کر تم سے یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ یہ کتاب کہاں اور کیسے ملے گی