Shakeel Badayuni

86 views
Skip to first unread message

Mohammad Yacoob

unread,
Dec 30, 2015, 12:57:09 AM12/30/15
to 5BAZMeQALAM
بزم قلم کے ساتھیو  آداب اور سلام - ایک مضمون "شکیل بدایونی " اور ان کی دو غزلیں بھیجرہا ہوں --- محمد یعقوب
Shakeel Badayuni Urdu Link 11-12-2015.pdf

Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Dec 30, 2015, 3:07:08 AM12/30/15
to bazme...@googlegroups.com, Anees Siddiqui, Mumbai, Arshad Ghazi, Mr. Aligarh, India, Asad Latif Khan, Canada, Aseem Kavyani Saheb, India, Dr. Abidullah Ghazi, USA, Dr. Humayun Huma, Dr. Javed Jamil, Dr. Shakeel Pitafi Saheb, Pakistan, Dr. Tajuddin, IISJ, Fouzia Khan,Saudi Gazette, geoj...@gmail.com, Hasanat, Karachi, Hifzur Rahman, Indian Emb, Ruh, Irfan Khan, Dammam, Israrul Haque, Jeddah, Mahmood Hasan, Saudi Gazette, Mahtab Qadar, Jeddah, Mahtab Qadr Saheb, Jeddah, Mir Ayoob Ali Khan, Muhammad Mujahid Syed, Muhammad Tariq Ghazi, Canada, Muhammad Tariq Ghazi, Canada, Mushtaq Ahmad, Jeddah, Owais Jafrey, Rizvi, Sayed Athar, Saudi Gazette, Saif Qazi, Bazme Qalam, Sayed Mohiuddin neigbhour, Shaheen Nazar, India, Shams Ahsan, Saudi Gazette, Siraj Wahab, Arab News, Siraj Wahab, Arab News, Taiyeb Shaikh, Anjumanite, Pune, Nadeem Siddiqui, Urdu Times
December 30, 2015
Janab Yaqoob Saheb:
Salam wa rahmat
Naushad Saheb ki pahli mulaqat Skaheel Saheb k saath ek mushaire mein huee thee. Us mushaire mein Shakeel Saheb ki ek ghazal k yeh sher
Wahi raste wahi zindagi wahi manzilein wahi marhale 
Magar apne apne maqam par kabhi ham nahin kabhi tujm nahin
ne Naushad Saheb ko behad mutassir kiya tha aur Nausha-Shakeel jodi samne ayee. Yeh baat khud Naushad Saheb ne ek interview mein kahi thee aur ek mulaqat mein bhi mujhe batayee thee. 
Kulliyat-e-Shakeel mein mazkoora sher aur tareeqe se chhapa hai.

Bazm-e-qalam mein Nadeem Siddiqui Saheb ka yeh mazmoon bhi dichsp tha. 
N.A. Mirza
----

[بزم قلم:35150] Fwd: reply

 

From:   BAZMe...@googlegroups.com on behalf of Nadeem Siddiqui (nade...@gmail.com) This sender is in your contact list.

Sent:    Tuesday, April 22, 2014 3:07:14 PM

 

janab

 bazm e qalam men shakeel badauni ki kitab ka tazkera shayed rah gaya hai

woh file ma photo munsalik hai

NadeemSiddiqui

 

تعارف و تذکرہ    شکیل بدایونی

 شکیل بدایونی ہماری شاعری میںدور ِگزشتہ کا ایک بہت روشن نام ہے۔ اپنے زمانے کے مشاعروں اور شعر وادب کے مداحوں میں ہیروو ¿ں کی طرح وہ مقبول تھے شہر شہر اُن کے نام کی انجمن اور بزم بنی ہوئی تھیں لوگ ان کا استقبال کرنا اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ایک اعزاز کی بات سمجھتے تھے۔

 مشاعروں میں ان کی شرکت اس محفل کو پر لطف ہی نہیں ایک وقار کا بھی باعث بن جاتی تھی۔ اس میں ان کا فلمی گلیمر کام کرتا تھا یا اُن کی شاعری کا جادوسَر بولتا تھا ۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔

 البتہ ان کے اکثر اشعار اُس زمانے میں زباں زد تھے۔ ان کی شاعری کا ایک رنگ تھا جو اُس زمانے کی پسند کے عین مطابق تھا ۔ بلکہ سچ تو یہ بھی ہے کہ تغزل سے بھری اُن کی شاعری آج بھی دِلوں میں جذبہ ¿ محبت کی چنگاری کو روشن کر دیتی ہے۔

 ان کی فلمی شاعری بھی خوب تھی بلکہ فلم میں ان کا قلمی حصہ بھی ایک تاریخ ہے۔ جیسے نغمے اُنہوں نے دِیے ہیں وہ آج بھی جب کانوں میں پڑتے ہیں تو صاحب ِدل شخص اُس سے صرف ِنظر نہیں کر سکتا۔

 ان کے فلمی نغموں کی بھی خاصی تعداد ہے اور ان میں اکثر نغمے ایسے ہیں جو عوامی سطح پر بے طرح مقبول ہوئے۔ ہماری فلمی دُنیا میں تین چار شاعرایسے ہیں جو اپنی شاعری کے بِرتے پر اپنی ساکھ بنائے ہوئے تھے۔ جن میں اوّلیت شکیل بدایونی ہی کو حاصل تھی اور دوسرے تھے ساحر لدھیانوی ، اسی طرح راجہ مہدی علی خاں کو بھی ہم نہیں بھول سکتے کہ ان کی تو بعض فلمیں ایسی ہیں کہ فلم فلاپ ہو گئی مگر ان کے گانے ریڈیو پر سدا بہار بن گئے۔ راجندرکرشن کو بھی اس حوالے سے یاد رکھاجائے گا۔ ہرچند کہ مجروح سلطانپوری اور شکیل بدایونی ایک ہی زمانے میں فلمی دُنیا میں داخل ہوئے تھے مگر انھیں مقبولیت ملی تو لیکن کچھ تاخیر سے۔

 شکیل کے نغمے آج بھی اپنی تاثیر سے دلوں کے تار جھنجھنا دیتے ہیں۔ عجب معاملہ ہے کہ فلمیں تو آج بھی بن رہی ہےں اور ان میں گانے بھی ہوتے ہیں اور ان کے شاعروں کو معاوضہ بھی خاصا مل رہا ہے جبکہ شکیل بدایونی اس معاملے میں پچھڑے ہوئے تھے اسی طرح آج کے عام فلمی نغموں میں اکثر موسیقی کا شور تو بہت ہوتا ہے مگر تاثیر نہیں ہوتی ۔ یہ سب باتیں شکیل بدایونی کی خود نوشت نے ذہن میں جگا دیں۔ شکیل کی یہ خود نوشت پاکستان کے ایک رسالے میں قسطوار چھپی تھیں جنہیں اب ’میری زندگی“ کے نام سے یکجا کر دِیا گیا ہے۔ یہ سوانحی روداد شکیل بدایونی نے اپنے آخری ایام میں لکھی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنی۵۴ سالہ زندگی کے مختلف ادوار کو ۶۵ صفحات میں قلم بند کر دیا ہے۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شکیل بدایونی کی مکمل زندگی کتاب بن جاتی ۔ کیونکہ اُنہوں نے ایک بھری پری زندگی گزاری تھی۔ یقیناًجس میں اندھیرے بھی تھے اور اُجالے بھی۔ مگر جب انہوں نے یہ کتاب لکھنی شروع کی تو وہ دِق میں مبتلا ہو چکے تھے ،(آج ہی کے دن) ، آخرش۲۰ اپریل ۱۹۷۰ کو شکیل کا چراغِ زندگی بمبئی میں بجھ گیا۔ یہ مسودہ ان کی بیٹی رضیہ پاکستان لے گئیں اور وہیں سے یہ کتاب شائع ہوئی ہے جس میں ان کے خاندانی حالات کے ساتھ بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس دور کے ادبی ماحول کی جھلکیاں بھی اس میں ہیں۔ شکیل بدایونی نے اپنے خاص میزبانوں اور دوستوںتک کے نام اس میں ایک سلیقے سے درج کر دِیے ہیں۔

 شکیل بدایونی علی گڑھ یونی ورسٹی کے طالب علم رہ چکے تھے بلکہ طالب علمی ہی کے زمانے میں ان کا شاعرانہ تشخص بھی بن چکا تھا۔ اس کتاب میں مشاعروں کے حوالے سے بھی بعض دلچسپ باتیں ہیں اور اس زمانے میں عوام میں مشاعرے کس قدر مقبول تھے یہ بھی پتہ چلتا ہے۔

یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

 بدایوں کے مشہور اہلِ ادب تسلیم غوری بدایونی کی ایما پر یہ کتاب منصہ شہودپر آئی ہے۔ ان کا فون نمبر یوںہے:09690884541/09897047186

٭ن۔ص

 

 

 

2014-04-21 19:29 GMT+05:30 Husain Afsar <husain...@gmail.com>:

 

salam....

haji bumba nay election lara inpage main bhej dain..shukr guzar hoonga.

wassalam

husain

 

 

On Mon, Apr 21, 2014 at 6:33 PM, Nadeem Siddiqui <nade...@gmail.com> wrote:

Janab e wala

taza adabi safha

munsalik hai

NadeemS



Date: Tue, 29 Dec 2015 13:52:41 -0800
Subject: [بزم قلم:48214] Shakeel Badayuni
From: myaco...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com


بزم قلم کے ساتھیو  آداب اور سلام - ایک مضمون "شکیل بدایونی " اور ان کی دو غزلیں بھیجرہا ہوں --- محمد یعقوب

Syed Yadullah Akber Husaini

unread,
Dec 30, 2015, 3:57:48 AM12/30/15
to BAZMe...@googlegroups.com, Anees Siddiqui, Mumbai, Arshad Ghazi, Mr. Aligarh, India, Asad Latif Khan, Canada, Aseem Kavyani Saheb, India, Dr. Abidullah Ghazi, USA, Dr. Humayun Huma, Dr. Javed Jamil, Dr. Shakeel Pitafi Saheb, Pakistan, Dr. Tajuddin, IISJ, Fouzia Khan,Saudi Gazette, geoj...@gmail.com, Hasanat, Karachi, Hifzur Rahman, Indian Emb, Ruh, Irfan Khan, Dammam, Israrul Haque, Jeddah, Mahmood Hasan, Saudi Gazette, Mahtab Qadar, Jeddah, Mahtab Qadr Saheb, Jeddah, Mir Ayoob Ali Khan, Muhammad Mujahid Syed, Muhammad Tariq Ghazi, Canada, Muhammad Tariq Ghazi, Canada, Mushtaq Ahmad, Jeddah, Owais Jafrey, Rizvi, Sayed Athar, Saudi Gazette, Saif Qazi, Bazme Qalam, Sayed Mohiuddin neigbhour, Shaheen Nazar, India, Shams Ahsan, Saudi Gazette, Siraj Wahab, Arab News, Siraj Wahab, Arab News, Taiyeb Shaikh, Anjumanite, Pune, Nadeem Siddiqui, Urdu Times
السلام علیکم و رحمتہ اللہ 
ہم تمام یہاں اردو اور ادب کے حوالے سے جمع ہوتے ہیں جب کہ ہماری اپنی زبان موجود ہے کیوں ہم انگریزی حروف کا استعمال کرتے ہیں۔ 
ذرا سوچیئے۔ 

جزاک اللہ   

S. Y. A. Husaini

P.O. BOX. NO. 52267.
JEDDAH 21563.



Sent from my iPhone


Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Dec 30, 2015, 4:08:17 AM12/30/15
to bazme...@googlegroups.com

Syed Yadullah Akber Husaini

unread,
Dec 30, 2015, 4:20:00 AM12/30/15
to BAZMe...@googlegroups.com
That's special case Mirza Sb and I don't want to point out any person but in general, and really thanks as you respond   

S. Y. A. Husaini

P.O. BOX. NO. 52267.
JEDDAH 21563.



Sent from my iPhone


Muhammad Syed

unread,
Dec 30, 2015, 6:28:09 AM12/30/15
to bazme qalam
Jb Aali 
Adab

Shakeel Badayuni ke tazkere ne dil ko garma diya kyonke woh maqbool e khaso aam the. Aap sub aur arakeene Bazm, khusoosan Nadeem Siddiqui Saheb ko Mubarakbad. Shukriyah


Mukhlis

Muhammad Mujahid Syed
Jeddah KSA

Arshad Mansoor

unread,
Dec 30, 2015, 8:23:18 AM12/30/15
to BAZMe...@googlegroups.com, nrin...@googlegroups.com
                                      Inline image 1

mirza_...@hotmail.com

unread,
Jan 1, 2016, 5:14:58 PM1/1/16
to bazme...@googlegroups.com, 'syed ashraf' via NRIndians Group, Aligarh Urdu Club, Siraj Wahab, Arab News, Siraj Wahab, Arab News, Muhammad Tariq Ghazi, Canada, Anees Siddiqui, Mumbai

Sent from Outlook Mobile




On Fri, Jan 1, 2016 at 4:11 AM -0800, "Nadeem Siddiqui" <nade...@gmail.com> wrote:

 برادر
پہلے تو شکریہ قبول کریں
 اوراب کچھ توقف کریں
 میں خود آپ سے رابطہ کروں گا
 ندیم صدیقی

2016-01-01 0:02 GMT+05:30 <mirza_...@hotmail.com>:

ندیم صاحب
سلام و رحمت
کوئی لے نہ لے. میں ضرور اس مختصر قطار ( پستہ قد شوکت تهانوی صاحب کہہ چکے ہیں) میں ہوں. ازراه کرم یہ بتائیں کہ کتاب کی قیمت و دیگر لاگت آ یعنی  جده تک ڈاک خرچ وغیرہ آپ تک کسطرح پہنچاؤں.  کریڈٹ کارڈ سے رقم کی ادائیگی بآسانی ہو سکتی ہے.
خیر اندیش
مرزا

Sent from Outlook Mobile




On Thu, Dec 31, 2015 at 4:11 AM -0800, "Nadeem Siddiqui" <nade...@gmail.com> wrote:

نواب  مرزا صاحب
 ممبئی کے مرحوم شعرا اور دیگر ادبی لوگوں کا ایک تذکرہ حقیر نے  بہ عنوان پُرسہ لکھا ہے 
 کتاب چھپ کر آگئی ہے
 جو چار سو چوبیس صفحات پر مشتمل ہے
 کتاب کی ہانڈی  سر پر رکھ کر گلی گلی گلی  دہی لے لو کی آواز  لگا تا پھرتا ہوں
 مگر پتہ چلا کہ 
’’ آئینہ بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں‘‘
 کیا آپ کے توسط سے اس کتاب کے  چند نسخے آپ کے  دوست  و احباب میں نکل سکتے ہیں ؟
پیشگی شکریہ
 ندیم صدیقی

2015-12-31 3:01 GMT+05:30 <mirza_...@hotmail.com>:


شکریہ ندیم صاحب.  رفعت سروش کی تحریر نے میرے معشوق شہر کی کئ یادوں کو تازہ کردیا. اس زمانے میں جباری ہوٹل کی فٹ پاتھ،  کلئیر روڈ پر رائل ہوٹل کے پیچھے کے گلی جہاں راجرس کمپنی تهی، حجرے محلے کی بزمِ احباب لائبریری کے علاوہ اور بھی کئی جگہیں تهیں جہاں اربابِ علم و ادب باقاعدہ محفلیں سجایا کرتے تهے. بزمِ احباب لائبریری میں تو جناب نواب علی یاور جنگ صاحب ، جناب قاضی عبدالغفار صاحب اور دیگر قدآور ادبی شخصیات آیا کرتی تهیں. مہاراشٹر کا گورنر بننے کے بعد بھی نواب علی یاور جنگ صاحب بزمِ احباب آتے تهے. مہاراشٹر کالج کے ایک سالانہ فنکشن میں وہ مہمان خصوصی بهی تهے. ہمارے منجھلے ماموں سے ان کے بڑے اچھے تعلقات تھے.  سرکاری ملازمت کے دوران ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تها. نفیس اور رکه رکهاو والے انسان تھے.
ممبئی کے انہی محلوں اور گلیوں میں ادب کی آبیاری ہوئ اور ادبا و شعرا کی نہ صرف پذیرائی ہوئی بلکہ وہیں سے انهیں شہرت بھی ملی. وه گلیاں اور محلے تو کسی وقت ترقی پسندوں کا  اڈه تها. جان نثار اختر، کرشن چندر، ساحر، علی سردار جعفری وغیرہ وغیرہ اکثر وہیں ملا کرتے تھے. اور وہیں بمبئ سنٹرل پوسٹ کے قریب جناب صدیقی صاحب (افتخار امام صدیقی کے والد ماجد) کی رہائش بھی تهی جہاں سے وہ شاعر کے شمارے نکالتے تھے.
والسلام
خیر اندیش
نواب مرزا

Sent from Outlook Mobile




On Wed, Dec 30, 2015 at 9:06 AM -0800, "Nadeem Siddiqui" <nade...@gmail.com> wrote:

مرزا صاحب
 شکیل بدایونی پر میری فائل میں ایک مضمون نکل آیا
 وہ مضمون ارسال ہے
 رفعت سروش(مرحوم) نے  میرے ہی کہنے پر
 ہمارے اخبار کےلئے یہ پوری ایک سیریز’’ حرف حرف ممبئی‘‘ کے نام سے شروع کی تھی۔
 اس نام سے ان کی کتاب بھی چھپ چکی ہے
 ندیم صدیقی

شکیل بدایونی
 رفعت سروش
 یادش بخیر ،آزادی سے پہلے بمبئی میں پنجاب مسلم ایسوسی ایشن ایک سماجی اور ثقافتی ادارہ تھا اس کے زیر اہتمام’ اقبال ڈے ‘ کے موقع پر آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہوتا تھا جس میں ہندوستان کے کونے کونے سے مشاہیر شعرا مدعو کیے جاتے تھے ۔ رئیس المتغزلین حضرتِ جگر مرادآبادی’ رئیس المشاعرہ‘ بھی تھے، ان دنوں ان کے بغیر کوئی مشاعرہ مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان کا و طیرہ تھاکہ اپنے ساتھ مترنم او رہونہار شعرا کو مشاعروں میں لے جا تے تھے اور وہ شاعر خوش قسمت سمجھے جاتے تھے جن کو جگر صاحب کی سر پرستی میسر آجائے۔
اقبال ڈے کے مشاعروں میں شرکت کرنے کےلئے جگر صاحب کے حوا لے سے اُس دور کے تین شاعر یکے بعد دیگرے بمبئی تشریف لائے اور انھیں میاں ( عبدالرشید)کاردار نے اپنی فلم کمپنی میں ملازم رکھا اور وہ تینوں کامیاب فلمی شاعر بھی ثابت ہوئے۔ یہ شعرا ¿ تھے ۱۹۴۴ءمیں خمار بارہ بنکوی، ۱۹۴۵ءمیں مجروح سلطان پوری اور ۱۹۴۶ءمیں شکیل بدایونی۔ غزل گو فلمی شاعروں کی یہ مثلث تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ جب شکیل بدایونی بمبئی پہنچے تو خمار اور مجروح فلم شاہجہاں کے گانے لکھ کر مقبول ہوچکے تھے اور موسیقار نوشاد صاحب نے ان دونوں کے گانوں کو موسیقی سے سجایا تھا ، لیکن جب شکیل صاحب پہنچے تو ان کی شاعری اور سحر انگیز شخصیت کاجادو نوشاد صاحب پر ایسا چلا کہ انھوں نے شکیل صاحب سے ہی عہد ِوفا باندھ لیا ۔ شکیل نے کاردار کی فلم ”درد“ کے گانے لکھے اور نوشاد صاحب کی طرز میں ڈھل کر زبان زد ِ خاص و عام ہوگئے :
یہ افسانہ نہیں ظالم مرے دل کی حقیقت ہے 
مجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہے 
 افسانہ لکھ رہی ہوں دل ِبے قرار کا
 آنکھوں میں رنگ بھرکے ترے انتظار کا
شکیل کے یہ کامیابی غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ بمبئی آنے سے پہلے وہ مشاعروں میں اِن دونوں سے کہیں زیادہ کامیاب شاعر تھے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میںہی انھوں نے مجاز اور جاں نثار اختر کی طرح شہرت حاصل کر لی تھی اور غزلوں کے ساتھ ساتھ ”تصادم“ اور”تیسرا گھنٹہ “جیسی رومانی نظمیں بھی کہی تھیں۔ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر وہ دہلی میں سپلائی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے ۔ یہ دَور تھا دوسری عالمی جنگ کا ، راقم الحروف بھی ان دنوں ایک جنگی دفتر’جی ایچ کیو‘ میں کام کرتا تھا اورنخشب جارچوی کی طرح شکیل سے بھی رسم وراہ تھی ۔ اتفاق سے مَیں دہلی کی نوکری چھوڑ کر ۱۹۴۵ءمیں بمبئی پہنچ گیا اور شکیل ۱۹۴۶ءمیں آئے ، دہلی کی ملاقاتیں تازہ ہوگئیں ۔ میرے ریڈیو میں ملازم ہونے کی وجہ سے ملاقاتوں کے مواقع بھی زیادہ ہوتے اور شکیل بدایونی سے دوستی استوار ہوگئی۔
۱۹۴۶ءمیں شکیل بمبئی آئے تو فلمی گانوں کے سلسلے میں، مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ شکیل کے لڑکپن کے کچھ سال بمبئی میں گزرے تھے۔ ان کے والد مولانا جمیل احمد قادری سوختہ سنّی خوجہ مسجد (واقع کھڑک) میں پیش امام تھے ۔ سنا ہے بہت اچھے واعظ بھی تھے۔ وہ اس مسجد میں سولہ سال رہے ۔ ۱۹۳۹ءمیں ان کا انتقال ہوا ۔ مولانا مرحوم مدرسہ شمس العلوم بدایوں سے فارغ التحصیل تھے لفظ’ سوختہ‘ ان کا تخلص نہیں تھا بلکہ ایک طرح سے ’سر نیم ‘ تھا۔ مشہور محقق مالک رام نے اپنی کتاب”تذکرہ¿ معاصرین“ میں اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ شکیل بدایونی کے ذکر کے ساتھ مناسب معلو م ہوتا ہے کہ انکی خاندانی وجاہت کا بھی ذکر کر دیا جائے ۔ ان کے بزرگوں میں کوئی صاحب آگ سے جل گئے تھے بس تب سے اس خاندان لوگوں کے نام کے ساتھ ”سوختہ“ چسپاں ہوگیا ۔ شکیل کے دادا منشی ہدایت اللہ سوختہ محکمہ سروے میںملازم تھے اور اپنی شرافت ، خوش مزاجی، نیک چلنی اور دینداری کےلئے مشہور تھے۔ اس خاندان کے ایک صاحب منظر علی سوختہ  کانگریسی لیڈر تھے اور ان کے والد منشی مبارک علی سوختہ ”آنند بھون“ الہ آباد میں پنڈت موتی لال نہرو کے محرر تھے ۔
شکیل احمد ( تاریخی نام غفار احمد) یعنی شکیل بدایونی نے ابتدائی تعلیم یعنی اردو، فارسی اور عربی اپنے والد سے بمبئی میں حاصل کی پھر مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول شیخوپورہ ( بدایوں ) سے میٹرک پاس کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کےلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچ گئے۔نیک چلنی، شرافت ، اور دین داری انھیں وراثت میں ملی تھی اور ان پر عزت ، شہرت اور دولت کی بارش ہوتی رہی ۔ خواہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہوں، خواہ دہلی میں ملازمت کے دوران اور بمبئی آجانے کے بعد تو دُنیا جانتی ہے کہ شکیل بدایونی ایک کامیاب اور خوش حال آدمی کا نام تھا ۔ ان کے گانے اس قدر ہٹ ہوئے ہیں کہ اگر فہرست مرتب کی جائے تو کئی صفحے بھر جائیں اور ایک سے ایک کامیاب فلمیں ۔ کے۔ آصف کی فلم مغلِ اعظم کو ہی لے لیجیے۔ دراصل اس وقت ان کی فلموں کے نام گنوانا مقصود نہیں ، بلکہ شکیل احمد سوختہ یعنی شکیل بدایونی کی شخصیت میری نظروں میں گھوم رہی ہے ؟ بمبئی پہنچ کر وہ ابتدا میں دادر کے ایک کمرے میں کچھ دن رہے ، پھر کارٹر روڈ باندرہ میں رہنے لگے ۔ نیچے کا حصہ ان کے پاس تھا اور اوپر کی منزل میں نوشاد صاحب رہتے تھے ۔
شکیل وجیہہ آدمی تھے، گول چہرہ ، بھرے بھرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بہت کھِلتی تھی ۔ توانا بھرا ہوا جسم ، آواز بالخصوص ترنم میں کھرج اور مقناطیسیت ۔
  خوش اخلاق اتنے کہ جو ملے وہ ان کا گرویدہ ہوجائے ۔ خوش لباس، خوش خوراک شکیل کے دستر خوان پرشعرا کا جمگھٹا رہتا تھا ، باغ وبہار آدمی تھے ، لطیفے سناتے اور ہنساتے رہتے تھے ۔ نئے شاعروںکی ہمت افزائی کرتے تھے مشاعرے منعقد کرانے میں بہت دلچسپی لیتے تھے ۔ بمبئی میں ان کا ایک خاص حلقہ تھا ۔ خمار بارہ بنکوی ، صبا افغانی، شکیل نعمانی ان کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ ۵۰ءکے دہے میں کئی سال بمبئی میں مشاعروں کا یہ عالم رہا کہ اگر شکیل صاحب صدارت کر رہے ہیں تو خمار صاحب مہمان خصوصی ہیں اور خمار صاحب صدارت کر ہے ہیں تو شکیل صاحب مہمان خصوصی ہیں۔ حکیم مرزا حیدر بیگ سے شکیل صاحب کی بہت دوستی تھی اور ان کے مطب (واقع محمد علی روڈ) میں بیٹھنے کی وجہ سے ہی نظر سیہوروی اورسرتاج رحمانی سے بھی قریب تھے۔ نخشب اور ساحر لدھیانوی ایک طرح سے ان کے حریف تھے یایوں کہیے کہ فلمی زندگی میں دوسرے خیموں کے آدمی تھے، ویسے دوستانہ تھا۔مگر پیشہ ورانہ قسم کی چشمک تو تھی ہی۔ البتہ ترقی پسند شاعروں سے انھیں خدااواسطے کا       بَیر تھا۔ ایک غزل کے مقطع میں تو انھوں نے یہ بات واضح کردی تھی اور یہ غزل اُن دنوں مشاعروں میں اکثر سناتے تھے ۔
غم ِعشق کے مخالف غمِ عام تک نہ پہنچے 
 مِرے سامنے تو آئے ، مِرے نام تک نہ پہنچے
( شعرمیںشاید کوئی لفظ ادھر اُدھر ہوگیا ہو جس کےلئے معذرت)زندگی ہزار روپ بدلتی رہتی ہے، شکیل نے ایک بار مجھ سے کہا کہ یہاں ہماری قدر نہیں ہوتی ، جتنا کام مَیں نے کیا ہے ، کسی اور ملک میں ہوتا تو میرا اپنا ہوائی جہاز ہوتا ۔
شکیل کو وراثت میں شرافت اور نجابت تو ملی مگر ساتھ میں ذیابیطس بھی اور وہ اس کے ساتھ ٹی ۔ بی کے بھی شکار ہوگئے ۔آہستہ آہستہ ان کے قریبی دوستوں نے ان سے ملنا چھوڑ دیا، وہ تقریباً ایک سال ٹی ۔بی ، کے علاج کے سلسلے میں بمبئی سے قریب ایک مشہور پُر فضا مقام پنچ گنی میں بھی رہے دن بُرے آتے ہیں تو اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں ، کارٹر روڈ کے فلیٹ کے علاوہ باندرہ میں ان کا ایک اور فلیٹ تھا ۔ اس فلیٹ میں وہ ایک ملازم کے ساتھ اکیلے رہتے تھے ۔ گویا خانگی زندگی میں دراڑ آگئی تھی۔ ان کے انتقال سے ایک آدھ سال پہلے کی بات ہے ۔مَیں بمبئی گیاتو ان سے بھی ملنے گیا ۔ اب وہ اپنے نئے فلیٹ میں تھے۔ بے سروسامان سا مکان ، حالات اور زمانے کا شکوہ کرتے رہے۔مجھے اور میری بیوی کو سخت افسوس ہوا کہ ایسی حالت میں شکیل صاحب کو بیوی بچوں کی وہ قربت میسر نہیں جس کےلئے وہ ترستے ہیں اور دلبستگی کےلئے احباب بھی نہیں ۔
۲۰ اپریل ۱۹۷۰ءکو انھوں نے بامبے ہسپتال میں آخری سانس لی اور ۵۴ سال کی عمر میں اس جہانِ فانی کو خیربادکہا،اورباندرہ قبرستان میں مدفون ہوئے ، ان کی موت سے اردو زبان اور خاص طور پر ہندوستانی فلم انڈسٹری ایک صاحب طرز شاعر سے محروم ہوگئی ۔ اعجاز صدیقی نے تاریخ وفات لکھی :
احمد کے نام کا جو سہارا ذراملا
ہے خلد میں قیام جنابِ شکیل کا 
 شکیل کا نام آج بھی ہندوستان ہی نہیں دنیا کے بہت سے ملکوں میں ان کے فلمی نغموں کے حوالوں سے گونجتا ہے اور بہ حیثیت ایک غزل گو ان کا اردو ادب میں ایک مقام ہے ۔ کیا کیا شعر کہے ہیں۔
 حالِ دل، احوال غم، شرحِ تمنا، عرض ِشوق
 بیخودی میں کہہ گئے افسانہ دَر افسانہ ہم
 بے تعلق تِرے کوچے سے گزر جاتا ہے 
 یہ بھی اِک حسنِ طلب ہے ترے دیوانے کا
 اے روح جو ممکن ہوتو پھر تن میں سما جا
 آیا ہے کوئی پرسش ِبیمار کی خاطر
 دل بے نیاز ِآرزو ئے التفات ہے
  شاید اسی کا نام سکوت ِحیات ہے
 اور مدت ہوئی وہ زیر زمیں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ حق مغفرت کرے ۔ ان کے کلام کے کئی مجموعے رعنائیاں، صنم وحرم، رنگینیاں، شبستاں اور نغمہ ¿فردوس چھپ کر مقبول ہوچکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ شکیل بدایونی پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ایک ایسا کلیات مرتب ہونا چاہیے جس میں ان کی مندرجہ بالا کتابوں کے علاوہ ان کے معیاری گانوں کا انتخاب بھی شامل ہو اور ساتھ میں ان کے مستند حالات زندگی بھی ۔ شکیل بلا شبہ بیسویں صدی کے اہم شاعروں میں ہیں۔ 



--
NadeemSiddiqui



--
NadeemSiddiqui



--
NadeemSiddiqui

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Jan 1, 2016, 9:51:26 PM1/1/16
to Khadi Ali Hashmi<
مرزا غالب نے کھا تھا 
کلکتہ کا ھے  جو ذکر کیا تو نے ھم نشیں 
اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ھاے ھاے 
آج جو شکیل بدایونی کا ذکر چھڑا ھے تو دل کی کم و بیش وھی حالت ھے 
یو ں تو کبھی کبھی رسالوں و جرائد میں مرحوم شاعر پر مضامین چھپتے رھے ھیں لیکن بزم قلم پر جس قدر معلومات آفریں مضامین آ رھے ھیں  مانئے مر حوم کا اردو کی خدمات کا حق ادا ھوجاے  گا ۔
آس وقت میرے ذھن میں سینکڑوں یادوں کا جمگھٹ ھے انھیں ترتیب دے لوں تو کچھ لکھنے کی ھمت کر لوں   

mirza_...@hotmail.com

unread,
Jan 1, 2016, 11:21:20 PM1/1/16
to bazme...@googlegroups.com

جی ڈاکٹر هاشمي صاحب ضرور ترتيب دیں یادوں کے اس جمگھٹ کو. انتظار رہے گا ان کے نظر نواز ہونے ک
والسلام
نواب مرزا

Sent from Outlook Mobile

Date: Tue, 29 Dec 2015 13:52:41 -0800

anis baqar

unread,
Jan 4, 2016, 10:53:24 AM1/4/16
to bazme...@googlegroups.com
thank u dear

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Apr 16, 2016, 8:57:54 AM4/16/16
to Khadi Ali Hashmi<
کہہ رکھا تھا کہ یادوں کے جمگھٹ  میں سے کچھ چن کر ترتیب وار لکھوں گا ۔  پھر مرزا صاحب کی فرما یئط ش بھی تھی
زندگی کی ھما ھمی  سے بزم قلم میں کچھ سکون ملتا ھے سوچا جلد ھی لکھ سکوں گا۔ لیکن بقول فیض احمد فیض بزم سے کہنا پڑے گا
تجھ سے بھی دلفریب ھیں غم روز گار کے اس لیے یہ سوچا ھیکہ   مضمون کو دو قسطوں میں لکھا جایے ۔ پھلی قسط
  زیادہ مقبول شعبہ کی ییعنے فلمی نغموں کے بارے میں اور دوسری ادبی شاعری کے بارے میں ۔
شروعات کر دی ھے دیکھئیے کب تکمیل ھوتی ھے ۔ 
  
ٰ
  یادش بخیر ۔ کبھی ھم بھی الھڑ جوان تھے،  اور ان دنوں ھر نو جوان کا  فلمی بخار مبتلا ھونا لا بدی تھا  
سنہ پچاس کی 'دہای فلمی موسیقی کے لیے آ ٰج بھی یاد کی جاتی ھے 
جو لوگ ستؐر کی 'دہائی کی دھائی دیتے ھیں ان سے تو میں یہی کہوں گا کہ ہا ئے کم بخت تو نے پی ھی نہیں  
موسیقار آعظم نوشاد  بے تاج بادشاہ تھے۔انکا اور  شاعر شکیل بدایونی کا ساتھ چولی داممن کا تھا ۔ اللہ اللہ کیا کیا نغمے سننے کو ملتے 
سونے پر سھاگہ کے معنے سمجھنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہ تھی ۔  
 فلموں میں پھلے بھی گیت لکھے جاتے تھے جن میں بعض تو بڑے معیاری بھی ھوتے تھے ۔ حضرت جگر مراد آبادی  آرزو لکھنوی اور خمار طبع آزمایئ کر چکے تھے  لیکن ان  میں ادبی چاشنی  کھان دیکھنے کو ملتی ۔ جیسا کہ مرزا غالب نے  آموں کے بارے میں کھا تھا کہ  میٹھے ھوں اور بھت ھوں ۔  نوشاد اور شکیل کی جوڑی نے اتنے میٹھے اور بھت سے گانے دئے کہ بس خدا دے اور بندہ لے ، ھمارے لیے تو زندگی سکڑ کر ابن صفی اور نوشاد شکیل کے نغموں تک رہ گئ تھی ۔ انٹر کی تعلیم تو بس ضمنی ھو کر رہ گئی تھی۔ انتھا یہ تھی کہ میرا چھوٹا بھا ئی  اوروالدہ آللہ سے دعا مانگتے کہ میرا یہ شوق چھوٹ جائے۔
بتایئے ھم کیا کرتے کوئی ایک ھو تو چھوڑ دیں 
ابھی فلم دیوانے کے گیتوں کی گونج ختم ھی نھیں ھوی 
تیر کھاتےجایئں گےآنسو بھاتے جائین گے
زندگی بھر اپنی قسمت آزماتے جائینگے

تصویر بناتا  ھوں تیری خون جگر سے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساون تری زلفوں سے گھٹا مانگ کے لایا
بجلی نے چرایئ ھے تڑپ تیری نظر  سے 
بھلا دیکھیئے اب تک شعرا حضرات  بجلی سے محبوب کی آنکھوں کو تشبیہ دیتے لیکن کسی نے بجلی پر سرقہ کی تھمت لگانے کی ھمت نہ کی تھی اس پر غضب رفیع کی آواز ۔ دیوانے تو فلم بین ھو جاتے۔ 
میں کہ رھا تھاکہ ابھی ان کی گونج ختم ھی نہیں ھوی تھی کہ  دلاری کے نغموں کی دھوم مچ گئی ۔
سھا نی رات ڈھل چکی نہ جانے تم کب آوگے 
اے دل تجھے قسم ھے  تو ھؐمت نہ ہارنا

ھونٹوں پہ ان کا ورد تھا ھی کہ ھندوستانی موسیقی پر شباب آ گیا 
یھی ارمان لے کر آج اپنے گھر سے ھم نکلے 
جہاں ھے زندگی اپنی اسی کوچہ میں دم نکلے 

جو میں جانتی بسرت ھیں سیئاں گھونگھٹا میں آگ لگا دیتی
جو گن بن جاونگی سیئاں تورے  کارن 
تبھی بیجو باورا کا آنا گویا ھر کسی کو فلمی گانوں  کا چسکہ ھی  لگا دینے کا باعث بنا۔ 
او دنیا کے رکھوالے کوی سن لے پھر خود نہ دہراے تو یہ مان لیا جاتا کہ اسمیں ضرور کوئی کمی ھے
فلم امر کے نغمے 
نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتے 
انصاف کا مندر ھے یہ بھگوان کا گھر ھے 
ترے صدقے بلم نہ کر کوئی غم 
جانے والے سےملاقات نہ ھونے پائی  وغیرہ نے تو جلتی پر تیل کا کا م کیا 
فلم اڑن کھٹو لا میں غزلوں کی بھرمار تھی 
نہ طوفاں سے کھیلو نہ ساحل سے کھیلو   ٓٓمیرے پاس ٰآو میرے دل سے کھیلو 
محبت کی راھوں میں چلنا سنبھل کے 
حال دل میں کیا کہوں مشکل ھے میرے سامنے 
نہ رو ائے دل کھیں رونے سے تقدیرین بدلتی ھیں 
ستاروں کی محفل سجی تم نہ آئے 
 ٖفلمی گانے ھیں یا کسی شاعرکے  ددیوان سے غزلیں فلمائی جا رھی ھیں  پتہ نہ چلتا ۔ 

Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Apr 16, 2016, 10:13:08 AM4/16/16
to BAZMe...@googlegroups.com
بہت خوب جناب ہاشمی صاحب
آپ کی تحریر نے اس زمانے زرا سے پہلے کے وقت کے ایک گانے کا مکھڑا یاد دلا دیا:
دنیا ہمارے پیار کی یونہی جواں رہے
میں بھی وہیں رہوں میرا ساجن جہاں رہے
والسلام
خیراندیش
مرزا نواب

Sent from my iPhone

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Apr 18, 2016, 2:08:24 AM4/18/16
to Khadi Ali Hashmi<
​جناب مرزا نواب مرزا صاحب نے بڑی خوبصورتی سےمجھے اپنی وعدا خلافی پرسرزنش کی ہے ​

کہہ رکھا تھا کہ یادوں کے جم گھٹ  میں سے کچھ چن کر ترتیب وار لکھوں گا ۔  پھر مرزا صاحب کی فرما یئط ش بھی تھی
زندگی کی ھما ھمی  سے بزم قلم میں کچھ سکون ملتا ھے سوچا جلد ھی لکھ سکوں گا۔ لیکن بقول فیض احمد فیض بزم سے کہنا پڑے گا
تجھ سے بھی دلفریب ھیں غم روز گار کے اس لیے یہ سوچا ھیکہ   مضمون کو دو قسطوں میں لکھا جایے ۔ پھلی قسطاحب
  زیادہ مقبول شعبہ کی ییعنے فلمی نغموں کے بارے میں اور دوسری ادبی شاعری کے بارے میں ۔
شروعات کر دی ھے دیکھئیے کب تکمیل ھوتی ھے ۔ 
  
ٰ
  یادش بخیر ۔ کبھی ھم بھی الھڑ جوان تھے،  اور ان دنوں ھر نو جوان کا  فلمی بخارمیں مبتلا ھونا لا بدی تھا  
سنہ پچاس کی 'دہای فلمی موسیقی کے لیے آ ٰج بھی یاد کی جاتی ھے 
جو لوگ ستؐر کی 'دہائی کی دھائی دیتے ھیں ان سے تو میں یہی کہوں گا کہ ہا ئے کم بخت تو نے پی ھی نہیں  
موسیقار آعظم نوشاد  بے تاج بادشاہ تھے۔انکا اور  شاعر شکیل بدایونی کا ساتھ چولی داممن کا تھا ۔ اللہ اللہ کیا کیا نغمے سننے کو ملتے 
سونے پر سھاگہ کے معنے سمجھنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہ تھی ۔  
 فلموں میں پھلے بھی گیت لکھے جاتے تھے جن میں بعض تو بڑے معیاری بھی ھوتے تھے ۔ حضرت جگر مراد آبادی  آرزو لکھنوی اور خمار طبع آزمایئ کر چکے تھے  لیکن ان  میں ادبی چاشنی  کھان دیکھنے کو ملتی ۔ جیسا کہ مرزا غالب نے  آموں کے بارے میں کھا تھا کہ  میٹھے ھوں اور بھت ھوں ۔  نوشاد اور شکیل کی جوڑی نے اتنے میٹھے اور بھت سے گانے دئے کہ بس الللہ دے اور بندہ لے ، ھمارے لیے تو زندگی سکڑ کر ابن صفی اور نوشاد شکیل کے نغموں تک رہ گئ تھی ۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم تو بس ضمنی ھو کر رہ گئی تھی۔ انتھا یہ تھی کہ میرا چھوٹا بھا ئی  اوروالدہ آللہ سے دعا مانگتے کہ میرا یہ شوق چھوٹ جائے۔
بتایئے ھم کیا کرتے کوئی ایک ھو تو چھوڑ دیں 
ابھی فلم' دیوانہ' کے گیتوں کی گونج ختم ھی نھیں ھوی  تھی
تیر کھاتےجایئں گےآنسو بھاتے جائین گے
زندگی بھر اپنی قسمت آزماتے جائینگے

تصویر بناتا  ھوں تیری خون جگر سے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساون تری زلفوں سے گھٹا مانگ کے لایا
بجلی نے چرایئ ھے تڑپ تیری نظر  سے 
بھلا دیکھیئے اب تک شعرا حضرات  بجلی سے محبوب کی آنکھوں کو تشبیہ دیتے لیکن کسی نے بجلی پر سرقہ کی تھمت لگانے کی ھمت نہ کی تھی اس پر غضب رفیع کی آواز ۔ دیوانے تو فلم بین ھو جاتے۔ 
میں کہ رھا تھاکہ ابھی ان کی گونج ختم ھی نہیں ھوی تھی کہ  دلاری کے نغموں کی دھوم مچ گئی ۔
سھا نی رات ڈھل چکی نہ جانے تم کب آوگے 
اے دل تجھے قسم ھے  تو ھؐمت نہ ہارنا

ھونٹوں پہ ان کا ورد تھا ھی کہ ھندوستانی موسیقی پر شباب آ گیا 
یھی ارمان لے کر آج اپنے گھر سے ھم نکلے 
جہاں ھے زندگی اپنی اسی کوچہ میں دم نکلے

آئے نہ بالم وعدہ کر کے

جو میں جانتی بسرت ھیں سیئاں گھونگھٹا میں آگ لگا دیتی
جو گن بن جاونگی سیئاں تورے  کارن   وغیرہ
تبھی بیجو باورا کا آنا گویا ھر کسی کو فلمی گانوں  کا چسکہ ھی  لگا دینے کا باعث بنا۔ 
او دنیا کے رکھوالے کوی سن لے پھر خود نہ دہراے تو یہ مان لیا جاتا کہ اسمیں ضرور کوئی کمی ھے
فلم امر کے نغمے 
نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتے 
انصاف کا مندر ھے یہ بھگوان کا گھر ھے 
ترے صدقے بلم نہ کر کوئی غم 
جانے والے سےملاقات نہ ھونے پائی  وغیرہ نے تو جلتی پر تیل کا کا م کیا 
فلم اڑن کھٹو لا میں غزلوں کی بھرمار تھی 
نہ طوفاں سے کھیلو نہ ساحل سے کھیلو   ٓٓمیرے پاس ٰآو میرے دل سے کھیلو 
محبت کی راھوں میں چلنا سنبھل کے 
حال دل میں کیا کہوں مشکل ھے میرے سامنے 
نہ رو ائے دل کھیں رونے سے تقدیرین بدلتی ھیں 
ستاروں کی محفل سجی تم نہ آئے 
 ٖفلمی گانے ھیں یا کسی شاعرکے  ددیوان سے غزلیں فلمائی جا رھی ھیں  پتہ نہ چلتا ۔ 
   معاف کیجیئے آج تو بس اتنا ہی ہو  سکا ۔ آخر لوگون کا رد عمل بھی تو یکھنا ہے کہیں بور نہ ہو رہے ہو(


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages