مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی

785 views
Skip to first unread message

Firoz Hashmi

unread,
Jul 5, 2012, 6:57:41 AM7/5/12
to bazme...@googlegroups.com

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی-ذمہ دار کون؟

            فیروزہاشمی

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی-ذمہ دار ہم؟ کیوں کہ ہم ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔ ہم ذہنی طور پر پسماندہ کیوں اور کیسے ہوئے؟ حالانکہ ہمیں مالک حقیقی نے بہتر شکل و صورت، جسم و شباہت، ذہن و دماغ، ضروریاتِ زندگی وغیرہ سب کچھ فراہم کیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ  فَاَبَوَاہُ  یُہَوِّدَانِهٖ اَوْ یُنَصِّرَانِهٖ اَو یُمَجِّسَانِهٖ (بخاری ومسلم)

ہر بچہ فطرتِ پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی و عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔

یہاں فطرت سے مراد فطرت اسلام ہے۔ ظاہر ہے جو جس مذہب کا ہوگا وہ اپنے بچوں کو ویسی ہی تربیت کرے گا۔ ہمارے اکابرین اب دولت پرست اور عیش پرست ہو گئے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی اولاد کوبھی اُسی جانب رغبت دلاتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نسلیں صرف پیسہ پرست بنی ہیں۔ خود وہ لوگ جنہوں نے دین کے پھیلانے اور فروغ دینے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، اُن کی اکثریت کا بھی دولت حاصل کرنا اوّلین نشانہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اُن اداروں کے فارغین بھی ویسا ہی چاہتے اور کرتے ہیں۔ یعنی ہماری زندگی پر سب بڑا اور پہلا اثر سوچ کا ہے۔ ہماری سوچ کا جو معیار ہوگا وہی ہماری ترقی یا پسماندگی کا سبب ہوگا۔

ہماری سوچ کا پہلا اثر ہمارے اخلاق و کردار پر ہوگا۔ یہ بہت بڑی بات ہے اور تفصیل طلب ہے لیکن بے شمار مثالیں آپ معاشرے میں خود مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ غیر برابری کا رویہ رکھتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے جو اور جہاں سہولیات دستیاب نہیں ہیں، وہ اپنی جگہ ایک منفرد بحث ہے۔ وہ اپنے طریقے کے مطابق کرے گی جلد یا بدیر۔ لیکن جہاں اور جو سہولتیں ہمیں مہیا ہیں کیا ہم اُن کا صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں؟ آئے دن اخباروں میں مسلم علاقوں کی پسماندگی کی جو خبریں شائع ہوتی ہیں کیا اُس پریشانی کے لئے صرف حکومت ذمہ دار ہے؟ ذرا غور کریں مسلم علاقوں میں جو سرکاری اسکول موجود ہیں، کیا وہ حقیقی معنوں میں اسکول جیسے لگتے ہیں۔ ہم نے دہلی کے بہت سارے سرکاری اسکولوں کو دیکھا لیکن جو خالص مسلم علاقوں میں ہے وہاں جاکر آپ خود مشاہدہ کریں کہ اگر وہ اسکول کسی اہم سڑک یا گلی میں واقع ہے تو اس کی دیوار کے سہارے زمینوں پر عام لوگوں کا قبضہ ہے۔ یا تو گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہوگا یاریڑی پٹری پر دکانیں لگی ہوں گی۔ یہاں تک کہ جو صدر دروازہ ہوگا وہ بھی مختصراً چار یا پانچ فٹ چوڑا ہوگا، جو ڈھونڈنے کے بعد ملے گا۔ اگر گارجین کو ملنے جانا ہوتاہے تو وہ کن حالات سے گزرتا ہے یہ بتانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ یہ بات اُن سے ہی پوچھ لیا جائے کہ تم پر کیا گزری؟ اور تم اسکول کا معیار کیسا چاہتے ہو؟ اسکول کی دیواروں کے سہارے غلط طریقے سے رہائش، پارکنگ، کوڑا کرکٹ ، ملبہ،قضائے حاجت کے لئے استعمال کرنا، کیا اسکول کے ماحول اور آب و ہوا پر اس کا اثر نہیں پڑے گا؟ کیا یہ اخلاقی معیار کو متأثر نہیں کرے گا؟تعلیمی اداروں سے متعلق و علی ہذاالقیاس اس طرح کی بے شمار منفی مثالیں مل جائیں گی۔

اب آئیں دوسرے نمبر پر: رفاہی ادارے۔ ہمارے یہاں رفاہی اداروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہم دہلی کے ایک ایسے علاقے سے روزانہ گزرتے ہیں جہاں ہر سو میٹر پر ایک رفاہی ادارہ رجسٹرڈ ہے۔ چند ایک کو میں نے جاننے کی کوشش کی، اندر جاکر دیکھا تو عجیب سی کسم پرسی کا عالم پایا۔ یہ ادارہ بیٹھے بٹھائے کمائی کا بہتر ذریعہ ہے۔ ایک بار محنت کرنی پڑتی ہے پھر سلسلہ چل پڑتا ہے آمدنی کا۔ اس کا مصرف کیا ہے؟ وہ کس کے لئے رفاہ کا کام کرتے ہیں؟ اس کے لئے وہ سال کے دو تین مہینے ایسے ہیں جن میں لوگ جان جاتے ہیں کہ اس ادارے میں مسلمانوں کی فلاح کے لئے کام کیا جاتا ہے۔ مثلاً رمضان، عید اور بقرعید یہ تین مہینے تو اُن کے لئے کمائی کا بہتر ذریعہ ہے اور عوام سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا بھی۔ ان مہینوں میں یہ افطار کٹ، عیدی اور بقرعیدی کرکے وہ اچھا خاصا نام کما لیتے ہیں اور دولت مندوں سے اچھا خاصا تعاون زکوٰة و خیرات کے مد میں وصول ہو جاتا ہے۔ وصولیابی کا تو آپ کو پتا نہیں چلے گا ہاں خرچہ کا اندازہ آپ کو ان تینوں مواقع پر اخباروں اور انٹرنیٹ پر شائع شدہ خبروں، رپورٹوں اورتصاویر کے ذریعہ ہو جائے گا۔ کچھ مواقع اور ہیں جیسے سردیوں میں لحاف، کمبل، گرم کپڑے وغیرہ کے نام پر۔ اس کے علاوہ ناگہانی آفات جس کا ہمیں پتا نہیں ہوتا، یہ کبھی بھی اور کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے لیکن بازآبادکاری کے نام پر چند دنوں کا سامان۔ خواہ سیلاب، آگ، پانی یا طوفان۔ آدھی سردی نکل جائے گی تو لحاف اور کمبل جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لئے اخباروں میں اشتہار دیئے جائیں گے۔ رمضان المبارک میں دھکم پیل افطار کٹ بانٹیں جائیں گے۔ اُن اشیاءکی تقسیم کے لئے عموماً ٹوکن بنائے جاتے ہیں، یہ ٹوکن زیادہ تر اُن اداروں میں کام کرنے والے کارندوں کے ہاتھوں تقسیم کرائے جاتے ہیں کہ بھائی فلاں دن فلاں جگہ یہ چیز تقسیم کی جائے گی، جاکر لے لینا، جو وہ زیادہ تر اپنے جاننے والے یا رشتہ داروں کو دیتے ہیں بلا لحاظ کہ وہ شخص واقعی اس چیز کو لینے کا مستحق ہے؟ دوسرا اہم پہلو یہ کہ جن ناداروں کو اس طرح کی امداد دی جاتی ہے انہیں کیوں نہیں اہل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کی قطار لگتی ہے اور انہیں جزوقتی کھانا کپڑا وغیرہ کا بندوبست کر دیا جاتا ہے جبکہ وہ پھر اپنی وہی پرانی حالت میں ہو جاتے ہیں۔ ضرورت مند ایسے بھی ہیں جن کے گارجین کی اتنی آمدنی نہیں کہ وہ اپنے ہونہار بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

شاید ہی کسی ادارے کے پاس یہ فہرست ہوگی کہ فلاں علاقے میں ادارہ یہ کام کر رہا ہے۔ اسے وہاں رہنے والے ضرورت مندوں کی صحیح تعداد کا علم ہے اور اس ادارے کے ذریعہ انہوں ایک سال میں یا ایک مقررہ مدت میں کتنے لوگوں کو مالی اعتبار سے خود کفیل بنایا؟ یا کتنے ضرورت مند طالب علموں کی تعلیم پر خرچ کرکے اس لائق بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم قوم ہر جگہ سوالی کی طرح نظر آتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے دوست احباب اور ملنے ملانے والے یعنی ملاقاتی حضرات بھی ان مہینوں میں ہماری خیریت دریافت کرتے ہیں اور ساتھ میں افطار وغیرہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن پورے سال میں شاید ہی کبھی توفیق ہوتی ہوگی کہ وہ اُن کی خیریت یا صورتِ حال دریافت کرلیں کہ کیا واقعی ہمارا دوست یا پڑوسی کسی مسئلہ سے دوچار ہے؟ اور ہماری کسی تعاون کا مستحق ہے؟

جب کوئی ضرورت مند اُن رفاہی اداروں میں مالی امداد یا تعلیمی امداد کے لئے جاتا ہے تو اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اُس کا بہت غلط اور منفی نتیجہ میرے سامنے آیا، جو ناقابل بیان ہے۔ جب کہ کسی بھی قوم کے بچے کو تعلیمی اعتبار سے بہتر بنانے کے لئے سب سے پہلے ذہنی نشوونما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ان کے رویہ سے یہ بچے اور اُن کے گارجین سخت مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی اپنی طاقت سے جینے کی صلاحیت میں بھی کمی آجاتی ہے۔ ایسے اداروں کی طرف سے جن ضرورت مند لوگوں کے ساتھ بھی منفی رویہ اختیار کیا گیا ہے یا جو لوگ بھی اُن اداروں سے بہتری کی امید لے کر جاتے ہیں اور ناامیدی ہاتھ آتی ہے، میرا مشورہ ہے کہ اُن کی مالی حیثیت جتنی بھی ہے اُسی میں کوشش کریں لیکن اپنی ذہنی صلاحیت کو ابتر ہونے سے بچا لیں، انشاءاللہ آپ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب و سرخرو ہوں گے۔

عمومی طور پر یہ مسئلہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہمارے بچے اکثر درمیان میں تعلیم ترک کرکے کسی پیشہ سے جڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ معاشی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔جب تک ممکن ہوا خیراتی اداروں خواہ و سرکاری ہو یا غیر سرکاری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جب آگے کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ان پاس پیسہ نہیں ہوتا تو وہ تعلیم ترک کے کسی نہ کسی پیشہ میں لگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ بلکہ مجبوراً کام کرناپڑتا ہے۔ مسلمانوں میں تعلیم ترک کر دینے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اہل علم اور اہل ہنر کو اُن کے اداروں میں معقول معاوضہ ادا کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ انٹرویو کے وقت جب اہل شخص مل جاتا ہے تو ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کم سے کم کتنی اجرت میں کام کر لیں گے؟ ایک بار جب میں نے اسی سوال کے جواب میں سوال کر دیا کہ آپ نے اس پوسٹ کے لئے کتنا معاوضہ مقرر کیا ہے؟ تو جواب یہ ملا کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے ضرورت مند ہیں؟ تو میں نے اپنی ضرورت کے مطابق بتایا کہ کم سے کم مجھے اتنا معاوضہ چاہئے اور میں جتنا کام جانتا ہوں اس کے مطابق اتنا (جو کہ پہلے والے سے بھی زیادہ تھا) تو انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو صرف اتنا دے سکتے ہیں جو میرے طلب کئے گئے معاوضہ کا نصف بھی نہیں تھا تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورت کے مطابق دیتے ہیں؟ جب کہ ان ہی کے کہنے کے مطابق نہ تو میرا معاوضہ میری اہلیت کی بنا پر دینے کو راضی ہوئے اور نہ ہی میری ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ تو ایسی صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان اداروں کے ذمہ داران ہمیں مجبور کر کے ہمارا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ کسی بھی میدان میں کام کا معیار اہلیت اور اس کے مطابق اس کا معاوضہ طے ہوتا ہے۔ کئی صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے بھی تعلیمی اعتبارسے ایک دن کا کم سے کم معاوضہ متعین کر دیا ہے۔ جب کہ آج بھی ان اداروں میں کام کرنے والوں کو آدھا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اُن رفاہی اداروں کے بارے میں عام رائے یہی بنے گی کہ اُن کے ذمہ داران اسے اپنی مالیت سمجھتے ہیں اور اس کا استعمال اسلامی طریقے پر نہ کر کے اپنے خود ساختہ طریقوں پر کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قوم کا جاہل اور مجبور طبقہ ہمیشہ ہی جاہل اور مجبور ہی رہتا ہے کیوں کہ اسے مجبوری سے نکالنے اور جہالت سے علم کی طرف لے جانے والی اصل مشینری ہی ناکارہ ہے۔

چند فیصد جو یونیورسٹی کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں وہ بھی صرف نام اور شیخی بگھارنے کی حد تک۔ تعلیمی اعتبار سے اب پی ایچ ڈی کی ایسی کھیپ تیار ہو رہی ہے کہ اُن میں بہتوں کا اپنے مضمون سے ایک فیصد کا بھی تعلق نہیں ہوتالہٰذا ایسے ٹیچر، لیکچرر، ڈاکٹر یا پروفیسرکتابوں کا بوجھ تو دنیا کو دے جاتے ہیں جو کہ ”محقق بود نہ دانشمند-چارپائے بروکتابے چند“ کی مثال بنتے ہیں۔ اس کی تفصیل کیا بیان کی جائے۔ حال کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں: اکتوبر 2012ءمیں ہمارے ایک شناسا کے ذریعہ حیدرآباد سے ایک دعوت نامہ وصول ہوا جس میں ”اسلامی فن و ثقافت کے موضوع پر ایک سیمینار کے انعقاد کی خبر تھی اور مختلف موضوعات پر مقالہ پیش کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ دعوت نامہ اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں شائع شدہ ہیں۔ مختلف عنوانات میں سے ایک عنوان تھا ”ہندوستانی سماج پر مسلمانوں کے اثرات“ اور اس کا انگلش ترجمہ یا عنوان تھا: Islamic influence on Indian society

اہل علم نے مسلمان اور اسلام کی الگ الگ تشریحات کی ہیں۔ قرآن و احادیث سے بھی ان کی دو مختلف تشریحات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہ آسکی کہ ایک قومی یونیورسٹی ”مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی“ کے ارکان نے اس طرح کا عنوان کیسے تجویز کیا؟ جو کہ اردو میں ہے وہ انگریزی میں نہیں اور انگریزی لفظ سے جو ظاہر ہورہا ہے وہ اُردو سے نہیں۔ اسلام اور مسلمان کی تشریحات عالموں نے خوب کی ہے۔ میں یہاں اتنی لمبی تشریح کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اسلام وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے عرش عظیم سے سیّدالانبیاءمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔ یہ وحی آج دو صورتوں میں ہمارے پاس موجود ہے۔ (۱) قرآن مجید(۲) صحیح حدیث۔ مختصراً یہ کہ ”اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے“ جس کا الہامی پیغام قرآن مجید کی صورت میں موجود ہے۔ اسلام کی تکمیل کا ثبوت قرآن مجید کی آخری آیت ” الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا “ (سورة المائدة:۵، آیت:۳) [آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمتوں کا اتمام کر دیا اور تمہارے لئے بطور ”دین“ اسلام کو پسند کیا] سے ملتا ہے۔ سب سے بہتر اسوہ یا طریقہ اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خود قرآن مجید نے اعلان کیا ہے ” وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى “ (سورة النجم: ۳ ۵، آیت: ۲-۳) [وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کہتے وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اُن کو بذریعہ وحی بتا دی جاتی ہے] اس روئے زمین پر بسنے والے وہ انسان جو قرآن و حدیث کی پیروی کرتے ہیں یا یہ کہ جو اللہ اور رسول کو مانتے ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔

تعلیمی پسماندگی کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔چند ایک یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلی وجہ انتشار۔ عقیدہ، سوچ۔ تعلیم، گھریلو، علاقائی، ذاتی، زبان وغیرہ۔ صرف انتشار ہی ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلم قوم کے طبقہ کا اتحاد ہے۔ سب سے پہلے تو یہاں کی مسلم قوم ملّی انتشار کا شکار ہے۔ انہوں نے ملت کی خیرخواہی اور بھلائی کے نام پر ہزاروں تنظیمیں، کونسل اور جماعتیں بنا رکھی ہے۔ ہر تنظیم کے روح رواں اور ان کے کچھ خاص لوگ تنظیم چلانے کے نام پر قوم سے چندہ وصول کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کی بھلائی کے نام پر اپنے لوگوں کی بھلائی کا کام زیادہ کرتے ہیں۔ گویا ایک طرح سے یہ سب تنظیمیں قائم مذہب اسلام کے نام پر ہوئی ہیں۔ انسانیت کی بھلائی کے نام پر ہوئی ہیں۔ اور ہر روح رواں کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ ملت کی صحیح سمت رہنمائی کرنے کا کام انجام دیتے ہیں لیکن یہ اُن کا دعویٰ ہے۔ اصلیت سے اس کا تعلق بہت کم ہوتا ہے۔ اُسے آٹے میں نمک کے براہ کہا جاسکتا ہے۔ درگاہیں اور خانقاہیں پہلے آمدنی کے لئے زیادہ بٹتی تھیں۔ اب مدارس و مساجد یہاں تک کہ منبر و محراب تک بنٹ رہی ہیں۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مصداق جس کا جہاں قبضہ ہو گیا نسل در نسل اماموں، مجاروں اور رہنماؤں کا دور چل رہا ہے۔ ٹرسٹ اب ذاتی ملکیت کا درجہ پانے لگا ہے۔ جب باپ بوڑھا ہو جاتا ہے تو نئے ٹرسٹی اور جانشین اپنے بیٹے کو سونپ دیتا ہے۔ اگر ان کے کئی بیٹے ہوئے تو آپس میں دھینگا مشتی ہوتی ہے۔ بالآخر وہ قابض ہو جاتا ہے جو طاقتور یا مضبوط ہوتا ہے۔ بلکہ آج کی زبان میں دبنگ ہوتا ہے۔ تقریباً اسی قسم کی صورت حال تعلیمی اداروں میں بھی ہے، خواہ چھوٹے ہو یا بڑے۔ محلوں کی مسجدوں ، عیدگاہوں، قبرستانوں وغیرہ کے نام پر بھی ہو رہا ہے۔ نتیجہ آپ خود نکالیے جب مسلم قوم کی اقل اکثریت کا یہ حال ہو تو باقی مسلمانوں کا کیا حال ہو سکتا ہے؟

آزادئ ہند کے بعد تعلیم یافتہ حلقوں میں یہ امر بار بار سر اٹھا رہا ہے کہ مسلمانوں کا اپنا کوئی میڈیا پاور نہیں ہے جو حکومت پر اپنا اثر ڈال سکے اور اس کے لئے انگریزی کا اخبار ہونا بہت ضروری ہے۔ گزشتہ پینسٹھ سالوں میں کئی بار یہ ایشو بن کر ابھرا، کانفرنسیں ہوئیں۔ لیکن آج تک مسلمانوں کا کوئی انگریزی اخبار اس قابل نہیں نکل سکا جو مؤثر ہو۔ یہاں تک کہ جو مؤثر اردو میڈیا تھا وہ بھی اب مہاجنوں (کارپوریٹ سیکٹرمیں)کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ گذشتہ ایک دہائی میں جتنے بھی اردو کے نئے اخبارات شروع ہوئے یا اخباروں کے ایڈیشن بڑھے وہ صرف تجارتی حد تک ہی محدود ہیں۔ اس سے نہ تو اردو زبان کے فروغ میں کوئی خاص پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے اپنے تشخص کو بہتر بنانے میں کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہاں چند اردو کے صحافیوں کو ملازمت ضرور مل گئی ہے۔

قیادت کی بھی صورت حال بہتر نہیں کہی جاسکتی۔ قائدین کی تو کمی نہیں ہے، لیکن صحیح سمت اور اور قائدانہ صلاحیت کی بیحد حد کمی ہے۔ ہمارے زیادہ تر قائد موقع پرست اور زر پرست ہیں۔ یہ قطعی اپنے قوم کے بارے میں خیال نہیں کرتے کہ وہ قوم کو کس طرح بھروسہ میں لے کر رہبری حاصل کرتے ہیں اور کس طرح چند پیسوں کی خاطر قوم کی عزت و ناموس کا سودا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہماری اپنی کوئی ایسی سیاسی پارٹی بھی قوم کے لئے مفید ثابت نہ ہو سکی۔ چہ جائیکہ ہم آبادی کے لحاظ سے پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں، اپنی بات منوا سکیں اور اپنا حصہ حاصل کر سکیں۔ کچھ مسلم ممبر پارلیمنٹ اپنے حق کی آواز بلند کرنا بھی چاہتے ہیں تو ہمارے ہی قوم کی غلطیوں اور موقع پرستانہ ذہنیت کا حوالہ دے کر اُنہیں خاموش کر دیا جاتا ہے ۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہماری قوم بکھری ہوئی ہے۔ ہماری اِس انتشار کا فائدہ دوسری قومیں بآسانی اٹھاتی ہیں۔ جب بات میں دم اور جسم میں خم ہو توچاہے جس زبان میں چاہیں اپنی بات کہہ سکتے ہیں اور منوا سکتے ہیں۔ دنیا کی بہت ساری قومیں ہیں جو اپنی مادری زبان اور ایک بین الاقوامی زبان سے کام چلا رہی ہے اور عزت کی زندگی جی رہی ہے۔ لیکن ایک ہندوستانی مسلمان ہے کہ کم از کم تین زبان جاننے کے بعد بھی اپنی بات یا مافی الضمیر اپنے مخاطب کو نہیں سمجھا پارہا ہے؟ اردو زبان دنیا کے اکثر گوشے میں پھیل چکی ہے لیکن اُس کی حدیں صرف لطیفہ گوئی تک ہی محدود ہے۔ دسیوں ممالک کی درجنوں یونیورسٹیوں میں اس زبان کے پڑھانے والے موجود ہیں۔ دوسری قوموں کو خوب اردو پڑھائی جارہی ہے۔ پھر بھی ہندوستانی اردو والے اور مسلمانوں کی کیا حیثیت اور وقعت ہے؟ اس بات کا تجربہ ہمارے مفکرین کو بخوبی ہے۔

مسلم قوم کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنا موازنہ غلط طریقہ سے کرتے ہیں۔ اپنا وزن کرنے کے لئے ایسی چیزوں اور اعمال کو باٹ کے دوسرے پلڑے میں رکھتے ہیں جو ہماری شریعت سے ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارا وزن بھی غلط ہوتا ہے۔ مثلاً ساٹھ سال پہلے مسلمانوں میں بھی تعلیمی اداروں اور اکیڈمک تعلیمی رُجحان کی کمی تھی اور اب جب کہ جس قدر تعلیمی اداروں میں اضافہ ہوا ہے اسی قدر اکیڈمک تعلیمی رُجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ معیار میں گرچہ گراوٹ ہے لیکن موازنہ ہندوستان کے سرمایہ دارانہ اکیڈمک اداروں کا کیا جاتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نئی نسل مادّیت پرست بنتی جارہی ہے۔ اُس کا رُجحان ایسا بنتا جارہا ہے کہ زیادہ مہنگے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا مطلب زیادہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بلکہ یقین۔ نتیجہ عیش پرستی، بے راہ روی، آرام طلبی وغیرہ۔ اِن تینوں رُجحان رکھنے والے اکثر لوگ بزدل پائے گئے ہیں۔

محاسبہ نہ ہم اپنا کرتے ہیں اور نہ ہمیں یوم ِحساب کا خوف و احساس ہے۔ جس کو جو جی میں آیا کہہ رہا ہے اور کر گزر رہا ہے۔ اگر مال اور علم کے اعتبار سے مسلمانوں کا موازنہ کیا جائے تو تین طبقہ وجود میں آئے گا۔ سب سے پہلا اور خاص طبقہ وہ ہے جو اپنے آپ کو زیادہ پڑھا لکھا اور لبرل سمجھتا ہے، عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے دوسرا وہ جو پڑھے لکھے سمجھدار، خوددار اور محنتی ہیں وہ پہلے طبقہ کا دست نگر بنے رہنے ہوئے ہےں۔ بدعنوانی اور استحصال وہ دیکھتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ تیسرا وہ طبقہ ہے جو بہت ہی کسم پرسی کی زندگی جی رہا ہے۔ اُس طبقہ کے بیشتر لوگوں کو یہ بھی علم نہیں ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو کیسے؟ کیوں کر؟ اور اُن کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہماری قوم کا رہن سہن کوئی انفرادی نہیں ہے سب یہاں کی دوسری قوموں سے صد فیصد مشابہ ہے۔

آخری بات یا پہلی بات یعنی زندگی کے رہنما اصول قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ ہمیں اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لئے اُسے ہی اپنانا ہوگا۔ تبھی ہم سماج میں محترم اور معزز بن سکتے ہیں۔  اپنی انا کو ہر حال میں قربان کرنا پڑے گا۔ خود ساختہ اصولوں کوبہر حال پھینکنا ہوگا۔  تب کہیں ہمارے اندر ایثار کا جذبہ پیدا ہوگا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ میرے اِن خیالات اور تجربات سے غیر متفق ہوں لیکن حقیقت سے بہت قریب ہے۔

ختم شد



--
Firoz Hashmi
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
91-98117 42537
Resi.  Chipiyana Khurd Urf Tigri, Ward No. 13,
          Gautam Budh Nagar (UP) INDIA-201303
          East End Street No. 1, Shanti Vihar, beside Yamuna Expressway

MUSALMANON-ki-Taleemi-Pasmandgi.zip

Abdul Hameed Yousuf

unread,
Jul 7, 2012, 12:15:21 AM7/7/12
to bazme...@googlegroups.com


مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی محض فسانہ ہے ؟

جو لوگ تعلیم حاصل کر کے دانشوری کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں ان کا ماننا ہے کہ مسلمان تعلیمی میدان میں پسماندگی کا شکار ہیں۔ بلکہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے حوالہ سے ان کی اکثریت تو یہاں تک بھی دعوی کرتی ہے کہ مسلمان زندگی کے ہر میدان میں دلتوں سے بھی بری حالت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وہ تعلیم کا خاص طور پر تذکرہ کر تے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کرنے میں خود کو بر حق سمجھتے ہیں کہ تعلیمی اعتبار سے مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ قوم ہے۔ 
اگر مسلمانوں کے اندر تعلیم کا فقدان یا اس کی کمی ہو تو یہ نہایت دکھ اور تعجب کی بات ہو گی۔ کیونکہ ان کی مقدس کتاب قرآن مجید میں جو حکم سب سے پہلا نازل ہوا وہ یہی ہے کہ ’پڑھو‘۔اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بعد مسلمانوں سے یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اللہ کے احکام کو معلوم کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ معلوم ہو جانے کے بعدان پر بلا تاخیر عمل بھی شروع کر دیں گے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ہر مسلمان، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، پر فرض ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہر مسلمان کے لئے اتنی تعلیم کا حصول لازم ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے دین کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کر سکے۔ واضح رہے کہ اسلامی احکام صرف مساجد تک محدود نہیں ہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلام سے رہنمائی حاصل کریں۔ ہماری کامیابی اسی امر میں پوشیدہ ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے۔ اور اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم وہی اور ویسا ہی کریں جیسا کہ اُس نے ہمیں کرنے کا حکم دیا ہے۔
اپنے مذہب کے بارے میں تعلیم کے حوالہ سے اگر ہم مسلمانوں کی حالت کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ مسلمان نہ صرف یہ کہ دلتوں کے مقابلہ اچھی حالت میں ہیں بلکہ ان کی حالت دیگر کسی بھی مذہب یا جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بہت بہترہے۔ یہ مسلمانوں کی دینی تعلیم میں دلچسپی کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ مجمو عی طور پر اسلام کے اہم اصولوں سے واقف ہیں۔ جبکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی اکثریت ایسی ہے جسے کچھ تہواروں اور پوجا کے مواقع کے علاوہ زندگی کے کسی بھی مرحلہ سے متعلق اپنے مذہب کے احکام کا علم نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مذاہب آج زندگی کے ہر موڑ پر اپنے ماننے والوں کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہیں۔ ان مذاہب کی تعلیمات صرف اور صرف کچھ خاص خوشی اور غمی کے مواقع تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔اور ان کا علم بھی سب کو نہیں ہے بلکہ اس علم پر ابھی بھی بڑی حد تک ان کے خاندانی مذہبی پیشواؤں ہی کی اجارہ داری ہے۔لیکن مسلمانوں کی اکثریت اپنے مذہب کی ضروری تعلیمات سے واقف ہے ۔اورمسلمان روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے نت نئے مسائل کے سلسلے میں اسلامی احکام کی جانکاری کے لئے ایسے لوگوں سے رجوع کرنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے ہیں جنہیں ان کا علم ہو۔ روزآنہ پوچھے جانے والے فتاوے اس کی واضح مثال ہیں۔
حالانکہ مسلمانوں کی تعداد ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ ۲۰؍ فیصد ہے لیکن اگر ہم موازنہ کریں توتمام غیر مسلموں کے مقابلہ میں ایسے مسلمانوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جو مذہبی تعلیم میں مہارت رکھتے ہیں ۔ مذہب کے بارے میں جانکاری کو اگر ہم تعلیم میں شمار نہیں کرتے ہیں تو اس کے لئے کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ بلکہ فقہاء کرام کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ قرآن و حدیث میں علم کے حوالہ سے جو فضیلت اور فرضیت آئی ہے وہ دین کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے سے متعلق ہے۔ 
اگرمسلمان دینی تعلیم میں سب سے آ گے ہیں تو یہ رائے قائم کرنا کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں مبنی بر انصاف نہیں ہو گا۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم دین کی جانکاری کے لئے حاصل کردہ علم کو تعلیم کے زمرے میں شمار کرنے سے کتراتے ہیں۔ گویا کہ ہم دینی تعلیم کو سرے سے تعلیم ہی نہیں تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے ذریعہ نہ تو دولت اکٹھا کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا عہدہ مل سکتا ہے جسے دنیا میں لوگ عزت کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں۔ 
لکھنے کا مقصد یہ ہر گز نہیں ہے کہ ایسی تعلیم کی اہمیت کو کم کیا جائے جس کے ذریعہ معاشی خوشحالی کی راہ ہموار ہوتی ہے اور دنیا میں عز ت حاصل ہوتی ہے۔بلا شبہہ یہ تعلیم بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ خیرات کے کاموں کے لئے مال کی ضرورت پڑتی ہے۔مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ لیکن آ ج ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیویوں کے جسم نا محرم اور غیر مسلم مرد ڈاکٹروں تک کے سامنے کھولنے پڑتے ہیں۔ اس میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس مسئلہ کا حل نکالنا سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں نہ صرف یہ کرنا ہو گا کہ عورتوں کے علاج کے وقت بھی اسلامی احکامات کی بجاآوری ممکن ہو بلکہ علاج کو آسان بھی کرنا ہو گا۔ کیونکہ انسان فطری طور پر آسان طلب واقع ہوا ہے۔ وہ علاج کے لئے وہیں جانا ترجیح دے گا جہاں یہ سہولیت سستے میں اور بآسانی دستیاب ہو۔ اسی طرح سے زندگی میں پیش آنے والے دوسرے بہت سے مسائل ہیں جن کا صحیح حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان اس میدان میں ہوں۔ لیکن جو لوگ عصری تعلیم یافتہ نہیں ہیں انھیں ان پڑھ گرداننا صحیح نہیں ہے۔ 
صرف اسی تعلیم کو تعلیم کے طور پر قبول کرنا جو معاشی خوشحالی کی راہ ہموار کرے یا جو بنیادی طور پر دنیاوی مسائل کو حل کرنے کے کام آئے کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔تعلیم تو در اصل وہ ہے جو انسان کو اپنے اس رب سے ملا دے جس نے اسے منی کے ناپاک قطروں سے پیدا کیااور جس نے اس کی غذا کا انتظام اس وقت بھی کیا جب اس کے اندر کمانے کی طاقت نہیں تھی۔ اگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کو یہ احساس نہیں ہو تا ہے کہ محض کچھ سالوں پہلے اس کی اصلیت کیا تھی اور پھر کس نے اسے اس مقام پر پہنچایا جہاں وہ آ ج ہے ، تو اس پہلو پر غور کرنے کی ضرور ت ہے کہ آیا ایسے شخص کو تعلیم یافتہ کہا جائے یا نہیں۔ 
اس کے با و جود ہم ایسے خدا بیزار افراد کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں جن کے پاس عصری تعلیم کی ڈگریا ں ہوں۔ لیکن ایسے لوگوں کو تعلیم یافتہ کہنے میں تامل سے کام لیتے ہیں جو اپنی ساری زندگی معرفت الہی حاصل کرنے میں صرف کرتے ہیں اور جن کی زندگی احکام الہی کو جان کر ان پر مکمل طرح سے عمل کرنے سے عبارت ہوتی ہے۔ اگر ہماری یہ ذہنیت نہ ہوتی تو ہم مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال دیکھ ہر گز یہ نتیجہ نہ نکالتے کہ تعلیم کے میدان میں مسلمان سب سے پچھڑی قوم ہے۔بنیادی طور پر دنیاوی زندگی سنوارنے میں مدد گار تعلیم میں ترقی بھی ضروری ہے لیکن اس چکر میں اگر ہم اسلامی احکام کے بارے میں خاطر خواہ جانکاری حاصل کرنے میں نا کام رہ جاتے ہیں تو یہ ہمارے لئے بہت بڑے خسارے کا سودا ہو گا۔

عبد الحمید یوسف  
بنگلو ر 


 




--

Media Scan English Monthly

2, 2nd Cross Artillery Road

Ulsoor, Bangalroe-08

9535226784

Raheem Syed

unread,
Jul 7, 2012, 4:44:52 AM7/7/12
to bazme...@googlegroups.com
جناب عبدالحمید یوسف صاحب کے مندرجہ ذیل مضمون میں دینی تعلیم اور دنیاوی
تعلیم کے فرق کو مختصر ہی سہی لیکن اچھے اسلوب میں ان لوگوں کے لئے پیش
کیا کیا جو مال وزر کی کمائی کا دنیاوی تعلیم ہی کو ذریعہ سمجھتے ہیں اور
پسماندگی کی وجہ ' حالانکہ مذہب پر یقین رکھنے والے کے لئے یہی کافی ہے
کہ اس کا رب اس کے رزق کا انتظام کرتا ہے اس وقت بھی جب وہ کمانے کے قابل
نہیں تھا اور اس وقت بھی جب وہ کمانے کے قابل ہوگیا
(وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا
وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
۔ سورہ ھود ۶)کہ زمین پر بسنے والے ہر چوپائے کے لئے رزق کی ذمہ داری اسی
پر ہے اور یہ کہ ( وَفِي السَّمَاء رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ
۔ سورہ الذاریات ۲۲) رزق کسے کتنا دینا ہے کہاں سے دینا ہے یہ سب فیصلے
آسمانوں پر ہوا کرتے ہیں بلکہ جاہلیت کے دور کو ذہن میں رکھکر بنی
اسرائیل کی اس آیت کو غور سے پڑہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے رزق کا
ذریعہ یا والدین کو رزق اولاد کی وجہ سے ملتا ہے اسی تناظر میں قتل
اولاد سے منع کیا گیا ہے (وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ
إِمْلاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ
خِطْءًا كَبِيرًا ۔ سورہ بنی اسرائیل ۳۱) اور دوسری جگہ کہا کہ ( وَلاَ
تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ
وَإِيَّاهُمْ ۔سورہ الانعام ۱۵۱)۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم ظاہری اسباب
اور وجوہات کو ہی اصل مسئلہ سمجھ کر اس کے حل کی تگ ودو اور کوشش کرتے
ہیں اور اس کے لئے حل پیش کرنے میں لگے رہتے ہیں جب کہ ایک حاذق اور
ماہر حکیم بیماری کی جڑ کو تلاشتا ہے اور اس کے مطابق دوائی تجویز کرتا
ہے۔ علم تو وہی علم ہے جس سے بندے کو اپنے رب کی معرفت میں مدد ملے خواہ
وہ دینی درسگاہوں میں ملے یا عصری یونیورسٹی میں یا چلتے پھرتے لوگوں کی
صحبت میں یا آفاق وانفس میں غور و فکر سےاور یہی حقیقی علم ہے (إِنَّمَا
يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ
غَفُورٌ ۔ فاطر ۲۸) اور اس معرفت کے ذریعہ بندہ ٔاپنے رب کا ہوجائے تو
پھر اس کو رزق تو کیا کسی چیز کی فکر ہی ختم کردے۔

On 7/7/12, Abdul Hameed Yousuf <aham...@gmail.com> wrote:
> *مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی محض فسانہ ہے ؟*
> *
> *جو لوگ تعلیم حاصل کر کے دانشوری کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں ان کا ماننا ہے

> *عبد الحمید یوسف *


> بنگلو ر
>
>
>
>
>
>
> --
>
> Media Scan English Monthly
>
> 2, 2nd Cross Artillery Road
>
> Ulsoor, Bangalroe-08
>
> 9535226784
>

> --
> زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
> کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
> اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
> سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
> کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے
> لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
> http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
> راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
> http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
> To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
>
> To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
>
> To invite your friends to Bazm e Qalam group
> http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
>
> To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with
> subject "UNSUBSCRIBE"
>


--
Syed Raheem Omeri
Mobile: +966 502 910419

atique muzaffarpur

unread,
Jul 7, 2012, 5:02:44 AM7/7/12
to bazme...@googlegroups.com
للّہ مسلمانوں کو ایسی خود فریبی میں مبتلا نہ کریں.
سچائی کو تسلیم کریں. اور آگے بڑھنے کی ترغیب دن.


2012/7/7 Abdul Hameed Yousuf <aham...@gmail.com>
--

Firoz Hashmi

unread,
Jul 7, 2012, 5:28:55 AM7/7/12
to bazme...@googlegroups.com
اچھی اور عمدہ تحریر ہے۔ اس طرح کے موضوعات پر کئی بار میں نے نئی شناخت کے اداریہ میں لکھا ہے۔ جس دین کی تعلیم کو ہمیں تعلیم اصل میں سمجھنا چاہئے ان لوگوں کا استحصال وہی لوگ کر رہے ہیں جو خود بھی اُسی کی کمائی کھا رہے ہیں۔ میرے مضمون کا عنوان جسے ایک مقامی اخبار نے دیا تھا ’’مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی ذمہ دار کون؟‘‘ یہ بھی تو غور کرنے کی بات ہے کہ یہ اخبار ہی اس طرح کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ ہماری ہی سوسائٹی کے لوگ جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں دوسری قوموں کی طرح وہ بھی اپنی قوم کے مالی اعتبار سے پسماندہ لوگوں کا خوب خوب استحصال کر رہے ہیں۔
کیا ایک مسلمان کو اسلامی بیت المال یا اسلامی طریقے سے مدد پہنچانے والے اداروں سے مدد حاصل کرنے کے لئے بھی سرٹیفکیٹ بنوانا پڑے گا؟ کیا اس کا اس کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ فلاں طرح کا ضرورت مند ہے؟ اگر یہ ناقابل یقین ہے تو زندگی کی ہر صورت ناقابل یقین ہے۔
فیروزہاشمی

2012/7/7 Abdul Hameed Yousuf <aham...@gmail.com>
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages