ایک یادگار مضمون

135 views
Skip to first unread message

Ainee Niazi

unread,
Oct 26, 2014, 2:22:22 AM10/26/14
to Bazm e Qalam
ایک یادگار مضمون
قارئن کرام۔

عزیزِ محترم جناب تنویر پھول صاحب نے ابھی دو دن پہلے ایک نظم نئے سال کے حوالہ سے پیش کی تھی۔ اس میں ایک شعر کربلا کے حوالہ سے بھی تھا۔ اسی سے متاثر ہوکر یہ مختصر مضمون لکھا گیا ہے۔

شکریہ، مخلص، سید محسن نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوکت تھانوی کی مرثیہ نگاری
          مرزا دبیرؔ اور میر انیسؔ  کی شاعری کی روایت سے ایک طرف تو اردو کے رثائی ادب نے معراج پائی اور دوسری طرف یہ اصول مرتب ہوا کہ مرثیہ ایک ایسی صنف شعر ہے کہ جس کے لئے بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہاں تک کہ غالبؔ کا جیسا منجھا ہوا شاعر بھی  معذرت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
               بیسویں صدی کی دوسری نصف  میں یہ روایت بدلنا شروع ہوئی ۔ اس بدلتی ہوئی روایت کے دو پہلو سامنے آئے۔ ایک تو یہ کہ مرثیہ صرف رونے رُلانے سے مخصوص نہ رہ گیا، جوشؔ ملیح آبادی نے اپنی انقلابی شاعری کو  مرثیہ کے رنگ میں ڈبو کر مسدس کا بالکل نیا رنگ پیش کیا۔ دوسری طرف یہ نظر آیا کہ اردو کے عام شعرا  جو غزل اور نظم کے شعرا  ہوئے انہوں نے اپنے غزلیہ اور  نظم کے کلام میں بھی کربلا کے متعلق اشعار نظم کئے۔ اسکی مثالیں ہم کو پروین شاکر اور مصطفے زیدی کی شاعری میں ملتی ہیں۔ ایک تیسرا پہلو جو ہم کو اردو کی نئی شاعری میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ  وہ اہل قلم جن کا میدان عمل بالکل ہی کچھ اور تھا انہوں نے بھی دو، چار، دس، بارہ  اشعار کربلا پر ضرور کہے۔ ان میں دو نام بہت اہم ہیں، ایک تو ابن صفی، جن کو ہم جاسوسی ادب کے حوالہ سے جانتے ہیں اور دوسرے شوکت تھانوی جن کی شہرت مزاح نگاری کے حوالہ سے ہے۔
           اردو کے مشہور مزاح نگار شوکت تھانوی کا نام کون نہیں جانتا۔ قیام پاکستان کے بعد لکھنؤ سے کراچی آگئے۔ مزاح نگاری جاری رہی۔ ریڈیو پاکستان اور اخبار جنگ سے منسلک رہے۔
           کراچی میں ڈاکٹر یاور عباس مرحوم نے مرثیہ خوانی کی مجلسیں قائم کیں جو بہت کامیاب رہیں۔ اسی ایک محفل میں شوکت تھانوی نے اپنا نو تصنیف مرثیہ بھی پڑھا۔  اس مرثیہ میں شوکت نے ایک طرف تو نانا سے نواسے کی محبت کی تصویر کشی کی ہے اور دوسری طرف امام حسین کے انقلابی خیالات کی عکاسی کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ 
 
کہتے تھے خود رسول کہ بیٹھا ہوں قبلہ رو 
مجھ سا میرے حسین کو پاؤگے ہو بہو
عادات میں کہیں سے نہیں فرق مو بمو 
دیکھو مرے حسین میں مری ہر ایک خو
                       میں خود کو دیکھتا ہوں تو ہوں سر بسر حسین
                       آئینہ درمیان ہے ادھر میں اُدھرحسین
بچپن کی جیسے میری ہی تصویر ہیں حسین 
یہ واقعہ ہے میری ہی تنویر ہیں حسین 
میرے ہر اک خواب کی تعبیر ہیں حسین 
قرآن میرے لب پہ ہے تفسیر ہیں حسین
                        پیغامبر ہوں میں میرا پیغام ہیں حسین
                        انسان کی شکل میں مرا  اسلام ہیں حسین
 
وہ سوچتے تھے آج جو ہوتے یہاں رسول
کیا ان مطالبات کو کر لیتے وہ قبول   ؟
واقف ہے خود یزید ہمارا ہے کیا اصول 
پھر بحث اس نےچھیڑی ہےہم سے یہ کیا فضول 
                           کیا واقعی نہیں ہیں ٹھکانے اب اسکے ہوش
                             سمجھا اُس نے ہم کو بھی شائد خدا فروش
میں بیچ دوں رسول کی غیرت، نہیں نہیں 
قرآن کی اور ختم ہو عظمت،   نہیں  نہیں
ہو داغدار کعبہ کی حرمت،      نہیں نہیں
میں اور کروں یزید سے بیعت، نہیں نہیں 
                              سُن لے بگوش ِ ہوش کہ انکار ہے مجھے
                              اور ایک بار بھی نہیں، سو بار ہے مجھے
 
 
 
 -------------------------------
نوٹ: شوکت تھانوی کے خاندان کا آبائی وطن ڈسٹرکٹ مظفرنگر  کاایک گاؤں بنام تھانا بھون تھا، لیکن انکے والد منشی صدیق حسن نے ابتدائی زمانہ ہی میں لکھنؤ میں آکر اپنا گھر بسا لیا تھا۔ اسی اعتبار سے شوکت تھانوی نے اپنے نام کے ساتھ تھانوی کا لاحقہ لگا  لیاتھا۔ انکا اصل نام محمد شوکت عمر تھا۔ وہ متُھرا بِرندابن میں ۲؍ فروری ۱۹۰۴ کو پیدا ہوئے تھے۔ شوکت تھانوی کو کبھی کوئی تعلیم اسکول یا کالج کی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ انکی شعرو ادب کی ساری لیاقت لکھنؤ کے قیام اور وہاں کے ماحول کی مرہونِ منت تھی۔ انہوں نے فلموں سے لیکر اخبارات اور ریڈیو میں کا م کیا اور اپنی مزاح نگاری کے جوہر دکھائے تھے۔ وہ کاروباری سلسلہ سے لکھنؤ سے لیکر دلی اور بمبئی تک گئے اور اسکے بعد لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں مصروفِ کار رہے تھے۔ انہوں نے ساٹھ سے زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں مزاحیہ افسانے، ناول اور خاکے شامل ہیں انکا ایک شعری مجموعہ بھی شایع ہوا ہے۔ انکا انتقال ۶؍ مئی ۱۹۶۳ کو ہوا اور وہ لاہور کے مشہور قبرستان میانی صاحب میں دفن کئے گئے۔ ڈاکٹر سعید مرتضیٰ زیدی نے اپنی پی۔ ایچ۔ڈی کی تھی سِس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مشہور فحش نگار وہی وہانوی اصل میں شوکت تھانوی ہی تھے اور اس نام سے لکھے جانے والے ناول شوکت تھانوی اور نسیم انہونوی مل کر لکھا کرتے تھے۔ پا کستان بن جانے کے بعد مختلف بے ایمان پبلشرز نے اس نام   سے  نئی نئی کتابیں چھاپ کر بڑا مالی فائدہ اٹھایا۔
 

Abdul Mateen Muniri

unread,
Oct 26, 2014, 3:33:21 AM10/26/14
to BAZMe...@googlegroups.com
شکریہ عینی نیازی صاحبہ
واقعی شوکت تھانوی مرحوم نے کمال کردیا ، ایک ساتھ مزاح نگاری اور مرثیہ نگاری میں کمال اجتماع بین الضدیں ہے، بچپن میں وہی وہانوی کی کتابوں کا چرچہ سنا تھا ، لیکن کبھی پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا ، ویسے مشہور یہی تھا کہ وہی وہانوی شوکت تھانوی ہی ہیں ، نسیم انہونوی نے شوکت تھانوی سے کتابیں لکھواکر انہیں پھیلایا ہے ، نسیم صاحب تاجر تھے ،وہ اپنے مجلہ حریم کے ذریعہ کتابیں پروموٹ کرتے تھے ،  نسیم صاحب نے کتابیں کم لکھی ہیں ، ان کی شہرت بھی زیادہ نہیں ہے ، شوکت صاحب کے مولانا عبد الماجد دریابادی سے بڑے گہرے تعلقات تھے ،  مولانا نے بعض جگہ اس جانب اشارہ کیا ہے کہ کہا جاتا ہے معاشی مجبوریوں کے باعث شوکت تھانوی نے غیراخلاقی چیزیں  لکھی ہیں ۔ 
عبد المتین منیری



 Abdul Mateen Muniri
Bhatkal , Karnataka, India
Our urdu  News Audio's And Video's Portals


Mukarram Niyaz

unread,
Oct 26, 2014, 4:14:18 AM10/26/14
to bazmeqalam
رسالہ "اثبات" کے ایک محاسبے میں نامور نقاد سکندر احمد نے لکھا ہے کہ :
نسیم انہونوی کے متعلق یہ افواہ مدتوں گردش کرتی رہی کہ مشہور (بدنام) فحش نگار وہی وہانوی کوئی اور نہیں، نسیم انہونوی ہی ہیں ۔ افواہ ہی سہی، تاہم یہ افواہ مفروضے کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ فرض کر لیں کہ نسیم انہونوی اور وہی وہانوی ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں ۔ نسیم انہونوی کے تقریباً تمام ناولوں میں "سماجی، اصلاحی اور معاشرتی" کا دم چھلا لگا رہتا تھا۔ ان کے ناولوں سے مصنف کی جو شبیہ ابھرتی ہے، وہ ایک مصلح قوم کی ہے جو اس وقت موجود سماجی برائیوں سے سخت نالاں تھا اور ان کا انسداد چاہتا تھا۔ ٹھیک اس کے برعکس وہی وہانوی کی تحریروں سے جو شخصیت ابھرتی ہے، وہ ایک اوباشی کے دالدادہ اباجی کی شکل لیے ہوئے ہے ۔ بات ظاہر ہے کہ ایک ہی مصنف کی مختلف بالکنایہ شکلیں ہو سکتی ہیں جو آپس میں متصادم ہوں ۔ فراق گورکھپوری تفنن طبع یا شہرت کے لیے خود اپنے خلاف مراسلے شائع کرواتے تھے (فرضی ناموں سے ) اور اپنے اصل نام سے ان کے جواب دیتے ۔ فراق صاحب کے متعلق اس قبیل کے دیگر واقعات بھی مشہور ہیں ۔ فیض احمد فیض کے حوالے سے کچھ ن۔ م۔ راشد اور مشفق خواجہ نے لکھا ہے ، اس سے فیض صاحب کی وہ شخصیت بھی مماثلت نہیں رکھتی جو ہم لوگوں کے درمیان مشہور ہے، فیض کی شاعری سے ابھرتی ہوئی شخصیت تو دور کی چیز ہے ۔
مشتاق احمد یوسفی نے غالباً کہیں لکھا ہے کہ یہ جو شعرا حضرات پھانسی گھاٹ، جلاد وغیرہ کے حوالے سے للچانے والی شاعری کیا کرتے ہیں، ان سے متاثر ہونے کی چنداں ضرور ت نہیں ۔ اس قبیل کی شاعری کرنے کے لیے پھانسی یافتہ ہونا لازمی نہیں ۔





--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Abdul Mateen Muniri

unread,
Oct 26, 2014, 4:27:28 AM10/26/14
to BAZMe...@googlegroups.com
نقاد سکندر احمد کی بات دل کو لگتی ہے ، نسیم انہونوی اور ان کے ادارے کی شہرت ایک اصلاحی سماجی اور معاشرتی کی ہے ، چونکہ شوکت تھانوی کی کتابوں کے ہندوستان میں ناشر نسیم مرحوم ہی تھے تو جس طرح راشد الخیری اور ملاواحدی کو لازم و ملزوم سمجھا گیا تو شوکت مرحوم کے کاموں کو بھی ان کی طرف منسوب کیا گیا ،
رہی بات تاجر ہونے کی تو خیال پڑتا ہے شیش محل میں شوکت تھانوی نے یہ بات کہی ہے۔


 Abdul Mateen Muniri
Bhatkal , Karnataka, India
Our urdu  News Audio's And Video's Portals


Javed Akhtar

unread,
Oct 26, 2014, 8:13:05 AM10/26/14
to BAZMe...@googlegroups.com
وہی وہانوی کے نام سے ایک سے زائد حضرات نے فحش ناول لکھے ۔ ایک صاحب جو ماشااللہ مشہور لکھاری ہیں ‘ نے ایک گفتگو کے دوران خود اس بات کا اعتراف کیا تھا‘ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک عرصہ ہوا وہ تائب ہوچکے ہیں اور اللہ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ نام ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے۔
جاوید اختر

On Sun, Oct 26, 2014 at 1:01 PM, Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com> wrote:
Boxbe This message is eligible for Automatic Cleanup! (ammu...@gmail.com) Add cleanup rule | More info

شکریہ عینی نیازی صاحبہ
واقعی شوکت تھانوی مرحوم نے کمال کردیا ، ایک ساتھ مزاح نگاری اور مرثیہ نگاری میں کمال اجتماع بین الضدیں ہے، بچپن میں وہی وہانوی کی کتابوں کا چرچہ سنا تھا ، لیکن کبھی پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا ، ویسے مشہور یہی تھا کہ وہی وہانوی شوکت تھانوی ہی ہیں ، نسیم انہونوی نے شوکت تھانوی سے کتابیں لکھواکر انہیں پھیلایا ہے ، نسیم صاحب تاجر تھے ،وہ اپنے مجلہ حریم کے ذریعہ کتابیں پروموٹ کرتے تھے ،  نسیم صاحب نے کتابیں کم لکھی ہیں ، ان کی شہرت بھی زیادہ نہیں ہے ، شوکت صاحب کے مولانا عبد الماجد دریابادی سے بڑے گہرے تعلقات تھے ،  مولانا نے بعض جگہ اس جانب اشارہ کیا ہے کہ کہا جاتا ہے معاشی مجبوریوں کے باعث شوکت تھانوی نے غیراخلاقی چیزیں  لکھی ہیں ۔ 
عبد المتین منیری



 Abdul Mateen Muniri
Bhatkal , Karnataka, India
Our urdu  News Audio's And Video's Portals


2014-10-26 10:22 GMT+04:00 Ainee Niazi <ainee...@gmail.com>:

--
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages