’’اردو زبان و ادب کی اشاعت میں انٹرنیٹ کا کردار‘‘

938 views
Skip to first unread message

Firoz Hashmi

unread,
May 2, 2016, 2:29:24 AM5/2/16
to bazme...@googlegroups.com, bazme...@rediffmail.com, adab dot com
’’اردو زبان و ادب کی اشاعت میں انٹرنیٹ کا کردار‘‘
اس میں شک نہیں کہ انسانی زندگی کے ہر طبقہ میں انٹرنیٹ واقعی مفید ہے اور فوائد کی ایک طویل فہرست ہے۔ جہاں تک ’’اردو زبان و ادب کی اشاعت میں انٹرنیٹ کا رول‘‘ کی بات ہے تو یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اردو زبان و ادب بھی انٹرنیٹ پر اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ اخبارات و رسائل، کتب و دستاویزات، خواہ قانونی یا طبّی، ناول ہو یا افسانے، تحقیق ہو یا تنقید، نظم ہو یا نثر، دینیات ہو کہ غیر دینیات، درسی کتابیں اور مواد ہوں کہ غیر درسی،وغیرہ جو بھی ضروریات ہوں ، سب کی سب بذریعہ انٹرنیٹ و کمپیوٹر ترقی کے مراحل طے کر رہی ہیں۔اردو کے بہت کم ہی ایسے روزنامے ہوں گے تو انٹرنیٹ پر نہیں ہیں۔ دینی معلومات فراہم کرنے کے لئے بھی اَن گنت ویب پورٹل موجود ہیں جسے اہل اردو اپنے ذوق علم کی تسکین کر سکتے ہیں۔ یہاں اگر ہم اُن سارے ویب ایڈیشن کے بارے میں وضاحت کریں تو پوری ڈائرکٹری تیار کرنی پڑے گی۔ اس لئے ہم یہاں کس بھی پورٹل کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فن اور موضوع نہیں ہے جس کے بارے میں انٹرنیٹ پر معلومات نہ ہو، ایسا کہنا مشکل ہے۔ احادیث کی مستند کتابیں مع عربی متن انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ گوگل ایک ایسا پورٹل ہے جس نے ہر زبان کے استعمال کنندہ کو پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ذریعہ اردو زبان میں ای میل اور چیٹ کی سہولت موجود ہے۔ جن کے سسٹم پر نستعلیق خط موجود ہے اس میں نستعلیق میں ہی ای میل اور چیٹ کر سکتے ہیں۔ اور اگر نہیں تو ڈیفالٹ فونٹ Arialکے ذریعہ استفادہ کیا جارہا ہے۔ اخبارات اور نیوز پورٹل نستعلیق میں یا نسخ میں بہتر انداز میں خبریں فراہم کر رہے ہیں۔ بیس سال قبل بہت سی عام معلومات جسے حاصل کرنے کے لئے لائبریوں اور اساتذہ سے رابطہ کرنا پڑتا تھا، اب بڑی آسانی سے سرچ انجن کے ذریعہ کسی بھی پورٹل سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر معلومات میں کہیں شک کی گنجائش ہے تو اساتذۂ فن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ بذریعہ ای میل اس کی تصدیق کرائی جا سکتی ہے۔ یا پورٹل پر پیغام چھوڑ کر اہل علم سے معلومات فراہم کرنے کی درخواست کریں تو چند دنوں بلکہ چند گھنٹوں میں بھی آپ کو وافر مقدار میں معلومات فراہم ہو سکتی ہیں۔ بزم قلم ،ادب ڈاٹ کام، گزرگاہِ خیال، قلم قافلہ وغیرہ کے نام سے کئی پورٹل ہیں جس پر آپ اپنے مضامین و مقالات پیش کرکے لوگوں کو استفادہ کرنے کا موقع فراہم سکتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی موضوع پر کوئی اُلجھن ہے تو آپ موضوع کے اعتبار سے پورٹل پر سوال کرکے اہلِ علم سے جواب حاصل کرسکتے ہیں۔ شاعری، افسانے، ناول اور دیگر ادبی مواد وافر مقدار میں پورٹل پر موجود ہیں۔ انہیں حاصل کرنے اور استفادہ کرنے لیے آپ انٹرنیٹ کی معلومات ضروری ہے۔ اگر سرچ کرنے کے معاملے میں آپ نااہل یا ناقابل ہیں تو آپ مطلوبہ معلومات فراہم نہیں ہوسکتی۔
مذکورہ بالا عنوان کے اور بھی کئی پہلو ہو سکتے ہیں لیکن سب سے اہم پہلو جو کسی بھی چیز کے استعمال، ترقی، فروغ یا کردار کے بارے میں ہوتی ہے وہ ہے مثبت اور منفی یا بہتری اور بدتری ۔ یہاں بھی یہ دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ اردو والےانٹرنیٹ سے کب؟ کتنا؟ اور کیسے؟ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس بارے میں اُن کی نوے فیصد آبادی لاعلم ہے۔ ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
’’آج مجھے اپنے آپ سے شرم آرہی ہے۔ محترم جناب احمد مرزا جمیل صاحب کا انتقال گزشتہ ماہ (17 فروری 2014ء کے روز) ہوا، اور اس کی اطلاع مجھے آج بذریعہ ای میل موصول ہوئی۔ نہ کسی اخبار میں کوئی خبر دیکھی، اور نہ ہی کسی ویب سائٹ پر مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ٹی وی چینلوں کا تو ذکر ہی چھوڑ دیجئے کیونکہ انہیں صرف ’’ٹی آر پی‘‘ اور کسی بھی قیمت پر ’’اشتہارات‘‘ سے غرض ہے۔ آج اپنی ہی ایک بات بڑی شدت سے یاد آرہی ہے: انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اطلاعات کی ترسیل تو ضرور برق رفتار بنادی ہے، لیکن اس سے ہماری بے خبری پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے‘‘
دو عشرہ پہلے تک مقالات و کتاب کی اشاعت کے لیے کئی کئی مہینے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ بعض دفعہ اِن کی اشاعت ہوتے ہوتے مواد پرانے ہو جاتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے اکثر لوگ افسانے، کہانی، شاعری وغیرہ میں تو دلچسپی لیتے ہیں کیوں کہ یہ پرانے ہو بھی جائیں تو نئے ہی لگتے ہیں۔ جبکہ تکنیکی موادکی اشاعت بر وقت نہ ہو تو چند مہینے میں ہی یہ پرانے ہو جاتے ہیں۔ اس کام کو الیکٹرونک میڈیا یا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے آسان بنا دیا ہے۔ اب آپ کو اپنے مضامین چھپوانے کے لئے مدیروں کی خوش آمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اپنا مضمون و مقالہ لکھئے اور پوسٹ کر دیجئے۔ یا خود بلاگ بنائیے اور پیش کر دیجیے، جسے ضرورت ہوگی وہ خود یہاں سے لے کر چھاپ لے گا۔ جن لوگوں کی رسائی انٹرنیٹ تک نہیں ہوئی ہے اُن کے لئے یہ نیا ہی ہے۔ جہاں تک کمپیوٹر تکنیک کی رسائی اور رہنمائی کی بات ہے تو
بقول جناب عبدالمتین منیری  (Director: Bhatkallys.com)  
’’الکٹرونک میڈیا کے میدان میں در اصل ہم نے اردو والوں کی رہنمائی میں بڑی دیر کر دی ہے،اردو والوں کے لئے یہ سب وسائل کچھ سیکھنے اور اپنی معلومات کا معیار بڑھانے کے بجائے تفریح کے ہیں۔ ‘‘
عبدالمتین منیری صاحب کا مذکورہ جملہ بہت حد تک درست ہے۔ دیر بھی کر دی اور بہت سے لوگوں کے لئے ابھی بہت دور بھی ہے۔ یہ تو اُن لوگوں کے لئے آسانی فراہم ہو رہی ہے جو لوگ انٹرنیٹ استعمال کرنا جانتے ہیں اور آلات کی خریداری اُن کے قوت خرید میں ہیں۔ لیکن جن کو علم ہی نہیں، اُنہیں انٹرنیٹ سے جوڑنے کے ابھی تک کوئی معقول انتظام نہیں ہیں۔ کچھ پرائیوٹ اور منظور شدہ  اداروں نے کمپیوٹر کی بھرپور تعلیم دینے کا بندوبست کر رکھا ہے۔ جس میں اردو ’’ان پیج‘‘ کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور وہ لوگ اسے سیکھ کر باروزگار بھی ہوئے ہیں اور انٹرنیٹ سے بھی جڑے ہیں۔ لیکن آج بھی  اردو زبان میں کمپیوٹر تکنیک کی خبروں کو عمومیت سے پھیلانے کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ہے۔ سن ۲۰۰۱ سے ۲۰۰۷ تک ایک رسالہ ’’نئی شناخت‘‘ کے نام سے جاری تھا۔ (جو کچھ حد تک زمینی سطح کے لوگوں کو آسانی سے کمپیوٹر تکنیک سے ہم آہنگ کرانے میں مدد کرتا تھا، جو سرمایہ کی کمی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے کسمپرسی کا شکار ہو کر بند ہو گیا۔) روزنامے، ماہنامے اور ہفت روزہ میںکچھ مواد اب بھی شائع ہوتے ہیں جن میں اکثر خانہ پری ہوتی ہے۔بعض لوگوں نے جرنل تک شروع کر رکھا ہے۔ لیکن اُن میں اکثر معلومات غیر پختہ یا غلط ہیں۔ پورٹل کے ایڈیٹروں سے پوچھنے پر یا تو جواب نہیں ہے یا بے سر پیر کا جواب ہے۔ اُس قسم کے جواب ہم گزشتہ بتیس برسوں سے سنتے آرہے ہیں۔ مواد خواہ الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ فراہم کی جائے یا پرنٹ میڈیا کے ذریعہ نوے فیصد لوگوں کا رُجحان اور مقصد پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ بقیہ جو دس فیصد ہیں اُنہیں مادی وسائل کی کمی نہ ہونے کی وجہ سے اتنی رقم وہ بطور تفریح خرچ کر سکتے ہیں۔ جو لوگ انٹرنیٹ کا استعمال اردو میں کرتے ہیں دراصل اُن کی اپنی نگارشات صرف دوسرے انٹرنیٹ یوزر تک ہیں پہنچ پاتی ہیں۔ عام آدمی آج بھی اس سے دور ہی رہتا ہے۔ اُس زمینی حقیقت کو جوڑنے کے لئے نئی شناخت جاری کیاگیا تھا۔ جس میں ناکامی ہوئی۔ حالانکہ اردو کے جن تکنیکی اداروں میں ان پیج سیکھنے کے لئے جس کتاب سے مدد لی جاتی ہے، وہ میری(راقم الحروف) ترتیب کردہ ہے۔ این سی پی یو ایل جو اردو میں کتاب چھاپ رہی ہے دراصل وہ ان پیج مینوول کا اردو کا حصہ ہے، جسے ہم نے سافٹ ویئر کے لئے ۱۹۹۶ میں تیار کیا تھا۔ بعد میں کچھ لوگوں نے اُس میں نقب لگا کر ایک دو کتابیں مختلف ناموں سے تیار کی جس کا مقصد صرف یہ بتانا کہ ہم بھی اب کچھ کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ جب کہ وہ ایک غیر مکمل اور غلط رہنمائی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ہم نے اُن کی ویب سائٹ دیکھی، اُن سے فون پر رابطہ کیا تو بات کرنے کے لئے اُن کے پاس وقت نہیں تھا۔ کیونکہ اردو میں وہ اپنی کمپوزنگ کی غلطیاں سدھارنا نہیں چاہتے۔  یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ زبان و املا کی اغلاط سے پر کتابیں اور اخبارات و رسائل فراہم کر دینا اگر اردو زبان کی ترقی ہے تو مان لینا چاہئے کہ اردو زبان ترقی پر ہے۔ ورنہ زمینی سطح پر اس کے برعکس ہے۔ وہ اس لئے کہ پوچھے جانے پر مدیران و مصنّفین حضرات کا جواب ہوتا ہے کہ ’’میاں یہ کمپیوٹر کی غلطی ہے۔ اگر زیر تھوڑا سا اِدھر کے بجائے اُدھر لگ گیا تو کیا حرج ہے‘‘ ؟ تو میرا سوال اُن اردو دانوں سے ہے کہ کمپیوٹر کو کون سدھارے گا؟ یا سافٹ ویئر کو کون صحیح کرے گا؟ اور اگر سافٹ ویئر  صحیح اور سدھرے ہوئے ہیں تو ہم استعمال کنندگان کب صحیح لکھیں گے؟ کیا یہ اردو والوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟
انٹرنیٹ کی وجہ سے اردو ادب کا تھوڑا چل چلائو تو ضرور ہوا ہے جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے لیکن زبان کے معاملے میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے۔املا اور جملہ کی غلطیاں تو عام ہیں۔چند ایک کو چھوڑ کر کسی بھی علاقے کے اردو اخبار کو اٹھا کر دیکھ لیجئے دس فیصد تک غلطیاں مل جائیں گی۔ ایک فیصد کو معاف کیا جا سکتا ہے یا معیار قرار دیا جاسکتا ہے لیکن دس فیصد غلطی کو معیار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ لغات پر بھی تقریباً ایک صدی کا عرصہ گزر گیا اردو لغت پر کوئی نیا کام نظر نہیں آرہا ہے۔ وہی پرانا ایڈیشن کو بار بار ٹائٹل پر ’’نیا‘‘ لکھ کر شائع کیا جارہا ہے۔ اردو کے جو ڈاکٹر یعنی پی ایچ ڈی پیدا ہو رہے ہیں، اُن کی حالت کو بھی بہتر نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اب وہی زبان و ادب کے معمار کہلارہے ہیں۔ کیوں کہ باقی اردو والے کا معیار بھی گرتا جارہا ہے۔ چند ایک اگر اہل علم اردو والے ہیں بھی تو اُن کو کون پوچھتا ہے۔ یا اب اُن کی سماجی حیثیت کیا ہے؟ صرف اردو کے جلسوں میں صدارت؟ اُن کی عمریں اَسّی سال سے اوپر ہو چکی ہیں۔ اردو والے زیادہ سے زیادہ یہ کریں گے کہ اُن کے نام پر بھی اردو کا ایک نیا مزار بنا لیں گے۔ وہی اردو زبان و ادب ہوگی۔چھپائی کا تو معیار رہ نہیں گیا۔ انٹرنیٹ پر اُن کی زیارت کی جائے گی۔
ابھی تک یعنی گزشتہ بیس سالوں میں اردو کا سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ آیا ہے اکثر اردو کے ڈاکٹر، لکچرر، پروفیسرز وغیرہ نے کمپیوٹر کو اپنی میز پر رکھ کر اسٹیٹس سمبل بنایا ہوا ہے۔بیشتر کو کمپیوٹر کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہے۔ کمپوزنگ بھی صحیح طریقے سے نہیں آتی  یا زیادہ سے زیادہ شعر و شاعری، غزل و افسانے کی کمپوزنگ تک محدود ہے۔ نہ تو نثر کو نثر کے طریقے سے پرنٹ کرنے یا بنانے کی اہلیت ہے اور نہ ہی نظم کو نظم کے فورمیٹ میں کرنے کی صلاحیت۔ اُن کی اولادیں انگریزی پڑھ کے غیرممالک میں اپنی صلاحیتیں کھپا رہی ہیں اور والد بزرگوار کو تحفتاً لیپ ٹاپ دے دیا کیونکہ اولاد کو اتنا تو معلوم ہے کہ اُن کے والد اُردو کے بہت بڑے لکھاڑی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کرناہے؟ کچھ نہ کچھ لکھنا ہے اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتے رہنا ہے۔باقی زندگی اردو کی خدمت کے نام پر کٹ جائے گی۔ایوارڈ بھی مل سکتا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نئی نسل کو اردو سکھانے کے لئے وہ طریقے نہیں اپنائے جارہے ہیں جس سے رسالوں اور اخباروں کی اشاعت بڑھے۔آج بھی ہر اردو والے کے گھر میں کم از کم ایک روزنامہ ، بچے اور بڑوں کے لیے ایک ایک ماہنامہ کی ضرورت ہے۔ جب کہ اردو صرف اس حد تک پڑھی یا پڑھائی جارہی ہے کہ اردو کے نام پرچلنے والی صوبائی اکیڈمیاںحرکت میں رہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اکیڈمیوں کی حرکت میں کمی آجائے یا بے حس ہو جائیں۔ کیونکہ بے حس ہونے یا کم حرکت ہونے کی صورت میں اُس کے گرانٹ میں کمی آجائے گی یا حکومت اُسے بند کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ 
اب ہم تجزیہ کرتے ہیں اردو زبان کے ایک اور پہلو پر جو آج سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر ہم واقعی اردو زبان و ادب کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر روز کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔
۱۔ ’’کیلی گرافی‘‘ کے اسرار و رموز پر ورکشاپ اور نمائش
۲۔ ’’کمپیوٹر‘‘ ۔کمپوزنگ میں غلطیاں کیوں ہوتی ہیں؟ یا تزئین پر ورکشاپ اور نمائش
۳۔’’کیلی گرافی اور کمپیوٹر کا موازنہ‘‘ کے موضوع پر ورکشاپ اور نمائش
۴۔’’تزئین یا ڈیکوریشن‘‘ بذریعہ کیلی گرافی اور کمپیوٹر
۵۔کیلی گرافی اور کمپیوٹر کے موضوع پر مشترکہ ورکشاپ
صوبائی سطح پر کم از کم سال میں ایک بار کیلی گرافی اور کمپیوٹرکے موضوع پر نمائش اور ورک شاپ کیا جاسکتا ہے۔ اگر ضلعی سطح پر بھی ممکن ہو تو کیا جائے۔  اردو زبان و ادب کے بارے میں نئی معلومات بذریعہ سیمینار یا ورک شاپ عوام تک پہنچایا جائے۔
ممکن ہے کہ کچھ لوگ میرے اِن خیالات اور تجربات سے غیر متفق ہوں لیکن حقیقت سے کافی قریب ہے۔ عام معاشرے میں شعوری فقدان تو ہے ہی گلوبلائزیشن نے اتنی تیزی سے ہمارے معاشرے پر اثر ڈالا ہوا کہ ابھی ہمارا ملک خود اِن حالات سے نبردآزما ہونے میں نااہل ہے۔ جس کے اثرات معاشرے کے دیگر شعبے کے ساتھ ساتھ اشاعتی اداروں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اس وقت ہمارا معاشرہ صرف مادّیت پرست بنا ہے۔ شہروں میں تو خاص طور سے یہ اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر سنجیدگی سے مذکورہ امور پر توجہ نہ دی گئی تو آئندہ کے حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔
از: فیروزہاشمی
نوٹ: یہ مقالہ گزشتہ 30 اپریل2016 کو بہار اردو یوتھ فورم کے زیر اہتمام  پٹنہ میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل سیمنیار میں پیش کیا گیا۔
مدیرانِ اخبار و پورٹل بغیر قطع و برید کے شائع کر سکتے ہیں۔ اگر املا یا جملہ کی غلطی ملے تو درست کر لیجئے گا۔ مہربانی ہوگی، میرے اوپر اور اردو قارئین پر۔


--
Mohammad Firoz Alam 
Health & Nutrition Consultant
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com

Firoz Hashmi

unread,
May 9, 2016, 10:09:02 PM5/9/16
to bazme...@googlegroups.com

---------- Forwarded message ----------
From: Firoz Hashmi <firoz...@gmail.com>
Date: 2016-05-09 7:14 GMT+05:30
Subject: Re: [ادب ڈاٹ کوم] ’’اردو زبان و ادب کی اشاعت میں انٹرنیٹ کا کردار‘‘
To: adab dot com <adabd...@googlegroups.com>


قارئین اور ماہرین فن کو جناب عبدالمتین منیری کی درخواست پر توجہ دینا چاہیے، تاکہ  ادبی مواد کے ساتھ ساتھ دیگر حوالہ جاتی کام جیسے لغت، تاریخ، سائنس و تکنیک وغیرہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچے۔ اور آنے والے نسل کے لئے  راہنمائی کا ذریعہ ثابت ہوں۔ اور ہمارے لئے توشہ آخرت بنے۔
اکثر لوگوں کے لئے آج بھی ان پیج اردو ایک مہنگا سافٹ ویئر پیکیج ہے۔ حالاں کہ جو لوگ پائریٹیڈ استعمال کررہے ہیں اگرایک روپیہ روز کے حساب سے بھی ان پیج کے استعمال کا کرایہ کے طور پر بھی ادا کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیں تو اب بھی بہت ساری خوبیاں ’’ ان پیج‘‘ میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ 
ذرا غور کریں اپنے ای میل چیک کرنے کے لئے کم سے کم تین سو روپے ماہانہ تو ضرور خرچ کر رہے ہوں گے۔ وہ سبھی حضرات جو پائیریٹیڈ ان پیج اور انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔
اب تک انٹرنیٹ کا کتنا کرایہ ادا کر چکے ہیں؟اس سے کتنا استفادہ کیا ہے؟
ان پیج سے کتنا استفادہ کیا ہے؟ اور کتنا کرایہ دیا ہے۔؟
اگر یہ ان پیج آپ نے بنایا ہوتا تو کیا آپ مفت فراہم کر دیتے؟ 
ابھی تک دنیا میں جتنے بھی ان پیج کے پائریٹیڈ استعمال کنندہ ہیں، اگر وہ ایک روپیہ روز کے حساب سے بھی بطور کرایہ ادا کر دیں تو ان پیج دوسری زبانوں کے ہم پلہ، شانہ بشانہ چلنے کو تیار ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ چاہیں؟
لیکن میرا سروے (تجزیہ) ہے کہ ’’میرا کام چل جاتا ہے، میں کیوں خرچ کروں؟ نیا بنے گا، پھر پائریسی ہوگی، پھر مل جائے گا، اور میرا کام چلتا  رہے گا‘‘
اس خیال کا اظہار ننانوے فیصد اردو والے نے کیا ہے۔ یہ سوچ آپ کو کس مقام پر لے جائے گی۔ آپ اپنا فیصلہ بہتر کر سکیں گے۔
فیروزہاشمی


2016-05-05 17:01 GMT+05:30 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>:

مکرمی فیروز ہاشمی صاحب  نے  ماہر فن کی حیثیت سے  ایک بہت ہی اہم موضوع پر روشنی ڈالی ہے ۔ جس پر ہم آپ کے شکر گذار ہیں ۔

کمپوٹر اور انٹرنٹ کی دنیا میں اردو کی ترویج و ترقی  کے امکانات بہت روشن ہیں ساتھ ہی یہ تنزل اور انحطاط کا بہت بڑا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس کے لئے رہنمائی کی اشد ضرورت ہے ۔ کمپوٹر اور انٹرنٹ کا ایک اہم مقصد مطلوبہ معلومات تک کم وقت میں بہ آسانی پہنچنا ہے ۔ اس کے لئے علم اور معلومات کی طلب کا داعیہ ہونا ضروری ہے ، ساتھ  ہی معلومات کو مرتب انداز میں جمع رکھنے کا ذوق ہونا ضرروری ہے ۔ اس وقت اردو داں حضرات کی اکثریت اسے وقت گذاری اور انٹرٹینمنٹ کے لئے استعمال کررہی ہے ۔ جو علم کے شیدائی ہیں ا  ن میں ترتیب کے ذوق کا فقدان ہے  ۔  اب انٹرنٹ کی حیثیت ایک بڑی سوپر مارکیٹ کی ہوکر رہ گئی ہے ، جس میں خریدار مطلوبہ چیز بھول کر دوسری  غیر ضروری  چیز یں خرید لاتا ہے  ، اس وقت انٹرنٹ پر اردو کتابوں کی بہتات ہے ، خاص طور پر ہماری ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو جہاں کی سرکاری زبان کنڑ ہے ، اور غالبا وہاں کوئی معقول اور معیاری  اردو بک ڈپو نہیں پایا جاتا،  یہاں پر قائم ایک سرکاری ویب سائٹ نے تو پاکستان سمیت اردو کے نام لیوا اردو مراکز کو مات دے دی ہے ، دہلی کی ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری ، سرینگر کے علامہ اقبال لائبریری سمیت بہت ساری قیمتی لائبریریوں کےعلمی و ادبی مواد اور مجلات اپلوڈ  کردئے ہیں ۔ ایک مرتب ذہن رکھنے والے طالب علم کے لئے یہ نعمت غیر مترقبہ ہے ۔

لیکن اس کا منفی پہلو بھی ہے ، انٹرنٹ اور موبائل استعمال کرنے والے اہل علم کی  ایک بڑی تعداد اپنا وقت صرف انہیں ڈون لوڈ کرنے  پر صرف کررہی ہے ۔ ویسے بھی اردو والے کتابیں خرید کر نہیں پڑھتے ، صرف ڈون لوڈ کی ہوئی کتابوں کو کافی سمجھتے ہیں ، حالانکہ  الکٹرونک کتابوں  کو اپنی ہارڈ ڈسک پر نام  لکھ کر مرتب انداز سے رکھنا کافی وقت طلب کام ہے ، اب مطالعہ کا وقت کتابوں کی ڈون لوڈنگ ، ری نیم ، اور ترتیب کے لئے دیا جائے تو اسے علمی فائدہ نہیں کہا جاسکتا ، اسی طرح جو اردو کتابیں انٹرنٹ پر آرہی ہیں ان کی بک مارک کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا ، کیونکہ یہ محنت طلب کام ہے ، ایک معمولی اردو لغت کو  ایک ہزار بک مارک کی ضرورت پڑتی ہے ، ہم نے بھٹکلیس کے کتب خانے میں جو کتب لغت  ، فیروز اللغات ، القاموس الوحید  عربی اردو ، القاموس الجدید اردو عربی ، اشاریہ معارف اعظم گڑھ ، اشاریہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ لاہور، وغیرہ کئی ایک ریفرنس کتابیں  اپلوڈ کی ہیں ان میں تفصیلی بک مارک  شامل کئے ہیں ۔ اسکین کی ہوئی کتابیں تفصیلی بک مارک کے بعد ہی قابل استفادہ ہوتی ہیں ۔ ہمارے لئے اسکین پر وقت صرف کرنا ممکن نہیں ہے ، لیکن ارادہ یہ ہے کہ جب بھی کسی لغت  یا  مرجع کا کوئی معیاری اسکین کیا ہوا نسخہ دستیاب ہو اسے از سر نو بک مارک کر کے اس کی افادیت  بڑھانے میں ممد و معاون بنیں ۔  احباب اس سلسلے میں مفید کتابوں سے مطلع کرتے رہیں ۔ شکریہ

عبد المتین منیری

 

Description: Muniri Kufi Small

Abdul Mateen Muniri

www.bhatkallys.com

ہماری صوتیات کے لئے جوئن کریں

https://telegram.me/urduaudio

 

سامسونگ اور ایپل اسٹور سے ہماری ایپ انسٹال کرنا نہ بھولیں

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.bhatkallys.urduaudio

 

 

 

From: 'kalim hazique' via Adab dot com [mailto:adabd...@googlegroups.com]
Sent: Wednesday, May 4, 2016 7:45 AM
To: adabd...@googlegroups.com
Subject: Re: [ادب ڈاٹ کوم] ’’اردو زبان و ادب کی اشاعت میں انٹرنیٹ کا کردار‘‘

 

بہت ہی جامع اور پر مغز مقالہ ہے۔مبارکباد۔ اک ذرا جذباتیت سے گریز ضروری ہے ۔ بہت ساری کام کی باتیں رہ جاتی ہیں

 

On Tue, 3 May, 2016 at 3:12 pm, Amna Alam

فیروز ہاشمی صاحب بہت اہم موضع پر قلم اٹھایا ہے
اغیار نے اپنی ایجادات میں اردو زبان کے استعمال کا بهر پور موقع فراہم کیا ہے  لیکن افسوس ہم اردو والے آج بهی رومن میں لکهنا شان سمجهتے ہیں  نئی نسل کو اس طرف راغب کیا جانا بہت ضروری ہے ورنہ یہ تمام چیزیں بے کا ر ثابت ہو گی اور اردو رسم الخط کہیں قصہ پارینہ بن جائے گا

--
Urdu's Important sites
@@@@@@@@@@
http://www.gopichandnarang.com
https://rekhta.org/?lang=Ur
http://www.urduyouthforum.org
http://samt.bazmeurdu.net/
http://urdu.ca
http://sherosokhan.com
http://dastak-urduduniya.com/
http://www.urdumanzil.com/
http://www.urdusukhan.com/
http://www.urdudil.com/
www.bhatkaltv.com
www.urduaudio.com
https://urdulinks.com/urj/
http://universalurdupost.com/
https://www.facebook.com/groups/adabdotcom/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Adab dot com" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to adabdotcom+...@googlegroups.com.
To post to this group, send email to adabd...@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/adabdotcom.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/adabdotcom/CALg-b-KOWfHJSrNVNtnoxS7BDWSQtSSq0Wu8u8ycCZmmiNKeOA%40mail.gmail.com.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
Urdu's Important sites
@@@@@@@@@@
http://www.gopichandnarang.com
https://rekhta.org/?lang=Ur
http://www.urduyouthforum.org
http://samt.bazmeurdu.net/
http://urdu.ca
http://sherosokhan.com
http://dastak-urduduniya.com/
http://www.urdumanzil.com/
http://www.urdusukhan.com/
http://www.urdudil.com/
www.bhatkaltv.com
www.urduaudio.com
https://urdulinks.com/urj/
http://universalurdupost.com/
https://www.facebook.com/groups/adabdotcom/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Adab dot com" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to adabdotcom+...@googlegroups.com.
To post to this group, send email to adabd...@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/adabdotcom.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/adabdotcom/CAGfQ8DjrP6dP1oMAEF5nKCK7tSC%3DD4O_gYPGo4AAGRxdnKas7g%40mail.gmail.com.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
Urdu's Important sites
@@@@@@@@@@
http://www.gopichandnarang.com
https://rekhta.org/?lang=Ur
http://www.urduyouthforum.org
http://samt.bazmeurdu.net/
http://urdu.ca
http://sherosokhan.com
http://dastak-urduduniya.com/
http://www.urdumanzil.com/
http://www.urdusukhan.com/
http://www.urdudil.com/
www.bhatkaltv.com
www.urduaudio.com
https://urdulinks.com/urj/
http://universalurdupost.com/
https://www.facebook.com/groups/adabdotcom/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Adab dot com" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to adabdotcom+...@googlegroups.com.
To post to this group, send email to adabd...@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/adabdotcom.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/adabdotcom/1536690392.5083799.1462333489088.JavaMail.yahoo%40mail.yahoo.com.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/adabdotcom/06a101d1a6c1%24a4b55060%24ee1ff120%24%40gmail.com.

For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.



--
Mohammad Firoz Alam 
Health & Nutrition Consultant
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com

Dr.Muhammad Mukhtar Alam

unread,
May 10, 2016, 12:35:12 AM5/10/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Mohtaram , Meri moaddabana guzarish hai ke is khat ka Urdu tarjuma koi apne tareeke se kar mujhe aga bhej sakein to ise mushtarika takhleeq ke taur per shaya kiya jai. 
Arrest of some youths in Delhi shows the need to let let all know the identity of 49th Imam Kareem Shah Al Hussaini, as the Imam e Zamana for our age. I am also educating Brahmins ,Jews, Buddhists on this.
 
Muhammad Mukhtar Alam,Ph.D.
Managing online networks for Movement for Transition to Post Carbon Green India http://transitionurbanindia.ning.com  ,Ecostrategic Communicators for Carbon-Neutral Leisure  http://ecostrategiccommunicators.ning.com
and Champions of Indian Muslim Economic Development Agency http://imedaindia.ning.com
Papers and Presentations at http://slideshare.net/mukhtaralam
Tel:+9968345380


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages