
ذیل میں دیا گیا مضمون پڑھ کر شدید حیرت ہوئی ہے ۔ مضمون نگار نے محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ حقائق کے بالکل برعکس ہے ۔ محمد بن قاسم کا سندھ - دیبل (کراچی) پر حملہ تبلیغی مقاصد کے لئیے ہرگز نہیں تھا اس لئیے اسکو جہاد کہنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور اسلام اور اہلِ اسلام کے ساتھ مذاق ہے ۔ وہ مقاصد قطعی طور پر مختلف تھے جن کے تحت محمد بن قاسم کے چچا حجاج بن یوسف نے اسکو اس معرکے کے لئیے روانہ کیا تھا ۔ تاریخ میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ جس کی بناء پر حجاج بن یوسف کو ایک اچھا مسلمان تک سمجھا جا سکے ۔ وہ ایک سفاک اور فاسق انسان تھا جس نے بیت اللہ شریف پر حملہ کیا اور حرم شریف کے اندر خون کی ہولی کھیلی ۔ اس کی موت پر اس وقت کی اسلامی مملکت کی رعایا نے شکرانے کے نوافل پڑھے تھے بلکہ یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللہ علیہ) نے بھی اطمینان کا اظہار کیا تھا ۔ ایسے فاسق انسان سے کسی طور یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی یا رکھی جانی چاہئیے جس کا ذکر موصوف نے اس مضمون میں کیا ہے ۔
مزید برآں محمد بن قاسم کی فتوحات ہمارے لئیے ہرگز باعثِ فخر نہیں کہلا سکتیں کیونکہ یہ ہماری غیرتِ ملی پر براہِ راست حملہ قرار پاتی ہیں ۔ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ ایک خارجی قوت نے ہماری سرزمین پر حملہ کر کے ہمارے اجداد کو تہس نہس کیا ، نہ جانے ہماری کتنی ماؤں بہنوں کو پامال کیا ہو گا اور ہم اسی سفاک قوت کو اپنی تاریخ کی شہ سرخی بنانے میں رتی بھر عار نہیں سمجھتے ۔

السلام علیکم،
آج کل بعض قلمکارمغربی افکار سے بھیک میں لی ہوئی تلچھٹ کو نام نہاد "متبادل تاریخ" کے عنوان کے تحت پیش کرنے لگے ہیں اور یہ فریب کن اصطلاح صرف اس لئے استعمال کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ماضی پر فخر کے بجائے شرمساری کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔ تاریخ کو مسخ کرنے کی اس ناپاک کوشش کو تاریخ کے سنوارنے کا نام دیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ دعوی کبھی نہ تھا کہ تمام مسلمان بادشاہ اور حکمران لشکرِ اولیاء اللہ تھے اور ان سے کوئی خطا سرزد نہیں ہوئی۔ حکمران میدانِ سیاست کے لوگ ہوتے ہیں جن کو صالحین اور بزرگوں کے معیار تقوی کی ترغیب تو ضرور دی جاتی ہے مگر ان سے توقع کم ہی کی رکھی جاتی ہے۔
مسلمانوں کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی ظلم و ستم کے وہ بازار گرم نہیں کئے جو ان متبادل تاریخ نگاری کی آواز لگانے والے مستشرق محققین کے حکمرانوں نے انجام دئے ہیں۔ جنوبی افریقہ ہو یا آسٹریلیا، امریکہ ہو یا کینیڈا ان سب جگہوں کے اصل باشندوں کے ساتھ ان مغربی اقوام نے جو ظلم و ستم روا رکھے اور جیسے ان کی نسل کشی کی وہ پوشیدہ داستانیں اب آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے آرہی ہیں۔ کروڑوں بے گناہوں کا قتل کرنے والے مغربی ممالک کے مفکرین آج مسلمانوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ تمہارے ہاں جو کچھ بھی تاریخ میں لکھا جاتا رہا ہے وہ غلط تھا اور صحیح یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے جنگیں لڑیں اور حکومتوں پر قبضے کئے۔
اس طرح کے تمام مستعار افکار مسلمانوں کے خلاف اُس نظریاتی جنگ کا سامانِ حرب ہیں جو مغرب نے شروع کی ہوئی ہے، جس کے تحت وہ کبھی صوفی ازم کے نام سے اسلام کی بزعم خود صحیح تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی متبادل تاریخ نگاری کے نام سے مسلمانوں کا اپنے ماضی سے رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے سادہ لوح مسلمان اپنے قومی اور نسلی تعصبات سے اوپر اٹھ کر یہ نہیں دیکھتے کہ ان افکار میں ان کے اپنے خلاف کیا کچھ شکر کی تہوں میں چھپا کر پیش کیا جارہا ہے۔
آج محمد بن قاسم کو برا بھلا کہنے کو رواج دیا جارہا ہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کل صحابہ کرام کے زمانوں میں جو جہاد ہوئے ان پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں گی اور آخر میں غزوات نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے یہ متبادل تاریخ نویس اپنے خدمات پیش کریں گے۔
ایک وضاحت یہ بھی ضروری ہے کہ جہاد کا مطلب صرف تبلیغ دین کے لئے لڑنا نہیں ہے۔ اپنے مسلمان وطن کا دفاع، عزتوں کا دفاع اور مال کا دفاع اگر قومی سطح پر کیا جائے تو یہ بھی جہاد کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ہر وہ عمل جس سے مسلمانوں کو من حیث القوم دفاع ملے وہ جہاد کے تحت داخل ہے۔ جہاد پر قرآنی آیات ک مطالعہ کیجئے جن میں واضح طور پر ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کو جہاد کہا گیا ہے۔
میری عاجزانہ درخواست ہے کہ از راہِ کرم ان چند ہستیوں کو اپنی مشق ستم سے ذرا بچا رکھئے جن ہستیوں پر عالمِ اسلام کیا بلکہ انسانیت کو ناز ہے اور جن کے عدل و انصاف کی گواہی ان کے غیر مسلم رعایا نے دی۔ ہمارے آباء و اجداد اگر غیر مسلم تھے تو ان سے محض خونی رشتے کی بناء پر تعلق قابلِ فخر ہرگز نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے: "لاتجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الآخرِ یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا آبائہم او اخوانہم او عشیرتہم" (سورۃ المجادلۃ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت کا تعلق نہیں رکھتے خواہ وہ (اللہ کے دشمن) انکے باپ یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں۔
حیرت ہے افتخار صاحب نے محمد بن قاسم کی فتوحات کو غیرتِ ملی پر براہِ راست حملہ کیسے قرار دیدیا ہم تو مسلمان ہیں اور محمد بن قاسم نے تو ظالم ہندووں پر حملہ کیا تھا، ہم دونوں کی ملت تو بالکل الگ ہے؟!! محمد بن قاسم کا حملہ ہرگز شرمناک بات نہیں ہے کیونکہ یہ حملہ آج ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لانے کا سبب بنا ہے۔ محمد بن قاسم کو "ایک خارجی قوت" اور "ہمارے اجداد کو تہس نہس کرنے کا مجرم" قرار دینے والے ذرا خیال کریں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ہندوستان کی آٹھ سوسالہ مسلم تاریخ میں کبھی مسلمانوں نے محمد بن قاسم کو اس طرح کا مجرم نہیں گردانا جیسے آج کے جدت پسند دانشور ان کو مجرم قرار دیتے پھرتے ہیں۔ افتخار صاحب نے یہ مہربانی ضرور کی کہ محمد بن قاسم پر ماؤں بہنوں کی پامالی کا الزام احتمالی انداز میں ذکر کیا ("نہ جانے ہماری کتنی ماؤں بہنوں کو پامال کیا ہو گا") شاید ان کو یہ خیال آگیا ہوگا کہ یہ کام راجہ داہر صاحب مسلم عرب خواتین کے ساتھ انجام دینے پر تلے تھے جس کے نتیجے میں وہ جہنم رسید ہوئے اور رعایا کو سکون اور چین نصیب ہوا۔ اور محمد بن قاسم کو "سفاک قوت" کہنے میں ان نام نہاد تاریخ نگاروں کو عار محسوس کرنی چاہئے جو اس تاریخی حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں کہ محمد بن قاسم کی واپسی پر غیر مسلم رعایا نے ان کو روکنے کی کوششیں کیں اور ان کی مورتیاں بنا کر پوجیں۔ اپنی قابلِ فخر تاریخ کو مسخ کرنے میں جو لوگ رتی بھر عار نہیں محسوس کرتے وہ دوسروں کو کس بات کی تلقین کرتے ہیں؟ کیا وہ اپنے ہاں اسلام آجانے پر شرمندہ ہیں یا ان کو راجہ داہر کی رعیت نہ ہونے کا ملال جینے نہیں دے رہا ہے۔
ارشاد احمد - کراچی
--------------------------------
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹر پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
السلام علیکم:
آپ نے اپنا نام شریف درج نہیں فرمایا ورنہ آپ کا نام لکھ کر ہدیہِ تبریک پیش کرتا ۔ سیانوں کا فرمان ہے کہ گفتگو انسان کی شخصیت اور اسکے کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ آپ کی تحریری گفتگو ماشاء اللہ اسلامی تعلیمات کا اعلیٰ ترین نمونہ اور آپ کے بزرگوں کا عکس پیش کرتی ہے ۔ آپ کے تربیت کندگان واقعی قابلِ تعریف ہیں ۔ ماشاء اللہ آپ پکے اور سچے مسلمان لگتے ہیں ۔ آپ جیسے اخلاقِ حسنہ کے پیکر کو پا کر دل کرتا ہے کہ آپ کے دستِ اقدس پہ اسلام قبول کیا جائے ۔ بہت خوب keep it up
سلام مسنون:
محترمی ارشاد صاحب ، آپ نے بڑے موزوں انداز میں خود ہی اس حملے کی غرض و غایت بیان فرما دی ہے اور آپ کی تحریر کردہ سطور کے جواب میںصرف یہ عرض کرنا چاہونگا کہ چشمِ تصور میں ذرا خود کو سن ۷۱۱ / ۷۱۲ عیسوی میں لے کر جائیں ، تصور میں لائیں کہ آپ اُس وقت کے سندھ کی رعایا کے ایک فرد ہیں ، آپ کی مملکت کی پولیس سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی جہاز یا کسی کشتی کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے ، معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہوتا ہے کہ آیا جہاز میں سوار لوگ سمندری قزاق ہیں یا تجارت کی غرض سے آئے ہوئے لوگ محض غلط فہمی کی بناء پر خلاف ورزی کر بیٹھے ہیں ، اور اسی دوران اچانک ہی ہزاروں کا لشکر رات کی تاریکی میں آپ کی بستیوں پر حملہ کر دیتا ہے اور پھر اس کے بعد جو کچھ ہو تا ہے اس کو آپ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرماتے ہیں ۔ ان بستیوں میں سے کسی ایک کے باسی ہونے کی حیثیت سے اب اس پسِ منظر میں ایک بار پھر میری معروضات کو پڑھیں اور صورتحال پہ تبصرہ فرمائیں اور مزید یہ کہ قرآنِ پاک کی اُس آیتِ کریمہ کو اب اس صورتحال پر منطبق فرمائیں اور جائزہ لیں کہ کیا واقعی اللہ نے یہ آیتِ پاک ایسے ہی لوگوں کے لئیے نازل فرمائی تھی جن کا ذکر یہاں ہو رہا ہے ۔
اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئیے کہ محمد بن قاسم کی مورتیوں میں سے کوئی مورتی کسی ہیئت میں ہنوز ہمارے اندر تو موجود نہیں جسکی ہم فکری طور پر پرستش کرتے چلے آ رہے ہیں !!!!!
خیراندیش - افتخار احمد
The information contained in this communication is intended solely for the use of the individual or entity to whom it is addressed and others authorized to receive it. It may contain confidential or legally privileged information. If you are not the intended recipient you are hereby notified that any disclosure, copying, distribution or taking any action in reliance on the contents of this information is strictly prohibited and may be unlawful. If you have received this communication in error, please notify us immediately by responding to this email and then delete it from your system. The firm is neither liable for the proper and complete transmission of the information contained in this communication nor for any delay in its receipt.