My article on Madnis statements

7 views
Skip to first unread message

Dr Tasleem Rehmani

unread,
Dec 2, 2025, 4:12:02 AM12/2/25
to nrin...@googlegroups.com, bazmeqalam
image.png

اتحاد ملت اور انتشار قیادت: کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری ہیں

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

۲۲    نومبر ۲۰۲۵   جمعیت علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دلی میں جمعیت کے دفتر میں مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے جو بیان جاری کیا اس نے نہ صرف ملک میں ایک بے مصرف بحث کو مہمیز دیا بلکہ خود مسلمانوں کے دوران بھی ایک بحث چھڑ گئی۔ مولانا ارشد مدنی ملک کی ایک قدیم دینی تنظیم کے ایک دھڑے کے صدر ہیں، جبکہ دوسرے دھڑے کے صدر ان کے  ہی سگے بھتیجے مولانا محمود مدنی ہیں۔ ایک تاریخی تنظیم چچا اور بھتیجے کے درمیان کس اصولی ، فکری یانظریاتی اختلاف کی وجہ سے تقسیم ہو گئی اس کا جواب تو آج   تک نہیں آیا۔ لیکن بار بار یہ ضرور دیکھا گیا کہ ایک جانب سے اگر کوئی متنازع بیان آتا ہے تو کچھ ہی دن کے بعد دوسری جانب سے  دوسرا اور زیادہ متنازع بیان ا ٓجاتا ہے جس سے ملک میں ایک ہیجان بپا ہو جاتا ہے ۔مگر امت کو اس سے نقصان تو ہوتا ہے فائدہ کچھ نہیں ہوتا ۔مولانا ارشد مدنی صاحب نے ہریانہ کے الفلاح یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی گرفتاری کے پس منظر میں کہا کہ امریکہ میں ممدانی اور لندن میں خان تو مئیر بن سکتے ہیں لیکن بھارت میں کوئی مسلمان وائس چانسلر نہیں بن سکتا ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا غالبا کچھ اور کہنا چاہتے تھے مگر زبان سے وائس چانسلرنکل گیا ۔ کیونکہ ابھی اس وقت بھی ایک درجن کے قریب مسلمان وائس چانسلر ،چانسلر اور سابق وائس چانسلر موجود ہیں۔ گزشتہ 10 سال کے سبھی چانسلر اور وائس چانسلر کو اگر گن لیا جائے تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے ۔جامعہ ملیہ ،علی گڑھ، ہمدرد ، انٹیگرل جیسی یونیورسٹی کے نام تو سامنے  ہی ہیں ۔اس کے علاوہ ملک بھر کی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے نام بھی گنوائے جا سکتے ہیں ۔یہ بیان اس لئے بھی بے محل ہے کہ لندن ، امریکہ اور بھارت کے مابین انتخابی ماحول کا تقابل   نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہاں چرچ، مندر، مسجد و مدرسہ کا کوئی رول نہیں ہوتا جبکہ یہاں اس کے دخل کے بغیر کوئی انتخاب مکمل نہیں ہوتا۔  غالبا وہ الفلاح یونیورسٹی کے چانسلر کی حمایت میں کچھ کہنا چاہتے تھے تو بھی ان معنی میں یہ نامناسب ہے کہ مذکورہ چانسلر صاحب ہزاروں مسلمانوں کے اربوں روپے غبن کرنے کے الزام میں 20 سال پہلے ہی تین  جیل میں رہ چکے ہیں اور مولانا سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی حمایت کریں گے۔ غالبا مولانا ملک میں مسلمانوں کو روز بروز حاشیے پر دھکیلے جانے کی سازش کے خلاف کچھ کہنا چاہتے تھے مگر ان کے مشیر بیان کو ٹھیک ڈھنگ سے ترتیب نہیں دے پائے۔ اس بیان کی مسلم مجلس کے ترجمانوں نے بہت ہی بھونڈے اور غیر مہذب طریقے سے تنقید کی جس نے مسلمانوں میں  ایک  قسم کے انتشار کی صورت پیدا کر دی۔ اخلاص کا تقاضا تو یہ تھا کہ مولانا کے بیان کی غلطی کی تصحیح کرتے ہوئے کوئی بیان خود صدر مجلس کی جانب سے ا ٓجاتا اور داخلی طور پر یہ بحث نہ بڑھتی۔ سیاسی وہ سماجی دنیا میں الفاظ کے مواقع استعمال اور لہجے کی بہت اہمیت ہوتی ہے ،یہ خراب ہوں تو اچھے معنی کی بات بھی بری ہو جاتی ہے ۔خیر یہ بحث ابھی جاری ہی تھی کہ 29 نومبر 2025 کو آگ میں گھی کی طرح جمعیت کے دوسرے دھرے کے صدر مولانا محمود مدنی کا بیان جواب آں غزل کے طور پر سامنے آگیا ،مولانا ارشد مدنی صاحب اپنے متنازع بیان اور اویسی کی تنقید کی وجہ سے ملک بھر کے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا چکے تھے ایسے میں مولانا محمود مدنی خود کو نظر انداز محسوس کر رہے ہوں گے تو  بھوپال میں اپنی والی جمعیت کی مجلس عاملہ میں انہوں نے جہاد کا لفظ استعمال کر کے پورے قومی  میڈیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ۔اب اس ہفتے ملک بھر میں ان کے بیان پر بحث    جاری رہے گی۔ قران میں مذکور مقدس لفظ جہاد کا مذاق ملک میں گزشتہ 20 سال سے بنایا جا رہا ہے بار بار توجہ دہانی کے باوجود ملک کی کسی تنظیم نے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدامات کبھی نہیں کیے، جبکہ قرانی لفظ ہونے کی مناسبت سے اس لفظ کو گالی کی طرح استعمال کرنا قابل تعزیر جرم ہے ، ملک کی کوئی بھی عدالت اسلامی اصطلاحات  مثلا فتوی ،شریعہ اور جہاد وغیرہ جیسے الفاظ کے غلط استعمال کو روکنے کی مجاز ہے ۔مگر کسی نے اس جانب کوئی پیشرفت نہیں کی ،جبکہ مسلمانوں کےانتہائی ہمدرد سمجھے جانے والے ایک  وکیل سے جب کہا گیا کہ اس پر مقدمہ دائر کریں تو اپنی فیس وصول کرنے کے باوجود ایک سال تک انہوں نے کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا بار بار اصرار کے بعد بالاخر انہوں نے فیس واپس کر دی ۔ دونوں مدنی حضرات بھی مختلف معاملات میں عدالتی چارہ جوئی کرتے رہتے ہیں ۔ کچھ چنیدہ دہشت گرد ی کے مسلم ملزمین کے مقدمات بھی لڑے جاتے رہے ہیں ۔لیکن اس قسم کے دینی  معاملات میں ان دونوں نے کبھی کوئی توجہ نہیں کی،جبکہ مولانا ارشد مدنی تو ۲۰۲۲ میں یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ۴۲فیصد مسلم نوجوان ارتداد کے قریب پہونچ چکے ہیں ۔ پتہ نہیں مولانا کو یہ اعداد و شمار کہان سے دستیاب ہوئے بظاہر تو ایسی کوئی صورت حال دکھانئی نہیں دیتی۔ مولانا محمود بدنی تو اور بھی کئی قدم اگے بڑھ گئے انہوں نے اسد الدین اویسی پر یہ بھی الزام لگا دیا کہ وہ پسماندہ مسلمانوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور اشراف مسلمانوں کو ہی ٹکٹ دیتے ہیں اب ذرا غور فرمائیے کہ پسماندہ مسلمانوں کا مسئلہ تو اصل میں آر ایس ایس ،بی جے پی کا کھڑا کیا ہوا ہے جو سراسر ایک غیر اسلامی ہے، اسلام میں تو قرب الی اللہ کا ذریعہ محض تقوی ہے کوئی بڑے سے بڑا سید بھی فاسق ،فاجر، ظالم،مشرک ہو جائے تو  وہ دنیا  تو کما لےگا لیکن آخرت کا سزاوار یقینا رہے گا ۔مولانا محمود مدنی بھی عالم دین ہیں یہ بات یقینا ان کے علم میں بھی ہوگی، ایسے میں قرانی  اصول کو درکنار کرتے ہوئے بی جے پی کے ایجنڈا کو فروغ  دینا چہ معنی دار۔ اسی طرح مولانا محمود مدنی نے ایک ہی سانس میں تیسری اختلافی بات یہ بھی کہہ ڈالی کہ مسلمان اپنے بچوں کی تربیت خود اپنے سامنے کریں ، ایسا نہ کرنے کی صورت میں بچوں کے گمراہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ 2012 میں دلی کے رام لیلا  میدان میں اپنی جمیعت کہ عمومی اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف تجویز پاس کرتے ہوئے بھی یہی کہا گیا تھا کہ مسلمان نوجوان گمراہ ہو رہے ہیں اور ان کو واپس مین سٹریم میں لانے کی جدوجہد جمعیت کرے گی 2015 میں ایک انٹرویو کے دوران بھی انہوں نے اپنے اس بیان کا مزید سختی سے اعادہ کیا تھا ۔اس بیان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم ملک کی بہت سی سراغ رساں  ایجنسیوں اور میڈیا کے ذریعے لگائے گئے اس الزام کی تائید کر رہے ہیں کہ اکثر مسلمان دہشت گرد بن چکے ہیں ۔جبکہ صورت واقعہ اس سے برعکس ہے۔ 2019 میں ملک کے اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ  سنگھ نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ خوش قسمتی سے ملک کے مسلمان غیر ملکی مسلم دہشت گرد تنظیموں سے متاثر نہیں ہوئے ہیں اور بھارتی مسلمانوں کا اس دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔خود ملک کی عدالتوں کے فیصلوں  پر بھی نظر ڈالیں تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کے الزامات میں جیل بھیجے گئے مسلم نوجوان لڑکوں میں سے 97 فیصد باعزت بری ہوئے ہیں ۔یعنی وہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی  ۱۵۔۲۵ سال تک جیلوں میں بند رہے اوران کا مستقبل وسماجی حیثیت دونوں کو برباد کر دیا گیا۔ لیکن محمود مدنی صاحب کا بیان اس کے خلاف مسلمانوں کو ہی  دہشت گردی کا مجرم قرار دے رہا ہے۔ ان بیانات کی روشنی میں یہ سوال تو بہرحال پوچھا جانا چاہیے کہ  ان تقسیم شدہ جمعیتوں کے صدور کے بیانات محض بے خبری پر محمول  ہیں یا کسی نادیدہ چشم ابرو کے اشارے  کے رہین منت ہیں۔

  امت کے عام لوگ ملک کے موجودہ حالات سے متفکر ہیں۔ اس فکرمندی نے ان کے بحرکی موجوں کو اضطراب عطا کیا ہے وہ اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے بیدار بھی ہیں اور چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی کر رہے ہیں ۔چنانچہ تعلیمی اور اقتصادی میدانوں میں بتدریج مثبت تبدیلیاں بھی آرہی ہیں ۔ہر چند کہ وہ اجتماعی نہیں انفرادی کاوشیں ہیں،  جو ابھی غیر محسوس ہیں۔ مگر ایک زوال یافتہ امت کی ترقی کا پہلا مرحلہ انفرادی ہی ہوتا ہے ۔اس تبدیلی کو دائرہ احساس میں آنے اور منظم طور پر دکھائی دینے میں ابھی کافی وقت لگے گا ۔لیکن تبدیلی شروع ہو چکی ہے اس کا احساس ان لوگوں کو ہونے لگا ہے جو ہمیں گڈھے میں پڑے دیکھنا چاہتے تھے اور ہمیں منتشر کر کے سماجی طور پر بے پرواہ ہجوم بنانے اور فسادات کے ذریعے برباد کر کے ہمیں ملک کے نظم و نسق میں محض ووٹ بنک کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے ارمان اب دم توڑ تے محسوس  ہورہے ہیں۔ اس خاموش ترقی کو روکنے کے لیے تعلیم کے میدان میں بڑھتے چھوٹے چھوٹے اقدامات کو بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اقتصادی ترقی کو روکنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کیا جا رہا ہے اور سماجی اعتبار سے الگ  تھلگ رکھنے کے لئےنفرت بڑائی جا رہی ہے۔ ملی طور پر منتشر رکھنے کے لئے اس قسم کی غیر حقیقی بیان بازی  اور جانبدارانہ بیان بازی  ملت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوشش ہے۔  ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ امت عمومی طور پر متحد تھی، ٓاج بھی ہے۔ انتشار قیادت کی سطح پر  رہا ہے اور آج بھی ہے ۔ لیکن قیادت کی جانب سے اس قسم کے بیانات ان قائدین اور ان کی  مورثی تنظیموں کو(تنظیمی، ادارتی موروثیت اسلام میں ناجائز کہی جاتی ہے) کچھ ذاتی فائدے تو پہنچا سکتے ہیں اور اپنے ’’صاحباں خیر‘‘کی توجہ بھی مبذول کروا سکتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی اتحاد  امت کے لیے تو مضر ہیں۔  افراد امت کی جانب سے انفرادی سطح پر اپنی تعلیمی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے بھی سم قاتل کا درجہ رکھتے ہیں۔


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages