[بزم قلم:35150] Fwd: reply
From: BAZMe...@googlegroups.com on behalf of Nadeem Siddiqui (nade...@gmail.com) This sender is in your contact list.
Sent: Tuesday, April 22, 2014 3:07:14 PM
janab
bazm e qalam men shakeel badauni ki kitab ka tazkera shayed rah gaya hai
woh file ma photo munsalik hai
NadeemSiddiqui
تعارف و تذکرہ شکیل بدایونی
شکیل بدایونی ہماری شاعری میںدور ِگزشتہ کا ایک بہت روشن نام ہے۔ اپنے زمانے کے مشاعروں اور شعر وادب کے مداحوں میں ہیروو ¿ں کی طرح وہ مقبول تھے شہر شہر اُن کے نام کی انجمن اور بزم بنی ہوئی تھیں لوگ ان کا استقبال کرنا اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ایک اعزاز کی بات سمجھتے تھے۔
مشاعروں میں ان کی شرکت اس محفل کو پر لطف ہی نہیں ایک وقار کا بھی باعث بن جاتی تھی۔ اس میں ان کا فلمی گلیمر کام کرتا تھا یا اُن کی شاعری کا جادوسَر بولتا تھا ۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔
البتہ ان کے اکثر اشعار اُس زمانے میں زباں زد تھے۔ ان کی شاعری کا ایک رنگ تھا جو اُس زمانے کی پسند کے عین مطابق تھا ۔ بلکہ سچ تو یہ بھی ہے کہ تغزل سے بھری اُن کی شاعری آج بھی دِلوں میں جذبہ ¿ محبت کی چنگاری کو روشن کر دیتی ہے۔
ان کی فلمی شاعری بھی خوب تھی بلکہ فلم میں ان کا قلمی حصہ بھی ایک تاریخ ہے۔ جیسے نغمے اُنہوں نے دِیے ہیں وہ آج بھی جب کانوں میں پڑتے ہیں تو صاحب ِدل شخص اُس سے صرف ِنظر نہیں کر سکتا۔
ان کے فلمی نغموں کی بھی خاصی تعداد ہے اور ان میں اکثر نغمے ایسے ہیں جو عوامی سطح پر بے طرح مقبول ہوئے۔ ہماری فلمی دُنیا میں تین چار شاعرایسے ہیں جو اپنی شاعری کے بِرتے پر اپنی ساکھ بنائے ہوئے تھے۔ جن میں اوّلیت شکیل بدایونی ہی کو حاصل تھی اور دوسرے تھے ساحر لدھیانوی ، اسی طرح راجہ مہدی علی خاں کو بھی ہم نہیں بھول سکتے کہ ان کی تو بعض فلمیں ایسی ہیں کہ فلم فلاپ ہو گئی مگر ان کے گانے ریڈیو پر سدا بہار بن گئے۔ راجندرکرشن کو بھی اس حوالے سے یاد رکھاجائے گا۔ ہرچند کہ مجروح سلطانپوری اور شکیل بدایونی ایک ہی زمانے میں فلمی دُنیا میں داخل ہوئے تھے مگر انھیں مقبولیت ملی تو لیکن کچھ تاخیر سے۔
شکیل کے نغمے آج بھی اپنی تاثیر سے دلوں کے تار جھنجھنا دیتے ہیں۔ عجب معاملہ ہے کہ فلمیں تو آج بھی بن رہی ہےں اور ان میں گانے بھی ہوتے ہیں اور ان کے شاعروں کو معاوضہ بھی خاصا مل رہا ہے جبکہ شکیل بدایونی اس معاملے میں پچھڑے ہوئے تھے اسی طرح آج کے عام فلمی نغموں میں اکثر موسیقی کا شور تو بہت ہوتا ہے مگر تاثیر نہیں ہوتی ۔ یہ سب باتیں شکیل بدایونی کی خود نوشت نے ذہن میں جگا دیں۔ شکیل کی یہ خود نوشت پاکستان کے ایک رسالے میں قسطوار چھپی تھیں جنہیں اب ’میری زندگی“ کے نام سے یکجا کر دِیا گیا ہے۔ یہ سوانحی روداد شکیل بدایونی نے اپنے آخری ایام میں لکھی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنی۵۴ سالہ زندگی کے مختلف ادوار کو ۶۵ صفحات میں قلم بند کر دیا ہے۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شکیل بدایونی کی مکمل زندگی کتاب بن جاتی ۔ کیونکہ اُنہوں نے ایک بھری پری زندگی گزاری تھی۔ یقیناًجس میں اندھیرے بھی تھے اور اُجالے بھی۔ مگر جب انہوں نے یہ کتاب لکھنی شروع کی تو وہ دِق میں مبتلا ہو چکے تھے ،(آج ہی کے دن) ، آخرش۲۰ اپریل ۱۹۷۰ کو شکیل کا چراغِ زندگی بمبئی میں بجھ گیا۔ یہ مسودہ ان کی بیٹی رضیہ پاکستان لے گئیں اور وہیں سے یہ کتاب شائع ہوئی ہے جس میں ان کے خاندانی حالات کے ساتھ بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس دور کے ادبی ماحول کی جھلکیاں بھی اس میں ہیں۔ شکیل بدایونی نے اپنے خاص میزبانوں اور دوستوںتک کے نام اس میں ایک سلیقے سے درج کر دِیے ہیں۔
شکیل بدایونی علی گڑھ یونی ورسٹی کے طالب علم رہ چکے تھے بلکہ طالب علمی ہی کے زمانے میں ان کا شاعرانہ تشخص بھی بن چکا تھا۔ اس کتاب میں مشاعروں کے حوالے سے بھی بعض دلچسپ باتیں ہیں اور اس زمانے میں عوام میں مشاعرے کس قدر مقبول تھے یہ بھی پتہ چلتا ہے۔
یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
بدایوں کے مشہور اہلِ ادب تسلیم غوری بدایونی کی ایما پر یہ کتاب منصہ شہودپر آئی ہے۔ ان کا فون نمبر یوںہے:09690884541/09897047186
٭ن۔ص
2014-04-21 19:29 GMT+05:30 Husain Afsar <husain...@gmail.com>:
salam....
haji bumba nay election lara inpage main bhej dain..shukr guzar hoonga.
wassalam
husain
On Mon, Apr 21, 2014 at 6:33 PM, Nadeem Siddiqui <nade...@gmail.com> wrote:
Janab e wala
taza adabi safha
munsalik hai
NadeemS

Sent from Outlook Mobile
ندیم صاحب
سلام و رحمت
کوئی لے نہ لے. میں ضرور اس مختصر قطار ( پستہ قد شوکت تهانوی صاحب کہہ چکے ہیں) میں ہوں. ازراه کرم یہ بتائیں کہ کتاب کی قیمت و دیگر لاگت آ یعنی جده تک ڈاک خرچ وغیرہ آپ تک کسطرح پہنچاؤں. کریڈٹ کارڈ سے رقم کی ادائیگی بآسانی ہو سکتی ہے.
خیر اندیش
مرزا
Sent from Outlook Mobile
نواب مرزا صاحبممبئی کے مرحوم شعرا اور دیگر ادبی لوگوں کا ایک تذکرہ حقیر نے بہ عنوان پُرسہ لکھا ہے
کتاب چھپ کر آگئی ہےجو چار سو چوبیس صفحات پر مشتمل ہےکتاب کی ہانڈی سر پر رکھ کر گلی گلی گلی دہی لے لو کی آواز لگا تا پھرتا ہوںمگر پتہ چلا کہ’’ آئینہ بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں‘‘کیا آپ کے توسط سے اس کتاب کے چند نسخے آپ کے دوست و احباب میں نکل سکتے ہیں ؟پیشگی شکریہندیم صدیقی
2015-12-31 3:01 GMT+05:30 <mirza_...@hotmail.com>:
شکریہ ندیم صاحب. رفعت سروش کی تحریر نے میرے معشوق شہر کی کئ یادوں کو تازہ کردیا. اس زمانے میں جباری ہوٹل کی فٹ پاتھ، کلئیر روڈ پر رائل ہوٹل کے پیچھے کے گلی جہاں راجرس کمپنی تهی، حجرے محلے کی بزمِ احباب لائبریری کے علاوہ اور بھی کئی جگہیں تهیں جہاں اربابِ علم و ادب باقاعدہ محفلیں سجایا کرتے تهے. بزمِ احباب لائبریری میں تو جناب نواب علی یاور جنگ صاحب ، جناب قاضی عبدالغفار صاحب اور دیگر قدآور ادبی شخصیات آیا کرتی تهیں. مہاراشٹر کا گورنر بننے کے بعد بھی نواب علی یاور جنگ صاحب بزمِ احباب آتے تهے. مہاراشٹر کالج کے ایک سالانہ فنکشن میں وہ مہمان خصوصی بهی تهے. ہمارے منجھلے ماموں سے ان کے بڑے اچھے تعلقات تھے. سرکاری ملازمت کے دوران ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تها. نفیس اور رکه رکهاو والے انسان تھے.
ممبئی کے انہی محلوں اور گلیوں میں ادب کی آبیاری ہوئ اور ادبا و شعرا کی نہ صرف پذیرائی ہوئی بلکہ وہیں سے انهیں شہرت بھی ملی. وه گلیاں اور محلے تو کسی وقت ترقی پسندوں کا اڈه تها. جان نثار اختر، کرشن چندر، ساحر، علی سردار جعفری وغیرہ وغیرہ اکثر وہیں ملا کرتے تھے. اور وہیں بمبئ سنٹرل پوسٹ کے قریب جناب صدیقی صاحب (افتخار امام صدیقی کے والد ماجد) کی رہائش بھی تهی جہاں سے وہ شاعر کے شمارے نکالتے تھے.
والسلام
خیر اندیش
نواب مرزاSent from Outlook Mobile
مرزا صاحبشکیل بدایونی پر میری فائل میں ایک مضمون نکل آیاوہ مضمون ارسال ہےرفعت سروش(مرحوم) نے میرے ہی کہنے پرہمارے اخبار کےلئے یہ پوری ایک سیریز’’ حرف حرف ممبئی‘‘ کے نام سے شروع کی تھی۔اس نام سے ان کی کتاب بھی چھپ چکی ہےندیم صدیقی
شکیل بدایونیرفعت سروشیادش بخیر ،آزادی سے پہلے بمبئی میں پنجاب مسلم ایسوسی ایشن ایک سماجی اور ثقافتی ادارہ تھا اس کے زیر اہتمام’ اقبال ڈے ‘ کے موقع پر آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہوتا تھا جس میں ہندوستان کے کونے کونے سے مشاہیر شعرا مدعو کیے جاتے تھے ۔ رئیس المتغزلین حضرتِ جگر مرادآبادی’ رئیس المشاعرہ‘ بھی تھے، ان دنوں ان کے بغیر کوئی مشاعرہ مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان کا و طیرہ تھاکہ اپنے ساتھ مترنم او رہونہار شعرا کو مشاعروں میں لے جا تے تھے اور وہ شاعر خوش قسمت سمجھے جاتے تھے جن کو جگر صاحب کی سر پرستی میسر آجائے۔اقبال ڈے کے مشاعروں میں شرکت کرنے کےلئے جگر صاحب کے حوا لے سے اُس دور کے تین شاعر یکے بعد دیگرے بمبئی تشریف لائے اور انھیں میاں ( عبدالرشید)کاردار نے اپنی فلم کمپنی میں ملازم رکھا اور وہ تینوں کامیاب فلمی شاعر بھی ثابت ہوئے۔ یہ شعرا ¿ تھے ۱۹۴۴ءمیں خمار بارہ بنکوی، ۱۹۴۵ءمیں مجروح سلطان پوری اور ۱۹۴۶ءمیں شکیل بدایونی۔ غزل گو فلمی شاعروں کی یہ مثلث تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ جب شکیل بدایونی بمبئی پہنچے تو خمار اور مجروح فلم شاہجہاں کے گانے لکھ کر مقبول ہوچکے تھے اور موسیقار نوشاد صاحب نے ان دونوں کے گانوں کو موسیقی سے سجایا تھا ، لیکن جب شکیل صاحب پہنچے تو ان کی شاعری اور سحر انگیز شخصیت کاجادو نوشاد صاحب پر ایسا چلا کہ انھوں نے شکیل صاحب سے ہی عہد ِوفا باندھ لیا ۔ شکیل نے کاردار کی فلم ”درد“ کے گانے لکھے اور نوشاد صاحب کی طرز میں ڈھل کر زبان زد ِ خاص و عام ہوگئے :یہ افسانہ نہیں ظالم مرے دل کی حقیقت ہےمجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہےافسانہ لکھ رہی ہوں دل ِبے قرار کاآنکھوں میں رنگ بھرکے ترے انتظار کاشکیل کے یہ کامیابی غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ بمبئی آنے سے پہلے وہ مشاعروں میں اِن دونوں سے کہیں زیادہ کامیاب شاعر تھے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میںہی انھوں نے مجاز اور جاں نثار اختر کی طرح شہرت حاصل کر لی تھی اور غزلوں کے ساتھ ساتھ ”تصادم“ اور”تیسرا گھنٹہ “جیسی رومانی نظمیں بھی کہی تھیں۔ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر وہ دہلی میں سپلائی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے ۔ یہ دَور تھا دوسری عالمی جنگ کا ، راقم الحروف بھی ان دنوں ایک جنگی دفتر’جی ایچ کیو‘ میں کام کرتا تھا اورنخشب جارچوی کی طرح شکیل سے بھی رسم وراہ تھی ۔ اتفاق سے مَیں دہلی کی نوکری چھوڑ کر ۱۹۴۵ءمیں بمبئی پہنچ گیا اور شکیل ۱۹۴۶ءمیں آئے ، دہلی کی ملاقاتیں تازہ ہوگئیں ۔ میرے ریڈیو میں ملازم ہونے کی وجہ سے ملاقاتوں کے مواقع بھی زیادہ ہوتے اور شکیل بدایونی سے دوستی استوار ہوگئی۔۱۹۴۶ءمیں شکیل بمبئی آئے تو فلمی گانوں کے سلسلے میں، مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ شکیل کے لڑکپن کے کچھ سال بمبئی میں گزرے تھے۔ ان کے والد مولانا جمیل احمد قادری سوختہ سنّی خوجہ مسجد (واقع کھڑک) میں پیش امام تھے ۔ سنا ہے بہت اچھے واعظ بھی تھے۔ وہ اس مسجد میں سولہ سال رہے ۔ ۱۹۳۹ءمیں ان کا انتقال ہوا ۔ مولانا مرحوم مدرسہ شمس العلوم بدایوں سے فارغ التحصیل تھے لفظ’ سوختہ‘ ان کا تخلص نہیں تھا بلکہ ایک طرح سے ’سر نیم ‘ تھا۔ مشہور محقق مالک رام نے اپنی کتاب”تذکرہ¿ معاصرین“ میں اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ شکیل بدایونی کے ذکر کے ساتھ مناسب معلو م ہوتا ہے کہ انکی خاندانی وجاہت کا بھی ذکر کر دیا جائے ۔ ان کے بزرگوں میں کوئی صاحب آگ سے جل گئے تھے بس تب سے اس خاندان لوگوں کے نام کے ساتھ ”سوختہ“ چسپاں ہوگیا ۔ شکیل کے دادا منشی ہدایت اللہ سوختہ محکمہ سروے میںملازم تھے اور اپنی شرافت ، خوش مزاجی، نیک چلنی اور دینداری کےلئے مشہور تھے۔ اس خاندان کے ایک صاحب منظر علی سوختہ کانگریسی لیڈر تھے اور ان کے والد منشی مبارک علی سوختہ ”آنند بھون“ الہ آباد میں پنڈت موتی لال نہرو کے محرر تھے ۔شکیل احمد ( تاریخی نام غفار احمد) یعنی شکیل بدایونی نے ابتدائی تعلیم یعنی اردو، فارسی اور عربی اپنے والد سے بمبئی میں حاصل کی پھر مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول شیخوپورہ ( بدایوں ) سے میٹرک پاس کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کےلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچ گئے۔نیک چلنی، شرافت ، اور دین داری انھیں وراثت میں ملی تھی اور ان پر عزت ، شہرت اور دولت کی بارش ہوتی رہی ۔ خواہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہوں، خواہ دہلی میں ملازمت کے دوران اور بمبئی آجانے کے بعد تو دُنیا جانتی ہے کہ شکیل بدایونی ایک کامیاب اور خوش حال آدمی کا نام تھا ۔ ان کے گانے اس قدر ہٹ ہوئے ہیں کہ اگر فہرست مرتب کی جائے تو کئی صفحے بھر جائیں اور ایک سے ایک کامیاب فلمیں ۔ کے۔ آصف کی فلم مغلِ اعظم کو ہی لے لیجیے۔ دراصل اس وقت ان کی فلموں کے نام گنوانا مقصود نہیں ، بلکہ شکیل احمد سوختہ یعنی شکیل بدایونی کی شخصیت میری نظروں میں گھوم رہی ہے ؟ بمبئی پہنچ کر وہ ابتدا میں دادر کے ایک کمرے میں کچھ دن رہے ، پھر کارٹر روڈ باندرہ میں رہنے لگے ۔ نیچے کا حصہ ان کے پاس تھا اور اوپر کی منزل میں نوشاد صاحب رہتے تھے ۔شکیل وجیہہ آدمی تھے، گول چہرہ ، بھرے بھرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بہت کھِلتی تھی ۔ توانا بھرا ہوا جسم ، آواز بالخصوص ترنم میں کھرج اور مقناطیسیت ۔خوش اخلاق اتنے کہ جو ملے وہ ان کا گرویدہ ہوجائے ۔ خوش لباس، خوش خوراک شکیل کے دستر خوان پرشعرا کا جمگھٹا رہتا تھا ، باغ وبہار آدمی تھے ، لطیفے سناتے اور ہنساتے رہتے تھے ۔ نئے شاعروںکی ہمت افزائی کرتے تھے مشاعرے منعقد کرانے میں بہت دلچسپی لیتے تھے ۔ بمبئی میں ان کا ایک خاص حلقہ تھا ۔ خمار بارہ بنکوی ، صبا افغانی، شکیل نعمانی ان کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ ۵۰ءکے دہے میں کئی سال بمبئی میں مشاعروں کا یہ عالم رہا کہ اگر شکیل صاحب صدارت کر رہے ہیں تو خمار صاحب مہمان خصوصی ہیں اور خمار صاحب صدارت کر ہے ہیں تو شکیل صاحب مہمان خصوصی ہیں۔ حکیم مرزا حیدر بیگ سے شکیل صاحب کی بہت دوستی تھی اور ان کے مطب (واقع محمد علی روڈ) میں بیٹھنے کی وجہ سے ہی نظر سیہوروی اورسرتاج رحمانی سے بھی قریب تھے۔ نخشب اور ساحر لدھیانوی ایک طرح سے ان کے حریف تھے یایوں کہیے کہ فلمی زندگی میں دوسرے خیموں کے آدمی تھے، ویسے دوستانہ تھا۔مگر پیشہ ورانہ قسم کی چشمک تو تھی ہی۔ البتہ ترقی پسند شاعروں سے انھیں خدااواسطے کا بَیر تھا۔ ایک غزل کے مقطع میں تو انھوں نے یہ بات واضح کردی تھی اور یہ غزل اُن دنوں مشاعروں میں اکثر سناتے تھے ۔غم ِعشق کے مخالف غمِ عام تک نہ پہنچےمِرے سامنے تو آئے ، مِرے نام تک نہ پہنچے( شعرمیںشاید کوئی لفظ ادھر اُدھر ہوگیا ہو جس کےلئے معذرت)زندگی ہزار روپ بدلتی رہتی ہے، شکیل نے ایک بار مجھ سے کہا کہ یہاں ہماری قدر نہیں ہوتی ، جتنا کام مَیں نے کیا ہے ، کسی اور ملک میں ہوتا تو میرا اپنا ہوائی جہاز ہوتا ۔شکیل کو وراثت میں شرافت اور نجابت تو ملی مگر ساتھ میں ذیابیطس بھی اور وہ اس کے ساتھ ٹی ۔ بی کے بھی شکار ہوگئے ۔آہستہ آہستہ ان کے قریبی دوستوں نے ان سے ملنا چھوڑ دیا، وہ تقریباً ایک سال ٹی ۔بی ، کے علاج کے سلسلے میں بمبئی سے قریب ایک مشہور پُر فضا مقام پنچ گنی میں بھی رہے دن بُرے آتے ہیں تو اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں ، کارٹر روڈ کے فلیٹ کے علاوہ باندرہ میں ان کا ایک اور فلیٹ تھا ۔ اس فلیٹ میں وہ ایک ملازم کے ساتھ اکیلے رہتے تھے ۔ گویا خانگی زندگی میں دراڑ آگئی تھی۔ ان کے انتقال سے ایک آدھ سال پہلے کی بات ہے ۔مَیں بمبئی گیاتو ان سے بھی ملنے گیا ۔ اب وہ اپنے نئے فلیٹ میں تھے۔ بے سروسامان سا مکان ، حالات اور زمانے کا شکوہ کرتے رہے۔مجھے اور میری بیوی کو سخت افسوس ہوا کہ ایسی حالت میں شکیل صاحب کو بیوی بچوں کی وہ قربت میسر نہیں جس کےلئے وہ ترستے ہیں اور دلبستگی کےلئے احباب بھی نہیں ۔۲۰ اپریل ۱۹۷۰ءکو انھوں نے بامبے ہسپتال میں آخری سانس لی اور ۵۴ سال کی عمر میں اس جہانِ فانی کو خیربادکہا،اورباندرہ قبرستان میں مدفون ہوئے ، ان کی موت سے اردو زبان اور خاص طور پر ہندوستانی فلم انڈسٹری ایک صاحب طرز شاعر سے محروم ہوگئی ۔ اعجاز صدیقی نے تاریخ وفات لکھی :احمد کے نام کا جو سہارا ذراملاہے خلد میں قیام جنابِ شکیل کاشکیل کا نام آج بھی ہندوستان ہی نہیں دنیا کے بہت سے ملکوں میں ان کے فلمی نغموں کے حوالوں سے گونجتا ہے اور بہ حیثیت ایک غزل گو ان کا اردو ادب میں ایک مقام ہے ۔ کیا کیا شعر کہے ہیں۔حالِ دل، احوال غم، شرحِ تمنا، عرض ِشوقبیخودی میں کہہ گئے افسانہ دَر افسانہ ہمبے تعلق تِرے کوچے سے گزر جاتا ہےیہ بھی اِک حسنِ طلب ہے ترے دیوانے کااے روح جو ممکن ہوتو پھر تن میں سما جاآیا ہے کوئی پرسش ِبیمار کی خاطردل بے نیاز ِآرزو ئے التفات ہےشاید اسی کا نام سکوت ِحیات ہےاور مدت ہوئی وہ زیر زمیں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ حق مغفرت کرے ۔ ان کے کلام کے کئی مجموعے رعنائیاں، صنم وحرم، رنگینیاں، شبستاں اور نغمہ ¿فردوس چھپ کر مقبول ہوچکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ شکیل بدایونی پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ایک ایسا کلیات مرتب ہونا چاہیے جس میں ان کی مندرجہ بالا کتابوں کے علاوہ ان کے معیاری گانوں کا انتخاب بھی شامل ہو اور ساتھ میں ان کے مستند حالات زندگی بھی ۔ شکیل بلا شبہ بیسویں صدی کے اہم شاعروں میں ہیں۔
--
NadeemSiddiqui
--
NadeemSiddiqui
جی ڈاکٹر هاشمي صاحب ضرور ترتيب دیں یادوں کے اس جمگھٹ کو. انتظار رہے گا ان کے نظر نواز ہونے ک
والسلام
نواب مرزا
Sent from Outlook Mobile
Date: Tue, 29 Dec 2015 13:52:41 -0800
--
www.kitaabistan.com
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam