اردو صحافت سے متعلق کچھ اور باتیں

48 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Mar 12, 2022, 8:29:38 AM3/12/22
to bazme qalam
اردو صحافت سے متعلق کچھ اور باتیں
سہیل انجم
گزشتہ ہفتے انہی کالموں میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے اور ملک بھر میں جشن صحافت منانے کے حوالے سے کچھ باتیں گوش گزار کی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی جن لوگوں کی مادری زبان اردو ہے، جو اردو کے ادیب و صحافی اور استاد ہیں اور جو اردو اداروں کے کارکن ہیں ایسے تمام لوگوں سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس دو سو سالہ جشن میں دامے، درمے، قدمے، سخنے شرکت کریں۔ مقام شکر ہے کہ اس اپیل کا مثبت اثر پڑا اور متعدد قارئین نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ مارچ کا مہینہ صحافت کا ماہ پیدائش ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ ملک کے موقر، محبوب اور کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ انقلاب میں کم از کم پورے ماہ اردو صحافت سے متعلق مضامین شائع ہونے چاہئیں۔ لہٰذا قارئین کے اس جذبے کا احترام کرتے ہوئے ایک اور کالم اردو صحافت کے نام معنون کیا جا رہا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ قارئین کی خواہش کی تکمیل ہو سکے۔ اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کے حوالے سے جو باتیں کہی گئی تھیں ان میں سہواً کچھ باتیں رہ گئی تھیں۔ جیسے کہ دو سو سالہ جشن کا آغاز کرناٹک اردو اکیڈمی نے کیا تھا۔ اس کے ایک ممبر محمد اشفاق صدیقی نے جرا ¿تمندانہ قدم اٹھاتے ہوئے تین مئی 2015 کو کرناٹک کے بیلگام شہر میں ’اردو صحافت کے دو سو سال‘ کے زیر عنوان ایک سمینار کا انعقاد کیا تھا جس میں دہلی سے سابق رکن پارلیمنٹ و سابق سفیر ہند جناب م افضل، سینئر صحافی اے یو آصف، ڈاکٹر صبیحہ ناہید اور راقم الحروف نے شرکت کی تھی۔ سمینار کے موضوع اور عناوین کے انتخاب میں اے یو آصف کی گراں قدر کاوشیں شامل رہی ہیں۔ اس میں کرناٹک کے مختلف شہروں سے اہل اردو اور صحافیوں نے شرکت کی تھی۔ سمینار میں اردو صحافت کے ماضی، حال اور مستقبل پر انتہائی وقیع مقالے پیش کیے گئے تھے اور اردو کے بڑے اور تاریخی اخباروں اور نامور صحافیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ جہاں تک اردو صحافت کے موضوع پر سمیناروں کے انعقاد کا تعلق ہے تو اس کے آغاز کا سہرا دہلی اردو اکادمی کے سر جاتا ہے۔ اس نے آٹھ، نو اور دس فروری 1986 کو غالب اکیڈمی نئی دہلی میں اردو صحافت پر پہلا سمینار منعقد کیا تھا جس میں اس وقت کے ملک بھر کے سرکردہ صحافیوں نے اپنے مقالے پیش کیے تھے۔ اس وقت اکادمی کے سکریٹری شریف الحسن نقوی تھے اور سمینار کے کنوینر انور علی دہلوی تھے۔ لیکن سمینار کے عنوانات ڈاکٹر فیروز دہلوی نے طے کیے تھے۔ انھوں نے ہی مقررین کا بھی انتخاب کیا تھا۔ پیش کیے جانے والے تمام 28 مقالوں کو یکجا کرکے ’اردو صحافت‘ کے نام سے کتاب شائع کی گئی تھی۔ اسے بھی ڈاکٹر فیروز دہلوی نے مرتب کیا تھا۔ اس کا اعتراف خود انور دہلوی نے اپنے مقدمے میں کیا ہے۔ اس موقع پر دہلی اردو اکادمی نے اردو صحافت کے معروف محقق جی ڈی چندن سے صحافت پر ایک پمفلٹ بھی تیار کروایا تھا۔ اس کتاب کے اب تک چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر فیروز دہلوی نے راقم الحروف سے گفتگو میں یہ انکشاف کیا کہ اردو صحافت پر پہلی کتاب رحم علی الہاشمی نے 1940 کے آس پاس تصنیف کی تھی۔ ان کا آبائی وطن علیگڑھ تھا لیکن وہ دہلی میں قیام پذیر تھے اور مولانا آزاد کے بہت قریب تھے۔
جیسا کہ گزشتہ کالم میں ذکر کیا گیا تھا کہ اردو صحافت کا آغاز دو غیر مسلموں ہری ہر دت اور سدا سکھ لعل نے کیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں اور غیر مسلموں نے بے شمار اخبارات کا اجرا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو صحافت کی رگو ںمیں خون دوڑانے کا گراں قدر فریضہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں نے بھی ادا کیا ہے۔ 1822 سے لے کر 1947 تک بے شمار غیر مسلم صحافی اس میدان میں سرگرم عمل رہے۔ تقسیم وطن کے بعد بہت سے اخبارات اور ان کے مالک و مدیر پاکستان چلے گئے یا پاکستان کا حصہ بن گئے۔ تقسیم کے نتیجے میں جو غیر مسلم ہندوستان آئے ان میں متعدد صحافی بھی تھے۔ انھوں نے یہاں اردو کے اخبارات کا اجرا کیا۔ آج بھی کچھ غیر مسلم حضرات اردو اخبارات نکال رہے ہیں جن میں ہند سماچار کے ایڈیٹر وجے کمار چوپڑہ قابل ذکر ہیں۔ خیال رہے کہ ہند سماچار کا اجرا ان کے والد لالہ جگت نرائن نے جالندھر سے کیا تھا۔ جب پنجاب میں دہشت گردی عروج پر تھی تو دہشت گردوں نے انھیں گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ بعد میں ان کے بڑے بیٹے رومیش چندر کو بھی جو اپنے چھوٹے بھائی وجے کمار چوپڑہ کے ساتھ اخبار کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے، دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ ایک وقت تھا جب تعداد اشاعت کے اعتبار سے ہند سماچار ہندوستان کا سب سے بڑا اخبار تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لاہور سے دہلی آکر اپنے قدم جمانے والے اخباروں پرتاپ اور ملاپ نے مسلم مخالفت کو اپنی پالیسی کے مرکز میں رکھا۔ انھوں نے اردو رسم الخط میں ہندی کے زیادہ سے زیادہ الفاظ کے استعمال کو ترجیح دی۔ جس کی وجہ سے ان اخباروں کے مسلم قارئین کم ہوتے چلے گئے اور وہ صرف پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آنے والے غیر مسلموں کے اخبار بن کر رہ گئے۔ لیکن بہرحال اردو صحافت کے آغاز و ارتقا میں غیر مسلموں کی گراں قدر خدمات ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دو سو سالہ جشن کے موقع پر ان صحافیوں کو بھی یاد کرنے کی ضرورت ہے۔
غیر مسلم صحافیوں میں ہری ہر دت اور سدا سکھ لعل کے بعد منشی نولکشور، پنڈت دھرم نرائن بھاسکر، ماسٹر رام چندر، مہاشہ کرشن، خوشحال چند خورسند، شری رنبیر، کے نریندر ، لالہ دینا ناتھ، لالہ لاجپت رائے، بانکے دیال، صوفی انبا پرشاد، منشی دیا نرائن نگم، سردار دیوان سنگھ مفتون، پنڈت میلا رام وفا، دیش بندھو گپتا، جمنا داس اختر، فکر تونسوی، ہر بھجن سنگھ تھاپر، پنڈت ہری چند اختر، شانتی رنجن بھٹاچاریہ، جی ڈی چندن، پربھو دیال، ظفر پیامی، خوشتر گرامی، گوپال متل، موہن چراغی، جے پی بھٹناگر، نند کشور وکرم اور موجودین میں اوم پرکاش سونی، چندر بھان خیال اور ڈی آر مضطر کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ تاریخ صحافت اردو کے مصنف مولانا امداد صابری نے اپنی کتابوں میں لاتعداد غیر مسلم صحافیوں کے نام گنائے ہیں اور ان میں سے متعدد کے حالات زندگی بھی قلم بند کیے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر مسعود نے بھی اپنی ضخیم کتاب ’اردو صحافت انیسویں صدی میں‘ میں بے شمار غیر مسلم صحافیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ صرف ہندو حضرات ہی اردو صحافت کے فروغ میں پیش پیش نہیں رہے ہیں بلکہ عیسائی، سکھ اور یہاں تک کہ قادیانیوں نے بھی بے شمار اخبارات کا اجرا کیا ہے۔ اردو میں مذہبی صحافت کا آغاز تو عیسائیوں کے اخبارات کے رد عمل میں ہوا۔ جب عیسائیوں نے ہندوستانیوں کے مذہبی عقائد پر حملہ کرنے اور انھیں عیسائی بنانے کے لیے اخبارات نکالے تو ان کے جواب میں مسلمانوں، سکھوں اور ہندوو ¿ں نے بھی اخبارات نکالے۔ اس تعلق سے عیسائیوں کے جن اخبارات کا ذکر کیا جا سکتا ہے ان میں مفید الاسلام، خیر خواہ خلق، کوکب عیسوی، کوکوب ہند، شمس الاخبار اور نور افشاں قابل ذکر ہیں۔ جبکہ ہندوو ¿ں کے مذہبی اخباروں میں بھارت اکھنڈ امرت، کایستھ سماچار، ہادی حقیقت، دھرم جیون اور دیش اپکارک قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح سکھوں اور قادیانیوں کے بھی متعدد اخبارات ملتے ہیں۔ سکھوں نے اردو میں کم پنجابی میں زیادہ اخبار نکالے جبکہ ہندوو ¿ں نے اردو میں۔
لیکن آج حالات بدل گئے ہیں۔ خود مسلمانوں کی اکثریت ہی اردو زبان سے اپنا رشتہ منقطع کرتی جا رہی ہے۔ وہ اپنی اولاد کو اردو کی تعلیم نہیں دلاتی۔ بیشتر گھروں میں اردو کے اخبار نہیں آتے۔ یہاں تک کہ قبرستانوں میں ہندی میں کتبے نظر آتے ہیں۔ اگر آپ کسی مسلم علاقے کے بازار سے گزر جائیے تو اردو کے سائن بورڈ دیکھنے کو ترس جائیں گے۔ دور مت جائیے دہلی کے مسلم علاقوں کا جائزہ لے لیں حقیقت سامنے آجائے گی۔ ہم لوگ اس بات کا بہت شکوہ کرتے ہیں کہ حکومت اردو کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے۔ آجکل بی یو ایم ایس کی تعلیم کے لیے لازمی اردو کی لازمیت ختم کیے جانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کا یہ قدم منصفانہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے تعصب کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ ان حالات میں اردو والوں کو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اردو کے تئیں کتنے سنجیدہ اور مخلص ہیں۔  
موبائل: 9818195929

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages