پروفیسر اطہر صدیقی کی اس عبارت سے کہ ایک ملا صدیق حسن خاں سے شادی کر لی تھی محسوس ہوتا ہے کہ نواب صدیق حسن خان کوئی معمولی ملا تھے ۔ اس سے نواب صدیق حسن خان صاحب کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہے
اور ایسا لگتا ہے کہ نواب شاہجہاں بیگم نے اپنے پہلے شوہر کے بعد کسی معمولی سے ملا جی سے شادی کرلی تھی ۔ شاید اس کی وجہ نواب صاحبہ کی علم دوستی اور نواب صدیق حسن خان کے مقام و منزلت سے لاعلمی ہے ۔
اگر ہندوستان کی ہزار سالہ اسلامی تاریخ میں گذرے اہل علم کی درج بندی کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نواب صدیق حسن کا شمار پہلے طبقہ میں ہوگا۔ عالم اسلام ہندوستان کے جن چند عربی زبان کے مصنفین سے واقف ہے
اور ان کی تصانیف کو قدر منزلت سے دیکھتا ہے ان میں نواب صاحب کا درجہ بہت بلند ہے ، آپ نے تفسیر حدیث فقہ انسائکلوپیڈیا وغیرہ بیشتر علوم میں وقیع اور ضخیم کتابیں یاد گار چھوڑیں ہیں ، عالم عرب کی حکومتوں کویت ، قطر وغیرہ سے آج
بھی آپ کی ضخیم کتابیں تقسیم ہوتی ہیں ۔ نواب صدیق حسن کا احسان یاد رکھنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ نواب وحید الزمان حیدرآبادی جب ہندوستان پر مغرب کے غلبہ سے بد دل ہو کر حرمیں ہجرت کو نکلے تو بندرگاہ پر ان کی نواب صاحب سے ملاقات ہوئی ۔
نواب صاحب نے آپ کو بھوپال اآنے کی دعوت دی اور آپ کو ایک بہت بڑی تنخواہ پر رکھ کر صحاح ستہ میں سے ترمذی کے علاوہ بقیہ پانچ کتابوں کا ترجمہ کروایا ، گذشتہ ایک سو سال سے زیادہ عرصہ سے اردو داں حلقہ کو حدیث نبوی سے براہ راست جوڑنے والے یہی تراجم رائج چلے آرہے ہیں ، دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو آپ ہی کے فرزند نواب علی حسن خان کی حویلی پر قائم ہے اور یہاں کے کتب خانے کی عالم اسلام میں قدر وقیمت کی ایک بڑی وجہ نواب صدیق حسن خان کی وراثت میں
ملنے والے قیمتی قلمی نسخے ہیں ، جن میں یمن کے مشہور محدث امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابیں شامل ہیں ۔ ہندوستان میں حدیث کی جو اسناد رائج ہیں ان میں آپ کے شیخحسن بن محسن السبعي الأنصاري کی سند
سب سے اعلی سمجھی جاتی ہے ، عطیہ خلیل عرب انہی یمنی شیخ کی نسل سے ہیں۔

عبد المتین منیری
Abdul Mateen Muniri
Director
Skype : ammuniri
From: BAZMe...@googlegroups.com [mailto:BAZMe...@googlegroups.com] On Behalf Of Aapka Mukhlis
Sent: Saturday, January 04, 2014 9:40 AM
To: bazm qalam
Subject: Re: [بزم قلم:31838] Fwd: عطیہ بیگم فیضی-نصر اللہ خاں کے قلم سے
یہ جان کر بڑی افسوس ناک حیرت ہوئی کہ ماں کے دوسری شادی کرنےپر بیٹی ماں سے پندرہ سال یعنی تادمِ مرگ ناراض رہی۔ شادی ہر انسان کی ضرورت ہوتی ہے اور عمر کے ہر حصے میں ایک رفیقِ حیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ روایت تو ہندووں کے ہاں پائی جاتی ہے کہ بیوہ ہونے کے بعد عورت ساری عمر شوہر کے نام پر تنہا گزار دیتی ہے جو کسی طرح ستی ہونے سے کم اذیت ناک نہیں ہے اس کے لیے۔ بیگم بھوپال نے ایک اچھا اور سنت طریقہ اختیار کیا بلکہ فرمانِ نبوی کے مطابق دین دار عالم سے رشتہء مناکحت قائم کیا تو بیٹی نے ماں جیسے رشتے سے ہی تعلق توڑ دیا۔ یہ تو اولاد سے زیادہ دشمنی والا رویہ نظر آتا ہے۔
2014/1/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
عطیہ فیضی کے تعلق سے علی گڑھ سے میرے کرم فرما پروفیسر اطہر صدیقی صاحب کا یہ جواب ملاحظہ کیجیے:
آج عطیہ فیضی پر تمہارا بھیجا ہوا مضمون پڑھا۔نصر اللہ خان نے کم از کم میری دانست میں ایک بے حد سخت غلطی کی ہے۔نواب سلطان جہاں بیگم کی شادی صدیق حسن خاں سے نہیں ہوئی تھی۔ان کی والدہ شاہجہاں بیگم نے ایک ملا صدیق حسن خاں سے شادی کر لی تھی۔صدیق حسن خاں سلطان جہاں بیگم کے سوتیلے والد تھے نہ کہ شوہر۔اس بات پر ماں بیٹیوں میں پندرہ سال تک بات چیت بھی بند رہی تھی اور تعلقات بھی منقطع رہے۔صرف مرتے وقت سلطان جہاں بیگم ماں کی صورت دیکھ پائیں تھیں۔
عطیہ فیضی کے آخری دن بہت غربت میں گزرے،جس پر مجھے حیرت بھی ہوئی اور عبرت بھی۔حال ہی میں زاہدہ حنا کے عطیہ فیضی پر لکھے ایک مضمون سے اس بات کا علم ہوا۔کیا شاندار خاتون تھی اور کیا حشر ہوا۔وہ مضمون شبخون میں مقتبس ہوا ہے اور عبرتناک ہے۔اسے ضرور پڑھو اور اپنے کسی نوٹ میں مندرجہ بالا حقائق اسے اپنے قارئین کو ضرور مطلع کردو۔
راشد
کراچی سے
2014/1/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
بہت شکریہ جناب والا
راشد
2013/12/31 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
Rashid Ashraf Sb. , Mehr Afroze Saheba ki farmaa'ish par
Ati'ya Faizi ki taSweer ke saath Allama Iqbal aur Shibli Nomani
ki taSaaweer bhi munsalik haiN. Wassalaam, Tanwir Phool http://tanwirphool.blogspot.com
2013/12/30 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
افروز صاحب
عطیہ فیضی کی تصاویر میرے پاس نہیں ہیں، کسی دوست کے پاس ہوں تو یہاں پیش کرنے کی درخواست ہے۔
آپ کی ستائشوں کا شکریہ جناب۔
آپ کے لیے ایک لنک درج کررہا ہوں، یہاں گزشتہ تین سے زائد برسوں میں بزم قلم پر خاکسار کے پیش کردہ مواد تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے:
راشد
2013/12/30 Mehr Afroze <kathiawa...@gmail.com>
سلام راشد اشرف صاحب بیگم عطیہ فیضی پر اپکا پیش کردہ مضمون واقعی بیش قیمتی ہے۔انکی چند تصاویر بھی موجود ہیں وہ بھی منسلک کردی جاتیں تو اور سونے پر سہاگہ ہو جاتا۔مبارک باد قبول ہو۔آپکی بیش قیمت پیش کش اتنی منفرد اور اچھوتی ہو تی جا رہی ہیں۔اللہ اپکو نظر بد سے بچاےء اور آپ مزید نایاب چیزیں بزم پر پیش کریں اللہ اپکی ہمّتیں اور حوصلے بلند رکھے آمین دعاگو
مہر افروز
2013/12/29 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
معروف صحافی، ادب و کالم نگار نصر اللہ خاں ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ صحافت کے میدان میں ان کی خدمات کو شاید لوگ بھول جائیں لیکن ان کے تحریر کردہ شخصی خاکوں کی کتاب "کیا قافلہ جاتا ہے" کو کبھی بھلایا نہ جاسکے گا۔ یہ کتاب 1984 میں کراچی سے شائع ہوئی تھی اور اب مکمل طور پر نایاب ہے۔ خدا بھلا کرے مشفق خواجہ کا کہ جنہوں نے خاں صاحب کے سر پر سوار ہوکر یہ خاکے یکجا کروائے۔
راقم الحروف کی ادنی رائے میں "کیا قافلہ جاتا ہے" پاک و ہند میں تادم تحریر لکھے گئے شخصی خاکوں کے ان گنت مجموعوں میں جداگانہ مقام رکھتی ہے۔ اگر شخصی خاکوں کے دس بہترین مجموعوں کی فہرست بنائی جائے تو راقم بلاتامل اسے اس میں شامل کرنا پسند کرے گا۔
" "کیا قافلہ جاتا ہے" سے "عطیہ بیگم فیض" کا خاکہ پیش خدمت ہے۔
اسے پڑھ کر شدت سے احساس ہوتا ہے کہ عمدہ اور یادگار کتابوں کی ازسرنو اشاعت کے بارے میں سوچا جانا کس قدر ضروری ہے۔ کاش کہ یہ کتاب دوبارہ شائع ہوسکے۔
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
--
With Regards
Afroza.M.Kathiawari.
Co-ordinator,
British Council Trainings,
DIET, Dharwad.Karnatak,India
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
مکرمی جناب فیروز خان آفریدی صاحب
بہت بہت شکریہ پرانی معلومات کو تازہ کرنے کا ،بزم قلم کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ باتوں میں بات آجاتی ہیں اور وہ باتیں جو کبھی ذہن کے نہاں خانے میں پوشیدہ ہوتی ہیں یکایک سامنے آکر یادداشت کو مضبوط کرتی ہیں ۔
بھوپال کی بیگمات اور نواب صدیق حسن خان کا ذکر آیا تو مزید چند باتیں یاد آئیں۔
۔ بھوپال کی نوابی باقی رکھنے میں سلطنت انگلیشیہ کا بڑا ہاتھ تھا ، جب نواب شاہجہاں بیگم سے نواب صدیق حسن خان کی شادی کی بات چل رہی تھی ، اس وقت نواب صاحب پر وہابی تحریک سے وابستگی کا مقدمہ چلا تھا، اس زمانے میں انگریزوں کے نزدیک وہابی سے مراد شاہ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ علییم کی تحریک مجاہدین تھی ۔ اس زمانے میں نواب صاحب نے ایک کتاب ترجمان وہابیہ لکھی تھی ،جس میں وہابیت سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا تھا ۔
۔نواب شاہجہاں بیگم کی رحلت کے بعد نواب سلطان جہاں بیگم کی جانشینی کے موقعہ پر خوف پیدا ہوا کہ انگریز نوابی کا خاتمہ کرکے بھوپال کا نظم سلطنت براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ، اس وقت عورت کی حکمرانی کا مسئلہ اچھالا گیا تھا، اس وقت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ وغیرہ نے
انہیں شرطوں کے ساتھ حکمرانی کی اجاز ت کا فتوی دیا تحا ۔