نام
کتاب:اسلامی ریاست کی تشکیل جدید معروف
نو مسلم اسکالر محمد
اسد کے افکار کا تنقیدی مطالعہ مصنف:ڈاکٹر
محمد ارشد صفحات:587…
قیمت:1000روپے ناشر:
الفیصل ناشران۔ غزنی اسٹریٹ اردو بازار۔ لاہور فون
نمبر: 042-37230777-042-37231387 ویب
سائٹ:www.alfaisalpublishers.com ای
میل:alfaisal...@yahoo.com
’’اسلامی
ریاست کی تشکیل جدید‘‘ معروف نومسلم جرمن اسکالر محمد اسد کے افکار کا تنقیدی
مطالعہ‘‘ اصل میں ڈاکٹر محمد ارشد کے پی ایچ ڈی کے مقالے پر مشتمل کتاب ہے جس پر
پنجاب یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے
موضوع پر ایک مکمل کتاب ہے۔ یہ مقالہ ڈاکٹر شبیر احمد منصوری کی زیرِ نگرانی لکھا
گیا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر محمد ارشد صاحب نے محنت، مشقت اور تحقیق کا جو اعلیٰ
معیار قائم کیا ہے وہ قابلِ دید ہے اور دوسروں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ۔ انہوں نے
تحقیق کا حق ادا کردیا ہے۔ جو بھی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ لوازمہ ان کو دستیاب ہوا،
اس کو بڑے احسن طریقے اور خوش اسلوبی سے مرتب کردیا ہے۔ کتاب
آٹھ ابواب پر مشتمل ہے، جس میں بڑی جامعیت کے ساتھ متعلقہ باب میں گراں قدر
معلومات جمع کردی ہیں۔ علامہ محمد اسد کے افکار کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اس کے دو
پہلو ہیں، (1) پاکستان کی تشکیل کے مقاصد میں اسلامی حکومت اور اسلامی نظام کے
نفاد کا ہونا، (2) اس کے عملی پہلو کے لیے تحقیقات۔ ان دونوں کے لیے علامہ کی
کوششوں کا بیان اور وضاحت بہت ضروری تھی جو اس کتاب میں احسن طریقے سے ہوگئی ہے۔ اس
کے آٹھ ابواب اور ان میں بیان کیے گئے مضامین درج ذیل ہیں: باب
اول مبسوط مقدمہ ہے۔ اس کے ذیلی عنوانات درج ذیل ہیں: عہدِ
نبوی میں اسلامی ریاست کی تاسیس و تشکیل۔ نبوی ریاست کے بنیادی اصول۔ خلافتِ
راشدہ۔ خلافتِ راشدہ کی خصوصیات۔ خلافتِ بنوامیہ۔ خلافتِ عباسیہ۔ عباسیوں کی معاصر
خلافتیں، امارتیں اور سلطنتیں۔ دولتِ اتابکہ و دولتِ ایوبیہ۔ سلطنتِ دہلی و سلطنتِ
مغلیہ۔ دولتِ عثمانیہ… سلطنت و خلافت سے سیکولر جمہوریہ تک۔ نظم و قانونِ سلطنت۔
نظامِ جدید۔ تنظیمات (سلطان عبدالمجید خان کی اصلاحات)۔ دستوری حکومت۔ انجمنِ
اتحاد و ترقی کی حکومت۔ ترکی ایک جدید سیکولر قومی ریاست۔ ترکی کی معاصر مسلم قومی
ریاستیں۔ ایران۔ افغانستان۔ مملکتِ سعودی عرب۔ اسلامی ریاست کی تشکیلِ نو… جدید
مسلم سیاسی فکر کا جائزہ۔ سعید حلیم پاشا اور اسلامی ریاست کی تشکیلِ جدید کا
لائحہ عمل۔ مجلس ملی کبیر کا نظریۂ خلافت و سلطنت۔ علامہ محمد رشید رضا کا نظریۂ
خلافت و امامت۔ شیخ علی عبدالرزاق کا نظریۂ تفریقِ دین و سیاست۔ علامہ محمد اقبال
کا نظریۂ اسلامی ریاست۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نظریۂ اسلامی ریاست۔ خلاصۂ
بحث۔ باب
2: محمد اسد: سوانح اور فکری تشکیل خاندانی
و مذہبی پس منظر اور تعلیم و تربیت۔ میدانِ صحافت میں۔ مشرقِ وسطیٰ کا سفر و قیام
اور مطالعۂ اسلام۔ قبولِ اسلام اور اس کے محرکات۔ نجد و حجاز میں قیام۔ ابن سعود
سے تعلقات میں انحطاط۔ سنوسی تحریک سے ربط و تعلق۔ اسد برعظیم پاک و ہند میں۔
علامہ محمد اقبال سے ربط و تعلق اور اسلامیہ کالج میں تقرر۔ ترجمہ و شرح بخاری۔
مجلہ ’’اسلامک کلچر‘‘ کی ادارت۔ دارالاسلام… علامہ محمد اقبال، سید ابوالاعلیٰ
مودودی اور محمد اسد کا اشتراکِ فکر و عمل۔ دورِ ابتلاء ومحن… قیدِ فرنگ۔ مجلہ
’’عرفات‘‘ کا اجرائ۔ پاکستان میں قیام اور علمی و فکری سرگرمیاں۔ محکمۂ احیائے
ملتِ اسلامیہ۔ بطورِ سفارت کار۔ معاندانہ پروپیگنڈا کی زد میں۔ امریکہ میں قیام
اور تصنیفی و تالیفی سرگرمیاں۔ جرمنی اور مشرق وسطیٰ میں۔ پنجاب یونیورسٹی… لاہور
میں بین الاقوامی مجلسِ مذاکرہ کا انعقاد۔ جنیوا و مراکش میں۔ اشاعت ِترجمہ و
تفسیر قرآن… مسائل و مشکلات۔ پرتگال اور اندلس میں۔ محمد اسد اور پاکستان… ہجر و
فراق کے اسباب۔ باب
3: تصانیف… تعارف و تبصرہ تصنیف
و تالیف… قبل از قبولِ اسلام۔
Unromantisches Morgenland۔
تصنیف و تالیف بعد از قبول اسلام۔
Islam at the Crossroads۔
ترجمہ و شرح بخاری (Sahih
al-Bukhari)۔ “Towards a Resurrection of Thought”۔ Presidential
Address… سالانہ
جلسہ جمعیتِ تبلیغ اہلِ حدیث، کلکتہ 1937ئ۔ مقالاتِ عرفات (Arafat)۔ Calling All Muslims۔ The
Principles of State and Government in Islam۔ Islam and
Politics۔ The Road to Mecca۔ This Law of Ours and Other Essays
“The Tribe that kept Its Name”،
“The Message of the Qur’an (ترجمہ
و تفسیرِ قرآن بزبانِ انگریزی)۔ اصولِ ترجمہ و تفسیر۔ ترجمہ و تفسیرِ قرآن میں اسد
کا اسلوب و منہ۔، نقد و نظر۔ ہجرت کی اصطلاح کی جدید تعبیر۔ تفسیری حواشی۔ محمد
اسد کا مذہبی تفکر ان کی تفسیر کی روشنی میں۔ عقیدۂ ختمِنبوت۔ محمد اسد کا غیر مطبوعہ علمی سرمایہ۔ محمد اسد کی
علمی و فکری کاوشوں کے اثرات۔ باب4:
پاکستان کے اسلامی تشخص کی تشکیل میں محمد اسد کا کردار محمد
اسد کی تحریکِ پاکستان سے وابستگی کے محرکات۔ تحریک پاکستان… اسلامیانِ برعظیم کا
مطمح نظر۔ محمد اسد کا نظریۂ پاکستان۔ تحریکِ پاکستان کے تقاضے۔ قیام پاکستان اور
اسلامی نظریاتی ریاست کے تصور کی ترجمانی۔ سیکولر قومی ریاست کے تصور کی تردید و
مخالفت۔ اسلامی ریاست کے تصور پر اعتراضات: محمد اسد کا نقطۂ نظر۔ غیر مسلم اقلیت
کے خدشات و اعتراضات۔ قیامِ پاکستان اور اسلامی دستور کی تدوین کا مسئلہ۔ اسلامی
دستور کی تدوین… مشکلاتِ راہ۔ محمد اسد اور اسلامی دستور کے خاکہ کی تدوین۔
پاکستان کی اسلامی تشکیل کا مسئلہ… محمد اسد کی نظر میں۔ پاکستان کی اسلامی تشکیل…
محمد اسد کا تجویز کردہ لائحہ عمل۔ اخلاقِ ملّی کا احیاء اور اصلاحِ معاشرت۔ نظامِ
تعلیم کی اصلاحِ و تشکیلِ نو۔ اسلامی قانون کی تدوین جدید۔ اصلاح نظام معیشت۔
نفاذِ شریعت… ترجیحات۔ باب
5: اسلامی ریاست: مقصدِ وجود، نوعیت و ماہیت اور ادارتی تشکیلات اسلامی
ریاست… چند بنیادی سوالات۔ اسلام اور ریاست و حکومت۔ اسلامی ریاست کی تعریف اور اس
کے بنیادی شرائط و مطالبات۔ اسلامی ریاست کا مقصدِ وجود۔ اسلامی ریاست کی نوعیت و
ماہیت۔ اسلامی ریاست کے اوضاع
(Forms of Islamic State)۔
اسلام کے دستوری قانون میں حرکت و ارتقاء اور تاریخی سیاسی نظائر۔ اسلام کا نظریۂ
اقتدارِ اعلیٰ۔ اعضائے ریاست: طریقِ تشکیل، دائرۂ اختیار اور باہمی ارتباط۔ حکومت
کی تشکیل۔ حکومت کا قیام بذریعہ معاہدۂ عمرانی (Social Contract)۔
طریق انتخاب۔ امیر (سربراہِ ریاست و حکومت) کی اہلیت کی شرائط۔ حکومت کا ڈھانچہ۔
مجلسِ شوریٰ کی تشکیل۔ مجلس شوریٰ… طریق انتخاب۔ ارکانِ مجلس شوریٰ کی اہلیت کی
شرائط۔ حلقۂ رائے دہندگان (الیکٹورل کالج)۔ مجلسِ شوریٰ… وظائف و واجبات۔ مجلسِ
شوریٰ کے فیصلوں کی قانونی و دستوری حیثیت۔ فیصلہ سازی اور اصولِ اکثریت۔ حکومت
اور مجلس شوریٰ… باہمی تعامل وارتباط۔ امیر اور مجلسِ شوریٰ میں محاکمہ۔ عدلیہ۔
اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کا کردار۔ باب
6: ریاست اور شہری: حقوق و فرائض مسلم
شہریوں کے حقوق و فرائض۔ سمع و اطاعت اور اس کے حدود۔ مسلم شہریوں کے دیگر فرائض۔
مسلم شہریوں کے حقوقِ شہریت۔ غیر مسلم شہریوں کے حقوق و فرائض۔ غیر مسلم شہریوں کے
فرائض اور جزیہ۔ اسلامی ریاست کی معاشی ذمہ داریاں۔ کفالتِ عامہ اور سماجی و معاشی
عدل کا قیام۔ اسلامی ریاست کا معاشی نظام۔ اسلامی ریاست ایک فلاحی مملکت۔ دعوتِ
دین اور جہاد۔ محمد اسد کا نظریۂ جہاد۔ باب
7: اسلامی ریاست میں قانون سازی اور اجتہاد قانونِ
اسلامی اور اس کے مآخذ۔ شریعت اور فقہ… فرق و امتیاز۔ اجتہاد، قانون سازی اور اس
کا دائرۂ کار، اجتہادی قانون سازی کی حیثیت۔ اجتہاد عصرِ حاضر میں۔ اسلامی قانون
کی تدوین جدید… منہاج و اصول۔ تدوین نصوصِ قرآن و سنت۔ قانون سازی بذریعۂ اجتہاد
اور اصول استصلاح۔ اجتماعی و شورائی اجتہاد۔ قانون سازی… مجلسِ تشریعی کا دائرۂ اختیار۔
شرائطِ اجتہاد۔ محمد اسد کا تصورِ اجتہاد و قانون سازی… نقدو نظر۔ باب
8: اسلام اور مغرب (نو مسلم دانشور محمد اسد کی نظر میں) اسلام
اور مغرب: باہمی منافرت اور کشمکش کے اسباب و محرکات۔ استشراق: اہداف و مقاصد اور
نتائج و اثرات۔ تہذیبِ مغرب بمقابلہ اسلام۔ مغربی تہذیب کی بالادستی اور تفوق و
فضیلت کے تصور کی حقیقت… ناقدانہ جائزہ۔ اسلامی تہذیب و معاشرت کا تفوق و فضیلت۔
تقلیدِ مغرب۔ مغربی تعلیم۔ مغربی تہذیب و تمدن سے اخذ و اکتساب اور اس کے حدود۔
اسلام اور مغرب… مکالمہ و مفاہمت۔ مغرب میں دعوت و تعارف اسلام کی ضرورت و اہمیت۔
مغرب میں دعوتِ اسلام… محمد اسد کی کاوشوں کا جائزہ۔ محمد اسد کا اسلوبِ دعوتِ
اسلام۔ محمد اسد کی علمی و فکری اور دعوتی کاوشوں کے اثرات و نتائج۔ محمد اسد کی
علمی و فکری اور دعوتی کاوشوں کی عصر حاضر میں معنویت و افادیت۔ خلاصہ بحث و
نتائج۔ اردو اور عربی مراجع و مصادر۔ انگریزی اور جرمن مآخذ۔ مندرجہ
بالا تفصیلات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تشکیلِ پاکستان کے اسلامی کردار کا
احساس تخلیقِ پاکستان کے رہنمائوں کے ہاں مسلمہ حقیقت تھی۔ اس سلسلے میں علامہ
محمد اسد کی کوششیں بالکل واضح ہیں جن کو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد والی
حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی۔ آہستہ آہستہ پاکستان کو اپنے اصلی راستے سے ہٹانے کے
لیے برطانوی اور امریکی ایجنٹوں نے دن رات ایک کردیئے، سازشوں کے نتیجے میں
پاکستان دولخت ہوا اور باقی پاکستان کو امریکہ اور یہودی عالمی اداروں کے ہاں گروی
رکھ دیا گیا ہے۔ ان موانعات کے باوجود جبکہ ہر طرف سے اندرونی اور بیرونی سازشوں
کے جال بُنے جارہے ہیں، اہل علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا مثبت کام جاری رکھیں،
کیونکہ آج نہیں تو کل ضرور یہ تمام لوازمہ پاکستان کی اسلامی تشکیل میں استعمال
ہوگا۔ کتاب
کے آخر میں خلاصۂ بحث و نتائج کے عنوان کے تحت ڈاکٹر ارشد صاحب نے اپنے مقالے کا
خلاصہ لکھا ہے۔ اس کا کچھ حصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں:
’’محمد
اسد کے فہم و تصورِ اسلام کے مطابق اسلام محض چند معتقدات و عبادات اور اخلاقی
نصائح ہی کے مجموعہ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مکمل نظریۂ حیات ہے اور انفرادی و
اجتماعی زندگی کی تنظیم و تشکیل کے بارے میں کامل ہدایت فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ وہ
اسلام کو افراد کی نجی زندگی ہی میں نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی کے
جملہ شعبوں میں مکمل طور پر جاری و نافذ دیکھنا چاہتے ہیں۔ محمد اسد کے تصورِ اسلام
میں مملکت و حکومت کے قیام کو بڑی اہمیت حاصل ہے، جس کے بغیر اُن کے نزدیک اقامتِ
دین اور حقیقی اسلامی زندگی کا وجود امرِ محال ہے۔ بالفاظِ دیگر اُن کے خیال میں
اسلامی نظریۂ حیات کی مکمل پیروی اور امتِ مسلمہ کی بعثت کے مقاصد کے حصول اور اس
کے مصالح و مفادات کے تحفظ کی غرض سے اسلامی مملکت و حکومت کا قیام ایک ناگزیر شرط
ہے۔ ریاست و حکومت کا قیام دینی و شرعی واجبات میں سے ہے۔ اسلام اپنے پیروئوں سے
ایک متعین سیاسی ہیئت کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے اور اس غرض سے اصولی ہدایات دیتا
ہے۔ محمد اسد عصرِ جدید میں احیائے اسلام کی غرض سے بھی اسلام کے نظریۂ اجتماع
وسیاست پر مبنی اسلامی ریاست؍ریاستوں
کے قیام کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ بعد از قبولِ اسلام ایک حقیقی و اسلامی
ریاست کے قیام کے شدید آرزومند بلکہ اس کے لیے عملاً بھی کوشاں رہے۔ محمد
اسد نے ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے اس نقطۂ نظر کے باعث برعظیم
پاک و ہند میں ایک آزاد و خودمختار مسلم مملکت (پاکستان) کے قیام کی پُرزور تائید
و حمایت کی۔ وہ (محمد اسد) اس خطے میں مسلم نظریۂ ملت کی اساس پر ایک مسلم مملکت
(پاکستان) کے قیام کو صرف اسلامیانِ ہند کے اسلامی تشخص کے تحفظ و بقا ہی کے لیے
نہیں بلکہ جدید دنیائے اسلام میں اسلام کے احیاء کے لیے بھی ازحد ضروری خیال کرتے
تھے۔ محمد اسد کی نگاہ میں تحریکِ پاکستان ایک خالصتاً نظریاتی تحریک تھی، جس کا
مطمح نظر محض اسلامیانِ برعظیم کے سیاسی و معاشی حقوق و مفادات کا تحفظ اور ان کے
لیے دنیا کی دیگر معاصر مسلم اقوام کی طرح محض ایک قومی وطن کا حصول نہ تھا، بلکہ
اس کی غایت ایک ایسے آزاد اور خودمختار خطۂ ارض کا حصول تھا کہ جہاں ان کی
اجتماعی زندگی یعنی معاشرہ و ریاست کی تنظیم و تشکیل میں اسلامی نظریۂ حیات کی
فرماں روائی قائم ہو۔ محمد اسد کی رائے میں علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد
علی جناح کا تصورِ پاکستان بھی ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہی کا تھا اور وہ پاکستان
میں مغربی طرز کی سیکولر ’’قومی ریاست‘‘ نہیں، بلکہ ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہی
کا قیام چاہتے تھے۔ محمد اسد کو قیامِ پاکستان کی صورت میں ایک حقیقی اسلامی ریاست
کے قیام کے امکانات دکھائی دیئے، چنانچہ انہوں نے قیام پاکستان بلکہ تقسیم ہند کے
منصوبے کے اعلان (3 جون 1947ئ) کے ساتھ ہی اس ملک کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست
بنانے کا مقدمہ بڑی قوت و طاقت سے پیش کیا اور سیکولر قومی ریاست کے تصور کی شدومد
سے مخالفت کی۔ انہوں نے اس تصور کو اجاگر کیا کہ سیکولر قومی ریاست کا تصور اسلامی
نظریۂ حیات اور امت کے مصالح و مقاصد سے یکسر متصادم ہے اور پاکستان کو سیکولر
ریاست بنانے کا مطلب اس مملکت کی بنیادوں کو ڈھا دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ پاکستان
کا قیام ایک نظریئے کا مرہونِ منت ہے اور اس کا تحفظ اور بقاء و استحکام بھی صرف
اور صرف اسلامی نظریۂ حیات سے غیر متزلزل وابستگی پر منحصر ہے۔ معاشرہ و ریاست کی
تعمیر و تشکیل کے باب میں اسلام سے انحراف اس مملکت کو لامحالا طور پر افتراق و
انتشار سے دوچار کردے گا۔ محمد
اسد نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی غرض سے اسلامی
دستور کا ایک خاکہ (Blueprint) پیش
کیا اور ملّی و اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں خصوصاً قانون، معیشت اور نظام تعلیم
کی اسلامی تشکیل کے علاوہ اصلاحِ معاشرت کا لائحہ عمل بھی تجویز کیا۔ اسد کی رائے
میں پاکستان کی اسلامی تشکیل باَلفاظِ دیگر اس کو ایک حقیقی اسلامی ریاست بنانے
میں چند اہم اور بنیادی موانع: مغربی تعلیم اور اس کے فاسد نتائج و ثمرات، روایتی
قدامت پسند مذہبیت، اسلامی قانون کا جدید طرز پر مرتب و مدون حالت میں نہ ہونا اور
عامۃ الناس کی اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بے خبری وغیرہ حائل ہیں، جن کا ازالہ کیے
بغیر اس نصب العین کے حصول کی طرف ٹھوس پیش رفت ممکن نہیں۔ محمد اسد نظام تعلیم کی
اصلاح اور اسلامی قانون کی تدوینِ جدید کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک معاشرہ
کی اسلامی تشکیل کی غرض سے نوجوان نسل کی اسلامی و دینی تربیت ازحد ضروری ہے۔ وہ
اس غرض سے اسکولوں اور کالجوں میں عربی زبان اور اسلامیات کی مؤثر تعلیم و تدریس
کو ازحد ضروری قرار دیتے ہیں۔ وہ عربی و اسلامیات کو تعلیمی نصابات کا مؤثر جزو
بنانا چاہتے ہیں اور اعلیٰ پیمانے پر اسلامیات کی تعلیم و تدریس کا انتظام چاہتے
ہیں۔ خصوصاً قانونِ اسلامی کی تدوینِ جدید جیسے اہم کام اور زندگی کے مختلف شعبوں
میں پیش آنے والے نوبہ نو مسائل کے بارے میں اجتہاد کی صلاحیت سے بہرہ ور علماء کی
تیاری کے لیے ایک جدید اسلامی دارالعلوم کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ وہ اس
سلسلے میں جامعۂ ازھر (القاہرہ) کے تعلیمی ماڈل میں جدید تعلیمی اجزاء (جدید
عمرانی علوم) شامل کرکے نیا تعلیمی ماڈل تشکیل دینا چاہتے ہیں۔‘‘ جوں
جوں نئے مآخذ سامنے آتے جائیں گے نظرثانی میں ان مآخذ سے استفادہ کیا جائے گا۔
بلاشبہ یہ کتاب جس لائبریری میں نہ ہو وہ لائبریری نامکمل سمجھی جائے گی۔ کتاب
سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے، مجلّد ہے، سادہ رنگین سرورق سے مزین ہے۔