Fwd: Urdu in Pakistan - RE: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI

54 views
Skip to first unread message

Tanwir Phool

unread,
Jun 19, 2015, 6:38:25 PM6/19/15
to Faisal Hanif, Aijaz Shaheen

---------- Forwarded message ----------
From: Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
Date: 2015-06-18 15:06 GMT-04:00
Subject: Re: Urdu in Pakistan - RE: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI
To: "guzergah...@yahoogroups.com" <guzergah...@yahoogroups.com>


محترم فیصل حنیف صاحب
سب سے پہلے یہ عرض کرنا ہے کہ آپ نے یہ کس طرح سمجھا کہ "اِس کا نشانہ خاص طور پر اہلِ پنجاب کو بنایا جاتا ہے" ؟؟؟  ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے بھی پنجاب میں اُردو کا خوب چرچا تھا ، انجمن حمایت ِ اسلام کے
مشاعروں{ جن میں حالی ، محمد حسین آزاد اور اقبال جیسی نام ور شخصیات شرکت کرتی تھیں} نے اُردو نظم کے فروغ
میں جو نمایاں کردار ادا کیا وہ اہلِ نظر سے مخفی نہیں ہے ۔  پاکستان میں "دبستانِ پنجاب" { بلکہ "دبستانِ لکھنئو" اور
"دبستانِ دہلی" کی طرح " دبستانِ لاہور"} کا وجود مسلّم ہے ۔ پاکستان بننے کے بعد دبستانِ لکھنئو ، دبستانِ دہلی اور دیگر
دبستانوں سے وابستہ اہلِ ادب کی اکثریت نے کراچی کا رُخ کیا اس لئے دبستانِ لاہور کے بعد پاکستان میں کراچی بقولِ
احمد حسین صدیقی "دبستانوں کا دبستان" بن گیا ۔ یہ لنک ملاحظہ کیجئے :
http://urdunetjpn.com/ur/2015/05/02/tanwir-phool-new-york-474/
بابائے قوم محمد علی جناح نے نہایت واضح الفاظ میں اُردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا اور مشرقی پاکستان میں
بھی ببانگِ دہل اِس کا اعلان کیا اور سب اُن کے سامنے خاموش رہے لیکن اُن کی وفات کے بعد اُن کا یہ فیصلہ نظرانداز
کیا گیا اور بنگلہ کو بھی صوبائی زبان  کے درجے سے بڑھا کر قومی زبان بنایا گیا جو ایک غلطی تھی ۔ اِس غلطی کے علاوہ اور بھی عوامل تھےجن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان "بنگلہ دیش" بن گیا :
http://forum.urdujahaan.com/viewtopic.php?f=96&t=4615
مغربی پاکستان میں "ون یونٹ" ٹوٹنے کے بعد اُردو پر بُرا وقت آیا ۔ اہلِ پنجاب اپنی حد تک اُردو سے وابستہ رہے لیکن
کراچی میں جو کچھ ہوتا رہا اُس پر اکثریت نے خاموشی اختیار کی ۔ ستّر کی دہائی کا "لسانی بِل" ، رئیس امروہوی مرحوم
کا مرثیہ "اُردو کا جنازہ ہے ، ذرا دُھوم سے نکلے" ، لیاقت آباد ، کراچی میں شہدائے اُردو کا قبرستان اور کراچی میں پہلی مرتبہ مسلسل چار دن کرفیو{ کسی وقفے کے بغیر} ذہن کے گوشوں میں اب بھی محفوظ ہے ۔ راقم الحروف اُس زمانے میں
ایم ۔ اے {تاریخِ اسلام} کے امتحان کی تیاری میں مصروف تھا۔
  راقم الحروف کی نظم "قومی زباں ہے اپنی اُردو" پر حال ہی میں جو تبصرہ کیا گیا ، وہ پیشِ خدمت ہے :     


---------- Forwarded message ----------
From: Tanwir Phool tan...@gmail.com [Ordu_Adab] <Ordu...@yahoogroups.com>
Date: 2015-03-31 13:30 GMT-04:00
Subject: Re: [Urdu_Adab] Qaumi zabaaN hai apni Urdu - Tanwir Phool [1 Attachment]
To: "Ordu...@yahoogroups.com" <Ordu...@yahoogroups.com>



 
شکریہ اشرف بھائی ۔  یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اردو زبان پاکستان کے تمام صوبوں یہاں تک کہ بنگال میں بھی اچھی طرح سمجھی
جاتی تھی اور ہے ، اسی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا تھا  کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہوگی ۔ قومی زبان کا
علاقائی یا صوبائی زبانوں سے کوئی جھگڑا نہیں بلکہ پاکستان میں تو رسم الخط بھی ایک ہی ہے ۔ سندھ میں جی ۔ ایم سید اور بلوچستان میں اکبر بگٹی بھی اردو سمجھتے اور بولتے تھے ۔ "جنگ" اخبار کی ایک خبر کے مطابق اکبر بگٹی نے ایک مرتبہ غصے میں قسم کھائی
تھی کہ وہ آئندہ اردو نہیں بولیں گے لیکن وہ اپنی قسم پر قائم نہیں رہ سکے ، یہ ان کی مجبوری تھی ۔    تنویرپھول  

On Mon, Mar 30, 2015 at 10:23 AM, 'K. Ashraf' kas...@ix.netcom.com [Ordu_Adab] <Ordu...@yahoogroups.com> wrote:
 

Poem is beautiful Tanwin Bhai, however, the question of a national language is debatable issue.

K. Ashraf

 

 

From: Ordu...@yahoogroups.com [mailto:Ordu...@yahoogroups.com] 
Sent: Sunday, March 29, 2015 9:15 PM
Subject: [Urdu_Adab] Qaumi zabaaN hai apni Urdu - Tanwir Phool [1 Attachment]

 




2015-06-18 11:14 GMT-04:00 Faisal Hanif fha...@hotmail.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 

دخل در معقولات  کے لیے معذرت- لیکن اب اس بزم میں  مجھے نہیں بنتی حیا کیے-

 

 میں جناب سید محسن نقوی صاحب کا بہت شکر گزار ہوں کہ انھوں نے بیکل اتساہی پر ایک عمدہ مضمون پیش کر کے اس بحث کا آغاز کیا - اور جناب فیروز ہاشمی اور جناب تنویر پھول صاحبان کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس گفتگو کو مزید دلچسپ بنا ڈالا- میرے مخاطب اب جناب تنویر پھول صاحب ہیں-

 

محترم تنویر پھول صاحب،

 

ایک مدت سے یہ بات میرے مشاہدے میں ہے کہ ہندوستانی جب بھی اردو کا نوحہ پڑھتے ہیں یا اردو کے بقا کی بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان سے اردو ختم ہوتی جا رہی ہے، پاکستان میں اردو کے مستقبل پر تنقید ضرور کرتے ہیں- یہ بات ہندوستانیوں کے علاوہ  اردو بولنے والے پاکستانیوں اور خاص طور پر یو پی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ہوئے پاکستانی حضرات  بھی کہتے ہیں- اس کا نشانہ خاص طور پر اہل پنجاب کو بنایا جاتا ہے- حقیقت یہ ہے کہ آج پنجاب ہی دبستان اردو ہے- دلی، لکھنؤ اور حیدرآباد اب صرف ماضی بعید اور پدرم سلطان بود کا نعرہ لگانے والوں کے 'ماضی تمنائی' میں جیتے ہیں-

 

مجھے محترم  تنویر پھول صاحب کے اس بیان سے کہ "تقسیم کے بعد دونوں جگہ اُردو کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں ہورہا۔" سے سخت اختلاف ہے- یہ بات سو فیصد غلط ہے- ہندوستان میں اردو کو ایک سازش کے ساتھ با ضابطہ ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں اردو زبان پنپ رہی ہے- اردو کا گھر اب پاکستان ہے، اور اردو کے مستقبل اور بقا کا ضامن بھیمعذرت کے ساتھ پھر پاکستان میں اُردو کو )-

سرکاری زبان کا درجہ دینے میں کیوں لیت و لعل کی جارہی ہے ،قائد اعظم کے فیصلے کو اڑسٹھ سال گزر چکے ہیں۔ بین الاقوامی فورم پر سربراہانِ قوم اپنی قومی زبان میں خطاب کرتے ہیں جن کا ترجمہ کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی وہاں اُردو بولتے ہوئے کیوں شرما جاتے ہیں؟غلط سلط انگریزی بولتے ہیں جس کا مذاق بھی اُڑ چکا ہے لیکن اُردو بولنا وہ کسرِ شان سمجھتے ہیں، اِس سے کیا سمجھا جائے۔ 

آپ کا یہ کہنا کہ "بھارت میں بنیادی طور پر یہ مسلمانوں کی زبان سمجھی جاتی ہے اور پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والوں کی لیکن اپنا مطلب سمجھانے کے لئے اُردو بولنا سب کی مجبوری ہے" بھی انتہائی نا مناسب اور غلط ہے- ہندوستان میں اردو کو منظم طریقے سے  کچلنے کی بنیادی وجہ یہی ہے جو آپ نے بیان فرمائی ہے، لیکن حضور پاکستان میں اسے ہجرت کر کے آنے والوں کو نہیں بلکہ اپنی زبان سمجھا اور مانا جاتا ہے- اردو کو پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والوں کی زبان سمجھا جائے، آپ کی خواہش ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں-حضور ، یہ خواہش نہیں بلکہ اِس پر بے حد افسوس ہوتا ہے،ستّر کی دہائی میں جو کچھ ہُوا وہ ہم نے آنکھوں سے دیکھا ہے ۔آپ تو اُس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ پنجاب والوں نے اردو کی خاطر اپنی مادری زبان قربان کر دی ہے-یہ حقیقت ہے اور  پاکستان بننے سے پہلے  ہی ایسا ہوچکا تھاپاکستان میں بچے اسکولوں میں پنجابی، سندھی، بلوچی یا پشتو نہیں پڑھتے، اردو پڑھتے ہیں-  سندھ میں اسکولوں میں سندھی بھی پڑھائی جاتی ہے اور یہ قابلِ اعتراض بات نہیں ہے ۔ ہر صوبے میں قومی زبان کے بعد صوبائی زبان بھی پڑھانی چاہئیے ۔قومی زبان کا صوبائی یا علاقائی زبان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سرائیکی ، گجراتی اور دیگر زبانیں بھی ہیں پنجاب کے ایسے دور دراز دیہات جہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں، بڑے تو بڑے، چھوٹی عمروں کے بچے اردو پڑھتے اور اردو بولتے ہیں- چالیس سال سے کم عمر کے اکثر پنجابی، پنجابی زبان نہیں جانتے- میری عمر ٣٧ برس ہے اور میں نے آج تک اپنے دوستوں سے جو پنجابی ہیں، کبھی پنجابی میں بات نہیں کی- ہمارے لیے پنجابی اجنبی زبان بنتی جا رہی ہے، ہم اردو بولتے ہیں- ہماری اگلی نسل کو صرف اردو ہی سکھائی گئی ہے- میرے بچے، یا میرے پنجابی دوستوں کے بچے پنجابی بولنا تو درکنار پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے-  کیونکہ ہمارے گھروں کے اندر اردو بولی جاتی ہے- پٹھانوں اور بلوچیوں میں بھی اردو کا اثر دن بدن بڑھ رہا ہے- پنجاب جس کی آبادی ١٠ کروڑ سے کچھ زیادہ ہے، اردو کو بچانے کے لیے کافی ہے- آپ فکر مند نہ ہوں-اللہ کے فضل سے اُردو اپنی بقا کی جنگ خود لڑ رہی ہے ۔ بھارت والے رسم الخط ہٹا کر اسے "ہندی" کہتے رہیں لیکن وہ مجبور ہیں کہ "ہندی" کہہ کر اُردو ہی بولتے رہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس بولی یا زبان کا دوسرا نمبر ہے ۔ یہ لنک ملاحظہ کیجئے

 

 

آپ کایہ کہنا کہ  "نواب اکبر بگٹی نے ایک بار قسم کھائی تھی کہ وہ اِس زبان کو آئندہ کبھی نہیں بولیں گے"، مضحکہ خیز ہے-یہ مضحکہ خیز حرکت اُن ہی کی تھی جو مجھے اخبار سے معلوم ہوئی اس سیاق و سباق میں یہ مثال غالب کے اس شعر کے  مرغِ اسیر کی سی ہے-

 

مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر

کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے

 

اکبر بگٹی اور ایسے چند لوگوں کی قسموں اور ان کے اردو بولنے یا نہ بولنے سے کیا فرق پڑتا ہے- اور ہاں، ہمارے لیے اردو بولنا مجبوری نہیں، عادت ہے-شکریہ لیکن بات پنجاب کی نہیں پورے پاکستان کی ہورہی ہے اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں اور سارے جہاں میں اس کی دھوم ہمارے دم سے ہے-داغ کا شعر یاد دلانے کا شکریہ ہندوستان میں اردو کو بچائیےیہ وہاں کے اہلِ اُردو کریں گے- پاکستان کی فکر نہ کیجیے-آپ تحریک نفاذ اُردو کی مدد کیجئے ۔جب میں پاکستان گیا تھا تو اُن سے ملا تھا ، اوپر "آُردو بندھن" کا لنک دیکھئے نیاز فتح پوری اور ان جیسی ذہنیت رکھنے والے نام نہاد 'اردو والوں'  کا اب اردو ادب میں نام و نشان نہیں ملتا- اُن لوگوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہےاس ذہنیت کو بدلیےآپ اس کام میں تعاون کیجئے- حیرانی اس بات پر ہے کہ اردو سے وابستہ لوگ ایسی بات کرتے ہیں- اگر یہ لا علمی ہےاور  سادگی ہے تو افسوس ہے اور اگر یہ ہندوستانی یا سابق ہندوستانی ہونے کا 'گلٹ' ہے، اور یہ بیان اس 'گلٹ' کا شاخسانہ ہے، تو صد افسوس ہے-  ہم سب اس امر سے واقف ہیں کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے پاکستان آ کر بھی اس کو اپنا وطن نہیں مانا- پاکستان بننے سے پہلے سب سابق ہندوستانی تھے ۔ جو وطن نہیں سمجھتے وہ یہاں آتے ہی نہیں {ہجرت پر مجبور نہیں تھے،ہجرت پر مامور تھے ہم} ۔ وطن نہ ماننے والے بنگلہ دیش ، سندھو دیش ، پختونستان وغیرہ کا نعرہ لگاتے رہے ، وہ یہیں کی پیداوار تھے ۔ شیخ مجیب ، بھاشانی ، جی ایم سید ، سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان اورخان قلات یہ سب تاریخ میں موجود ہیں ۔ یہ  لنک بھی ملاحظہ کیجئے

 

 

میں بالخصوص یو پی کا حوالہ دے رہا ہوں میرا تعلق یوپی سے نہیں، وہ بہتر جواب دے سکیں گے کہ، جب یو پی والوں کے ہاتھوں سے اردو ان کی نا اہلی کے با عث پھسل گئی، اور اہل پنجاب نے اپنی زبان چھوڑ کر اردو کو اپنا لیا تو، اہل یو پی کے 'احساس برتری' کو کاری چوٹ لگی اور یہ بھالے تانے کھڑے ہو گئے - یہ سلسلہ تقسیم ہندوستان سے بہت پہلے شروع ہو گیا  تھا، جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے- زیادہ کچھ تو ممکن نہیں، محفلوں میں اپنی بھڑاس یہ کہہ کر نکال لیتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اردو کی حالت نا گفتنی ہے- اب یہ فیشن ہے اور اس میں تسکین کا پہلو بھی ہے-

گفتگو میں تلخی کے لیے معذرت خواہ ہوں، لیکن میں ایسی بے سروپا باتیں سنتے سنتے عاجز آگیا ہوں- مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کا یہ قول میری نظر میں رہتا ہے کہ

 

Our lives begin to end the day we become silent about things that matter.

 

 اب مجھے 'یو پی' والوں کے لیے پطرس بخاری کا سا رویہ اور لہجہ اپنانا پڑے گا- کئی نام نہاد 'اہل زبان' بزرگوں کو میں آئینہ دکھا کر اپنی عاقبت خراب کر چکا ہوں- تھوڑی سی جفا اور سہی!

 

فیصل حنیف




From: guzergah...@yahoogroups.com
To: guzergah...@yahoogroups.com
Date: Wed, 17 Jun 2015 17:35:48 -0400
Subject: Re: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI

 

محترم محسن نقوی صاحب
تقسیم کے بعد دونوں جگہ اُردو کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں ہورہا۔
بھارت میں بنیادی طور پر یہ مسلمانوں کی زبان سمجھی جاتی ہے اور پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والوں کی لیکن اپنا مطلب سمجھانے کے لئے اُردو بولنا سب کی مجبوری ہے ۔ نواب اکبر بگٹی نے ایک بار قسم کھائی تھی کہ وہ اِس زبان کو آئندہ کبھی نہیں بولیں
گے{یہ خبر "جنگ" میں بھی شائع ہوئی تھی} لیکن وہ اپنی قسم پر قائم نہیں رہ سکے ، یہ اُن کی مجبوری تھی ۔ اب تو لوگ اُردو کو
پاکستان کی قومی زبان کہنے پر اسے " ڈیبیٹ ایبل ایشو" قرار دینے
لگے ہیں جو ایک افسوس ناک امر ہے ۔ پاکستانی عدلیہ کو بابائے قوم
محمد علی جناح کے اِس فیصلے پر عمل کرانے کا کچھ خیال آیا ہے
دیکھئے کیا ہوتا ہے ؟میں تو دیوناگری رسم الخط سے بالکل نابلد ہوں
قیامِ پاکستان کے بعد پیدا ہُوا اور چار سال کی عمر میں والدین کے ساتھ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی جب لیاقت علی خان شہید ہو چکے تھے ۔ والسلام  ،  تنویرپھول

2015-06-17 10:51 GMT-04:00 syed-mohsin naquvi mna...@yahoo.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 

ڈیر فیروز ہاشمی صاحب۔

ہندوستان سے اردو کو دیس نکالا کیسے دیا گیا۔ اسکاجواب میری خود نوشت سے ملاحظہ فرمائیے۔

جس سال ہندوستان آزاد ہوا اسی برس میں نے لکنا پڑھنا سیکھا تھا۔
جولائی میں اسکول کھلے تھے۔ ۱۵ اگست کو آزادی ملی تھی۔ اُسی برس تمام اسکولوں کالجوں اور لکھنؤ یونیورسٹی کی ہر کلاس میں دیوناگری کی پہلی کتاب کمپلسری مضمون کی حیثیت سے شامل کی گئی۔ دوسرے برس دوسری کلاس سے ایم اے تک دیوناگری کی دوسری کتاب شامل کی گئی، تیسرے برس تیسرے درجے سے ایم اے تک دیوناگری کی تیسری کتاب شامل کی گئ۔ اور یوں پورے تعلیمی نظام میں دیوناگری کو نافظ کر دیا گیا۔ اس کام میں بارہ برس لگے۔ اردو کو سائینس کی درجات سے غائب کر دیا گیا۔ اگر گھر کی تعلیم نہ ہوتی اور ہم نے بچپن میں تختی نہ لکھی ہوتی تو ہم بھی نستعلیق سے قطعاً نا بلد رہ جاتے۔
اور یہ وہی بارہ برس تھے جس کے دوران مولانا ابوالکلام آزاد حکومت ہند کے وفاقی وزیر تعلیم رہے تھے۔ جی ہاں!

ہماری چھوٹی بہنیں بہت دنوں تک ہم کو ہندی دیوناگری میں خطوط لکھتی رہی ہیں۔ جب انہوں نے پاکستان آکر کالج میں داخلہ لیا تو اردو لکھنا سیکھا۔

آج بھی ہمارے بھتیجے بھانجے ہندوستان سے آتے ہین تو وہ میر و غالب اور میر انیس کے اشعار تو ضرور سناتے ہیں لیکن نستعلیق پڑھ نہیں سکتے۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ اردو رسم الخط کوتعلیم اور ملازمت کے نظام سے دیس نکالا مل چکا ہے۔ اب تو لکھنؤ جیسے شہر میں قبروں پر کتبے ہندی دیوناگری مین لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ 
اردو کا بھرم بہت کچھ محرم کی مجلسوں میں قائم تھا۔ وہ بھی ختم ہو گیا۔ مولوی اور ذاکرین بھی ہندی کے الفاظ میں مجلسیں پڑھتے ہیں۔ کیا کریں، اگر وہ لکھنؤ والی ٹکسالی اردو بولیں گے تو نوجوان طبقہ بھلا کیا سمجھے گا؟

شکریہ۔ مخلص۔ سید محسن نقوی
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ



On Wednesday, June 17, 2015 9:31 AM, "Firoz Hashmi firoz...@gmail.com [guzergah-e-khayal]" <guzergah...@yahoogroups.com> wrote:


 
بہت عمدہ پیش کش ہے۔ 
وقت اور ماحول کے اعتبار سے تھوڑی کمی یا زیادتی تو ہو سکتی ہے لیکن ختم ہونے یا دیس سے باہر نکالنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ہاں اردو والے خود منہ موڑنے لگ جائیں تو پھر فارسی اور سنسکرت کی طرح حاشیہ پر جاسکتے ہیں۔
فیروزہاشمی

2015-06-17 8:08 GMT+05:30 syed-mohsin naquvi mna...@yahoo.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 
جناب تنویر پھول صاحب۔

آپ کے پیغام کا شکریہ۔

ہمیں خیال آیا کہ ہندوستان کے اردو شعرا میں جو نئی تحریکیں چل رہی ہین انکی جھلکیان بھی قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں۔

ہندوستانی کی اصطلاح پاکستان میں نہیں پہچانی جاتی لیکن بھارت مین یہ ایک مقبول  اصطلاح ہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ سیاست دانوں نے پوری کوشش کر لی ہے کہ اردو کو ہندوستان سے دیس نکالا مل جائے لیکن ایک تو بمبئی کی فلم انڈسٹری نے اردو سے دلچسپی کم نہیں ہونے دی اور دوسری طرف ہندی کے شاعروں میں بھی اردو غزل سے دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ اردو نستعلیق سے نا واقفیت کی بنا پر ایسے ہندی کے شعرا بہت سے الفاظ اور انکے مفاہیم سے قطعاً نا واقف ہین لیکن وہ انکو استعمال ضرور کرتے ہیں اور اس میں بھی ہندی کے الفاظ کی ملاوٹ کے ساتھ۔ ایسی زبان کو نہ ہندی کہا جا سکتا ہے اور نہ اردو۔ اسکے لئے ہندوستانی ہی کی اصطلاح مناسب ہے۔

حالانکہ اگر پاکستان والے میرا جی کو اپنا شاعر مانتے ہین تو پھر میرا جی کی شاعری کا وافر حصہ ہندوستانی ہی میں ہے۔

خیر بہر حال، اسی سلسلے میں ہم نے بیکل اُتساہی پر ایک مختصر تعارف اور ان کا کچھ کلام یہں پوسٹ کر دیا ہے۔

شکریہ۔ مخلص۔ سید محسن نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



On Tuesday, June 16, 2015 10:11 AM, "Tanwir Phool tan...@gmail.com [guzergah-e-khayal]" <guzergah...@yahoogroups.com> wrote:


 
اِس خوب صورت پیشکش کا بہت بہت شکریہ
محترم محسن نقوی صاحب ۔ سلام قبول کیجئے اور
دعا میں یاد رکھئے ، والسلام
     تنویرپھول

2015-06-15 12:59 GMT-04:00 syed-mohsin naquvi mna...@yahoo.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 
Mohammad Shafi Khan 'Bekal Utsahi' (1930-) is a well known poet in India today. Although he began as an Urdu poet, his popularity is based on being a poet of diverse dialects of North India. Most of his poetry (his KULLIYAT runs into 1100 pages) in many other dialects, such as Bhojpuri and modern simple Hindi.  He has used words from Braj Bhasha and Awadhi in his diction extensively.
Born in Balrampur town U.P., he started off his career as a poet in the mid-1940s as 'Bekal Warsi' taking his pen-name from a comment about him at a visit to Dewa Sharif, the dargah of Haji Waaris Ali Shah (founder of the Warsi order of Sufis) in Barabanki. But this did not remain for long. In 1952, he was reciting his geet "Bharat ka Kisan" at an election rally addressed by prime minister Jawaharlal Nehru who was so impressed - as the story goes - and quipped: “This was "one of our 'Utsahi' (enthusiastic) shayars". And hence, he took the name 'Bekal Utsahi'. The Hindi word UTSAAH (short ‘u’ and long ‘aa’ sounds) means ‘courage’ and “ambition”.
The name set the tone for his poetry, which reflects the Ganga-Jamuni" tradition of his birthplace (a part of the Avadh region) and is the best example extant of Hindustani, featuring copious use of Hindi words, and at times, Avadhi dialect, with chaste Urdu. And 'Bekal', though at his best with rural themes, is not confined by them and can also deal with complex issues of the human condition and society in a deceptively-simple manner, with some very distinctive imagery.
Those who have lived and grown up in the villages of U.P., know very well when a dry season has taken long and rain does not come, how the crowds gather in the open wishing for rain, some wishfully, others singing and some others praying. Here is a simple poem describing that condition. The poem was published in Devanagari script. I have transliterated it in Nast’aleeq for our readers.
ساون بھادوں سادھو ہو گئے بادل سب سنّیاسی
پچھوا چوس گئی پُروا کو دھرتی رہ گئی پیاسی
فصلوں نے بیراگ لے لیا جوگی ہوگئی دھانی
رام جانے کب برسے گا پانی
 
تال تلیّا ماٹی چاٹے ندیاں ریت چبائیں
کوئیں میں مکڑی جالا تانے نہریں چیل اُڑائیں
اُبٹن سے گگری روٹھی ہے پنگھٹ سے بہو رانی
رام جانے کب برسے گا پانی
 
چھپّر پر دوپہریا بیٹھی دھوپ ٹنگی انگنائی
دُوَار کا برگد ٹھونٹھ ہو گیا اُجڑ گئی امرائی
چوپالوں سے کھلیانوں تک سورج کی من مانی
رام جانے کب برسے گا پانی
 
پگھل گیا چہروں کا سونا اُتر گئی مہتابی
گوری باہیں ہوئیں سانوری بجھ گئے نین گلابی
سپنے جُھلس گئے رادھا کے شیام ہوئے سیلانی
رام جانے کب برسے گا پانی
 
بازاروں میں مہنگائی کی بکھر گئیں تصویریں
ہمدردوں کے پانو پڑ گئیں وعدوں کی زنجیریں
سَنسَد کی کُرسی میں دَھنس گئی کھیتی اور کسانی
رام جانے کب برسے گا پانی
 
 نوٹ:   ساون اور بھادوں ، یو پی کی پوربی زبان میں وہ دو مہینے ہیں جن کے دوران بارش ہوتی ہے اوریہ زمانہ نصف جون سے شروع ہوتا  ہے نصف اگست تک چلتا ہے۔ اس زمانہ میں دو قسم کی ہوائیں چلتی ہیں۔ ایک تو مشرق (پورب) سے چلتی ہے جس کو پُروا، پُروائی یا پُرویّا کہا جاتا ہے۔ دوسری مغرب (پچّھم) سے چلتی ہے اور اُس کو پچھوا کہتے ہیں۔ دھانی ہرے رنگ کو کہتے ہین اور جوگی کا لباس گیروے رنگ کا ہوتا ہے۔ ہری کھیتی سوکھ کر خُشک گیروی ہوجاتی ہے۔
سندس ہندی میں پارلیامنٹ کو کہتے ہیں۔مطلب یہاں یہ ہے کہ سیاست کے داؤ پیچ میں اُلجھ کر وہ اصطلاحات جو غریب کسانوں اور مزدوروں کی آسانی کے لئے پیش کی جاتی ہین وہ سب ضائع ہوجاتی ہیں
You may go to the following link to read the original:
 
Here is also an Urdu ghazal by Bekal Utsahi in his own voice at a Mushaera that was held in Nainital, a hill station city in Uttrakhand (a new province in Norh India which used to be a part of U.P.)
 
 
 
نہ سفیر ِسلطنت ہوں نہ اسیر ِِحکم شاہی
میرا غم غمِ وطن ہے میں قلم کا ہوں سپاہی
 
یہ معاملہ ہے دل کا کبھی فیصلہ تو ہوگا
ترے ساتھ ہے عدالت مرے ساتھ ہے گواہی
 
نہ فریبِ راہ بر سے نہ سُلوکِ راہزن سے
جہاں مطمئن ہوا ہے وہیں لُٹ گیا ہے راہی
 
یہ چراغ اور دامن  وہ  جمال اورچِلمن
یہ شعور ِمعصیت ہے  وہ  غرورِ    بے گناہی
 







--
(Dr.) Mohammad Firoz Alam 
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com





__._,_.___

Posted by: Faisal Hanif <fha...@hotmail.com>
Reply via web post Reply to sender Reply to group Start a New Topic Messages in this topic (10)

.

__,_._,___


Maqsood Sheikh

unread,
Jun 19, 2015, 7:21:34 PM6/19/15
to BAZMe...@googlegroups.com

زیر نظر بحث میں پڑے بغیر میں آپ کی توجہ پروفیسر محمود شیرانی (والد اختر شیرانی) کی تصنیف پنجاب میں اردو کی طرف منبذول کراؤں گا جس میں انہوں نے بعد تحقیق لکھا ہے کہ پینجابی اردو کی ماں ہے!!۔

ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ ۔ بریڈفورڈ (یو۔کے)

Khadim Ali Hashmi

unread,
Jun 19, 2015, 9:24:34 PM6/19/15
to BAZMe...@googlegroups.com
بزمِ قلم میں اردو کے حوالے سے دلچسپ بحث ہو رہی ہے۔ بعض دانشوروں نے تو اردو کا مرثیہ تک کہہ دیا ہے۔ہندوستان کے بارے میں تو راقم الحروف کچھ کہنے کے قابل نہیں ہے، البتہ پاکستان میں اردو کا مستقبل تابناک ہے۔ اور اس سلسلے میں دو آراء نہیں ہیں۔ ١٩٢٨ء کے لگ بھگ یو پی اور پنجاب کے اہلِ قلم میں قلمی جنگ چھڑ گءی تھی۔ اس میں ہر دو اطراف سے جغادری لکھاڑی پیش پیش تھے۔ پنجاب سے نیازمندانِ لاہور کے قلمی نام سے حملہ یا جوابی حملہ ہوتا تھا۔مدیر نقوش، جناب محمد طفیل کے مطابق اس سلسلے میں عبدالمجید سالک، ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر، امتیاز علی تاج، کی مشاورت سے پطرس بخاری لکھتے تھے؛ بعض مضامین تاثیر نے "یکے از نیازمندانِ لاہور" یا "ادب آموز" کے نام سے سپردِ قلم کیے۔یہاں اس سلسلے کے ایک مضمون سے اقتباس پیشِ خدمت ہے:
"اردو کے تین مرکز ہیں۔ یو پی، حیدرآباد دکن اور لاہور، لیکن اہلِ بینش بھی یہ بات گاہے گاہے بھول جاتے ہیں کہ یو پی میں یہ زبان خود رو ہے،حیدرآباد میں یہ زبان ایک والیٔ ملک کے سایۂ عاطفت میں پل رہی ہے اور صرف پنجاب ہی ایک ایسا علاقہ ہے، جہاں اس کی نشوونما محض خونِ عشاق کی رہینِ منّت ہے۔ جس جگہ یہ زبان خودرو ہے، وہاں خود بین بھی ہے، جہاں اتالیقِ شاہی سے تعلیم پا رہی ہے وہاں عوام سے کچھ کھچ کے رہتی ہے۔ لیکن پنجاب میں اس زبان کی حالت ایک ہونہار تنومند نوجوان کی ہے جس کا خون گرم ہے اور جس کے اعضاء میں لچک ہے جو چھلانگیں مارتاجاتاہے اور اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اس کا ہرقدم پگڈنڈی پر پڑتا ہے یا نہیں۔ اسے سمت کا اتنا ہی شعور ہے جتنا کسی اور قدرتی نمو کو ہوتا ہے"۔
اس کے بعد دیکھیے:
"یوپی کے چشمے خشک ہو چکے پیاس بجھانے کے لیے اب وہاں جانا بے سود ہے۔اب پنجاب کی رہبری بجز اس کی اپنی قوتِ نامیہ کے کوءی چیز نہیں کرسکتی، یوپی میں اردو ادب ایک سسکتا ہوا سانپ ہے، جو کبھی کبھی ایک نحیف سی پھنکار مارتا ہے اور بس، اب یوپی صرف اعتراض کرسکتا ہے، رہنماءی نہیں کرسکتا اور نہیں جانتا کہ اس کا چڑچڑا پن اس کامربیانہ انداز ، اس کی طفلانہ تنقید یہ سب انحطاط کی نشانیاں ہیں"۔
    اس اقتباس کو پیش کرنے کا مقصدکسی کی دلآزاری کرنا نہیں بلکہ آٹھ دہاءیاں قبل کے "پنجابی" سوچ کو پیش کرنا ہے۔ حافظ محمود شیرانی کی کتاب "پنجاب میں اردو" کا حوالہ دیا جا چکا ہے۔ کوءی دو دہاءیاں قبل جناب گوپی چند نارنگ ملتان آءے تو اہل ملتان کو یہ مژدہ سنا گءے کہ اردو کی اصل جنم بھومی تو ملتان اور ملتانی (سراءیکی) زبان ہے!
یوپی کے اندازتنقید کی ایک مثال دوں گا، شوکت تھانوی مرحوم نے اپنی کتاب شیش محل میں بہت عمدہ خاکے لکھ کر پیش کیے ہیں۔ ان میں علامہ اقبال کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ اُن کا تلفظ درست نہیں ہے، وہ "حقہ" کو "ہکا" بولتے ہیں۔ اسی نوعیت کے اعتراضات کا حوالہ نیازمندانِ لاہور کے مندرجہ بالا اقتباس میں دیا گیا ہے۔
    ماضی کو چھوڑ کر حال کی جانب آءیں تو ہمیں خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ اب ہندوستان میں بھی اردو کا عَلَم اب عشاق نے بلند کر رکھا ہے۔اور جو صورتِ حال ایک صدی قبل لاہور (پنجاب) کی تھی وہ اب ہندوستان کی ہے۔ہمیں اردو کے مستقبل کے بارے میں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ پُر امید ہونا چاہیے۔ میں اردو کے لیے ہند و پاکستان میں ایک نءے دور کے آغاز کو دیکھ رہا ہوں۔
پاکستان میں اردو کو دفتری زبان بنانے میں یہاں کی بیوروکریسی حایل ہے۔مگر صرف دفتری زبان نہیں بلکہ خونِ عشاق اس کی مشاطگی کر رہا ہے، جو رنگ لاءے گا۔ دفتری زبان کا ایک پیچیدہ مسءلہ ہے جو ایک طویل بحث کا متقاضی ہے۔
اس طویل سمع خراشی کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
خادم علی ہاشمی   

Tanwir Phool

unread,
Jun 23, 2015, 3:19:23 PM6/23/15
to Aijaz Shaheen

From: Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
Date: 2015-06-23 0:06 GMT-04:00
Subject: Re: Urdu in Pakistan - RE: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI
To: "guzergah...@yahoogroups.com" <guzergah...@yahoogroups.com>


محترم فیصل حنیف خیال صاحب
آپ "گزرگاہِ خیال" کے ذریعے غالب فہمی کے سلسلے میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں اُن کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی ۔ بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے "محرم" بنا لیا ، پہلے شاید "نامحرم" تھا ، خیر یہ تو مذاق کی بات ہے۔
عرض یہ ہے کہ مجھے اور ہر محبّ وطن پاکستانی کو تعصب سے سخت نفرت ہے ، خواہ وہ فرقہ بندی کا تعصب ہو یا
نسلی اور علاقائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ "جو تعصب پر مرا وہ ہم میں سے نہیں"۔
معذرت کے ساتھ آپ نے ہی پنجاب اور یوپی کا قصہ چھیڑا ۔ یہ پُرانی باتیں ہیں جب دونوں ہی غیرمنقسم ہندوستان کا حصہ
تھے ، پاکستان سے اِن کا کیا تعلق؟ اِس طرح تو دبستانِ لکھنئو اور دبستانِ دہلی میں بھی محاذ آرائی ہوتی تھی اور انیس و دبیر کے ماننے والے "انیسئے" اور "دبیریئے" کہلاتے تھے مگر اب یہ سب ماضی کا حصہ ہیں ۔ پاکستانیوں کو ایک امت،
ایک قوم بن کر رہنا چاہئے اور ہر قسم کے تعصب کو ذہن سے نکال دینا چاہئے ورنہ علامہ اقبال کے اشعار میں معمولی
تصرف کے ساتھ :  وطن کی فکر کر ناداں ، مصیبت آنے والی ہے ۔ تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں :
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے،ہونے والا ہے ۔ دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں :
نہ سمجھو گے تو مٹ جائوگے پاکستانیو سُن لو ۔ تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں:
اُردو پورے پاکستان کی قومی زبان ہے لیکن اِس بات کو "ڈیبیٹ ایبل ایشو" قرار دینا کہاں کا انصاف ہے ، جس کا حوالہ
دے چکا ہوں ۔ لہجوں میں اختلاف فطری ہے اور ایسا ہرزبان میں ہوتا ہے لیکن اس کو بہانہ بنا کر قومی زبان سے دامن
چھڑانا افسوس ناک ہے ۔ روزنامہ "جنگ" راولپنڈی مورخہ 6 جون 2013
میں یہ خبر شائع ہوئی کہ " ایوانِ صدر نے نومنتخب وزیراعظم کی جانب سے حلف اُردو میں لینے کی درخواست یہ عذر
پیش کرکے مسترد کردی کہ صدر زرداری قومی زبان اچھی طرح نہیں بول سکتے اور حلف اُردو میں نہیں لیا جا سکتا"۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ متعدد بار الیکٹرانک میڈیا پر موصوف کو اُردو ، سندھی اور انگریزی زبانوں میں گفتگو یا تقریر
کرتے دیکھا اور سُنا گیا ہے پھر یہ عذر چہ معنی دارد؟
آپ نے اپنے سابقہ مراسلے میں جوش ملیح آبادی اور رئیس امروہوی کے طرزِ عمل پر اعتراض فرمایا ہے ۔ میری دونوں
سے ملاقات ہوئی ہے اور رئیس مرحوم سے تو کئی مرتبہ ۔ جوش کی بات چھوڑیں لیکن رئیس امروہوی کو میں نے بہت
معقول انسان پایا اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اپنے بھائیوں میں اخلاقی طور پر وہ سب میں نمایاں تھے ۔ سن 65
کی جنگ کے دوران اُن کا نغمہ " خطہ ء لاہور تیرے جاں نثاروں کوسلام" بہت پسند کیا گیا تھا اور مقبول ہُوا تھا لیکن
سقوط مشرقی پاکستان سے پہلے جب بھارتی طیارے نہایت نیچی پرواز کر کے کراچی میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور یہاں کی آبادی پر زبردست بم باری کر رہے تھے اُس وقت نہ جانے کیوں ہماری طرف سے فوجی مزاحمت نہ ہونے کے برابر تھی ، شاید فوج مشرقی پاکستان میں مصروف تھی ۔ یہاں کے باشندوں کا جذبہ دیدنی تھا ، لوگوں نے نیچی پرواز کرنے والے بھارتی طیاروں پر پتھر برسانے شروع کر دیئے اور نقصان اُٹھانے کے باوجود بے خوفی کا مظاہرہ کیا
جس پر رئیس امروہوی نے "اے کراچی مرحبا ، ہاں اے کراچی مرحبا " کا نغمہ کہا جو ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا اور
اخبار"جنگ" میں بھی شائع ہُوا لیکن رئیس صاحب نے افسوس ناک لہجے میں بتایا کہ یہ اعتراض ہورہا ہے کہ" کراچی والوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا ہے؟لاہور کی بات اور تھی، کراچی نے کیا کیا؟" ۔ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ رئیس
صاحب کے دل میں کسی قسم کا تعصب نہیں تھا ، وہ بہت مُشفق اور معقول انسان تھے ۔
سن ۱۹۷۲ میں ممتاز بھٹو کے زمانے میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پاس ہُوا اور کہا گیا کہ صوبہ سندھ کی سرکاری
زبان سندھی ہوگی اور یہاں کے تمام سرکاری ملازمین تین ماہ میں سندھی زبان پر عبور حاصل کرلیں ورنہ اُن کو ملازمت
سے نکال دیا جائے گا ۔ ظاہر ہے یہ بات بے چینی کا سبب بنی ، مظاہرے ہوئے ، پولیس نے گولی چلائی اور لوگ جان سے گئے ۔ لیاقت آباد نمبر ۱۰ کے چوک پر مسجدِ شہدا {ایک مسجدِ شہدا لاہور میں بھی ہے} اور مارے جانے والوں کی قبریں اب بھی موجود ہیں ۔ اسکولوں میں سندھی کو لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھانے کا فیصلہ ہُوا جس پر کسی کو
کوئی اعتراض نہیں تھا اور آج بھی پڑھائی جارہی ہے لیکن اچانک سندھی زبان پر عبور حاصل کرنے کا مطالبہ ناقابل فہم
تھا ۔ خون خرابہ شروع ہوگیا اور چار دن کسی وقفے کے بغیر مسلسل کرفیو لگا رہا ۔ کراچی سے زیادہ لاڑکانہ ، سکھر، میرپور خاص،نواب شاہ اور حیدرآباد کی حالت خراب تھی اور سندھ میں اُردو کو "اقلیت کی زبان" کہا جارہاتھا:
https://prezi.com/bfbroljr1fqa/when-people-came-to-blows-over-language-the-sindh-language/
 وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسلام آباد میں تین دن تک خاموشی سے ممتاز بھٹو اور سندھ کابینہ کا کارنامہ دیکھتے رہے ۔ اِن حالات میں رئیس امروہوی نے
"اُردو کا جنازہ" والی نظم کہی جو"جنگ" اخبار میں کالے حاشیئے کے ساتھ شائع ہوئی ۔ رئیس صاحب "جنگ" کے مالک یا ایڈیٹر نہیں تھے ، وہ  ایک ہفتہ وار کالم نگار تھے اور روزانہ ایک قطعہ کہتے تھے ۔ چوتھے دن ذوالفقار علی بھٹو کو
ہوش آیا ، انھوں نے اسلام آباد میں مذاکراتی ٹیم کو بلایا جس میں رئیس صاحب بھی گئے ۔ فیصلہ یہ ہُوا کہ تین ماہ کی قلیل
مُد ت بڑھا کر دس سال کردی گئی لیکن یہ مدت گزرنے سے پہلے ہی جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ۔ "اُردو
کا جنازہ" والی بات پر ذوالفقار علی بھٹو کو بھی غصہ آیا تھا لیکن یہ ردّ عمل تھا اُن حالات کا جو یہاں نہایت عجلت میں
زبردستی مسلط کئے جارہے تھے ۔ زبانیں دلوں میں خود ہی جگہ بناتی ہیں جیسا اُردو کے معاملے میں ہُوا ، زور زبردستی
کے ساتھ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا عمل بہرحال ناجائزتھا ۔ "اُردو کا جنازہ" کہنے پر رئیس صاحب کو مطعون کر لیں لیکن ذرا دیکھیں کہ آج بھی کیا کہا جا رہا ہے ۔

---------- Forwarded message ----------
From: Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
Date: 2014-04-09 16:12 GMT-04:00
Subject: RE: [بزم قلم:34657] اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
To: BAZMe...@googlegroups.com


محترم آصف جیلانی صاحب  کا کالم  یونیکوڈ میں پیش خدمت ہے۔  

گردوپیش  -    آصف جیلانی                         اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

خواجہ آصف ملک کے ممتاز رہنما ہیں ۔. ان کا تعلق اس مردم خیز شہر سیالکوٹ سے ہے جہاں سے علامہ اقبال ابھرے جنہوں نے اردو شاعری کو ایسا  نایاب خزینہ بخشا جس کی درخشندگی کبھی ماند نہیں پڑے گی اور سیالکوٹ کی اسی زمین سے فیض صاحب نے اردو کی  بے مثل آبیاری کی

۔.پچھلے دنوں میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ایک ٹیلی وژن چینل پر خواجہ آصف کا انٹرویو دیکھ رہا تھا.طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں خواجہ صاحب کہہ رہے تھے ’’ حکومت کے ایک فنکشنری ہوتے ہؤے مجھے جو انفارمیشن ہے اس کے بیسس پر مذاکرات کی پراگریس کو کوانٹی فأےی نہیں کر سکتا. ‘‘ میرے دوست نے اپنا سر پکڑ لیا . خواجہ آصف کہہ رہے تھے’’ میں پھر رپیٹ کروں گا کہ یہ نیگوسیشن اوپن ہینڈڈ نہیں ہونے چاہیں.ابھی تک جو بھی موو(Move) کیا جارہا ہے وہ کنسنسس ()Consensusکے ذریعہ کیا جارہا ہے اینڈ رزلٹ یہ ہے کہ ابھی تک جو آپریشن نہیں کیا گیا اس پر کنسنسس ہے اور فوج مکمل طور پر آن بورڈ ہے. ہم چاہیں گے کہ جلد پیس ریٹرن ہو‘‘ میرے دوست سر پکڑے روہانسی آواز  میں بولے’’پاکستان میں اردو کا  یہ کیا حشر ہورہا ہے؟. خواجہ صاحب کا یہ انٹرویو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اردو  نہیں بلکہ کؤی اور نٔئ  اجنبی زبان ہے . اس میں انگریزی کے الٹے سیدھے  جو پیوند لگأے جارہے ہیں اس سے جان پڑتا ہے کہ اردو سے  اس کے ناکردہ گنا ہوں کاانتقام لیا جارہا ہے میرے دوست نے کہا کہ ٹیلی وژن چینلز پر جو سیاسی مباحثے ہوتے ہیں ان میں سیاست دان  انگریزی اصطلاحات کو طوطے کی طرح دہراتے ہیں. مثلا یہ انسٹیٹیوشنز ایک پیج پر نہیں ہیں. سب اسٹیک ہولڈرس کو آن بورڈ ہونا چاہے.یہ ماینڈ سیٹ کی بات ہے کنسنسس اور ری کنسلیسشن کی پالیسی ایڈاپٹ کرنی چاہییوہ کہہ رہے تھے کہ.کیا انگریزی کی ان اصطلاحات کے لٔے ہماری اردو زبان  میں کؤی نعم البدل نہیں کیا ہماری اردو اتنی تہی دامن ہے .کیا ایک پیج کے مفہوم کے لٔے ہم نے یک زبان’ ہم خیال اور ہم رأے کی خوبصورت اصطلاحات  قربان کر دی ہیں اور ماینڈ سیٹ کے لیے سوچ’ انداز فکر یا طرز فکر کی اصطلاحات کو تج کردیا ہے .

میں نے کہا کہ یہ تو ہمارے سیاست دان ہیں جو انگریزی میں اپنی بقراطیت  ثابت کرنے کے لیے یوں اردو کو مسخ کر رہے ہیں لیکن ہمارے اخبارات اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں.یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ   اردو ادب کا صحافت کے ساتھ کتنا قدیم اورکس قدرگہرا رشتہ رہا ہے وہی اردو صحافت اردو زبان کو مسخ کرنے میں پیش پیش ہے  بلاشبہہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔  اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ اردو صحافت نے اپنے اوائل ہی سے اردو ادب اور اردو ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب صحافت ہی کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوااور پروان چڑھا۔

           اردو شاعری کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے جو فروغ ہوا اور عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی اس میں شاہی درباروں۔‘  نوابوں کے ڈیروں اور مشاعروں کی پرانی روایت کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اردو نثر کی ترقی خالصتاً صحافت کی مرہون منت رہی ہے۔

           مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد ‘ سرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق ‘ مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال او ر البلاغ‘ بنارس کے اردو اخبار آوازہ اخلاق ‘ کانپور کے زمانہ ‘ حسرت موہانی کے رسالہ اردوئے معلی اور امتیاز علی تاج کے کہکشاں اور مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے اردو شاعری کے فروغ کے ساتھ نثر کی ترقی اور ترویج میں جو اہم حصہ ادا کیا ہے وہ اردو ادب کی تاریخ کے لئے قابل فخر ہے۔ سرسید نے تہذیب الاخلاق کے ذریعہ اردو کے ادیبوں کی ایک کہکشاں سجائی تھی جس میں مولانا حالی‘ مولانا شبلی‘ ڈپٹی نذیر احمد‘ ذکا اللہ خان ‘ محسن الملک اور چراخ علی نمایاں رہی،   یہ اردو صحافت کی خوش قسمتی ہے کہ اردو ادب کے ممتاز دانشوروں اور شاعروں نے اردو صحافت کی عملی رہنمائی کی ہے جن میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابوالکلام آزاد ‘ مولانا ظفر علی خان ‘  حیات اللہ انصاری ‘ غلام رسول مہر اور مولانا جالب نمایاں ہیں اور آزادی کے بعد فیض احمد فیض ‘ احمد ندیم قاسمی اور چراخ حسن حسرت اردو اخبارات کے مدیر رہے لیکن اسے بدقسمتی کہہ لیں یا بدلتے ہوئے حالات کے تقاضے کہ جب سے اردو صحافت نے تجارت کا لبادہ اوڑھا ہے ایڈیٹری خاندانی میراث بنتی جارہی ہے۔ اب یہ عہدہ محض اخبارات کے مالکوں کے بیٹوں اور بھتیجوں کے لئے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے اور حقیقی ایڈیٹر مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔

   ایک زمانہ تک پاکستان میں صحافت کو زبان بندی کے مسئلہ کا سامنا  رہا تھا لیکن اب اردو اخبارات کو زبان کی ابتری کے سنگین مسئلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنس اور دوسرے علوم کی فنی اصطلاحات کے اردو میں مناسب ترجموں کی کوشش کو فوقیت دی جاتی تھی لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ یکسر مفقود ہوگیا ہے۔ انگریزی الفاظ کا ایک سیل بے کراں ہے کہ وہ اردوزبان میں اور اس کے راستہ اخبارات میں درآیا ہے۔  سائنس اور ٹیکنولوجی کی نئی اصطلاحات یعنی کمپیوٹر ‘ سافٹ ویر‘ ڈسک‘ ماؤس ‘ مانیٹر‘ کی بورڈ‘ کنکشن‘ ہارڈ  ڈرائیو‘ براڈ بینڈ‘ انٹینا‘ ٹرانسسٹر اور ایسے ہی بے شمار الفاظ اور اصطلاحات ہیں جن کے ترجمے کے کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یہی مستعمل ہوگئے ہیں لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ اردو اخبارات ‘  اردو کے اچھے اور مقبول الفاظ ترک کر کے ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ ٹھونسے جا رہے ہیں۔ مثلاً رو برو  یا تخلیہ میں ملاقات کے لئے انگریزی کی اصطلاح ‘ ون ٹو ون استعمال کی جارہی ہے حالانکہ انگریزی کی صحیح اصطلاح ون آن ون ہے۔ اسی طرح تعطل  اردو کا اتنا اچھا  لفظ ہے  اس کی جگہ سینہ تان کر  ڈیڈ لاک  استعمال کیا جارہا ہے ۔ انتخاب کی جگہ الیکشن ‘ عام انتخابات کی جگہ جنرل الیکشن ‘ جوہری طاقت کی جگہ ایٹامک انرجی‘ کاوائی کی جگہ آپریشن‘ حزب مخالف کی جگہ اپوزیشن‘بدعنوانی کی جگہ کرپشن‘ استاد کی جگہ ٹیچر ‘ مجلس قایمہ کی جگہ اسڈینڈنگ کمیٹی‘  جلسہ کو میٹنگ اور پارلیمان کے اجلاس کو سیشن لکھاجاتا ہے۔  چرس جو خاص طور پر اپنے ہاں کی سوغات ہے اسے اردو اخبارات کینیبیز لکھتے ہیں۔ محصول کو ڈیوٹی کہتے ہیں قرطاس ابیض اتنا اچھا لفظ ہے اب اخبارات اس کی جگہ وایٹ پیپر لکھتے ہیں  اور ہوائ اڈہ کو ایرپورٹ ۔  ایک عرصہ ہوا  قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے کچھ اراکین گرفتار کر لئے گئے ان کو ایوان میں طلبی کے حکم کے لئے بے دھڑک  پروڈکشن آرڈر لکھا جاتا رہا اور تو اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے بغاوت کرکے اقتدار میں شمولیت کے لئے اپنا الگ دھڑا بنایا اور نام انہوں نے اسے پیٹریاٹ گروپ کا دیا ۔ اب ان سے کون پوچھے کہ پیٹریاٹ کے لئے محب وطن یا وفادار کے اتنے خوبصورت لفظ کو انہوں نے کیوں ترک کیا۔ کیا انگریزی کا لفظ استعمال کر کے وہ اپنے آپ کو اعلی و ارفع ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا جتن  عوام کو بے وقوف بنانے کے ہیں۔

           پچھلے دنوں ایک اخبار میں  جلی سرخی دیکھ کر بے ساختہ ہنسی آگئی۔ سرخی تھی۔۔فری ہینڈ ملنے کے باوجود  حکومت نے کوئی لیجسلیشن نہیں کی۔  ایک اخبار میں سرخی تھی۔۔۔یورپی یونین کی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی  دی ہے۔ اس خبر میں لکھا تھا کہ پی وی سی کی ڈمپنگ کی انویسٹی گیشن کے لئے انکوایری ٹیم بھیجی جائے  اگر ہماری بیڈ لینن پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگائی گئی تو ہماری ایکسپورٹ  متاثر ہوگی۔ ہماری چھپن ہزار بیڈ لینن کی ایکسپورٹ یورپ کی مارکٹ میں جاتی ہیں جو کہ اٹھائیس فی صد  شئیر ہے۔   اب آپ ہی فیصلہ کیجئے  کہ کیا یہ اردو ہے؟ ۔ انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن ایسا لگتا ہے کہ خود اپنے آپ اپنے اوپر مغربی ذہنی غلامی طاری کر لی۔ اس زمانہ میں جب ملک انگریزوں کا غلام تھا اردو زبان کی ایسی غلامانہ درگت نہیں بنی تھی۔.

           اردو پر انگریزی مسلط کرنے کی کوشش کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انگریزی بین الاقوامی رابطہ اور سائنس تجارت صنعت اور ٹیکنولوجی کی زبان ہے اور اردو سے چمٹے رہنے  کا مطلب  ان شعبوں میں پسماندگی کی راہ اختیار کرنا ہے۔ لیکن اس دلیل کے حامی اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چین ‘ روس ‘ جرمنی اور فرانس ایسے ترقی یافتہ ملکوں نے بھی آخر ترقی کی ہے اپنی زبانوں میں اپنے بچوں کو تعلیم  دے کر اور اپنی زبان کو زندہ رکھ کر۔

      سن ستر کے اوایل میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے سندہ کے اسکولوںمیں سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر بحال کیا  تھا تو رئیس امروہوی نے لکھا تھا’’ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘  ان کا یہ مصرعہ روزنامہ جنگ نے شہہ سرخی کی صورت میں شایع کیا تھااور ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا . اس وقت تو اردو کا جنازہ نہیں نکلا  تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اردو کا جنازہ  نکلنے کے لیے تیار ہوگیا ہےMuniri Kufi Symbol by raza  34 Email

عبد المتین منیری

Director " BHATKALLYS"

Bhatkal , Karnataka

Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals

www.akhbaroafkar.com 

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

 

 ---------- Forwarded message ----------
From: Ahmad Safi <ahma...@gmail.com>
Date: 2014-04-10 4:22 GMT-04:00
Subject: Re: [بزم قلم:34688] اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
To: 5BAZMeQALAM <BAZMe...@googlegroups.com>


عظمت شریف صاحب کا مراسلہ ان کی خواہش کے مطابق، اردو رسم الخط میں دوبارہ تحریر کر رہا ہوں۔۔۔ کسی بھی سہو کا ذمہ دار مجھے ہی سمجھئے۔۔۔ احمد صفی

----------------

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

اردو کے سارے بہی خواہ تن من دھن کی بازی لگائیں اور اردو کو کسی طرح روزگار کے ذرائع سے مربوط کریں۔ اس کے لئے غزلیں لکھنا نہیں، بلکہ سائنسی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کرنا اور اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانا ہے۔

اس وقت پاکستان میں انگلش ذریعہؑ تعلیم نافذ ہے، مطلب یہ کہ اردو کا جنازہ کبھی کا نکل گیا، اس کو اب دفن کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں تو اردو رسم الخط ہی نہ رہا۔

پاکستان میں اردو کو حکومت نے ختم کیا۔

اب اردو کو دوبارہ زندگی دینا ہے تو بابائے اردو مولوی عبدالحق جیسے لوگوں کو آگے کرنا ہو گا، اور یہ کام زیادہ مشکل نہیں، صرف قوم میں شعور چاہیئے!!!!

کاش آپ حضرات اس بات کو اگلے قدم تک لے جاتے۔ اردو ذریعہؑ تعلیم، ہر درجہ پر، یہاں تک کہ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ہونا چاہیئے۔ جیسا کہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے کیا تھا۔ وہ دن اردو کے سنہرے دن تھے۔ وہ دن پھر آ سکتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

(عظمت شریف)

۔Azmat Sharif

 abr...@yahoo.com

 اب آتے ہیں بقول آپ کے "تُک بندی" یا شاعری کی طرف۔ "قاضی جی  کیوں دُبلے؟شہر کے اندیشے سے"۔ بھائی ، اِس کا فیصلہ تو وقت کرے گا ۔ بقول محشر بدایونی : جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ

جائے گا: ۔ آپ کیوں غم میں گھل رہے ہیں؟ ۔ اپنے زمانے میں تو مرزا غالب کو بھی ناقدری کی شکایت تھی : نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا ۔ گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی:  ایک ستم ظریف نے غالب سے کہا کہ تمھارا یہ شعر مجھے بہت پسند ہے ، غالب نے پوچھا "کون سا؟" ۔  جواب دیا :

پہلے تو روغنِ گل بھینس کے انڈے سے نکال ۔ پھر دوا جتنی ہو کُل بھینس کے انڈے سے نکال: ۔ غالب

نے غصے سے کہا "یہ میں نے کب کہا؟" ۔ جواب ملا "مرزا، تم بھی ایسے ہی اشعار کہتے ہو" ۔ وہ خون

کے گھونٹ پی کر رہ گئے ۔ غالب نے پیشگوئی کی "شہرتِ شعرم بہ گیتی بعدِ من خواہد شُدن" اور یہی ہُوا کہ آج غالب ہی غالب ہیں اور وہ طنز کرنے والا گمنامی کے  اندھیروں میں ہے ۔ مسلسل غالب فہمی

کی کوششیں ہورہی ہیں جن میں "گزرگاہِ خیال" بھی شریک ہے ۔  شکریہ

                      مخلص :   تنویر  پھول 

 







2015-06-20 19:41 GMT-04:00 Faisal Hanif fha...@hotmail.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 

محرم تنویر پھول صاحب،

آپ کو شاید 'پرفیکٹ ورلڈ' کی تلاش ہے- آپ پاکستان میں اردو کے فروغ کو اپنی سند تب عطا فرمائیں گے جب ہر پاکستانی آپ کو مرزا غالب کی سی اردو بولتا دکھائی دے گا- جب  اقوام متحدہ کے اجلاس  میں مشاعرے ہونگے- جب نواز شریف وہاں 'کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو' کہہ کر مرزا رجب علی بیگ کی زبان میں ردیف اور قوافی میں اپنا تعارف کروائے گا- یا جب سرتاج عزیز، بان كي مون کو شاہ نصیر کی مکھی ردیف والی غزل سنا کر داد پانے کے بعد انشاء کی زبان میں ان باتوں کی رنگینیوں کا ذکر کرے گا بہم مل بیٹھتے ہیں جب بان كي مون اور ہم-

  اردو پاکستان کی قومی زبان ہے، اور بڑی حد تک سرکاری بھی- اگر سربراہانِ قوم ملک سے باہر جا کر اردو نہیں بولتے تو کوئی قیامت نہیں آ جاتی- ملک میں اور اپنے گھروں میں وہ اردو ہی بولتے ہونگے- اہم بات یہ ہے کہ یہ چند لوگ اردو کے حوالے سے ان کروڑوں لوگوں پر بھاری نہیں جن  کا اوڑھنا بچھونا اردو ہے- انگریزی سے آج کے دور میں لا تعلق نہیں رہا جا سکتا، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اکثریت انگریزی سے نا بلد ہے، اور اردو ہی بول چال کی زبان ہے- ایک مخصوص طبقہ جو انگریزی کو ترجیح دیتا ہے، تعداد کے اعتبار سے قابل ذکر بھی نہیں اور نہ ہی یہ طبقہ  کروڑوں اردو بولنے والوں کا ترجمان ہے-

 ستر کی دہائی میں بھی جھگڑا کراچی میں مہاجر اور سندھی کا تھا- اردو اور سندھی کا نہیں تھا- کوئی اسے جو بھی رنگ دے حقیقت یہی ہے-  آپ ستر کی دہائی سے ٢٠١٥ میں آ جائیے- اردو تب بھی پنپ رہی تھی اور آج بھی- وہ نسل پرستی کا جھگڑا آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، لیکن اس سے اردو کوکوئی خطرہ  نہیں-

جانتے ہیں اردو کو اصل خطرہ کس سے ہے؟ ہمارے تک بندوں سے جو خود کو شاعر کہلوائے جانے پر مصر ہیں- یہ اردو زبان سے تو نہیں لیکن اردو شاعری سے لوگوں کو متنفر کرنے میں ماہر ہیں- لوگوں کی اردو شاعری سے دوری انھی کے دست ہنر کی محتاج ہے- مصرعے تولنے سے شاعری نہیں ہوتی- اردو کے حوالے سے پاکستان پر اعتراض کرنے کے بجائے خدارا شعر کہنا سیکھیے، یا پھر شاعری کو چھوڑ دیجیے، اور اردو والوں کو بخش دیجیے- اپنی اور اپنے ارد گرد موجود 'شعراء کرام' کا کلام دیکھیے، سخنور نہ سہی سخن فہم تو ہونگے، انصاف سے بتلائیے گا کہ دہایوں  کی مشق سخن کےبعد بھی  کسی نے شعر کہا ہو- لیکن انصاف مجنوں کا سا نہ کیجیے گا- آپ نے وہ حکایت تو سنی ہوگی کہ  کسی نادان نے  مجنوں سے پوچھا، انصاف سے بتا کہ خلافت پر حق حضرت امام حسین کا ہے یا یزید لعین کا؟ مجنوں بولا ، انصاف کی بات تو یہ ہے کہ  لیلیٰ  کا ہے-

مصرع سے مصرع جوڑیے، مروت سے، لحاظ سے، کم فہمی یا کج فہمی سے توصیف کرنے والوں کی داد لیجیے، شکریہ ادا کیجیے اور ایک اور غزل دے ماریے- مال ہے خراب پر گاہک اکثر بے خبر ہیں- اردو جائے بھاڑ میں اور شاعری بھی، میری دکان تو چل رہی ہے-

  یہ عقوبت خانے اگر بند ہوجائیں تو اردوشاعری  کی جان بخشی ہو جائے-

آج اردو کی سب سے بڑی خدمت یہی ہو گی کہ اس کو ان تک بندوں سے نجات مل جائے- آپ کی ہدایت پر تحریک نفاذ اُردو کی مدد کروں گا- لیکن اس سے زیادہ ضروری سجاد حیدر یلدرم کی طرز پر اردو کی طرف سے 'مجھے میرے تک بندوں سے بچاؤ' کا نعرہ لگانا ضروری ہے-

فیصل حنیف


Date: Fri, 19 Jun 2015 20:27:45 -0400
Subject: Fwd: Urdu in Pakistan - RE: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI
.

__,_._,___


Ummat.jpg

Tanwir Phool

unread,
Jun 24, 2015, 1:55:38 AM6/24/15
to Aijaz Shaheen
بہت خوب مقصود بھائی ۔ اِس طرح بابائے ملت اور مادرِ ملت کی طرح اُردو کو بھی بابائے اُردو کے ساتھ مادرِ اُردومل گئی ۔ اُردو کی تشکیل میں دیگر زبانیں بھی شامل ہیں اِس لئے وہ اُردو کی خالائیں { "ماں سی" جس کو لوگ "ماسی" کہنے لگے ہیں} ہوئیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اولاد کے لئے مائیں بہت قربانیاں دیتی ہیں ۔ والسلام           ،    تنویرپھول،نیویارک

Tanwir Phool

unread,
Jun 24, 2015, 3:07:07 PM6/24/15
to guzergah...@yahoogroups.com, Aijaz Shaheen

درست فرمایا آپ نے نفیس ترین صاحب
پانچ سال پہلے ماہنامہ "نفاذِ اُردو" کراچی
میں شائع شدہ ایک نظم آپ کی نذر ہے۔
والسلام                  تنویر  پھول
2015-06-23 21:58 GMT-04:00 Nafis Tarin nafis...@yahoo.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 

Ab Hawayein he karengi roshni ka faisla
Jis diye mein jaan hougi woh Diya reh jayega

Urdu ko qayam Rakhna hey tou Apney Bachoun kou Angreiz mat banao.  Make state rules Urdu compulsory subject. 

Nafis Tarin 

Sent from my iPad
کے ساتھ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا عمل بہرحال ناجائزتھا ۔ "اُردو کا جنازہ" کہنے پر رئیس صاحب کو مطعون کر لیں لیکن ذرا دیکھیں کہ آج بھی کیا کہا جا رہا ہے ۔

---------- Forwarded message ----------
From: Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
Date: 2014-04-09 16:12 GMT-04:00
Subject: RE: [بزم قلم:34657] اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
To: BAZMe...@googlegroups.com


محترم آصف جیلانی صاحب  کا کالم  یونیکوڈ میں پیش خدمت ہے۔  

گردوپیش  -    آصف جیلانی                         اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

خواجہ آصف ملک کے ممتاز رہنما ہیں ۔. ان کا تعلق اس مردم خیز شہر سیالکوٹ سے ہے جہاں سے علامہ اقبال ابھرے جنہوں نے اردو شاعری کو ایسا  نایاب خزینہ بخشا جس کی درخشندگی کبھی ماند نہیں پڑے گی اور سیالکوٹ کی اسی زمین سے فیض صاحب نے اردو کی  بے مثل آبیاری کی

۔.پچھلے دنوں میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ایک ٹیلی وژن چینل پر خواجہ آصف کا انٹرویو دیکھ رہا تھا.طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں خواجہ صاحب کہہ رہے تھے ’’ حکومت کے ایک فنکشنری ہوتے ہؤے مجھے جو انفارمیشن ہے اس کے بیسس پر مذاکرات کی پراگریس کو کوانٹی فأےی نہیں کر سکتا. ‘‘ میرے دوست نے اپنا سر پکڑ لیا . خواجہ آصف کہہ رہے تھے’’ میں پھر رپیٹ کروں گا کہ یہ نیگوسیشن اوپن ہینڈڈ نہیں ہونے چاہیں.ابھی تک جو بھی موو(Move) کیا جارہا ہے وہ کنسنسس ()Consensusکے ذریعہ کیا جارہا ہے اینڈ رزلٹ یہ ہے کہ ابھی تک جو آپریشن نہیں کیا گیا اس پر کنسنسس ہے اور فوج مکمل طور پر آن بورڈ ہے. ہم چاہیں گے کہ جلد پیس ریٹرن ہو‘‘ میرے دوست سر پکڑے روہانسی آواز  میں بولے’’پاکستان میں اردو کا  یہ کیا حشر ہورہا ہے؟. خواجہ صاحب کا یہ انٹرویو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اردو  نہیں بلکہ کؤی اور نٔئ  اجنبی زبان ہے . اس میں انگریزی کے الٹے سیدھے  جو پیوند لگأے جارہے ہیں اس سے جان پڑتا ہے کہ اردو سے  اس کے ناکردہ گنا ہوں کاانتقام لیا جارہا ہے میرے دوست نے کہا کہ ٹیلی وژن چینلز پر جو سیاسی مباحثے ہوتے ہیں ان میں سیاست دان  انگریزی اصطلاحات کو طوطے کی طرح دہراتے ہیں. مثلا یہ انسٹیٹیوشنز ایک پیج پر نہیں ہیں. سب اسٹیک ہولڈرس کو آن بورڈ ہونا چاہے.یہ ماینڈ سیٹ کی بات ہے کنسنسس اور ری کنسلیسشن کی پالیسی ایڈاپٹ کرنی چاہییوہ کہہ رہے تھے کہ.کیا انگریزی کی ان اصطلاحات کے لٔے ہماری اردو زبان  میں کؤی نعم البدل نہیں کیا ہماری اردو اتنی تہی دامن ہے .کیا ایک پیج کے مفہوم کے لٔے ہم نے یک زبان’ ہم خیال اور ہم رأے کی خوبصورت اصطلاحات  قربان کر دی ہیں اور ماینڈ سیٹ کے لیے سوچ’ انداز فکر یا طرز فکر کی اصطلاحات کو تج کردیا ہے .

میں نے کہا کہ یہ تو ہمارے سیاست دان ہیں جو انگریزی میں اپنی بقراطیت  ثابت کرنے کے لیے یوں اردو کو مسخ کر رہے ہیں لیکن ہمارے اخبارات اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں.یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ   اردو ادب کا صحافت کے ساتھ کتنا قدیم اورکس قدرگہرا رشتہ رہا ہے وہی اردو صحافت اردو زبان کو مسخ کرنے میں پیش پیش ہے  بلاشبہہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔  اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ اردو صحافت نے اپنے اوائل ہی سے اردو ادب اور اردو ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب صحافت ہی کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوااور پروان چڑھا۔

           اردو شاعری کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے جو فروغ ہوا اور عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی اس میں شاہی درباروں۔‘  نوابوں کے ڈیروں اور مشاعروں کی پرانی روایت کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اردو نثر کی ترقی خالصتاً صحافت کی مرہون منت رہی ہے۔

           مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد ‘ سرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق ‘ مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال او ر البلاغ‘ بنارس کے اردو اخبار آوازہ اخلاق ‘ کانپور کے زمانہ ‘ حسرت موہانی کے رسالہ اردوئے معلی اور امتیاز علی تاج کے کہکشاں اور مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے اردو شاعری کے فروغ کے ساتھ نثر کی ترقی اور ترویج میں جو اہم حصہ ادا کیا ہے وہ اردو ادب کی تاریخ کے لئے قابل فخر ہے۔ سرسید نے تہذیب الاخلاق کے ذریعہ اردو کے ادیبوں کی ایک کہکشاں سجائی تھی جس میں مولانا حالی‘ مولانا شبلی‘ ڈپٹی نذیر احمد‘ ذکا اللہ خان ‘ محسن الملک اور چراخ علی نمایاں رہی،   یہ اردو صحافت کی خوش قسمتی ہے کہ اردو ادب کے ممتاز دانشوروں اور شاعروں نے اردو صحافت کی عملی رہنمائی کی ہے جن میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابوالکلام آزاد ‘ مولانا ظفر علی خان ‘  حیات اللہ انصاری ‘ غلام رسول مہر اور مولانا جالب نمایاں ہیں اور آزادی کے بعد فیض احمد فیض ‘ احمد ندیم قاسمی اور چراخ حسن حسرت اردو اخبارات کے مدیر رہے لیکن اسے بدقسمتی کہہ لیں یا بدلتے ہوئے حالات کے تقاضے کہ جب سے اردو صحافت نے تجارت کا لبادہ اوڑھا ہے ایڈیٹری خاندانی میراث بنتی جارہی ہے۔ اب یہ عہدہ محض اخبارات کے مالکوں کے بیٹوں اور بھتیجوں کے لئے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے اور حقیقی ایڈیٹر مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔

   ایک زمانہ تک پاکستان میں صحافت کو زبان بندی کے مسئلہ کا سامنا  رہا تھا لیکن اب اردو اخبارات کو زبان کی ابتری کے سنگین مسئلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنس اور دوسرے علوم کی فنی اصطلاحات کے اردو میں مناسب ترجموں کی کوشش کو فوقیت دی جاتی تھی لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ یکسر مفقود ہوگیا ہے۔ انگریزی الفاظ کا ایک سیل بے کراں ہے کہ وہ اردوزبان میں اور اس کے راستہ اخبارات میں درآیا ہے۔  سائنس اور ٹیکنولوجی کی نئی اصطلاحات یعنی کمپیوٹر ‘ سافٹ ویر‘ ڈسک‘ ماؤس ‘ مانیٹر‘ کی بورڈ‘ کنکشن‘ ہارڈ  ڈرائیو‘ براڈ بینڈ‘ انٹینا‘ ٹرانسسٹر اور ایسے ہی بے شمار الفاظ اور اصطلاحات ہیں جن کے ترجمے کے کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یہی مستعمل ہوگئے ہیں لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ اردو اخبارات ‘  اردو کے اچھے اور مقبول الفاظ ترک کر کے ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ ٹھونسے جا رہے ہیں۔ مثلاً رو برو  یا تخلیہ میں ملاقات کے لئے انگریزی کی اصطلاح ‘ ون ٹو ون استعمال کی جارہی ہے حالانکہ انگریزی کی صحیح اصطلاح ون آن ون ہے۔ اسی طرح تعطل  اردو کا اتنا اچھا  لفظ ہے  اس کی جگہ سینہ تان کر  ڈیڈ لاک  استعمال کیا جارہا ہے ۔ انتخاب کی جگہ الیکشن ‘ عام انتخابات کی جگہ جنرل الیکشن ‘ جوہری طاقت کی جگہ ایٹامک انرجی‘ کاوائی کی جگہ آپریشن‘ حزب مخالف کی جگہ اپوزیشن‘بدعنوانی کی جگہ کرپشن‘ استاد کی جگہ ٹیچر ‘ مجلس قایمہ کی جگہ اسڈینڈنگ کمیٹی‘  جلسہ کو میٹنگ اور پارلیمان کے اجلاس کو سیشن لکھاجاتا ہے۔  چرس جو خاص طور پر اپنے ہاں کی سوغات ہے اسے اردو اخبارات کینیبیز لکھتے ہیں۔ محصول کو ڈیوٹی کہتے ہیں قرطاس ابیض اتنا اچھا لفظ ہے اب اخبارات اس کی جگہ وایٹ پیپر لکھتے ہیں  اور ہوائ اڈہ کو ایرپورٹ ۔  ایک عرصہ ہوا  قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے کچھ اراکین گرفتار کر لئے گئے ان کو ایوان میں طلبی کے حکم کے لئے بے دھڑک  پروڈکشن آرڈر لکھا جاتا رہا اور تو اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے بغاوت کرکے اقتدار میں شمولیت کے لئے اپنا الگ دھڑا بنایا اور نام انہوں نے اسے پیٹریاٹ گروپ کا دیا ۔ اب ان سے کون پوچھے کہ پیٹریاٹ کے لئے محب وطن یا وفادار کے اتنے خوبصورت لفظ کو انہوں نے کیوں ترک کیا۔ کیا انگریزی کا لفظ استعمال کر کے وہ اپنے آپ کو اعلی و ارفع ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا جتن  عوام کو بے وقوف بنانے کے ہیں۔

           پچھلے دنوں ایک اخبار میں  جلی سرخی دیکھ کر بے ساختہ ہنسی آگئی۔ سرخی تھی۔۔فری ہینڈ ملنے کے باوجود  حکومت نے کوئی لیجسلیشن نہیں کی۔  ایک اخبار میں سرخی تھی۔۔۔یورپی یونین کی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی  دی ہے۔ اس خبر میں لکھا تھا کہ پی وی سی کی ڈمپنگ کی انویسٹی گیشن کے لئے انکوایری ٹیم بھیجی جائے  اگر ہماری بیڈ لینن پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگائی گئی تو ہماری ایکسپورٹ  متاثر ہوگی۔ ہماری چھپن ہزار بیڈ لینن کی ایکسپورٹ یورپ کی مارکٹ میں جاتی ہیں جو کہ اٹھائیس فی صد  شئیر ہے۔   اب آپ ہی فیصلہ کیجئے  کہ کیا یہ اردو ہے؟ ۔ انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن ایسا لگتا ہے کہ خود اپنے آپ اپنے اوپر مغربی ذہنی غلامی طاری کر لی۔ اس زمانہ میں جب ملک انگریزوں کا غلام تھا اردو زبان کی ایسی غلامانہ درگت نہیں بنی تھی۔.

           اردو پر انگریزی مسلط کرنے کی کوشش کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انگریزی بین الاقوامی رابطہ اور سائنس تجارت صنعت اور ٹیکنولوجی کی زبان ہے اور اردو سے چمٹے رہنے  کا مطلب  ان شعبوں میں پسماندگی کی راہ اختیار کرنا ہے۔ لیکن اس دلیل کے حامی اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چین ‘ روس ‘ جرمنی اور فرانس ایسے ترقی یافتہ ملکوں نے بھی آخر ترقی کی ہے اپنی زبانوں میں اپنے بچوں کو تعلیم  دے کر اور اپنی زبان کو زندہ رکھ کر۔

      سن ستر کے اوایل میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے سندہ کے اسکولوںمیں سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر بحال کیا  تھا تو رئیس امروہوی نے لکھا تھا’’ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘  ان کا یہ مصرعہ روزنامہ جنگ نے شہہ سرخی کی صورت میں شایع کیا تھااور ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا . اس وقت تو اردو کا جنازہ نہیں نکلا  تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اردو کا جنازہ  نکلنے کے لیے تیار ہوگیا ہےMuniri Kufi Symbol by raza  34 Email

عبد المتین منیری

Director " BHATKALLYS"

Bhatkal , Karnataka

Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals

www.akhbaroafkar.com 

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

 

فیصل حنیف


Date: Fri, 19 Jun 2015 20:27:45 -0400
Subject: Fwd: Urdu in Pakistan - RE: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI


<Ummat.jpg>

__._,_.___

Posted by: Nafis Tarin <nafis...@yahoo.com>
Messages in this topic (5)

Check out the automatic photo album with 1 photo(s) from this topic.
Ummat.jpg

.

__,_._,___

Nifaz-e-Urdu-5.jpg

Tanwir Phool

unread,
Jun 24, 2015, 3:23:04 PM6/24/15
to guzergah...@yahoogroups.com, Aijaz Shaheen
سبحان اللہ ، بہت خوب برقی صاحب ۔ آپ نے بہت احسن طریقے سے اپنی تینوں نظموں میں اُردو کی اہمیت اور اُس کی تاریخ بیان کر دی ہے ۔ سلام کے ساتھ داد اور دلی مبارک باد قبول کیجئے ۔ والسلام    ، تنویرپھول

2015-06-24 1:30 GMT-04:00 Ahmad Ali aab...@gmail.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 



کے ساتھ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا عمل بہرحال ناجائزتھا ۔ "اُردو کا جنازہ" کہنے پر رئیس صاحب کو مطعون کر لیں لیکن ذرا دیکھیں کہ آج بھی کیا کہا جا رہا ہے ۔

---------- Forwarded message ----------
From: Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
Date: 2014-04-09 16:12 GMT-04:00
Subject: RE: [بزم قلم:34657] اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
To: BAZMe...@googlegroups.com


محترم آصف جیلانی صاحب  کا کالم  یونیکوڈ میں پیش خدمت ہے۔  

گردوپیش  -    آصف جیلانی                         اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

خواجہ آصف ملک کے ممتاز رہنما ہیں ۔. ان کا تعلق اس مردم خیز شہر سیالکوٹ سے ہے جہاں سے علامہ اقبال ابھرے جنہوں نے اردو شاعری کو ایسا  نایاب خزینہ بخشا جس کی درخشندگی کبھی ماند نہیں پڑے گی اور سیالکوٹ کی اسی زمین سے فیض صاحب نے اردو کی  بے مثل آبیاری کی

۔.پچھلے دنوں میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ایک ٹیلی وژن چینل پر خواجہ آصف کا انٹرویو دیکھ رہا تھا.طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں خواجہ صاحب کہہ رہے تھے ’’ حکومت کے ایک فنکشنری ہوتے ہؤے مجھے جو انفارمیشن ہے اس کے بیسس پر مذاکرات کی پراگریس کو کوانٹی فأےی نہیں کر سکتا. ‘‘ میرے دوست نے اپنا سر پکڑ لیا . خواجہ آصف کہہ رہے تھے’’ میں پھر رپیٹ کروں گا کہ یہ نیگوسیشن اوپن ہینڈڈ نہیں ہونے چاہیں.ابھی تک جو بھی موو(Move) کیا جارہا ہے وہ کنسنسس ()Consensusکے ذریعہ کیا جارہا ہے اینڈ رزلٹ یہ ہے کہ ابھی تک جو آپریشن نہیں کیا گیا اس پر کنسنسس ہے اور فوج مکمل طور پر آن بورڈ ہے. ہم چاہیں گے کہ جلد پیس ریٹرن ہو‘‘ میرے دوست سر پکڑے روہانسی آواز  میں بولے’’پاکستان میں اردو کا  یہ کیا حشر ہورہا ہے؟. خواجہ صاحب کا یہ انٹرویو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اردو  نہیں بلکہ کؤی اور نٔئ  اجنبی زبان ہے . اس میں انگریزی کے الٹے سیدھے  جو پیوند لگأے جارہے ہیں اس سے جان پڑتا ہے کہ اردو سے  اس کے ناکردہ گنا ہوں کاانتقام لیا جارہا ہے میرے دوست نے کہا کہ ٹیلی وژن چینلز پر جو سیاسی مباحثے ہوتے ہیں ان میں سیاست دان  انگریزی اصطلاحات کو طوطے کی طرح دہراتے ہیں. مثلا یہ انسٹیٹیوشنز ایک پیج پر نہیں ہیں. سب اسٹیک ہولڈرس کو آن بورڈ ہونا چاہے.یہ ماینڈ سیٹ کی بات ہے کنسنسس اور ری کنسلیسشن کی پالیسی ایڈاپٹ کرنی چاہییوہ کہہ رہے تھے کہ.کیا انگریزی کی ان اصطلاحات کے لٔے ہماری اردو زبان  میں کؤی نعم البدل نہیں کیا ہماری اردو اتنی تہی دامن ہے .کیا ایک پیج کے مفہوم کے لٔے ہم نے یک زبان’ ہم خیال اور ہم رأے کی خوبصورت اصطلاحات  قربان کر دی ہیں اور ماینڈ سیٹ کے لیے سوچ’ انداز فکر یا طرز فکر کی اصطلاحات کو تج کردیا ہے .

میں نے کہا کہ یہ تو ہمارے سیاست دان ہیں جو انگریزی میں اپنی بقراطیت  ثابت کرنے کے لیے یوں اردو کو مسخ کر رہے ہیں لیکن ہمارے اخبارات اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں.یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ   اردو ادب کا صحافت کے ساتھ کتنا قدیم اورکس قدرگہرا رشتہ رہا ہے وہی اردو صحافت اردو زبان کو مسخ کرنے میں پیش پیش ہے  بلاشبہہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔  اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ اردو صحافت نے اپنے اوائل ہی سے اردو ادب اور اردو ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب صحافت ہی کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوااور پروان چڑھا۔

           اردو شاعری کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے جو فروغ ہوا اور عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی اس میں شاہی درباروں۔‘  نوابوں کے ڈیروں اور مشاعروں کی پرانی روایت کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اردو نثر کی ترقی خالصتاً صحافت کی مرہون منت رہی ہے۔

           مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد ‘ سرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق ‘ مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال او ر البلاغ‘ بنارس کے اردو اخبار آوازہ اخلاق ‘ کانپور کے زمانہ ‘ حسرت موہانی کے رسالہ اردوئے معلی اور امتیاز علی تاج کے کہکشاں اور مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے اردو شاعری کے فروغ کے ساتھ نثر کی ترقی اور ترویج میں جو اہم حصہ ادا کیا ہے وہ اردو ادب کی تاریخ کے لئے قابل فخر ہے۔ سرسید نے تہذیب الاخلاق کے ذریعہ اردو کے ادیبوں کی ایک کہکشاں سجائی تھی جس میں مولانا حالی‘ مولانا شبلی‘ ڈپٹی نذیر احمد‘ ذکا اللہ خان ‘ محسن الملک اور چراخ علی نمایاں رہی،   یہ اردو صحافت کی خوش قسمتی ہے کہ اردو ادب کے ممتاز دانشوروں اور شاعروں نے اردو صحافت کی عملی رہنمائی کی ہے جن میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابوالکلام آزاد ‘ مولانا ظفر علی خان ‘  حیات اللہ انصاری ‘ غلام رسول مہر اور مولانا جالب نمایاں ہیں اور آزادی کے بعد فیض احمد فیض ‘ احمد ندیم قاسمی اور چراخ حسن حسرت اردو اخبارات کے مدیر رہے لیکن اسے بدقسمتی کہہ لیں یا بدلتے ہوئے حالات کے تقاضے کہ جب سے اردو صحافت نے تجارت کا لبادہ اوڑھا ہے ایڈیٹری خاندانی میراث بنتی جارہی ہے۔ اب یہ عہدہ محض اخبارات کے مالکوں کے بیٹوں اور بھتیجوں کے لئے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے اور حقیقی ایڈیٹر مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔

   ایک زمانہ تک پاکستان میں صحافت کو زبان بندی کے مسئلہ کا سامنا  رہا تھا لیکن اب اردو اخبارات کو زبان کی ابتری کے سنگین مسئلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنس اور دوسرے علوم کی فنی اصطلاحات کے اردو میں مناسب ترجموں کی کوشش کو فوقیت دی جاتی تھی لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ یکسر مفقود ہوگیا ہے۔ انگریزی الفاظ کا ایک سیل بے کراں ہے کہ وہ اردوزبان میں اور اس کے راستہ اخبارات میں درآیا ہے۔  سائنس اور ٹیکنولوجی کی نئی اصطلاحات یعنی کمپیوٹر ‘ سافٹ ویر‘ ڈسک‘ ماؤس ‘ مانیٹر‘ کی بورڈ‘ کنکشن‘ ہارڈ  ڈرائیو‘ براڈ بینڈ‘ انٹینا‘ ٹرانسسٹر اور ایسے ہی بے شمار الفاظ اور اصطلاحات ہیں جن کے ترجمے کے کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یہی مستعمل ہوگئے ہیں لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ اردو اخبارات ‘  اردو کے اچھے اور مقبول الفاظ ترک کر کے ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ ٹھونسے جا رہے ہیں۔ مثلاً رو برو  یا تخلیہ میں ملاقات کے لئے انگریزی کی اصطلاح ‘ ون ٹو ون استعمال کی جارہی ہے حالانکہ انگریزی کی صحیح اصطلاح ون آن ون ہے۔ اسی طرح تعطل  اردو کا اتنا اچھا  لفظ ہے  اس کی جگہ سینہ تان کر  ڈیڈ لاک  استعمال کیا جارہا ہے ۔ انتخاب کی جگہ الیکشن ‘ عام انتخابات کی جگہ جنرل الیکشن ‘ جوہری طاقت کی جگہ ایٹامک انرجی‘ کاوائی کی جگہ آپریشن‘ حزب مخالف کی جگہ اپوزیشن‘بدعنوانی کی جگہ کرپشن‘ استاد کی جگہ ٹیچر ‘ مجلس قایمہ کی جگہ اسڈینڈنگ کمیٹی‘  جلسہ کو میٹنگ اور پارلیمان کے اجلاس کو سیشن لکھاجاتا ہے۔  چرس جو خاص طور پر اپنے ہاں کی سوغات ہے اسے اردو اخبارات کینیبیز لکھتے ہیں۔ محصول کو ڈیوٹی کہتے ہیں قرطاس ابیض اتنا اچھا لفظ ہے اب اخبارات اس کی جگہ وایٹ پیپر لکھتے ہیں  اور ہوائ اڈہ کو ایرپورٹ ۔  ایک عرصہ ہوا  قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے کچھ اراکین گرفتار کر لئے گئے ان کو ایوان میں طلبی کے حکم کے لئے بے دھڑک  پروڈکشن آرڈر لکھا جاتا رہا اور تو اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے بغاوت کرکے اقتدار میں شمولیت کے لئے اپنا الگ دھڑا بنایا اور نام انہوں نے اسے پیٹریاٹ گروپ کا دیا ۔ اب ان سے کون پوچھے کہ پیٹریاٹ کے لئے محب وطن یا وفادار کے اتنے خوبصورت لفظ کو انہوں نے کیوں ترک کیا۔ کیا انگریزی کا لفظ استعمال کر کے وہ اپنے آپ کو اعلی و ارفع ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا جتن  عوام کو بے وقوف بنانے کے ہیں۔

           پچھلے دنوں ایک اخبار میں  جلی سرخی دیکھ کر بے ساختہ ہنسی آگئی۔ سرخی تھی۔۔فری ہینڈ ملنے کے باوجود  حکومت نے کوئی لیجسلیشن نہیں کی۔  ایک اخبار میں سرخی تھی۔۔۔یورپی یونین کی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی  دی ہے۔ اس خبر میں لکھا تھا کہ پی وی سی کی ڈمپنگ کی انویسٹی گیشن کے لئے انکوایری ٹیم بھیجی جائے  اگر ہماری بیڈ لینن پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگائی گئی تو ہماری ایکسپورٹ  متاثر ہوگی۔ ہماری چھپن ہزار بیڈ لینن کی ایکسپورٹ یورپ کی مارکٹ میں جاتی ہیں جو کہ اٹھائیس فی صد  شئیر ہے۔   اب آپ ہی فیصلہ کیجئے  کہ کیا یہ اردو ہے؟ ۔ انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن ایسا لگتا ہے کہ خود اپنے آپ اپنے اوپر مغربی ذہنی غلامی طاری کر لی۔ اس زمانہ میں جب ملک انگریزوں کا غلام تھا اردو زبان کی ایسی غلامانہ درگت نہیں بنی تھی۔.

           اردو پر انگریزی مسلط کرنے کی کوشش کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انگریزی بین الاقوامی رابطہ اور سائنس تجارت صنعت اور ٹیکنولوجی کی زبان ہے اور اردو سے چمٹے رہنے  کا مطلب  ان شعبوں میں پسماندگی کی راہ اختیار کرنا ہے۔ لیکن اس دلیل کے حامی اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چین ‘ روس ‘ جرمنی اور فرانس ایسے ترقی یافتہ ملکوں نے بھی آخر ترقی کی ہے اپنی زبانوں میں اپنے بچوں کو تعلیم  دے کر اور اپنی زبان کو زندہ رکھ کر۔

      سن ستر کے اوایل میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے سندہ کے اسکولوںمیں سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر بحال کیا  تھا تو رئیس امروہوی نے لکھا تھا’’ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘  ان کا یہ مصرعہ روزنامہ جنگ نے شہہ سرخی کی صورت میں شایع کیا تھااور ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا . اس وقت تو اردو کا جنازہ نہیں نکلا  تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اردو کا جنازہ  نکلنے کے لیے تیار ہوگیا ہےMuniri Kufi Symbol by raza  34 Email

عبد المتین منیری

Director " BHATKALLYS"

Bhatkal , Karnataka

Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals

www.akhbaroafkar.com 

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

 

فیصل حنیف


Date: Fri, 19 Jun 2015 20:27:45 -0400
Subject: Fwd: Urdu in Pakistan - RE: [Guzergah-e-Khayal] BEKAL UTSAHI
Messages in this topic (6)

Check out the automatic photo album with 4 photo(s) from this topic.
Ummat.jpg urdu-hai-imtezaji-rawayat-kipaasdaar.jpg urdu-ki-aawaaz.jpg Urdu-Ganj-e-ShaigaaN.jpg

.

__,_._,___

Tanwir Phool

unread,
Jun 24, 2015, 3:33:05 PM6/24/15
to guzergah...@yahoogroups.com, Ordu...@yahoogroups.com, Aijaz Shaheen
درست فرمایا آپ نے محترم محسن نقوی صاحب
میں آپ سے مکمل متّفق ہوں ۔ شکریہ
     تنویر پھول

2015-06-24 13:02 GMT-04:00 syed-mohsin naquvi mna...@yahoo.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 

جناب برقی اعظمی صاحب۔

آپ کی تینوں نظمیں بہت عمدہ ہیں۔

میں آپ کے اس خیال سے متفق ہوں کہ  انٹرنیٹ سے اردو کی ترویج میں بہت کچھ ہو رہا ہے اور مزید ہو سکتا ہے۔

لیکن اس میں بھی ہم کو اجتماعی طور سے اس بات کی کوشش کرنا ہے کہ نوجوان طبقہ کو رومن اردو سے بچایا جائے اور انکو زیادہ سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دلائی جائے کہ زبان کے لئے اس کا اپنا رسم الخط بہت اہم ہوتا ہے اور انکی ہمت افزائی کو جائے کہ وہ انٹرنیٹ اور نئی ایجادات کے ساتھ اُس سوفٹ ویر سے دلچسپی لیں جو اردو کے رسم الخط کو ساتھ لیکر چل رہا ہوَ

__._,_.___

Posted by: syed-mohsin naquvi <mna...@yahoo.com>

Check out the automatic photo album with 4 photo(s) from this topic.
Ummat.jpg urdu-hai-imtezaji-rawayat-kipaasdaar.jpg urdu-ki-aawaaz.jpg Urdu-Ganj-e-ShaigaaN.jpg


.

__,_._,___

Tanwir Phool

unread,
Jun 25, 2015, 12:44:22 PM6/25/15
to Adabdotcom, Aijaz Shaheen
بہت بہت شکریہ میرے پیارے بھائی طاہر اشرف صاحب ۔ آپ نے بالکل درست فرمایا ہے اور حق گوئی کو اپنایا ہے ۔ میں خود لاہور میں رہا ہوں ، ملتان ، احمد پور شرقیہ ، صادق آباد اور رحیم یار خان بھی گیا ہوں اور وہاں میرے کافی دوست
ہیں ۔ اُردو تمام زبانوں سے مل کر بنی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ۔ پانچ سال پہلے ماہنامہ "نفاذِ اُردو" میں اِس موضوع
پر میری ایک نظم چھپی تھی جو بعد میں اُن کے اجلاس میں بھی پڑھی، وہ آپ کی نذر ہے ۔ یہ لنک دیکھیں ، سلام قبول کریں اور ہمیشہ دعا میں یاد رکھیں،جزاک اللہ
   تنویر پھول {نیویارک} http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=8&t=8066  

2015-06-25 2:28 GMT-04:00 Jhuley Lal <jhula...@gmail.com>:
​​
پاکستان میں اردو زبان کو کوئی زوال نہیں ہے. ہر پاکستانی اردو بولتا بھی ہی اور سمجھتا بھی ہے لکن بھت سادہ اردو مگر وہ الفاظ گم ہو گئے ہیں جو اردو کا شاہکار تھے جو اردو میں حسن پیدا کرتے ہیں سب سے بری بد قسمتی یہ ہے کے اردو کو دفتری زبان نہیں بنایا گیا ہے ہمارے تمام دفاتر میں انگلش زبان استمعال کی جاتی ہے جو اردو کے ساتھ سب سے برا ظلم ہے بس پاکستان میں اگر دفتری زبان اردو بن جاۓ تو اردو کبھی زوال کا شکار نہیں ہوگی. باقی رہی بات مادری زبان کی تو سب زبانیں اردو سے ملتی جلتی ہیں جیسے پنجابی سرائیکی سندھی پشتو بلوچی کشمیری فارسی. یہی وجہ ہے کے ہر مادری زبان بولنے والا اردو کو آسانی سے سمجھ بھی جاتا ہے اور سیکھ بھی جاتا ہے اور روانی سے بونے بھی لگتا ہے. اردو پاکستان کی سب مادری  زبانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوے ہے. اردو بوہت سری زبانو کا مجمووہ ہے. دور حاضر میں انگلش کے کچھ الفاظ بھی اردو والوں نے اپنا لئے ہیں اور پاکستان میں اردو زبان کا حصّہ بنا لئے ہیں ارود ہر زبان کو اپنے اندر سمونے کا حسن رکھتی ہے میں یک پنجابی ہوں اور پنجابی میری مادری زبان ہے میں پاکستان کے شہر جھنگ سے ہوں اور میں سیال فیملی سے تعلق رکھتا ہوں زیادہ تر پنجابی بوہتا ہوں گھر میں بھی اور دوستوں میں بھی مگر جب بات کسی بزرگ سے  کرنی ہو یا یا جہاں ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو تو اردو بان ہماری مجبوری بن جاتی ہے. اور مہذب محفل میں اردو ہی بولتے ہیں ہم لوگ. ارود کو کوئی خطرہ نہیں ہے بس ہماری ذمّہ داری ہے کے ہم اپنی آنے والی نسل میں ایمان داری سے اور ذمّہ داری سے اردو کو منتقل کریں اردو کبھی زوال کا شکار نہیں ہوگی انشاء الله ازو جل. 
سلام قبول کریں اور دعاؤں میں یاد رکھیں 
آپ کا بھائی محمّد طاہر اشرف  
​​

--
Urdu's Important sites
@@@@@@@@@@
http://www.gopichandnarang.com
https://rekhta.org/?lang=Ur
http://www.urduyouthforum.org
http://samt.bazmeurdu.net/
http://urdu.ca
http://sherosokhan.com
http://dastak-urduduniya.com/
http://www.urdumanzil.com/
http://www.urdusukhan.com/
http://www.urdudil.com/
www.bhatkaltv.com
www.urduaudio.com
https://urdulinks.com/urj/
http://universalurdupost.com/
https://www.facebook.com/groups/adabdotcom/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Adab dot com" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to adabdotcom+...@googlegroups.com.
To post to this group, send email to adabd...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/adabdotcom.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/adabdotcom/CAAr9w6nGr78R0roxWfH1E%3D_QCtVw0QG%3D6G%2BX9%3DbUVghioay%2BYA%40mail.gmail.com.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Nifaz-e-Urdu-5.jpg

Tanwir Phool

unread,
Jun 25, 2015, 7:11:51 PM6/25/15
to guzergah...@yahoogroups.com, Aijaz Shaheen
بہت بہت شکریہ بھائی سعود صدیقی صاحب
آپ نے بالکل درست فرمایا اور حق کا ساتھ دیا ہے ،جزاک اللہ خیر۔
سلام قبول کیجئے اور ہمیشہ دعا میں یاد رکھئے
والسلام             تنویرپھول

2015-06-25 17:28 GMT-04:00 Saud Siddiqui saud...@gmail.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 



میں نفیس ترین صاحب کی راۓ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں .میرا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے جہاں میں پیدا ہوا ، پلا ، بڑھا اور اسکول ،کالج سے لیکر انجینیرنگ تک اردو میں تعلیم حاصل کی .وہاں کے ساتویں  بادشاہ نظام الملک آصف جاہ میر عثمان علی خان نے تمام مدارس کالج اور خود ہندستان کی سب سے بڑی عثمانیہ یونیورسٹی میں 
ہر شعبہ میں ذارئع تعلیم و تدریس کو اردو میں رائج کیا .  اور سرکاری دفاتر میں بھی اردو میں کام ہوتا تھا -وہاں سے فارغ التحصیل لوگ انگلستان اور امریکا جا کر انگلش میں عالی تعلیم بغیر کسی مشکل کے ، حاصل کرتے تھے. حیدرآباد میں انگلش زبان پڑھانے پر بھی اتنا ہی زور دیا جاتا تھا اور اکثر درسگاہوں میں خود انگریز لیکچرار پڑھاتے تھے -
 میں اس کی پر زور تائید کرتا ہوں کہ اگر اردو کو بچانا ہے تو سارے  اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں اردو میں تعلیم دینی پڑیگی اور سرکاری دفتر میں بھی اردو کو رایج کرنا ہوگا . اسکے لیے  حیدرآباد دکن کی طرز پر          آپکو ایک دارالترجمہ بنانا پڑیگا جہاں  قابل ل ترین ماہر مترجمین کو ساری  دنیا سے لانا ہوگا. یہ کام کوئی  مشکل نہیں ہے   
​اور لوٹ کھسوٹ سے فرصت ملے اور  اگر حکومت اور ارباب اختیار کرنا چاہیں .
اس سلسلے میں جو بحث ہو رہی ہے اس میں میں جناب تنویر  پھول صاحب کے دلایل سے مکمل اتفاق کرتا ہوں 
مخلص 
سعود صدیقی ​
--
Saud Siddiqui
Karachi

__._,_.___

Posted by: Saud Siddiqui <saud...@gmail.com>
Messages in this topic (14)

Check out the automatic photo album with 5 photo(s) from this topic.
Ummat.jpg urdu-hai-imtezaji-rawayat-kipaasdaar.jpg urdu-ki-aawaaz.jpg Urdu-Ganj-e-ShaigaaN.jpg Nifaz-e-Urdu-5.jpg

.

__,_._,___

Tanwir Phool

unread,
Jun 27, 2015, 6:19:15 AM6/27/15
to Adabdotcom, Aijaz Shaheen
بہت بہت شکریہ بھائی طاہر اشرف صاحب
آپ کی محبت پر بے حد ممنون ہوں ۔ سلام قبول
کیجئے اورہمیشہ اپنی خصوصی دعا میں یاد رکھئے
والسلام، طالبِ دعا  و  دعاگو    :     تنویرپھول

2015-06-26 2:05 GMT-04:00 Jhuley Lal <jhula...@gmail.com>:

جزاک اللہ ماشااللہ بہت پیاری غزل لکھی ہے تنویر بھائی آپ نے. اردو کے لئے آپ کی خدمات قبل ستائش ہیں 
سلام قبول کریں اور ہمیشہ دعا میں یاد رکھیں
محمّد طاہر اشرف




For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Tanwir Phool

unread,
Jun 27, 2015, 2:17:41 PM6/27/15
to Adabdotcom, Ordu...@yahoogroups.com, guzergah...@yahoogroups.com, Aijaz Shaheen
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ عابدہ بہن ۔ میں نے بھی یہ زبان سُنی ہے ۔ واحد کے لئے کہتے ہیں : "وہ کہِس ہے"
یعنی اُس نے کہا ہے جبکہ جمع کے لئے کہتے ہیں :"وہ کہِن ہیں" یعنی انھوں نے کہا ہے ، اسی طرح کھائس ، کھائن:
بولِس ، بولِن وغیرہ ۔ عربی ،فارسی اور ہندی کے الفاظ اُردو میں کثرت سے موجود ہیں ، ترکی اور پاک و ہند کی مقامی
زبانوں کا بھی کم و بیش حصہ ہے جیسے "آغا" اور "اُردو" خود ہی ترکی زبان کا لفظ ہے ۔ انگریزی بھی کافی شامل ہے
اور انگریزی نے خود دوسری زبانوں کے الفاظ لئے ہیں جیسے انگریزی میں عربی "امیرالبحر" کو "ایڈمِرل" اور "تمرِ ہند" یعنی املی کو "ٹیمیرِنڈ" کہتے ہیں ۔ ہمارے امریکی دامادکراچی آئے اور بال کٹوانے گئے ، اُردو بولتے ہوئے کہا "نائی کہاں ہے؟" ، وہ غصے سے بولا "نائی گیا جہنم میں ، یہاں ھیئر ڈریسر ہوتے ہیں" ۔ رمضان شریف کی مبارک ساعتوں
میں دعا میں ضرور یاد رکھئے گا ، جزاک اللہ خیر ، والسلام                            تنویرپھول

2015-06-26 6:14 GMT-04:00 Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com>:
تنویر بھائی --السلام علیکم
یہ طویل مراسلہ میں نے سرسری سا دیکھا ہے --رمضان المبارک کی مصروفیات کے ساتھ چند ذاتی مصروفیات میں بھی کافی الجھی ہوئی ہوں--
یہ کہنا کہ پنجابی اردو کی ماں ہے قطعی مہمل سی بات ہے البتہ پنجابی کو آپ اردو کی بگڑی شکل ضرور کہہ سکتے ہیں-- اردو کا سفر یا تعلق ہندی ، فارسی ، عربی کے ساتھ زیادہ مضبوط ہے -- عام فہم ہندی اور اردو میں بس نام کا  اور طرز تحریر یا سکرپٹ کا فرق ہے --
متحدہ پاکستان میں راجشاہی یونیورسٹی میں اردو کے مقتول پروفیسر کاظمی صاحب غالبا شبیر کاظمی نام تھا نے تحقیق کی تھی کہ اہل پاکستان میں صرف ڈھاکہ کے قدیم باشندے جو ڈھکیہ کہلاتے تھے اردو داں تھے اور وہ بھی ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے تھے -- ہماری چند جاننے والے آئیس ہے گئیس ہے کچھ اس قسم کی اردو بولتے تھے -اس قسم کی اردو میں نے نیپال کے باشندوں کو بولتے سنا--
باقی اہل پاکستان میں کسی کی مادری زبان اردو نہیں تھی -- قائد اعظم نے جب ڈھاکہ میں کہا کہ پاکستان کی واحد قومی زبان اردو ہوگی اسپر فسادات ہوئے --گولی چلی اور قصہ مختصر کہ بالاخر بنگلہ دیش بن کر ہی رہا-- انکی سب سے بڑی دشمن اردو زبان تھی --
اب موجودہ پاکستان نے الحمدللہ اردو پر بخوبی قبضہ جمایا ہوا ہے یا اردو کو جان سے لگا یا ہواہے -- اردو پاکستان میں رابطے کی زبان ہے پنجابی ، پٹھان ، سندھی ، بلوچی ، گجراتی ، میمن ، بہاری بنگالی سب اسے اپنے لہجے میں ادا کرتے ہیں -- نیئ پود کا لب ولہجہ مزید صاف ہے -- انگریزی بھی اردو میں ایسے ضم ہوگئی ہے جیسے کہ اردو میں اسکا کوئی متبادل نہیں ہے -- عام فہم لب و لہجے میں اگر ثقیل اردو بولیں توزیادہ تر سمجھ ہی نہیں پاتے --میرے ساتھ خود کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے- ایک مرتبہ ایک ٹیکسی والے سے کہا جامعہ جانا ہے کہنے لگا راستہ بتا دیں -" یہ سڑک سیدھی جاتی ہے " میں نے جواب دیا --" جی یہ تو یونیورسٹی جاتی ہے --
ہمار ا پڑھا لکھا طبقہ اپنی انگریزی دانی کا رعب جماتے ہوئے آدھی انگریزی اور آدھی اردو بولتا ہے -- اس قسم کے لطائف "میرا" کے اور دیگر کے بہت ہیں--
اس بات کا واقعی افسوس ہوتا ہے جب ہر کوئی کہتا ہے میرا بچہ یا بچی اردو میں بہت کمزور ہے --
میری ایک دوست نے بچوں کے لیے اردو میں کتا بیں چھاپی ہیں انہوں نے اپنی تین عدد کتابیں مجھے بھیجیں -- مجھے اسوقت تو افسوس ہوا جب میرے اقارب نے کہا کہ بچے اردو پڑھتے ہی نہیں لیکن الحمد للہ ملازمین کے بچوں نے اسے بے حد شوق سے قبول کیا--
عابدہ رحمانی
  




عابدہ

Abida Rahmani




For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Tanwir Phool

unread,
Jun 27, 2015, 3:04:02 PM6/27/15
to Adabdotcom, Aijaz Shaheen, guzergah...@yahoogroups.com

بہت بہت شکریہ بھائی طاہراشرف صاحب ۔ آپ کی محبت اور عزت افزائی پر دل سے
ممنون ہوں ۔ سلام قبول کیجئے اور آپ بھی ہمیشہ دعا میں یاد رکھئے ۔ جزاک اللہ خیر
والسلام ، دعا گو اور طالبِ دعا   :                       تنویرپھول
2015-06-26 2:05 GMT-04:00 Jhuley Lal <jhula...@gmail.com>:

جزاک اللہ ماشااللہ بہت پیاری غزل لکھی ہے تنویر بھائی آپ نے. اردو کے لئے آپ کی خدمات قبل ستائش ہیں 
سلام قبول کریں اور ہمیشہ دعا میں یاد رکھیں
محمّد طاہر اشرف




For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Tanwir Phool

unread,
Jun 27, 2015, 3:10:33 PM6/27/15
to guzergah...@yahoogroups.com, Aijaz Shaheen
بہت بہت شکریہ بھائی سعود صدیقی صاحب
آپ کی محبت پر دل سے ممنون ہوں ۔ سلام قبول کیجئے
اور ہمیشہ دعا میں یاد رکھئے ، جزاک اللہ خیر
تنویرپھول

2015-06-26 18:05 GMT-04:00 Saud Siddiqui saud...@gmail.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>:
 


اردو پر بہت عمدہ نظم ہے جس میں اردو کو اپنے ملک  کے اسکولوں اور دفاتر میں سرکاری   حیثیت میں رایج کر نے کا پیغام بھی ہے .

سعود  صدیقی 

--






--
Saud Siddiqui
Karachi

__._,_.___

Posted by: Saud Siddiqui <saud...@gmail.com>
Messages in this topic (5)

Check out the automatic photo album with 2 photo(s) from this topic.
Nifaz-e-Urdu-5.jpg Nifaz-e-Urdu-5.jpg

.

__,_._,___

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages