اردو زبان اور عصر جدید کے چیلنج

345 views
Skip to first unread message

Imran Akif Khan

unread,
Oct 14, 2013, 6:49:42 AM10/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com

اردوزبان اور عصر جدید کے چیلنج

عمران عاکف خان

imrana...@gmail.com

 ڈیگ گیٹ گلپاڑہ‘بھرتپور‘راجستھان  85

بہت خوبصورت‘غمگین لمحوں کو خوشنما بنا نے والی اور کانوں میں حقیقی رس گھولنے والی اردوزبان مختلف مسایل ‘جد و جہد اور مشکلات کا سامنا کر تی ہو ئی 21 ویں صدی تک پہنچی ہے ۔ 21 ویں صدی چو نکہ عا لمی یگانگت کی صدی ہے ‘ آج ساری دنیا ایک گاں بن گئی ہے ۔ سات سمندر پار کی دھمک بر ق رفتاری سے یہاں پہنچ جاتی ہے اور یہاں کے ہلچل وہاں گونجتی ہے۔ سائنس اور ترقیات کی اس صدی میں سب کچھ ہورہا ہے مگر اردو زبان کو متعدد اور عظیم چیلنج درپیش ہیں جن میں سے کچھ تو معاصر دنیا کی دین ہیں اور اکثر وہ ہیں جو اپنوں کی کارستانی کے سبب پیدا ہو گئے۔ ان کی وجہ سے پل پل اس کی جان پر بن آتی ہے اورلمحہ لمحہ اسے کسی انہونی کا خدشہ رہتا ہے ۔ ذیل میں ایسے کچھ چیلنجوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے اردو متزلزل رہتی ہے ۔

 :لسانی  چیلنج   1)

اردو زبا ن کو سب سے پہلے لسانی چیلنج  کا سامنا ہے ۔ ہندی والوں کا ایک بڑا طبقہ‘ طلبا ‘اساتذہ ‘ہندی اخبارات‘جرائد‘نیوز چینلس ‘بلکہ مکمل میڈیا بے تکلف اورشان سے اردو کے جملے ‘فقر ے اور استعارے ' محاورےروز مرہ کی زبان میں استعمال کرتا ہے ۔ فلموں کے گانے اور نغمے اردو کے ہی مرہون منت ہیں جنھیں بڑے شوق سے گایا جاتا ہے مگر اسے اردو نہ کہہ کر ’ہندی ‘ کہا جاتا ہے ۔

 :رسم  الخط کا چیلنج 2)

وقفے وقفے حکومت ‘انتظامیہ یا کچھ ’بڑے ‘لوگوں کی جانب سے بڑی شدو مد سے یہ آواز اٹھا ئی جاتی ہے کہ اردو کا رسم الخط تبدیل کر دیا جائے ۔ جب کبھی ایسا مطالبہ کیا جاتا ہے اردو کے تن نازک میں زلزلے پیدا ہوجاتے ہیں ۔اس لیے نہیں کہ اس کا وجود مٹ جائے گا بلکہ اس لیے کہ اس جڑی جو تہذیبی روایات اور اقدار ہیں ‘اسی طرح لاکھوں کروڑوں مداحوں کے جذبات بے موت مارے جائیں گے ۔ ایک عظیم تہذیب کا خاتمہ ہو جائے گا جسے یہ صدیوں سے دلوں سے لگائے آرہے ہیں۔

:تلفظ کا چیلنج  3(

اردو پڑھنے والے جاننے والے اور سمجھنے والوں کی اکثریت رو میں الفاظ اور جملوں کا غلط استعمال کر ڈالتی ہے۔ یہاں تک کہ اردو کے بڑے بڑے اسکالر ز اور پرو فیسران اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ طلبا اورعوام اس طرز کو سنتے ہیں اور اس قول پروفیسر ‘دانشور و اسکالر کو دلیل بنا کر ہر جگہ بولتے ہیں ۔ حالانکہ اس سے نقصان ہوتا ہے اور اردو کی اصل روح مٹ جاتی ہے ۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے اردو کو بہت نقصان ہوا ہے ۔ یہ غیرو ں کی جانب سے نہیں اپنوں کی جانب سے ہے ۔ درد برھتا جارہا ہے مگر اس کاعلاج و مداوا ابھی تک دریافت نہیں ہو سکاہے۔

: اردو میں تحقیقی ‘طبع زاداور بنیادی کا م کافقدان 4)

روزنامہ راشٹرےہ سہارا کی3ستمبر 2013 کی اشاعت میں ایک حیرت انگیز خبر شائع ہو ئی جس کی سرخی تھی ”اردومیں بیشتر تھیسس بغیرپڑھے ہی پاس کر دیے جاتے ہیں  " پھر اس کے ضمن میں متعدد اردو دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آج اساتذہ کے پاس اتنا وقت بٌھی نہیں ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کی کارکر دگیو ں کا بغور جائزہ لے سکیں بس ان کے مفوضہ کام مکمل دیکھ کر ان کی بنیاد پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگریاں دیدی جاتی ہیں ۔ اگر کبھی دیکھنے کا وقت بھی ملتا ہے تو غیر معیار کاموں کو ہی پاس کر دیا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ آج اردو زبان میں تحقیقی اور طبع زاد کاموں کا بڑی تیزی سے فقدان ہوتا جارہا ہے اس کے بجائے تراجم سے کام لیا جارہا ہے جو اردو کے لیےے غیر مناسب علامت ہے۔"

یہ خیالات دانشوروں نے ایک تقریب میں کیے تھےبلکہ قصئہ درد سنایا تھا - آج کی صورت حال مذکورہ خیالات سے جدا نہیں ہے۔ آج بیشتر مقالے اور امور بس تکمیل کی بنیاد پر پاس کردیےجاتے ہیں ۔ یہ اردو کے وجود کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ اگر اس کا مدوا بر وقت نہیں ہو سکا تو بعید نہیں کہ ایوان اردو میں الّو بولنے لگیں۔

: تراجم اور زبانوں کی منتقلی 5)

 چمنستان اردومیں یہ امور خزاں بر پا کر نے کے مترادف ہیں کہ اپنے ذہن و ماغ سے متن لکھنے کے بجائے تراجم سے کام چلا یا جاتا ہے۔چنانچہ اردو صحافیوں کی ایک بڑی تعداد معاصر انگریزی اخبارات اور ویب سائٹوں سے ترجمہ کر کے مضامین لکھتی ہے ۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ حالات کی برہم زلفوں کا خود جائزہ لیں اوران پر’ اپنی ذاتی ‘رائے پیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج حالات حاضرہ پر ہزارو ں مضامین لکھے جاتے ہیں‘سینکڑوں اداریے‘نظرات ‘احوال ‘پیش گفتار لکھی جاتی ہیں مگر حالات سدھرنے کے بجائے مزید خراب ہوجاتے ہیں ۔

ایک دو ر وہ بھی تھا ‘اردو کا زرین عہد‘جب حقیقی اور ذہن و دماغ سے اردو رشحات قلم بن کر صفحات کو معطر کر تی تھی ۔ اس کی خوشبوں سے نہ صرف ماحول درست ہوتے بلکہ آتشیں  فضا میں برف کی بارشیںہو جاتی تھیں اور کشیدہ ماحول جذبہ ہمدردی اور انسانیت سے بھر جاتے تھے ۔لیکن آج یہ سب باتیں ‘یہ سب خیالات ماضی کے قصے ہو گئے ۔

: جدیدیت   6)

اردو کے لیے ایک بڑا چیلنج جدیدیت ہے۔ نہ جانے کیوں اردو والے اس احساس کمتری کے شکار ہو گئے ہیں کہ جب تک ہم   ارد و اور انگریزی بولنے چالنے اور لکھنے پڑھنے میں یگانگت نہیں کر یں گے قدامت پسند کہلائیں گے ۔چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یوم پیدا ئش کو ”حسین ڈے “کے عنوا ن سے منایا جاتا ہے ۔ اسی نام سے اخبارات و مجلوں میں اشتہارات و پیغامات دیے جاتے ہیں ۔جبکہ ہندی والے کسی طرح ہندی کا دامن نہیں چھوڑتے اور راجیو گاندھی کے یوم وفات کو ”بلیدان دیوس“کے نام سے مناتے ہیں۔ یہ دو نمونے آپ کی خدمت میں پیش ہیں ایسے بہت سے نمونے آپ کو ملیں گے ۔ ایک طرف ہندی والے ہیں جو کسی صورت ہندی کے ساتھ دوسری زبانوں کا امتزاج بر داشت نہیں کر تے اور ایک ہم اردو والے جو انگریزی سے دل و جان کا رشتہ رکھتے ہیں ۔ یادرکھیے!یہ سوچ اور طریقہ اردو کے لیےسم قاتل ہے ۔ اسی کے ساتھ اردو والوں کو خدشہ ہو رہا ہے کہ معاصر دنیا اسے اردو کے قالب و لباس اور تہذیب مےں برداشت نہیں کر ے گی ۔’ اردو والا‘ کہلاناآج گالی بنتا جارہا ہے لہذا اردو کو اپنے گھروں سے نکال دواور اپنے بچوں کو اس کے سائے سے بھی دور رکھو۔ یہ رجحان تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور اردو کے بلند و بالا محلات مٹی میں مل رہے ہیں ۔

:ادب اور فن کے معیار مےں زوال 7)

چھوٹے اداروں کا تو ذکر کیا آج بڑی بڑی دانش گاہوں کی فارغین نئی نسل کا حال یہ ہے کہ نہ اسے ادب سے صحیح معنوں میں واقفیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ فن جانتی ہے ۔یہ تو بہت بڑی باتیں ہیں ‘وہ اپنے جذبات تک کا اظہار ادبی انداز میں نہیں کر سکتی ۔ کہانیاں افسانے ‘ناول اور نظم و غزل تو دور کی بات ۔چھوٹے چھوٹے جملوں کی ساخت اس کے لیے مشکل ہوجاتی ہے۔ ہاں دوسرو ں کی غزلیں ‘نظمیں ‘اشعار اور مغلظات انھیں ازبر ہوتی ہیں ۔یی وجہ ہے کہ آج عوماً 18 سال۔ 19سال22سال اور30سال کے قلم کار نظر نہیں آتے ’جو بھی ہیں یا تو وہ خاندانی ہیں یا پھر عمر رسیدہ  ۔ یہ صورت حال بھی اردو کی زبوں حالی کی علامت ہے ۔

: اردو۔ انگریزی 8)

اسی سے ملتی جلتی ایک پریشانی یہ ہے کہ جن اداروں کو اردو کا منبع ‘مرکز اور گھر کہلانے کا شرف حاصل ہے ۔ یو نیو رسٹیوں ‘جامعات کے اردو شعبوں میں تمام امور اردو کے بجائے انگلش مےں کیے جاتے ہیں ۔ بہانہ یہ کیا جاتا ہے کہ ملازمین اردو سمجھ نہیں سکتے اس لیے مجبوراً ایسا کیا جاتا ہے ۔یہ کوئی مجبوری نہےں ہے ۔ بس بات ہے ۔ ارود شعبوں کے سربراہوں اور ذمے داروں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ یہ باتیں چھوٹی چھوٹی ضرور ہیں مگران کے اثرات بہت شدید اور مہلک ہوتے ہیں ۔

:سوشل میڈیا کا چیلنج 9)

فی زمانہ انٹرنیٹ معلومات کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن یہاں بھی اردو زبان میں سائنسی و تحقیقی مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس ضمن میں سرکاری اداروں پر کڑی ذمے داری عاید ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کو آزاد ہوئے 63 سال کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ہم آج تک اردو زبان میں مستند ترجمے کی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ترجمے کی سہولت اگر میسر آجائے تو کم از کم انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے بیش بہا خزانے سے کسی طور تو بہرہ مند ہوا جاسکتا ہے۔

انٹرنیٹ اور اس کی ذیلی سوشل سائٹس پر ایسا نہیں ہے کہ اردو نہیں ہے یا شائقین اردو ‘ اردو میں کام نہیں کرتے مگر اصل دکھ اس بات کا ہے کہ مذکورہ سائٹس نے اسے بطور زبان اپنے پیکیج میں شامل نہیں کیاہے ۔چنانچہ آپ کو انٹرنیٹ پر زبان کے خانوں میں تمل اور تیلگو جیسی محدود علاقائی زبانیں مل جائیں گی مگراردو ندارد ہے۔ اگروقت حاضر میں اردو کو انٹرنیٹ سے متعارف نہیں کر ایا گیا اور زبانوں کے زمرے میں اسے مقام نہ دلایا گیا تو اردوکا خاتمہ یقینی ہے۔ انٹرنیٹ جس نے ساری دنیا کو جوڑ رکھا ہے اس اہم ترین سائٹ پر اردو زبان کے فروغ کےلیےکی گئی کوششیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ اگر ہم ملک میں علمی و تحقیقی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو انٹرنیٹ پر اردو زبان میں معلومات کو عام کرنے کو منصوبے کے بجائے مقصد بنا کر اس پر عمل کرنا ہوگا-

اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لاہور میں منعقد ہونے والی دوسری عالمی اردو کانفرنس کے مندوبین کے خیالات پیش کر :دوں ۔اس کانفرنس کا انعقاد روزنامہ ’ایکس پر یس ‘ لاہور نے کیا تھا۔ مقررین کے خطاب کا لب لباب یہ تھا

 'اگر اردو زبان کو انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ فروغ دینے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ آیندہ پچاس برسوں میں ختم ہوجائے گی۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ پر اردو کو فروغ دینے کے زور کے ساتھ ایک تجویز یہ پیش کی کہ اس کے لیےمستقل ایک ادارہ بنایا جائے۔“(ہندو پاک کے موقر اخبارات سے ماخوذ:اشاعت 14اکتوبر2013)

: اخلاص کی کمی 10)

خادمین اردو ‘چاہے وہ دانش گاہوں کے اساتذہ ہو ں یا انجمنوں کے روح رواں سب میں یہ مرض یکساں پایا جاتا ہے کہ وہ اردو کے تئیں مخلص نہیں ہیں اور نہ ان کی نگاہ میں اردو کا کام کارثواب ہے۔ اسے یہ لوگ عبادت نہیں بلکہ ایک ناقابل برادشت بوجھ تصو ر کر کے کر تے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فرار کا چھوٹے سے چھوٹا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اسی طرح مقررہ اوقات سے ایک ساعت بھی زیادہ قربانی نہیں دیتے بلکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ مقررہ وقت کے اختتام سے5- 10منٹ پہلے ہی فائلیں بند کر کے ایک طرف رکھ کر کمر سیدھی کی جاتی ہیں جیسے کوئی کارنامئہ عظیم انجام دیا ہو۔ اردوکے حق میں یہ بات بھی بہت بری ہے او راس کے زوال کی سبب بھی۔

 اردو اور انگریزی کی بے لگام قربت :  11)

حصول معلومات کےلیے کسی غیر ملکی زبان کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس زبان کو اپنی کمزوری بنا لینا یا عوامی سطح پر اس غیر ملکی زبان پر عبور نہ رکھنے کو کم علمی شمار کرنا ایک ایسی غلطی ہے جس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہم اسی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزی زبان کو اس قدر رائج کردیا ہے کہ اب یہ معاشرتی تفریق کا سبب بن گئی ہے۔ آج جو اسکول اردو میں تدریس فراہم کررہے ہیں ان کے طلبا انگریزی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے آگے خود کو کم تر محسوس کرتے ہیں اور معاشرے میں بھی ان کو نچلے درجے کا طالب علم سمجھا جاتا ہے۔

اردو داں حضرات کی ایک بڑی تعداد انگریزی کی طرف بکثرت مایل ہے بلکہ’ ’اردو ۔ انگریزی بھا ئی بھا ئی “ کا نعرہ دیا جارہا ہے ۔ ایک لنگڑا سا بہانہ بھی اس کے لیے ساخت کرلیا گیا کہ اگر ہم اردو اردو کر تے رہیں گے تو اردو نہ صرف گھروں سے بلکہ اسکولوں اوراداروں سے بھی باہر ہو جائے گی ۔ اس طرح کے خدشات کا اظہار جناب مبارک کاپڑی صاحب اپنے ایک مضمون میں کر تے ہیں جس کا متن ہے:

'' آئیے آج یہ بحث کریں کہ آخر انگریزی زبان اس قدر طاقتور کیسے بن گئی؟ کیسے یہ زبان دنیا بھر کی ساری زبانوں کو چیلنج کر رہی ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے انگریزی زبان کو جی بھر کر کوسا جارہا ہے، گالیاں دی جارہی ہیں۔ کوئی اسے فرنگی کہہ رہا ہے اور کوئی بیرونی بلا، جس قدر اس زبان پر لوگ اپنا بخار اتار رہے ہیں اس قدر یہ زبان طاقتور ہوتی جارہی ہے۔

انگریزی کے خلاف اس محاذ آرائی میں اردو والے بھی پیش پیش ہیں۔ اردو بچانے کی تدابیر کا پتہ کرنے کے بجائے وہ انگریزی ہٹاومہم میں شریک ہوگئے مگر اس دوران اردو اسکولیں بند ہونے لگیں اور انگریزی کا چلن بڑھتا گیا کچھ اس حد تک کہ ممبئی ہی کی مثال  ہے کہ سارے مسلم محلوں سے اسکول بسیں بھر بھر کر بچے کانونٹ اسکولوں میں جارہے ہیں اور ان علاقوں میں جو چند اردو اسکولیں بچی ہیں ان کو زندہ رکھنے کے لیے ایک خیراتی ادارہ دور دراز کی جھونپڑ پٹیوں اور فٹ پاتھ کے بچوں کو ”مفت کتابیں و بیاضیں“، ”مفت یونیفارم اور مفت کھچڑی“ کا سہارا لے رہا ہے۔ شہر ممبئی میں آج درجن بھر اردو ہائی اسکولس ایسی ہیں جن سے اس سال ایس ایس سی کے امتحان میں بمشکل بیس تا پچیس طلبہ نے شرکت کی یہی نہیں اردو ذریعہ تعلیم سے اردو طبقے کا اعتماد اٹھ جانے کے لیے یہی ایک مثال کافی ہے کہ ممبئی کے پچاس سے زائد اردو ہائی اسکولوں کے پرنسپل صاحبان کے بچے بھی انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔

اب یہ اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ اردو اسکولیں صرف زندہ نہیں بلکہ دم خم کے ساتھ اور وقار کے ساتھ زندہ کیسے رہیں گی؟ آئیے اس کا حل تلاش کریں اور اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے صدق دل سے ”اردو انگلش بھائی بھائی“ کا نعرہ لگانا ہوگا۔ اردو تعلیم یا انگریزی تعلیم اس تنازع سے نکل کر ”اردو تعلیم اور انگریزی تعلیم“ اس فارمولے کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انگریزی کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ آخر کچھ تو بات ہوگی جس کی وجہ سے اس زبان کی آج دنیا بھر میں طوطی بول رہا ہے۔"

جناب کاپڑی صاحب کے مذکورہ بالا خیالات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو پر کس طرح کے نکبت و ادبار کے بادل چھائے جارہے ہیں اور اس کے خلاف کیسی سازشیں رچی جارہی ہیں۔


--
عمران عاکف خان

+91--9911657591

HOME TOWN

#85 DEEG GATE, GULPADA, BHARAT PUR , RAJASTHAN PIN-321331


URDU ZABAN AUR ASRE JADEED KE CHELENJ.inp
URDU ZABAN OR ASRE JADEED KE CHALNAG.pdf
اردوزبان اور عصر جدےد کے چےلنج.docx

Hashmat Ali

unread,
Oct 14, 2013, 11:36:05 AM10/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم  عمران عاکف خاں صاحب سلام و رحمت
آپنے بڑے مدلل انداز میں اردو کے مسئلے پر اپنی بات کہی ہے اور اردو کے مسائل کا تجزیہ کیا ہے جسکی تہہ دل سے قدر کرتا ہوں اور آپ سے بالکل متفق ہوں صرف دو ایک معروضات کرنا چالتا ہوں - میری ناقص رائے میں مسئلہ صرف رسم الخط  کا ہے ہندی اور دوسری زندہ زبانیں دوسری زبانوں کے الفاظ اور محاورے وغیرہ اپنی زبان میں شامل کرتی رہتی ہیں اردو نے بھی یہی کیا ہے اور کرنا چاہئے - اب رہی یہ بات کہ اسے ہندی کہا جائے یا اردو تو مثال کے طور "میں کھانا کھاتا ہوں" یا " میں گھر جاتا ہوں" یہ اگر  فارسی رسم الخط میں لکھا جائے تو اردو کہلائے گا اگر دیو ناگری میں لکھا جائے تو ہندی کہلائے گا - ایک بات اور- اکثر لوگ یہ بھی شکائت کرتے ہیں کہ چونکہ اب روزی روٹی کا مسئلہ اردو دسے نہیں جڑا اس لئے اس کو سیکھنے سے کیا فائدہ تو میرے بھائی ہندوستان میں پچھلے ایک ہزار سال سے ہندی کبھی سرکاری یا درباری زبان نہیں رہی فارسی اردو اور انگریزی ہی رہی ہیں لیکن ہندی والوں نے اسے اپنے گھروں میں زندہ رکھا اور آزادی کے بعد رات ہی رات میں یہ چاروں طرف پھیل گئی جبکہ ہم نے اپنی زبان کو صرف ساٹھ  پینسٹھ سالوں میں  گھر سے باہر نکال دیا - میرا تعلق یوپی سے ہے اور میں بڑے درد بھرے دل سے یہ بات کہہ رہا ہوں شکریہ حشمت سہیل



--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM


Imran Akif Khan

unread,
Oct 14, 2013, 11:54:28 AM10/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب حشمت سہیل صاحب السلام علیکم 
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے
آپ کا شاندار تبصرہ نظر نواز ہوا اور دل آپ کی قدردانی کا معترف ہو گیا - اللہ پاک آپ کو سلامت رکھیں اور ہر پریشانی و بلا سے محفوظ رکھیں آمین!
جناب آپ نے آخر میں جو اپنا درد بیان کیا ہے میں اس سے بہت حد تک متفق ہوں -ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ اب ہمیں عمل زیادہ  کر نا ہے باتیں کم کر نی ہیں چونکہ تاریخ شاہد ہے کہ باتوں سے کبھی کچھ نہیں ہوا عمل سے تاریخیں اور روایات تبدیل ہوگئیں ہیں
اور میں میدان عمل میں کود پڑا ہوں آپ بھی میرا ساتھ دیں - مجھے امید ہے کہ کامیابی کی منزل دور نہیں ہے -اللہ پاک ہم سب کےحامی و ناصر ہوں 
آمین-
نیاذ مند 
عمران عھکف خان


2013/10/14 Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com>
Boxbe This message is eligible for Automatic Cleanup! (sh_a...@yahoo.com) Add cleanup rule | More info

محترم  عمران عاکف خاں صاحب سلام و رحمت
آپنے بڑے مدلل انداز میں اردو کے مسئلے پر اپنی بات کہی ہے اور اردو کے مسائل کا تجزیہ کیا ہے جسکی تہہ دل سے قدر کرتا ہوں اور آپ سے بالکل متفق ہوں صرف دو ایک معروضات کرنا چالتا ہوں - میری ناقص رائے میں مسئلہ صرف رسم الخط  کا ہے ہندی اور دوسری زندہ زبانیں دوسری زبانوں کے الفاظ اور محاورے وغیرہ اپنی زبان میں شامل کرتی رہتی ہیں اردو نے بھی یہی کیا ہے اور کرنا چاہئے - اب رہی یہ بات کہ اسے ہندی کہا جائے یا اردو تو مثال کے طور "میں کھانا کھاتا ہوں" یا " میں گھر جاتا ہوں" یہ اگر  فارسی رسم الخط میں لکھا جائے تو اردو کہلائے گا اگر دیو ناگری میں لکھا جائے تو ہندی کہلائے گا - ایک بات اور- اکثر لوگ یہ بھی شکائت کرتے ہیں کہ چونکہ اب روزی روٹی کا مسئلہ اردو دسے نہیں جڑا اس لئے اس کو سیکھنے سے کیا فائدہ تو میرے بھائی ہندوستان میں پچھلے ایک ہزار سال سے ہندی کبھی سرکاری یا درباری زبان نہیں رہی فارسی اردو اور انگریزی ہی رہی ہیں لیکن ہندی والوں نے اسے اپنے گھروں میں زندہ رکھا اور آزادی کے بعد رات ہی رات میں یہ چاروں طرف پھیل گئی جبکہ ہم نے اپنی زبان کو صرف ساٹھ  پینسٹھ سالوں میں  گھر سے باہر نکال دیا - میرا تعلق یوپی سے ہے اور میں بڑے درد بھرے دل سے یہ بات کہہ رہا ہوں شکریہ حشمت سہیل

On Monday, October 14, 2013 5:52 AM, Imran Akif Khan <imrana...@gmail.com> wrote:
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM




--
Kindly Find Attechment

Firoz Hashmi

unread,
Oct 14, 2013, 12:01:41 PM10/14/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب عمران عاکف خاں صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا مضمون عمدہ ہے۔ اگر اردو کے تھیسس بغیر پڑھے پاس کر دیا جاتا ہے تو اس میں کیا تعجب کی بات ہے۔ کس ادارے میں پڑھنے کے بعد پاس کیا جاتاہے۔ ’’تو مجھے سنا میں تجھے سناؤں اپنی پریم کہانی‘‘ جیسی باتیں عام ہو چکی ہیں۔ اخبارات رنگین غلطیوں سے پُر ہیں۔ پہلے کاتبوں کے توسط سے اخبارات و رسائل قاری تک پہنچتے تھے اب کمپیوزیٹر کے مرہونِ منت ہیں۔ کمپوزنگ کی صورتِ حال کیا ہے اس کی مثال دینے کی ضرورت میں نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ مثال بھرے پڑے ہیں۔
فیروزہاشمی


2013/10/14 Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com>



--
Dr. Mohammad Firoz Alam 
D.H.M.S, D.B.S.M. (ICAM)
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Ex Editor Urdu I.T. Monthly "Nai Shanakht" New Delhi
91-98117 42537
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201301 INDIA
          

Rashid Ashraf

unread,
Oct 14, 2013, 10:58:37 PM10/14/13
to 5BAZMeQALAM, Imran Akif Khan
عمران
آپ کے مضمون سے کئی اہم باتوں کا علم ہوا
براہ کرم اس کی ان پیج علاحدہ پیغام میں بھیج دیجیے

راشد



2013/10/14 Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com>

Mukarram Niyaz

unread,
Oct 15, 2013, 3:15:09 PM10/15/13
to bazmeqalam
گو کہ مجھے ذاتی طور پر اس مضمون کے کئی اہم نکات پر تحفظات ہیں جس پر پھر کبھی تفصیلی تبصرہ کروں گا۔ مگر چونکہ مضمون اہم اور سلگتے موضوع پر ہے ، لہذا تعمیر نیوز پر اسے ترجیحاً شائع کیا گیا ہے ۔۔۔ یہاں :

تعمیر نیوز : اردو زبان اور عصر جدید کے چیلنج

عبدالمتین منیری بھائی ، پروف ریڈنگ کا مسئلہ ہر دور میں رہا ہے۔ اس وقت بھی جب ہاتھ سے کتابت ہوتی تھی اور آج بھی کمپیوٹر کمپوزنگ کے دور میں۔ کتابت والے زمانے میں تو ہر چھوٹے سے چھوٹے اخبار میں باقاعدہ ایک "پروف ریڈر" کا عہدہ ہوتا تھا۔ آج کہاں ہے؟ اور پھر پہلے تو مدیر سے لے کر سب ایڈیٹر تک اردو زبان و ادب میں مہارت رکھتے تھے اور پروف ریڈنگ کی زائد از ذمہ داری بھی نبھایا کرتے تھے ۔۔۔ اور آج؟ حضور خاکسار نے تو بڑے بڑے اخبارات کے مدیر اعلیٰ اور اردو کے "ڈاکٹروں" کو تک معمولی صرف و نحو کی غلطیاں کرتے دیکھا ہے۔
تعمیر نیوز کی ہر خبر میں بھی کمپوزنگ / پروف ریڈنگ کی بلاناغہ غلطیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ مگر بعض مسائل کے سبب ابھی میں نے اس جانب توجہ نہیں دی ہے ۔۔۔ کیونکہ یہ شعبہ باقاعدہ ایک "پروف ریڈر" کا تقاضا کرتا ہے اور انشاءاللہ اس پر جلد عمل آوری ہوگی۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے مضمون میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یا تو جذباتیت کے زیراثر تحریر کردہ ہے یا پھر مضمون نگار کی کم علمی۔ ورنہ گذشتہ ایک دہے کے دوران انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ و ترویج کی خاطر جتنی کوششیں ہوئی ہیں اور مسلسل کی جا رہی ہیں وہ لائق صد ستائش ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس ضمن میں ہندوستان کا حصہ نہایت کم ہے۔

والسلام
- مکرم نیاز


2013/10/15 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Mukarram Niyaz

unread,
Oct 15, 2013, 3:17:36 PM10/15/13
to bazmeqalam
معذرت ! میرے گذشتہ مراسلے میں جہاں "فیروز ہاشمی" صاحب کے نام کا حوالہ دیا جانا چاہیے تھا وہاں غلطی سے "عبدالمتین منیری" بھائی کا نام درج ہو گیا ہے۔


2013/10/16 Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages