پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر کے امتیازات

30 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Sep 15, 2022, 7:12:29 AM9/15/22
to bazme qalam
  یوم شہادت کی مناسبت سے
پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر کے امتیازات
سہیل انجم
آسمان اردو پر صحافیوں کی ایک کہکشاں جلوہ ریز ہے۔ اس کہکشاں میں ایسے متعدد صحافی ہیں جو اپنی امتیازی خصوصیات کے سبب دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ انھی میں ایک ممتاز نام مولوی محمد باقر حسین کا بھی ہے جو اپنے امتیازات کے سبب اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ مولوی باقر کا نام اور اردو صحافت لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی ذکر دوسرے کی داستانِ دلپذیر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ مولوی باقر کے اجداد نادر شاہ کے دور میں ایران سے ہندوستان آئے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب جلیل القدر صحابی حضرت سلمان فارسی ؓسے ملتا ہے۔ وہ 1780 میں پیدا ہوئے اور 1857 میں انھیں سزائے موت دی گئی۔ انھیں پہلا شہید صحافی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد مولانا محمد اکبر دہلی کے معروف عالم دین اور مجتہد تھے۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی مجتہد بنانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کا مزاج ذرا مختلف تھا، یعنی جنوں پسند تھا۔ لہٰذا انھوں نے وہ راستہ اختیار کیا جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے کہا ہے کہ: مقام شوق کوئی راہ میں جچا ہی نہیں۔ جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔ لہٰذا انھوں نے اپنی آخری سانس اوجِ دار پر لی۔
1837میں دہلی سے پہلی بار دو اردو اخبارات جاری ہوئے۔ ایک کا نام ”اردو اخبار“ تھا اور دوسرے کا ”سید الاخبار“ تھا۔ ”سید الاخبار“ سرسید کے بھائی سید محمد خاں نے نکالا تھا۔ 1846 میں ان کا انتقال ہو گیا اور پھر اس کی ادارت سرسید نے سنبھالی۔ مگر اپنی مصروفیات کی وجہ سے وہ اسے نہیں چلا سکے اور وہ بند ہو گیا۔ جبکہ اردو اخبار یا دہلی اردو اخبار نے صحافتی تاریخ میں ایک زریں باب کا اضافہ کیا۔
مولوی محمد باقر کے کئی امتیازات ہیں۔ ان کا پہلا امتیاز ان کی زندگی کا وہ آخری اور ولولہ انگیز واقعہ ہے جس کی وجہ سے وہ صحافیوں کی صف میں سرِ فہرست ہیں۔ یعنی وہ پہلے شہید صحافی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس وقت تک کسی بھی صحافی کو اس کے خیالات و نظریات کی وجہ سے سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔ ان کی شہادت کے بارے میں کئی روایتیں مشہور ہیں۔ کچھ نے لکھا ہے کہ 1857 کی بغاوت فرو ہونے کے بعد جب انھوں نے دلی کالج کے پرنسپل اور اپنے دوست مسٹر ٹیلر کی ہدایت کے مطابق انگریز افسر کو وہ کاغذ دیا جس پر ٹیلر نے مولوی باقر پر لاطینی زبان میں الزام لگایا تھا کہ انھوں نے اس کی حفاظت نہیں کی، تو انگریز افسر نے انھیں فوراً گولی مار دی۔ بعض نے لکھا کہ انھیں توپ کے دہانے سے باندھ کر گولے سے اڑایا گیا۔ بعض نے لکھا کہ انھیں پھانسی دی گئی۔ لیکن بہر حال اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ ان کی شہادت میں ان کے حریت پسندانہ خیالات او ران کے اخبار کی آزادی پسند صحافت کا بھی دخل تھا۔ مولوی باقر بغاوت کو کچلنے کے لیے انگریزوں کے ظلم و استبداد کے عینی شاہد تھے اور بغاوت کے دوران اخبار کے 17 مئی کے شمارے میں، جو کہ ایک طرح سے بغاوت نمبر تھا، وہ سارے واقعات اس طرح شائع ہوئے کہ وہ اس وقت کی تاریخ نویسی کے لیے ناگزیر واقعات بن گئے۔ اس کے بعد یعنی 24 مئی کے شمارے میں ”تاریخِ انقلابِ عبرت افزا“ کے نام سے ان کے بیٹے اور صاحب طرز ادیب مولانا محمد حسین آزاد کی ایک نظم بھی شائع ہوئی تھی جس میں وہ انگریزوں کی طاقت و قوت کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:سب جوہرِ عقل ان کے رہے طاق پر رکھے، سب ناخنِ تدبیر و خرد ہو گئے بیکار۔ کام آیا نہ علم و ہنر و حکمت و فطرت، پورب کے تلنگوں نے لیا سب کو یہیں مار۔ اگر چہ ناکام بغاوت سے قبل ان کے اخبار کا مزاج ادبی تھا تاہم اس وقت بھی اس میں آزادی کی حمایت اور انگریزی حکومت کے خلاف پرجوش مضامین اور خبروں کی اشاعت ہوتی تھی۔ مولانا محمد حسین آزاد بھی اخبار کے شعبہ ادارت میں شامل تھے۔ وہ 1854 سے اس میں سرگرمی کے ساتھ تحریری خدمات انجام دینے لگے تھے۔ جید صحافی اور اردو صحافت کی تاریخ قلم بند کرنے والے مولانا امداد صابری نے ایک خاندانی روایت کے حوالے سے جو کہ محمد حسین آزاد کے پوتے آغا محمد باقر نے بیان کی ہے، لکھا ہے کہ 16 ستمبر 1857 کو جس دن انھیں گولی ماری جانے والی تھی، محمد حسین آزاد اپنے والد کے ایک دوست کرنل سردار سکندر سنگھ کی مدد سے بھیس بدل کر اور ان کے سائیس بن کر اور گھوڑے پر سوار ہو کر دہلی دروازے کے میدان کے باہر ان کے آخری دیدار کے لیے گئے۔ وہاں چاروں طرف فوجی پہرا تھا۔ مولوی باقر نماز میں مصروف تھے۔ آزاد گھوڑے کی باگ تھامے فاصلے پر کھڑے ان کے سلام پھیرنے اور آنکھیں چار ہونے کے منتظر تھے۔ سلام پھیرنے کے بعد جب دونوں کی آنکھیں ملیں تو اشکبار ہو گئیں۔ مولوی باقر نے آزاد کو اشارہ کیا کہ بس یہ آخری ملاقات ہو چکی، اب جاو ¿۔ محمد حسین آزاد بھی مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل تھے اور ان کے نام بھی وارنٹ نکلا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ سینے پر صبر کی سِل رکھ کر اور فی امان اللہ کہتے ہوئے فوراً وہاں سے رخصت ہو گئے۔مولوی باقر کو کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیا گیا اور اس 77سالہ عظیم اور جیالے صحافی اور دیوانہ ¿ حریت نے یہ کہتے ہوئے سینے پر انگریز کیپٹن کی گولی کھا لی کہ: ہزار طوق و سلاسل ہوں لاکھ دارورسن، جنوں کو حوصلہ ¿ کار آہی جاتا ہے۔
مولوی محمد باقر کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے دہلی میں اردو صحافت کی داغ بیل ڈالی۔ دہلی سے پہلا اردو اخبار انھوں نے ہی نکالا جو بیس برسوں تک مسلسل نکلتا رہا۔ پہلے اس اخبار کا نام ”دہلی اخبار“ تھا پھر ”دہلی اردو اخبار“ ہو گیا۔ اس زمانے میں بھی شعرا و ادبا دو گروہوں میں منقسم تھے۔ ایک استاد ذوق کا گروہ تھا اور دوسرا مرزا غالب کا۔ مولوی باقر استاد ذوق کے پرستاروں میں تھے۔ اسی لیے وہ ذوق کی حمایت اور غالب کی مخالفت میں مضامین اور خبریں بھی شائع کرتے تھے۔ ولوی باقر کا تیسرا امتیاز یہ ہے کہ ان کا اخبار لیتھو پریس میں چھپنے والا اردو کا پہلا اخبار تھا۔ لہٰذا اسے نگاہِ حیرت سے دیکھا جاتا تھا۔ اِس کے علاوہ انھوں نے اخبار میں مختلف قسم کے مضامین اور خبروں کے لیے الگ الگ عنوانات قائم کیے تھے۔یہ روایت اردو صحافت میں غالباً پہلی بار شروع کی گئی تھی۔ ان کا چوتھا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نےہی ہندوستان میں پہلا مذہبی اخبار نکالا تھا جس کا نام ”مظہر الحق“ تھا۔ اسے 1843 میں جاری کیا گیا تھا۔ یہ اخبار شیعہ مسلک کی حمایت اور اس کی ترویج و اشاعت کے لیے نکالا گیا تھا۔ ”مظہر الحق“ کی اشاعت زیادہ نہیں تھی۔ بالآخر اپنی محدود تعداد اشاعت کی وجہ سے وہ 1854 میںبند ہو گیا۔ (برسبیل تذکرہ یہ بھی بتا دیں کہ ہندوستان میں دوسرا مذہبی اخبار 1845 میں بنارس سے ”بنارس گزٹ“ کے نام سے نکلا تھا جو پادریوں کی تبلیغی کوششوں کے رد عمل میں جاری کیا گیا تھا)۔ ان کا پانچواں امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے پہلے دلی کالج سے ایک لیتھو پریس خریدا اور پھر اس کے بعد اخبار کا اجرا کیا۔ ان کے پریس کا نام پہلے مطبع جعفریہ تھا پھر مطبع اثنا عشری ہو گیا۔ ان کا چھٹا امتیاز یہ ہے کہ بغاوت سے بوکھلائی انگریزی حکومت نے انتہائی سخت لب و لہجے میں ایک دھمکی آمیز اشتہار جاری کیا اور اسے جامع مسجد کے دروازوں اور کئی نمایاں مقامات پر بھی چسپاں کرایا۔ مولوی باقر نے اسے نہ صرف یہ کہ اپنے اخبار میں چھاپا بلکہ اس کا دنداں شکن جواب بھی لکھا۔ اس کے بعد حکومت نے دوسرا اشتہار جاری نہیں کیا۔ اسی طرح ان کا باغی تیور آخر تک برقرار رہا۔ مولوی باقر کا ساتواں امتیاز یہ ہے کہ وہ دلی کالج کے پہلے طالب علم تھے۔ پھر وہیں استاد بھی ہوئے۔ بعد میں وہ تحصیلدار اور سپرنٹنڈنٹ کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ لیکن ملازموں کے ساتھ حکومت کی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اور ان کا آٹھواں امتیاز یہ ہے کہ وہ صاحب طرز ادیب، مورخ اور تذکرہ نگار، شمس العلما، مولانا محمد حسین آزاد کے والد تھے۔ مولانا آزاد کی ادبی خدمات کو کون فراموش کر سکتا ہے۔ جس طرح مولوی باقر اور صحافت لازم و ملزوم ہیں اسی طرح مولانا آزاد اردو ادب کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مولوی محمد باقر پر اور کام کیا جائے، اور تحقیق کی جائے۔ ممکن ہے کہ ان کے امتیازات پر مزید روشنی پڑے اور تاریخی حقائق و صداقت کے مزید نئے دروازے کھلیں۔
 

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages